Get Adobe Flash player

September 2016

29 September 2016

احمد شہزاد کو ٹی ٹوئنٹی اور ونڈے میں واپس لانا چاہتے ہیں، عاقب جاوید

پاکستان کے سابق میڈیم پیسر عاقب جاوید نے کہا ہے کہ ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، عماد وسیم فیوچر کا سٹار ہے، بابر اعظم جیسا ٹیلنٹ کم ہی دیکھا ہے۔بیسٹ ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچایا جائے،احمد شہزاد کو ٹی ٹونٹی اور ون ڈے میں واپس لانا چاہئے، سرفراز احمد کا کپتان بننا پاکستان کرکٹ کے لئے نیک شگون ہے۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کے سابق میڈیم پیسر عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ احمد شہزاد کو ٹی 20 اور ون ڈے میں واپس لایا جائے۔ عاقب جاوید نے مزید کہا کہ عماد وسیم فیوچر کا سٹار ہے، بابر اعظم جیسا ٹیلنٹ کم ہی دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیسٹ ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔عاقب جاوید نے یہ بھی کہا کہ کرکٹ میں کپتان کا رول بہت اہم ہوتا ہے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر کا کہنا تھا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف جیت کا کریڈٹ کپتان سرفراز احمد کو جاتا ہے۔ عاقب جاوید نے یہ بھی بتایا کہ سرفراز احمد کا کپتان بننا پاکستان کرکٹ کے لئے نیک شگون ہے۔ انہوں نے کہا کہ ون ڈے اور ٹی ٹونٹی میں ہم نے بہت زیادہ تجربات کئے، احمد شہزاد کو ٹی ٹونٹی اور ون ڈے میں واپس لانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلنٹ کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔

Read more

احمد شہزاد اور فاسٹ بائولر جنید خان کی ٹیم میں واپسی کاامکان

پاکستان کر کٹ بورڈکی سلیکشن کمیٹی نے سائیڈلائن کئے ہوئے کرکٹرزکو ایک بارپھر صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دینا چاہتی ہے۔اس بات کی اطلاعات ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈکی سلیکشن کمیٹی نے ویسٹ انڈیزکے خلاف سائیڈمیچ کیلئے پاکستان کرکٹ بورڈپیٹرنزالیون میں احمد شہزاداورجنیدخان کو موقع دینے کا فیصلہ کرلیاہے جبکہ وکٹ کیپر عدنان اکمل کو بھی سائیڈ میچ کھلایاجاسکتاہے۔ذرائع کے مطابق قومی امکان ہے کہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے مستقل رکن اسدشفیق ویسٹ انڈیزکے خلاف سائیڈمیچ میں پی سی بی پیٹرنز الیون کی قیادت کریں گے۔دوسری جانبٹیسٹ کرکٹر محمد حفیظ یکم اکتوبر سے قائد اعظم ٹرافی کے میچ میں ایکشن میں دکھائی دیں گے جہاں قومی سلیکشن کمیٹی ان کی فارم اور فٹنس کا جائزہ لے گی۔محمد حفیظ فٹنس مسائل کے باعث انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز اور پھر ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کا حصہ نہ بن سکے ۔محمد حفیظ یکم اکتوبر سے شروع ہونے والی قائد اعظم ٹرافی کے پہلے میچ میں سوئی نادرن گیس کی جانب سے سیالکوٹ میں ایکشن میں دکھائی دیں گے۔قومی سلیکشن کمیٹی ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کرنے سے پہلے محمد حفیظ کی فارم اور فٹنس کا جائزہ لینا چاہتی ہے ۔

Read more

پاکستان میں ٹیلنٹ کی تلاش ، چار غیر ملکی کرکٹرز کی آمد

پاکستان میں ٹیلنٹ کی تلاش کے لئے چار سابق غیر ملکی کرکٹرز کراچی پہنچ گئے ، چاروں کھلاڑی آج پاکستانی کرکٹرز کے ٹرائل لیں گے۔ پاکستان میں نئے ٹیلنٹ کی تلاش کے لئے چار سابق غیر ملکی کرکٹر کراچی پہنچ گئے۔ جونٹی رہوڈز ، ڈیمن مارٹن ، اینڈی رابرٹس اور ڈینی موریسن دبئی سے کراچی پہنچے۔ چاروں کرکٹرز پاکستان میں ایک ہفتہ قیام کریں گے اور کل سے پاکستانی کرکٹرز کے ٹرائل لیں گے۔ ٹرائل کے بعد مختلف ٹیمیں بنا کر میچز بھی کھیلے جائیں گے۔ کراچی ائیرپورٹ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جونٹی رہوڈز کا کہنا تھا کہ پاکستان محفوظ ملک ہے ، امید ہے جلد انٹرنیشنل کرکٹ پاکستان واپس آئیگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے ایسا ٹیلنٹ تلاش کرلیں گے جو پوری دنیا کو چونکا دے۔ جونٹی رہوڈز کا مزید کہنا تھا کہ ٹی ٹونٹی کرکٹ میں فیلڈنگ اہم کردار ادا کرتی ہے ،اینڈی رابرٹس کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز فاسٹ بولرز کی سرزمین ہیں ، وسیم اکرم اور وقار یونس جیسے کھلاڑیوں کا کوئی نعم البدل نہیں۔ جونٹی رہوڈز ، ڈیمن مارٹن ، اینڈی رابرٹس اور ڈینی موریسن آج سے پاکستانی کرکٹرز کے ٹرائل لینگے۔

