Get Adobe Flash player

01 September 2017

شیخ رشید نے قربانی کیلئے2اونٹ خرید لئے

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے عیدالاضحی پر قربانی کے لئے دو اونٹ خریدے ہیں۔پورے ملک میں عیدالاضحی کی تیاریاں عروج پر ہیں اور عوام کی بیشتر تعداد مویشی منڈیوں میں اپنی پسند کے جانور خریدے میں مصروف ہیں عوام کی طرح سیاستدان بھی سنت ابراھیمی کی ادائیگی کے لئے مویشی منڈیوں میں نظر آرہے ہیں۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید بھی جب راولپنڈی کی مویشی منڈی میں پہنچے تو نوجوانوں کی بڑی تعداد خریداری چھوڑ کر شیخ رشید کے ساتھ سیلفیاں بنانے میں مشغول ہوگئے۔ شیخ رشید نے اونٹ خریدنے کے لئے مالکان سے بھا تا کیا اور کہا کہ اچھے اونٹ دو اور پیسے بھی جائز لو۔  سودا طے ہونے کے بعد ایکسپریس نیوز کے رپورٹر کے سوال پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اللہ کی راہ میں قربانی دینی ہے جس کے لئے 2 اونٹ خریدے لیکن یہ نہیں بتا سکتا کہ یہ اونٹ کس قیمت میں لئے۔


Read more

دہشتگردی کا خدشہ،آج شام سے ہی ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ

عیدالاضحی کے موقع پر قومی ادارہ برائے انسداد دہشت گردی (نیکٹا)نے ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیکٹا ترجمان کے مطابق وزارت داخلہ کی ہدایت پر ملک بھر میں نیم فوجی دستے ہائی الرٹ ہوں گے اور کل علی الصبح وزارت داخلہ کا ائیرونگ بھی الرٹ رہے گا۔نیکٹا کے مطابق چاروں صوبائی حکومتوں کو وزارت داخلہ کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ انٹیلی جنس رپورٹس کو سنجیدگی سے لیں اور عید کی نماز کے اجتماعات چار دیواری کے اندر منعقد کرنے کو یقینی بنائیں اور اجتماعات کی سیکیورٹی کو ہائی الرٹ رکھیں۔نیکٹا کا کہناہے کہ چاروں صوبوں کے پی ڈی ایم ایز کو مراسلہ جاری کردیا گیا ہے کہ عید کے اجتماعات کی مخصوص جگہوں پر مناسب سیکیورٹی کا بندوبست کیا جائے قربانی کی کھالیں بغیر این او سی اکھٹی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

Read more

سندھ بھرمیں عیدالاضحی کے موقع پر سیکیورٹی انتظامات مکمل

وزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال کی جانب سے منظوری کے بعد عیدالاضحی کے لیے تشکیل دیئے گئے سیکیورٹی پلان کو حتمی شکل دے دی گئی۔وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال نے عید کے سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی جس کے بعد سندھ بھرمیں عید کے سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی۔وزیرداخلہ سندھ کا اس حوالے سے حکم دیتے ہوئے کہا کہ عید کے موقع پر فول پروف سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے، کھالیں جمع کرنے کے ضابطہ کار پرسختی سے عملدرآمد کرایا جائے، کسی کو زبردستی کھالیں جمع کرنے اور چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔وزیرِداخلہ سندھ سہیل انورسیال نے کہا کہ سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کے کھانے پینے کا مناسب انتظام کیا جائے گا، حساس مساجد، عیدگاہوں کے گرد اسکینرزنصب کیے جائیں گے، تمام صورتحال کوخود مانٹیرکروں گا جب کہ لمحہ بہ لمحہ صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔


Read more

وزیراعظم کا کراچی میں بارش کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کا نوٹس

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں ہونے والی طوفانی بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر عوام کی مشکلات کا ازالہ کریں۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے فوج، رینجرز، این ایچ اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہنگامی اقدامات کی ہدایت کی اور کہا کہ متعلقہ ادارے تمام شاہراہوں اور متاثرہ مواصلاتی نظام کی بحالی کے فوری اقدامات کریں اور کراچی شہر کا دوسرے علاقوں سے زمینی رابطہ فوری طور پر بحال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کی مشکلات کے ازالے کے لیے صوبائی حکومت کی ہرممکن معاونت کے لیے تیار ہیں۔علاوہ ازیں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے بھی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور بارش کے بعد کراچی کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ فاروق ستار نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ پانی کی نکاسی کے لیے کے پی ٹی، پورٹ قاسم اور اسٹیل مل کی مشینری شہری انتظامیہ کو فراہم کی جائے۔دریں اثنا گورنر سندھ محمد زبیر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گورنر سندھ اس وقت سعودی عرب میں ہیں تاہم وہ حجاز مقدس سے پاکستان میں متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں۔ ترجمان گورنر ہاس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گورنر سندھ محمد زبیر حجاز مقدس سے صورت حال کو مانیٹر کررہے ہیں۔ گورنر سندھ نے ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام ادارے بارش سے عوام کو ہونے والی مشکلات کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں۔

