Get Adobe Flash player

August 2017

30 August 2017

قربانی کی کھالیں ۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 پاکستان میں ہر سال عید الضحیٰ کے موقع پر اربوں روپے مالیت کے جانور قربان کیے جاتے ہیں۔امسال بھی پاکستان میں 1 کروڑ 5 لاکھ جانور قربان کئے جانے کی توقع ہے۔ ان جانوروں کی کھالیں بھی ثواب کی نیت سے لوگ مختلف امدادی تنظیموں، دینی مدارس اور یتیم خانوں کو دیتے ہیں۔ تاہم گزشتہ چند سالوں میں مختلف جہادی اور شدت پسند تنظیموں بھی کھالیں اکٹھی کرنے کے کام میں پیش پیش ہیں۔ذوالحج کی آمد کے ساتھ ہی فلاحی تنظیموں اور دینی مدارس نے چرم قربانی اکٹھے کرنے کیلئے بینر، پوسٹر اور تنظیمی پتے اور فون نمبرز والے شاپنگ بیگز تقسیم کرنا شروع کر دیئے۔ حکومتی ہدایت کی روشنی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم تنظیموں کی ایسی سرگرمیوں کی نگرانی کا بھی پلان تیار کر لیا ہے تاکہ چرم ہائے قربانی کسی دہشت گردی کے مقصد کے لئے استعمال نہ کئے جاسکیں۔عید کے موقع پر بکرے یا دنبے وغیرہ کی ایک کھال پندرہ سو سے تین ہزار روپے جبکہ گائے یا بیل وغیر کی فی کھال پانچ سے لے کر دس ہزار روپے تک فروخت کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق قربانی کی کھالوں سے حاصل ہونے والی رقم  شدت پسند تنظیموں کے لئے آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ اسی لیے پنجاب حکومت نے عید الاضحی کے موقع پر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کالعدم اور نام بدل کر کھالیں جمع کرنے والی جماعتوں پر نظر رکھیں اور انہیں ہرگز کھالیں نہ دیں۔ شہری ملک دوست تنظیموں اور جماعتوں کو کھالیں دیں اور انتہا پسند ، کالعدم اور فرقہ پرست جماعتوں کو کھالیں دینے سے گریز کیا جائے۔ کھالیں جمع کرنے کی شکایات پر کالعدم جماعتوں کے خلاف رینجرز کارروائی کریگی۔عیدالضحیٰ کے موقع پر پاکستانی طالبان سمیت دوسری دہشت گرد تنظیمیں قربانی کی کھالوں کو اکٹھا کر کے، ان سے حاصل کردہ رقم کو ،اپنی جہادی سرگرمیوں میں استعمال کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ قربانی کی یہ کھالیں کالعدم دہشتگرد تنظیموں کیلئے فنڈز کی فراہمی و دستیابی کا بہت بڑا ذریعہ ہونگی۔ یہ تنظیمیں قانونی کارروائی سے بچنے کیلئے اپنے الحاقی یا ذیلی گروہوں کے ذریعے یہ عمل سرانجام دیتی ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں کے ارکان مختلف علاقوں میں گھوم پھر کر اپنے ہم خیال لوگوں کو اس بات پر تیار کرتے ہیں کہ وہ جہاد کے فلسفے کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کی کھالیں انہیں عطیہ کریں۔ یہ تنظیمیں پمفلٹ اور بینرز کے ساتھ ساتھ جمعہ کے اجتماعات میں بھی اپنی مہم چلاتی ہیںاور اکٹھا ہونے والا روپیہ پیسہ اپنی دہشتگردانہ سرگرمیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے اور اپنی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اس پیسے کے بل بوتے پر دہشتگرد اسلحہ خریدتے ہیں اور پھر خودکش حملوں اور بم دھماکے کرتے ہوئے پاکستان کے معصوم و بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ اور دیگر قانون نافذ کر نے والے اداروں نے قربانی کے جانوروں کی کھالیں اکٹھی کرنے والی تنظیموں کے کوائف کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔کسی بھی کالعدم تنظیم کو چرمہائے قربانی اکٹھی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ چرمہائے قربانی اور دیگر عطیات اور صدقات اکٹھے کرنے والی تنظیمواں نے جا بجا بینرز اور پوسٹرز چسپاں کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ شہر میں اس ضمن میں کام کرنے والی تنظیموں کے کوائف اور ان کے مقاصد کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے تاکہ یہ عطیات دہشت گردی یا انتہا پسندی کے مقاصد کے لئے استعمال نہ ہوسکیں۔وزارتِ داخلہ نے پاکستان بھر میں قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر پابندی عائد کر دی اور اس سلسلے میں 65 کالعدم تنظیموں کی فہرست بھی جاری کر دی گئی ہے۔صرف وہ تنظیمیں کھالیں جمع کر سکیں گی جنہیں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے این او سی جاری ہوگا۔ عید الضحیٰ  کے تینوں ایام میں اجازت نامہ حاصل کرنے والی تنظیموں پر یہ لازم ہوگا کہ ان کے رضا کار کھالیں جمع کرنے کے موقع پر اپنا اصل قومی شناختی کارڈ متعلقہ ادارے یا تنظیم کا کارڈ اور محکمہ داخلہ یا ڈپٹی کمشنر کاجاری کردہ اجازت نامہ اپنے ہمراہ رکھیں۔وفاقی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ عید الضحیٰ کے موقع پر کھالیں جمع کرنے والوں کی مکمل مانیٹرنگ ہوگی اور زبردستی کھالیں جمع کرنے والوں کے خلاف 'دہشت گردی ایکٹ' کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔ہمیں یہ سوچنا چاہئیے کہ کیا ہم دہشتگردوں کے ہاتھوں اپنے ملک کومکمل تباہ وبرباد ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں یا پھر اس کوبچانا چاہتے ہیں؟ یقیناً تمام پاکستانی، اپنے وطن پاکستان سے محبت رکھتے ہیں۔ لہذا ہم سب کو چاہئیے کہ وہ اپنے قربانی کے جانوروں کی کھالیں دہشتگرد تنظیموں کو ہر گز ہر گز نہ دیں بلکہ یتیم خانوں اور دوسرے مستحق اداروں اور خیراتی اداروں کو دیں اور وطن پاکستان کو دہشتگردوں سے بچانے کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔

Read more

30 August 2017

ٹرمپ دھمکیوں کے جواب میں موثر پالیسی کی ضرورت۔۔۔رانا اعجاز حسین

 نائن الیون کے بعد فوجی آمر پرویز مشرف کو اپنے اقتدار کے تحفظ، اور امریکی دھمکیوں کے باعث دہشت گردی کے خلاف پرائی جنگ میں شامل ہونا پڑا مگر شمولیت کے بعد پاکستان نے امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی کے طور پر امن و امان کے قیام اور خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جنگ اس قدر جانفشانی سے لڑی کہ پاکستان کے تقریبا 73ہزار شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو جان قربانی دینا پڑی، اس کے علاوہ پاکستان کو تقریبا 150 ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ دیکھا جائے تو کسی بھی جنگ میں اس سے بڑی قیمت ، اور اس سے بھاری نقصان اور کیا ہوسکتا ہے۔ مگر امریکہ جسے اپنی ناقص حکمت عملی اور جابرانہ سوچ کی بدولت افغان سرزمین پر شکست فاش کا سامنا ہے ، دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کی مثالی خدمات کے اعتراف کی بجائے کھلی دھمکیاں دیتے ہوئے اور دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنی شکست کا نزلہ پاکستان پر ڈال رہا ہے ۔ گزشتہ دنوں افغانستان، پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی کا اعلان اور ڈومور کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ پاکستانی عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر پاکستان کی قدر کرتے ہیں مگر ہم پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔ امداد میں کمی کی دھمکی دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر ادا کرتے ہیں پاکستان کو اپنی کمٹمنٹ دکھانا ہوگی۔ پاکستان سے نمٹنے کے لئے اپنی سوچ تبدیل کر رہے ہیں جس کے لئے پاکستان کو پہلے اپنی صورتحال تبدیل کرنا ہوگی اور پاکستان کو قیام امن کے لئے دلچسپی لینا ہوگی، اگر پاکستان نے دہشت گردوں کی حمایت نہ چھوڑی تو اس کیلئے اسے بہت کچھ کھونا پڑے گا۔ دوسری جانب بھارت سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ نے تعریفوں کے پل باندھ دیئے، ان کا کہنا تھا امریکہ افغانستان میں استحکام کے لئے بھارتی کردار کو سراہتا ہے، بھارت امریکہ کے ساتھ تجارت سے اربوں ڈالر حاصل کرتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ بھارت افغانستان کی اقتصادی معاونت اور ترقی کے لئے مزید کام کرے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے مزید 3900 فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان بھی کیا،اطلاعات کے مطابق افغانستان میں8400 امریکی فوجی پہلے ہی تعینات ہیں۔ بھارت کی تعریف کے پل باندھتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کی یہ بات بڑی دلچسپ کی ہے کہ بھارت امریکہ کے ساتھ تجارت میں بہت پیسے کماتا ہے اس لئے اب بھارت افغانستان میں سرمایہ کاری کرے اوراس جنگ شکستہ میں امریکہ کا ہاتھ بٹائے لیکن بھارتی سول اور فوجی قیادت کا ردعمل صاف جواب میں ہوگا کیونکہ بھارتی فوج پہلے ہی کشمیر میں ذلیل ہو رہی ہے اس لئے افغانستان میں نیا محاذ کھول کر آفتوں اور مصیبتوں کو اپنے گھر کی راہ نہیں دکھائے گی۔ جبکہ جوش و جذبات میں امریکی صدر ٹرمپ زمینی حقائق کو بھی بھلا رہے ہیں، انہیں یاد ہونا چاہیے کہ امریکی افواج کو سامان رسد کے سارے راستے پاکستان سے ہوکر گزرتے ہیں، جب پاکستان نے نیٹو افواج کو پاکستان کے راستے ہرقسم کی سپلائی منقطع کی تھی تو امریکیوں نے روس کے ذریعے سپلائی بحال کر نے کوشش کی تھی جس کے نتیجے میں سامان ایک مہینہ کی تاخیر سے پہنچتا تھا اور اخراجات بھی بہت زیادہ تھے، جس پر نہ چاہتے ہوئے بھی امریکیوں کو پاکستان سے معافی تلافی کرنا پڑی تھی۔ جبکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے افغان جنگ میں شریک ہونے، اور نیٹو افواج کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے اور امریکہ کو پاکستان کے اندر ڈرون حملوں کی اجازت دینے سے ہی پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا، جس کے باعث بے گناہ شہری امریکی ڈرون حملوں کی زد میں آکر مارے گئے اور اس کے ردعمل میں ہونیوالی دہشت گردی کی وارداتوں اور خودکش حملوں کے باعث بھی شہریوں کا خون ناحق بہنے لگا۔ اور اس طرح یہ امریکی فرنٹ لائن اتحادی اس پرائی آگ میں کود کر دہشت گردوں اور انتہا پسند تنظیموں کے مین نشانے پر آگیا۔ اس جنگ میں خود امریکہ جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہونے کے باوجود خطے میں دہشت گردی پر قابو پانے میں بری طرح ناکام رہا ۔ درحقیقت امریکہ اس خطہ کو دہشت گردی سے مکمل طور پر نجات دلانے میں مخلص ہی نہیں، بلکہ اپنے مفادات کے تحت دہشت گردوں کے مختلف گروپوں کی سرپرستی کررہا ہے اور انکی دہشت گردی کی کارروائیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر اور پاکستان کو ہراساں کرکے چین اور سی پیک منصوبے سے دور کرنا چاہتاہے اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کی دیرینہ خواہش بھی رکھتا ہے۔آج ہمیں قومی یکجہتی کو فروغ دے کر امریکہ کے اس دہرے کردار کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں سب سے مناسب یہی ہے کہ امریکہ کی افغانستان ، پاکستان اور جنوبی ایشیاء کی پالیسیوں میں تبدیلی کے بعد پاکستان بھی اپنی پالیسی میں تبدیلی لائے،اور خود کو اس پرائی جنگ سے علیحدہ کرتے ہوئے امریکہ کو افغانستان میں اپنی جنگ خود لڑنے دے۔، جہاں طالبان آج بھی اسکی مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کو باور کروارہے ہیں کہ اگر اس نے افغانستان سے اپنی فوجیں نہ نکالیں تو افغانستان کو امریکی فوج کا قبرستان بنا دیا جائیگا۔جب امریکہ کو ہماری قربانیوں کا اعتراف ہی نہیں تو ہمیں اس پرائی آگ میں خود کو مزید جھلسانے کی کیا ضرورت ہے۔ جبکہ پاکستان کے لئے امریکی امداد میں کمی پہلے ہی آچکی ہے، حکومت کو بخوبی علم ہے کہ جون 2017 میں واشنگٹن نے حقانی گروہوں کے خلاف ناکافی کارروائی کی وجہ سے پاکستان کو دی جانے والی تین سو پچاس ملین ڈالر کی فوجی امداد روک دی تھی۔ ہمیں صرف اپنے وطن کے دفاع کے تقاضے نبھانے سے ہی سروکار ہونا چاہیے جو مثالی قومی اتحاد و یکجہتی کا متقاضی ہیں۔ وزیر خارجہ کو اپنا دورہ امریکہ منسوخ کردینا چاہئے، اورپاکستان کوٹرمپ کی گیدڑ بھبھکیوں کی ذرا بھی پروا نہیں کرنی چاہئے بلکہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے واضح بتا دینا چاہئے کہ پاکستان دیگر ملکوں کی طرح کمزور نہیں جوکہ با آسانی امریکی ترنوالہ بن جائے گا بلکہ پاکستان ایٹمی طاقت کا حامل ایک ایسا مضبوط ملک ہے جس کی حفاظت کیلئے جان پر کھیل جانے والی بہادر مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کی قربانی پیش کرکے ، اور اللہ تبارک و تعالی کی خصوصی نصرت و مدد سے پوری دنیا میں اپنی شجاعت و بہادری کی دھاک بٹھا چکی ہے۔دوسری جانب نیٹو فورسز دہشت گردی کیخلاف لڑی جانے والی جنگ میں دنیاکے جدید ترین جنگی سامان حرب و ضرب سے لیس ہونے کے باوجود افغان سرزمین کو دہشتگردوں سے پاک تو درکنار انہیں اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں سکی اور دندناتے پھرتے دہشت گرد آج بھی افغانستان میں ان کا منہ چڑا رہے ہیں۔ پاکستان اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کررہاہے، گزشتہ دنوں آپریشن خیبر فور کے ذریعے بچے کھچے دہشت گردوں کا مکمل قلع قمع کر دیا گیا ہے اور انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب اس پاک سرزمین پر بسنے والے دہشت گردی کا نام و نشان تک بھول کر روشن مستقبل اور اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ہوں گے ۔