Read more

پی سی بی کا کھلاڑیوں اورٹیم مینجمنٹ کو بونس دینے کا فیصلہ

پاکستان کرکٹ ٹیم نے ٹیسٹ میچز میں انگلینڈ کے خلاف شاندار کارکردگی کے بعد ٹی ٹونٹی میں ویسٹ اندیز کو وائٹ واش کر کے قوم کی خوشیوں میں اضافہ کیا۔ ٹیم کی محنت کا صلہ دینے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کو بونس دینے کا فیصلہ کیا ہے.تفصیلات کیمطابق پاکستان کرکٹ ٹیم نے ٹیسٹ میں انگلینڈ کو شکست دی اور ٹیسٹ کی نمبر ایک ٹیم بن گئی۔ ٹیسٹ کی جیت کا اثر ٹی ٹونٹی ٹیم پر بھی پڑا اور ورلڈ چیپمین ویسٹ انڈیز کو وائٹ واش کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ قومی ٹیم کی کامیابیوں سے جہاں عوام کی خوشیاں دوبالا ہوئیں وہیں پی سی بی نے بھی خوش ہو کر ٹیم کو بونس دینے کا فیصلہ کر لیا بونس صرف مصباح الحق اور ان کی ٹیم کو ہی نہیں بلکہ ٹیم مینجمنٹ کو بھی دیا جائے گا۔پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے اے کیٹیگری کے کھلاڑی پانچ لاکھ ماہانہ اور چار لاکھ میچ فیس لے رہے ہیں ، جس میں اضافہ کی تجویز دی جا رہی ہے جبکہ ٹی ٹونٹی کھلاڑیوں کو میچ فیس کی مد میں ایک لاکھ پچیس ہزار ملتے ہیں۔اچھی کارکردگی کا انعام دینے کے لیے تقریب کے انعقاد کی تجویز زیرغور ہے لیکن اس تقریب کا انحصار شہر یار خان کی صحت پر منحصر ہے اور ان کی واپسی پر ہی وینیو کا فیصلہ بھی کیا جائے گا۔انگلینڈ کے خلاف شاندار کارکردگی کے بعد ٹی ٹونٹی میں ویسٹ اندیز کو وائٹ واش کر کے قوم کی خوشیوں میں اضافہ کیا،پی سی بی نے ٹیم کو بونس دینے کا فیصلہ کر لیا۔


Read more

اسلام آباد فٹ بال ٹیم کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ شروع

 اسلام آباد فٹ بال ایسوسی ایشن کے زیراہتمام اسلام آباد ٹیم کے کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ کراچی کمپنی گرائونڈمیں شروع ہو گیا ہے، اسلام آباد فٹ بال ایسوسی ایشن کے سیکرٹری سید شرافت حسین بخاری نے بتایا کہ تربیتی کیمپ میں 30 کھلاڑیوں شرکت کر رہے ہیں،جن میں گول کیپرز میں رانا سلمان، مبشر، بہادر، حرارا، ڈیفنڈرز میں یاسر صابر، عبداللہ، غازی، ذیشان علی، باگر، عثمان حیدر،ذاکر علی خان، فرحان اللہ،رانا ساجد، مڈفیلڈز: میں دانیال خان، بلال خان، مبین، توقیر، مہتر، ولید، فارڈز: عمر سعید، صمد خان، علی خان ، سلمان، سعاد خان،محمد احمد، عمران، شرجیل، منیب، جاوید، کاشی اور شرون شامل ہیں،ان کھلاڑیوں کو حاجی عبدالستار تربیت دے رہے ہیں، اسلام آباد کی منتخب ٹیم یکم اکتوبر سے شروع ہونے والے آل پاکستان چیلنج کپ فٹ بال ٹورنامنٹ میں شروع کرے گی اور امید ہے کہ اسلام آباد کی ٹیم ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی،اسلام آباد کی ٹیم اپنا پہلا میچ 2 اکتوبر کو کھیلے گیـاسلام آباد ٹیم کے کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ کراچی کمپنی گرائونڈمیں شروع ہو گیا ہے۔