 

Read more

01 September 2017

کلثوم نواز کاغذات نامزدگی کیس :لاہور ہائی کورٹ کا تین رکنی بنچ ٹوٹ گیا

بیگم کلثوم نوازکے حلقہ این اے 120 کے ضمنی الیکشن میں کاغذات نامزدگی کی منظوری کیخلاف درخواست پرسماعت کرنیوالاہور ہائیکورٹ کا3رکنی بنچ دوبارہ تحلیل ہوگیا اوربنچ کے سربراہ جسٹس فرخ عرفان خان نے سماعت سے معذرت کرلی ہے بیگم کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر درخواست کی سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد فرخ عرفان خان ،جسٹس کاظم رضا شمسی اور جسٹس علی اکبر قریشی پر مشتمل تین رکنی بنچ کے روبرو دوبارہ سماعت کیلئے مقرر کی گئی تھی سماعت شروع ہوتے ہی بنچ کے سربراہ جسٹس محمد فرخ عرفان خان کی جانب سے ذاتی وجوہات کی بناء پر کیس کی سماعت سے انکار کے بعد بنچ ٹوٹ گیا ، فل بنچ نے کیس مزید سماعت کے لئے چیف جسٹس کو واپس بھجوا دیا پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل میر کی جانب سے بیگم کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کیا گیا ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بیگم کلثوم نواز نے کاغذات نامزدگی میں اپنی آمدن اور اثاثے ظاہر نہیں کئے بیگم کلثوم نواز نے خود کو نوازشریف کی زیر کفالت ظاہر کیا مگر وہ کئی کمپنیوں میں شئیر ہولڈر ہیں،بیگم کلثوم نواز نے زرعی انکم ٹیکس کی ادائیگی نہیں کی اقامہ ظاہر کیا مگر تنخواہ کی رسید اور اس سے ہونے والی بچت کو ظاہر نہیں کیا انہوں نے مری کی رہائش گاہ میں موجود فرنیچر اور دیگر گھریلو اشیاء کا کوئی ذکر نہیں کیا،بیگم کلثوم نواز نے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے سندھ میں ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج ہے جس میں بیگم کلثوم نوازمفرور ہیں درخواست میں استدعا کی گئی کہ ریٹرننگ افسر اور الیکشن اپیلٹ ٹربینول کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے

 

Read more

01 September 2017

وزیر اعظم کی عید سے قبل بیورو کریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ

عید الاضحی سے قبل وزیر اعظم نے بیوروکریسی میں اکھاڑ پچھاڑ کا جھکڑ چلا دیا ،وفاقی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلوں کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے عید سے قبل بڑے پیمانے میں تبادلوں کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا جس کے مطابق ارشد مرزا کو وزارت داخلہ کا نیا سیکرٹری تعینات کر دیا گیا جبکہ وفاقی سیکرٹری فوڈ اینڈ سیکیورٹی محمد عابدکو ایم ڈی پرنٹنگ کارپوریشن تعینات کیا گیا ہے، بے نظیر انکم سپورٹس پروگرام کی سیکرٹری یاسمین مسعود کوسیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فضل عباس میکن کا وزارت فوڈ تبادلہ کردیا گیا ہے

 

 

