Get Adobe Flash player

September 2016

30 September 2016

کسان پیکج، پنجاب میں زرعی انقلاب کی مضبوط و ٹھوس بنیاد۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 وزیراعلیٰ شہبازشریف نے زراعت کی ترقی، فی ایکڑ پیداوار میں اضافے، کسانوں کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کیلئے 100 ارب روپے کے پیکیج اور پنجاب کسان کمیشن کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ 100 ارب روپے کے فنڈ آئندہ 2 برس کے دوران خالصتاً زراعت کے فروغ اور کسانوں کی خوشحالی پر ہی صرف ہوں گے۔ پنجاب زرعی کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ زراعت صحیح معنوں میں قومی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ زراعت کا فروغ، کسانوں کی خوشحالی اور فی ایکڑ زرعی پیداوار میں اضافہ ہمارا مشن ہے۔ کانفرنس کی سفارشات کی روشنی میں ٹھوس زرعی پالیسی مرتب کی جائے گی۔ صوبے کو خطے کا زراعت اور غلے کا گھر بنانا اور کسانوں کو بااختیار بنانے کے حوالے سے ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم آج بھی زراعت کے شعبے میں پیچھے ہیں اور اسے ہم صحیح معنوں میں ترقی دینے میں ناکام ہیں۔کسان پیکج کے تحت کسانوں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کیلئے 13 ارب روپے کا پروگرام جس سے صوبہ کے 4لاکھ 50ہزار کاشتکار فائدہ اٹھائیں گے جن کو ربیع اور خریف میں بالترتیب 25ہزار روپے اور40ہزارروپے فی ایکڑ قرضہ جاری کیا جائے گا۔ کسانوں کو سمارٹ فونز کی فراہمی تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں اور جدید زرعی معلومات سے ہمہ وقت باخبر رہ سکیں، ڈی اے پی اور یوریا کھادوں پر 9.49 ارب روپے کی سبسڈی جس کی وجہ سے بالترتیب 300 اور 400 روپے فی بوری قیمت میں کمی، کپاس کے تصدیق شدہ بیج کو پیدا کرنے اور کاشتکاروں کو فراہمی کیلئے سسٹم کی تبدیلی 3 ارب روپے جس سے 10لاکھ کاشتکار مستفید ہوں گے، ہر ضلع میں جدید زرعی مشینری کی فراہمی کیلئے مراکز 1.20 ارب روپے سالانہ، موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید زرعی ٹیکنالوجی کی فراہمی، جس میں ڈرپ اریگیشن، ٹنل فارمنگ اور شمسی توانائی پر مشتمل ٹیوب ویلوں کی فراہمی 2.05 ارب روپے، زرعی پیداوار کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے ویئر ہاؤس بنانے کیلئے 2.5 ارب روپے کا پروگرام ، زرعی ٹیوب ویلوں کیلئے فی یونٹ بجلی کی قیمت 5.35 روپے، زرعی ادویات پر جنرل سیلز ٹیکس کا مکمل خاتمہ، کسانوں کی باہمی انجمنوں کے قیام کیلئے 0.5 ارب روپے سالانہ کی فراہمی سمیت ایگریکلچر کمیشن کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے۔فصلوں کی بہتر آبپاشی کیلئے 36 ارب روپے پر مشتمل اصلاح آبپاشی کا 5سالہ پروگرام جس میں پختہ کھال، لیزر لینڈ لیولر کی فراہمی، قطرہ قطرہ آبپاشی، گندم کے تصدیق شدہ بیج کی فراہمی کیلئے 30کروڑ روپے سالانہ، خطہ پوٹھوار کو وادی زیتون میں تبدیل کرنے کیلئے 5 سال میں 1.8 ارب روپے کا پروگرام، محکمہ زراعت کو جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی مرکز میں تبدیل کرنے کا 4.5 ارب روپے کا منصوبہ تاکہ کاشتکاروں کو جدید طریقہ ہائے زراعت سے بہتر طورپر آگاہ رکھا جاسکے، مشینی کاشت کے ذریعے جدید زراعت کو فروغ دینے کیلئے 1.11 ارب روپے کی لاگت سے منصوبہ شامل ہے۔کبھی کپاس کی پیداوار میں پاکستان بھارت سے آگے تھا، باسمتی چاول کی مارکیٹ پر صرف پاکستان کی اجارہ داری تھی، پاکستان دنیا کا چوتھا دودھ پیدا کرنے والا ملک ہے، لائیوسٹاک کے حوالے سے شاید پاکستان دسواں بڑا ملک ہے لیکن آج ہم پیچھے جا چکے ہیں۔ پوری دنیا میں درخت لگانے کی صنعت بن چکی ہے جبکہ ہمارے ہاں جنگل ختم ہو رہے ہیں۔ ہمیں اس اہم کانفرنس کے ذریعے ان سوالات کا جواب تلاش کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ 1998ء میں میری حکومت نے جعلی زرعی ادویات کا مکمل خاتمہ کیا لیکن جب 2008ء میں دوبارہ اقتدار سنبھالا تو یہ مکروہ دھندہ پھر جاری تھا۔ میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ پچھلے ساڑھے سات برس میں لائیوسٹاک کے فروغ پر بھرپور توجہ دی گئی لیکن مطلوبہ نتائج نہیں مل سکے۔ کاشتکار تو دن رات محنت کر رہا ہے لیکن فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ نہیں ہوا۔ زرعی ایکسٹینشن سروس دم توڑ چکی ہے اور ریسرچ ادارے اپنا مطلوبہ کام نہیں کر رہے جس کے باعث کاشتکاروں کو مشورے دینے کا سلسلہ بھی بند ہو چکا ہے۔ ہم نے گنّے کے کاشتکاروں کے مفاد کا تحفظ کیا اور انہیں 180 روپے فی من کے حساب سے ادائیگی یقینی بنائی جبکہ ایک صوبے نے سیاست کھیلتے ہوئے گنے کی قیمت 160 روپے کی لیکن میں نے سٹینڈ لیا اور ایک پائی بھی کم نہ کی جس کی بنیادی وجہ کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ تھا۔خادم اعلیٰ نے اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ 100 ارب روپے کے تاریخی پیکیج کے مثبت نتائج سامنے آنے چاہئیں۔ میں اس پیکیج کی ایک ایک پائی کی ادائیگی یقینی بناؤں گا اور اس کا مکمل حساب بھی لوں گا۔ اس پیکج کے علاوہ بھی وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف زراعت کی ترقی کیلئے انتھک محنت کر رہے ہیں۔ محکمہ زراعت پنجاب نے مشینی کاشت کے فروغ کے لئے زرعی آلات مشینری کی فراہمی کے پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت50 فیصد سبسڈی پر اندرون ملک تیار شدہ زرعی آلات مشینری فراہم کی جائے گی۔ جس سے مشینی کاشت کا فروغ اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو گا۔ زرعی مشینری میں ڈسک ہیرو، روٹا ویٹر، ربیع ڈرل، چیزل ہل اور شوگر کین رجر یونین کونسل کی سطح پر جبکہ شوگر کین ٹوکہ اور ہالوکون نوزلز گاؤں کی سطح پر دیئے جائیں گے۔ ڈسک ہیرو، روٹا ویٹر، ربیع ڈرل اور چیزل ہل کا سیٹ پنجاب کی ہر یونین کونسل میں جبکہ شوگر کین رجر کماد کی کاشت کے اضلاع کی ہر منتخب یونین کونسل میں قرعہ اندازی کے ذریعے ایک منتخب کاشتکار کو دیا جائے گا۔ شوگر کین ٹوکہ کماد کی کاشت کے اضلاع کے ہر گاؤں میں دو عدد 50 فیصد رعایتی قیمت پر بذریعہ قرعہ اندازی مہیا کیے جائیں گے جبکہ ہالوکون نوزل کپاس کی کاشت کے اضلاع کے ہر گاؤں میں تین عدد اجتماع کاشتکاروں میں مفت تقسیم کی جائیں گی۔ اس کے لئے کاشتکاروں کو درخواست دینے کی ضرورت نہیں۔ اقوام متحدہ نے بین الاقوامی سطح پر 2016ء کو دالوں کا سال قرار دیاہے جس کامقصد دالوں کی غذائی اہمیت کو اجاگر کرنا اور ان کی پیداوار میں اضافہ سے فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ دالیں غذائیت کے اعتبار سے گوشت کا نعم البدل ہونے کے ساتھ پروٹین کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہیں۔دالیںپھلی دار فصل ہونے کے باعث زمین کی زرخیزی برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتی ہیں۔ پاکستان میں دالوں کی کل پیداوار کا 80فیصد پنجاب پیدا کرتا ہے۔ پنجاب میں 2.491ملین ایکڑ رقبہ دالوں کے زیر کاشت لایا جاتا ہے جس سے 0.42ملین ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے لیکن بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دالوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے۔ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی دالوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہر سال دالوں کی درآمد پر کثیر زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔محکمہ زراعت پنجاب صوبہ میں دالوں کی پیداوار میں اضافہ اور مناسب قیمت پر دستیابی کے لیے کوشاں ہے۔اس سلسلہ میں حکومت پنجاب 2014۔15ء سے دالوں کی پیداوار میں اضافہ اور درآمدی اخراجات میں کمی کے لیے 127ملین روپے کی خطیر رقم سے دو سالہ منصوبہ کا آغاز کر چکی ہے۔ اس منصوبہ کے تحت پنجاب سیڈ کارپوریشن کے ذریعے کاشتکاروں کو دالوں کی ترقی دادہ اقسام کے تصدیق شدہ بیجوں کی فراہمی کے علاوہ لائنوں میں کاشت کے لیے 136 ملٹی کراپ ڈرل کی نصف قیمت پر تقسیم کی جارہی ہیں۔ بارانی علاقوں کے علاوہ آبپاش علاقوں میں کماد و دیگر فصلوں میں دالوں کی مخلو ط کاشت کے فروغ سے ان کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے۔کاشتکاروں کو دالوں کی مخلوط کاشت اورجڑی بوٹی مار ادویات کے استعمال سے متعلق جدید پیداوار ی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے لیے ماہرین کے زیر نگرانی 546مقامات پرنمائشی پلاٹس بھی لگائے جارہے ہیں۔ان کاوشوں کے نتیجہ میں دالوں کی کاشت کو فروغ حاصل ہو گا اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے ساتھ کاشتکاروں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا۔پاکستان دالوں کی پیداوار میں نہ صرف خود کفیل ہو گا بلکہ درآمد ی اخراجات میں بھی کمی ممکن ہو گی۔