Read more

آل پاکستان فٹ بال چیلنج کپ ٹورنامنٹ کل سے شروع ہوگا

بیس سال کے طویل عرصہ بعد قومی سطح پرآل پاکستان فٹ بال چیلنج کپ ٹورنامنٹ (کل) ہفتہ سے اکتوبر سے پشاورکے قیوم سپورٹس کمپلیکس میں شروع ہوگا۔منعقد ہونے والے اس ایونٹ میں پاکستان بھر سے بارہ نامی گرامی ٹیمیں شریک ہونگیںجن کوچارمختلف پولز میں تقسیم کیاگیاہے 'ان خیالات کااظہار خیبرپختونخوا فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر اورپاکستان فٹبال فیڈریشن کے نائب صدرسید ظاہر علی شاہ نیخیبرپختونخواسپورٹس رائٹرز ایسوسی ایشن کے پروگرام سپورٹس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ااس موقع پرصوبائی فٹ بال ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری باسط کمال ،سپورٹس رائٹرز ایسوسی ایشن کے صدرجہانزبب صدیق بھی اس موقع پرموجودتھے انہوںنے کہاکہ کل یکم اکتوبر سے شروع ہونیوالے آل پاکستان چیلنج کپ فٹبال ٹورنامنٹ میں شرکت کے لئے بارہ ٹیمیں پشاور آ رہی ہیں یہ مقابلے پشاور کے قیوم سپورٹس کمپلیکس میں منعقد کئے جارہے ہی' انہوں نے کہا کہ پشاور کے عوام کو بیس روزہ مقابلوں سے لطف اندوز ہونے کے بھرپور مواقع ملیں گے 'ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا فٹبال ایسوسی ایشن ایونٹ پر بیس لاکھ روپے خرچ کررہی ہے جس میں کھلاڑیوں اور آفیشلز کو تمام بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں گی 'انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ٹورنامنٹ کے دوران انٹرنیشنل فٹبالرز کو دعوت دینے کا فیصلہ کیا گیا تا کہ وہ بھی پشاور میںآ کرٹاپ ٹیموں کو ایکشن میں دیکھ سکیں'انہوں نے بتایا کہ ٹیموں میں پی ٹی وی 'پی آئی اے 'کے ای ایس سی 'اسلام آباد'پنجاب 'کے آر ایل 'پولیس'فاٹا 'پی اے ایف ' کے الیکٹرک اورخیبرپختونخوا شامل ہیں ان ٹیموں کو چار مختلف گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔


Read more

سرفراز کا امتحان ختم، اظہر علی کا شروع، گرین شرٹس کا لی آندھی کو روکنے کیلئے تیار، پہلاون ڈے آج ہوگا

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین 3ایک روزہ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ (آج)جمعہ کو شارجہ میں کھیلا جائے گا،ڈے اینڈ نائٹ میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام 4بجے شروع ہو گا،دونوں ٹیموں کے مابین ابھی تک کھیلے گئے ون ڈے میچوں میں کالی آندھی کو پاکستان پر واضح برتری حاصل ہے، دونوں ٹیموں میںابتک 127ون ڈے کھیل چکے جن میں سے 55میں پاکستان اور69میں ویسٹ انڈیز نے فتح حاصل کی جبکہ 3مقابلے ٹائی ہوئے، دونوں ٹیمیں شارجہ میں 18ون ڈے کھیل چکی جن میں 9میں گرین شرٹس جبکہ9میں ہی فتح ویسٹ انڈیز کا مقدر بنی۔ اظہرعلی الیون3 میچزکی سیریزمیں وائٹ واش کرنے میں کامیاب رہی تو وہ آئی سی سی رینکنگ میں9 سے8ویں نمبر پر آجائے گی۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا پہلا ٹاکرا آج جمعہ کی شام 4 بجے شارجہ میں ہو گا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریزمیں کامیابی نے پاکستان ٹیم کو کامیابی کے راستے پر گامزن کردیا ہے، ٹیسٹ میں عالمی نمبر ایک پاکستان ٹیم ویسٹ انڈیزکو ون ڈے سیریز میں کلین سوئپ کرکے ٹاپ ایٹ ٹیموں میں شامل ہوسکتی ہے۔ پاکستان ٹیم رواں برس صرف دوہی ون ڈے جیت سکی ہے جبکہ اسے چھ میچز میں شکست کاسامنا کرناپڑا ہے۔ اس سے پہلے دونوں ٹیمیں شارجہ میں 18ون ڈے کھیل چکی ہیں۔ جن میں سے 9 میں جیتا پاکستان جبکہ 9 میں ہی فتح ویسٹ انڈیز کا مقدر بنی۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز اب تک 127ون ڈے کھیل چکے ہیں۔ جن میں سے 55 میں میدان قومی ٹیم نے مارا جبکہ 69 میچوں میں کالی آندھی نے پچھاڑا اور 3 مقابلے ٹائی ہوئے۔ڈے اینڈ نائٹ میچ پاکستانی وقت کے مطابق شام 4بجے شروع ہو گا۔

