Get Adobe Flash player

August 2017

30 August 2017

اہل غزہ کے انسانی حقوق؟۔۔۔تنویر اعوان

فلسطینی علاقے غزہ جس کی کل لمبائی 41کلومیٹر،چوڑائی کم از کم 6اورزیادہ سے زیادہ 12 کلومیٹرہے،اس کے جنوب مغرب میں 11 کلومیٹرمصری سرحد ہے جہاں سب سے بڑا کراسنگ بارڈررفح واقع ہے،جس کو  2013سے مصری سیسی حکومت نے غزہ کے مسلم ،مظلوم و مجبور فلسطینی عوام کی آمد ورفت کے لیے بند کیا ہوا ہے،جب کہ اس کے علاوہ باقی تمام سرحدی راہداریاں اسرائیلی قبضے میں ہونے کے علاوہ اسرائیلی بحریہ نے سمندری حدود میں بھی تین ناٹیکل میل کا پہرہ لگا رکھا ہے اور کسی فلسطینی کشتی کو اس پہرے سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔یادرہے کہ 2005 تک غزہ کا کنٹرول اسرائیل کے پاس تھا لیکن غزہ پر سے کنٹرول ختم کرنے کے بعد اسرائیل 2008 ،2012 اور 2014 میں غزہ پرشدید بمباری اور آگ وآہن کی برسات کرچکا ہے ،اس سے بھی زیادہ تشویش ناک صورت حال یہ ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کرکے وہاں کے 20 لاکھ سے زائد باسیوں سے ان کا بنیادی حق چھین رکھا ہے،جس کی وجہ سے وہ بدترین حالات میں اپنی زندگی کے ایام کاٹ رہے ہیں ،جس پر اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں جو یقینا قابل تشویش ہے ،مرکز اطلاعات فلسطین پر شائع ہونے والی یوروہیومن رائٹس مانیٹرکی رپورٹ جسے غزہ کی تنہائی کے ایک لاکھ گھنٹے کا عنوان دیا گیا ہے، اس میں اسرائیل کی جانب سے گزشتہ دس سال سے جاری غزہ کی ناکہ بندی اور اس کے ناگفتہ بہ حالات کا جائزہ لیا گیا ہے،رپورٹ کے مطابق غزہ میں غربت کی شرح 65 فیصدہے اور 72فیصد رہائشی غذائی قلت کا شکارہیں اسی طرح وہ اںکی 80 فیصد عوام بین الاقوامی امداد پر جی ر ہے ہیں جب کہ اس علاقہ میں بیروزگاری کی شرح 43 فیصد ہے۔ دوسری طرف غزہ رفتہ رفتہ اندھیرے میں ڈوبتا جارہا ہے اور شہر کا واحد پاور پلانٹ ایندھن کی کمیابی کی وجہ سے بند ہونے کے قریب ہے اور فی الوقت یومیہ صرف چار گھنٹے ہی بجلی کی ترسیل ممکن ہو پارہی ہے جس کی وجہ سے غزہ کے ہسپتالوں میں سینکڑوں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگی ہوئی ہیں جن کے علاج اور آپریشنز کے لئے مناسب مقدار میں بجلی دستیاب نہیں ہے۔یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ فلسطین میں جابجا اسرائیلی ظلم و تشدد کی داستانیں جہاں انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں وہیں رفح کراسنگ پر مفلوک الحال وبے بس ،لاچار و مجبور،محصور فلسطینی مسلمان مصری حکومت کی سنگ دلی پر ماتم کناں نظر آتے ہیں ، یہاں محصور ہرفلسطینی کا برادر اسلامی ملک سے پہلا اورآخری مطالبہ یہی ہے کہ گزرگاہ کو ان کی سفری آمدورفت کے لیے کھولا جائے۔جب کہ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اسرائیل کی مسلط کردہ معاشی ناکہ بندی کا شکار اہل غزہ کے لیے حال ہی میں افریقی ملک الجزائر سے آنے والے ایک امدادی قافلے کو مصری حکام نے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے سے روک دیا، جس کے بعد وہ امدادی قافلہ واپس جانے پر مجبور ہوگیا ہے ،جب کہ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق الجزائر سے آنے والے امدادی قافلے کے منتظمین نے مصری حکومت سے پیشگی اس کی اجازت بھی لے رکھی تھی، تمام قانونی تقاضے پورے ہونے باوجود مصری انتطامیہ نے امدادی قافلے کومحصورین غزہ تک پہنچنے سے روک دیا۔بلاشبہ ارض مقدس کے باسیوں کے لیے جہاں صہیونی جارحیت اور تشدد باعث تکلیف ہے وہیں اپنوں کی طرف سے عدم تعاون ان کے مسائل میں روز برو ز اضافے کا باعث بن رہا ہے ،اگر اسلامی برادری مسئلہ فلسطین و کشمیر سمیت درپیش مسائل کے پرامن حل کے لیے یکسو ہو کر عالمی فورم پر موثر آواز اٹھائے اور اتفاق و اتحاد کے ذریعے خود انحصاری کو فروغ دے تو وہ دن دور نہیں جب اسلامی دنیا ایک فیصلہ کن قوت کی صورت میں عالمی فورم پر موجود ہوگی۔