Read more

30 August 2017

امریکی اندیشوں کا دھواں اور ہماری مجرمانہ غفلت۔۔۔ضمیر نفیس

امریکہ کا یہ الزام نیا نہیں کہ پاکستان  بعض دہشت گردگروپوں کو تحفظ فراہم کر رہا ہے' یہ الزام مختلف اوقات میں مختلف انداز سے سامنے آیا ہے کبھی حقانی نیٹ ورک کا نام لیا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان اس نیٹ ورک کو تحفظ فراہم کر رہا ہے کبھی کہا گیا کہ طالبان شوریٰ کو تحفظ دیا جارہا ہے اور اس کے ارکان کوئٹہ میں محفوظ ہیں اب امریکی جنرل نکلسن نے کہا ہے کہ طالبان قیادت کوئٹہ اور پشاور میں موجود ہے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے صدر ٹرمپ کی گفتگو سے یہ نتیجہ بھی واضح ہو رہا تھا کہ اگر پاکستان نے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو ہمیں یہ کارروائی کرنی پڑے گی۔مذکورہ الزامات کے جواب میں ہمارا سرکاری موقف یہ ہے کہ ہماری سرزمین پر کوئی دہشت گرد گروپ محفوظ نہیں ہے ہم نے آپریشن ضرب عضب کے دوران اور اس کے بعد بلاتمیز تمام دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ہے اور ان کے ٹھکانے ختم کئے ہیں اس حوالے سے ہم یہ استدلال بھی دیتے ہیں کہ دہشت گردوں کی غیر قانونی نقل و حمل روکنے کے لئے بارڈر مینجمنٹ کا نظام ضروری ہے جس طرح ہم نے  افغان سرحد کے ان علاقوں میں بارڈر مینجمنٹ کی ہے ہے جہاں   سے دہشت گرد پاکستان کے اندر داخل ہوتے۔ اسی طرح افغانستان کو بھی اس نظام کو لاگو کرنے کے سلسلے میں ہم سے تعاون کرنا چاہیے بارڈر مینجمنٹ موثر ہوگی ' بعض چیک پوسٹیں اور چوکیاں مزید تعمیر کی جائیں گی سرحد پر مانیٹرنگ سخت ہوگی تو کوئی دہشت گرد کسی ایک ملک سے دوسرے ملک داخل نہیں ہوسکے گا' اس کے ساتھ ہی ہم امریکہ  اور افغانستان کو یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ جس طرح ہم نے اپنے ہاں دہشت گردوں کا خاتمہ کیا ہے اور ان کا انفراسٹرکچر تباہ کیا ہے اسی طرح وہ بھی افغانستان کے اندر بھرپور آپریشن کریں امریکہ کے الزامات اور ہمارا موقف سب پر آشکار ہے لیکن کچھ وجوہات ایسی ہیں جو امریکیوں کے خدشات کا باعث ہیں اگر ہم ان خدشات کو دور کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو یہ صورتحال درپیش نہ ہوتی جو آج ہے مثلاً بہارہ کہو میں  سراج حقانی کا ایک قریبی رشتے دار جو بعض حلقوں کے نزدیک اس کا بھائی تھا نان  سے لے کر واپس گھر کی طرف جارہا تھا کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے اسے قتل کر دیا' وفاقی دارالحکومت کے اس علاقہ سے سراج حقانی کے اس قریبی رشتے دار کی ہلاکت اور موجودگی ایک بڑا سوالیہ نشان تھا مگر ہمارے پاس کوئی مضبوط استدلال نہ تھا کہ یہ نوجوان بہارہ کہو میں کیا کر رہا تھا یہی نہیں چند ہی ماہ پیشتر کوئٹہ میں افغان طالبان کا امیر ملا اختر منصور مارا گیا اسکے قبضے سے ایک دوسرے نام کا شناختی کارڈ برآمد ہوا معلوم ہوا کہ ملا اختر منصور پاکستان کے شناختی کارڈ پر ایک دوسرے نام سے نقل و حرکت کرتا تھا بعدازاں اس افسر کو بھی گرفتار کرلیاگیا جو اسے شناختی کارڈ فراہم کرنے میں ملوث تھا تیسرا واقعہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا ہے۔ پولیو کے خلاف مہم کی آڑ میں جس پاکستانی ڈاکٹر شکیل نے اسامہ بن لادن کی موجودگی کی دریافت کی اس کے ذریعے تمام معلومات امریکیوں تک پہنچیں چنانچہ اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی کے لئے امریکہ نے ایسے آپریشن کا فیصلہ کیا جسے وائٹ ہائوس میں بیٹھ کر صدر اوبامہ نے براہ راست دیکھا ہمیں اس آپریشن کی خبر اس کی تکمیل کے بعد ہوئی جب امریکی کمانڈوز اسامہ کو ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش لے کر پاکستان کی فضائی حدود سے نکل گئے تھے۔اندیشے یونہی جنم نہیں لیتے' دھو اں وہیں اٹھتا ہے جہاں آگ جلائی گئی ہو دیکھنے والوں کو دھواں دکھائی دے گیا مگر ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم  نے تو سرے سے آگ نہیں جلائی ہمیں کیا خبر کہ دھواں کہاں سے اٹھتا ہے ہم اندیشوں  کو صاف کرنے میں ناکام رہے ہیں چنانچہ دوسروں کے اندیشے آج ہمارے سامنے الزامات کی صورت کھڑے ہیں' ملا اختر منصور ہمارے علم میں تھا یا نہیں ہماری دھرتی پر مارا گیا' اسامہ بن لادن ہمارے علم میں تھا یا نہیں ہماری سرزمین پر مارا گیا حقانیوں کا نوجوان بھی وفاقی علاقہ میں مارا گیا' اگر یہ سب کچھ ہمارے علم میں نہیں تھا تو بھی یہ قومی جرم سے کم نہیں کہ یہ مجرمانہ غفلت ہے  اور اگر علم میں تھا تو اس پر کیا استدلال دیا جاسکتا ہے شاید کوئی استدلال کام نہیں آسکتا ابھی تک ہم نے ان تینوں واقعات کی اپنی سرزمین پر موجودگی کا جواز پیش نہیں کیا۔