Read more

حُسن لازوال۔۔۔پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

 میں سیدالانبیاء ۖ کے روضہ مبارک کے سامنے رشک بھری نظروں سے روضہ رسول ۖ جو اماں عائشہ  کا حجرہ تھا دیکھ رہا تھا یہی وہ حجرہ تھا جہاں سرور دو جہاں ۖ نے بہت سارے شب و روز گزارے اِن درو دیوار نے پیا رے آقا ۖ کی ہزاروں دلنواز ادائیں دیکھیں ہو نگی آپ ۖ کا چلنا بیٹھنا سونا عبا دت کر نا یہاں سے نکل کر مسجدمیں جانا ، مشکبو ہوائیں' فضائیں نسلِ انسانی کے سب سے بڑے انسان کو دیکھتی ہو نگی اور اپنی قسمت پر رشک کر تی ہو نگی میں سنہری جالیوں کے اندر سرخ سبز چادر کے آگے دیکھنے کی کو شش کر رہا تھااچانک چشمِ تصور میںایک خیال ہزاروں چاند ستا روں کی طرح چمکتا ہے اور میں اندر تک برفیلی خو شبوئوں سے مہکتا چلا جا تا ہوں تجسس خو شگوار حیرت احترام آخری حدوں کو چھو نے لگا مجھے اچانک لگا کہ میں سرتاج الانبیاء ۖ شاہِ دوجہاں ۖ کے اتنا قریب ہوں، پیا رے آقا ۖ پاک کا جسم اطہر اُسی طرح کر ہ ارض کو مہکا رہا ہے اور قیا مت تک اِسی طرح مہکاتا رہے گا اِس خیال کے ساتھ میری روح سر شاری سے جھوم رہی تھی کہ میں محبوب خدا ۖ کے اتنا قریب ہوں آپ ۖ کا چہرہ مبا رک اور داڑھی مبا رک پر غسل کے بعد پا نی کے قطرات ابھی بھی مو تیوں کی طرح رو شنی بکھیر رہے ہونگے جنت کے مہکتے جھونکے آپ ۖ کے قدموں سے لپٹ لپٹ جا رہے ہوں گے میں اِسی خو شی سر شاری نشے اورمستی سے دو چار تھا کہ بیان سے با ہر ہے' میرے انگ انگ نس نس سے سر شاری و مستی کے جھرنے پھو ٹ پڑتے تھے اورمیں اپنی قسمت پر نازاں کہ کہاں میں سیا ہ کا ر اور کہاں پیارے آقا ۖ کا در میں حجرہ پاک اورمسجدِ نبوی ۖ کے درو دیوار کی قسمت پر رشک کر رہا تھا جنہوں نے شہنشاہِ دو عالم ۖ کے لا فانی حسن کا بار بار نظا رہ کیا ہو گا بلا شبہ شہنشاہِ مدینہ ۖ کو خا لق کا ئنات نے اپنے ہی نور سے خلق کیا ایک لاکھ چوبیس ہزار نبیوں کے بعد اُن تمام نبیوں کے حسن کو اکٹھا کر کے اُس حسن میں اپنے خا ص نو ر کو شامل کر کے سرور کونین ۖ کو بنایا ہو گا آپ ۖ کے حسن لا زوال کے سامنے پو ری کا ئنات کے حسن ماند پڑ گئے تھے ۔ جس نے بھی آپ ۖ کو دیکھا وہ آپ ۖ پر فدا ہو گیا کیونکہ تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ خالق کا ئنا ت کے بعد پو ری کا ئنات میں آپ ۖ جیسا اور کو ئی نہ بنایا، سیرت کی بے شمار کتابوں میں ہزاروں سیرت نگاروں نے پیا رے آقا ۖ کے حسن کو بیان کر نے کی کو شش کی ہے لیکن سمندر کے ایک قطرے یا صحرا کے ایک ذرے سے آگے کو ئی بھی نہ جا سکا اور نہ کو ئی قیا مت تک بیان کر سکے گا آج چودہ صدیوں سے بے شمار عشاق نے آپ ۖ کے حسن کو بیان کر نے کی کو شش کی ہے جب کہ سچ تو یہ ہے کہ یہ تمام سرور کو نین ۖ کی صفات کی صرف ایک جھلک کا ہی ادارک کر سکے ہیں' اِن کے قلم عاجزی اور بے بسی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں کیونکہ شاہِ مدینہ کے اصل حسن اور وصف سے خالق ہی آگا ہ ہو سکتا ہے اور کو ئی نہیں امام بو صیری  نے کیا خو ب کہا ہے ۔ انہوں نے صرف صورت دکھائی ہے تیری صفات کی لوگوں کو جیسے پا نی صورت دکھا دیتا ہے ستاروں کی ۔ امام قرطبی  نے کسی عارف کا قول کیا اچھے طریقے سے لکھا ہے کہ رسول کریم ۖ کا کامل حسن ہما رے لیے ظا ہر نہیں ہوا کیونکہ اگر ہو جا تا تو ہما ری آنکھیں آپ ۖکے دیدار کی تاب نہ لا سکتیں ۔ اِس میں کو ئی شک نہیں کہ یہ سیرت نگا ر نے آپ ۖ کے حسن کے بیان کے لیے جو بھی تشبیہات بیان کی ہیں وہ صرف لوگوں کو سمجھا نے کے لیے ورنہ اِس کائنات میں آپ ۖ کے لا زوال حسن کو بیان کر نے کے مثل کو ئی بھی مثال یا چیز نہیں ہے ۔ پیا رے آقا ۖ نو رِ مجسم ۖ کا روئے مبا رک جو جمال الہی کا آئنیہ اور انوار تجلی کا مظہر تھا پر گو شت اور کسی قدر گو ل تھا آپ ۖ کے روئے مبا رک کو دیکھتے ہی تو یہودی عالم عبداللہ بن سلام پکا رتا تھا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے انسان کا ہو ہی نہیں سکتا اور آپ ۖ کے چہرہ مبا رک کے لا فانی حسن کو دیکھ کر ہی ایمان لے آتے حضرت براء بن عازب  فرماتے ہیں کہ رسول کریم ۖ تمام لوگوں سے زیا دہ خو برو اور خوش خو تھے ۔ حضرت جابر بن سمرہ  کا بیان ہے کہ میں نے شہنشاہِ دوعالم ۖ کو چاندنی رات میں دیکھا آپ ۖ سرخ دھا ری دار حلہ پہنے ہو ئے تھے میںکبھی چاند کو اور کبھی آپ ۖ کو دیکھتا تو آخر یہ نتیجہ نکلاکہ بلا شبہ آپ ۖ چاند سے زیا دہ خو بصورت ہیں۔اماں عائشہ  سے روایت ہے کہ میں سحر کے وقت سو رہی تھی مجھ سے سوئی گر پڑی میں نے بہت کو شش کی مگر سوئی نہ ملی تو اچانک آقا پاک ۖ تشریف لے آئے تو آپ ۖ کے چہرہ انوار کے نور سے چاروں طرف روشنی پھیل گئی اور مجھے اُس روشنی میںسوئی نظر آگئی تو میں نے یہ ماجرا آقا کریم ۖ کے گو ش گزار کردیا تو آپ ۖ نے فرمایا اے حمیرا سختی و عذاب ہے ( تین مرتبہ فرمایا) اِس شخص کے لیے جو میرے چہرے کے طرف دیکھنے سے محروم کیا گیا ۔ حا فظ ابونعیم نے بروایت عبادبن عبدالصمد  بیان کیا ہے کہ اس نے کہا ہم حضرت انس بن مالک  کے ہاں تشریف لائے آپ  نے کنیز سے کہا کہ دسترخوان لا ئو تا کہ ہم چاشت کا کھا نا کھائیں وہ لے آئیں' آپ  نے فرمایا رومال لائو وہ میلا رومال لا ئی آپ  نے فرمایا کہ تنو رگرم کر' اس نے تنو رگرم کیا پھر آپ  کے حکم سے رومال اس میں ڈال دیا گیا وہ ایسا سفید نکلاگو یا کہ دودھ ہے ہم نے حضرت انس  سے پو چھا کہ یہ کیا ہے انہوں نے فرمایا یہ وہ رومال ہے جس سے ہم رسول کریم ۖ اپنے روئے مبارک کو مسح فرمایا کر تے تھے جب یہ میلا ہو جاتا ہے تو اِسے ہم یوں صاف کر لیتے ہیں کیونکہ آگ اِس شے پر اثر نہیں کر تی جو انبیاء  کے روئے مبا رک پر سے گزری ہو ۔ آپ ۖ بے شک لا زوال حسن کے مالک تھے آپ ۖ کے جسم کے ہر اعضا ء سے نو ر کے چشمے پھو ٹتے تھے آپ ۖ آنکھیں بڑی اور قدرت الہی سے سرمگیں اور پلکیں دراز تھیں آنکھوں کی سفیدی میں سرخ ڈورے تھے جب آپ ۖ نے 25سال کی عمر میں حضرت خدیجہ  کے کہنے پر ملک شام کا سفرکیا تھا اور حضرت خدیجہ  کا غلام میسرہ آپ ۖ کے ساتھ تھا' جب آپ ۖ کا قافلہ بصے میں پہنچا تو وہاں پر نسطوار راہب نے میسرہ سے حضور ۖ کے متعلق سوال کیا کہ کیا اُن کی دونوں آنکھوں میں سرخی ہے تو میسرہ نے جواب دیا ہاں یہ سرخی ہے اور کبھی بھی ختم یا جدا نہیں ہو تی۔ ابن عبا س  سے روایت ہے کہ شہنشاہِ دوعالم ۖ اندھیری رات میں روشن دن کی طرح دیکھتے تھے حدیث شریف میں بھی آیا ہے رسول اللہ ۖ نے فرمایا مجھ سے تمہا را رکوع اور خشوع پوشیدہ نہیں ہے میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے دیکھتا ہوں'امام مجاہد نے تفسیر میں بیان کیا ہے کہ رسول کریم ۖ نماز میں پچھلی صفوں کو یو ں دیکھتے تھے جیسا کہ اپنے سامنے والوں کو اِسطرح آپ ۖ فرشتوں اور شیاطین کو واضح طورپر دیکھ لیا کر تے تھے ۔شبِ معراج صبح کو قریش مکہ کے سامنے بیت المقدس کا حال اسطرح بتا یا جیسے سب کچھ آپ ۖ کی نظروں کے سامنے حضرت جعفر طیا ر کو شہا دت کے بعد جنت میں ملا ئکہ قدسی کے ساتھ اڑتے ہو ئے دیکھنا' زمین کے مشرق و مغرب کو آسانی سے دیکھ لیتے تھے غزوہ خندق کھو دتے وقت جب ایک سخت پتھر حا ئل ہو گیا تو رسول اکرم ۖ نے تین طاقت ور ضربوںسے اُس پتھر کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے آپ ۖ نے پہلی ضرب پر فرمایا کہ میں یہاں سے شام کے سرخ محلات دیکھ رہا ہوں دوسری ضرب پر فرمایا کہ میں یہاں سے کسرٰی کا سفید محل دیکھ رہا ہوں تیسری ضرب پر فرمایا میں اِس وقت یہا ں سے ابواب صنعا کو دیکھ رہا ہو اور اِسی طرح غزوہ مو تہ میں حضرت زید بن حا رث  و جعفر بن ابی طالب  و عبداللہ بن رواحہ  جب یکے بعد دیگرے شجا عت و بہا دری سے لڑتے ہو ئے شہید ہو رہے تھے تو مالک دو جہاں ۖ مدینہ منورہ میں اُن کی شہا دت کو اِس طرح بیان فرما رہے تھے جس طرح اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہوں درج بالا تمام واقعات و امور اِس بات کی واضح دلیل ہیں کہ سر تاج الانبیا محبوب خدا ۖ کی بے پناہ قوت بینا ئی تھی جس کی بنا پر آپ ۖ کر ہ ارض کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک اور قیا مت تک ہو نے والے تمام واقعات کو دیکھ لیتے تھے آپ ۖ کن فیکون کے مقام پر تھے جو لفظ آپ ۖ کی زبان مبارک سے نکل گیا وہ ہو گیا ۔


