Get Adobe Flash player

عسکریت پسندی زوال پذیر ہے۔۔۔ظہیر الدین بابر

 پاک فوج کے دوافسران کی خودکش حملے میں شہادت اور پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے واقعات کے بعد ٹی ٹی پی اور حکومت میں مذاکرتی عمل بظاہر قصہ پارنیہ بن چکا۔ کالعدم تحریک طالبان نے دوٹوک انداز میں اعلان کیا ہے کہ حالیہ کاروائیاں نہ صرف انھوں نے کیں بلکہ آئندہ بھی ہر حکومتی اقدام کا بھرپور جواب دیا جائیگا۔ملک کے طول وعرض میں قیام امن کے لیے یقینا یہ خوش آئند نہیں کہ بات چیت کی حکمت عملی ناکام ہونے پر فریقین طاقت استمال کرنے کا فیصلہ کرچکے۔ بیشتر مبصرین کا خیال ہے کہ ٹی ٹی پی میں جس طور پر ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری ہے اس کے نتیجہ میں جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان خلاف توقع نہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کا شہریار گروپ اور خالد محمود سجنا گروپ میں بٹ جانا اس متفقہ حکمت عملی میں رکاوٹ ہے جسے حکومت کے ساتھ ٹھوس مذاکرات میں معاون و مددگار سمجھا جاتا رہا۔ حال ہی میں تحریک طالبان کے اہم کمانڈر عاشق اللہ محسود کا نامعلوم افراد کی فائرنگ سے مارا جانا بھی عسکریت پنسدوں میں جاری کشیدگی کا پتہ دیتا ہے۔ طالبان کمانڈر عاشق محسود بارے معروف تاثر یہی تھا کہ اسے خودکش بمبار تیار کرنے میں کمال مہارت حاصل ہے۔ شمالی وزیرستان میں ہونے والے اس قتل کے بعد مسلح افراد نہ صرف باآسانی فرار ہوگئے بلکہ تاحال ان کی پکڑ ممکن نہیں ہوسکی۔واقفان حال کے بقول تازہ کاروائی سجنا وشہریار گروپوں میں مزید کسی سے تصادم کا سب بن سکتی ہے۔ماضی میں بیت اللہ محسود کی جانب سے مختلف الخیال گروپوں کو تحریک طالبان پاکستان کی شکل میں میں لانا بڑی کامیابی تصور کیا گیا ۔ ٹی ٹی پی کی قیادت جب تلک محسود قبیلے کے پاس رہی تنظیم میں تفرقہ بازی کی ہرکوشش ناکام ہوتی رہی مگر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد ملا فضل اللہ کا امیر بنانا اختلافات میں شدت پید ا کرگیا۔ خیال ہے کہ عسکریت پسند گروہوں میں پیسہ اور طاقت کے حصول کی دوڈ شروع ہوچکی لہذا یہ تصور خام خیالی ہے کہ درجنوں گروہوں میں مثالی اتفاق واتحاد موجود رہے۔ تاحال تحریک طالبان پاکستان اس حقیقت کو اعلانیہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ گزرے سالوں کی طرح ایسی قیادت اب ناپید ہے جو ایک طرف تمام گروپوں میں نظم و ضبط برقرار رکھے تو دوسرا حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل بھی جاری رہے۔ آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کی صورت میں ٹی ٹی پی کے پاس نادر موقع تھا کہ وہ کچھ لو اور کچھ دو کے فارمولہ پر عمل کرتے ہوئے مذاکرتی عمل میں اپنا اخلاص ثابت کرڈالتی۔ طالبان کمیٹوں کے اراکین نے بات چیت جیسے سنجیدہ عمل کو جس طور پر ذاتی شہرت کے حصول کا زرائع بنا یقینی طور پر اس سے بھی مشکلات بڑھیں۔ ماضی میں ٹی ٹی پی کمانڈر حکیم اللہ محسود کا یہ بیان ہم سب سن چکے کہ میڈیا کے زریعہ بات چیت کا عمل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتا۔ مگر افسوس کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے ڈھونڈ ڈھونڈ کران ہی شخصیات کو نمائندگی کے لیے چنا گیا جو میڈِیا کی چکاچوند میں خود کو نمایاں کرنے کا یک نکاتی اینجنڈا رکھتے ہیں۔ توقعات کے عین مطابق پاک فوج کے افسران سمیت کم وبیش نو اہکاروں کو شہید کرنے کے بعد ایک بار پھر ٹی ٹی پی اس خواہش کا اظہار کر رہی کہ وہ بات چیت کے آغاز کی خواہش مند ہے۔ بظاہر مذاکرت عمل کی تمنا کا اظہار اندرونی وبیرونی سطح پر امن پسند ہونے کا تاثر دینے کی کوشش ہے۔ سیکورٹی فورسز کی حالیہ کاروائیوں کے نتیجے میں عسکریت پسندوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ ٹی ٹی پی کی جنگ بندی کے دوران تحریک طالبان پاکستان کی بشیتر قیادت نہ صرف افغانستان روپوش ہوچکی تو دوسری جانب تمام عرصہ کراچی سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں نیٹ ورک فعال کرنے کی کوشیش بھی ہوتی رہی۔ سیکورٹی فورسز کو اس کامیابی کا نہ کریڈٹ دینا زیادتی ہوگی کہ گذشتہ سالوں کے برعکس اس بارملک بھر میں وسیع پیمانے پر ایسی تخریبی کاروائیاں نہ ہوسکیں جو قابل ذکر جانی و مالی نقصان کا سبب بنتیں۔ مسلح گروہوں کی طاقت میں کمی ہی کا سبب ہے کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے بات چیت کی خواہش کا اظہار تواتر کے ساتھ سامنے آرہا۔ سنجیدہ تجزیہ کاروں کی اس رائے کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ عسکریت پنسد گروہ مسلسل انحاط کا شکار ہیں۔ پاکستانی و افغان طالبان کی معدوم ہوتی مقبولیت بتا رہی کہ دونوں ملکوں کے عوام پرتشدد کاروائیوں سے بڑی حد تک بیزار ہوچکے ۔ کم وبیش ایک دہاِئِی سے بم دھماکوں ، خودکش حملوں اور دیگر ہزاروں تخریبی واقعات نے ثابت کیا کہ کشت وخون عوام میں کسی طور پر پذایرئی کا سبب نہیں۔ آج کسی بھی ایسی سیاسی و مذہبی قوت کا مسقبل روشن نہیں رہا جو بندوق کے زور پر مقاصد کے حصول میں سرگرداں ہو۔ پاکستان وافغانستان میں جاری قتل وغارت گری کے شر میں یہی خیر کا پہلو مسقتبل میں امن واستحکام کی ضمانت بن سکتا ہے کہ عام آدمی پرامن انتقال اقتدار کا بڑا حامی بن چکا۔ ٹی ٹی پی کے لیے نادر موقع ہے وہ حکومت سے عام معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے حصول اقتدار کے کھیل میں شریک ہونے کے لیے آئینی جدوجہد کا آغاز کرڈالے۔جاری پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے مسقبل میں ایسا ہونا ناممکنات میں سے نہیں کہ نہ صرف کالعدم تحریک طالبان کے مزید دھڑے سامنے آجائیں بلکہ ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر بھی بتدریج منظر سے غائب ہوتے رہیں۔