Read more

الیکٹرانک میڈیا تفریح کے نام پر کیا دے رہا ہے؟۔۔۔ملک محمد سلمان

ذرائع ابلاغ کی اہمیت اور افادیت سے کسی کو انکار نہیں ہے ،ٹی وی چینلز کی حیثیت ابلاغ میں ریڑھ کی ہڈی سی ہے ،نیوزچینلز خبر کا بہترین اور موثر ذریعہ ہیں جو معلومات کی بروقت فراہمی کیلئے ہر کسی کی بنیادی ضرورت ہے۔تیز رفتاری کا یہ عالم ہے کہ ہر خبر فورا سے پہلے کے مصداق ٹی وی سکرین پر موجود ہوتی ہے۔ذرائع ابلاغ کا کام عوام کو باخبر رکھنا ہے ، پرنٹ میڈیا کو اس میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔پرنٹ میڈیا نہ صرف ہر خبر کی تفصیل فراہم کرتا ہے بلکہ ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی خبرکو مکمل تحقیق اور ذمہ داری سے پہنچاتا ہے۔اسی لیے بے شمار نیوز چینلز کی تمام تر تیزیوں اور چکا چوند کے باوجود پرنٹ میڈیا نے اپنی شناخت کو نہ صرف قائم ودائم رکھا بلکہ آج بھی آگاہی کیلئے ہرکسی کی ضرورت اورخاص طور پر مڈل کلاس طبقہ کی آواز سمجھا جاتا ہے۔الیکڑانک میڈیا کی بات کریں توخبروں کے ساتھ مثبت تفریح بھی لازم ہے۔طنزومزاح پر مشتمل مزاحیہ سیاسی پروگرام اچھی کاوش ہیں لیکن جب سے صحافتی میدان میں کامیڈین آنا شروع ہوئے ہیں نیوزچینلز کی صحافتی اور اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل چکا ہے۔جب صحافت میں بھانڈ اور مراثی آجائیں گے تو پھرخیر کی امید کیونکر رکھی جاسکتی ہے۔لمحہ فکریہ ہے کہ مختلف نجی چینلز پر تفریح کے نام پر پیش کیے جانے والے مزاحیہ پروگرام میں لوگوں کی عزت ِ نفس مجروح کرکے معززین کا مذاق اڑا یا جارہاہے ۔الٹے سیدھے ناموں اور برے القابات سے پکارا جاتا ہے اور مختلف رشتوں پر مبنی کرداروں میں پیش کی جانے والی اخلاق باختہ گفتگو بھی خونی رشتوں کی عظمت و احترام اور ہماری اسلامی و مشرقی روایات کے منافی ہے۔دوسروں کو ملکی قوانین کی پاسداری اور اخلاقیات کے لمبے چوڑے لیکچر دینے والے میزبان اینکرز خود اخلاقیات کی تمام حدیں پھلانگ چکے ہیں ،پیمرا قوانین اور صحافتی اقدار کو بری طرح پامال کر رہے ہیں۔لگتا ہے کہ تفریح کے نام پر عام آدمی سے لیکر سیاستدانوں تک سب کو ڈی گریڈ کرنا اوربے حیائی کو ترویج دینا مقصود ہے۔مستقل کرداروں میں پروفیسرجیسے قابل احترام اور اعلی منصب پر فائز شخصیت کوانتہائی تضحیک آمیز رویے کے ساتھ شرمناک جملے کسے جاتے ہیں جو کہ اینکرز کی تعلیمی استعداد ،تخریبی سوچ اور ناقص تربیت کی عکاسی کرتا ہے کہ قوم کو بے جا بے مقصد اور بے لگام تفریح کے بخار میں مبتلا کیا جارہا ہے۔سب ریٹنگ کی ڈور میں حواس باختہ ہوئے ہیں اور خوداعتمادی کا یہ عالم ہے کہ بسا اوقات مزاحیہ تفریحی پروگرامات لائیو بھی پیش کئے جاتے ہیں۔جس کا نتیجہ ہے کہ کامیڈین سالہا سال سے سٹیج ڈراموں میں لازوال پرفارمنس (جن پر پولیس کے چھاپے بھی پڑتے رہے ہیں)دینے کے بعد لائیو ٹی وی شو میں ایسے بے حیائی اور بے شرمی والے فقرات بھی بول جاتے ہیں کہ جسے لکھتے ہوئے قلم شرما رہا ہے جبکہ وہ تمام اخلاق باختہ فقرے معروف ٹی وی شوکی زینت بن کر نیوز چینل سے آن ائیر ہوچکے ہیں۔ اس کے برعکس بین الاقوامی چینلز کے تقریبا70فیصد پروگرام ریکارڈ شدہ ہوتے ہیں اور آن ائیر ہونے سے قبل تصدیق کی جاتی ہے کہ یہ پروگرام ملک کی سرحدوں کے خلاف تو نہیں، مذہبی ومسلکی منافرت پر مبنی تو نہیں،کسی کمیونٹی کی دل آزاری کا باعث تو نہیں۔یہاں آوے کاآوا ہی بگڑا ہوا ہے ،آخر یہ سب کیا ہے؟الیکٹرانک میڈیا تفریح کے نام پر کیا دے رہا ہے؟اور اس سے کیا ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔آخر الیکٹرانک میڈیا اپنی ذمہ داریوں کو کب سمجھے گا اور معاشرے کیلئے مثبت سوچ کب اپنائے گا۔خود کو عقل کل ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے والے نام نہاد ٹی وی اسکالرز علم کے عین سے بھی واقف نہیں ہیں کہ علم کا سب سے بنیادی تقاضا اہل ِعلم افراد کی عزت و تکریم اور اخلاقیات ہے ۔لاکھ سیاسی اختلافات کے باوجود سیاستدان ہمارے ملک کا سرمایہ اور وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کے ضامن اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں ، اسی طرح اسپورٹس سے وابستہ افراد ملک کے سفیر اور قوم کے ہیرو ہیں۔ان کی غلطیوں اور ناکامیوں پر مثبت تنقید اور اصلاح کرنے کی بجائے تضحیک کرنا،اخلاقیات سے گرے ہوئے الفاظ کے ساتھ مذاق اڑانا کہاں کی صحافت ہے۔صحافتی آزادی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ دوسروں کی آزادی سلب کرلیں اور آزادی ِ صحافت کی آڑمیں معززین کو بدنام کرنے کے درپے ہوجائیں۔ہر روز نئی مخبری کرنے والوں کے بارے میں کسی مخبری کی ضرورت نہیں بس گذشتہ پروگرام دیکھ لیں آپ کو آئینہ ہوجائے گا کہ ہر کسی کو لتاڑنا اور مخصوص افراد کو نوازنا یقینی طور پر کسی لفافے کی کرامت ہی ہوسکتا ہے۔پیمرا کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے اور ایسے افراد کے خلاف پیمرا ایکٹ کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے۔مزیدازاں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز آرڈیننس 2015کے سیکشن 17اور 18کے مطابق سیاستدانوں کی کارٹون، بلاگ،تجزیہ میں تضحیک کرنا قابل گرفت جرم ہے جس پرقید اور جرمانہ کی سزا دی جا سکتی ہے،اس ایکٹ کے تحت کسی بھی خلاف ورزی کے مرتکب شخص یاادرے کو بغیر وارنٹ فوری گرفتار کیا جاسکتا ہے۔قانون نافذ کرنے والے ادروں کو چاہیے کہ کسی بھی امتیاز اور تعصب کے بغیرپریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز آرڈیننس کے تحت جرم کے مرتکب افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا ہائوسز مالکان اپنا احتساب کریں اورریٹنگ کی ڈور میں سرپٹ بھاگنے کی بجائے اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور آزادی صحافت کے نام ہونے والے اس کھلواڑ کا حصہ نہ بنیں ،بے لگام تفریح اور جانبداری یہی وجوہات ہیں کہ لوگوں کا الیکٹرانک میڈیا سے اعتبار ختم ہوتا جارہا ہے ،یہ مکافات عمل ہے کہ نیوزچینلز پر دوسروں کی شکلیں اور نام بگاڑ کر تضحیک کرنے والے اینکرز آج سوشل میڈیا جو کہ کروڑوں پاکستانیوں کی آواز بن چکا ہے پر انہی اینکرز کی بگڑی ہوئی شکلیں ،طنزیہ نام اور بیشمار لعن طعن نظر آتی ہے۔ابھی بھی وقت ہے کہ باقی ماندہ عزت کو سمیت لیا جائے ،تضحیکی اور تخریبی ہتھکنڈوں کی بجائے مثبت اور تعمیری صحافت کو فروغ دے کر الیکٹرانک میڈیا کا وقار بحال کیا جائے۔