Read more

بھارت کی اپنے عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش۔۔۔ظہیر الدین بابر

 بھارت کی پاکستان میں سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے کی غیر جانبدار حلقوں نے تصدیق نہیں کی۔ ادھر پاک فوج کے ترجمان نے ایسی طرز کی کسی بھی بھارتی کارروائی کی سختی سے تردید کی ہے۔ ادھر عالمی سطح پر بھارتی دعوی اس لحاظ سے بھی مشکوک قرارپایا ہے کہ اس نے جمعرات کو پاکستانی علاقے میں کی جانے والی سرجیکل سڑائیکس کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ بنیادی سوال تو یہی ہے کہ اصل میں سرجیکل سٹرائیکس ہوتی کیا ہیں ؟ ماہرین کے بقول اس عمل میں دشمن کے علاقے میں گھس کر کارروائی کی جاتی ہے اور یہ عمل مکمل کرنے کے بعد زمینی علاقے پر قبضہ کرنے کی بجائے فورسز واپس اپنے علاقے میں آجاتی ہیں۔ ماہرین کے بقول ایسی کارروائی کرنا انتہائی مشکل ہے اور اس کے لیے کسی بھی فوج کی بے پناہ مہارت کے علاوہ تکنکی مدد کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔بھارت نے دعوے کیا ہے کہ جمعرات کو ہونے والی اس کاروائی میں متعدد شدت پسند مارے گئے مگر اس کے برعکس پاک فوج کا کہنا ہے کہ سرحد پار فائرنگ کے نتیجے میں محض دوجوان شہید ہوئے جبکہ جواب میں چھ سے زائد بھارتی فوجی مارے گئے۔پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کی تاریخ کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ تسلیم کرنا یقینا مشکل ہے کہ بھارتی فوج پاکستانی علاقے میں گھسی اور باآسانی کارروائی کرکے لوٹ گئی۔ سرحد کے آر پار بڑی تعداد میں فوجی دستے تعینات ہیں ۔ دو تین کلومیڑ اندر گھسنا تو درکنار ایل او سی پر ہر پانچ سومیٹر پر چیک پوسٹیں موجود ہیں۔دشوار گزاری پہاڑی علاقہ ہونے کے سبب بھی یہ ممکن نہیں کہ چند گھنٹوںمیں بھارتی فوج کارروائی کرکے باآسانی پاکستانی علاقے سے نکل جائے۔عملاصورتحال یہ ہے دو ممالک کی مسلح افواج کے درمیان محض دو سے تین سو گز کے فاصلے پر موجود ہے۔ بھارت باخوبی جانتا ہے کہ درحقیقت ایسی کسی بھی کارروائی کو پاکستان باقائدہ جنگ کا اعلان سمجھے گا اور پھر اسی طرح اس کا جواب بھی دیا جائیگا۔ مودی سرکار ایسے اعلانات کے ذریعہ اپنی عوام کو تو بے وقوف بنا سکتی ہے مگر عالمی برادری اس لالی پاپ سے کسی صورت مطمئن ہونے والی نہیں۔ پاک فوج نے گزشتہ روز بھارتی سیکیورٹی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ کا بھرپور جواب دیتے ہوئے جہاں دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا وہیں ایک بھارتی فوجی کو بھی حراست میں لیا گیا۔ اس کی تصدیق بھارتی وزیر داخلہ کی جانب سے کی جاچکی ۔ راج ناتھ سنگھ نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ پاکستانکی حراست میں بھارتی فوجی کی باحفاظت واپسی کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔''قبل ازیںپاکستان کی جانب سے کہا گیا کہ بھارتی فوجی کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ سرحد عبور کرکے پاکستانی علاقے میں داخل ہوا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے الجزیرہ ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے اس کی امر کی تصدیق کی کہ ایک بھارتی فوجی پاکستان کی حراست میں ہے۔''ادھر وزیراعظم پاکستان کی سربراہی میں پاک بھارت کشیدگی کے پس منظر میں کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں نوازشریف نے کھلے الفاظ میں کنٹرول لائن پر بھارتی بلااشتعال کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے عوام اورعلاقائی سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدمات کریگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو ہم ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں اور پوری قوم فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔''پاک بھارت کشیدگی پر امریکہ نے ایک بار پھر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انکل سام نے بھارت کی جانب سے سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے کے بعد دونوں ملکوں کو کشیدگی ختم کرنے اور بات چیت کے ذریعہ مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ امریکی وزرات خارجہ کے ترجمان جان کربی نے جمعرات کو معمول کی پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میںکہا کہ ''دونوں ملکوں کو ہمارا پیغام یہی ہے کہ وہ ایسے اقدام سے بچیں جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو ۔ ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون بڑھے اور دونوں ملکوں کی جانب سے خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدمات اٹھائے جائیں۔ ''پاک بھارت کشیدگی یقینا خطرناک شکل اختیار کرتی جارہی مگر اس میں قطعا دو آراء نہیں کہ پڑوسی ملک محاذآرائی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کسی طور پر اپنا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں۔ گذشتہ روز کے واقعہ کے بعد بھارتی ایکسچینج کو ناقابل یقین دھچکا لگا اور انڈکس 500پوائنٹ نیچے گرگیا۔ بھارتی روپے کی قدر میں بھی 50پیسے کمی ہوئی جس کے بعد وہ 66روپے 99 پیسے ہوگیا۔دراصل نریندر مودی اور ان کے قریبی رفقاء کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں۔