Read more

01 September 2017

مردم شماری کے نتائج پر اعترضات ۔۔۔ظہیر الدین بابر

بلاشبہ یہ تشویشناک ہے کہ حالیہ مردم شماری پر مختلف حلقوں کے سنجیدہ اعتراضات سامنے آرہے ہیں۔ طویل تاخیر کے بعد ہونے والی مردم شماری پر قوم کے ہوشمند طبقات نے اطمینان کا اظہار کیا مگر اب ظاہر کیے گئے اعداد وشمار پر کئی سوالات اٹھائے جارہے ۔آئین کی رو سے ہر دس سال بعد مردم شماری ہونا طے  ہے مگر اہل اقتدار اس بنیادی فریضہ کی ادائیگی میں بھی ناکام رہے بالاآخر  اس ضمن میں سپریم کورٹ کو آگے آنا پڑا۔اب صورت حال یہ ہے کہ سندھ میں شائد ہی کسی جماعت نے  مردم  شماری کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ صوبائی حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی یہ شکوہ کررہے کہ دیہی اور شہری علاقوں کی آبادی کم کرکے دکھائی گئی۔ ادھر یہ اعتراض بھی سامنے آچکاکہ قبائلی علاقوں کی آبادی دانستہ طور پر کم کرکے دکھائی گئی۔ حکومت کے مطابق فاٹا کی سات قبائلی ایجنسیوں اور چھ فرنٹیر ریجنز کی کل آبادی 50لاکھ سامنے آئی۔ قبائلی علاقوںسے تعلق رکھنے والے بعض حلقے دعوے کررہے کہ محض چار قبائلی ایجنسیوںکی آبادی پیچاس لاکھ بنتی ہے ان کے بقول حکومت نے فاٹا کی تین ایجنسیوں کو مردم شماری میں شامل نہیں کیا۔ یہ الزام بھی لگایا جارہا کہ حالیہ آپریشن کے باعث اپنے گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے والوں کو ادارہ شماریات نے قبائیلوں میں شامل ہی نہیں کیا۔ادھر حکومت کسی طور پر مردم شماری پر اعتراض اٹھانے والوں کا موقف تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔مخصوص علاقوں کی آبادی کم کرکے دکھانے کا دعوی کرنے والوں کا موقف ہے کہ آنے والے دنوں میں ان آبادیوں کو تعمیر وترقی کے لیے کم فنڈز مہیا کیے جائیں گے جن کے باعث ان کی مشکلات میں خاطر خواہ اضافہ ہوجائیگا۔تاریخی طور پر بروقت مردم شماری نہ کرانے کی بہت سی وجوہات نظر آتی ہیں۔ مثلا ایک وجہ یہ کہ مختلف صوبوں، قومیتوں اور لسانی و مذہبی گروہوں کو مردم شماری کے اعداد و شمار کے بارے میں مطمئن کرنا مشکل ہے۔  یاد رہے کہ یہ صرف ہمارے ہاں  ہی نہیں بلکہ بہت سارے ان ممالک کا مسئلہ بھی ہے جہاں ایک سے زیادہ قومیتیں، لسانی گروہ، مذہبی اکائیاں اور نسلی گروہ بستے ہیں۔ مشرق وسطی کے بہت سارے ممالک ایسے ہیں جہاں اگر مردم شماری کرائی جائے تو اکثریت میں سمجھے جانے والے مذہبی یا نسلی گروہوں کے اقلیت میں بدلنے کا خدشہ ہے اس لئے وہاں مردم شماری کرانے نہیں دی جاتی۔حالیہ مردم شماری کے نتائج کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی میں 1998 کی آخری مردم شماری کے بعد دو اعشاریہ چالیس فیصد سالانہ کی شرح نمو کے حساب سے ستاون فیصد اضافہ ثابت ہوا ۔ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ وطن عزیز  بیس کروڑ ستتر لاکھ سے زیادہ لوگوں کا ملک ہے جس میں سے 36 فیصد لوگ شہروں میں رہتے ہیں۔ بظاہر  آبادی میں اضافے کی مجموعی شرح گری  جو یہاں پر بہبود آبادی یا خاندانی منصوبہ بندی کے لئے سرکاری اور غیر سرکاری کاوشوں اور عوام کے مجموعی شعور کا آئینہ دار ہے۔اس دفعہ کی مردم شماری میں طریقہ کار تبدیل کیا گیا یعنی اس بار قومی شناختی کارڈ کے نمبر کا اندراج لازمی تھا۔ اس طریقہ کار کے تحت کوئی فرد ایک سے زیادہ جگہوں پر اندراج نہیں کروا سکتا۔ ایک سے زیادہ اندراج کی صورت میں نیشنل ڈیٹا رجسٹریشن اٹھارٹی کا ڈیٹا بیس اس کارڈ کو مسترد کر دیگا جس کا نمبر پہلے سے درج ہوا ہو۔ ا س طرح لوگوں کا اندراج صرف جائے سکونت میں ہی ہوسکا۔ مردم شماری کے اعداد و شمار سے سامنے آنے والے حقائق میں سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ  شہروں میں آبادی کا دبائو مسلسل بڑھ رہا ہے۔ دیہاتوں سے بہتر سہولیات زندگی اور روزگار کے لئے شہروں کا رخ کرنا ایک معمول کی بات تھی مگر گزشتہ دو دہائیوں میں امن و امان کی وجہ سے قابل ذکر  آبادی شہروں کا رخ کر رہی ہے۔ فاٹا اور خیبر پختونخوا سے امن و امان کی صورت حال کی وجہ سے بھی لوگوں نے شہری علاقوں کا رخ کیا ہے۔ اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ لاہور کے بعد پشاور آبادی میں اضافے کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں 1998 کی نسبت سو فیصد آبادی میں اضافہ ہوا ۔ اگر مگر کے باوجود  ملک کو  بڑھتی ہوئی آبادی کے سنگین مسئلے کا سامنا ہے کیونکہ یہاں وسائل اور ذرائع پیداوار میں کمی اور کھانے والوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا۔1981 کی مردم شماری میں آٹھ کروڑ کی آبادی تھی جو آج بیس کروڑسے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اناج اگانے والی زمین، زمین کو سیراب کرنے والے پانی اور صنعتی پیداوار میں  ہرگز خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ ماہرین کے مطابق آبادی میں اضافے کو اگر مزید کم نہیں کیا گیا تو مستقبل قریب میں  یہاں غذائی قلت اور رہائش کے سنگین مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ لازم ہے سیاسی ، مذہبی اور سماجی تنظیموں کو آبادی میں اضافہ کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کرنا چاہے۔ حکومت کو مختلف فورمز کے ذریعہ شہروں اور دیہاتوں میں رہنے والوںکو باور کروانا ہوگا کہ آبادی میں اضافے سے پاکستان کا ہر شہری بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر متاثر ہوگا۔ خوشحال اور پرامن پاکستان کا خواب اسی صورت شرمندہ تعبیر ہوگا جب آبادی میں اضافہ کنٹرول کیاجائے۔ حالیہ مردم شماری پر اعراضات اپنی جگہ مگر اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ملک کی بڑھتی ہوئی تعداد بطور قوم  ہمارے لیے کس قدر خطرناک ثابت ہورہی ہے۔