Read more

قاتل ترا حساب مجھ پر ادھار ہے۔۔۔ڈاکٹر سلیم خان

پٹھانکوٹ ، پمپور اور اڑی کے بعد قوم کا بچہ بچہ وزیراعظم نریندر مودی سے وہی سوال کررہا ہے جو وزیراعلیٰ گجرات نریندر مودی نے 4 مئی 2009 کو سابق وزیراعظم منموہن سنگھ سے کیا تھا ''میں وزیراعظم سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا آپ کمزور نہیں ہیں ؟ اگر آپ واقعی طاقتور حکومت ہیں، تو ملک اس کا ثبوت مانگتا ہے۔'' ملک کی عوام مودی بھگت گری راج سنگھ کو تلاش کررہی ہے کہ کہیں وہ پاکستان تو نہیں پہنچ گئے اس لئے کہ 2013 میں انہوں نے سرحد پر ہونے والے ایک حملے کے بعد کہا تھا اگر آج مودی جی وزیراعظم ہوتے تو ہم لاہور میں ہوتے۔یہ حسن اتفاق ہے کہ پٹھانکوٹ حملے کے بعد وزیراعظم دہلی سے میسور پہنچ گئے تھے اور جبکہ پٹھانکوٹ سے مزید شمال اڑی میں حملہ ہوگیا ہے وزیراعظم مزید جنوب کالی کٹ جا کر للکار رہے ہیں۔ غربت اور بیروزگاری کے خلاف جنگ چھیڑ رہے ہیں۔ اس کی توقع تو گری راج کو بھی نہیں رہی ہوگی۔ ویسیاب نہ کوئی حملہ کشمیرسے مزید شمال میں ہوسکتا ہے اور نہ مودی جی کیرالہ سے نیچے جاسکتے۔ دہشت گردانہ حملے اور وزیراعظم دونوں اپنی انتہائوں پر پہنچ چکے ہیں۔وزیر اعظم گزشتہ سال کے اواخر میں لاہور ہو آئے۔ وہاں انہوں نے نواز شریف کی ماتا جی کے چرن بھی چھوئے اور سالگرہ کا کیک بھی نوش فرمایا۔ اس کو سنگھ پریوار نے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا لیکن اس کے ایک ہفتہ بعد ہی پٹھانکوٹ ہوائی چھائونی پر حملہ ہوگیا۔پاکستان نے پہلی بار پٹھانکوٹ میں دہشت گردانہ واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم دل کی گہرائیوں سے حکومت ، ہندوستان کی عوام اورمتاثرہ خاندانوں کی تعزیت کرتے ہیں نیز زخمیوں جلدازجلد شفایابی کی امید کرتے ہیں۔اعلیٰ سطحی روابط کی خیر سگالی کے سبب پاکستان اس خطے میں دہشت گردی کے آسیب کی مکمل بیخ کنی میں ہندوستان اوردیگر ممالک کا بھروسے مند شراکت دارہے۔پاکستان کی اس مذمت کو سفارتکاری کی عظیم کامیابی قرار دے کر پٹھانکوٹ کے زخموں پرمرہم رکھا گیا۔ پاکستان نے جب اپنے تعاون کا یقین دلایا تو اس سے مودی سرکار پھولی نہیں سمائی۔اعتدال پسندوں نے حکومت کی تعریف کی اور شدت پسندوں نے اس کے یہ معنیٰ پہنائے کہ پاکستان کی حکومت مودی جی سے ڈر گئی ہے۔پاکستان نے آگے چل کر اپنے تعاون کیلئے تفتیش کی شرط لگائی تو حکومت ہند نے اس کا استقبال کیا اور پاکستانی وفد کو دل کھول کر دعوت دے دی۔ حزب اختلاف نے حکومت کو یاد دلایا کہ فوجی چھاونی کے اندر کسی غیر ملکیوں کو تفتیش کی اجازت کیا معنیٰ ؟ اس سے پہلے حکومت ہند کوئی جواز تلاش کرتی پاکستان نے اپنے وفد کے ارکان کا اعلان کردیا جس میں ایک آئی ایس آئی کا افسر بھی تھا۔ پاکستان کی اس حرکت نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اس کو یقین تھا کہ اس وفد کو روک دیا جائیگالیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ ائیر بیس کو دوحصوں میں تقسیم کرکے نازک تنصیبات کے علاوہ دیگر مقامات پر پاکستانی وفد کو لیجایا گیا اور اس کی خوب خاطر تواضع اس امید میں کی گئی کہ اس بارپاکستانی حملہ آوروں کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو جائیگی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پاکستانی وفد نے صاف انکار کرکے ساری توقعات پر پانی پھیر دیا۔اس طرح سفارتکاری کے بجائے صرف بدنامی ہاتھ آئی۔پٹھانکوٹ حملے کے8 ماہ بعد جب اڑی کی فوجی چھائونی پر پہلے سے بھیانک حملہ ہوا۔ 8 کے بجائے 18جانیں ضائع ہوئیں اس کے باوجود پاکستان کا ردعمل یکسر مختلف تھا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ وہ قبل ازوقت اور غیر مفقود الزامات کی تردید کرتا ہے اور قابل عمل انٹیلی جنس پیش کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ پاکستانی وزیراعظم کے مشیرِ خارجی امور سرتاج عزیز نے کہا کہ یہ ہندوستان کی جانب انسانی حقوق کی تیزی کے ساتھ بگڑتی ہوئی صورتحال سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ ویسے حملے کے چار دن بعد وزارت خارجہ نے پاکستانی سفارتکار کوطلب کرکے ثبوت فراہم کئے ہیں ۔ اگر پٹھانکوٹ حملے کے بعد پاکستان کاردعمل سفارتی کامیابی تھا تو یہ کیا اس کے برعکس حالیہ صورتحال ناکامی نہیں ہے ؟ غور طلب یہ امرہے کہ دونوں حملے فوجی تنصیبات پر تھے اور اس دوران دونوں میں سے کسی ملک میں حکمراں بھی نہیں بدلے تھے تو آخر یہ تبدیلی کیوں کر واقع ہوگئی؟اس تبدیلی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پٹھانکوٹ حملے کی پشت میں وزیراعظم ہند کا ایک خیرسگالی دورہ تھا اور اڑی حملے کے پس پشت کشمیر کا خلفشار ہے۔ کشمیر کے حالیہ بحران کو تین مہینے ہونے والے ہیں۔ 25 جون کو کشمیر میں عسکریت پسندوں نے پلواما ضلع میں پمپور مقام پر سی آر پی ایف کے دستے پر گھات لگا کر حملہ کیا تھا جس میں 8 جوان ہلاک اور 22 زخمی ہوئے تھے۔پمپور میں دو عسکریت پسند بھی مارے گئے اور ایک فرار ہوگیا تھا۔ ایک ماہ کے اندر حفاظتی دستوں پر وہ چوتھا حملہ تھا اس سے قبل 3 حملوں میں 17 جوان ہلاک اور کئی زخمی ہوچکے تھے۔ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں ہورہی تھی جبکہ مرکز اور صوبے میں بی جے پی برسرِ اقتدار ہے۔