Read more

خطے میں نئی صف بندی۔۔۔ضمیرنفیس

 گزشتہ روز ایرانی بحریہ کا ایک جہاز کراچی پہنچا بتایا گیا کہ پاکستان اور ایران مشترکہ بحری مشقیں کریں گے ادھر نیو یارک میں گزشتہ ہفتے وزیر اعظم نواز شریف سے ایران کے صدر حسن روحانی نے ملاقات کی اور اس دوران سی پیک میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی وزیر اعظم نے ان کی خواہش کا خیر مقدم کیا پاک ایران تعلقات کے پس منظر میں ایران کی مذکورہ خواہش بے حد اہمیت رکھتی ہے اس سے جہاں دونوں برادر ملکوں کے درمیان تعلقات میں مزید گرمجوشی پیدا ہوگی وہاں چین اور ایران کے درمیان بھی مضبوط تعلقات قائم ہوں گے سی پیک میں شمولیت کی ایرانی خواہش بے حد معنویت رکھتی ہے ایران جو امریکہ کی اعتصالی پالیسیوں کا براہ راست نشانہ بنا ہے وہ چین کے ساتھ اپنے رابطوں کو مزید آگے بڑھانا چاہتا ہے ایران اس خطے کا اہم ملک ہے چین کے ساتھ مضبوط تعلقات اس کی ضرورت ہیں اور دوسری طرف چین کی بھی یہی خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ اس کے تعلقات میں مزید قربت آئے سی پیک اس کیلئے ایک اہم موقع تخلیق کرتا ہے جو ایران کی معاشی اور سیاسی دونوں ضرورتیں پوری کر سکتا ہے سی پیک اگر بھارت کیلئے تکلیف دہ ہے تو دوران خانہ امریکہ کیلئے بھی تکلیف دہ ہے امریکہ کیسے یہ برداشت کر سکتا ہے کہ خطے میں چین کے اثر و رسوخ کو مزید وسعت ملے اور وہ مزید معاشی استحکام حاصل کرے لیکن سردست امریکہ اعلانیہ سی پیک کی مخالفت نہیں کرتا اس لئے کہ بظاہر اس کے پاس اس مخالفت کا کوئی جواز بھی نہیں ہے جبکہ کوئی نیپال یا بھوٹان نہیں بلکہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن اور عالمی طاقت ہے۔بحری ہوں یا بری فوجی مشقیں ہوں یا ملکوں کے درمیان دوستی اور ہم آہنگی کی علامت ہوتی ہیں پاکستان اور روس کے درمیان فوجی مشقیں جاری ہیں جو دس اکتوبر تک جاری رہیں گی روس اور بھارت کے درمیان ماضی کے پرجوش تعلقات کے باعث بھارت کو یہ خوش فہمی تھی کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران روس پاکستان کے ساتھ فوجی مشقیں منسوخ کر دے گا لیکن روس نے اپنے تعلقات اور مفادات کو اہمیت دی چنانچہ مشقیں شیڈول کے مطابق جاری ہیں روس کا یہ فیصلہ اس امر کی علامت ہے کہ اب بھارت روس قربتوں کی نوعیت پہلے جیسی ن ہیں رہی امریکہ اور بھارت کی بڑھتی ہوئی قربتوں نے ماسکو کو بھی نئے راستوں کی طرف متوجہ کیا ہے خطے میں جس طرح نئی صف بندی کی طرف شعوری اور لاشعوری پیش رفت ہو رہی ہے اس میں پاکستان چین روس اور ایران سردست واضح دکھائی دے رہے ہیں جبکہ بعض وسطی ایشیائی ریاستوں کی بھی اس اتحاد میں شرکت خارج از امکان نہیں ادھر امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے امکانات واضح ہیں اب نائن الیون کے متاثرہ خاندانوں کو سعودی عرب کے خلاف مقدمات دائر کرنے اور نہ مانگے ہرجانے وصول کرنے کا قانون پاس ہوگیا ہے صدر اوبامہ کی انتظامیہ نے اس حوالے سے بل کی مخالفت کی بڑی کوششیں کیں لیکن عوامی دبائو کے باعث دونوں ایوانوں میں اکثریت رائے سے یہ بل منظور ہوگیا صدر اوبامہ نے اپنے خصوصی اختیارات یعنی ویٹو کے تحت مذکورہ بل کو مسترد کرنے کی کوشش کی لیکن بھاری اکثریت سے اس کا ویٹو بھی مسترد کردیا گیا جس کے بعد اب اس قانون کے راستے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے اب صدر اوبامہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی اس بل پر دستخط کرنے پڑیں گے اس قانون کے نتیجے میں سعودی عرب کے خلاف ہرجانے کے لاتعداد مقدمات درج ہوں گے اور سعودی حکومت کو اربوں ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنا پڑے گا یہ نئی صورتحال امریکہ اور سعودی عرب دونوں کیلئے ایک زبردست چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے جو بہر صورت تعلقات میں کشیدگی پیدا ہونے کی نشاندہی کررہی ہے گویا عالمی سطح پر مشرق وسطیٰ میں بھی بڑی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔تجزیہ کاروں نے پاک روس مشترکہ مشقوں پر قیاس آرائی کی ہے کہ ان سے خارجہ پالیسی کے میدان میں کرعلین کی نئی راہوں کے انتخاب کا اظہار ہوتا ہے پاک امریکہ تعلقات میں سرد مہری نے ان مشترکہ مشقوں کی معنویت اور بھی گہری کردی ہے روس کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ بھارت یا کوئی دوسرا خفا ہوتا ہے یا خوش اس نے سوچ سمجھ کر خارجہ پالیسی کو نئی سمت دی ہے روس تواتر سے مختلف ممالک کے ساتھ جو مشقیں کررہا ہے اس سے نیٹو میں بے حد تشویش پائی جارہی ہے جو یقینا غیر توقع نہیں ہے۔


Read more

سی پیک میں شمولیت کی ایرانی خواہش پر فوری اقدامات کی ضرورت

 وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے گزشتہ روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک ایک قومی منصوبہ ہے حالیہ سی پیک سمت میں وفاقی و چاروں صوبوں کی بھرپور نمائندگی نے ثابت کردیا ہے کہ قوم متحد ہے انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت ریلوے منصوبوں کی بدولت تیز رفتار ذرائع نقل و حرکت میں انقلاب آئے گا ایک سوال یر ان کا کہنا تھا کہ سی پیک کے مغربی روٹ پر کام زور و شور سے جاری ہے انہوں نے ہمسایہ ملک بھارت کی راہداری منصوبے پر بوکھلاہٹ کو افسوسناک قرار دیا انہوں نے مزید کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبے پر دونوں ملکوں کی جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کا اگلا اجلاس رواں سال نومبر میں ہوگا۔اقتصادی راہداری منصوبے پر چاروں صوبائی حکومتوں اور وفاق کے درمیان مکمل اتفاق رائے ہے اوائل میں مغربی روٹ کے بارے میں بعض صوبوں اور عناصر کی طرف سے جو اعتراضات سامنے آئے اور خدشات ظاہر کئے گئے انہیں رفع کیا جا چکا ہے چنانچہ اب مغربی روٹ پر کام تیزی سے جاری ہے اور تمام صوبے کام کی رفتار سے مطمئن ہیں تاہم یہ امر تعجب کا باعث ہے کہ جونہی بھارتی وزیر اعظم نے بلوچستان میں مداخلت کے حوالے سے بیان دیا بعض حلقے اچانک ایک بار پھر مغربی روٹ کا شوشہ چھوڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوششیں کررہے ہیں ہم سمجھتے ہیں کسی سیاسی گروہ کے مطمئن یا غیر مطمئن ہونے کی اہمیت نہیں بنیادی بات یہ ہے کہ چاروں صوبوں کی منتخب حکومتوں کو مطمئن کیا جائے اور یہ امر خوش آئند ہے کہ سی پیک کے معاہدے میں چاروں صوبائی حکومتیں وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کام کررہی ہیں صنعتی زون بھی صوبوں کی مرضی کے مطابق ہی قائم کئے جائیں گے صوبائی حکومتیں نشاندہی کریں گی کہ یہ کس علاقے میں قائم کئے جائیں سی پیک کے بعض منصوبوں پر جس تیزی سے کام ہو رہا ہے وہ یقینا اطمینان بخش ہے یہی وجہ ہے کہ بعض ممالک نے اس میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران ایران کے صدر حسن روحانی نے غیر مبہم انداز میں کہا کہ ایران سی پیک میں شمولیت کا خواہاں ہے ہمارے نزدیک ایک برادر ہمسایہ ملک کی اس خواہش کی روشنی میں مطلوبہ اقدامات جلد ہونے چاہئیں پاک چین مشاورت کے بعد باضابطہ طور پر ایران کو دعوت دی جائے تاکہ اس امر کا تعین کیا جا سکے کہ وہ کس شعبے میں اور کس حد تک شمولیت کر سکتا ہے اس معاملے کو روایتی سرخ نبتے کی نذر نہیں ہونا چاہیے بلکہ وزیر منصوبہ بندی کو اس سلسلے میں مطلوبہ پیش رفت کرنی چاہیے۔