Read more

01 September 2017

امریکا:انسانیت کامجرم۔۔۔سمیع اللہ ملک

عراق ایک بارپھرشہ سرخیوں میں ہے۔ مغربی میڈیا میں عراق کی صورت حال کوبھرپورطورپرکورکیاجارہاہے مگرکوئی بھی مغربی میڈیا آئوٹ لیٹ یہ نہیں بتائے گاکہ امریکاعراقی تنازع کے دونوں فریقوں کی بھرپورمددکررہاہے۔ ایک طرف سے واشنگٹن سے عراقی حکومت کومدد مل رہی ہے اور دوسری طرف اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریاآئی ایس آئی ایس کوفنڈنگ بھی کی جارہی ہے اورعسکریت پسندوں کو تربیت بھی دی جارہی ہے۔امریکی حکومت اگرچہ دہشت گردوں کی مدد کررہی ہے مگرمغربی میڈیاآپ کویہی بتائے گا کہ اوباماانتظامیہ کوعراق میں دہشتگردی پرتشویش ہے۔امریکی اوریورپی میڈیامیں یہ بات زیادہ زوردے کربیان کی جاتی ہے کہ عراق میں جوبھی خرابی ہے وہ امریکی انخلاسے ہے۔ یعنی جب تک امریکی افواج عراق میں تعینات تھیں تب تک وہاں کوئی خرابی پیدا نہ ہوئی تھی اوردہشتگرد بھی قابومیں تھے اوراب گویادہشتگرداور عسکریت پسند کچھ بھی کرگزرنے کے لیے آزاد ہیں۔ امریکانے عراق پرجولشکرکشی کی اوروہاں مختلف گروپوں کی مددسے جوقبضہ کیااس کاموجودہ صورت حال سے موازنہ کرناعجیب ہے۔ امریکا نے خصوصی دستے تیار کیے جنہوں نے امریکی افواج کو مدد دی۔ اب یہی دستے ملک کے حالات مزید خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں۔مین اسٹریم میڈیااب بھی حقائق چھپارہاہے۔حقیقت کوآپ تک پہنچنے نہیں دیاجارہا ۔ تاثریہ دیاجارہا ہے کہ عراق میں خانہ جنگی ہورہی ہے۔میڈیاکے ذریعے صرف وہی تاثرپیداکیااورابھاراجاتاہے جوبڑی طاقتوں کے مفادات کوتقویت بہم پہنچاتا ہے۔عراق میں جوکچھ اب کھل کرسامنے آرہاہے وہ دراصل تعمیری انتشارہے جوپورے خطے کواپنی لپیٹ میں لیتاجارہاہے۔امریکا،یورپ اوراسرائیل نے بہت پہلے منصوبہ بنالیا تھا کہ عراق میں شدیدانتشارپھیلاکراس کے ٹکڑے کردیے جائیں گے۔ یہ منصوبہ لبنان،فلسطین،عراق،شام،خلیج فارس،ایران اورافغانستان تک شدیدانتشارپھیلانے کاہے۔مقصودصرف یہ ہے کہ یہ تمام ریاستیں شدید کمزور پڑیں اوراِن کے حصے بخرے ہوجائیں۔زیادہ سے زیادہ انتشارپیداکرکے امریکا،یورپ اوراسرائیل اِس پورے خطے میں اپنی مرضی کے حالات چاہتے ہیں اورسرحدوں کانئے سِرے سے تعین بھی اپنی مرضی کے مطابق کرناچاہتے ہیں۔امریکا،یورپ اور اسرائیل چاہتے ہیں کہ پوری عرب دنیا اورایشیائے کوچک سے ہوتے ہوئے افغانستان اورایران تک نقشے نئے سِرے سے ترتیب دیے جائیں ۔ مقصودیہ ہے کہ معاشی،سفارتی اوراسٹریٹجک اہداف حاصل کیے جائیں۔ یہ سب کچھ ایک ایسے منصوبے کے تحت ہورہاہے جوانتہائی دانش مندی اور باریک بینی سے تیارکیاگیا ہے تاکہ کہیں کوئی جھول باقی نہ رہے۔امریکا،اسرائیل اور یورپ بالخصوص برطانیہ کے ایجنڈے کی تکمیل میں علاقائی حکومتیں بھی معاونت کررہی ہیں۔ خطے کے بیشترممالک کوکمزورکیاجارہاہے تاکہ ان کی شکست وریخت آسان ہوجائے۔کسی بھی ملک کوتقسیم کرنے میں خانہ جنگی مرکزی کرداراداکرتی ہے۔ بلقان کے خطے میں اس کاتجربہ بڑی طاقتوں کوکامیابی سے ہمکنارکرگیا۔ سابق یوگو سلاویہ میں نسلی،ثقافتی اورمذہبی تنوع موجودتھا۔اس کابھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے نفرتوں کوہوادی گئی۔ اس کے نتیجے میں سابق یوگوسلاویہ کوسربیا، بوسنیا ہرزیگووینا،کروشیا اورمونٹی نیگرومیں تقسیم کرنے میں آسانی ہوئی۔ اب عراق کوبھی انہی خطوط پرتقسیم کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔شیعہ،سنی اورکرد ریاست کاقیام معرض وجود میں لایا جاسکتا ہے۔ مسلح گروپ کھڑے کردیے گئے ہیں۔ ان کوامریکا،برطانیہ اوراسرائیل ہی کی طرف سے فنڈنگ کی جارہی ہے۔ شام ہویاعراق،ہرجگہ مسلح گروپ میدان میں آچکے ہیں جوکسی بھی حالت میں اپنے مقاصد کوترک کرنے کیلئے تیارنہیں۔ شام میں آمریت اور عراق میں منتخب حکومت کے خلاف لڑائی جاری ہے۔القاعدہ سے جڑے ہوئے گروپوں کوامریکی محکمہ دفاع اورخفیہ ادارے سی آئی اے نے خفیہ اثاثوں کے طورپراستعمال کیاہے۔ شام میں النصر اورآئی ایس آئی ایس مغربی طاقتوں کے پروردہ گروپ ہیں جنہیں فنڈز دینے ہی پراکتفا نہیں کیا گیابلکہ حکومت کے خلاف لڑنے کی باضابطہ تربیت بھی دی گئی ہے۔ واشنگٹن نے عراق اورشام میں عمدگی سے لڑنے والے ایسے گروپ کوتیارکیاہے جوبہتر لاجسٹک سیٹ اپ بھی رکھتاہو تاکہ ضرورت کے مطابق نقل و حرکت ممکن ہو۔ عراق اورشام میں سرگرم گروپ امریکی ایجنڈے کے مطابق کام کررہے ہیں ۔ دونوں ممالک کوتین ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کی جاچکی ہے۔ ایک سنی ریاست معرض وجود میں لائی جائے، ایک عرب شیعہ جمہوریہ بنائی جائے اورآزاد کردستان کی راہ ہموارکی جائے۔بغدادمیں امریکی حمایت یافتہ حکومت امریکی اداروں سے جدید ترین اسلحہ خرید رہی ہے۔ ایف سولہ طیارے بھی فراہم کیے جارہے ہیں۔
(جاری ہے)


