Get Adobe Flash player

ای او بی آئی کے 18 لاکھ پنشنرز کی اپیل۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 وفاقی وزیر خزانہ ریونیو اقتصادی امور شماریات و نجکاری سینیٹر اسحاق ڈار اگلے ہفتے ای او بی آئی ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹیٹیوشن کے سربراہ کو تحریری ہدایت جاری کریں گے جس میں کہا جائے گا کہ وفاقی بجٹ 2014۔15 میں پنشن کی کم سے کم حد پانچ ہزار سے بڑھا کر چھ ہزار روپے کر دی گئی مگر ای او بی آئی سے منسلک پنشنروں کی پنشن تاحال 3600 روپے ماہانہ ہے جس سے ای او بی آئی پنشنرز کا گزر اوقات بے حد مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال بھی ان کی پنشن 3600 روپے تھی اس میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ نے ای او بی آئی بدعنوانی کیس میں چیئرمین ایمپلائز اولڈ ایج بینفٹس انسٹی ٹیوشن کو فریقین سے اراضی کی فروخت بارے کئے گئے معاہدوں، اراضی کی دوبارہ بولی دلانے سمیت معاملات پر حتمی فیصلے کرنے کے لیے دو ہفتوں کی آخری مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ای او بی آئی حکام خود فیصلہ کرلیں بصورت دیگر عدالت فیصلے کردے گی۔ ای او بی آئی سکینڈل میں ان کے اپنے افسران بالا ملوث تھے ان کیخلاف سول اور فوجداری کارروائی کی ضرورت ہے۔ان افسروں کی غلطیوں کا خمیازہ کسی دوسرے شخص کو نہیں بھگتنا چاہیے۔ گزشتہ سال ای او بی آئی میں اربوں روپے کے گھپلے ہوئے۔ 40 ارب روپے کے عوض سستی زمین مہنگے داموں خریدنے، کرپشن اور افسران کا خلاف ضابطہ بھرتیاں کرنے کا معاملہ نیب کے سپرد کرنے کا سکینڈل منظر عام پر آیا جس پر سپریم کورٹ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے معاملہ کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مقدمہ بازی والی اراضی چاہے جتنی بھی پرکشش ہو کوئی خریدنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ اراضی کی مارکیٹ ویلیو سے کئی گنا بڑھ کر قیمت دی گئی، ای او بی آئی حکام اس معاملے میں معصوم نہیں۔ای او بی آئی میں بس کرپشن ہی کرپشن ہے۔ آخر ایسی کون سے مجبوری تھی کہ دو سے تین ماہ میں ای او بی آئی نے اتنی بڑی ڈیل کی۔ای اوبی آئی کے سابق چیرمین پر الزام ہے کہ انہوں نے زمین کے مختلف فرضی سودوں میں ادارے کو 44 ارب روپے کا نقصان پہنچایا ظفر گوندل پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے لاہور ، اسلام آباد اور کراچی میں مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت پر زمینیں خرید کرکے ای او بی آئی کے سرمایہ کاری رولز کی خلاف ورزی کی گو ای اوبی آئی بورڈ نے ان سودوں کی مخالفت کی تھی لیکن اس مخالفت کا ظفر گوندل نے کوئی اثر نہیں لیا تھا کیونکہ اس وقت انہیں حکمران جماعت کے بااثر افراد کی سپورٹ حاصل تھی۔ای او بی آئی کے چیئرمین اور دوسرے اہلکاروںنے غریبوں کے پیسے سے ڈی ایچ اے ، بحریہ ٹاؤن اسلام آباد اور ملک کے دیگر حصوں میں انتہائی سستی زمین مہنگے داموں خرید کر حکومتی اراکین کو فائدہ پہنچایا۔ سپریم کورٹ نے ای او بی آئی سکینڈل کیس میں 22 ارب روپے ادا نہ کرنے پر ڈی ایچ اے راولپنڈی کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم بھی دیا۔چیئرمین نے ساری رقم اٹھا کر بحریہ ٹاؤن کے حوالے کردی ۔ غریب لوگوں کا پیسہ داؤ پر لگا دیا گیا کسی کو احساس تک نہیں ہوا۔2 سال میں 25 لاکھ کے پلاٹ کی قیمت 4 کروڑ ہو گئی کیا یہ پلاٹ پیرس میں ہے؟۔ اسی طرح چکوال میں بھی ایک اور زمین ثناء اللہ نامی شخص کی طرف سے خریدی گئی، ثناء اللہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے رشتے دار ہیں جبکہ اس زمین کی قیمت 60 ہزار روپے فی مرلہ تھی لیکن یہ 15 لاکھ روپے فی مرلہ کے حساب سے خریدی گئی۔ ایف آئی اے نے کرپشن کی رقم سے خریدے گئے ڈیفنس کراچی کے ڈبل سٹوری بنگلے کا سراغ لگا یا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سابق چیئرمین ای او بی آئی ظفر اقبال گوندل کے دست راست اور ای او بی آئی کے ڈائریکٹر جنرل انویسٹمنٹ واحد خورشید کنور کے صاحبزادے ڈیفنس کراچی کے مہنگے ترین علاقے میں ایک ہزار گز کے ڈبل سٹوری بنگلے کے مالک ہیں جس کی مالیت ایک محتاط اندازے کے مطابق 10 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ یہ تو تھی غریبوں کے پیسے سے کرپشن کی داستان۔ سپریم کورٹ نے ای او بی آئی سکینڈ ل کیس کی سماعت میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فریقین راضی ہو جائیں تو مارک اپ کی شرح کا تعین عدالت کر سکتی ہے۔ ای او بی آئی کو مہنگے داموں فروخت کردہ اراضی مالکان کو واپس دینے کیلئے بھی عدالت مصالحت کیلئے تیار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معذوری اور محتاجی کا دوسرا نام بڑھاپا ہے جب ایک ایسا انسان جو اولاد کو پالتا پوستا ہے۔ ان کی ذاتی زندگی میں خوشیوں کے پھول کھلانے اور آرام و سکون کی بہاریں پیدا کرنے کیلئے اپنی جوانی کی قوت صرف کر دیتا ہے ان کی خواہشات کی تکمیل کے لئے اپنا چین سکون غارت کر دیتا ہے پھر ایسا وقت آتا ہے جب وہ اسی اولاد کا محتاج ہو جاتا ہے۔ ای او بی آئی کے پنشنرز کی اکثریت ایسے بوڑھوں پر مشتمل ہے جن کا گزارہ محض اس پنشن پر ہے۔ تصور کیا جائے آج مہنگائی کے اس مشکل ترین وقت میں کوئی شخص 3600 روپے ماہانہ میں کیسے گزر بسر کر سکتا ہے۔ہمارے یہ بزرگ جن کے ہاتھ لرز رہے ہیں اور ٹانگیں لڑکھڑا رہی ہیں، دعاؤں کے یہ ستون، یہ مینار ہر وقت رب کائنات اور آقائے نامدارۖ سے ملک و ملت کی سلامتی کے طلب گار ہیں ۔ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ نے 6000/- دینے کی سفارش کی تھی جس پر متعلقہ وزیر نے 5000/- پنشن دینے پر آمادگی ظاہر کی مگر ابھی تک 18 لاکھ افراد پنشن میں اضافے سے محروم ہی ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے گزارش ہے کہ وہ اندرون ملک مظلوموں کی داد رسی بھی کریں۔ ان مظلوم لاکھوں افراد کے مسائل پر غور فرمائیں اورانہیں ان کا حق دلائیں۔ای او بی آئی کا بورڈ اپنے پنشنروں کی پنشن میں وفاقی و صوبائی پنشنروں کی پنشن کو ملحوظ رکھ کر اپنے وسائل کے مطابق اضافہ کرے۔