Get Adobe Flash player

کیا مودی بھارت کا گوربا چوف ثابت ہوگا؟۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 امیر جماعة الدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے دعویٰ کیا ہے کہ نریندر مودی بھارتی گوربا چوف ہے۔ اس کے دور میں تحریک آزادی کشمیر مزید تیز ہو گی۔کشمیر کشمیریوں کا ہے اور اس کا حل بھی کشمیریوں کی امنگوں کے عین مطابق ہونا چاہیے۔ کشمیر خطے کا سب سے اہم مسئلہ اور پاک بھارت تعلقات کی بنیاد ہے۔ کشمیری پاکستان کو اپنا وکیل سمجھتے ہیں، اگربھارت مذاکرات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل نہیں کرتا تو آخری حل عسکری جدوجہد ہے۔ بھارتی انتہا پسند نریندر مودی کے وزیراعظم بننے سے ہندوستان اور کشمیر کے مسلمان مزید غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔بھارت میں مسلمان آئی ٹی پروفیشنل کو صرف ایک تصویر کا بہانہ بنا کر مار مار کر شہید کردیا گیا۔ ریاست مہاراشٹرا کے شہر ہدپسار کی بنکار کالونی کے 28 سالہ رہائشی شیخ محسن صادق نے ہندوؤں کے دیوتا ''شیوا جی'' اور ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا کے آنجہانی سربراہ بال ٹھاکرے کی تصاویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ڈالی جس پر احتجاج شروع ہوگیا اور انتہا پسند تنظیم ہندو راشٹرا سینا کے کارندوں نے موقع پاکر شیخ محسن پر حملہ کرکے لاٹھیوں کے وار سے شدید زخمی کردیا۔ شیخ محسن کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔بھارتی انتخابات میں بھارتی جنتا پارٹی کی کامیابی پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ سعید نے کہا کہ بھارتی انتخابات میں بی جے پی کی فتح خطے کے لئے خطرناک فیصلہ ہے۔بھارت میں ہمیشہ انتخابات پاکستان دشمنی پر لڑے گئے ہیں۔ بھارتی میں ہندو مسلم فسادات پھیل رہے ہیں۔ نریندری مودی اپنی ہر تقریر میں ہمیشہ پاکستان مخالف بیان دیتے تھے ان کے منتخب ہونے سے خطے میں صورت حال کشیدہ ہوگئی۔پاکستان اور بھارت کے سربراہوں کو مل بیٹھ کر مسائل حل کرنا چاہیے۔نریندر مودی کی کامیابی سے اقلیتوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حریت رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بی جے پی اور کانگریس ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ بھارت میں حکومت کی تبدیلی سے مسئلہ کشمیر کے حل کی کوئی امید نہیں۔ بی جے پی اور کانگریس دونوں فرقہ ورانہ جماعتیں ہیں۔ کانگریس کے سڑسٹھ سالہ دور اقتدار میں چھتیس ہزار مسلم کش فسادات ہوئے، بی جے پی نے کانگریس کے زیر سایہ بابری مسجد کو شہید کیا۔ بی جے پی، شیوسینا اور بجرنگ دل نے بھارت اور کشمیر میں مسلمانوں کا خون بہایا۔ بھارت میں حکومت کی تبدیلی سے مسئلہ کشمیر کے حل کی کوئی امید نہیں۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ بھارت میں حکومت کی تبدیلی کشمیریوں کے لئے بے معنی ہے۔ حقیقی تبدیلی کے لئے بھارت مقبوضہ کشمیر سے بھارتی فوج کو واپس بلائے۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ نئی حکومت دیرینہ تنازع کشمیرکے حل کے لئے ٹھوس اقدامات کرے گی۔نریندر مودی کی حلف برداری کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف کے بھارت جانے سے سب سے زیادہ دکھ کشمیریوں کو ہوا۔ نریندر مودی نے تقریب حلف برداری میں جس لہجے میں بات کی، نواز شریف کو جواب میں بلوچستان اور دیگر علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی پر بات کرنی چاہیے تھی۔ پاکستان کشمیریوں کو ان کا حق دلوانے کیلئے بین الاقوامی سطح پر کوششیں تیز کرے۔ تحریک آزادی کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے کشمیریوں کو آگے بڑھنا چاہیے۔ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔بھارت سیز فائر لائن کو مستقل بارڈر بنانا چاہتا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے باڑلگانا اور پختہ چوکیاں بنانا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ کوٹلی، راولاکوٹ، باغ اور مظفرآباد کے کشمیری اگر دوسری جانب جاتے ہیں تو ان کو لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی نہیں سمجھناچاہیے۔ یہ کشمیریوں کا حق ہے جو ان سے چھینا نہیں جا سکتا۔ پاکستان کھل کر مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اٹھائے۔ پاکستان ہی نہیں پورے عالم اسلام کو کشمیریوں کی پشت پناہی کرنا ہو گی۔ محمد نوازشریف کو کھل کر کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ کشمیر کے بغیر بھارت سے کوئی مذاکرات نہ کئے جائیں۔