Get Adobe Flash player

August 2017

30 August 2017

بارش برسانے والا سسٹم سندھ میں داخل، تیزہوائیں چلنے لگیں

بارش برسانے والا سسٹم سندھ میں داخل ہوگیا ہے جس کے بعد شہرقائد میں تیزہوائیں چلنے لگی ہیں۔بارش برسانے والا سسٹم سندھ میں داخل ہوگیا ہے، جس کے باعث حیدر آباد، تھرپارکر اور بدین سمیت سندھ کے دیگر ساحلی علاقوں میں بارشیں شروع ہوگئی ہیں جب کہ کراچی میں تیز ہوائیں چل پڑی ہیں۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ممبئی میں شدید بارشوں کا باعث بننے والا سسٹم اور راجستھان میں بننے والا کم دبا اب مل کر ایک ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے اس کی شدت بھی بڑھ گئی ہے۔ ہوا کے کم دبا کی شدت میں اضافے کی وجہ سے اس کی رفتار بھی کم ہوگئی ہے ۔ یہ سسٹم کراچی اور بلوچستان کے دیگر ساحلی علاقوں کو بتدریج اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اور بدھ کی شام سے شہر قائد میں بارش کا سلسلہ شروع ہوگا جو کہ جمعے تک جاری رہے گا۔محکمہ موسمیات کی جانب سے دو روز قبل ہی الرٹ جاری کیا گیا تھا جس میں شدید بارشوں کی صورت میں کراچی میں سیلابی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ ماہی گیروں کو بھی کھلے سمندر میں جانے سے گریز کی ہدایت کی گئی تھی۔محکمہ موسمیات کے الرٹ کے بعد سندھ حکومت اور کے ایم سی نے شہر میں رین ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کے لیے انتطامات مکمل کرلیے گئے ہیں ۔ معمول سے زیادہ بارش کی صورت میں تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کردیا جائے گا۔دوسری جانب شہر کے کئی برساتی نالے عدم توجہ کے باعث بند پڑے ہیں جس کی وجہ سے عوام میں اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ عید الضحی کے لیے سپر ہائی وے پر لگائی گئی مویشی منڈی کی صورت حال بھی انتہائی خراب ہے۔ بارشوں کے باعث خریدار نہ ہونے اور ناقص سہولیات کے باعث بیوپاریوں میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔


Read more

مناسک حج کا آغاز، عازمین کی منی آمد

حجازمقدس میں مناسک حج کا آغاز ہوگیا ہے اور لاکھوں عازمین منی پہنچ گئے ہیں۔آج سعودی عرب میں 8 ذی الحج ہے جو مناسکِ حج کا پہلا دن ہوتا ہے، حج کے پہلے مرحلے میں عازمین غسل کے بعد احرام باندھ کر حج کی نیت کرکے تلبیہ کہتے ہوئے منی پہنچنا شروع ہوگئے ہیں، عازمین منی میں دنیا کی سب سے بڑی عارضی خیمہ بستی آباد کریں گے۔ منی میں ہی عازمین آج ظہر، عصر، مغرب اور عشا جب کہ کل فجر کی نماز ادا کریں گے۔ جس کے بعد عازمین عرفات روانہ ہوں گے جہاں حج کا رکن اعظم وقوف عرفات ہوگا۔میدان عرفات میں نماز ظہر اور عصرایک ساتھ ادا کرنے اور مسجد نمرہ میں خطبہ حج سننے کے بعد عصر اور مغرب کے درمیان وقوف ہوگا جس میں حجاج کرام، اللہ رب العزت کے حضور ذکر و تسبیح کیساتھ خصوصی دعائیں کریں گے، نماز مغرب سے قبل میدان عرفات چھوڑنے کا حکم ہے، اس لیے حجاج میدان عرفات سے مزدلفہ روانہ ہوں گے اور وہاں مغرب اور عشا کی نماز ایک ساتھ ادا کریں گے۔حجاج کرام مزدلفہ میں رات کھلے آسمان تلے قیام اور نماز فجر کی ادائیگی کے بعد منی میں اپنے اپنے خیموں میں جائیں گے اور قربانی کرنے کے بعد بال منڈ وائیں گے، پہلے دن شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے بعد حجاج مکہ المکرمہ جا کر مسجد الحرام میں طواف زیارت کرسکتے ہیں۔دوسرے اور تیسرے دن بھی شیطان کو کنکریاں مارنا حج کا رکن ہے اور تینوں دن منی میں رات کا ایک خاص پہرگزارنا تمام عازمین حج پر واجب ہے، تیسرے دن شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد تمام حاجی مستقل طور پر منی سے مکہ مکرمہ روانہ ہوں گے، اس طرح مناسک حج کی تکمیل ہو جائیگی۔سعودی عرب کی نظامت عامہ برائے پاسپورٹس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل سلیمان الیحیی کے مطابق رواں برس 20 سے 30 لاکھ فرزندان اسلام کی فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ میں آمد متوقع ہے۔ 17 لاکھ 53 ہزار 300 عازمین دنیا بھر سے حجاز مقدس پہنچے ہیں۔ جن میں سے 16 لاکھ 50 ہزار عازمین فضائی،88 ہزار 500 زمینی جب کہ 14 ہزار 800 سمندری راستے سے سعودی عرب پہنچے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ 34 ہزار سعودی اور سعودی عرب میں ہی مقیم ایک لاکھ 9 ہزار غیر ملکی بھی حج کا فریضہ ادا کریں گے۔دوسری جانب سعودی حکومت نے دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کئے ہیں، ایک لاکھ سے زائد اہلکاروں کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے ، اس کے علاوہ مسلسل فضائی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔


Read more

دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے فن لینڈ کا ساتھ دینگے، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فن لینڈ کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس میں فن لینڈ کے صدر نینستو کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور فن لینڈ کے تعلقات کو انتہائی گرم جوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میںکئی ملک عالمی امن کیلئے خطرہ ہیں اور ضرورت پڑنے پر اْن سے نمٹا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ بالٹک خطے کو دنیا میں اہمیت کا حامل تصورکرتا ہے اور اسے ایک انتہائی محفوظ علاقہ سمجھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے امریکہ فن لینڈ کا ساتھ دے گا

