Get Adobe Flash player

September 2016

29 September 2016

کیا مسلمان دہشت گرد ہے؟۔۔۔عتیق الرحمن

سٹینڈفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر فلپ زمباڈو کا خیال ہے کہ'' دہشت گردی میں عام آبادی کو خوف زدہ کیا جاتاہے ،لوگوں کے خود پر موجوداعتماد کو مجروح کیا جاتا ہے اورایک محفوظ وآرام دہ دنیا کو خارزار میں تبدیل کردیا جاتاہے۔دہشت گرد غیر متوقع طور پر تشدد کی کارروائی کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ دہشت گرد لوگوں کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے اس صورت میں یا تو مقابلہ کیا جاتا ہے یا گریز اختیار کیا جاتا ہے۔''دہشت گردی ایک ایسا لفظ ہے جس سے ہم سب کی واقفیت ہے اور پاکستانی اسے کئی بار سن چکے ہیں۔ ہم دہشت گردی کو قرآن مجید کی رو سے فساد فی الارض کے نام سے تشبہیہ دے سکتے ہیں۔اسلام بمعنیٰ سلامتی ہے۔پیغمبر اسلام رحمة اللمسلمین نہیں بلکہ رحمة اللعالمینۖ بن کر آئے۔اسلام ساری دنیا میں امن وسلامتی کا داعی ہے۔اسلام جہاں اپنے ماننے والوں کو امن دیتا ہے وہیں غیر مسلموں کے ایسے حقوق رکھے ہیں جن سے ان کی جان، مال ،عزت اور آزادی محفوظ رہتی ہے۔احادیث نبوی ہے '' خبردار جس نے ذمی کافر پر ظلم کیا یا اسے نقصان پہنچایا، اس کی طاقت سے زیادہ اس سے کام لیا یا اس سے کوئی تھوڑی سی چیز بھی بغیر اس کی رضا کے لی تو کل قیامت کے دن میں ایسے شخص سے جھگڑوں گا۔ ''جس نے کسی ذمی کافر کو اذیت پہنچائی تو میں اس کا مخالف ہوں اور جس کا میں مخالف ہوا قیامت کے دن اس کی مخالفت ہو گی۔''ایک اور حدیث میں ارشاد نبویۖ ہے'' جو کسی جان دار (انسان یا جانور) کو مثلہ کرے (شکل و صورت یا حلیہ بگاڑے) اس پر اللہ تعالیٰ، ملائکہ اور بنی آدم سب کی لعنت ہے۔'' مشرق وسطیٰ،شمالی افریقہ اور ایشیا ء کے علاقوں میں غالب اکثریت اسلام کے ماننے والے ہیں جبکہ چین،مشرقی یورپ اورروس میں بھی ایک بڑی تعداد مسلمانوں کی آباد ہے۔مسلم مہاجرین کی بھی ایک بڑی تعداد یورپ میں آبادہے۔ جہاں عیسائیت کے بعد سب سے بڑامذہب اسلام ہے اور مغربی تجزیہ نگاروں کے مطابق بہت جلد اسلام یورپ کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔مغربی ممالک میں دیگر مذاہب کے لوگ بڑی تیزی سے اسلام کی طرف راغب ہورہے ہیں۔غیر مسلم ممالک اگر ایک طرف اسلام کی اشاعت سے خوفزدہ ہیں تودوسری طرف عالم اسلام میں معدنیات کے خزانے ان کی حریصانہ نظروں میں ہیں۔سید عاصم محمود 1990۔91کے سالوں کے متعلق لکھتے ہیں ''ابھی مغرب اور القاعدہ کا باقاعدہ تصادم شروع نہیں ہوا تھا۔ پھر بھی مغربی ممالک میں اسلام اور مسلمانوں سے ناپسندیدگی و نفرت کے ملے جلے جذبات پائے جاتے تھے۔''تاہم اس وقت ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔لیکن اس وقت یہ صورت حال یکسر تبدیل ہوچکی ہے۔ اسلام مخالفت میں جہاں انفرادی طور پر لوگ مصروف عمل ہیں وہیں باقاعدہ طور پر یورپ میں اسلام مخالف تنظیمیں وجود میں آچکی ہیں جو وقتا فوقتااسلام کے مختلف اصولوں پر طعن و تشنیع اور پابندیوں کا مطالبہ کرتے اور اسلام کو دہشت گرد مذہب گردانتے نظر آتے ہیں۔ہالینڈ کا اسلام مخالف Greet Wilders جو کہ چوتھی بڑی سیاسی پارٹی کا بانی اور سربراہ ہے۔ اٹھتے بیٹھتے اسلام مخالف زہر اگلتا رہتا ہے اور قرآن مجید کو ہٹلرکی آپ بیتی سے تشبہیہ دیتا ہے (نعوذبااللہ )۔اسلام اور اس کے ماننے والے امن کے داعی ہیں جبکہ بڑے بڑے حادثات میں غیر مسلم ممالک بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہوتے ہیں۔اگر ہم پہلی جنگ عظیم کی بات کریں جو 28جون 1914ء کو آسٹریا ہنگری کے ولی عہد اور شہزادہ فرانسس فرڈی ننڈ کو سلاو دہشت گرد کی طرف سے گولی مارنے کی وجہ سے شروع ہوئی تھی۔ اس جنگ میں ایک کروڑ صرف اور صرف فوجی ہلاک ہوئے ''پچھلے ایک سو برس میں ہوئی لڑائیوں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ'' اور دوکروڑ دس لاکھ کے قریب افراد زخمی ہوئے۔ یکم جولائی 1916ء کو ایک دن کے اندر اند ر 57ہزار ہلاکتیں ہوئیں۔ جرمنی کے 17لاکھ 73ہزار سے زائد ،روس کے 17لاکھ کے قریب اور فرانس کو اپنی 16فیصد فوج سے محروم ہونا پڑا۔کیا یہ جنگ اسلام اور اسلام کے نام لیواؤں نے انسانیت پر مسلط کی تھی ؟دوسری جنگ عظیم میں 13سے 15فروری 1945ء تک 3ہزار 900ٹن کے قریب بارود اور دیگر دھماکہ خیز مواد انسانیت پر برسایا گیا جس میں 22ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔یہ جنگ بھی اسلام نے انسانیت پر مسلط نہیں کی تھی۔ 60لاکھ یہودیوں کو قتل کرنے والا ایڈولف ہٹلر بھی مسلمان نہیں تھا۔یورپ اور جرمنی میں آج بھی ہٹلر کی حمایت اور ہولوکاسٹ کی مخالفت کرنا جرم ہے۔ شاہ لیوپولڈ ثانی کے ہاتھوں مرنے والے افراد کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔1880ء سے 1920ء کے دوران اس کے زیر قبضہ علاقے کی 50فیصد آبادی کم ہوئی۔ شاہ کے جبری مزدوری فلسفے کو بعد میں فرانس ،جرمنی اور پرتگال نے اپنے نوآبادیاتی نظام میں اپنایا۔مسولینی نے ایتھوپیا پر قبضہ کے دوران وہاں کی 7فیصد آباد ی کو قتل کیا اور 1936ء میں ہٹلر کے ساتھ اتحاد کے بعد جنگ عظیم میں کود پڑا اور جوزف سٹالن کے ہاتھوں 8لاکھ افراد کو موت دی گئی ،جبری کیمپوں میں 17لاکھ کے قریب افراد مارے گئے اور جبری ہجرت کے دوران مرنے والوں کی تعداد 3لاکھ 90ہزار سے زائد تھی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے چین ،کوریا ،گوانٹے مالا،انڈونیشیا ،کیوبا ،بلجن کانگو،پیرو،لاؤس ،ویتنام،کمبوڈیا ،گریناڈا ،سوڈان ،یوگوسلاویہ ،افغانستان ،عراق اورشام سمیت دیگر ممالک کے ساتھ جنگ کی یا پھر اتحادی ہونے کی صورت فضائی بمباری میں حصہ لیا۔ مصنف ایلیٹ لیٹن نے نکتہ اٹھایا کہ''تناسب کے اعتبار سے امریکہ، دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ قاتل پیدا کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان قاتلوں کے ذاتی، سیاسی اور مذہبی نظریات ہوں مگر یہ نہ تو کسی منظم سیاسی یا مذہبی جماعت کے رکن ہوتے ہیں اور نہ ان کی سرگرمیاں کسی پارٹی کے ایجنڈے کا حصہ، جیسا کہ آج کل دہشت گردوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ایرن ملر کا کہنا ہے کہ' '2004 سے 2013 کے درمیان ہونے والے تمام دہشت گرد حملوں میں سے نصف حملے عراق، افغانستان اور پاکستان میں ہوئے اور 60 فی صد ہلاکتیں انہیں ممالک میں ہوئیں اور یہ تینوں مسلم ممالک ہیں۔''البتہ انہیں دہشت گرد حملوں میں مرنے والوں میں 95 فی صد مسلمان ہیں جیسے دعووں پر شک ہے۔