Read more

30 August 2017

ایک طرف خواتین کے حقوق کا دعویٰ دوسری طرف مراکز بند کرنے کا فیصلہ

سپریم کورٹ مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے خیبرپختونخواہ حکومت کی پشاور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے پشاور سوات' ایبٹ آباد اور کوہاٹ میں واقع مصیبت زدہ خواتین کی امداد' بحالی اور تحفظ کے لئے قائم کئے گئے کرائسزسینٹر بحال کرنے کا حکم جاری کر دیا جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود پر مشتمل تین رکنی بنچ نے صوبائی حکومت کی دونوں اپیلیں خارج کر دیں اور چاروں کرائسز سنٹر بحال کر دئیے جسٹس دوست محمد خان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ خواتین کے کرائسز سنٹر کو بند کرنا خیبرپختونخواہ حکومت کی گورننس کی بدترین مثال ہے خواتین کو غلام بنانے کی بجائے انہیں بااختیار بنانا ہوگا۔ 50فیصد آبادی کے لئے قائم مراکز کو بند کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے خواتین کو ترقی دینے اور ان کی بہبود کے نام پر ان سے ووٹ لئے تھے کیا حکومت خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کرنا چاہتی ہے تحریک انصاف نے اپنے کارکنوں اور عوام کو باشعور بنانے کا وعدہ کیا تھا جسٹس دوست محمد خان نے مزید کہا کہ حکومت نے عالمی معاہدوں پر دستخط کئے ہوئے ہیں اور انہی معاہدوں کی بدولت سالانہ کروڑوں ڈالر وصول کئے جاتے ہیں اگر خواتین کو بااختیار نہیں بنانا تو پہلے ان معاہدوں سے باہر آئیں حکومت کو چاہیے کہ خواتین کو مزید بااختیار بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔ یہ امر ناقابل فہم ہے کہ تحریک انصاف جو اپنے روشن خیال ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور خواتین کے حقوق کی دعویدار ہے اپنے صوبے میں خواتین کو ان کے حقوق سے محروم کر رہی ہے سماعت کے دوران صوبائی حکومت کا موقف تھا کہ فنڈز کی کمی ہے اس لئے صوبائی حکومت کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ان مراکز کو چلا سکے عدالت نے قرار دیا کہ کے پی کے حکومت ایک طرف خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہے دوسری طرف انہیں اس سے محروم رکھا جارہا ہے عدالت نے صوبائی حکومت کی طرف سے فنڈز کی عدم دستیابی کے عذر کو تسلیم نہیں کیا۔ ہماری دانست میں مسئلہ فنڈز کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے اگر خیبرپختونخواہ حکومت کی ترجیحات میں یہ شامل ہوتا کہ مصیبت زدہ خواتین کی امداد کرنی ہے تو کسی نہ کسی مد میں سے وسائل نکالے جاسکتے تھے اس کے برعکس جس طرح اس نے چاروں مراکز بند کرنے کا فیصلہ کیا اس سے اس کی ترقی پسندی اور روشن خیالی بے نقاب ہوچکی ہے اس سے زیادہ مضحکہ خیز پہلو اور کیا ہوسکتا ہے کہ جلسوں پر آئے روز کروڑوں روپے خرچ کرنے والی پی ٹی آئی حکومت کے پاس خواتین کی بحالی کے چار مراکز کے لئے فنڈز نہیں ہیں؟