 

 

Read more

30 August 2017

مناسک حج آج سے شروع،سعودی حکومت نے انتظامات مکمل کرلئے

اسلامی تاریخ کے1430ویں حج کے مناسک آج(بدھ) 30اگست سے شروع ہوں گے، دنیا بھرسے آئے ہوئے17لاکھ سے زائد مسلمان اور سعودی عرب میں مقیم لاکھوں افراد لبیک الھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے مکہ شہر کے شمال مشرق میںچھ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع وادی منٰی میں قائم خیموں کے شہر میںگزشتہ رات سے ہی پہنچنا شروع ہو گئے جہاں وہ آج ظہر ' عصر ' مغر ب اور عشاء کی نمازیں ادا کریں گے ۔سعودی حکومت نے 17مربع کلومیٹر پر محیط اس خیمہ بستی میںلا کھوں مسلمانوں کی طرف سے حج کی ادائیگی کے لئے تمام انتظامات مکمل کر لئے ہیں۔منٰی میںسب حاجیوں کو ان کے معلمین کے ذریعے خیمے الاٹ کر دئیے گئے ہیں۔پاکستان سے ایک لاکھ79ہزار سے زائد عازمین حج مکہ مکرمہ پہنچ چکے ہیں ۔ پاکستان حج مشن مکہ مکرمہ میں پاکستانی عازمین حج کی معاونت 'رہنمائی اور فلاح و بہبود کے لئے دو ہزاراہلکاروں پر مشتمل عملہ تعینات کر دیا گیا ہے ۔پاکستانی عازمین حج کو منٰی کی خیمہ بستی میں اپنے خیموں کی تلاش میں مدد دینے رہنمائی کا موثر انتظام کیا گیا ہے ۔ پاکستانی عازمین کے خیموں کے قریب معاونین کی چوکیاں قائم کی گئی ہیں جہاں سبزرنگ کی جیکٹس پہنے اور چھوٹے پاکستانی پرچم تھامے ان معاونین کو حجاج کی مناسب رہنمائی کیلئے منی کا نقشہ فراہم کیا گیا ہے ۔حکومت پاکستان کی طرف سے منیٰ کے نقشے چھپوالئے گئے ہیں اور یہ عازمین میں بھی تقسیم کئے جائیں گے تاکہ وہ اپنے مقامات خود بھی تلاش کرسکیں۔منیٰ میں ایک مرکزی دفتر بھی قائم کیاگیا ہے جہاں سے پاکستانی عازمین کسی بھی قسم کی رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔حجاج کو منیٰ روانگی سے دو روز پہلے مکتب نمبر اور ٹرین کے ٹکٹ فراہم کردئیے گئے ہیں ۔

 

 

Read more

30 August 2017

پاکستان نہیں امریکہ پاکستان کا محتاج ہے،سابق سی آئی اے

امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیکل موریل نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی امداد بند یا کم کرکے اس پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا امریکہ کا پاکستان پر ناجائز دباؤ کا حربہ کارگر نہیں ہوگا البتہ اس دباؤ سے امریکہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے پاکستان کو نہیں کیونکہ پاکستان امریکی امداد سے آزاد ہوچکا ہے،چین جیسے دوست کی امداد اسے حاصل ہے اور امریکہ پاکستان کی فضائی اور زمینی راستوں کا محتاج ہے جس کے تعاون کے بغیر یہ جنگ امریکہ جیت نہیں سکتا۔سی آئی اے کے سابق قائم مقام سربراہ مائیکل موریل نے ایک حالیہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ کی تقریر پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ہم کس قدر پالیسی میں تبدیلی پر آمادہ کرسکتے ہیں کہ وہ طالبان کی حمایت سے کنارہ کش ہوجائے تاہم ایران اور روس کی امداد سے طالبان میں ایک نئی قوت پیدا ہوچکی ہے ان میں نظریاتی عنصر ایسا ہے جسے شکست دینا ناممکن ہے وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔انہو ں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی واضح نہیں ہے نہ ہی انہوں نے کوئی پلان دیا ہے کہ کتنی فوج بھیجی جائیگی اور اس کا رول کیا ہوگا جبکہ انہوں نے افغان حکومت کے کردارکی بھی وضاحت نہیں کی ۔انہوں نے افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے لئے اس سے آسانیاں پیدا ہوں گی تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکی افواج کی زمین پر موجودگی میں اضافہ ہوتا ہے تو طالبان کی کارروائیوں سے امریکی فوجیوں کے تابوت پہنچنے پر امریکہ میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔مائیکل موریل نے مزید کہا کہ طالبان کے اثرورسوخ کو روکنے کیلئے افغان حکومت کی کرپشن کے خاتمے اور افغان فوج کی کارکردگی بہتر بنانا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اگر ہارے نہ بھی تو جنگ جیت نہیں سکتا۔انہوں نے کہا کہ طالبان کی جنگ نظریاتی ہے ایران اور روس کی پالیسیوں کا جائزہ لینا ضروری ہے جبکہ پاکستان کو آمادہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ طالبان کی حمایت سے دست کش ہوجائے پاکستان پر دباؤ کارگر نہیں ہوگا وہ امریکی امداد سے آزاد ہوچکا ہے،چین اسکی ہر قسم کی مدد کر رہا ہے،ماضی میں بھی امریکہ امداد بند کرکے دیکھ چکا ہے لہٰذا طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اس کا سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا،پاکستان کو دباؤ میں لاکر اسے غیر مستحکم کرنا کسی طرح بھی سود مند نہیں ہے،واحد حل سیاسی ہے کہ طالبان سے مذاکرات کئے جائیں۔انہوں نے افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج کے کمانڈر جنرل نکلسن کے انٹرویو کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے بھی افغان مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیا ہے،کمانڈر کا بھی خیال ہے کہ مذاکرات کے ذریعے ہی مسئلہ حل ہوگا،طالبان کو بھی یہ احساس ہے کہ وہ جنگ جیت نہیں سکتے