Read more

حلقہ NA120:میدان سج گیافاتح کون ہوگا؟۔۔۔ عابد محمود عزام

پانا ما کیس میں نوازشریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والا حلقہ این اے 120 لاہور ملکی سیاست کا محور و مرکز اور ملک بھر میں عوام کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مختلف جماعتوں کے نامزد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جاچکے ہیں اور پاکستان الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخاب کے لیے ضابطہ اخلاق بھی جاری کیا جاچکا ہے، جس کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور اس کے نمائندوں پر ضمنی انتخاب میں حصہ لینے والے کسی بھی امیدوار کے سیاسی فائدے کے لیے سرکاری وسائل استعمال کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی صورت میں عوامی نمائندگی کے ایکٹ 1976 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 321568 ہے، جبکہ 2013 کے انتخابات میں ووٹوں کی تعداد دو لاکھ 95 ہزار 826 تھی۔ اس طرح اس حلقہ میں 26 ہزار کی تعداد میں ووٹوں کا اضافہ ہوا ہے۔ حلقہ این اے 120 پر ضمنی انتخاب 17 ستمبر کو ہوگا۔ اس حلقے میں ضمنی انتخاب کے لیے 19 امیدوار سامنے آئے ہیں، جن میں سرفہرست مسلم لیگ نون کی بیگم کلثوم نواز اور پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد ، جن کے کاغذات نامزدگی منظور ہو چکے ہیں۔ سب سے مضبوط امیدوار مسلم لیگ ن کی طرف سے میاں نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز ہیں، کیونکہ یہ حلقہ مسلم لیگ کا مضبوط گڑھ ہے، یہاں سے مسلم لیگ کو شکست دینا آسان نہیں ہے۔ ابتدا میں مسلم لیگ نون کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اس حلقے سے میاں شہباز شریف الیکشن لڑیں گے اور قومی اسمبلی کی اس نشست سے رکن منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم کا انتخاب لڑیں گے۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اسلام آباد سے ریلی شروع کرنے سے پہلے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے یہ کہہ کر روانہ ہوئے تھے کہ ان کی خواہش ہے کہ شاہد خاقان 2018 تک مدت پوری کریں۔ نواز شریف کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنی بات پر قائم رہتے ہیں، لیکن انہیں گھر کے دبائو میں آکر فیصلہ تبدیل کرنا پڑا اور اختلافِ رائے سامنے آنے کے بعد کلثوم نواز کو نامزد کیا گیا اور ان کے کاغذات منظور ہوگئے ہیں۔ بیگم کلثوم نواز کے بعد اس حلقے میں مضبوط حیثیت کی امیدوار تحریک انصاف ڈاکٹریاسمین راشد ہیں، جنہوں نے 2013 کے انتخابات میں نواز شریف کے91 ہزار 683 ووٹوں کے مقابلے میں 52 ہزار 354 ووٹ حاصل کیے تھے، جبکہ پی پی پی کے زبیر کاردار نے 2605، جبکہ جماعت اسلامی کے حافظ سلمان بٹ نے 953 ووٹ حاصل کیے تھے۔اب کی بار پیپلز پارٹی کے فیصل میر اور جماعت اسلامی کے نامزد امیدوار ضیا الدین انصاری ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ اگر تحریک انصاف کو پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کی سپورٹ مل جائے تو مقابلہ سخت ہو گا۔ پی ٹی آئی والے آسانی سے ہار نہیں مانیں گے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اس حلقے کو مانیٹر کررہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے۔ یاسمین راشد گھر گھر جا کر ان ووٹروں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جو پچھلی بار انہیں ووٹ دینے کے لیے راضی نہ تھے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وہ بظاہر کافی پر امید نظر آتی ہیں۔ یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ حلقے میں گھر گھر انتخابی مہم کے دوران لوگ انہیں خوشدلی سے مل رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی شکایت بھی کی۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون کی جانب سے اس حلقے میں کامیابی کی امید غلط فہمی ہے۔ محض سرمایہ کاری سے ووٹ نہیں ملے گا۔ یہ بہت پس ماندہ علاقہ ہے، یہاں تو اگر شہباز شریف کو بھی کھڑا کر دیں گے تو ان کی جیت بھی مسئلہ بن جائے گئی۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ لاہور نون لیگ کا مضبوط حلقہ رہا ہے، لیکن سیاسی عمل میں مکافات ِ عمل بھی ہوتا ہے اور میاں صاحب اس وقت جس صورتحال کا شکار ہیں، وہی قوم کے سامنے رکھیں گے۔ ہم لوگوں کو بتائیں گے کہ عدالتیں ان کے خلاف فیصلے دے چکی ہیں اور انہیں نا اہل قرا دے چکی ہیں، اس لیے انہیں ووٹ نہ دیں۔پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کو اپنا سیاسی مرکز بنانے کا اعلان کرچکی ہے، گزشتہ روز چنیوٹ میں پی پی نے ایک جلسہ بھی کیا ہے، جس میں میاں نواز شریف پر کافی تنقید کی ہے۔ پیپلزپارٹی بھرپور طریقے سے پنجاب میں اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور مسلم لیگ ن کو نشانے پر رکھے ہوئے ہے۔ حلقہ این اے 120کے ضمنی انتخاب میں ایک اہم فیکٹر مذہبی بنیادوں پر بعض امیدواروں کا سرگرم ہونا بھی ہے۔ اہل سنت رہنما مولانا خادم حسین رضوی بھی میدان میں آئے ہیں، جو ممتاز قادری کی شہادت پر مسلم لیگ ن کی قیادت کو ٹارگٹ کرتے اور اس کی مخالفت کرتے نظر آرہے ہیں، ان کا کافی ووٹ بینک اس حلقے میں ہے۔ ماضی میں سنی ووٹرز نے اپنا وزن ہمیشہ مسلم لیگ نون کے پلڑے میں ڈالا ہے، مگر اس مرتبہ مولانا خادم حسین کے کھل کر میاں نوازشریف کی مخالفت کرنے سے مسلم لیگ کو سیاسی نقصان ہونے کا امکان ہے۔اس کے ساتھ حال ہی میں جماعة الدعوہ کی تشکیل پانے والی جماعت ملی مسلم لیگ نے بھی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 لاہور سے نامزد مسلم لیگ نون کی امیدوار کلثوم نواز کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ ایم ایم ایل کے رہنما نے نواز شریف پر الزام لگایا کہ سابق وزیراعظم پاناما پیپرز کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول نہیں کر رہے، جبکہ انہوں نے نوازشریف پر کشمیر معاملے کو ڈی ریل کرنے کا بھی الزام لگایا۔ ملی لیگ کے رہنما نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ہم امریکا اور بھارت کی جانب سے اس طرح کے رویے کی امید رکھ سکتے ہیں لیکن آپ کے دور اقتدار میں ہمارے ساتھ جس طرح کا سلوک روا رکھا گیا، وہ کشمیری عوام کے ساتھ کسی خیانت سے کم نہیں اور یہ رویہ قائدِاعظم محمد علی جناح کے نقطہ نظر سے ہٹ گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق این اے 120میں جماعت الدعوة کی ملی مسلم لیگ کا دعوی ہے کہ ان کے پاس پندرہ ہزار ووٹ ایسے ہیں جو مسلم لیگ ن کے ووٹر رہے ہیں۔ اس میں کسی حد تک صداقت بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ جماعت الدعوہ کا مرکز اسی حلقے این اے 120میں ہے، جہاں جماعت الدعوہ کا اچھا خاصا اثرورسوخ اور ان کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری بھی میدان میں ہیں، جو ماڈل ٹائون میں اپنی جماعت کے 14افراد کے خون کا انصاف چاہتے ہیں اور اس کیس میں میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کو پھانسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ کھل کر مسلم لیگ کی مخالفت کر رہے ہیں اور میاں نوازشریف کے نااہل ہونے کی وجہ سے ان کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اگر مسلم لیگ مخالف تمام جماعتیں مل جائیں تو مسلم لیگ کو شکست دی جاسکتی ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تمام جماعتیں مل بھی جائیں، اس حلقے سے مسلم لیگ نون کو شکست دینا آسان نہیں ہے۔لاہور کے حلقہ این اے 120 میں لگنے والا انتخابی میدان مسلم لیگ مخالفین کے لیے بڑے امتحان سے کم نہیں، جس کے لیے سیاسی قیادتوں اور ذمہ داروں نے سرجوڑ رکھے ہیں۔ اس حلقہ کی اہمیت نوازشریف کے حوالے سے تھی اور ہے، کیونکہ وہ اپنی سیاست کے آغاز سے اب تک اس حلقہ سے رکن اسمبلی منتخب ہوتے آئے ہیں۔ پہلے یہ حلقہ این اے 95 تھا، بعد ازاں 2002 میں اسے این اے 120 قرار دیا گیا۔ یہ حلقہ تین سیکٹروں، چھوٹے بڑے محلوں اور چند باقاعدہ ہائوسنگ سکیموں پر مشتمل ہے۔ یہ حلقہ خالصتا شہری آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔ گورنر ہائوس، پنجاب اسمبلی، سول سیکرٹریٹ جیسے اہم حکومتی مراکز بھی اس حلقہ میں ہیں۔ حلقہ کی بڑی برادریوں میں آرائیں، کشمیری، راجپوت، انصاری، ککے زئی نمایاں طور پر موجود ہیں، لیکن یہاں کی غالب اکثریت دوسرے شہروں سے آ کر آباد ہونے والوں کی ہے۔ یہ بنیادی طور پر ملازمت پیشہ تاجر اور محنت کش لوگ ہیں اور اپنے فیصلے سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ ماضی کے انتخابات میں نوازشریف نے اپنی انتخابی مہم چلانے کی زحمت نہیں کی تھی اور وہ اپنے حلقہ سے دور رہے تھے، لیکن بدلے سیاسی حالات میں اب اس حلقہ کے انتخاب کو فریقین اپنے لیے زندگی موت، عزت بے عزتی اور اپنے اپنے سیاسی مستقبل کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لارہے ہیں۔ نواز شریف نے 1985، 1990، 1993 اور 1997 کے انتخابات مسلسل جیتے۔ 2002 کے الیکشن میں بھی انہوں نے اس حلقہ انتخاب سے کاغذات نامزدگی داخل کرائے تھے، لیکن جلاوطنی کے باعث الیکشن نہیں لڑ سکے تھے۔ ان کے کورنگ امیدوار پرویز ملک نے کامیابی حاصل کی، جب کہ 2008 میں مسلم لیگ ن نے بیگم کلثوم نوازشریف کے قریبی عزیز بلال یاسین کو یہاں سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑایا، جو کہ ذیلی صوبائی حلقہ پی پی 139 سے 2002 میں رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ بلال یاسین این اے 120 میں کامیاب رہے اور 2013 میں اس حلقے کے اصل مالک نواز شریف نے الیکشن لڑا اور بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اس طرح نواز شریف اس حلقے سے پچھلے 32 سالوں میں 5 مرتبہ کامیاب ہوئے، جب کہ دو مرتبہ ان کی پارٹی کا نامزد امیدوار کامیاب ہوا۔ ماضی میں ہونے والے انتخابات کے نتائج دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ اس حلقے سے مسلم لیگ کو شکست دینا بالکل بھی آسان نہیں ہے لیکن پاناما لیکس میں میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد ممکن ہے مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک میں کچھ کمی آئی ۔