Read more

30 August 2017

جو کچھ بھی ہونا ہے افغانستان میں ہوگا

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے انٹرنیشنل نیوز ایجنسی بلوم برگ سے انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکی صدر کی افغانستان میں عسکری قوت میں اضافے کی پالیسی کو پہلے دن کی طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا ہم پہلے ان سے واضح الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ افغانستان میں امن و استحکام کے لئے  فوجی طاقت کے بجائے سیاسی حل کو ترجیح دی جائے انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو سپورٹ کرتی ہے پاکستان کی سرزمین پر کسی کو افغان جنگ لڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ افغانستان ہی میں ہونا چاہیے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہ نہیں ہے پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف کامیابی سے جنگ لڑ رہی ہیں جس کی بدولت پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ کیا جاچکا ہے اس جنگ میں 60ہزار سے زائد پاکستانی شہید ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کی معیشت کو ایک سو بیس ارب ڈالر کا نقصان بھی ہوا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان مہاجرین کو واپس ان کے وطن بھیجنا شروع کر دیا ہے سرحد پار سے جنگجوئوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لئے افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کا منصوبہ بنایا ہے جس پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغان حکومت کو ہماری مدد اور تعاون کی ضرورت ہے تو ہم اس کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہیں دہشت گردی کے حوالے سے ہمارا تعاون غیر مشروط ہے۔ وزیراعظم نے غیر مبہم انداز میں پاکستان کی افغان پالیسی اور دہشت گردی کے خلاف قوم کے عزائم بیان کر دئیے ہیں جہاں تک ٹرمپ کی دھمکیوں اور الزامات کا  معاملہ ہے قوم ان الزامات کو پہلے ہی مسترد کر چکی ہے جبکہ اس کی دھمکیاں پاکستان کے عوام کے لئے نئی نہیں اس کے ڈو مور کے مطالبے نئے نہیں ہیں امریکہ کی طرف سے امداد بند کرنے یا نان نیٹو اتحادی کا درجہ ختم کرنے کی باتیں پاکستان کے لئے کوئی معانی نہیں رکھتیں نان نیٹو اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان کو  کبھی بھی امریکہ سے دفاع و سلامتی کے شعبوں میں غیر معمولی امداد نہیں ملی۔ جہاں تک معاشی امداد کا معاملہ  ہے ایک دور میں بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے یہ امداد ملتی رہی ہے لیکن اب معاشی امداد' زراعت' توانائی' صحت اور تعلیم جیسے شعبوں تک محدود ہوگئی ہے سیکورٹی کے شعبہ میں امداد انسداد دہشت گردی ' انسداد منشیات' فوجی تربیت اور فارن ملٹری  پروگرام کے تحت اسلحہ و آلات کی خریداری کے لئے رقم کی فراہمی شامل ہے کولیشن سپورٹ فنڈ کا امداد سے کوئی تعلق نہیں پاک فوج دہشت گردی کے خلاف جو آپریشن کرتی ہے اس  پر اٹھنے والے اخراجات امریکہ کی طرف سے اس مد میں ادا کئے جاتے ہیں پاکستان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت کا معاملہ پہلے ہی بڑی حد تک بند ہوچکا ہے 2016ء میں کانگرس نے پاکستان کو ایف 16کی فراہمی روک دی تھی اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ حقانی نیٹ ورک کو تحفظ فراہم کر رہا ہے اس وقت پائپ لائن میں اے ایچ ون زیڈ وڑپر ہیلی کاپٹر ہیں جو دہشت گردی کے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں اس کے علاوہ ہتھیاروں کی فراہمی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اس لئے ہتھیاروں کی ترسیل یا امداد کی بندش کے امور پاکستان کے لئے کسی قسم کے دبائو کا باعث نہیں بن سکتے اس کے برعکس پاکستان کی طرف سے امریکہ کو رسد کی فراہمی کے لئے زمینی اور حقانی حدود کی مفت سہولت ختم کی جاسکتی ہے یقینا حالات اس سطح پر نہیں جائیں گے وہاں دونوں ممالک مختلف شعبوں میں عدم تعاون کی انتہائی سطح پر پہنچ جائیں  تاہم مسائل کو حقائق کی بنیاد پر ہی حل کیا جاسکتا ہے دھونس اور دھاندلی کی بنیاد پر نہیں افغانستان میں امن عمل کے  ذریعے قیام امن کی خواہش کے تناظر میں خطے کے اہم ممالک یک زبان ہیں جبکہ افغانستان میں طاقت کے استعمال سے مطلوبہ نتائج کی توقع عبث ہے اس کے باوجود اگر امریکہ ایک بار پھر شوق آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے لیکن یہ جنگ اب  ہر صورت افغانستان ہی میں لڑنی ہوگی کوئی دوسرا اس کے لئے افغانستان کی دلدل میں داخل نہیں ہوگا۔