 

Read more

30 August 2017

نئے پاکستان کی ابتداء ہوچکی،منزل زیاد ہ دور نہیں،عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نیب نے آصف زرداری کو کلین چٹ دی ہے، ساری قوم چیئرمین نیب کو معاف نہیں کرے گی، لاہور الیکشن میں پتہ چلے گا کہ قوم عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے یا پاکستان کے بڑے ڈاکو کے ساتھ ،8 دن جیل میں ہر قسم کے چھوٹے جرائم میں ملوث مجرم دیکھے مگر بڑے ڈاکوتو پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں،شہباز شریف کے کرپشن کے کیسز ہم نیب میں لے کر جائیں گے، انہوں نے پونے دو ارب روپے ملتان کے میٹرو بس منصوبے میں کرپشن کر کے چائنہ بھیجے، ہم انکی کرپشن کے تمام منصوبے سامنے لے کر آئیں گے، کون نہیں جانتا کہ آصف زرداری ملک سے پیسہ چوری کرکے باہر لے کر گیا، نیب کی وجہ سے کرپشن بڑھی ہے، پانامہ کیس جیسی جے آئی ٹی کی مثال مغربی ممالک میں بھی نہیں ملتی،پارٹی کی ممبر شپ کمپیئن کیلئے آیا ہوں، ہم کارڈ کا اجراء کر رہے ہیں جس سے ہم اپنے ایک ایک کارکن کے ساتھ رابطے میں رہیں گے اور آپ سے آپ کے امیدوار کے چنائو کیلئے رائے بھی لے سکتے ہیں۔ وہ منگل کو چکوال میں عوامی ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ شاندار استقبال پر چکوال کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، نواز شریف کی ریلی سرکاری ریلی جبکہ ہماری عوامی ریلی ہے، گو نواز گو تو ہو گیا ہے اور لاہور میں بڑا فیصلہ کن الیکشن ہونے جا رہا ہے، پتہ چلے گا کہ قوم عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے یا پاکستان کے سب سے بڑے ڈاکو کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار طاقتور کا احتساب شروع ہوا ہے یہ ہے نیا پاکستان، میں آٹھ دن جیل میں رہا، وہاں میں نے ہر قسم کے چھوٹے جرائم میں ملوث مجرم دیکھے جبکہ پارلیمنٹ میں بڑے بڑے ڈاکو بیٹھے ہیں۔

 

 

Read more

30 August 2017

کلثوم نواز کی کیموتھراپی آئندہ ہفتے 'نواز شریف آج لندن روانہ ہو نگے

نوازشریف کل غیرملکی ائرلائنز کی پرواز ای کے 625 کے ذریعے لندن روانہ ہونگے، کلثوم نواز کی کیموتھراپی آئندہ ہفتے شروع ہوگیـ لندن میں زیر علاج بیگم کلثوم نوازکے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹروں کو کچھ ضروری سکین اور ٹیسٹوں کے نتائج کا انتظار ہے جس کے بعد انکی کیموتھراپی اس ہفتے کے آخر میں یا آئندہ ہفتے شروع ہوگی جبکہ نوازشریف (آج)بدھ کو غیرملکی ائرلائنزکی پرواز ای کے 625 کے ذریعے لندن روانہ ہونگے، توقع ہے کہ وہ لندن میں 10 دن قیام کرینگے جبکہ انکی آمدپر(ن) لیگ ویسٹ لندن میں ریلی نکالے گی۔واضح رہے حمزہ شہباز، نواز شریف کی دوسری بیٹی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی بہو اسماء علی، شہباز شریف کی بیٹی، حمزہ شہباز کے بیوی بچے اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے صاحبزادے سلیمان شہباز پہلے ہی لندن میں موجود ہیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز شریف جو علاج کے لئے لندن گئی ہیں، ان کے گلے میں کینسر کی تشخیص کی گئی ہے جس کا علاج کیا جا رہا ہے۔

 

 