Read more

اڑی کے بعد اب سرجیکل سٹرائیکس کا بھارتی ڈرامہ

 وزیر اعظم نواز شریف نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی گولہ باری کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے بھارت کو انتباہ کیا ہے کہ اسے پرامن ہمسائیگی کی ہماری پالیسی کا غلط مطلب نہیں لینا چاہیے مسلح افواج سرحدوں کی حفاظت کی پوری صلاحیت رکھتی ہے یاد رہے کہ جمعرات کے روز بھارت کی گولہ باری سے پاک فوج کے دو جوان شہید ہوئے جبکہ پاکستان کی جوابی کارروائی سے بھارت کو شدید نقصان اٹھانا پڑا وزیر اعظم پاکستان نے دفاع وطن کیلئے شہید ہونے والے جوانوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ پرامن ہمسائیگی کے وژن کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ملکی خود مختاری کے خلاف کسی بھی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت نے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کو سرجیکل سٹرائیکس سے تعبیر کیا ہے بھارتی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل زنبیر سنگھ نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ سرجیکل آپریشن کنٹرول لائن پر نصف رات شروع ہوا اور صبح تک جاری رہا کنٹرول لائن کے ساتھ دہشتگرد جموں و کشمیر اور ملک کے دوسرے شہروں میں تخریب کاری کی غرض سے دراندازی کیلئے جمع تھے جنہیں ختم کردیا گیا ہے اس کارروائی میں متعدد دہشتگرد اور ان کے سہولت کار مارے گئے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ سرجیکل سٹرائیکس کن علاقوں میں کی گئیں آئی ایس پی آر نے سرجیکل سٹرائیکس کے بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے زیر انتظام علاقے میں کوئی سرجیکل آپریشن نہیں کیا تاہم بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر کیل، بھمبر اور لیپا سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ ضرور کی ہے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی سرجیکل سٹرائیکس کے بھارتی دعوے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بھارتی فائرنگ کا پاکستان کے جوانوں نے منہ توڑ جواب دیا ہے ملکی سلامتی کیلئے مسلح افواج مکمل تیار ہیں۔یہاں اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ کا پاکستان کی طرف سے بھرپور جواب دیا گیا جس کے نتیجے میں سات بھارتی فوجی ہلاک ہوئے اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کی لاشیں لائن آف کنٹرول پر پڑی ہوئی ہیں۔بھارت اپنے عوام کو مطمئن کرنے کیلئے جھوٹ پر جھوٹ بولے جارہا ہے جس طرح اس نے اڑی ڈرامہ چلایا اسی طرح اس نے سرجیکل سٹرائیکس کی کہانی بھی بنائی جس کا درحقیقت کوئی وجود نہیں ہے لائن آف کنٹرول پر اپنی بلا اشتعال فائرنگ کو سرجیکل سٹرائیکس اور ایل او سی پر فائرنگ دو مختلف چیزیں ہیں سرجیکل سٹرائیکس مانیٹر کی جا سکتی ہیں اس جدید مواصلاتی دور میں ترقی یافتہ ممالک انہیں مانیٹر کر سکتے ہیں اگر آزاد کشمیر کے اندر یا پاکستان میں بھارت نے سرجیکل سٹرائیکس کی ہوتیں تو اب تک بھارت کو اس کا ایسا جواب مل چکا ہوتا جسے دنیا دیکھتی البتہ یہ ضروری ہے کہ اس نے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری کی ہے جس سے چھ افراد زخمی ہوئے ہیں اور متعلقہ دیہی علاقوں میں شدید خوف و ہراس پایا جارہا ہے کنٹرول لائن پر واقع آبادیوں میں بھارتی فورسز کو بزدلانہ حرکتوں کا پاکستان کی طرف سے بھرپور جواب دیا گیا جس کے بعد بھارتی بندوقیں خاموش ہو گئیں بھارت اگر یہ سمجھتا ہے کہ اڑی اور سرجیکل سٹرائیکس کے ڈراموں کے ذریعے وہ عالمی برادری یا بھارتی عوام کو بے وقوف بنا سکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے نریندر مودی کی غلط پالیسیوں کے باعث بھارت کے اندر بھی شدید رد عمل پایا جاتا ہے اپوزیشن پارٹی کانگریس کے علاوہ انتہاء پسند ہندوئوں کی جماعت شیو سینا نے بھی اپنی حکومت پر شدید تنقید شروع کردی اور کہا ہے کہ مودی کی پالیسیوں نے بھارت کو تنہا کردیا ہے اس کی طرف سے یہ استدلال دیا جاتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ عالمی برادری نے اڑی حملے کی مذمت نہیں کی اور کیا وجہ ہے کہ بھارت کے دیرینہ اتحادی روس نے پاکستان کے ساتھ اپنی فوجی مشقیں منسوخ نہیں کیں اگر بھارت عالمی برادری میں تنہا نہ ہوتا تو ہرگز ایسی صورتحال نہ ہوتی دراصل بھارتی اشتعال انگیزی اس کی غلط پالیسیوں اور مقبوضہ کشمیر میں اس کے شدید مظالم نے اسے تنہا کیا ہے امریکی مشیر قومی سلامتی سوزن رائن نے بھی ایک بیان میں بھارت سے کہا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی نہ بڑھائے یہی موقف پاکستان کا بھی ہے پاکستان مسلسل امن کی بات کررہا ہے لیکن جیسا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا پرامن ہمسائیگی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے کسی بھی مہم جوئی کا دندان شکن جواب دیا جائے گا۔



