Get Adobe Flash player

عالم اسلام کی زبوں حالی۔۔۔میاں انوارالحق رامے

 عالم اسلام پر اجتماعی طور پرپژ مردگی مسلط ہے ۔دورغلامی نے مسلمانوں کی قوت عمل کو مفلوج کردیا تھا ۔برطانیہ اپنے دور اقتدار میں غلام ممالک میں اپنے کلچر و ثقافت کے فروغ کیلئے تعلیمی اداروں کا قیام عمل لایا تھا ۔پوری یورپی برادری نے عیسائیت کو پھیلانے کیلئے منظم انداز میں مربوط کاروائی کا آغاز اقتدار کے ابتدائی سالوں میں ہی شروع کردیاتھا ۔برصغیر پاک و ہند میں مشنری اداروں نے یورپی و سائل کو بروئے کار لا کر مقامی آبادیوں میں اپنے مذہب کی تبلیغ کا آغاز کردیا تھا ۔عمومی طور ان مشنری اداروں کاہدف وہ قبائل تھے تو مذہبی معاملات میں بالکل نابلد اور کورے اورناخواندہ لوگ تھے ۔یہ قبائل حضری زندگی سے کٹے ہوئے لوگ تھے جو جدید و قدیم صنعت و حرفت سے بالکل بے بہرہ تھے ۔یہ معاشرے کے پس ماندہ ترین طبقے سے منسلک تھے ۔برصغیر پاک و ہند مختلف الخیال کثیر الثقافت لوگوں کا مسکن تھا ۔انگریز کی آمد سے پہلے بر صغیر پاک و ہند پر اسلامی پر چم اپنی پوری شان وشوکت لہراتا تھا۔مسلمان حکمرانوں نے اپنی رعایا کو تلوار کے زور سے مذہب تبدیل کرنے پر قطعاََ مجبور نہیں کیا تھا ۔بر صغیر پاک و ہند میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت مسلم اولیاء اکرام اور صوفیا عظام کے ہاتھوں انجام پائی تھی ۔مقامی آبادی میں سے سعید روحوں نے اسلام کی پکار پر لبیک کہا تھا اس طرح بر صغیر پاک و ہند میں ہزار سالہ اقتدار کے با وجود مسلم آبادی بھارت میں اقلیت میں رہی تھی ۔دور حاضر میں بنگلہ دیش ،پاکستان اور انڈین مسلمانوں کی تعداد کو جمع کیا جائے تو یہ آبادی 60کروڑ کے قریب بنتی ہے ۔دنیا بھر میں مسلمان اقلیتیں ظلم و ستم کا شکار ہیں ۔بعض مقامات پر ان کے خلاف نسل کشی کا عمل جاری ہے ۔نائیجریا کی مسلم آبادی آجکل بدترین حالا ت سے گز ر رہی ہے ۔برطانیہ نے ڈیڑھ صدی کی حکمرانی کے بعد جب 1960ء میں نائیجیریا کو آزاد کیا تو ملک کے ہر حصے میںمشنری سکولز ہسپتال عیسائی بنانے کی فیکٹر یاں اپنی وراثت میں چھوڑ دیں ۔بر صغیر پاک و ہند کی طرح جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی ان کے دام فریب کا شکار ہو کر مغربی تہذیب و تمد ن کا دلدادہ بن گیا تھا ۔نائیجریا کی آبادی سترہ کروڑ چالیس لاکھ ہے افریقہ کا سب سے بڑا ملک ہے۔دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے ۔36صوبوں پر مشتمل ہے ۔500کے قریب لسانی گروپ ملک کے مختلف حصوں میں بکھرے ہوئے ہیں مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کی تعداد 50 فیصد ،عیسائی 40فیصد اور دوسرے مذاہب کی تعداد 10فیصد ہے ۔امریکیNGOکے مطابق نائیجیریا میں عیسائیوں کی تعداد 49.3فیصد مسلمانوں کی تعداد 48.8فیصد اور 1.9فیصد دیگر مذاہب کی تعداد ہے ۔پیو Pew (NGO) کا دعویٰ ہے 2030ء تک مسلمانوں کی آبادی 51.5ہوجائے گی ۔غیر مسلم ادارے ایسوسی ایشن ریلجین ڈیٹا کا کہنا ہے کہ عیسائیوں کی آبادی 46.5فیصد مسلمانوں کی آبادی 45.5فیصد اور دیگر مذاہب کی آبادی 7.7فیصد ہے ۔