پاک فوج کے امن دستے۔۔۔ابن شمسی

ہر پاکستانی کے لیے یہ فخرواعزاز کی بات ہے کہ اقوام متحدہ ہر سال پانچ جون کو ''پاکستانی امن دستے کے دن'' کے طور پر مناتی ہے۔ اس دن پاک فوج کے امن دستوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے اور خاص طور پر ان کی بہادری اور کارنامے کو یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے5جون 1993ء کو صومالیہ میں ایک انتہائی کٹھن آپریشن کرکے باغیوں کے نرغے میں آئی امریکی رینجرز کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔اس معرکے میں پاک فوج کے 24جوانوں نے جام شہادت نوش کیا مگر پاکستان کے پرچم کو دنیا بھر میں بلند کردیا۔ اس کارنامے پر پوری دنیا پاکستان اور اس کے عوام کی معترف تھی۔ نائب کمانڈر امن فوج صومالیہ امریکی فوج کے جنرل تھامس منٹگمری نے پاک فوج کے امن دستے کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج کو باغیوں کے شکنجے سے بچانا پاکستانی فوج کے لیے ایک پیشہ وارانہ امتحان تھا جس میں وہ سرخرو ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی کئی امریکی فوجی پاک فوج کی پیشہ وارانہ کارکردگی کی وجہ سے زندہ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقوام متحدہ کے پرچم تلے پاک فوج کے امن دستوں کی خدمات کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں۔ جب سے اقوامِ متحدہ کا قیامِ عمل میں آیا ہے ، دنیا میں قیام امن کے لئے بہت سے ممالک اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں عالمی امن کے لئے انتہائی فعال کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح پاک فوج مختلف مواقع پر اقوام متحدہ کی امن فوج کا حصہ رہی اور ملک و قوم کے لئے قابل فخر کامیابیاں حاصل کیں۔عالمی امن میں پاکستان کا حصہ نظم وضبط اور تربیت کے لحاظ سے بھی زیادہ نمایاں رہا ہے۔جس کی بدولت یواین پیس کیپنگ ہیڈکوارٹرز نے سرالیون میں تعینات پاکستانی دستے کو ''تمام مشنز کے لئے رول ماڈل'' قراردیا۔عالمی امن جیسے مقدم فریضے کی ادائیگی کے دوران اس وقت تک پاکستان کے 139جوان بشمول 21آفیسرز اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں اور اتنی ہی تعداد میں زخمی ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے امن مشن کے دوران پاکستان کے کردار کا دائرہ انتہائی وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ کثیرالجہتی رہا ہے۔ انہوں نے مختلف ثقافتی، جغرافیائی، سیاسی اور سیکورٹی ماحول میں بڑی ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام دیئے۔ اب تک دنیا کے 23مختلف ممالک میں ہونے والے41امن مشن میں پاکستان کے ڈیڑھ لاکھ کے قریب سولجرز اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس وقت بھی دس ہزار کے قریب افسر اور جوان سات مختلف امن مشنز میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشن کا باقاعدہ حصہ1960 ء میں بنا جب کانگو سے بیلجیم کی فوجوں کے انخلاء کے دوران پاک فوج نے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی۔ پاک فوج کی موجودگی کی بدولت حساس علاقوں میں خانہ جنگی کا خطرہ ٹل گیا۔اس کے بعد1962ء میں انڈونیشیا اور ہالینڈ میں ایک معاہدہ کے تحت جب مغربی ایریان کے انتظامی امور عبوری طور پر اقوام متحدہ کے حوالے کئے گئے، پاک فوج کی ایک انفنٹری بٹالین اقوام متحدہ کے امن دستہ کا حصہ تھی جس کی موجودگی میں مشن کامیابی کے ساتھ تکمیل کو پہنچا۔1992 ء سے 1995 ء کے دوران صومالیہ میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں پاک فوج کے جوانوں کی موجودگی کی بدولت نہ صرف صومالیہ میں اندرونی خلفشار پر قابو پا لیا گیا بلکہ پاکستان کا امن دستہ مقامی باشندوں کے لئے امید کی ایک کرن ثابت ہوا۔1992 ء ہی میں پاک فوج کی ایک بٹالین کمبوڈیا کے امن مشن کا بھی حصہ رہی۔ جہاں جمہوری عمل کی بحالی اور ملک کے نئے آئین کے تحت سول حکومت کا قیام بخوبی مکمل ہوا۔ 1991 ء میں خلیج کی جنگ کے فوراً بعد کویت میں پاک فوج کے انجینئرز نے جنگ زدہ خطہ کی بحالی اور ملک کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کیا۔بوسنیا میں پاکستان کا امن دستہ 1995 ء میں پہنچا اور پاک فوج نے اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے تحفظ کا فریضہ انجام دیا۔ یہی نہیں پاکستان کے امن دستہ نے متحارب گروپوں میں جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد میں بھی اہم کردار ادا کیا۔اس وقت پاک فوج کے امن دستے سرالیون' کانگو لائبیریا اور برونڈی میں موجود ہیں۔ مختصر یہ کہ دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے مختلف امن دستوں میں پاک فوج کی موجودگی کے باعث عالمی امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا جا رہا ہے۔متاثرہ علاقوں میں قیامِ امن کے لئے کی گئی پاکستان کی امدادی کوششوں کو نہ صرف مقامی آبادی نے سراہا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کا اعتراف کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے پاک فوج کے دستوں کی خدما ت کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا: '' آپ کے سولجرز نے عالمی امن اور اقوام متحدہ کے لئے جو بیش بہا قربانیاں دیں ہیں، وہ قابل تقلید ہیں اور میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔ یہ پاکستانی عوام کے جذبہ خدمت کا اظہارکرتی ہیں''۔ صومالیہ میں متعین اقوامِ متحدہ فورس کے ڈپٹی کمانڈر میجر جنرل ایم۔ منٹگمری نے ایک ٹیلی ویژن پر انٹرویو میں کہا:''پاکستانی سپاہیوں نے نہایت خطرناک جنگ زدہ علاقوں میں ملائشیا اور امریکی فوجیوں کے ساتھ جس طرح امدادی کارروائیوں میں ہاتھ بٹایا اس کی بدولت آج بہت سے لوگوں کی جانیں محفوظ ہیں۔''