Read more

پاکستان آرمی دنیا کی سب سے سخت جان فوج ہے، جنرل راحیل

آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاکستان آرمی دنیا کی سب سے سخت جان فوج ہے، بنیادی وجہ ہمارے افسروں اور جوانوں کی جسمانی فٹنس ، پروفیشنل ازم اور چیلنجوں کا بہادری سے مقابلہ کرنے کا جذبہ ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے جمعرات کو ایبٹ آباد کا دورہ کیا اور چوتھی چیف آف آرمی سٹاف ینگ سولجرز انٹر سنٹرل پیسز (جسمانی پھرتی وجنگی استعداد سسٹم) چمپئن شپ کے فائنل مقابلے دیکھے۔ آرمی چیف نے کامیاب ہونیوالوں میں انعامات تقسیم کئے مجموعی طور پر بائیس رجمنٹس سنٹرز کے 406 شرکاء ان مقابلوں میں شریک ہوئے ، سپاہی شیراز خان نے 1214 پش اپس 30 منٹ کے اندر لگا کر پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ سپاہی جمشید خان 68 چن اپس کیساتھ اپنی کیٹگری میں سرفہرست رہے۔ سیپر کمل حسین 2134 سٹ اپس کیساتھ اس کیٹگری میں اول رہے۔ سپاہی محمد آصف کو 2474 نمبروں کیساتھ فٹ آف دا فٹسٹ قرار دیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے مقابلہ کے شرکاء اور تربیت کاروں کو جسمانی فٹنس اور پروفیشنل ازم کے انتہائی اعلی معیار حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کی ، جنرل راحیل شریف نے کہا کہ پاکستان آرمی دنیا کی سب سے سخت جان فوج ہے جس کی بنیادی وجہ ہمارے افسروں اور جوانوں کی جسمانی فٹنس ، پروفیشنل ازم اور چیلنجوں کا بہادری سے مقابلہ کرنے کا جذبہ ہے۔

Read more

30 September 2016

بھارت خطے میںکشیدگی نہ بڑھائے،مشیر قومی سلامتی کاانتباہ

 امریکی مشیر قومی سلامتی سوزن رائس ہے کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی مہم سے خطے میں امن وامان کا توازن بگڑرہا ہے لہذا بھارت خطے میں تناؤ نہ بڑھائے۔ مشیر قومی سلامتی سوزن رائس نے بھارتی ہم منصب اجے ڈیول کو ٹیلی فون کرکے اْڑی حملے پر تبادلہ خیال سمیت حملے کی مذمت کی۔ اس موقع پر سوزن رائس نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی مہم سے خطے میں امن بگڑ رہا ہے لہذا بھارت خطے میں تناؤ نہ بڑھائے۔ امریکی وزیرخارجہ نے بھارتی ہم منصب کو دوبارفون کرکے انتباہ کیا کہ کشیدگی کو مزید ہوا نہ دی جائے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سوزن رائس نے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ پاکستان ہر اس تنظیم کے خلاف کارروائی کرے گا جسے اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیا جاچکا ہے۔ امریکی صدر براک اوباما اس عزم پر قائم ہیں کہ دنیا بھر میں دہشتگردی کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹھرے میں لایا جائے گا۔


Read more

30 September 2016

بھارتی جارحیت، پر امن ہمسائیگی کی پالیسی کا غلط مطلب نہ لیا جائے،وزیراعظم

وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ہماری پرامن ہمسائیگی کی پالیسی کا غلط مطلب نہ لیا جائے ' ہماری پرامن ہمسائیگی کے وژن کو ہماری کمزور نہ سمجھا جائے' ہماری مسلح افواج سرحدوں کی حفاظت کی پوری طرح صلاحیت رکھتی ہیں۔ جمعرات کو وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی افواج کی بلا اشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔بھارتی کھلی جارحیت سے لائن آف کنٹرول پر دو پاکستانی اہلکار شہید ہوئے ۔ وزیراعظم نے دفاع وطن کے لئے جان دینے والے جوانوں کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری پرامن ہمسائیگی کے ویژن کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہماری مسلح افواج سرحدوں کی حفاظت کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ ملکی خودمختاری کے خلاف کسی بھی کوشش کا بھرپور جواب دینا جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پرامن ہمسائیگی کی پالیسی کا غلط مطلب نہ لیا جائے۔

Read more

30 September 2016

بھارت کی اقتصادی راہداری پر بوکھلاہٹ افسوسناک ہے،احسن اقبال

 حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے ماحول میں وفاقی وزیر احسن اقبال کی پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی پیش رفت پر پرہجوم پریس کانفرنس، سوشل میڈیا پراحسن اقبال کا ٹوئیٹ کردہ ہیش ٹیگ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی نے حالیہ دورہ چین کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دینے کیلئے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا، پاک بھارت سرحدی کشیدگی نے ماحول گرما دیا، وفاقی وزیر نے صحافیوں سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی و عسکری قیادت دفاعِ وطن کیلئے پوری طرح چوکس ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے پوچھے گئے مختلف سوالات کا خندہ پیشانی سے جواب دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک ایک قومی منصوبہ ہے، حالیہ سی پیک سمٹ میں وفاقی و چاروں صوبوں کی بھرپور نمائندگی نے ثابت کردیا ہے کہ پوری قوم متحد ہے، سی پیک کے تحت ریلوے منصوبوں کی بدولت تیزرفتار ذرائع نقل و حرکت میں انقلاب برپا ہوجائے گا، انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ سی پیک کے مغربی روٹ پر کام زور و شور سے جاری ہے۔ انہوں نے ہمسایہ ملک بھارت کی اقتصادی راہداری منصوبے پر بوکھلاہٹ کو افسوسناک قرار دیا۔احسن اقبال نے اپنے آفیشل ٹوئیٹر اکاؤنٹ سے CPECisGameChangerکے ہیش ٹیگ سے ٹوئیٹ کرکے پریس کانفرنس کے متعلق آگاہ کیا جو انکی پریس کانفرنس کے دوران ہی ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، پلاننگ کمیشن کے آفیشل فیس بک پیج پر لائیو پریس کانفنس ملاحظہ کی گئی، سوشل میڈیا پر دستیاب اعدادو شمار کے مطابق کم و بیش 652,798ٹویٹرز صارفین نے وفاقی وزیر احسن اقبال کے ہیش ٹیگ سے استفادہ کیا، فالوارز نے نہ صرف سی پیک منصوبے کو قومی ترقی کیلئے ناگزیر قرار دیا بلکہ بھارت کی پاکستان دشمنی کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نے آگاہ کیا کہ پاک چین اقتصادی راہداری پر جوائینٹ کوآرڈیشن کمیٹی کا اگلا اجلاس رواں برس نومبر میں منعقد ہوگا، موجودہ حکومت عوام کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہے۔


Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2016 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
        1 2 3
4 5 6 7 8 9 10
11 12 13 14 15 16 17
18 19 20 21 23 24
25 26 27 28 29 30