Read more

30 August 2017

امریکہ کی نئی سہ ملکی مبہم پالیسی۔۔۔ عبدالقادر خان

امریکہ نے سہ ملکی امریکی پالیسی کا اعلان کردیا ہے ۔ اس اعلان کو مبہم پالیسی قرار دیا گیا ہے ۔ امریکی وزیر دفاع جم میٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ افغان جنگ کے خاتمے کے حوالے سے حکمت عملی کے نزدیک پہنچ گئی ہے۔افغانستان میں 16برسوں سے جاری جنگ اب امریکہ کیلئے طویل ترین تنازعہ کی شکل میں حلق میں اٹک گئی ہے ۔ افغانستان میں 8400امریکی اور تقریبا5000نیٹو فوجی موجود ہیں ، لیکن افغان طالبان کے خلاف مستحکم کامیابی حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں ۔ یہ بات قابل غور بھی ہے کہ دو لاکھ سے زائد نیٹو افواج کی موجودگی اور800ارب ڈالرز خرچ کرنے کے باوجود جب افغانستان کو فتح نہیں کیا جاسکا تو یہ13400 غیر ملکی فوجی کس طرح کامیاب ہوسکتے ہیں ؟ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاک ، افغان اور بھارت پالیسی کا اعلان یکسر جانبدارنہ رہا ۔ نئی امریکی انتظامیہ کو مسلسل امریکی اور افغان سیکورٹی فورسز کی مسلسل شکست کے بعد سے امریکی عوام کی جانب سے بھی شدید دبائو کا سامنا ہے کہ جب اسامہ بن لادن امریکہ کو مل چکا ہے تو اب کیا جواز ہے کہ امریکی عوام کے ٹیکس کی رقم بے معنی جنگ پر خرچ کی جا رہی ہے ۔ امریکہ اس طویل ترین جنگ میں اب تک800ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے اور اس کے ہزاروں فوجی موت کے منہ میں جا چکے ہیں ۔ہزاروں جسمانی معذوری کا شکار ہوچکے ہیں اور لاکھوں امریکی ڈپریشن کا شکار ہیں ، ان ہی رجحانات کی وجہ سے افغانستان سے واپس آنے والے متعدد امریکی فوجی ذہنی دبائو کو برداشت نہیں کرسکے اور خودکشی پر مجبور ہوئے۔اب جبکہ16برس گزر جانے کے بعد امریکہ کوبھی اس بات کا یقین ہوچکا ہے کہ وہ افغانستان کی جنگ کو نہیں جیت سکتا اور امارات اسلامیہ کو شکست نہیں دے سکتا تو امریکا نے دوسرے آپشنز پر غور شروع کردیا ہے ، جس میں قوی تر امکان ہے کہ افغانستان سے اپنی فوج بلا کر پرائیوٹ فوج کرائے کے فوجی کو افغانستان میں بھیجے گا یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اس حوالے سے واضح بیان نہیں دیا۔ امریکا، افغانستان پر اپنا اثر رسوخ اور افغان عوام پر تسلط برقرار رکھنے کے لئے اپنی موجودگی کو یقینی بنانا چاہتا ہے ۔اس لئے امریکا اپنے وعدے سے انحراف کرتے ہوئے افغانستان کو افغان عوام سے کئے وعدے کے مطابق خالی کرنے کو تیار نہیں ہے۔امریکا 23ارب ڈالرز سالانہ اخراجات کی تجویز کے بعد اس شش وپنچ کا شکار ہے کہ مزید فوج بھیجی جائے یا کرائے کے فوجی بھیجے جائیں ۔امریکا کو اس وقت جہاںافغان سیکورٹی فورسز کی ناکامی کا صدمہ ہے تو دوسری جانب داعش کے مضبوط ہوتی جڑوں اور شام و عراق کے بعد داعش کا افغانستان کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کے یقینی خدشات نے بھی پریشان کیا ہوا ہے کہ افغان انتظامیہ میں اتنی اہلیت ہی نہیں ہے کہ وہ بیرونی امداد کے بغیر امارات اسلامیہ اور دولت اسلامیہ کو شکست دے سکیں ۔امریکی انتظامیہ پاکستان پر مختلف الزامات عائد کرکے مسلسل دبائو بڑھا کر ڈومور کا مطالبہ کررہی ہیں ، لیکن پاکستانی فوج کے سربراہ نے واضح پیغام دیا ہے کہ امریکا ، امداد کے بجائے پاکستانی قربانیوں کو تسلیم کرے۔ ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی موجودہ پالیسی نو ڈومورکی پالیسی کو برقرار رکھے گا اور افغان حکومت کے ساتھ ملکر چار ملکی رابطہ گروپ کو فعال کرے گا۔امریکا نے پہلے ہی فوجی امداد دینے کے حوالے سے پاکستان پر سخت شرائط کا اطلاق کیا ہوا ہے ۔ پاکستان کو امداد دینے سے قبل اس بات کویقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان ، امریکی ہدایات احکامات پر عمل درآمد کررہا ہے یا نہیں ۔ جبکہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے ساتھ ، امریکا جہاں اپنے سفارتی ، تجارتی تعلقات کو بہتر بنا رہا ہے وہاں بھارت کی خوشنودی کے لئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اپنا قابل ذکر کردار ادا کرنے کے بجائے آزادی پسند کشمیری تنظیموں اورحریت رہنمائوں کو بھارت کی خواہش پر عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں بھی شامل کررہا ہے ، جس پر پاکستانی وزرات خارجہ نے بھی ردعمل دیتے ہوئے امریکی اقدامات کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ امریکا افغانستان سے مکمل انخلا  کے حوالے سے کسی حتمی فیصلے پر جانے سے قبل اپنے 16برس کی کارکردگی کا جائزہ لے تو با آسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ امریکا اگلے 16برس بھی افغانستان میں دو لاکھ فوجیوں کے ساتھ بیٹھ جائے تب بھی افغانستان میں امن قائم نہیں رکھ سکتا ۔ افغانستان میں امن کا فارمولادیا جاچکا ہے کہ امریکہ ،افغانستان سے انخلا کرے اس کے بعد ہی کسی امن فارمولے پر بات کی جاسکتی ہے ۔ قطر میں سیاسی دفتر کا قیام بھی عالمی برادری اور خاص کر امریکا سے مذاکرات کیلئے قائم کیا گیا تھا، بعض رہنمائوں کی رہائی بھی ہوئی لیکن ان کی نقل و حرکت پر پابندی رکھی ہوئی ہے ، اسی طرح بلیک لسٹ اور سفری پابندی بھی عائد ہیں ،دوسری جانب افغان انتظامیہ کے عدم تعاون کی وجہ سے قطر کے سیاسی دفتر کا فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا ہے۔امارات اسلامیہ متعدد بار قطر دفتر کے حوالے سے اپنا موقف دے چکی ہے ۔ گزشتہ دنوں سعودی عرب کے افغانستان میں نامزد نائب سفیر کی جانب سے قطر کی جانب سے امارات اسلامیہ کو مالی امداد دینے کے بیان پر ردعمل بھی سامنے آیا تھا کہ افغانستان میں افغان طالبان کی حکومت کو سب سے پہلے سعودی عرب نے ہی تسلیم کیا تھا ۔ اب بھی سعودی عرب افغانستان میں قائم امن کے حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ امریکا ، افغانستان میں اپنی نئی پالیسی کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستانی عوام اور سیکورٹی اداروں کی قربانیوں کو نظر انداز نہ کرے ۔ پاکستان ، افغانستان میں جلد از جلد قیام امن کے لئے سنجیدہ ہے  کیونکہ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوگا ، پاکستان میں افغانستان کی سرزمین سے کی جانے والی دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بارڈر منجمنٹ کو یقینی بنانا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان پیدا شدہ غلط فہمیوں کے ازالے کیلئے مسلسل رابطہ ضروری ہے ۔ امریکا ، سی پیک ، ون روڈ ون بیلٹ منصوبوں کے ذریعے چین کو اقتصادی طور دنیا بھر میں حاوی ہوتے دیکھ رہا ہے ، لہذا افغانستان میں امن کے قیام سے امریکی مفادات پورے نہیں ہوسکتے ، جس کیلئے مسلسل افغانستان کو شورش زدہ رکھنا اہم ہے ۔ امریکا ، چین کی اقتصادی طاقت سے خوف زدہ ہے اس لئے ایک جانب بھارت کو استعمال کررہا ہے تو دوسری جانب افغانستان میں اپنی شکست کے باوجود مکمل انخلا کیلئے بھی ذہنی طور پر تیار نہیں ہے بلکہ کرائے کے فوجی بلیک واٹر کی شکل میں رکھنے کے ناکام منصوبوں پر بھی غور کررہا ہے ۔ لیکن اس کے مضمرات پر غور کرنے پر تیار نہیں کہ کرائے کے فوجیوں سے تشدد کو مزید بڑھاوا ملے گا ۔کابل حکومت امریکا کو بھی کرائے کے فوجی کا مشورہ دے رہے ہیں ، جس کا مقصد انھیں افغانستان میں امن سے کوئی سروکار نہیں بلکہ افغانستان میں امن کے نام پر اربوں ڈالرز ملنے والی امداد میں کرپشن و خرد برد سے ہے ۔امریکی ٹرمپ انتظامیہ کو نئی سہ ملکی پالیسی پر ماضی کے تجربات کو بھی مد نظر رکھنے چاہیں تھے اور خطے میں تبدیل ہوتی صورتحال میں امریکی عوام کے اربوں ڈالرز کو جنگ میں خرچ کرنے کے بجائے اپنی عوام کے فلاح و بہبود کیلئے خرچ کرنے پر زیادہ توجہ دے تو یہ امریکا کیلئے بہتر ہوگا اور جنوبی ایشیاء کے تمام ممالک کے حق میں بھی ہوگا ۔ جب تک جنگ رہے گی ، امن قائم نہیں ہوسکتا اور امریکا اگر اپنی مرضی کے مطابق جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے تو یہ بھی ممکن نہیں ہے ۔پاکستان ماضی کی خارجہ پالیسیوں کے مقابلے میں موجودہ حالات کے تحت پاکستان کے قومی مفاد کو ترجیح دے کیونکہ اسی میں پاکستان و افغانستان کی عوام کو فائدہ ہے ۔ خطے میں امن ہوگا توخطے کی عوام کو ثمرات ملیں گے۔

