ذبیحہ اور جھٹکا۔۔۔ایم ابراہیم خان

بسنت گزر گئی مگر بیانوں اور پیش گوئیوں کی گڈیاں اب اونچی اڑ رہی ہیں۔ کلیوں کے چٹکنے اور پھول بننے کا موسم کیا بیتا کہ بیانات کے شگوفے چھوڑنے اور پیش گوئیوں کے ذریعے گل کھلانے کی رت آ دھمکی۔ قیاس کے گھوڑے دوڑانے والے یہ بھی نہیں دیکھ رہے کہ میدان چھوٹے پڑتے رہے ہیں۔ اسلام آباد کا موسم شاید کھچڑی پکانے کے لیے سازگار نہیں اِس لیے یاروں نے لندن پہنچ کر شب دیگ چڑھائی جارہی ہے۔ کینیڈا والے ڈاکٹر طاہرالقادری اور گجرات والے چودھری برادران نے ولایت میں ڈیرا ڈال کر حکومت مخالف اتحاد کی بنیاد ڈالی ہے۔ معاملہ اگرچہ ابھی رابطوں کے مرحلے میں ہے مگر کچھ بعید نہیں کہ اپنے مربیوں سے اشارے پاکر یار لوگ کمر کس لیں اور میدان میں اتر آئیں۔لال حویلی فیم شیخ رشید فرماتے ہیں کہ اِس بار قربانی عیدالاضحی سے قبل ہوگی۔ ہم ان کے مداح سہی مگر اختلاف کا حق تو رکھتے ہیں۔ شیخ صاحب میں شاید اگلے وقتوں کی تھوڑی سی مروت باقی ہے اِس لیے قربانی اور ذبیحے کی بات کر رہے ہیں، ورنہ سچ تو یہ ہے کہ ذبیحے والی عید سے قبل جھٹکے کی تیاری کی جارہی ہے۔ ن لیگ کی حکومت کے گلے پر چھری پھیرنے کے لیے سبھی بے تاب ہیں۔ وہ بھی جو جانتے ہیں کہ انہیں ایک بوٹی تک نہ مل پائے گی۔حکومت کے مشکل میں ہونے کا سب سے توانا اشارا مولانا فضل الرحمن نے دیا ہے۔ مولانا کو اللہ نے خطرے کی بو سونگھنے کی غیر معمولی صلاحیت عطا فرمائی ہے۔ جب بھی کوئی حکومت جانے والی ہوتی ہے یا خطرے میں پڑچکی ہوتی ہے تب سب سے پہلے فضل الرحمن اس سے الگ ہوتے ہیں۔ فضل الرحمن اِس مرحلے سے گزر چکے ہیں۔
یہ اِک اشارا ہے آفاتِ ناگہانی کا
کسی جگہ سے پرندوں کا کوچ کر جانا
لندن میں طاہرالقادری اور چودھری برادران کا مل بیٹھنا بہت خطرناک نہ ہو تب بھی تشویشناک تو ہے ہی۔ جنوری 2013 میں بھی طاہرالقادری خاصی تیاری کے ساتھ کینیڈا سے تشریف لائے تھے اور اپنے مریدوں اور مداحوں کو درشن دینے کے ساتھ ساتھ حکومت کو پریشانی کے درشن کرائے تھے۔ وہ شاید اب اس درشن کی دوسری قسط پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اسلام آباد کے یخ بستہ موسم میں طاہرالقادری اینڈ کمپنی نے جو شب دیگ تیار کی تھی اس میں کئی آنچوں کی کسر رہ گئی تھی۔ طاہرالقادری تو کنٹینر میں بیٹھ کر کافی پیتے ہوئے ہدایات دیتے رہے اور جسم میں سوئی کی طرح چبھنے والی اسلام آبادی سردی سہتے ہوئے ان کے جن کارکنوں اور مریدوں نے شب دیگ تیار کی مگر ان کی محنت اکارت گئی کیونکہ کھانے والوں کو خاک برابر بھی ذائقہ محسوس نہ ہوا۔ قوم ایسی گئی گزری بھی نہیں کہ سامنے کی بات نہ سمجھ سکے۔ جاننے والے جان گئے کہ طاہرالقادری نے جو کچھ کیا وہ ٹوپی ڈراما تھا۔ اور یہ بھی کہ کس کے اشارے پر اور کیوں یہ ڈراما رچایا گیا اب ڈاکٹر صاحب جھلسانے اور پگھلانے والی گرمی میں اپنے چاہنے والوں کے جذبوں کی گرمی آزمانا چاہتے ہیں۔ایک بار پھر دبئی سے لندن تک سیاسی سرگرمیوں کی بہار ہے۔ حکومت مخالف سازشوں کا جال سا بِچھتا دکھائی دے رہا ہے۔ شیخ رشید اگر یہ سمجھ رہے ہیں کہ حکومت کا ذبیحہ ہوکر رہے گا تو ذرا یہ بھی بتادیں کہ حکومت کے گلے پر چھری پھیرنے کی سعادت کون حاصل کرے گا؟ عمران خان کو اِس ڈرامے میں قصاب کا کردار ادا کرنا تھا مگر ہائے ری کم نصیبی کہ ان کا تو اپنا جھٹکا ہوچکا ہے۔ اور وہ بھی کند چھری سے نہایت باریکی اور ہوشیاری سے انہیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگادیا گیا ہے۔ ایک طرف تو وہ چار نشستوں پر دھاندلی کا ڈھول پیٹ رہے ہیں اور دوسری طرف ایک بڑے میڈیا گروپ کے پیچھے ہاتھ دھوئے بغیر پڑے ہوئے ہیں۔ یاروں نے انہیں میڈیا کی دنیا کے کنگ میکر کے ہوش ٹھکانے لگانے کا ٹاسک سونپا ہے۔ جس طرح کوئی بچہ کھلونے کی فرمائش کرکے رونا شروع کرتا ہے، روتے روتے تھک ہار کر سو جاتا ہے اور بیدار ہوتے ہی پھر کھلونے کا راگ الاپنے لگتا ہے بالکل اسی طرح عمران خان بھی اٹھتے بیٹھے، سوتے جاگتے دھاندلی کا راگ الاپ رہے ہیں۔ دھاندلی کی شکایت نے ان کی سیاسی قوالی میں ٹیپ کے مصرع کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ دھاندلی کے راگ میں اب ایک بڑے میڈیا گروپ کے خلاف ڈھول پیٹنے کی سرگم بھی شامل ہوگئی ہے۔ معاملہ اگرچہ ایسا ہے کہ مزا دو آتشہ ہوکر رہے مگر عمران خان کے لیے عجیب الجھن پیدا ہوئی ہے۔ یہ ان کے لیے حیراں ہوں دِل کو روں کہ پیٹوں جگر کو میں والا ہے۔ سنت کبیر کہہ گئے ہیں کہ دو پاٹن کے بیچ میں باقی بچا نہ کوئے۔ عمران بھی دو پاٹن کے بیچ میں پھنسے ہیں۔ شیخ رشید اور انہی کے قبیل کے دیگر افراد نے تحریک انصاف کے چیئرمین کو مخالفت کے قطب مینار پر چڑھاکر سیڑھی ہٹالی ہے۔ عمران خان کو شاید معلوم نہیں کہ اختلاف کی راہ پر چلنا کبھی کبھی سخت آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ اکثر ایسا ہوا ہے کہ اِس طلسمات میں کسی نے مڑ کر دیکھا اور پتھر کا ہوگیا قدم بڑھا، ہم تمہارے ساتھ ہیں کا فلک شگاف نعرہ لگانے والے ذرا سی دھوپ نکلتے ہی سائے سے بھی پہلے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