مسلمان اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔نائیجیریا کے مسلمانوں کے درمیان اتفاق و اتحاد کی بے حد کمی ہے ۔باہمی منقسم ہو کر قومی سطح پر بے اثر ہوجاتے ہیں ۔1980ء کی دہائی کے بعد باہمی اتفاق اور اسلام دشمن قوتوں کی مداخلت کی بنا ء پر مسلمانوں کو آہستہ آہستہ اقتدار سے الگ کیا جارہا ہے ۔1990 ء کے بعد حیران کن حد تک گرجا گھروں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہونا شروع ہوگیا تھا ۔مسلم علاقوں میں بھی عیسائی مشنریوں کے سکول کالجز ہسپتال اور گر جا گھروں کی بھر مار کردی تھی ۔نائیجریا کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ علاقائی سیاسی لیڈروں کو شہریت دینے اور یانہ دینے کا اختیار حاصل ہے مقامی لیڈر اس سلسلہ میں سر ٹیفکیٹ جاری کر تا ہے ۔سر ٹیفکیٹ کے حصو ل کے بعد آدمی سیاست میں حصہ لے سکتا ہے اپنی زمین و ملازمت اورتعلیم حاصل کرسکتا ہے ۔اس قانون کا وسیع پیمانے پر ظالمانہ طریقے سے اطلاق جاری ہے ۔بوکو حرام پر تحقیق کرنے والے عبدالکریم نے واضح کیا ہے کہ بد عنوانی تناؤ ،غربت ،بے روزگاری ،اور سماجی سطح پر ناانصافی اصل میں تشدد ،شورش کی اصل وجہ ہے ۔عیسائی اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑ ے جارہے ہیں ۔اس سے بڑی بد قسمتی ہے کہ مسلمان علاقوں میں مسلمان باہمی طور پر فرقہ پرستی کا شکار ہوگئے ہیں ۔جنوبی و مغربی علاقوں میں عیسائی خوشحال زندگی بسر کررہے ہیں مسلمان شمال علاقوں میں انتہائی پسماندہ زندگی گزاررہے ہیں 2009ء میں سیکورٹی فورسز نے کریک ڈاؤن کرکے حکومتی سطح پر 700افراد کی ہلاکت کا اقرارکیا تھا ۔اس آپریشن میں بوکو حرام کے لیڈر محمد یوسف کو گرفتار کرکے باقی ساتھیوں کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ۔14مئی 2013کو عیسائی صدر گڈلک جوناتھن نے بورنو ،یوبو اور آدم وامیں ہنگامی حالات نافذ کرکے فوج کو کاروائی کا حکم دیا تھا ۔فوج نے کرفیو نافذ کرکے زمینی و فضائی حملے شروع کردیے ۔علاقوں کی ناکہ بندی کی گئی اس ظالمانہ کاروائی میں ان گنت مسلمان شہید ہوئے اور سینکڑوں کی تعد دا میں بے گھر ہوگئے تھے ۔اس سے پہلے 16،17اپریل 2013میں فوج نے ایک بڑا حملہ کرکے 200مسلمانوں کو شہید کردیاتھا ۔صوبہ یلیٹو کے عیسائی گورنر یو حنا جنگ نے مسلمانوں کی نسل کشی کی باقاعدہ مہم شروع کردی تھی۔سینکڑوں مسلمانوں کو ہلاک اور ہزاروں کو نقل مکانی پر مجبور کردیا تھا ۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 2013ء کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران بوکو حرام سے تعلق کا بہانہ بنا کر فوجی حراستی مراکز میں ہزاروں افراد کو بے گھر کردیاتھا نائیجرین ایوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے قلع قمع کے نام پر حکومت مغربی ممالک سے فنڈز حاصل کرتی ہے ۔ہمیں بطور پاکستانی بوکو حرام کے بارے میں درست طور پر معلومات معلوم ہونی چاہئیں ۔بوکو حرام کا اصل نام جماعت اہل السنہ الدعوة الجہاد ہے ۔اس کی ابتدا ء 1995میں شباب (مسلم یوتھ آرگنائیزیشن ) کے نام سے ہوئی ابتدائی لیڈر ملام اول تھے ۔بعدا زاں محمد یوسف نے قیادت سنبھالی ۔