Read more

مودی کے سر کی قیمت پچیس کروڑ۔۔۔ابن ریاض

ایک معروف اخبار میں یہ خبر نظر سے گزری ہے کہ جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کراچی کے ایک تاجر اور ڈیرہ غازی خان اور بہاول پور کے دو لیگی رہنمائوں نے نریندر مودی کے سر کی قیمت پچیس کروڑ مقرر کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے تاجر الیاس پٹیل نے ساڑھے دس کروڑ روپے انعام دینے، ڈی جی خان کے اسامہ عبد الکریم نے دس کروڑ بھارتی روپے اور آرائیں فائونڈیشن بہاولپور کے جنرل سیکرٹری سکندر اعظم نے پانچ کروڑ روپے لگا دی۔یہ رقم کا حساب شاید اخباری نمائندہ ٹھیک نہیں لگا سکا۔ ساڑھے دس میں سے اس نے پچاس لاکھ چھوڑ دیے یوں یہ رقم بنتی ہے ساڑھے پچیس کروڑ۔ مزید براں بھارتی دس کروڑ ہمارے کوئی سترہ کروڑبنتے ہیں تو یہ رقم بنی ساڑھے دس جمع سترہ جمع پانچ برابر ساڑھے بتیس کروڑ۔ اس سے پتہ چلا کہ بھارتی وزیر اعظم تو کافی مہنگا ہے۔ تیس بتیس کروڑ کا تو محض اس کا سر ہے،اگر دھڑ اور نچلے حصے کی بھی قیمت لگائی جاتی تو انعام اربوں (عربوں میں نہیں )میں جا پہنچتا ہے اور اتنا ایک ترقی پذیر ملک کے غریب تاجر و رہنما برداشت نہیں کر سکتے تھے سو محض اس کے سر پر ہی اکتفا کر لیا تاہم اگر کوئی باقی جسم کو بھی لے آئے تو امید ہے کہ یہ تاجر و رہنما وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو خوش آمدید کہیں گے۔یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مودی کے سر کو کرنا کیا ہے ان لوگوں نے تو اس کا جواب بہت ہی سادہ ہے کہ اس میں سے مسلمانوں اور کشمیریوں کے متعلق جو بغض ہے وہ نکالنا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے علاوہ اتنے چھوٹے سے سر میں عقل تو سما نہیں سکتی کہ وہ تو بھینس سے تھوڑی چھوٹی ہوتی ہے۔ سو اس سے مسلمانوں کے خلاف عناد نکال کر اور ممکن ہوا تو اسے کسی عالم کے ہاتھوں مسلمان کر کے اسے واپس بھارت بھیج دیں گے۔ اگر اسے کچھ ہو گیا تو نیا وزیر اعظم آجائے گا و ہ عین ممکن ہے کہ نریندر مودی سے بھی زیادہ موذی ہو۔سو اس کا گزر جانا زیادہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر اس کے دماغ میں زیادہ ہی خناس بھرا ہو اور وہ ہمارے ماہر عاملوں اور عالمو ں سے بھی پرا فارمیٹ نہ ہوا تو پھر شاید اس کا کریا کرم کرنا پڑے۔ پھر اس کی کھوپڑی سے شاید عملیات و تعویزات والے فائدہ اٹھائیں اور اربوں کمائیں سو پچیس کروڑ اس لحاظ سے کوئی زیادہ رقم نہیں ہے۔اب بھارتی وزیرِ اعظم کا سر لانا بھی کوئی مشکل کام نہیں۔ انھیں بس یہ کہنے کی دیر ہے کہ پاکستان کے خلاف آپ کا سر استعمال کرناہے تو وہ بخوشی دے دیں گے کہ اس عضو کا امورِ حکومت چلانے سے تو ویسے ہی کوئی تعلق نہیں اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کی صورت میں تو اگلی بار بھی حکومت انہی کی ہونی تو انھیں یہ سودا بخوشی قبول ہو گا۔بالفرض انہیں یہ بات پسند نہیں آتی اور وہ اس پیشکش کو مسترد کر دیتے ہیںتو اس کا حل بھی ہے ہمارے پاس۔۔ گو کہ ہم نے آج تک شاید ہی کوئی لال بیگ یا کوئی اور کیڑا مارا ہو مگر یہ پیشکش اتنی پر کشش ہے کہ ہمارا دل للچا رہا ہے مگر اس کے لئے ہمیں پہلے اصول کے مطابق آدھی رقم اور رہائشی و سفری اخراجات کی مد میں دی جائے جو کہ قریب پندرہ کروڑ بنتی ہے۔جب ہمیں یہ رقم ملے گی تو پھر یہ کام چنداں مشکل نہیں۔ ہم ان کی حفاظت پر مشتمل دستے میں کسی ایسے بندے کو ڈھونڈیں گے کہ جو ہمارے ملک کے ایک شہید غازی والا کام کر سکے۔ ورنہ کوئی ایسا بندہ ڈھونڈیں گے کہ جو اس کے کھانے میں زہر ملا دے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اس کے ذاتی پائلٹ کو شوق شہادت (خواہ ہی وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو) کی تبلیغ کریں گے کہ ایسی زندگی سے تو مر جانا ہی بہتر ہے۔ ان میں سے کوئی تو تدبیر کارگر ثابت ہو گی ہی۔ ظاہر ہے اس کے لئے اسے ایک دو کروڑ روپے دے دیں گے۔ بڑے مقصد کے لئے قربانیاں دینی ہی پڑتی ہیں۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو گیا تو ہمارے تو وارے نیارے ہو جانے۔ ہم نے کہاں اتنی رقم دیکھی ہے۔ بیٹھ کر عیش کریں گے۔ یہ منصوبہ یہاں اس لئے لکھ دیا کہ ایسا نہ ہو کہ ہم کامیاب ہو جائیں تو یہ لوگ انکار کر دیں کہ کیوں آ گئے ہو پیسے لینے؟ تم نے کیا کیا ہے؟ نریندر مودی تو مرگِ ناگہانی کا شکار ہوا ، اس میں تمہارا کیا کمال۔ سو یہ کالم ہم بطور ثبوت پیش کر دیں گے۔بالفرض محال اگر ایسا نہ ہوا اور وہ بچ گیا جس کے کہ کافی امکانات ہیںتو ہم بتا دیں کہ ہم معاملات طے ہوتے ہی اپنا ہمسایہ ملک چھوڑ دیں گے۔ہمیں اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کا کوئی شوق نہیں۔ ہم انہی بارہ تیرہ کروڑ میں گزارا کر لیں گے کہ ہماری طبیعت کو لالچ سے نفور ہے۔ قناعت ہم میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ہمیں اچھی طرح علم ہے کہ یہ کوئی آسان کام نہیں۔ اس میں خطرات بہت ہیں ورنہ ہمارے یہ بھائی خود ہی کیوں نہ کر لیتے یہ نیکی۔ اتنے پیسے کیوں خرچ کرتے۔ اس کے علاوہ کامیابی کی صورت میں بھی مسائل کم نہیں ہوں گے۔ ملبہ پاکستان پر ہی گرے گا۔ تعلقات اور خراب ہوں گے۔ اس کی قیمت کشمیری مسلمانوں کو چکانی پڑے گی۔ سب باتیں یک طرف، سب سے اہم بات یہ کہ کراچی کے سیٹھ اور جنوبی پنجاب کے لیگی رہنمائوں نے تو اعلان کر کے نیکی کما لی اور اس خبر کی کٹنگ یہ فرشتوں کو دکھا کر اپنے لئے جنت واجب کرا لیں گے۔ ہمارے جان جوکھوں والے کام کے بعد اگر انہوں نے باقی ماندہ رقم دینے سے انکار کر دیا تو بلکہ ان کا تو ابتدائی نصف دینے کا بھی ارادہ نہیں۔ یہ تو سیدھا سیدھا ہمیں بیٹھے بٹھائے پچیس کروڑ کا نقصان ہو گیا۔ باالفرض رقم موعود مل بھی گئی ساری رقم تو مقدموں اور وکیلوں کی نذر یعنی کہ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ہوا'سو ہم نہیں کرتے کوئی ایسا کام کہ جس کا انجام گھاٹا ہی ہو، اپنا بھی اور ملک کا بھی۔ جا مودی تجھے نئی زندگی مبارک۔