Read more

30 August 2017

کراچی میں کل سے جمعہ تک طوفانی بارشوں کی پیش گوئی

خلیج بنگال سے آنے والے بارش کے نئے سسٹم کے تحت جہاں کراچی میں طوفانی بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے وہیں سندھ کے کچھ اضلاع میں اربن فلڈ کا خدشہ بھی سامنے آیا ہے۔کل سے اگلے 2 روز تک کراچی سمیت سندھ کے مختلف اضلاع کا رخ کرنے والا بارش کا سسٹم انتہائی طاقتور ہے جو اپنے ساتھ تندوتیز ہوائیں لارہا ہے جب کہ بدین اور ٹنڈوالہ یار سمیت سندھ کے کچھ اضلاع میں اس سسٹم کے تحت ہونے والی موسلادھار بارشوں کی وجہ سے اربن فلڈ کی صورتحال بھی پید اہو سکتی ہے۔محکمہ موسمیات واضح کرچکا ہے کہ اگر کراچی میں موجود پانی کی نکاسی کے نالوں میں کسی قسم کی رکاوٹ ہوئی اور بارشیں توقع سے زیادہ ہوئیں تو شہر قائد میں بھی اربن فلڈ جیسی صورت حال پید ہوسکتی ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ وارننگ میں مچھلی کے شکار پر کھلے سمندر میں جانے والے ماہی گیروں کو بھی دوستمبر تک گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔دوسری جانب حکومت سندھ اور بلدیہ عظمی سمیت دیگر ادارے بلند وبانگ دعوں تلے خواب غفلت میں ہیں اور اس صورت حال کے حوالے سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

 

 

Read more

30 August 2017

دل کے عارضے میں مبتلا نوزائیدہ پاکستانی بچے کو بھارتی ویزا جاری

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی خصوصی ہدایت پر بھارتی ہائی کمیشن نے دل کے عارضے میں مبتلا نوزائیدہ پاکستانی بچے کو طبی ویزا جاری کردیا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر پاکستانی بچے روحان کی والدہ مہوش مختار نے ایک پوسٹ شیئر کی تھی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ان کے بیٹے کو پیدائشی طور پر دل کی بیماری ہے اور اسے علاج کی غرض سے بھارت لے جانا نہایت ضروری ہے۔مہوش نے اس پوسٹ پر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو مخاطب کرتے ہوئے ان سے درخواست کی تھی کہ انہیں جلد از جلد بھارت کا ویزا جاری کیا جائے۔ سشما سوراج نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کو ہدایات جاری کی تھیں کہ اس معاملے پر غور کیا جائے اور ویزے کا اجرا یقینی بنایا جائے۔بعد ازاں بھارتی ہائی کمیشن نے ٹوئیٹر پر پیغام جاری کیا کہ پیارے روحان ، آپ کا ویزا جاری ہوچکا ہے اور جلد اسے لاہور بھیج دیا جائے گا۔خیال رہے کہ 15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر وزیرخارجہ سشما سوراج نے اعلان کیا تھا کہ علاج کی غرض سے بھارت آنے کے خواہش مند پاکستانیوں کو ویزے جاری کیے جائیں گے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں وقتا فوقتا آنے والی کشیدگی کی وجہ سے دونوں ملکوں کے شہریوں کو ویزہ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

 

