Get Adobe Flash player

گڈگورننس کا آغاز۔۔۔ضمیرنفیس

کسی بھی جمہوری ملک میںکسی منتخب حکومت کی پہلے ایک سال کی کارکردگی کا جائزہ لینا شاید درست انداز فکر نہیں سمجھا جاتا عام طور پر اسے اس لئے بھی غیر حقیقت پسندانہ قراردیا جاتا ہے کہ ایک سال کی مدت کے دوران تعمیر و ترقی کے منصوبوں کا محض سنگ بنیاد ہی رکھا جا سکتا ہے ان کے ثمرات سے قوم مستفید نہیں ہو سکتی منصوبوں کے لئے بجٹ کا تعین کرنے سے لے کر فزیبلٹی وغیر ہ کی تیاری اور اسکے بعد ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کی کوششیں ایک طویل ایکسر سائز ہو تی ہے اور جو ملک مسلسل دہشت گردی کا شکار رہا ہو جہاں سرمایہ کاری سے غیر ملکی سرمایہ کارہچکچارہے ہو ں اس میں کسی نئی حکومت سے کارکردگی کی توقع کو منصفانہ نہیں قرار دیا جا سکتا اگر اس حکومت کی بد قسمتی یہ ہو کہ اسے ورثے میں ابتر معیشت اور بدعنوان ڈھانچہ ملا ہو تو معاملات اور بھی مشکل ہو جاتے ہیں اس سارے پس منظر میں اگر ہم نواز شریف حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کو دیکھتے ہیں تو یہ کسی صورت معجزے سے کم دکھائی نہیں دیتی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد اسے جو پہلا مسئلہ درپیش تھا وہ بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کا تھا اس نے 480ارب روپے کے گردشی قرضے کا خاتمہ کرکے سترہ سو میگا واٹ بجلی سسٹم میں شامل کی جبکہ کوئلے ،نیوکلئیر ،ہائیڈل،شمسی توانائی اور ہوا سے 21ہزار میگا واٹ سے زائد سستی بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شروع کئے گئے نندی پور پروجیکٹ جس کی مشینری گزشتہ دورحکومت میں کراچی پورٹ پر پڑی بر باد ہوتی رہی موجودہ حکومت نے اسے سات ماہ کی مدت میں مکمل کر لیا پہلے مرحلے میں 96میگاواٹ بجلی حاصل کی جارہی ہے اگلے 11ماہ میں ایک سو میگا واٹ مزید حاصل ہو جائے گی چولستان میں قائداعظم سولر پارک کا قیام چھ ماہ کے اندر مکمل ہو جائے گا توانائی کے ان منصوبوں کے لئے عالمی بنک نے بارہ ارب ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ایشین ڈویلپمنٹ نیک جامشورد پروجیکٹ کیلئے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا تھری جی اور فور جی کی نیلامی سے ایک ارب 18کروڑ ڈالر کی آمدنی اور اس کے نتیجے میں تیز رفتار ٹیلی مواصلات کا فروغ کیا کسی معجزے سے کم ہے موجودہ حکومت ہی کے دور میں یورو بانڈز کی فروخت کے ذریعے دو ارب ڈالر حاصل ہوئے جبکہ گزشتہ حکومت کے دور میں ایسی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔آج قومی معیشت ابتری کے دور سے نکل کر اطمینان کے دائرے میں داخل ہو چکی ہے زرمبادلہ کے ذخائر بارہ ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں اور ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی مستحکم ہو چکی ہے ترسیلات زر میں 11.4فیصداضافہ بیرون ملک پاکستانیوں کے موجودہ حکومت پر اعتماد کی علامت ہے یہ وہی ریلوے ہے جس کے حالات مخدوش تھے اب اس کے خسارے میں 6ارب روپے کی کمی ہو چکی ہے اب گاڑیاں مختلف شہروں کے دوران ایندھن کی عدم فراہمی یا انجن کی خرابی کے باعث نہیں رکتیں بلکہ ملک کے بیس لاکھ مسافر وں کو سفری سہولتیں فراہم کر رہی ہیں اسے بھی معجزے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے موجودہ حکومت کی ایک اور بڑی کامیابی یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کیلئے جی ایس پلس سٹیٹس ہے جس کے باعث ٹیکسٹائل برآمدات پر ڈیوٹی کی خاتمہ سے محض چند ماہ کے دوران ان کی برآمدات میں سات فیصد اضافہ ہوا ہے جس سیاسی جماعت نے نو جوانوں کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا اور انہیں اپنی قوت قرار دیا اس نے خیبر پختونخواہ میں جہاں اسکی حکومت ہے نو جوانوں کیلئے کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا اس کے برعکس وفاقی حکومت نے نوجوانوں کی معاشی بحالی کیلئے ایک سو ارب روپے کے وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے ذریعے نو جوانوں کے لئے کاروباری قرضوں ،لیپ ٹاپ اسکیم ،انہیں سرکاری اداروں سے فیسوں کی واپسی اور بلاسود قرضہ جات کی فراہمی کے منصوبے شروع کئے جن پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے پاک چین اقتصادی راہداری ایک ایسا منصوبہ ہے جو دونوں ملکوں کی عظیم دوستی میں نہ صرف ایک سنگ میل ثابت ہو گا بلکہ اس خطے میں ترقی کے عمل کو تیز کر دے گا خنجراب سے گوادر تک اقتصادی راہداری کے اس منصوبے پر چین کی طرف سے توانائی اور انفراسٹر کچر پر 35ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی موجودہ حکومت کی یہ خصوصیت ہے کہ اس نے تعمیر و ترقی اور معاشی بحالی کے ان منصوبوں کے ساتھ انسانی حقوق جمہوری استحکام اور سیاسی رواداری کے معاملے میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے آج ملک میں کوئی بھی سیاسی تبدیلی نہیں حکومت نے ایک دہائی قبل کی سیاسی انتقام کی روایت کو دفن کر دیا ہے اسی طرح ملک سے ہارس ٹریڈنگ کی سیاست کے خاتمے کا کریڈٹ بھی بلاشبہ اسی حکومت کا حصہ ہے۔