Get Adobe Flash player

فیصلہ خود کریں۔۔۔انکل سام

جو لوگ موسیقی کو روح کی غذا کہتے ہیں نہ جانے ان نادانوں کو لوگ کیا کیا کہتے ہیں۔ اس لئے کہ موسیقی دلوں کے اطمینان کی ضد ہے۔ موسیقی ہیجان کی موجد ہے' ہیجانی کیفیت انسان کے اندر سے خیر کو دبا کر شر کو انتہا کی  طرف لے جاتی ہے اور انسان کی اس انتہائی شروالی حالت کے  سبب موسیقی کو روح کی بجائے نفس امارہ کی غذا خیال کرتے ہیں یہ ہمارا تجربہ اور مشاہدہ ہے۔ اس لئے کہ انسانوں کے دونوں گروہوں (حزب اللہ' حزب الشیطن) کا نعرہ مستانہ الگ الگ حیثیت کا حامل ہے۔ حزب اللہ کے نزدیک دلوں کا اطمینان ذکر اللہ کثیرا میں ہے اور حزب الشیطن کا عارضی اطمینان موسیقی میں ہے اور یہ موسیقی ہی ہے کہ  جس کے ہوتے ہوئے انسان ذکر اللہ ۔۔ کے نوری فائدے والے اثرات سے دور چلے جاتے ہیں اور یہی تو خسارے والا مقام ہے۔ جس طرح ابلیس مردود ایک حقیقت ہے اس دنیا میں۔ اسی طرح نفس امارہ بھی ہر انسان کے ساتھ ایک  حقیقت کی حیثیت سے موجود ہے۔ یقینا ان مذکورہ دونوں انسان دشمنوں (ابلیس مردود اور نفس امارہ) کی حقیقت سے نہ تو انکار کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان کا اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے کہ ابلیس مردود کا دعویٰ ہے کہ وہ انسان کو قیامت برپا ہونے کے آخری دم تک گمراہ کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے اور ابلیس مردود کے لئے انسانوں کو گمراہ کرنے کی کوششوں میں تعاون نفس امارہ پیش کرتا ہے۔ اور وہ یوں کہ یہ نفس امارہ ہر انسان کے اندر موجود ہے وہ ابلیسی و سوسوں کو خوب پالتا سنبھالتا ہے ۔ انسان کو نئی نئی امیدیں اور وعیدیں پیش کرتا رہتا ہے دولت مندی کا وسوسہ غربت کے خوف کا وسوسہ گروہ بندی کا وسوسہ' برتری (لسانی' خاندانی اور ذات پات) کا وسوسہ عہدہ داری کا وسوسہ غرضیکہ  مادیت سے بھرپور مادی خواہشوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ انہیں وسوسیاتی ورغلا ہٹی نفس اماری چالوں کے جالوں کا سلسلہ بڑھتا رہتا ہے ۔ اور گمراہ انسان ان کے ہتھے چڑھ کر صراة مستقیم سے دور ہوتا ہوا جہالت اور کفر کی اتھاہ گہرائیوں میں گم ہو کر حزب الشیطن کا رکن بن جاتا ہے اور یہی خسارہ  ہے انسان کے لئے انسانیت کے لئے عالمی امن وسکون کے لئے معاشرتی ناہمواری کے لئے اور سماجی انصاف کے لئے بھی تباہی ہے سماجی بے انصافی اور معاشرتی ناہمواری کی حد ختم ہوچکی ہے پچھلے65سالوں میں پچھلے پانچ گزرے سال بھاری معلوم ہو رہے ہیں حکمران من مانی کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں حکمرانوں کو ذرا فکر نہیں تھی کہ عوام کس حال میں جی رہے ہیں مر رہے ہیں ملک میں بھوک افلاس دہشت وحشت اور بے حیائی عروج پر تھی حکمران اپنی مرضی سے چل رہے تھے عوام اپنی گفتنی جل رہے تھے کسی کو کسی کی فکر نہیں اورسب کو آخرت کی یاد نہیں آرہی ہے حالانکہ سچ یہی ہے کہ اس عارضی مادی جہان کے بعد محشر برپا ہوگا میدان لگے گا ہر کوئی اپنے کئے کا سامنا کرے گا جو کیا وہی بھرے گا اس سچ کے باوجود جہاں بھی چار افراد باتیں کرتے ملیں گے وہ حکومت