Read more

اس جہاں سے رخصت ہوئے ادیب جاودانی۔۔۔افتخار چوہدری

 سال تو یاد نہیں مگر جناب ضیا شاہد کو مل کر واپس آرہا تھا ان سے ملاقات ہو گئی۔میں نے روک کر کہا آپ ادیب جاودانی تو نہیں کہنے لگے جی ہاں اور ان کے ساتھ ارشد ضیاء تھے۔ میں ان دنوں سعودی عرب میں خبریں کا بیورو چیف تھا ایڈیٹر انچیف سے ملنے لاہور آیا تھا ۔پھر میں ان سے مل نہیں سکا اس روز خبر ملی کے وہ چاند اپنی کرنوں سمیت اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ہم کتنے مصروف ہو جاتے ہیں اپنے ہاتھوں سے ستاروں کو ٹوٹتے دیکھتے ہیں ملتے نہیں کہیں انا کہیں خودی کہیں کسل مندی ہمیں روکتی ہے دلیر ہوتے ہیں وہ اشخاص جو ان بندھنوں کو توڑ کر بزرگوں سے ملتے ہیں ۔کہتے ہیں بزرگوں کے پاس بیٹھنے سے انسانی شعور میں اضافہ ہوتا ہے۔ایک ڈر سا ہوتا ہے کچھ سیاسی مصلحتیں کچھ مجبوریاں میں اس بار گوجرانوالہ گیا جی چاہتا تھا کہ دستگیر خان صاحب سے ملوں پھر سوچا انہوں نے اٹھائیس جولائی کو مجھے سپریم کورٹ میں نعرہ زن ہوتے دیکھا ہو گا اور نہیں تو خرم دستگیر نے بتایا ہو گا سوچا سوال کر بیٹھے تو کیا جواب دوں گا۔یہ چیزیں ہمیں الگ کر کے رکھ دیتی ہیں۔مون ڈائجسٹ پاکستان کا وہ معتبر ڈائجسٹ ہے جس سے ہم جیسے سیاسی کارکن راہنمائی پاتے ہیں۔ان کے خاص نمبر میں سمجھتا ہوں ہماری قومی لائبریری میں ہونے چاہئیں۔جناب علی محمد اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ہشیار پوری گجر بڑے ہشیار ہوتے ہیں ان کا تعلق بھی ہوشیار پوریوں سے تھا میں ان سے پہلی اور آخری بار خبریں کے دفتر کی سیڑھیوں پر ملا مگر کبھی بھی وہ میری یادداشتوں سے دور نہیں رہے پھر ان کا تذکرہ ان کے داماد ارشد ضیا سے ہوا کرتا وہ میرے کالم پڑھا کرتے تھے اور ارشد نے مجھے بتایا اور کہتے دیکھو یار یہ ہے تو انجینئر مگر لکھتا خوب ہے۔لکھیں کیوں ناں ہمیں اللہ نے میدان صحافت کے پارس پتھروں کے درمیان رہنے کا موقع ملا ہے ۔جن لوگوں کے استاذہ ضیا شاہد 'مجیب شامی' الطاف حسن قریشی اور مجید نظامی ہوں وہ آڑھی ترچھی لکیریں تو کھینچ ہی لیتے ہیں۔گندمی رنگ کوئی چھ فٹ کے قریب ادیب جاودانی اس دنیا سے اس دنیا میں چلے گئے جو جاوداں ہے ۔پتہ نہیں جب ادیب بنے ہوں گے تو جاودانی تخلص کر لیا ہو گا۔مون لائیٹ اسکول سسٹم شروع کیا ہوشیار پور سے ہجرت کر کے فیصل آباد پہنچے اور وہاں سے لاہور پرائیوٹ اسکولوں کا دفاع کرتے رہے۔سچی بات ہے یہ اسکول ہیں تو مہنگے لیکن اگر یہ نہ ہوتے اک دونہ دونہ کرتے عمر گزر جاتی اور کسی کو یہ پتہ نہ چلتا کہ پاکستان ہے کیا۔مجھے پرائیویٹ اسکولوں کے لئے ان کی جدوجہد پر سلام پیش کرنا ہو گا۔ نوائے وقت میں ان کے کالم پڑھنے لائق ہوتے تھے۔میں نے محسوس کیا وہ اسلام اور دو قومی نظریئے کی ترویج کے لئے لکھا کرتے تھے۔اس نئے دور میں وہ تحریک پاکستان کے جذبوں کو زندہ رکھنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ان کی اپنی گجر برادری کے لئے خدمات بھی تا دیر یاد رکھی جائیں گی۔مجھے کسی معتبر شخص نے بتایا کہ وہ ضرورت مند اور مستحق بچوں سے فیس نہیں لیا کرتے تھے اور پرائیوٹ اسکولوں کے مالکان کو بھی یہی درس دیا کرتے تھے کہ اپنی اس نیک کمائی میں سے ان بچوں پر بھی خرچ کریں جن کے پاس مالی وسائل نہیں ہیں۔ارشد ضیا نے مجھے بتایا کہ ان کی ساری زندگی پاکستانیت اور اردو ادب کے فروغ کے لئے گزری۔ادیب جاودانی کے مون ڈائجسٹ کے خصوصی نمبر تحریک پاکستان کے طالب علموں کو ضرور پڑھنے چاہئیں ان میں شخصیات کے وہ انٹرویوز ہیں جو انہوں نے خود کئے۔وہ خود مشرقی پنجاب سے مہاجر تھے یہ لوگ جس آگ اور خون کے دریا سے نکل کر پاکستان پہنچے ان کی کہانیاں مون ڈائجسٹ میں محفوظ ہیں۔یقین کیجئے ہم نئی نسل کو ان قربانیوں سے آگاہ نہیں کر سکے۔ہم مختلف ججوں کی رپورٹوں کی بات تو کرتے ہیں مگر جسٹس شریف کمیشن کی رپورٹ کی بات نہیں کرتے جس میں انہوں نے مشرقی پنجاب کے کنوئوں میں مرنے والی ان شہید مسلمان عورتوں کا ذکر ہے کہ کس طرح باپ اور بھائی اپنے کندھوں پر بٹھا کر ماتھا چوم کر اپنی بہنوں بیٹیوں کو ان کنوئوں میں پھینکنے پر مجبور ہوئے اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کی تعداد پچاس ہزار کے قریب تھی اور اتنی عورتوں کو سکھوں نے اپنے حرم میں لے لیا۔پاکستان کی تاریخ لکھنے والے آہستہ آہستہ اب اس دنیا سے اٹھتے جا رہے ہیں کل میں پڑھ رہا تھا ایک بزرگ کا قصہ جو سکھوں کا مقابلہ کر رہے تھے انہوں نے مسلمان عورتوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا اور سکھوں کے جتھے کے مقابل نکل کھڑے ہوئے کہنے لگے اگر کوئی جلوس ادھر آیا اور کہا اللہ اکبر تو سمجھ لینا ہم جیت گئے ہیں اور اگر واہ گرو کا نعرہ لگائے تو سمجھ لینا ہم مارے گئے ہیں اور اس وقت تم اپنے آپ کو ختم کر لینا۔وقت مناسب نہیں لیکن مجھے استاد دامن کے ان اشعار کا ذکر ضرور کرنا ہے تا کہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ ادیب جاودانی ضیا شاہد مجید نظامی کے شاگرد بھی اسی راستے پر ہیں وہ پنجابی کے اشعار ان قربانیوں کا ذکر کرتے ہیں'ادیب جاودانی کے قلم سے بھی پاکستان پاکستان نکلا اور انہوں نے بھی اپنی طویل زندگی میں بے شمار پاکستانی چھوڑے جو ان کی راہ پر چلنے کا عزم رکھتے ہیں۔میں برادر ارشد ضیا سے اور ان کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں اور ساتھ ہی جناب ضیا شاہد سے جن سے ان کا پیار تھا۔سچی بات ہے سب نے ہی اس دنیا سے جانا ہے اور ہم بھی اسی راستے کے مسافر ہیں لیکن وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہیں کہ ان کو کوئی رونے والا بھی ہے کوئی ان کے لئے قلم پکڑ کر آڑی ترچھی لکیریں کھینچتا ہے لفظوں کے اس کاریگر کی صناعی ہم نے پاکستان کے موثر جریدوں میں دیکھی ان کے اہل خانہ اور ان کے عزیز ارشد ضیا کے لئے دعا کہ وہ اس کام کو جاری رکھیں۔اس میں ہم کیا کر سکتے ہیں جو حکم ملا اس کی تعمیل ہو گی۔سدا نام اللہ کا باقی سب کوڑ کباڑ اللہ پاک ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے باغ بنائے اور ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین

Read more

تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی میں بغاوت۔۔۔ضمیر نفیس

قومی سیاست دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگئی ہے مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف ایک دوسرے کی موثر شخصیات کو توڑنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اگرچہ پہلے مرحلے میں پنجاب میں پیپلزپارٹی کی پانچ چھ نمایاں شخصیات نے علیحدگی اختیار کرکے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی لیکن اب پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف کے باغیوں پر توجہ دینی شروع کر دی ہے خیبرپختونخواہ سے اسکے سابق صوبائی وزیر ضیاء الدین آفریدی کی پیپلزپارٹی میں شمولیت تحریک انصاف کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے البتہ مسلم لیگ (ن) اب تک کسی بھی جھٹکے سے محفوظ ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی کابینہ کو وسعت دے کر پارٹی کو متحد رکھنے کی اہم کوشش کی ہے سندھ سے محمد خان جونیجو مرحوم کے صاحبزادے اسد جونیجو کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت پارٹی کے لئے یقینا تقویت کا باعث ہے اسد جونیجو مسلم لیگ (ن) کے لئے اچھے امیدوار ثابت ہوسکتے ہیں لیکن پارٹی کی طاقت کے بغیر نشست حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں تحریک انصاف کی حکمت عملی یہ ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد کسی طرح شریف فیملی نیب کے ریفرنسز کی لپیٹ آکر سزایاب ہو جائے اور وہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کے ساتھ آسانی سے نمٹ سکے۔ چنانچہ اس حکمت عملی کے تحت اب کپتان نے اپنے جلسوں میں آصف زرداری پر بدعنوانی کے حوالے سے دبائو بڑھانا شروع کر دیا ہے۔تحریک انصاف کے چیئرمین کی کامیابی کا دارومدار پیپلزپارٹی کی کمزور سیاسی حیثیت سے جڑا ہوا ہے  مسلم لیگ (ن) کے ووٹر میں تبدیلی کا رحجان بہت کم ہے یہ ووٹر پیپلزپارٹی کی طرف جائے گا نہ تحریک انصاف کا رخ کرے گا البتہ ناراض ہو کر لاتعلق ہوسکتا ہے جبکہ اس کے برعکس پیپلزپارٹی کا کارکن اور ووٹر تحریک انصاف کا رخ کرتا ہے اور اس کا ووٹر اور کارکن پیپلزپارٹی کی سمت آتا ہے اگر جماعتی بغاوت کا تقابل کیا جائے تو تحریک انصاف میں بغاوت مسلم لیگ (ن)اور پیپلزپارٹی کے مقابلے میں زیادہ ہے' اگر اس میں داخل طور پر ٹوٹ پھوٹ نہ ہوتی تو اب تک یہ ایک مضبوط پارٹی بن چکی ہوتی۔اہم سوال یہ ہے کہ اس پارٹی میں باغیانہ پن کیوں زیادہ ہے؟ اس کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن سردست دو وجوہات سامنے آئی ہیں ایک یہ کہ اس میں سنجیدہ اور پختہ کار کم جبکہ نوجوان زیادہ ہیں جو جلد جذباتی اور مشتعل ہوتے ہیں اورپارٹی ڈسپلن کی پرواہ نہیں کرتے دوسری وجہ لیڈر کی شخصیت کا کمزور سحر ہے جہانگیر ترین' شاہ محمود قریشی' اور فہیم خان وغیرہ آپس میں گھلے ملے ہیں کارکن بھی انہیں بے تکلفانہ دیکھتے ہیں تو قائد سے مرعوب نہیں ہوتے' قائد کی شخصیت میں ایک تدبر' فاصلہ' سنجیدگی' رکھ رکھائو اور کم گوئی ہوتی ہے جو اسے بارعب بناتی ہے اس رعب کے نتیجے میں ایک ڈسپلن پیدا ہوتا ہے دوسرے لیڈر اس کے سامنے اونچی آواز میںبات نہیں کرتے' بات کرنے سے پہلے قائد کا موڈ دیکھتے ہیں' اس کا فیصلہ ہو تو اس پر سختی سے عمل کرتے ہیں مگر عمران خان کے ہاں ایسی کیفیت نہیں ہے۔ شیخ رشید سے لے کر بابر اعوان تک کارکنوں کے سامنے جس انداز سے قائد کا نام لیتے ہیں وہ شایان شان نہیں'' میں نے عمران سے کہا ہے میں کل عمران سے ملا تھا میں نے اسے بتایا تھا'' اس قسم کا انداز گفتگو بارعب قائد کی تصویر کشی نہیں کرتا چنانچہ جو قائدانہ سحر ہونا چاہیے وہ عمران خان کی شخصیت میں پیدا نہیں ہوتا اور عام کارکن بھی اسے عام لیڈر ہی سمجھنے لگتا ہے نتیجہ بہت سے کارکنوں کے باغیانہ  بین کی صورت ظاہر ہوتا ہے اس کے مقابلے میں میاں نواز شریف نے پارٹی لیڈروں کے درمیان ایک فاصلہ رکھا ہے اور شخصیت کا رعب  داب قائم  کر رکھا ہے ' عمران خان نے اپنی شخصیت کو خودبھی نقصان پہنچایا ہے ان کے اکثر جلسوں میں ان کی تقریر کا کچھ حصہ عامیانہ اور سطحی ہوتا ہے لوگ باگ اس لب و لہجے کی تحسین نہیں کرتے جلسے میںانجوائے کرتے ہوں گے لیکن اپنی محفلوں میں تہذیب سے عاری اس گفتگو کی تائید نہیں کرتے' آصف زرداری اور میاں نواز شریف میں لاکھ خرابیاں سہی مگر ان کا لجہ غیر شائستہ اور بازاری نہیں ہوا' لوگ ان دونوں کو اس بات کا کریڈٹ دیتے ہیں ان کے لہجے میں غیر شائستگی ان کی پارٹی کی شاخت  بنتی جارہی ہے لیڈر اور کارکن آپس میں بھی اور اپنے وزیراعلیٰ کے  بارے میں بھی اس لہجے میں بات کرتے ہیں مستقبل میں یہ غیر شائستہ لہجہ پارٹی کے لئے سیاسی نقصان کا باعث بن سکتا ہے مزید باغیوں کی تخلیق کر سکتا ہے۔


Read more

مردم شماری پر سندھ حکومت کے بے بنیاد الزامات

مردم  شماری کے اعدادوشمار منظر عام پر آنے کے بعد اگرچہ بعض سیاسی حلقوں کی طرف سے اعتراضات سامنے آئے ہیں تاہم سندھ حکومت کا ردعمل سب سے زیادہ شدید ہے سندھ حکومت کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت نے سندھ کی آبادی کو کم ظاہر کرکے اس کے خلاف سازش کی ہے چنانچہ وہ ان اعدادوشمار کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں اس کا موقف ہے کہ مردم شماری کے معاملے پر وہ کل جماعتی کانفرنس طلب کرے گی' پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے اپنے پالیسی بیان میں کہا کہ وفاقی حکومت نے ایک منصوبہ بندی کے تحت سندھ کی آبادی کو کم ظاہر کیا ہے وفاقی حکومت کا یہ عمل سندھ کے خلاف سازش ہے انہوں نے کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں سندھ کا حصہ نہ بڑھانے کے لئے مردم شماری میں سندھ کی آبادی کم ظاہر کی گئی تاکہ سندھ کا قابل تقسیم پول میں حصہ نہ بڑھ سکے سندھ حکومت کو مردم شماری کے دوران ہی خدشات ظاہر ہوگئے تھے مگر وفاقی حکومت نے اس کے خدشات ختم نہیں کئے نثار کھوڑو کے مطابق سندھ کا مطالبہ تھا کہ گھر شماری ہونے سے رہ نہ جائے مگر وفاقی حکومت نے سندھ کے خدشات پر کان نہ دھرا اور لمبے عرصے تک مردم شماری کے نتائج راز میں رکھے انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے کرکے اے پی سی بلائی جائے گی ادھر ایم کیو ایم پاکستان نے بھی مردم شماری کے عبوری اعدادوشمار کو  مسترد کرتے ہوئے سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایم کیو ایم کے اعلان کے مطابق 10ستمبر کو لیاقت آباد سے ادارہ شماریات کے دفتر تک ریلی نکالی جائے گی۔ وفاقی حکومت نے مردم شماری پر سندھ کے اعتراضات مسترد کر دئیے ہیں وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ مردم شماری کا عمل پورے ملک میں شفافیت سے دو مراحل میں مکمل کیا گیا کچھ علاقوں میں مشکلات بھی پیش آئیں مگر وہاں دوبارہ شفاف طریقے سے یہ عمل مکمل کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے اپنے موقف کو درست طور پر واضح کیا  مردم شماری کے عمل میں پاک فون نے نگرانی کی اور ہر مرحلے میں شفافیت کو ملحوظ رکھا اس لئے ہم نہیں سمجھتے کہ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی کسی منصوبہ بندی  یا بدنیتی کا عمل دخل ہے البتہ یہ تاثر واضح طور پر موجود ہے کہ اپوزیشن جماعتیں مردم شماری کے نتائج کی آڑ میں وفاقی حکومت پر دبائو ڈالنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ہر معاملے کو سیاسی لیور  کے طور پر استعمال کرنے کی روش احسن نہیں فوج کی نگرانی میں ہونے والی مردم شماری کی شفافیت پر شبے کا کوئی بھی جواز نہیں ہے بے بنیاد الزام تراشی سے کسی بھی جماعت کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔



Read more

ایٹمی پھیلائو کی کہانی' اس بحث کو ہمیشہ کیلئے ختم ہونا چاہیے

سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں ایٹمی پھیلائو کے حوالے سے ایک بار پھر ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں اور کہا ہے کہ انہیں جب سی آئی اے کے سربراہ نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جوہری پھیلائو کے دستاویزی ثبوت دکھائے تو انہیں شدید جھٹکا لگا اس کے بعد جب انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اپنے دفتر بلایا اور ساری باتیں بتائیں تو وہ آنسوئوں سے رونا شروع ہوگئے انہوں نے میرے گھٹنوں کو پکڑ لیا اور معافی مانگی سابق صدر کے مطابق ڈاکٹر قدیر کا سری لنکن فرنٹ مین  ڈبل ایجنٹ بنا ہوا تھا یہ پریذینٹیش میں نے سب سے پہلے نواز شریف کو دی تھی انہوں نے کہا کہ صدر بش نے مجھ سے ڈاکٹر عبدالقدیر کو نہیں مانگا تھا لیکن ان کی نظر میں وہ انٹرنیشنل کرمنل تھا سابق صدر نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر کو کسٹوڈین کنٹرول میں لینا پروگرام کی آرمی سٹریٹجک کمانڈ بنانا یہ سب باتیں میں نے جی ایچ کیو میں نواز شریف کے سامنے رکھیں ڈاکٹر قدیر خان نے کہاکہ مجھے دبئی جانا ہے میں نے کہا کہ جائیں بعد میں معلوم ہوا  وہ سوڈان بھی چلے گئے امریکہ نے ہمیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے دستخط شدہ ثبوت فراہم کئے تھے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان کی ڈیل کے ثبوت موجود ہیں لیکن پیسے لینے کے ثبوت نہیں ہیں ڈاکٹر قدیر کی سیکورٹی ان کی اپنی تھی جس کے بارے میں کبھی نہیں پوچھا گیا ڈاکٹر عبدالقدیر  کی معافی کے بعد میں نے انہیں کہا کہ کیمرے کے سامنے یہی باتیں کہہ دیں جو مجھے کہی ہیں اس پر کوئی پریشر نہ تھا وہ تو گھنٹوں کو  ہاتھ لگا اور رو رہا تھا پرویز مشرف نے کہا کہ میں نے ڈاکٹر قدیر  کو بچایا تھا اور انہیں ان کے گھر میں حفاظت سے رکھوایا تھا دوسری طرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پرویز مشرف کے موقف کو لغو' جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیا ہے اور کہا کہ میرے بارے میں پرویز مشرف نے امریکیوں سے سودے بازی کرلی تھی اس نے مجھے گھر میں قید اس لئے رکھا تھا کہ سی آئی اے کے سپرد کر دے پرویز مشرف نے اس وقت کے وزیراعظم ظفر اللہ جمالی سے کہا تھا کہ سی آئی اے کا طیارہ آیا ہوا ہے ڈاکٹر قدیر کو ان کے حوالے کر دیا جائے لیکن انہوں نے انکار کر دیاتھا ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کیا ملک کے لئے کیا انہیں کسی سے انعام نہیں چاہیے۔ سابق صدر پرویز مشرف کے ڈاکٹر خان پر الزامات کے حوالے سے کوئی بھی تیسری شخصیت کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہین ہے یہ ہماری قومی تاریخ کا شرمناک باب ہے یہ ایسا معاملہ ہے کہ اس کی تحقیقات بھی ملک و قوم کے لئے شدید نقصان کا باعث ہوگی اور پاکستان کے دشمنوں کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی مخالفت میں بہت کچھ کہنے کا موقع مل جائے گا کاش قوم کے ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر یہ الزامات نہ لگتے اور وہ اس تناظر میں اعترافات بھی نہ کرتے ان کے اعتراف اور قوم سے معافی کے بعد اب اس باب میں مزید کچھ کہنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی' عام طور پر یہ موقف اختیار کیا جاتا ہے کہ یورنیم کو افزدہ کرنے والی مشین ''سینٹری فیوجز'' بہت بڑی مشین ہے سوئی نہیں کہ اسے آسانی سے اسمگل کر دیا جائے' مگر یہاں سینٹری فیوجز کی منتقلی کا سوال نہیں ہے مسئلہ ڈیزائن اور افزدوگی کے طریقہ کار کا ہے جو ظاہر ہے تجربہ کار سائنسدان کے دماغ میں محفوظ ہوتا ہے۔ اس سے قبل ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر ایٹمی راز چوری کرنے کے الزامات پر ہالینڈ میں مقدمہ قائم ہوا تھا اور ان کی غیر موجودگی میں انہیں سزا سنائی گئی تھی جس پر حکومت کی جانب سے اپیل کی گئی اور اپیل کے نتیجے میں وہ بری ہوگئے تھے پس منظر یہ تھا کہ ڈاکٹر خان نے ہالینڈ میں یورنیم افزدوگی پر کام کیا تھا انہیں کوئی راز چرانے کی ضرورت بھی نہ تھی سب کچھ ان کے ذہن میں محفوظ تھا مگر ہالینڈ کی حکومت نے امریکی خوشنودی کی خاطر ان کے خلاف مقدمہ قائم کر دیا تھا ہم سمجھتے ہیں  سابق صدر کو ایٹمی پھیلائو کے اس معاملے کو پھر سے اچھالنے کی ضرورت نہ تھی اس کو پھر سے زیر بحث لانا اور اسے اچھالنا پاکستان کے دشمنوں کے مقاصد تو ہوسکتے ہیں محب وطن پاکستانیوں کے نہیں ہونے چاہئیں۔