Read more

قومیتیں۔۔۔زاہد خالد شیخ

تاریخ گواہی دے گی کہ آج دنیا میں جتنی نفسا نفسی ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ معاشرتی اقدار کا جنازہ نکلا ہوا ہے ہر شخص "سیلفیاں" بنا رہا ہے، تھوڑا سہی پر فاسٹ فوڈ پرگزارا کر رہا ہے۔ چھوٹوں اور بڑوں کے درمیان ایک محدود تعلق ہوا کرتا تھا اب وہ لامحدود ہوچکا ہے۔ آج چھوٹے بڑوں کو زمانے کیساتھ چلنے کے ڈھنگ سیکھا رہے ہیں۔ دراصل باقی دنیا بہت پہلے سے بدل رہی تھی اور ہم پی ٹی وی کے دور میں رہ رہے تھے اب نئی نسل اس "دیر" کا بدلہ پرانی نسل سے اسطرح لے رہی ہے۔ پھراچانک سے میڈیا کو آزادی دی گئی اور جیسے میڈیا کی دنیا میں انقلاب آگیا لوگ تو پہلے ہی پی ٹی وی سے اکتائے ہوئے تھے انہیں تفریح کا اتنا سارا سامان ایک ساتھ میسر آئے گا انہوں نے تو کبھی سوچا نہیں تھا۔ یعنی ایک دم سے بڑے ہونے کا موقع مل گیا جیسے کوئی لڑکا وقت سے پہلے بڑے ہونے کے شوق میں "شیو" کرنا شروع کر دیتا ہے ہمارے میڈیا ہاؤسز نے بھی کچھ ایسے ہی کارنامے کر دکھائے۔ جب میڈیا کو آزادی نہیں تھی اور بہت محدود معلومات کے ذرائع تھے تو بہت سارے لوگ اپنی مرضی سے اپنے اختیارات کا استعمال کر رہے تھے۔ نجی جیلیں بھی تھیں، ہیروئن اور چرس کے اڈے بھی تھے، انسانی اسمگلنگ تب بھی ہوا کرتی تھی، ڈرایا دھمکایا جب بھی جاتا تھا، بھتے جب بھی لئے جاتے تھے، جوئے کے اڈے تب بھی تھے، قربانی کی کھالیں تب بھی جمع کی جاتی تھیں، زکواة کیلئے اس وقت بھی گھر گھر کا دروازہ کھٹکٹایا جاتا تھا، بے حیائی جب بھی تھی، مدرسے جب بھی تھے مگر بہت محدود ذرائع ہونے کی وجہ سے ان تمام کاموں کی پشت پناہی کرنے والے بہت طاقتور لوگ ہوا کرتے تھے۔ ایسا نہیں کے اب یہ کام بند ہوگئے ہیں یا نہیں ہو رہے، آج بھی یہ سارے کام جاری و ساری ہیں مگر آج یہ کام کہاں ہو رہا ہے اور کون ان کاموں کی پشت پناہی کر رہا ہے سب کے سب کسی بھی فرد سے معلوم کر کے دیکھ لیں اسے پتہ ہوگا۔ اس ترقی کی مرہونِ منت جو بہت نمایاں فرق آیا ہے وہ یہی ہے۔ آج ہر غلط کام پر بھرپور طریقے سے تنقید بھی کی جاتی ہے اور اسے سماجی میڈیا پر گھسیٹا بھی جاتا ہے مگر افسوس آج بھی پشت پناہی کرنے والے بہت مضبوط لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا مقصد کل بھی ملک کی جڑیں کھوکھلا کرنا تھا اور وہ آج بھی اپنے مشن پر کاربند ہیں، افسوس اس بات کا ہے کہ یہ کل بھی شاد آباد تھے اور یہ آج بھی شاد آباد ہیں۔ترقی کا نا رکنے والا سفر جاری ہے مگر کیا ہماری اس ترقی نے ہماری ذہنی نشونما بھی کی کیا ہمارے افکار میں ہماری سوچ میں تبدیلی لائی، کیا ہم نے اپنے اندر سے تعصب جیسے ناسور کو نکالنے کیلئے کچھ سوچ بچار کیا؟۔ ان تمام سوالوں کے جواب میں ایک لفظ "نہیں" سننے کو ملیگا۔ ترقی دوسری طرف یعنی مادی ترقی اور ہماری نسلی خامیاں نسل در نسل منتقل ہوتی چلی جارہی ہیں۔ پاکستان میں بسنے والی قومیتیں اپنی زبانوں سے جانی جاتی ہیں اسی بنیاد پر صوبوں کے نام رکھ دیئے گئے ہیں۔ سندھی زبان بولنے والا آج بھی سندھی کہلوانے میں فخر محسوس کرتا اور اس بات کا اعلان کرتا ہے اسی طرح ہمارے ملک میں بسنے والی دوسری قومیتیں بھی اپنی اپنی زبانوں کی بنیاد پر پہچانے جانے پر فخر محسوس کرتی ہیں، کیا یہ درست ہے؟ کیا یہ بھی ترقی کا حصہ ہے؟۔ یہاں پاکستانی بعد میں پہلے سندھی، بلوچی، پشتو، سرائیکی اور پنجابی ہیں۔ ہر زبان بولنے والے کا یہ اخلاقی اور سماجی حق ہے کہ وہ اپنی زبان کی ترویج کرے اور اس زبان سے وابستہ ثقافت کا اظہار کرے اور اس کی ترقی اور ترویج کیلئے کام کرے۔ اس اظہار پر کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئے۔ مذکورہ زبانوں کے علاوہ اور زبانیں بھی پاکستان کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتی ہیں۔ آپ یہ مضمون جس رسم الخط میں پڑھ رہے ہیں اس زبان کو "اردو" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اردو زبان کو پاکستان کی قومی زبان ہونے کا شرف بھی حاصل ہے مگر افسوس 70 سال گزرجانے کے بعد بھی یہ اپنا قومی ہونے کا حق ڈھونڈتی پھر رہی ہے۔ یعنی آج بھی اس زبان کو قومی زبان کی حیثیت نہیں مل سکی جبکہ اب اعلی عدلیہ نے اس زبان کے نفاذ کیلئے باضابطہ طور پر احکامات جاری کر رکھے ہیں۔عرصہ دراز سے ایک مسئلہ حل ہونے کا نام نہیں لے رہا، دوسری طرف ترقی رکنے کا نام نہیں لے رہی، ایپل نے آئی 7 اور سامسنگ نے ایس 7 متعارف کروادیا۔ کراچی میں رہنے والے مقامی لوگوں کی مادری زبان "اردو" ہے اور ان میں اکثریت ان لوگوںکی ہے جو 1947 میں انڈیا سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے، یہ اپنا سب کچھ ہندوستان میں چھوڑ چھاڑ پاکستان آگئے اور انہیں "مہاجر" کہا جاتا ہے۔ ہجرت کی دوقسمیں ہیں ایک کل وقتی یعنی ملکی سرحدوں سے باہر کی طرف جانا اور دوسری جزوقتی یعنی ملک کی سرحدوں کے اندر ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا۔ ترقی کے اس دور میں جب ترقی اپنی راہ پر سبک رفتار چلے جا رہی ہے۔ ایک ہجرت ہمارے باپ دادا نے ارضِ پاک کی آزادی کی صورت میں کی۔


