Get Adobe Flash player

امر یکہ اور دنیا کا مستقبل ۔۔۔میاں انوارالحق رامے

  امریکہ نے گذشتہ سال اسٹاک ہوم انڑنیشنل پیس کے مطابق فوجی مصارف پر جو اخراجات کئے ہیں دنیا بھر میں ہونے والے اخراجات کا٤٨ فی صد ہیں۔ دنیا نے فو جی مصارف پر ٣٤، ١ ٹرلین ڈالر خرچ کئے ہیں ۔بر طانیہ اور چین نے فی کس ٥ فی صد خرچ کئے ہیں۔فرانس اور جاپان نے فی کس ٤ فی صد خرچ کئے ہیں۔جرمنی اٹلی اور سعودی نے فی کس ٣ فیصد خرچ کئے ہیں ۔جنوبی کوریا اور انڈیا نے فی کس ٢ فی صد خر چ کئے ہیں۔امریکہ کے دو بڑے حریفوں چین اور روس نے فی کس ٨ فیصد خرچ کئے ہیں جو امریکی اخراجات سے پانچ گنا کم ہیں۔امیکہ محکمہ دفاع پینٹاگون نے عراق کو ١٢ ارب ڈالر ٨٥ کروڑ کا اسلحہ فروخت کیا ہے ۔ امریکہ نے دنیا بھر کو ٢٠٠٦ء ١٩ ارب ڈالر کا اسلہ فروخت کیا تھا ۔امریکہ نے کوریا کی جنگ میں ٥٤٢٤٦، ویتنام میں٥٨٢٥٩ سپاہیوں کو مروایا تھا۔ امریکہ نے کوریا کی جنگ میں ٤١٠ ارب ڈالر ضائع کئے تھے۔ ویت نام کی جنگ میں ٥٨٥ ارب ڈالر ضائع کئے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ نے اپنی بادشاہت قائم کرنے کیلئے ١٤ لاکھ ٧٥ ہزار فو جیوں کو قربان کیا ہے۔آج دنیا بھر میں امریکہ کے پانچ لاکھ فوجی امریکی مفادات کیلئے سر گرم عمل ہیں۔یورپ میں ایک لاکھ فوجی اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ امریکہ کے دنیا بھر میم ٦٠٠٠ فوجی اڈے امریکی مفادات کی نگرانی کر رہے ہیںاور پورے کرہ ارض پہ پندرہ لاکھ سپاہی اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔صدراوبامہ نے گذشتہ ہفتے اپنے دو خطابات میں امریکہ کی خارجہ اور سیکورٹی پالیسی میں جن اہم تبدیلیوں کی out line نشاندہی کی ہے۔ وہ پاکستان کیلئے مستقبل قریب میں تشویش ،خطرات اور لاتعلقی بلکہ ناراضگی کی واضح نشاندہی کر رہی ہیں۔امریکی صدر اوبامہ نے نیویارک کے نواحی علاقے ویسٹ پوائنٹ میں واقع ملٹری اکیڈمی میں خطاب کرتے ہوئے اپنی نئی خارجہ اور سیکورٹی پالیسی کے خدو خال بیان کرتے ہوئے فرمایا امریکہ کو کسی سے اجازت کی ضرورت نہیں ہے جب اور جہاں کہیں امریکی مفادات ،معیشت اور امریکہ کے اتحادیو ں کو خطرات لاحق ہوں گے۔امریکہ وہاں کسی کی اجازت لئے بغیر طاقت استعمال کرنے کا حق استعمال کرے گا۔ یہ تاثر غلط ہے کہ امریکہ تنزلی کا شکار ہے بلکہ امریکہ پہلے سے زیادہ بہتراور گلوبلائزیشن کے تقاضو ں سے نپٹنے کی صلاحیت اور عزم رکھتا ہے۔امریکہ عالمی سطح پر دنیا کی قیادت کر رہا ہے ۔امریکہ امریکی،سرحدوں سے باہر بھی امن قائم رکھنے کیلئے اپناکردار اداکرتا رہے گا۔ اوبامہ نے خارجہ پالیسی کی پرتوں کو واضح انداز میں کھولتے ہوئے بیان کیا جہاں کہیں امریکہ کیلئے اکیلے جانا مناسب نہیں ہو گا وہاں ڈپلو میسی ،پابندیاں، متعلقہ ملک کو تنہا کرنا حقہ پانی بند کرنا اور اپنے اتحادی مملک کو ساتھ ملا کر اقدامات بروئے کر لائے جائیں گے ایر ن اور یوکرین کی مثالیں سامنے ہیں دہشت گردی اب بھی سب سے بڑا خطرہ ہے القاعدہ کو پاکستان اور افغانستان کی سرحدی علاقوں میں منتشر کیا جا چکا ہے مگر القاعدہ کے ذیلی گروپ سرگرم ہیں اسلئے دہشت گردی کے تدارک کیلئے امریکہ اپنا کردار بخو بی ادا کرتار ہے گا ۔پا نچ ارب ڈالر کا انسداد دہشت گردی فنڈ قائم کر دیا گیا ہے ۔دنیا بھر میںایٹمی مواد غیر محفوظ انداز میں موجود ہے اور یہ امریکہ کیلئے خطرہ ہے گویا امریکہ کیلئے ناقا بل قبول ایٹمی صلا حیت رکھنے والے ممالک امریکہ لئے خطرہ ہیں ۔