Read more

کیا ہم پہاڑوں سے بھی اونچی عمارتیں بناسکتے ہیں؟

بلند سے بلند تر عمارتیں تعمیر کرنا ہمیشہ سے انسان کا خواب رہا ہے تاکہ وہ اونچے پہاڑوں کو بھی شکست دے سکے اور اپنی ایجاد کردہ ٹیکنالوجی کی برتری ثابت کرسکے لیکن اب تک ایسا ممکن نہیں ہوسکا ہے۔تو کیا مستقبل میں ایسا ہوسکے گا؟ کیا ہم پہاڑوں سے بھی اونچی عمارتیں بناسکیں گے؟ موجودہ ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھا جائے تو اس کا جواب جزوی طور پر ہاں میں ملتا ہے کیونکہ شاید ہم اتنی بلند عمارتیں ضرور بنالیں جو اوسط بلندی والے کسی پہاڑ سے زیادہ اونچی ہوں لیکن مانٹ ایورسٹ یا کے ٹو جیسے عظیم الشان پہاڑوں کی بلندیوں کو شکست دینا ہماری موجودہ تعمیراتی ٹیکنالوجی کے بس سے باہر ہے۔تاریخ کی بات کریں تو پتا چلتا ہے کہ غزا کا عظیم ہرم (گریٹ پیرامڈ) اپنی 146 میٹر بلندی کے ساتھ تقریبا 3900 سال تک دنیا کی بلند ترین عمارت کے درجے پر فائز رہا۔ برطانیہ میں تعمیر کیے گئے لنکن کیتھڈرل نے بالآخر 1311 عیسوی میں اپنی 160 میٹر اونچائی کے ساتھ دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز حاصل کرلیا۔انیسویں اور بیسویں عیسوی میں اونچی سے اونچی عمارتیں بنانے کا رواج زور پکڑنے لگا جس نے اکیسویں صدی کی آمد پر اور بھی زیادہ شدت اختیار کرلی۔ قصہ مختصر یہ کہ اس وقت دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ ہے جو دبئی میں تعمیر کی گئی ہے اور اس کی اونچائی 830 میٹر (یعنی 2722 فٹ)ہے۔ فی الحال یہ تو نہیں بتایا جاسکتا کہ برج خلیفہ کتنے سال تک دنیا کی بلند ترین عمارت رہے گا لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ اس سے بھی زیادہ طویل عمارتوں کے منصوبے بن چکے ہیں اور انہیں عملی جامہ پہنانے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ایک اوردو کلومیٹر اونچی عمارتوں کے منصوبے بھی اس وقت ڈرائنگ بورڈ پر ہیں لیکن شاید انسانی تاریخ میں ممکنہ طور پر سب سے بلند عمارت 4000 میٹر بلند ہوگی جسے ایکس سیڈ 4000 کا نام دیا گیا ہے۔ موجودہ تعمیراتی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم شاید اس سے اونچی عمارت نہ بناسکیں گے۔ یعنی اس سے بھی بلند عمارت تعمیر کرنے کیلیے ہمیں آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید اور مختلف ٹیکنالوجی درکار ہوگی۔اگرچہ یہ منصوبہ بھی اب تک صرف ڈرائنگ بورڈ تک محدود ہے لیکن اس کی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک عمارت اپنے رقبے میں ویٹیکن شہر سے بھی بڑی ہوگی جس کی بنیادوں کی چوڑائی 6 کلومیٹر ہوگی۔ کسی مخروطی مینار کی طرح یہ عمارت جیسے جیسے بلند ہوگی ویسے ویسے مختصر ہوتی جائے گی۔ یہاں دس لاکھ سے زیادہ افراد رہ سکیں گے۔اندازہ ہے کہ اس کی تعمیر پر 1400 ارب ڈالر خرچ ہوں گے اور فی الحال کسی کنسورشیم تو کیا کثیر ملکی اتحاد کے پاس بھی صرف ایک عمارت کی تعمیر کیلیے اتنی رقم نہیں۔ہم نہیں جانتے کہ یہ کب اور کہاں تعمیر کی جائے گی لیکن اتنا ضرور ہے کہ یہ ارد گرد کے ماحول اور موسم پر لازما اثر انداز ہوگی کیونکہ چار کلومیٹر اونچائی اسے بادلوں سے بھی زیادہ بلند کردے گی اور مشہور جاپانی پہاڑ فیوجی بھی اس سے کچھ چھوٹا دکھائی دے گا۔ البتہ اس کی اونچائی پھر بھی مانٹ ایورسٹ کے مقابلے میں صرف 45 فیصد یعنی آدھے سے بھی کم ہوگی۔ایکس سیڈ 4000 کا منصوبہ بلاشبہ انجینئرنگ کی تاریخ میں عظیم ترین منصوبہ قرار دیا جارہا ہے لیکن ایک جانب تو یہ ابھی تک صرف ایک خیال کی صورت میں ہے۔ اگر اس نے حقیقت کا روپ دھار بھی لیا تب بھی اس سے واضح ہوتا ہے کہ قدرت پر بازی لے جانا ہمارے بس میں نہیں ہوگا۔ قدرت کو چیلنج کرنے کیلیے ہمیں اسی کے کچھ اور رازوں سے پردہ اٹھانا پڑے گا؛ اور ہم خود بھی نہیں جانتے کہ وہ راز کیا ہیں۔

Read more

سمندرپروقت گزارنے سے ذہنی تنا کم کرنے میں مدد ملتی ہے، تحقیق

ماہرین کے مطابق سمندروں کے کنارے رہنے والے افراد پرہجوم اورعمارتوں میں بسنے والے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ پرسکون اور ڈپریشن سے دور ہوتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ سمندر پر کچھ وقت گزارنے بلکہ اسے دیکھنے سے بھی ذہنی سکون ملتا ہے۔مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی میں ہیلتھ جیوگرافی کے ماہرین مطالعے میں سرسبز مقامات کو بھی شامل کیا ہے لیکن اس کے ذہنی صحت پر کوئی خاص اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے لیے ماہرین نے نیوزی لینڈ کے علاقے ویلنگٹن میں رہنے والے مختلف افراد کا جائزہ لیا اور ان سے ذہنی تنا کے بارے میں معلوم کیا، ان میں سے جو لوگ قریب سے سمندر کو دیکھتے تھے ان میں بقیہ کے مقابلے میں کم ڈپریشن نوٹ کی گئی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس میں عمر، معاشی حیثیت اور جنس جیسے اہم عوامل کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ماہرین کے مطابق وجہ یہ ہے کہ نیلی جگہیں قدرے فطری ہوتی ہیں یعنی سمندر۔ جب کہ سبز علاقے خود انسانوں کے بنائے ہوئے بھی ہوسکتے ہیں۔ مثلا کھیل کے میدان وغیرہ۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ ڈپریشن میں مبتلا افراد کو سمندر میں لے جانا مفید ثابت ہوسکتا ہے اور اگر کسی شہر میں سمندر ہے تو وہاں آبادی کے لیے کم خرچ مکانات تعمیر کیے جانے چاہئیں اس سے عوام کی بڑی تعداد کی ذہنی صحت بہتر ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق انسانی ذہن پر جھیلوں اور دریاں کے اسی طرح کے اثرات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔


Read more

ٹیکساس میں سیلاب سے 5لاکھ افراد متاثر، ہلاکتیں 13ہوگئیں

امریکی ریاست ٹیکساس کی انتظامیہ کے مطابق سمندری طوفان ہاروی سے متاثرہ 5 لاکھ افراد مدد کے طلب گار ہیں جبکہ تقریبا 30 ہزار افراد کو عارضی پناہ گاہیں درکار ہیں تاہم ہلاکتوں کی تعداد 13ہو گئی۔موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے قبل ایسا طوفان کبھی نہیں آیا، اس سمندری طوفان کے بعد سے پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے جس کے بعد تباہ کن سیلاب کی شدت بڑھنے کا امکان ہے، ہوسٹن سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کارروائی کر کے اب تک 2 ہزار افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے، ادھر حکام کے مطابق سیلاب سے متاثرہ 5 لاکھ افراد کی ٹیکساس میں امداد کی جا رہی ہے، جبکہ 30 ہزار افراد کو ہنگامی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جلد از جلد اس حوالے سے اقدامات کرینگے تاکہ ریاست ٹیکساس کو اس قدرتی آفت سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔

Read more

گزشتہ شمارے

<< < August 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
    1 2 3 4 5
6 7 8 9 10 11 12
13 14 16 17 18 19
20 21 22 23 24 25 26
27 28 29 30 31