وقت کو ہی کوسنے دیتے ملیں گے مگر حرف زبانی کلامی عمل کے لئے ذرا بھی نہ ہلیں گے اسلامی نظریاتی مملکت پاکستان میں غیر اسلامی نظام اور غیر اسلامی کام دھڑلے سے جاری ہیں کسی کا دل تنگ نہیں ہو رہا ہے گھروں مکانوں دوکانوں دفتروں بازاروں پرائیویٹ اور سرکاری اداروں میں غیر اسلامی اعمال کی بھرمار ہے خاص کر ماحول میں درندگی خوب پھل پھول رہی ہے گنہگار اور بے گناہ کا تصور ختم کو ہے بے انصافی بے ایمانی اور دروغ گوئی کی کوئی حد باقی نہیں ہے حزب اللہ کے راستوں میں مضبوط رکاوٹوں کو کھڑا کیاجا رہاہے حزب الشطین کی مکمل پاسداری کی جا رہی ہے۔ اسلامی شعائر کے ذکر اور فکر کو روندا جا رہاہے نماز پنجگانہ کی فکر تک ختم ہونے کو ہے ہوس کے جال پھیلائے جا رہے ہیں حسب توفیق ہر کوئی دھبہ دار ہے ہماری مراد اس فحاشی اور عریانی سے ہے جو میڈیا کے حوالے سے سرعام کی جارہی ہے فیشن شو کے نام پر تفریح اور تذکیر کے نام پر اشتہاری مہم جوئی کاروبار کے نام پر گویا ہر سو بے حیائی کا پھیلائو بڑھ رہاہے نامراد موسیقی کے ایک سے ایک بڑھ کر جھونکے ہر سو پھیل چکے ہیں چونکہ ہم نے ابتداء میں بات بھی موسیقی اور نفس امارہ کے حوالے سے عرض کی تھی اب اس عرض گزاری کو نبیۖ کی احادیث مبارکہ کا حوالہ دے کر بتانے اور سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں جس پاک ہستی کا کلمہ پڑھ کر ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں ذرا آئیں دیکھیں کہ وہ پاک ہستی ختم المرسلین رحمت اللمالمین حضرت محمدۖ کے فرمودات موسیقی کے بارے میں کیاہیں اور پھر فیصلہ کریں کہ موسیقی روح کی غذا ہے یا نفس امارہ کا وسوسیاتی جال ہے آپۖ نے فرمایا''میری امت میں کچھ لوگ پیدا ہونگے جو زنا ریشم شراب اور راگ باجوں کو حلال قرار دیں گے(بخاری شریف) ایک جگہ اور آپۖ نے فرمایا'' میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے مگر اس کا نام بدل کر ان کی مجلسیں راگ باجوں اور گانے والی عورتوں سے گرم ہونگی اللہ پاک ان کو زمین میں دھنسادے گا اور ان میں سے بعض کو بندر اور حنزیر بنا دے گا(ابو دائود' ابن ماجہ)
آپۖ نے فرمایا'' کہ گانابجانا دل میں نفاق اگاتاہے جیسا کہ پانی سبزہ کو اگاتا ہے،، ابو دائود۔ آپۖ نے فرمایا'' طبلہ سارنگی حرام ہیں شراب کے برتن حرام ہیں اور باجے بانسری حرام ہیں،،(علامہ بپہقی بزاد) نیز علامہ بہیقی بزار کے حوالے سے ایک اور حدیث شریف ہے جس میں آپۖ نے فرمایا''دو آوازیں دنیا اور آخرت میں ملعون ہیں ایک گانے کے ساتھ راگ باجوں کی آواز اور دوسری مصیبت کے وقت چیخنے کی آواز اب قارئین آپ خود فیصلہ کرلیں کہ ہم اسلام کا نام لینے والوں کے دلوں میں موسیقی روح کی غذا کا نظریہ ہوناچاہیے یا پھر موسیقی نفس امارہ کی وسوسیاتی ورغلاہٹی چالبازی ہونی چاہیے بات بالکل صاف ہے کہ حزب اللہ کے نزدیک موسیقی روح کی تباہی کرتی ہے اور حزب الشیطن کے نزدیک موسیقی روح کی غذا ہے فیصلہ خود کریں کہ کہاں رہناہے حزب الشیطین میں سے ہوکر موسیقی کو روح کی غذا کا وسوسہ پالنا ہے پا پھر حزب اللہ میں سے ہو کر دلوں کو ذکر اللہ کثیرا سے معطر کئے رکھناہے۔