Read more

30 August 2017

یہ آسمان بھی رستہ ہے۔۔۔پروفیسر جمیل چوہدری

جب حضرت انسان کو اپنے مالک حقیقی کی عطا کردہ غیر معمولی صلاحیتوں کا مکمل ادارک حاصل ہو جاتا ہے ۔ تو پھر یہ بسیط کائنات اس کے لیے ایک جولا نگاہ بن جاتی ہے ۔ وہ اپنے خدا کی آرزوں کا حقیقی ترجمان بن کر ستاروں سے آگے آباد دنیائوں کو سر کرنے کا عزم بالجزم کر لیتا ہے ۔ اس وقت یہ آسمان بھی اس کے لیے ایک رستہ بن جاتا ہے۔میں نے کالم کا عنوان ایک صوفی دانشور کی کتاب سے لیا ہے ۔ مسلم قوم تو نہیں البتہ کرہ ارض پر موجود کئی دوسری اقوا م نے آسمان کو رستہ بنایا ہوا ہے ۔ کچھ عرصہ پیشتر ہمارے شاعر نے کہا تھا
عروج آدم خاکی کے منتظر ہیں تمام
یہ کہکشاں ، یہ ستارے، یہ نیلگوں افلاک
انسان نے خلا اور اس سے بھی اوپر کی کائنات کی طرف سفر کئی دہائیوں سے شروع کیا ہوا ہے۔ جب صلاحیتوں کا ادراک ہو گیا تو اوپر کی طرف جانے کے لیے ساز و سامان کی تیاری شروع ہوئی ۔ چاند کی بات تو اب قدیم قصہ لگتی ہے ۔ Space Station بھی بہت سال پہلے قائم ہو گیا ۔ اب انسان کی اگلی منزل مریخ ہے ۔زمین کے سیاسی ، معاشرتی اور معاشی مسائل کو چھوڑ کرآج ہم آسمان بالا کی ہی باتیں کریں گے ۔ ویسے زمین پر انسان نے اپنی تعداد اتنی بڑھا لی ہے کہ اس چھوٹے سے کرہ ارض کے لیے 7 ارب سے زیادہ انسانوں کے بے پناہ مسائل کو حل کرنا نا ممکن سا ہو چکا ہے۔ دوافراد سے سات ارب افراد کو ئی تو حد ہونی چاہئے تھی ۔سٹیفن ہاکنگ جیسے بڑے سائنس دان بھی انسان کوکسی نئے مستقر کی تلاش کا مشورہ دے رہے ہیں۔ غلطی کی سزا اب انسان بھگت رہا ہے ۔ دوسرے سیاروں کی طرف توجہ لگائے ہوئے ہے کہ شاید کہیں انسان کی رہائش کے لیے مناسب ماحول میسر ہو ۔ کہیں زندگی کے آثار مل جائیں اور بندہ خاکی بھی اسی طرف اڑان بھرنا شروع کر دے۔NASA والوں نے تاریخ میں ان منٹ نقوش چھوڑے ہیں اور مزید کے لیے بات آگے سے آگے بڑھ رہی ہے ۔سب سے پہلے امریکی پاتھ فائنڈر1997 میں مریخ پر اترا۔اور ایک گاڑی مریخ پر تجربات کے لئے استعمال کی گئی۔ مریخ کے لیے آخری پروگرام نومبر 2011 میں Cape Caneveral سے لانچ کیا گیا تھا ۔ یہ شٹل فراٹے بھرتی ہوئی 8 ماہ اور پندرہ دن بعد 6 اگست 2012  کو مریخ کے قریب پہنچی ۔ وہاں اس نے Rover Cuorisity کو انتہائی کامیابی سے پہلے سے طے شدہ مریخ کے علاقے پر اتار دیا ۔ بڑے سائز کی گاڑی کے برابر یہ Rover انتہائی جدید آلات سے لیس تھا۔ اس لیبارٹری میں 10 انتہائی حساس سائنسی آلات اور 17 کیمرے نصب تھے ۔ مریخ پریہ چلتی پھرتی لیبارٹری بہت ہی خوبصورت دکھائی دیتی تھی۔ یہ اپنے آلات سے کبھی کبھی چٹانوں کو توڑتی ہوئی بھی نظر آتی تھی اور ہماری زمین سے مریخ کا فاصلہ ناقابل یقین 5 کروڑ 46لاکھ کلو میٹر اور وہاں بندہ خاکی کے بنائے ہوئے آلات و کیمرے 100 فیصد درست کام کر تے رہے ۔ زمین پر ریکارڈ کی ہوئی ایک آوا ز مریخ پر گئی اور وہاں سے واپس NASA کے دفتر میں سن بھی لی گئی اور جہاں تک سگنلز کا تعلق ہے ۔ یہ تو ہر وقت ہی وصول ہو رہے تھے۔ Images آ رہے تھے اور NASAوالے انہیں فوٹو اور ویڈیو کی شکل میں شائع بھی کرتے رہے۔ انسانی عقل نے حد کر دی ہے ۔ انسان خدائی حدود کی طرف بڑھتا نظر آ تا ہے ۔حضرات 5 کروڑ 46لاکھ کلو میٹر کی بلندی ۔ ایسی سائنسی باتوں سے دلچسپی نہ رکھنے والوں کو یقین ہی نہ آئے گااور ہم مسلمان تو ایسی باتوں کو واقعی بہت کم جانتے ہیں ۔ مریخ تو ہے ہی اپنے Solar System کا سیارہ ۔ امریکہ کا چھوڑا ہوا ایک ایسا بھی سیارہ ہے ۔ جو ہمارے سولر سسٹم کا تمام فاصلہ طے کرنے کے بعد اس سے بھی آگے کی کائنات میں پہنچ چکا ہے اور وہاں سے سگنلززمین پر وصول ہو رہے ہیں۔6 اگست 2012 کو مریخ کی سطح پر اتارا جانے والا Rover Curiosity امریکہ کا چوتھا پرگرام تھا ۔ اس سے پہلے Oppurtunity ،Sojaurner اور Spirit نام کے Rover مریخ کی سطح پر اتارے جا چکے تھے ۔ یہ لیبارٹریز کم سہولیات والی اور کم وزن والی تھیں ۔ Opportunity جو 2004 میں مریخ پر اتاری گئی تھی ۔ وہ 9 سال تک کام کرتی رہی اور 9 سال کے بعد ریٹائر ہو گئی ۔ آخری لیبارٹری Curiosity کی مدت صرف 2 سال تھی اور اگست 2014 میں یہاں سے بھی سگنلز آنا بند ہو گئے ۔ پوری سپیس ایجنسی نے روس سے مل کر اس شعبہ میں کام کیا اور ان کی طرف سے ارسال کردہ لیبارٹری مریخ کے 500 دن کام کرتی رہی۔ جب امریکی لیبارٹری Curiosity مریخ کی سطح پر اتاری گئی تو اس کے 4 مقاصد بتائے گئے تھے اور ان چار مقاصد کو سامنے رکھ کر لیبارٹری میں حساس آلات اور کیمرے نصب کئے گئے تھے۔پہلا مقصد مریخ پر زندگی کے امکان کے بارے میں تحقیق کرنا اگر زندگی کی کوئی بھی صورت پہلے مریخ پر موجود ہو گی تو انسان کا وہاں جانا اور ٹھہرنا ممکن ہو سکے گا ۔ دوسرا مقصد یہ تھا کہ مریخ کی آب و ہوا کے بارے معلومات اکٹھی کی جا سکیں ۔ موسم کیسے ہیں ۔ درجہ حرارت مریخ کے دن اور رات میں کتنا رہتا ہے۔ کیا انسان کے لیے اس درجہ حرارت میں ٹھہرنے کا امکان ہے ۔ یہ اطلاعات ابھی تک موصول ہوئی ہیں کہ مریخ پر دن کے وقت مراد مریخ کا دن 14سینٹی گریڈ درجہ حرارت رہتا ہے ۔ رات کو یہ زیرو سے بہت نیچے منفی تک چلا جاتا ہے ۔ یہ بھی مقصد تھا کہ ارضیات مریخ کا مطالعہ کیا جائے ۔ اس کے بارے اب تک تحقیقی لیبارٹری بہت سی معلومات زمین پر ارسال کر چکی ہے۔ مریخ پر ڈرلنگ بھی کی گئی ہے جو صرف 2.5 انچ گہرائی تک ہو سکی ۔ یہ کام زمین سے علاوہ کسی دوسرے سیارے پر پہلی دفعہ ہوا اور مریخ کی ارضیات کی کافی تفصیل معلوم ہو چکی ہے ۔چوتھا مقصد یہ تھا کہ کیا انسان مریخ پر آئندہ بھیجا جا سکتا ہے یا نہیں ۔ اسے کیا مسائل در پیش آ سکتے ہیں۔ اب تک حاصل کردہ معلومات کے مطابق نتائج حوصلہ افزا ہیں ۔ برف کی موجودگی کے معنی پانی کی موجودگی ہے ۔ اسے توڑ کر ہائیڈروجن اور آکسیجن حاصل کی جا سکتی ہے ۔Explore Mars Incorporated ادارے نے لیبارٹری کے اترنے کے ایک سال بعد امریکہ میں سروے کرایا۔جس کے مطابق 71 فیصد امریکی چاہتے ہیں کہ انسان کو مریخ پر بھیجا جائے ۔ 2033  وہ سال ہے کہ امریکی انسان کو مریخ پر اتارنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ مریخ سے آنے والے آخری Images ، 2 اپریل اور 8 اپریل 2014 کے ہیں۔ یہ چٹانوں کے Images ہیں ۔ جو چمکتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ پھول جیسی کسی شے کے Images بھی زمین پر وصول ہو چکے ہیں۔ Curiosity مریخ کی سطح پر ویسے ہی دوڑ تی رہی جیسے زمین پر ہماری گاڑیاں دوڑتی ہیں۔ کچھ عرصہ پیشتر اس طرح کی باتیں سائنس فکشن کے طور پر پڑھی جاتی تھیں ۔ لیکن انسانی عقل نے اب 5 کروڑ 46لاکھ کلومیٹر بلندی پر پہنچنے کے بہت سے انتظامات کر لئے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ کرہ ارض اور مریخ کے درمیان فاصلہ تبدیل ہوتارہتا ہے۔ انسان نے وہاں اپنے قدم رکھنے ہی رکھنے ہیں ۔ کبھی بلندیوں پر پہنچنے کی باتیں " اقبال " جیسے شاعر کیا کرتے تھے ۔ وہ دل سے نکلی ہوئی بات کا اثر بتایا کرتے تھے۔
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں ، طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
قدسی الا صل ہے ، رفعت پہ نظر رکھتی ہے
خاک سے اٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہے
آج دنیا کی طاقتور قومیں اپنی بھاری بھر کم اور حساس آلات پر مشتمل لیبارٹریوں کو کروڑوں میل کی بلندیوں پر پہنچا رہی ہیں۔ کل کلاں انسان نے بھی مریخ اور دوسرے سیاروں پر جانا ہے اور انسان کے لیے پوری کائنات انتظار میں ہے ۔ مسلمانوں کو بھی جاگنا چاہئے۔ اور تسخیر کائنات کے کاموں میں حصہ لینا چاہئے۔ آسمان کا رستہ تمام قوموں کے لیے ہے ۔اگرناسا کوامریکی حکومت ضروری مالیات فراہم کرتی رہی تو ایک دن زمین والے دیکھیں گے کہ انسان مریخ پر کھڑا چاروں طرف موجود کائنات کو حیرانی سے دیکھ رہا ہوگا۔