Read more

کشمیر میں کیا دیکھا بھارتی صحافی کا مودی کو خط۔۔۔ضمیر نفیس

چند روز پہلے میں نے اپنے کالم میں بھارت کے تین صحافیوں کا ذکر کیا تھا جنہوں نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا اور بھارتی مظالم کے حوالے سے کشمیریوں سے بات چیت کی اب دہلی کے معروف صحافی افتخار گیلانی نے ان کے دورے کی تفصیلات بیان کی ہیں تین صحافیوں کے گروپ میں شامل ایک صحافی سنتوش بھارتیہ نے جو نہ صرف پارلیمنٹ کے رکن رہ چکے ہیں بلکہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) وی کے سنگھ کے قریبی سمجھے جاتے ہیں وزیراعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھا ہے ' ہندی میں لکھے گئے اس خط کا افتخار گیلانی نے ترجمہ کیا ہے سنتوش بھارتیہ لکھتے ہیں۔پیارے وزیراعظم صاحب! میں ابھی چار دن کے بعد جموں وکشمیر سے لوٹا ہوں چار دن میں کشمیر کی وادی میں رہا میں نے محسوس کیا کہ آپ کو وہاں کے حالات سے واقف کروں مجھے یہ پورا یقین ہے کہ آپ کے پاس جموں وکشمیر خاص طور پر وادی کشمیر کے حاولے سے جو خبریں پہنچتی ہیں وہ سرکاری افسروں کے ذریعے اسپانسر شدہ خبریں ہوتی ہیں ان میں سچائی کم ہوتی ہے اگر آپ کے پاس کوئی ایسا میکانزم ہو جو وادی کے لوگوں سے بات چیت کرکے آپ کو سچائی سے آگاہ کرے تو مجھے یقین ہے کہ آپ حقائق کو نظرانداز نہیں کر سکیں گے میں وادی میں جاکر مضطرب ہوگیا ہوں زمین ہمارے پاس ہے کیونکہ ہماری توجہ وہاں پر ہے لیکن کشمیر کے لوگ ہمارے ساتھ نہیں ہیں اور میں پوری ذمہ داری سے یہ حقیقت آپ کے سامنے لانا چاہتا ہوں کہ 80سال کی عمر کے شخص سے سے کر چھ سال تک کے بچے کے دل میں بھارتی نظام کے بارے میں بہت زیادہ غصہ ہے اتنا غصہ ہے کہ وہ اس نظام سے بڑے کسی بھی شخص سے بات نہیں کرنا چاہتے اتنا زیادہ غصہ ہے کہ وہ ہاتھ میں پتھر لے کر اتنے بڑے میکانزم کا مقابلہ کر رہے ہیں اب وہ کوئی بھی خطرہ مول لینے کے لئے تیار ہیں جس میں سب سے بڑا خطرہ قتل عام کا ہے اور یہ حقیقت میں آپ کو اس مقصد کے سامنے رکھ کر لکھ رہا ہوں کہ کشمیر میں ہونے والے صدی کے سب سے بڑے قتل عام کو بچانے میں آپ کا کردار سب سے اہم ہے ہماری سیکورٹی فورسز اور ہماری فوج میں یہ سوچ پنپ رہی ہے کہ جو بھی کشمیر میں نظام کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اس ختم کر دیا جائے اس کی جان لے لی جائے اسے دنیا سے وداع کر دیا جائے تو یہ علیحدگی پسند تحریک ختم ہو سکتی ہے ہمارا نظام جسے علیحدگی پسند تحریک کہتا ہے دراصل وہ علیحدگی پسند تحریک نہیں ہے' وہ کشمیر کے عوام کی تحریک ہے اگر 80سال کے حقیقت سے لے کر 6سال کا بچہ تک آزادی' آزادی آزادی کہے تو ماننا چاہیے کہ گزشتہ 60برسوں میں ہم سے بہت بڑی غلطیاں ہوئی ہیں سیکورٹی فورسز پیلٹ گن چلاتی ہیں لیکن ان کا نشانہ کمر سے نیچے نہیں ہوتا کمر سے اوپرہوتا ہے اس لئے ہزاروں لوگ زخمی پڑے ہیں وزیراعظم صاحب میں کشمیر کے دورے میں ہسپتالوں میںگیا مجھ سے دہلی میں کہا گیا کہ سیکورٹی کے چار پانچ ہزار افراد ہی زخمی ہوئے ہیں مگر ہمارے اس پرچار پر کوئی یقین نہیں کرتا اگر زخمی ہیں تو ہم صحافیوں کو ان جوانوں سے بھی ملوائیے جو ہزاروں کی تعداد میں کہیں زیر علاج ہیں ہم نے بچوں کو دیکھا جن کی آنکھیں چلی گئی ہیں جو کبھی واپس نہیں آئیں گی لہٰذا میں یہ خط بڑے یقین اور جذبے کے ساتھ لکھ رہا ہوں ہم تینوں صحافی کشمیر کی حالت دیکھ کر کئی بار روئے کشمیر کے لوگوں کو اس بات کا رنج ہے کہ ہریانہ صوبہ میں اتنا بڑا بات احتجاج ہوا گولی نہیں چلی کوئی نہیں مرا بنگلور میں ایک بڑا مظاہرہ ہوا گولی نہیں چلی لیکن کشمیر میں گولیاں چلتی ہیں اور کیوں کمر سے اوپر چلتی ہیں اور چھ سال کے بچوں پر چلتی ہیں۔ سنتوش بھارتیہ کے مطابق ہر طبقہ کے فرد نے ان سے کیا کہ کشمیر کا ہر آدمی ہندوستانی نظام کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے جس کے ہاتھ میں پتھر نہیں اس کے دل میں پتھر ہے یہ تحریک عوامی تحریک بن گئی ہے یہی 1942ء میں انگریزوں کے خلاف بھارت چھوڑ دو' کی تحریک تھی یا پھر جے پرکاش تحریک تھی جس میں لیڈر کا کردار کم اور لوگوں کا کردار زیادہ تھا۔