Read more

سارک سربراہ کانفرنس کا التوائ۔۔۔ ریاض احمد چودھری

 بھارت کی زیر سرکردگی چارملکوں کی طرف سے سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت سے انکار کے بعد تنظیم کے قواعد کے مطابق کورم پورا نہ ہونے کے باعث اسلام آباد میں منعقد ہونے والی 19ویں سارک سربراہ کانفرنس ملتوی کر دی گئی۔بھارت اور بنگلہ دیش نے تنظیم کے موجودہ چیئرمین نیپال کو اپنی عدم شرکت سے آگاہ کر دیا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ بھوٹان اور افغانستان بھی اس کانفرنس میں شرکت نہیں کر رہے۔ سارک کے چارٹر کے تحت اگر کوئی رکن ملک اجلاس میں شرکت سے معذرت کرتا ہے تو اس صورت میں اجلاس کا انعقاد نہیں ہو سکتا۔ مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے سارک سربراہ کانفرنس ملتوی کئے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا اور کہا ہے کہ آئندہ سارک سربراہ کانفرنس جب بھی ہو گی پاکستان میں ہی ہوگی۔یہ سربراہ کانفرنس 9 اور 10 نومبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونی تھی۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دہشت گردی کے روایتی نام نہاد الزام کی آڑ لیتے ہوئے کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سارک سیکرٹریٹ کی طرف سے سربراہ کانفرنس کے التواء کے بارے میں ابھی تک پاکستان کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ بھارت کی پیروی میں بنگلہ دیش نے بھی سربراہ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ہے کہ سارک میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ، خالصتا اس کا اپنا ہے۔ سفارتی حلقوں کی پختہ رائے ہے کہ سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت نہ کرنا، بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف سفارتی جارحیت کا ایک اقدام ہے۔ نیپالی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت، افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان نے اجلاس کیلئے ماحول ناسازگار قرار دیا ہے۔ چاروں ممالک کے اعتراض کو سنجیدگی سے لیا گیا۔ بطور چیئرمین سارک کہتے ہیں کہ سربراہ اجلاس کیلئے ماحول سازگار بنایا جائے۔کانفرنس ملتوی کرنے کا فیصلہ بھارتی ڈھٹائی کے باعث کیا گیا۔بنگلہ دیش کے جونیئر وزیرِ خارجہ شہریار عالم نے تصدیق کی کہ ان کا ملک اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ بنگلہ دیش کی جانب سے نیپال کو بھیجے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ ' بنگلہ دیش کے داخلی معاملات میں ایک ملک کی بڑھتی ہوئی مداخلت کی وجہ سے ایسا ماحول پیدا ہو چکا ہے جو نومبر میں اسلام آباد میں 19ویں سارک سربراہ اجلاس کے کامیاب انعقاد کے لیے مناسب نہیں۔ اسی وجہ سے بنگلہ دیش سربراہ اجلاس میں شرکت سے قاصر ہے۔یہ پہلی بار نہیں کہ بھارت نے سارک کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا ہو۔ ایسا پہلے بھی ہو چکا۔ بھارت کم از کم چار مرتبہ سارک کانفرنس میں شرکت سے انکار کر چکا ہے۔ سارک کانفرنس کے پلیٹ فارم کو متاثر کرنے کا بھارت کا ٹریک ریکارڈ ہے۔ بھارت ہمیشہ ہی سے سارک کانفرنس کی راہ میں روڑے اٹکاتا رہا ہے۔ سارک کانفرنس کے پلیٹ فارم کا بنیادی مقصد خطے کے عوام کی معاشی حالت بہتر بنانا ہے۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث خطے کے پسے ہوئے عوام مزید پسماندگی کا شکار ہوں گے۔ بھارت کے منفی رویے کا مقصد دنیا کی توجہ کشمیر کی صورتحال سے ہٹانا ہے۔ بھارتی سرکار ڈھائی ماہ میں سو سے زائد کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر بھیجے گئے فیکٹ فائنڈنگ مشنز بھارت کے چہرے سے نقاب اتاریں گے۔اس خطے کے سات ممالک نے دو طرفہ باہمی تعلقات بہتر بنانے، ایک دوسرے کے ساتھ اقتصادی تجارتی تعاون کو فروغ دینے اور روزمرہ کے باہمی تنازعات طے کرنے کیلئے 30 سال قبل سارک تنظیم قائم کی تھی جس کے بنیادی ارکان میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیب، نیپال اور بھوٹان شامل ہیں۔ گزشتہ سال افغانستان کو بھی اس تنظیم کی رکنیت دی گئی۔ اپنے منشور، ایجنڈے اور پروگرام کے ناتے یہ تنظیم اس خطے کی موثر نمائندہ تنظیم بن سکتی ہے اور تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ ساتھ علاقے کی بہتری اور اقتصادی ترقی و استحکام کیلئے بھی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے مگر بھارت نے علاقے کی تھانیداری کی حرص اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت شروع دن سے ہی سارک سربراہ تنظیم کو یرغمال بنانے اور اسے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی بدنیتی کا اظہار شروع کر دیا اور پاکستان اور بھارت کے دیرینہ تنازعہ کشمیر کو سارک سربراہ کانفرنس کے ایجنڈے کا حصہ نہ بننے دیا۔ اس طرح بھارت نے علاقائی تعاون کی اس تنظیم کی افادیت ختم کرنے اور اسے اپنی خواہشات کا اسیر بنائے رکھنے کی کوشش کی جس کا سارک کے رکن خطے کے دوسرے ممالک میں ردعمل پیدا ہونا فطری امر تھا۔ بے شک سارک کے دوسرے رکن ممالک بھارت جتنی آبادی، رقبہ اور وسائل نہیں رکھتے مگر آزاد اور خودمختار ہونے کے ناتے انہیں بھارت کے مساوی حیثیت ہی حاصل ہے جو یو این چارٹر میں تسلیم شدہ ہے۔اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت بھارت چونکہ پاکستان کے علاوہ خطے کے دوسرے ممالک کی خودمختاری میں بھی مداخلت کی سازشیں بروئے کار لاتا رہتا ہے اور سارک کے سربراہ موجودہ چیئرمین نیپال کے خلاف تو اس نے گزشتہ سال سے گھنائونی سازشوں کے جال پھیلانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ جس نے اپنے آئین میں بھارت کی بھجوائی گئی ترامیم شامل کرنے سے انکار کیا اور اسے اپنی خودمختاری بھارت کی جانب سے چیلنج کئے جانے کے مترادف قرار دیا۔ بھارت نے اس پر گزشتہ سال سے ہی نپیال کا اقتصادی طور پر ناطقہ تنگ کرنے کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانا شروع کر رکھا ہے اس کے باوجود نیپال نے بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کے آگے سر تسلیم خم نہیں کیا اور اپنی خودمختاری مضبوط بنانے والے اپنے آئین کو ہی نافذ کیا ہے۔ اسی طرح بھارت سری لنکا، بھوٹان اور بنگلہ دیش کو بھی سکون سے نہیں بیٹھنے دیتا اور انہیں اپنی پالیسیاں ڈکٹیٹ کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ تو اس کی شروع دن سے مخاصمت ہے جس کو اس نے آج تک ایک آزاد اور خودمختار مملکت کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا اور آج وہ پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی سازشوں کی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ چنانچہ سارک تنظیم میں صرف افغانستان ہی وہ ملک ہے جو بھارتی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہا ہے اور وہ پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی بھارتی سازشوں میں بھی شریک رہتا ہے۔ بھارتی توسیع پسندانہ عزائم سے عاجز آئے سارک تنظیم کے دوسرے رکن ممالک کو اب سارک تنظیم کے پلیٹ فارم پر متحد ہو کر بھارتی عزائم کا توڑ کرنا ہو گا۔ اگر بھارت اپنی برتری کے زعم میں اور پاکستان کے ساتھ تنازعہ کشمیر پر جاری اپنی کشیدگی کو مزید بڑھانے کی خاطر سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت سے انکار کرتا ہے تو سارک کے دوسرے رکن ممالک اس بھارتی بدنیتی کو سارک تنظیم کی کمزوری نہ بننے دیں اور شیڈول کے مطابق سارک سربراہ کانفرنس کا انعقاد کرکے اپنی آزاد و خود مختار حیثیت کا بھارت کو احساس دلائیں۔


Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2016 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
        1 2 3
4 5 6 7 8 9 10
11 13 14 15 16 17
18 19 20 21 22 23 24
25 26 27 28 29 30