Read more

30 August 2017

ٹرمپ کا پاکستان کے خلاف اعلان جنگ۔۔۔غلام عباس صدیقی

امریکہ نے جنوبی ایشیاء کے حوالے سے نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے جس میں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کی خدمات کو ایک بار پھر مشکوک قرار دیا گیا ہے امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے پالیسی خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان پر اربوں ڈالرلگائے ہیں مگر پاکستان آج بھی ہمارے دشمنوں کو تحفظ فراہم کئے ہوئے ہے ،اب مزید برداشت نہیں ہوگا امداد لینی ہے تو ہماری توقعات پر پورا اترنا ہوگا ،ورنہ حقہ پانی بند کردیا جائے گا  قوم کو ایک بار پھر امریکہ نے تشویش میں مبتلاکردیا ہے ،امریکی نئی پالیسی سے صاف نظر آرہا ہے کہ امریکہ پاکستان کو عملی طور پر اپنی کالونی بنانا چاہتا ہے ،بلکہ اگر یہ کہہ دیا جائے کہ وہ پاکستان کو اپنی کالونی سمجھ کر آڈر کر رہا ہے تو بے جا نہ ہوگاایسا ہو کیوں نہ، جب ہمارے ارباب اقتدار چند ڈالروں کے عوض امریکی مقاصد کیلئے کام کریں گے تو یہی ہوگا ،ہمارے حکمران لگتا ہے دولت اکٹھی کرنے میں اس قدر مست ہو گئے ہیں کہ انہیں اسلامی،اخلاقی،معاشرتی،انسانی اقدار کا ذرا بھی خیال نہیں رہا ۔ہمارا ماضی اس حوالے سے کس قدر شرمناک ہے کہ امریکیوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی ڈالرز کے عوض اپنی ماں بیچ دیتے ہیں یہ کہاوت امریکیوں نے کیوں بنائی ،اس میں اصلیت ہے یا نہیں ؟ جواب ہاں میں آئے گا کیونکہ پاکستانی حکمرانوں نے کبھی افغان طالبان پر جابرانہ وارمسلط کروانے کرنے کیلئے اڈے دئیے تو کبھی چند ڈالرز کے عوض قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو فروخت کردیا گیاجب ہمارے حکمران دولت کی ہوس میں اس قدر اندھے ہو جائیں گے تو پھر اسی طرح ڈو مور کے مطالبے ہوتے رہیں گے ۔امریکہ کے حاکمانہ انداز سے ظاہر ہوتا ہے وہ پاکستان کے خلاف کوئی منظم پلان کا آغاز کرنا چاہتا ہے محب وطن ،بااثر پاکستانیوں کو محتاط ہو نا ہوگا اور دفاع وطن کیلئے منظم پلان مرتب کرنا ہوگا ۔اس اعلان کے بعد قومی قائدین کی طرف سے مختلف انداز میں بیانات بھی جاری ہوئے جو روایتی انداز کی عکاسی ہی کرتے دکھائی دیتے ہیں ،جیسا کہ امریکہ پاکستان کو افغانستان نہ سمجھے یہ پاکستان ہے اور امریکہ یاد رکھے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے،ہم امریکہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے وغیرہ وغیرہ۔ مذہبی قائدین کی طرف سے کچھ اس طرح کے بیانات جاری ہوئے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا پاکستان کے متعلق بیان قابل مذمت ہے بیان سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا کہ یہودونصاری اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں ،قرآن کی روشنی میں جب تک مسلمان دین اسلام کو ترک کرکے ان کے جھوٹے ،خودساختہ دین کو اختیار نہیں کریں گے یہ خو ش نہیں ہوں گے،مسلمان دنیائے کفر سے امیدیں وابستہ کرنے کی بجائے عالم اسلام سے تعلقات مضبوط کریں ،امریکی منافقانہ پالیسیوں کے باعث دنیا آگ وخون کی زد میں ہے ،امریکہ کی نظر میں ہر مسلمان دہشت گرد ہے ، امریکہ دہشت گردی کے نام پر صلیبی جنگ لڑ رہا ہے ،امریکہ کے نزدیک سب مسلمان دہشت گرد ہیں ۔امریکہ تقسیم کرو اور مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کو قتل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے ،مسلمان حکمرانوں کو غیرت ،ہوش کے ناخن لیتے ہوئے امریکی منافقانہ پا لیسی کو ترک کرنا ہوگا ۔ قرآن مجید کی روشنی میں امریکہ ،اسرائیل اور اس کے حواری مسلمانوں کو کافر بنانے تک ان سے خوش نہیں ہو ں گے ،صلیبی جنگ سے لا تعلقی اختیارکرنا ہوگی ،مسلمان امریکہ کی ظالمانہ پالیسیوں کو ناکام بنانے کیلئے کوشش کریںتاکہ امت کی قوت یکجا ہو کر کفر کی یلغار کا مقابلہ کیا جا سکے، امریکی ظالمانہ پالیسیوں کے باعث دنیا آگ وخون کی زد میں ہے اس سے نجات امت مسلمہ کی وحدت میں ہے ،پاکستان نے عالمی برادری کے ساتھ مل کر انسانیت کے قتل ،دہشت گردی کو روکنے کیلئے تاریخ ساز قربانیاں دیں مگر امریکہ پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرنے سے ہر دور میں عاری رہا ،پاکستان کو چاہیے کہ وہ امریکہ کو سخت پیغام دے کہ پاکستانی ایک غیرت مند قوم ہے اسے امریکہ کے ڈالروں کی نہیں بلکہ مسلمانوں کی عزت وناموس کے تحفظ کی ضرورت ہے ٹرمپ کا حالیہ بیان پاکستان کے خلاف اعلان جنگ سمجھا جائے اور امریکہ سے ہر قسم کے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کرے ۔مذہبی قائدین کے بیانات بصیرت افروز ، قابل عمل،پاکستان اور امت کے تحفظ کے ضامن ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ان آرا کو عملی جامہ پہنائے گاکون ؟پاکستان کے مذہبی قائدین اتنے با اثر ہی نہیں ہیں ،انہیں تو حکومت والے سمجھتے ہی کچھ نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ جس دن پاکستان میں اسلام پسند کوئی قیادت برسراقتدار آگئی تو یقینا یہ ساری آرا کو عملی جامہ پہنا دیا جائے گا۔صورت حال سے باخبر حلقے ہی نہیں ہر عام وخاص جانتاہے کہ امریکہ پاکستان کا کبھی بھی دوست نہیں رہا بلکہ دوستی کے نام پر امریکہ نے ہمیشہ غداری کا ارتکاب کیا ،ہمیں بحیثیت قوم ایک فیصلہ کرنا چاہیے کہ ہم امریکہ سے کس قسم کے تعلق قائم کرکے اپنا وقار بحال کر سکتے ہیں ،موجودہ تعلقات بالکل غلامی در غلامی کے عکاس ہیں ،ڈومور کا مطالبہ بڑھتا ہی جا رہا ہے ،جبکہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان نے اس قدر قربانیاں کہ پاکستان کا کوئی شہر ایسا نہیں بچا جہاں خود کش حملہ یا دھماکا نہ ہوا ہو ۔لاکھوں پاکستانی اس جنگ میں جاں بحق ہوئے اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ۔پھر بھی امریکہ ہم کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے جس کہ وجہ صرف ایک ہے وہ یہ کہ ہم مسلمان ہیں ۔جبکہ دوسری طرف امریکہ بھارت کو بجا سپورٹ کرکے خطے کے توازن کو خراب کرنے میں ہمہ وقت مصروف رہتا ہے ۔ ٹرمپ کے بیان پر غور کیا جائے تو ہمیں افغان طالبان سے بھی جنگ کرنے کا حکم دے رہے ہیں ،جب اس جنگ کا آغاز ہوا تھا تو تب طالبان کا ہدف امریکہ تھا نہ کہ پاکستان۔لیکن امریکہ نے ایسے حالات وواقعات پیدا کر دئیے کہ یہ جنگ ہماری بن کر رہ گئی ۔انہی طالبان سے ٹرمپ نے سیاسی سطح پر مذاکرات کا عندیہ بھی دیا ہے جو کہ کھلی منافقت ہے ۔امریکہ ایک طرف ہمیں افغان طالبان سے الجھا دینا چاہتا ہے جبکہ دوسری طرف ان سے دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا ہے ۔ہم سمجھتے ہیں پاکستان کو افغان پالیسی ازسرنو مرتب کرکے اعلان کرنا چاہیے ۔یہ تو افغان طالبان کا پاکستان پر احسان ہے وہ امریکہ کو لفٹ نہیں کرواتے اگر ایسا ہو جائے تو پاکستان کیلئے مسائل بڑھ جائیں ۔ہماری ذاتی رائے یہی ہے کہ امریکہ کی منافقانہ پالیسیوں کو ناکام بنانے کیلئے امت مسلمہ کی وحدت لازم وملزوم ہے وہ وحدت قرآن کی بنیاد پر ہوامت مسلمہ کو یہ کام ہنگامی بنیاد پر کرنا ہوگا ورنہ زبانی جمع خرچ سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔


Read more

گزشتہ شمارے

<< < August 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
    1 2 3 4 5
6 7 8 9 10 11 12
13 14 15 16 17 18 19
20 21 22 24 25 26
27 28 29 30 31