Read more

امریکیوں کو سعودی عرب کے خلاف مقدمے کا حق

امریکی کانگرس نے صدر اوبامہ کے ویٹو کو مسترد کرکے امریکی شہریوں کو نائن الیون کے واقعہ پر سعودی عرب کے خلاف مقدمے کا حق دے دیا' اب 11ستمبر کے حملوں کے متاثرین سعودی عرب کے خلاف مقدمہ دائر کر سکیں گے صدر اوبامہ نے کانگرس کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کے بل کو ویٹو کر دیا تھا اوبامہ کے آٹھ سالہ دور صدارت میں یہ پہلا ویٹو ہے اس ویٹو کے بعد سپانسرز دہشت گردی ایکٹ نامی بل قانون کا حصہ بن جائے گا مذکورہ بل کو امریکہ اور سعودی عرب دونوں کے لئے دھچکہ قرار دیا جارہا ہے سعودی عرب دنیا میں امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی ہے اب اس بل کے بعد نائن الیون کے متاثرین کی داد رسی ہوسکے گی۔ سینئر چارلس جو نیویارک میں ہونے والے حملوں میں بچ جانے والوں اور متاثرہ خاندانوں کی نمائندگی کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ انصاف کا راستہ ہموار ہوگیا ہے صدر اوبامہ کا موقف تھا کہ اس بل سے بیرون ملک امریکی کمپنیوں' فوجیوں اور دیگر حکام کو بھی قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے موقع پر جبکہ دنیا میں شورش برپا ہے اس بل کی وجہ سے اہم اتحادی ناراض ہوسکتے ہیں امریکی انتظامیہ نے اس بل کے خلاف زبردست لابنگ کی صدر اوبامہ نے ذاتی طور پر ارکان سینٹ سے رابطے کئے مگر منتخب نمائندوں کا فیصلے حکومت کی خواہشات کے برعکس آیا جس پر صدر نے بل کو ویٹو کیا اور آخر کار یہ ویٹو بھی کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا ۔ اس بل کے امریکہ اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے سینکڑوں امریکی سعودی حکومت کے خلاف مقدمات دائر کریں گے اور متاترین کو سعودی حکومت کی طرف سے معاوضہ ادا کیا جائے گا مگر یہی نہیں اس کے نتیجے میں سعودی عرب کی ساکھ کو عالمی سیاست میں بھی شدید دھچکا لگے گا ہم سمجھتے ہیں تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی اگر سعودی معیشت کے لئے ایک بڑا دھماکہ ہے تو مذکورہ قانون سعودی عرب کے لئے اس سے بھی بڑا دھماکہ ثابت ہوگا۔ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان روایتی دوستی و گرمجوشی بھی خطرات سے دوچار ہوگی اور شاید اس صورتحال کا کوئی مداوا نہیں سعودی عرب اور امریکہ دونوں کو اس قانون کے مضمرات برداشت کرنے پڑیں گے۔

Read more

بھارتی ہتھکنڈوں کے باوجود مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف مضبوط

