کفر ٹوٹا خداخد ا کر کے۔۔۔ضمیر نفیس

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار ایک با صلاحیت شخصیت ہیں جس طرح انہوں نے پونے دو گھنٹے تک بجٹ تقریر کی یہ انہی کی ہمت ہے لیکن بجٹ تقریر کے بعد انہوں نے جوکام دکھایا وہ بھی بجٹ کی تقریر جتنا ہی اہم تھا اور وہ یہ کہ وہ وزیراعظم کو لے کر اچانک سینٹ کے ایوان میں جا پہنچے جہاں ارکان نے ڈیسک بجا کر وزیراعظم کاخیر مقدم کیا ایک سال کے دوران وزیراعظم کی سینٹ کے ایوان میں یہ پہلی آمد تھی حزب اختلاف نے ایوان بالا میں وزیراعظم کے نہ آنے کو ایک زبردست ایشو بنا رکھا تھا جب بھی اجلاس شروع ہوتا حزب اختلاف کے بنچوں سے کوئی نہ کوئی ممبر اٹھ کر کہتاکہ وزیراعظم کے نزدیک پارلیمنٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہے اگر اہمیت ہوتی تو وہ سینٹ کے اندر بھی تشر یف لاتے اگر چہ ایک سال کے دوران انہوں نے قومی اسمبلی میں تین چار بار حاضر ی دی ہے مگر سینٹ میں ایک بار بھی آنے کی زحمت نہیں کی مگر ارکان کے یہ اعتر اضات درست تھے وزیر اعظم کے مشیروں کی کم فہمی تھی کہ انہوں نے اس بہت بڑی غلطی کاادراک نہیں کیا اور وزیراعظم کو باور نہیں کرایاکہ ایوان بالا میں بھی انہیں باقاعدگی سے نہ سہی گا ہے گاہے ضرور شریک ہونا چاہیے یہ نکتہ بہر حال بے حد دلچسپ ہے کو محض ذرا سی کوتاہی کے باعث حکومت ایک سال تک خواہ مخواہ حزب اختلاف کے دبائو میں رہی اگروزیراعظم قومی اسمبلی کے ایوان میں خطاب کے بعد سینٹ کے کسی بھی ہونے والے اجلاس میں شریک ہو کر اس ایوان سے بھی خطاب کردیتے تو اس سے نہ صرف ارکان سینٹ کااعتراض ختم ہوتا بلکہ سیاسی طورپرحکومت کو بھی بہت کچھ حاصل ہوسکتا تھا یہ ایک فطری سی بات ہے کہ وزیراعظم جب کسی بھی ایوان میں جاتے ہیں تو ارکان کے ساتھ ذاتی علیک سلیک اورملاقاتوں کے نتیجے میں ان کی قربتوں میں اضافہ ہوتا ہے بعض ارکان کچھ درخواستیں لے کروزیراعظم سے ان پر احکامات بھی صادر کرواتے ہیں چنانچہ اس میل ملاقات کے باعث حکومتی مخالفت میںخاصی کمی واقع ہوتی ہے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ایوانوں میں وزیراعظم کی شرکت خود حکومت اور وزیر اعظم کے لئے بے حد مفید ثابت ہوتی ہے یہ ایک ایسا سیاسی فائدہ ہے جو حکومت آسانی سے حاصل کرسکتی ہے مگر وزیراعظم نے اس طرف توجہ دی نہ ان کی کچن کابینہ اورمشیروں نے ہی انہیں یہ راستہ دکھا یا سینٹ کے ایوان میں ان کے نہ آنے کی یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس میں حزب اختلاف کو عددی پوزیشن کے اعتبارسے برتر ی حاصل ہے جبکہ اس کے چیئرمین اورڈپٹی چیئر مین دونوں کاتعلق پیپلزپارٹی سے ہے اور قائد حزب اختلاف بھی اعتز از احسن جیسا مضبوط قانون دان اور سیاستدان ہے چنانچہ قوت کی ان ساری علامتوں کی موجودگی نے انہیں ایوان کے قریب نہ آنے دیا اسحاق ڈار نے جہاں انہیں اطمینان اورتسلی دلائی کہ انہوں نے ماحول کو بہتر بنایاہے اور ہرگز ایسی فضا پیدا نہیں ہوگی جوان کے لئے کسی پریشانی کاباعث بنے گی بلکہ عملی طورپر انہوں نے اس کیلئے کچھ کام بھی کیا اعتزاز احسن اور رضاربانی سمیت اپوزیشن کے بہت سے سینیٹروں کے اسحاق ڈار کے ساتھ ذاتی تعلقات بے حد خوشگوار ہیں ان ہی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے انہوں نے حزب اختلاف کے بنچوں میں وزیراعظم کے لئے ماحول سازگار بنایا چنانچہ وزیراعظم کی آمد پر ساری کارروائی ایک خوشگوار ماحول میںمکمل ہوئی وزیراعظم نے ہلکی پھلکی اور بے تکلفانہ گفتگوکی اور رسمی خطاب سے گریز کیاجبکہ اعتزاز احسن کایہ شعر توگویاحاصل اجلاس تھا انہوں نے کہا   
لائے اس بت کو التجا کرکے
کفر ٹوٹا خداخدا کرکے