میڈیا میں انتشار۔۔۔شاعر الرحمان عباسی

آج یہ سوال اٹھ رہاہے ہے کہ ماضی کی طرح صحافی کیوں متحد نہیں ہیں آج یہ برادری انتشار کا شکارہے ان کے اندر خودغرضی اس طرح نظر آرہی ہے جیسے یہ ان کے پیشے کا ایک حصہ ہے بعض صحافی تو یہ سمجھنے لگے ہیں کہ جسے چاہے وہ عزت دیں اور جسے چاہے اس کو ذلت دیں یہ انسان کی فطرت کے ساتھ ٹکرائو والی صورتحال ہے۔ماضی میں یہ بھی دیکھاگیا کہ جب کسی عوامی مظاہرے میں کوئی صحافی زخمی ہوگیا تو ملک بھر کے صحافی سراپا احتجاج بن جاتے اور اس وقت تک احتجاج جاری رہتا جب تک ہونے والی زیادتی کا ازالہ نہ ہوجائے قلم کی طاقت کردار کے میدان میں بندوق کی طاقت کو زمیں بوس کر دیتی ہے کیمرہ جب آنکھ نکالتاتو بندوق سر نیچاکر لیتی صحافت کی اس طاقت کے پیچھے صحافیوں کا اتحاد بھی ہے لیکن موجودہ انتشار اس طاقت کو کمزور کرتا ہوا نظر آرہاہے میڈیا ہائوس کے درمیان جنگ میں صحافیوں لڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں بعض صحافی میڈیا ہائوس کی طاقت کا استعمال اس طرح کرتے ہیں جیسے وہ کسی برادری سے تعلق ہی نہیں رکھتے صرف میڈیا ہائوس سے تعلق رکھتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ جب ایک بکری ریوڑ سے الگ ہوجاتی ہے تو بھیڑیئے کا شکار بن جاتی ہے ایک وقت تھا کہ صحافی اپنے حقوق کے لئے مل کر جدوجہد کرتے تھے اور اس میں ان کو کامیابی بھی ہوتی تھی۔اب تو بعض صحافیوں نے سیاسی پارٹیوں کی پالیسی کے ساتھ چلنے کی عادت ڈال لی ہے اس سے ان کا نظریاتی مشن اپنی منزل سے ہٹ گیاہے اس طرح مشترکہ جدوجہد کا فقدان ابھر کر سامنے آرہاہے۔الیکٹرانک میڈیا نے آتے ہی صحافتی تلوار میان سے نکال کر تیزی سے چلانا شروع کر دی جس سے ریاست کے تمام اداروں میں ہل چل مچ گئی اس میں اصلاح کا پہلو بھی نکلا اور غلط فہمیوں نے بھی جنم لیا۔ بعض اوقات یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ میڈیا کے کردار میں توازن برقرار نہیں رہا چھوٹی چھوٹی باتوں کو اس طرح اچھالا جارہاہے کہ جیسے قومی ایشو یہی ہے صحافت ایک ایسا شعبہ ہے کہ جس کے کردار کی پاکیزگی ہی عوام کے کردار پر اچھے اثرات مرتب کرتی ہے عوام اور حکومت کے درمیان پیغام رسانی میڈیا کے ذریعے ہی ہوتی ہے عوام کے مسائل میڈیا کے ذریعے حکومت تک پہنچتے ہیں اور اس پر حکومت کا ایکشن میڈیا کے ذریعے ہی عوام تک پہنچتاہے میڈیا کا یہ کردار خدمت خلق کے زمرے میں آتاہے۔لیکن بدقسمتی سے میڈیا کی آپس کی لڑائی نے اس کے کردار کو بے وزن کر دیاہے عوام کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے اس طرح عوام آہستہ آہستہ میڈیا سے لاتعلق ہو رہے ہیں۔بعض لوگ تو یہاں تک کہہ جاتے ہیں کہ اس ملک کا اصل فتنہ میڈیا ہے میڈیا کو موجودہ صورتحال سے باہر نکلناہوگا حق گوئی میڈیا کی پہچان ہونی چاہیے حکومت پر مثبت تنقید میڈیا کو عوام میں مقبول ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا ہے صحافتی تنظیمیں بھی موجودہ میڈیا میں کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادانہیں کر سکیں۔ صحافت ایک آئینہ ہے اس میں جتنی چمک ہوگی اتناہی عکس نمایاں ہوگا صحافی ایک متوازن شخصیت کا مالک ہوناچاہیے اسے جذبات کی رو میں نہیں بہنا چاہیے۔ ماضی کے بعض واقعات میں میڈیانے وطن عزیزکی عزت ووقار کو بھی ملحوظ نہ رکھا اور اس کو روندتے ہوئے آگے نکلنے کی کوشش کرتارہاجس پر ہمارے دشمن مسکراتے رہے ہیں میڈیا کو اپنے بنائے ہوئے ضابطوں کے اندر رہ کر کام کرناچاہیے جذباتی اچھل کود سے نہ کسی میڈیا ہائوس کو فائدہ ہو گا اور نہ ہی پاکستان کا تشخص بلند ہوگا معاشرے میں کتنا بگاڑا کیوں نہ ہو ہمیشہ اچھے کردار کو پسند کیاجاتاہے اسی لئے برا آدمی بھی اپنی گفتگو میں اچھائی کا ذکر کرتاہے اور اچھے کردار سے وابستگی پر زور دیتاہے۔ اگر ہرمیڈیا ہائوس سے نکلنے والی ہر خبر سچائی اوراخلاقیات پربنیاد رکھتی ہو اور منفی اثرات سے پاک ہو تو میڈیا ہائوسز روشنی کے مینار نظر آئیں گے۔