اعلیٰ سطحی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے ایک بار پھر قوم کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی' سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا کشمیریوں پر ظلم و بربریت کو برداشت نہیں کیا جاسکتا جبکہ دنیا گواہ ہے پاکستان نے اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا ہے' انہوں نے کہا کہ سندھ طاس 1960ء میں عالمی بنک کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی طور پر ایک متفقہ انتظام ہے کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر معاہدے سے خود کو علیحدہ نہیں کر سکتا اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی منظم خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی سیکورٹی افواج کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی شدید مذمت کی گئی اعلیٰ سطح کے اجلاس میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ملک کی سیکورٹی صورتحال سمیت داخل امور پر بریفنگ دی اجلاس کے شرکاء نے پاکستان کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لئے مسلح افواج کی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا وزیراعظم نے کہا کہ عالمی برادری بخوبی جانتی ہے کہ پاکستان نے عالمی امن کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں ملک نے شدید اشتعال انگیزی کے باوجود بے مثال صبروتحمل کا مظاہرہ کیا' اجلاس نے اتفاق کیا کہ پاکستان ایک پرامن جنوبی ایشیاء کے لئے کوشاں رہے گا تاکہ اس کے عوام 21ویں صدی کی ترقی اور خوشحالی سے مستفید ہوں اجلاس نے یہ بھی اتفاق کیا کہ پاکستان اپنے عوام اور بہادر مسلح افواج کے بھرپور عزم کے ساتھ کسی بھی بیرونی یا داخلی سلامتی کے خطرے سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے وزیراعظم نے اس امر کا اعادہ کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں وعدہ کردہ اپنے حق خودارادیت کے لئے جدوجہد کرنے کشمیریوں پر تشدد کبھی برداشت نہیں کیا جائے گا مظلوم کشمیری نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی حمایت کے مستحق ہیں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل تک کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔یہاں اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ دوست ملک چین نے ایک بار پھر کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے تاہم یہ کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل پر توجہ دیں ان کے درمیان کشیدگی ختم ہونی چاہیے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم کشیدگی میں کمی چاہتے ہیں اور اس کی توقع کرتے ہیں پاکستان ہرگز کشیدگی نہیںچاہتا وہ جنوبی ایشیاء کے امن پر اس لئے بھی زور دیتا ہے کہ اس کی بدولت ہی اس خطے کے عوام کو غربت' جہالت اور بیماریوں سے نجات دلائی جاسکتی ہے ان کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے' پاکستان اگر مسئلہ کشمیر کی بات کرتا ہے تو ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ اسے بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے مگر اس کے برعکس بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اس کے ظلم و ستم کا تذکرہ نہ کرے پاکستان اگر آج ان معاملات میں دلچسپی کم کر دے تو بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات معمول پر آسکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان کیسے اس ایشو سے اپنے آپ کو الگ کر سکتا ہے وہ اس کا اہم فریق ہے اس کا یہ دیرینہ اور اصولی موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے اور مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر بے پناہ بھارتی مظالم پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا بھی لازم ہے' یہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی اصولوں کی سراسر نفی ہے' بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستان اس کے مظالم سے دنیا کو آگاہ کرے اور تنازعہ کشمیر کے حل پر دنیا کو متوجہ کرے۔ چنانچہ اس نے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے پاکستان کو اپنے موقف سے ہٹانے کی کوشش کی اس نے پہلے اڑی کا ڈرامہ رچایا مگر عالمی برادری نے اس کا ادراک کرلیا چنانچہ اس کی طرف سے اڑی واقعہ کی بہت کم مذمت کی گئی مگر بھارت نے اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا اور جنگی جنون کو بھڑکایا' پہلے سرجیکل سٹرائکس کی بات کی' پھر پانی بند کرنے کی دھمکیاں دیں اس کے بعد اسلام آباد میں سارک سربراہی کانفرنس کے انعقاد کو سبوتاژ کیا ' سارک چارٹر کے مطابق ایک بھی سربراہ شرکت نہ کرے تو سربراہی اجلاس نہیں ہوسکتا لیکن پاکستان کا یہ موقف اٹل ہے کہ جب بھی یہ کانفرنس ہوئی پاکستان ہی میں ہوگی اور وہی اس کی میزبانی کرے گا سربراہی اجلاس کو کسی دوسرے ملک منتقل نہیں کیا جائے گا جبکہ ان بھارتی ہتھکنڈوں کے باوجود مقبوضہ کشمیرکی صورتحال اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اس کے موقف میں رتی پھر تبدیلی نہیںہوگی' خطے کے امن اور اس کے عوام کی بہتری کا راستہ یہی ہے کہ بھارت اشتعال انگیزی اور کشیدگی کا راستہ ترک کرکے مذاکرات کی طرف آئے یہی عالمی برادری کا بھی موقف ہے بہرصورت جلد یا بدیر اسے اسی راستے پر آنا ہوگا۔