ہمارے ارباب بست و کشاد اور مقتدر حلقوںکواس پر بنظر عمیق غورو فکر کرنا چاہئے ۔صدر اوبامہ نے اپنے خطاب مین یہ بھی کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کو ختم کیا جا چکا ہے لیکن ڈرونز کا استعمال امریکہ جاری رکھے گا ۔ امریکہ عالمی اداروں ،ورلڈبنک ،آئی ایم ایف ، اقوام متحدہ کے کردار کو اپنے حق میں موثر و فعال طو پر استعمال کرے گا ۔امریکہ کو لاحق خطرات کے خلاف ملٹی لٹرل ایکشن کیلئے ان اداروں اور امریکہ اتحادی ممالک کو تیار کیا جائے گا ۔جمہوریت اور فری مارکیٹ کے فروغ کے مشن کو جاری رکھا جائے گا ۔ شام کے بحران کے حل کیلئے اس کے پڑوسی ممالک ترکی او ر اردن کو کام میں لا ئیں گے ۔ امریکی رویہ اور جنوبی ایشیاء میں امریکی پالیسی سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ اب امریکہ کو اپنے اتحادی پاکستان کی ضرورت نہیں ہے ۔ امریکی دوستی اور تعاون کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے ۔مذکورہ بالا نقاط کی روشنی میں دہشت گردی ایٹمی مواد ،بد امنی ، انڈیا اور امریکہ یکسوئی ، افغانستان میں پاکستان مخالف قیادت کا منظر عام پر آنا ،پاکستان کیلئے خطرات کی گھنٹیاں ہیں ۔یہ امور ہمیں غورو فکر اورمثبت لائحہ عمل تشکیل دینے کی دعوت دیتے ہیںوزیراعظم پاکستان کے دل بھارت کیلئے مو جزن جذ بات کا جس بھو نڈے اور منفی انداز میں انڈیا کی قیادت نے جواب دیا ہے وہ بھارت کے پاکستان کے خلاف معاندانہ جذبات کی عکاسی کرتاہے ۔ نریندر مودی جن نعروں کی بنیا د پاکستان دشمنی اور ہندو توا کے فروغ کے لئے منتخب ہوا ہے وہ کسطرح اس مقدس فریضے سے منحرف ہو سکتا ہے ۔ملت اسلامیہ کی بد قسمتی ہے کہ لبنان سے شام ،ایران اور عراق تک خطے کی سب سے بڑی خانہ جنگی جاری ہے بلکہ اس میں وسعت کے امکان بدیہی طور پر نظر آرہے ہیں۔عرب اور اسلامی دنیا انتشارو افتراق کا شکار ہے۔امریکی خارجہ پالیسی کا اہم ستون چین کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے جو جنوبی ایشیا میں مکمل ہونے کو ہے ۔پیسفک کے علاقے میں چین کو پا بہ زنجیر کرنے کا منصوبہ جاری ہے ۔ تو ہم کسطرح آرام و مسرت کی نیند سو سکتے ہیں ۔ہمیں چین کے واحد دوست ہونے کی وجہ سے امن و سکون اور سلامتی کے با رے میںزیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے ۔بھارت نے اپنے اردگرد ماحول کو سازگاربنا لیا ہے ماریش، مالدیپ ،بھوٹان ، نیپال ، سری لنکا ، بنگلہ دیش اس کے اشارہ ابرو پر رقص کناں ہونے کیلئے پا زیب رہتے ہیں۔ اب امریکہ کی خواہش ہے کہ پاکستان بھی بھارت کی علاقائی چودھراہٹ کو قبول کرلے اور جنوبی ایشیاء میں منی سپر پاور انڈیا کی رہبری میں اپنی سلامتی سے بے فکر ہو جائے ۔ جنوبی ایشیا میں بھارت اور امریکہ کا گٹھ جوڑ ہماری سلامتی اور قومی بقاکے لئے سرخ نشان ہے ۔پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو مضبو ط اور توانا سمجھنے والوں کیلئے غورو فکر کی ہزاروں داستانیں مخفی ہیں۔ پاکستان میں میڈیا کے پر کاٹنے ، حصول اقتدار اور حکومت گرانے ،بے معنی جلسے جلوس نکالنے ،معاشی اور سماجی انتشار کو مہمیز لگانے والون کو قو می سلامتی کے بارے میں اشد غورو فکر کی ضرورت ہے ۔ امریکہ اور بھارت پاکستان کو تنہا کرنے ،سزا دینے ،تباہ کرنے ،ایٹمی مواد کو ختم کرنے کے عزائم سے مسلح ہیں۔پاکستان نازک ترین حالات سے گذر رہا ہے ۔ معاشی مشکلات نے پاکستان کی قوت عمل کو مفلوج کر دیا ہے ۔امریکہ افغانستان میں اپنے کردار کو اپنے مہروں کے ذریعے بر قرار رکھنا چاہتا ہے ۔