Read more

30 August 2017

سیلفی لینے پر جیا بچن آپے سے باہر

بالی ووڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن کی اہلیہ اور اداکارہ جیا بچن ایک بار پھر آپے سے باہر ہوگئیں اور تصویر لینے کی کوشش کرنے والے مداحوں کو کھری کھری سنادیں۔جیابچن میڈیا کے نمائندوں اور مداحوں کو ڈانٹنے کے حوالے سے مشہور ہیں اور متعدد بار ان کے حوالے سے ایسی خبریں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ایسا ہی تازہ ایک واقعہ ممبئی میں اس وقت پیش آیا جب جیا بچن اپنے مذہبی تہوار کی مناسبت سے مقامی مندر گئیں۔ مندر میں جیا بچن کو دیکھ کر لوگوں کی بڑی تعداد اکٹھی ہوگئی جن میں سے کئی افراد نے ان کے ساتھ سیلفی لینے کی بھی کوشش کی۔جیا بچن مداحوں سے بچنے کی کوشش کرتی رہیں اور بالآخر انہوں نے ایک نوجوان کو ڈانٹ ہی دیا جو ان کے ساتھ سیلفی لینے کا خواہش مند تھا۔ جیا بچن نے اس نوجوان کو سخت لہجے میں کہا کہ ایسا مت کرو اسٹوپڈ۔ جیا بچن نے نہ صرف نوجوان کو ڈانٹا بلکہ اسے غصے سے گھورنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ گئیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی جیا بچن اپنی تصویر اتارنے پر مداحوں کی کلاس لے چکی ہیں، ایک بار جب وہ اپنی بہو ایشوریا رائے بچن کے ساتھ تھیں تو کسی فوٹو گرافر نے ایشوریا کو آواز لگائی تھی جس پر جیا بچن اپنے آپے سے باہر ہوگئی تھیں۔گزشتہ ہفتے جیا بچن بالی ووڈ اداکارہ ایشا دیول کی گود بھرائی کی رسم میں شریک تھی اور یہاں ان کا غصہ پنڈت پر نکلا جو پوجا پاٹ کے بجائے تقریب میں آئے بالی ووڈ اسٹارز کے ساتھ تصویریں بنوانے میں مصروف تھا۔ جیا بچن نے پنڈت کو مخاطب کیا اور کہا کہ برائے مہربانی آپ اپنے کام پر توجہ دیں۔

 

Read more

ملک سیاسی استحکام کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا، ہم ابھی 20 ویں صدی میں زندہ ہیں،احسن اقبال

سی پیک کنسورشیم آف بزنس سکولز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ سی پیک ون بیلٹ ون روڈ کا فیلگ شپ بن چکا، چین نے کبھی پاکستان کو مایوس نہیں کیا اور نہ ہی پاکستان نے کبھی چین کو مایوس کیا، 2013 میں جب ہم نے یہ منصوبہ شروع کیا تو ہماری معیشت خراب تھی، سکورٹی صورتحال بری تھی، ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ پاکستان اکانومی کی ناکامی کیطرف بڑھ رہا ہے اور کمپنیاں یہاں سے جا رہی تھیں، اس وقت چین آگے بڑھا اور ہمارے ساتھ کھڑا ہوا۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ گوادر کی بندرگاہ کو بنانے کے نئے منصوبے شروع کئے گئے ہیں، 1980 میں پاکستان کی پر کیپیٹا انکم 300 ڈالر تھی اور چین کی 200 ڈالر تھی، آج چین ہم سے بہت آگے ہے، ہمیں چین سے سیکھنے کی ضرورت ہے، اگر آپ کے پاس سیاسی استحکام اور باہمی احترام ہے تو آپ بہتر معیشت کیلئے مقناطیس ثابت ہوں گے، ہمیں چین سے سیکھنا چاہئے کہ کس طرح انہوں نے ترقی کی اور غربت سے نجات حاصل کی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمارے نوجوانوں نے کام نہ کیا اور معیشت کو سنبھالا نہ دیا تو ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے، سی پیک کا مقصد صرف توانائی کے منصوبے بنانا نہیں بلکہ ایک بڑا صنعتی زون بنانا بھی ہے جو پورے ملک کو سپلائی کرے، اگر ہمیں پاکستان اور چین کے مابین بہترین تعلقات قائم کرنا ہیں تو ہمیں بزنس ٹو بزنس تعلقات قائم کرنا ہوں گے۔

Read more

مردم شماری کا عمل شفاف تھا، صوبے ادارہ شماریات سے رجوع کریں،مصدق ملک

وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر مصدق ملک نے صحافیوں کو بریفنگ کے دوران کہا کہ شریف خاندان کہیں نہیں جا رہا، یہیں رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ شریف خاندان یہیں سیاست کرے گا اور یہیں دفن ہو گا۔ مصدق ملک نے یہ بھی کہا کہ کلثوم نواز کی بیماری پر سیاست نہ کی جائے، کلثوم نواز کی بیماری کی ابتدائی مرحلے پر تشخیص ہوئی ہے۔


Read more

گزشتہ شمارے

<< < August 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
    1 2 3 4 5
6 7 8 9 10 11 12
13 14 15 16 17 18
20 21 22 23 24 25 26
27 28 29 30 31