Read more

عالمی برادری کو مسئلہ کشمیر پر بے حس،مصلحت کی دیوار گرانا ہوگی،صدر آزاد کشمیر

صدر آزاد جموں و کشمیر سردار محمد مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی افواج ہمارے نوجوانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں۔ وہ مجبور ہیں ، محصور ہیں اور بے بس ہیں۔ انسانیت کے ناطے ہمیں ان کی سیاسی اخلاقی اور سفارتی حمایت کرنی چاہیے ۔ ہندوستان بیرونی دنیا میں بے بنیاد پروپیگنڈہ کر رہا ہے کہ قتل کئے جانے والے نوجوان دہشگرد ہیں۔ حالانکہ کشمیری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی دہشتگردی کا شکار ہیں۔ وہاں نافد کالے قوانین نے انہیں ہر لحاط سے استثنیٰ دے رکھا ہے ۔ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں ۔ حق خود ارادیت  کا وعدہ کشمیریوں کے ساتھ اقوام عالم نے کیا تھا ۔ کشمیری قوم نے تمام تر ظلم و ستم برداشت کرنے کے باوجود بھارت کے ساتھ نہ رہنے کا عزم کر رکھا ہے ۔ 70 سال گزرنے کے باوجود آزادی کی خواہش کشمیریوں کی پانچویں نسل کو منتقل ہو چکی ہے ۔ تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اہل پاکستان اور اہل کشمیر نے مسئلہ کشمیر کو زندہ کر رکھا ہوا ہے ۔ یہ ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے ۔ اب ہمیں احتجاج مایوسی اور ناکامی کی بجائے کامیابی کی سیاست کریں۔ ہم سب کو مل کر پاکستان کو نا قابل تسخیر قوت بنانا ہے ۔ مضبوط پاکستان کشمیریوں کی آزادی کی ضمانت ہو گا۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام کا ایک موقف ہونا چاہیے ۔ ہمیں پورے اعتماد کے ساتھ دنیا کے سامنے اپنا کیش پیش کرنا ہو گا۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے میڈیا اور ممبران کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر ہر پلیٹ فارم پر اجاگر کریں۔ امریکا کے ایوان نمائندگان ، کانگریس اور دیگر اداروں میں اپنا اثر و سوخ استعمال کیا جائے ،دریں اثناء صدر آزاد جموں و کشمیر سردار محمد مسعود خان سے امریکی دفتر خارجہ میں پاکستان اور افغانستان سے متعلق امور کے نائب مندوب جوناتھن کارپنٹر کی ملاقات ، مسئلہ کشمیر ، جنوبی ایشیاء میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی ، نہتے شہریوں پر قابض فوج کی طرف سے طاقت کے اندھا دھند استعمال ، آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی میں چین سمیت دیگر ممالک کے کردار اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ۔ تفصیلات کے مطابق امریکی دفتر خارجہ کے حکام نے پاکستانی سفارتخانے میں آ کر صدر آزاد کشمیر سے ملاقات کی ۔ جس کے دوران صدر سردار محمد مسعود خان نے انہیں مقبوضہ  کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہامریکا دنیا کی واحد سپر پاور ہے ۔ اس ناطے اس کی عالمی ذمہ داریاں بھی زیادہ اور اہم ہیں۔ جموں و کشمیر کے عوام اس دنیا کے شہری ہیں۔ جن کے حقوق ضمانت اقوام متحدہ کے چارٹر میں دی گئی ہے ۔ سلامتی کونسل کی متعدد قرار دادوں میں ان کا حق خود ارادیت تسلیم کر رکھا ہے ۔ بھارت اور پاکستان نے ان قرار دادوں سے اتفاق کیا تھا ۔ لیکن اب بھارت ان قرار دادوں پر عملدرآمد کرنے سے انکاری ہے ۔ اس نے مقبوضہ کشمیر کو وہاں کے باشندوں کے لیے جہنم بنا دیا ہے۔

Read more

29 September 2016

شریف خاندان جمہوریت کی آڑ میں خود کو بچانا چاہتا ہے،بلاول بھٹو

پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو نے کہاہے کہ شریف خاندان جمہوریت کی آڑ میں خود کو بچانا چاہتا ہے ۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ مال روڈ پر احتجاج کرنے والے کسان کوئی دہشت گر د نہیں ہیں ،ان کے ساتھ ناروا سلوک روا نہ رکھا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان دوسروں ک جمہور ی حقوق کا خیال نہیں رکھتا ۔انہوں نے مزید کہا کہ غیر ریاستی عناصر جو بھی کر رہے ہیں ،میڈ یا جو بھی چاہتا ہے اور سیاست دان جو بھی کہہ رہے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ بھارت اور پاکستان کی عوام امن چاہتی ہے ۔

Read more

29 September 2016

پنجاب میں حکمران تمام اداروں کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیں،خورشید شاہ

اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ لگتا ہے ن لیگ کے اند رابھی تک ضیا الحق کی روح موجود ہے' پر امن احتجاج کو روکنا ڈکٹیٹر کا شیوا رہا ہے نہ کہ جمہوری حکومتوں کا'پیپلزپارٹی کسانوں کے مطالبات میں انکے ساتھ کندھے سے کند ھا ملا کر چلے گی '(ن) لیگ کی حکومت خود اپنے پائوں پر کلہاڑی مار نے پرتلی ہوئی ہے انکو جوش کی بجائے ہوش سے فیصلے کر نا ہوں گے 'پنجاب میں حکمران تمام اداروں کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں 'پانامہ لیکس کیخلاف پار لیمنٹ میں اپوزیشن کی تمام جماعتیں آج بھی متحد ہیں ۔ بدھ کے روز لاہور میں کسانوں سے اظہار یکجہتی کے موقعہ پر ریلی کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ(ن) لیگ کی حکومت کی وفاق اور پنجاب میں پالیساں آمر انہ سوچ کا ثبوت ہے قوم کو تباہی کی طرف لے جانیوالی (ن) لیگ اب کسانوں سمیت کسی بھی پرامن احتجاج کر نے کی اجازت دینے کی بھی تیار نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں حکومت نے کسانوں کے پرامن احتجاج کو روکنے کیلئے پنجاب اسمبلی کے سامنے مال روڈ کو نوگو ایر یا بنا دیا اس سے بڑا اور تماشہ کیا ہوگا ؟اس لئے مجھے آج بھی یہ لگتا ہے کہ ن لیگ کے اند رابھی تک ضیا الحق کی روح موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کی حکومت خود اپنی سب سے بڑی دشمن بنی نظر آرہی ہے اور عوام دشمن فیصلوں سے وہ خود اپنے پائوں پر کلہاڑی مار رہے ہیں ۔

Read more

29 September 2016

پانامہ لیکس،وزیر اعظم کے وکیل نے الیکشن کمیشن کا دائرہ کار چیلنج کردیا

پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے وکیل نے الیکشن کمیشن کے دائرہ کار کو چیلنج کردیا۔ پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی سے متعلق ریفرنسوں کی سماعت چیف الیکشن کمشنر رضا محمد خان کی سربراہی میں ہوئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق  اس موقع پر پیپلز پارٹی کے وکیل لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے گزشتہ سماعت پر وزیراعظم نواز شریف کو پاناما لیکس کے معاملے پر جواب جمع کرانے کا حکم دیا تھا لیکن حکومت نے کوئی جواب جمع نہیں کرایا، دیگر فریقین نے بھی کوئی جواب جمع نہیں کرایا، یہ چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن کو ڈکٹیٹ کیا جائے۔ لطیف کھوسہ کے دلائل پر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ فیصلہ کرنا ہمارا کام ہے، پہلے بھی آپ نے تاریخ دینے کے معاملے کو اتنا اچھالا تھا۔اس موقع پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے وکیل سردار عبدالرازق کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو آج بھی وزیراعظم نوازشریف نے جواب نہیں دیا، وزیراعظم حیلے بہانوں سے کام لے رہے ہیں، حکومتی ارکان میڈیا پر تو جواب دیتے ہیں لیکن متعلقہ فورم پر جواب نہیں دے رہے۔ پاکستان عوامی تحریک کے وکیل اشتیاق چوہدری کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس اور اثاثے چھپانے پر وزیراعظم کو نااہل قرار دیا جائے۔وزیراعظم نوازشریف کے وکیل سلمان بٹ کا اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ بیرون ملک ہونے کے باعث جواب جمع نہیں کراسکا جب کہ باقی فریقین نے الیکشن کمیشن میں جواب دائر کرا دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں نہیں کہ وہ پاناما لیکس کے معاملے پر سماعت کرے، الیکشن کمیشن پہلے اپنا دائرہ اختیار طے کر کے پھر ہم جواب جمع کرا دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے 8 فیصلے موجود ہیں کہ متعلقہ فورمز استعمال کئے جانے چاہئیں۔چیف الیکشن کمشنر نے اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف کے وکیل کو 10 اکتوبر تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے دائرہ سماعت پر پہلے فیصلہ کیا جائے گا۔

Read more

29 September 2016

محرم الحرام،پنجاب بھر میں امن و امان کیلئے دفعہ 144نافذ کرنے کا فیصلہ

پنجاب بھر میں محرم الحرام کے دوران امن و امان کی فضاء برقرار رکھنے کے لئے دفعہ 144نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں محرم الحرام کے دوران دفعہ 144نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت لاؤڈسپیکر کے غیر قانونی استعمال ، قابل اعتراض او راشتعال انگیز ، وال چاکنگ ، بینرز، آڈیو وڈیو کیسٹس ، سی ڈیز چلانے ،ان کی فروخت ، تفرقہ پھیلانے ،شتعال انگیز نعرے لگانے ، اسلحہ کی نمائش ، خوف وہراس اور افواہیں پھیلانے ، پوسٹر ،اشتہار بازی ، جھنڈے لہرانے،' قابل اعتراض مواد چھاپنے ،اشاعت کرنے او رمحرم الحرام جلوسوں کے راستوں پر واقع عمارات کی چھتوں پر چڑھنے پر پابندی عائد کی جائے گی ۔

Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2016 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
        1 2 3
4 5 6 7 8 9 10
11 12 13 14 15 16 17
18 19 20 22 23 24
25 26 27 28 29 30