Read more

01 September 2017

معلومات تک رسائی کا نیا قانون۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 وزیر مملکت برائے اطلاعات و،نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے وفاقی حکومت کی جانب سے عام پاکستانی کو معلومات تک رسائی کا حق دینے کے لئے بل 2017ء ایوان بالا میں پیش کیا جسے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے مزید غور کیلئے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا جسے بعد میں متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ بل کا مقصد وفاقی حکومت کی تمام وزارتوں، ڈویژنوں اور خودمختار اداروں کے کام اور کارکردگی کے حوالے سے ہر قسم کی معلومات عام پاکستانیوں کو فراہم کرنا ہے۔ بل کی منظوری کے بعد یہ ایکٹ آف پارلیمنٹ بن جائے گا جس کے بعد ہر پاکستانی کو معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہو جائے گا۔سینٹ سے معلومات تک رسائی کے بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کے اگلے سیشن میں بل پیش کر دیا جائیگا یہاں سے بھی اسکی متفقہ منظوری کی توقعات ہیں۔بل کی منظوری کے بعد 6 ماہ کے اندر ادارے ریکارڈ تیار کر کے انٹر نیٹ پر اپ لوڈ کریں گے۔ بل کے مطابق معلومات کی فراہمی کیلئے دی گئی کسی درخواست پر انکار نہیں کیا جاسکے گا۔ ہر ادارے میں معلومات تک رسائی کیلئے پرنسپل افسر تعینات کیا جائیگا۔ بل کا اطلاق وفاقی حکومت کے سرکاری اداروں میں ہوگا۔ معلومات تک رسائی بل کے تحت بنکوں' کمپنیوں' مالیاتی اداروں کے اکاؤنٹ ریکارڈ تک رسائی نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ  فورسز' تنصیبات اور قومی سلامتی سے متعلق معلومات تک بھی رسائی نہیں ہو گی۔ ایسے قانون کی کافی عرصہ سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ بل کے تین حصے ہیں جن میں عوامی مفاد کا تحفظ کیا گیاہے۔ 10 دن میں معلومات دینا ہوں گی ۔ معلومات روکنے کی صورت میں دو سال سزا اور جرمانہ ہے۔ متعلقہ حکام کو معلومات فراہم نہ کرنے کی وجوہات تین دن کے اندردینی ہوں گی۔ معلومات روکنے کی صورت میں 2 سال سزا اور جرمانہ ہو گا'معلومات کی فراہمی کے حوالے سے درجہ بھی بندی بھی کی گئی ہے۔ جن معلومات کا اجراء قومی مفاد میں نہیں ان کو ایسی کیٹگری میں رکھا گیا ہے جس تک رسائی ممکن نہیں ہو گی۔ اس قانون سے قبل ادارے ایسی معلومات کی فراہمی سے بھی گریز کرتے تھے جن کا تعلق قومی سلامتی اور سیکیورٹی سے دور دور تک بھی نہیں تھا۔ اہلکار اپنی صوابدید پر فیصلہ کرتے اور اپنے تعلقات ہی کو معلومات کی فراہمی کا قانون سمجھتے تھے۔ بینکوں، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے ایسے اکاؤنٹس ضرور اخفا میں رکھے جائینگے جن کے افشا ہونے سے اداروں کی سیکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے۔ بعض این جی اوز اور میڈیا کے اداروں کو اپنی رپورٹوں کی تیاری کیلئے بینک اکاؤنٹس کی معلومات ضروری ہوتی ہیں۔ ان کو اکاؤنٹ ہولڈرز نے بھی کانفیڈنشل نہیں رکھا ہوتا۔ ایسی معلومات پر یکسر پابندی بھی مناسب نہیں۔ فورسز کو معلومات کی فراہمی کے دائرے سے استثنیٰ دینا بھی مناسب نہیں۔ فورسز کے حوالے سے معلومات کی بھی درجہ بندی کر لی جائے۔ جن معاملات کا اخفا ضروری ہے ان تک رسائی کی ضرورت نہیں۔ تاہم جن معاملات کی معلومات کا سیکیورٹی سے تعلق نہیں ان تک رسائی دینے میں حرج نہیں۔ صوبوں میں بھی اس قانون کا اطلاق ہونا چاہیے۔بل کی منظوری کے بعد ہر ایک پبلک باڈی 30 دنوں کے اندر ایک افسر کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی جو 19 گریڈ سے کم نہیں ہوگا۔ وہ افسر لوگوں کو معلومات کی فراہمی کی ذمہ داری نبھائے گا۔ بل کے تحت ہر ادارے کا سربراہ معلومات تک رسائی کا حق دینے کو یقینی بنائے گا۔ وہ اس بل کے تحت تمام تر ذمہ داریوں کی نگرانی بھی کرے گا۔ بل کے تحت اگر کوئی شہری یا درخواست گزار فراہم کردہ معلومات سے مطمئن نہیں ہوگا تو وہ 30 دنوں کے اندر معلومات بارے تشکیل شدہ کمیشن کو اپیل کرے گا۔اپیل دائر کرنے کی کوئی فیس نہیں ہوگی، وہ مفت دی جائے گی۔کمیشن اس اپیل کو 60 دنوں کے اندر نمٹانے کا پابند ہوگا۔ بل کی منظوری اور ایکٹ بننے کے بعد 6 ماہ کے اندر وزیراعظم معلومات تک رسائی کے حوالے سے ''انفارمیشن کمیشن'' تشکیل دیں گے۔ یہ کمیشن ایک خودمختار ادارہ ہوگا۔ تین کمشنر بھی مقرر کئے جائیں گے جو ہائی کورٹ کے جج کی اہلیت رکھتے ہوں گے۔کمشنر وزیراعظم نامزد کریں گے جن کی عمریں 65 سال تک ہوں گی۔ بل کے تحت وزیراعظم ایک چیف انفارمیشن کمشنر بھی مقرر کریں گے جو ان تین کمشنرز میں سے ہی ہوگا۔ کمیشن کے ارکان'کمشنرز انفارمیشن کمیشن میں تعینات ہونے کے بعد اور ذمہ داریاں نبھانے کے دوران کوئی بھی دوسرا عہدہ نہیں رکھ سکیں گے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت سے وابستہ ہوںگے۔اس قانون کے آنے سے بلیک میلنگ کا کلچر کم ہوگا۔ کیونکہ بلیک میلر معلومات عام کرنے کا خوف دلاکر بلیک میل کرتے ہیں۔چند بااثر اخباروں' میڈیا گروپس اور صحافیوں کی اجارہ داری ختم ہوگی اور کوئی بھی فرد بغیر رقم خرچ کیے ای میل پر بھی معلومات حاصل کرسکے گا۔اس بل کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیلئے ضروری ہے کہ اس کی مناسب انداز میں تشہیر کی جائے۔ عوام کو بتایا جائے کہ ان کے کیا حقوق ہیں۔ کن کن معاملات میں وہ کیا کیا معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اب سے پہلے عوام کو بہت سے معاملات میں بے خبر رکھا جاتا تھا اس طرح کرپشن کی بیماری جڑ پکڑتی گئی مگر معلومات کی رسائی کے بل کی منظوری کے بعد عوام براہ راست کسی بھی قومی و صوبائی معاملات  کے بارے میں جان سکیں گے۔ خصوصاً ایسے ترقیاتی کام جو عوامی ٹیکس کے پیسے سے انجام پاتے ہیں، ان کے معاہدے،  مدت تکمیل، میٹریل اور دیگر معلومات جو پہلے عام نہیں کی جاتی ہیں اور  بعض اوقات کرپشن کی نذر ہو جاتی تھیں، اب براہ راست عوام کے علم میں  ہوں گی ۔ عوام جانتے ہوں گے کہ فلاں منصوبے کی تفصیلات کیا ہیں اور عملاً کیا ہو رہا ہے۔ اس سے کرپشن کے خاتمے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔


Read more

01 September 2017

نظر کعبہ پر ۔۔۔پروفیسر محمد عبدللہ بھٹی

 سعودی ائیر لائن کا دیو ہیکل بو ئنگ طیا رہ جدہ کی فضائوں میں داخل ہو چکا تھا 'ائر ہوسٹس کی سریلی آواز کا نوں میں رس گھو ل رہی تھی کہ ہم جدہ پہنچ گئے ہیں 'میں نیم خوا بیدگی سے ہو ش کی وادی میں آگیا اور متجسس بچے کی طرح جہاز کی کھڑکی کی طرف سرک گیا اورنیچے جدہ شہر روشنیوں میں ڈوبا نظر آیا 'کرو ڑوں برقی قمقموں کی وجہ سے نیچے رنگ و نور کا سیلا ب آیا ہوا تھا 'جیسے جیسے جہاز مین کے قریب آرہا تھا روشنیوں کی لو تیز ہو تی جا رہی تھی رنگ و نور سے بھرا آسمان زمین پر اُتر آیا 'جیسے دھاتی پرندہ پروں کو کھو لتا ہوا نیچے آرہا تھا 'میری رگوں میں خو ن کی گردش تیز ہو تی جا رہی تھی 'دل کی دھڑکنیں محبوب سے ملاپ کی وجہ سے خو ب دھڑک رہی تھیں جیسے محبوب کے نظا رے کے لیے سینہ شق کر کے با ہر آجا ئے گا 'روشنیوں کا لا محدود سمندر قریب آتا جا رہا تھا 'جہاز نے آخری غو طہ لگا یا اور رن وے کے قریب آکر تھوڑی دیر بعد رن وے پر ہلکے جھٹکے سے اُتر کر دوڑنے لگا 'سر شاری نشہ اطمینان میری رگ و پے میں دوڑنے لگا 'کو چہ جاناں قریب آرہا تھا میں اُس ملک کی دھرتی پر اترنے کی سعادت حاصل کر رہا تھا جہاں کی خا ک کے ذرات بھی آسمانوں سے بلند ہیں آخر کا ر جہا ز رک گیا 'احرام پہنے عاشقان توحید اپنی اپنی سیٹوں پر کھڑے ہو گئے مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ میں بھی حج کے مسا فروں میں شامل ہو ں 'یہ عظیم سعادت مُجھ سیا ہ کار کے مقدر میں بھی انشا ء اللہ آنے والی ہے 'جہاز سے اُتر کر جیسے ہی حج ٹرمینل میں داخل ہو ئے تو عازمین حج کے سیلا ب سے واسطہ پڑا ایک کو نے سے دوسرے کو نے تک سفید احرام میں ملبوس خواتین حضرات دنیا جہاں سے آئے ہو ئے متلا شیان حق امیگریشن کے انتظار میں کو ئی بیٹھا تھا 'کو ئی سو رہا تھا کو ئی نوا فل پڑھ رہا تھااور کو ئی چائے وغیرہ پی رہا تھا 'چہروں پر عقیدت و محبت کا نور پھیلا ئے عازمین حج 'ہال میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی میں خوشی اور حیرت سے دنیا جہاں کے عاشقوں کو غور سے دیکھ رہا تھا طویل انتظا ر کے باوجود ہر کو ئی خو ش تھا کیونکہ اِن سب کے خو ابوں کے سچ ہو نے کا دن قریب آرہا تھا وہ دن جن کے سپنے انہوں نے سالوں دیکھے تھے ایسا انتظار تو قسمت والوں کو نصیب ہو تا ہے جو آج ہمیں نصیب ہو رہا تھا میں نے وضو کیا اور نوافل شروع کر دئیے ہم سے پہلے کئی جہاز آچکے تھے 'امیگریشن حکام با ری با ری سب کو دیکھ رہے تھے 'جیسے ہی کسی ملک کے جہاز والوں کو پکا را جاتا لوگ دیوانہ وار ہال سے دوسرے ہال کی طرح چلے جاتے 'ہال میں کچھ آسانی پیدا ہو ئی اِسی دوران ایک اور جہاز آتا اور انسانوں کا دریا ہال میں پھر داخل ہو جا تا مجھے پہلی دفعہ طویل انتظار کابھی لطف آرہا تھا اِس سفر کا ہرقدم اور ہر سانس عبا دت تھی لہٰذا میں اپنی خلو ت سے انجمن کا لطف لے رہا تھا آخر طویل انتظار کے بعد ہما ری با ری آئی پھر امیگریشن کائونٹر پر طویل صبر آزما عمل 'آخر کار تقریبا چھ گھنٹے بعد ہم امیگریشن سے فارغ ہو کر اپنے سامان کی طرف بڑھے 'سامان لینے کے بعد ہم مکہ شریف جا نے والی بسوں میں بیٹھ کر کعبہ شریف کی طرف جانے لگے 'ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دل کی دھڑکنیں تیز ہو تی جا رہی تھیں اور پھر ہم کر ہ ارض کے اہم ترین شہر مکہ شریف کی حدود میں داخل ہو ئے 'دوران سفر میرا مسلسل رابطہ عرفان عزیزم کے ساتھ تھاجو حرم شریف کے اندر ہی بلند و بالا آرام دہ ہو ٹل میں میرا انتظا رکر رہا تھا دوپہر کا وقت سورج سوا نیزے پر تھا لیکن عشق اور جو ش کی وجہ سے گر می کا احساس تک نہ تھا آخر کا ر مجھے عرفان کا مسکراتا چہرہ نظر آیا اُس نے سامان پکڑا اور ہم ہو ٹل کی لفٹ میں با لا ئی منزل کی طرف چڑھنے لگے کمرے میں جاتے ہی  جیسے ہی میری نظر کھڑکی کے اُس پار کعبہ شریف پر پڑی تو بے چینی بے قراری بہت بڑھ گئی تھو ڑا آرام کر نے کے بعد ہم حرم شریف کی طرف جا رہے تھے ہر قدم پر مستی نشہ سرور دل کر رہا تھا کہ مجھے پر لگ جائیں اور میں اُڑ کر کعبہ شریف کے پاس چلا جائوں 'باب عبدالعزیز کے با ہر انسانوں کا حرکت کر تا سمندر آیا اُس سمندر کو چیرتے ہو ئے ہم آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے دروازے سے داخل ہو کر خو ب آب زم زم پیا اور آگے بڑھنے لگے 'حرم کی فضائیں اذان کی آواز سے گو نج رہی تھیں 'اہل علم بتا تے ہیں کہ آپ جس بھی دروازے سے داخل ہو ں سب سے پہلے نظر کعبہ پر پڑتی ہے اور پہلی نظر میں جو بھی دعا مانگو وہ قبو ل ہو تی ہے 'انسان جس بھی دروازے جس بھی زاویے سے حرم میں داخل ہو تو سامنے سیا ہ غلا ف پر سنہری آیا ت کے ساتھ کعبہ اپنے تمام تر لازوال حسن اور جلال کے ساتھ کھڑا ہو تا ہے کعبہ کو ڈھونڈنا نہیں پڑتا وہ تو خو د ہی سامنے آجا تا ہے 'صدیوں کی پیا سی نظریں جیسے ہی اُس پر پڑتی ہیں تو اُس کا حصہ بن جا تی ہیں 'ٹھنڈ پڑ جا تی ہے میرے سامنے بھی کعبہ اپنی پوری آب و تا ب جمال و جلال کے ساتھ کھڑا تھا اورمیرا دل دھڑکنا بھی بھول چکا تھا میں پتھر کا بت بنا حیرت سے اُسے دیکھ رہا تھا وہ کعبہ جس پر محبوب خدا کی نظریں صحابہ اکرام کی نظریں وقت کے ہر ولی کی نظر پڑی تھی 'دنیا جہاں سے آئے دیوانے طواف کر رہے تھے بلند آواز میں تلبیہ پڑھ رہے تھے جسموں پر سفید احرام باندھے آسمانی مخلوق لگ رہے تھے دنیا کے چپے چپے سے آئے ہو ئے دیوانوں میں کو ئی امتیاز نہ تھا 'ایک لباس 'ایک زبان 'ایک جنون 'دیوانگی 'شوق 'احساس 'نہ کو ئی با دشاہ نہ کو ئی فقیر 'نہ کو ئی ولی نہ کو ئی گنا ہ گار 'سب کے چہروں پر عقیدت و احترام کے پھول کھلے تھے سب کی آنکھیں نم تھیں دیوانے زندگی بھر کی آلا ئشیں پر یشانیاں چھو ڑ کر اِس گو شہ تو حید میں آئے تھے جہاں چاروں طرف تو حید کی شبنمی پھوا ر پڑ رہی تھی 'صحن حرم انسانوں سے بھرا ہو اتھا اللہ کا حرم اِسی طرح صدیوں سے آباد ہے اور رہے گا عشق و محبت سے مالا مال دیوانے کعبة اللہ کے گرد 'دن رات گر می سردی سے آزاد دائرے کی شکل میں عقیدتوں کا اظہا ر کر رہے تھے رکن یما نی کی طرف بڑھتے ہا تھ اِسی طرح حرکت میں رہیں گے 'حجر اسود پر عشق و محبت سے لبریز بو سوں کی برسات اِسی طرح جا ری رہے گی 'ملتزم سے لپٹے دیوانوں کے جنون کو کون روک سکے گا 'مقام ابراہیم کے اطراف میں دیوانوں کے سجدے ٹو ٹے پڑے تھے عاشقان تو حید آب زم زم سے سیراب ہو رہے تھے 'میزان رحمت کے نیچے حطیم کے نیم دائرے میں نوا فل کا روح پر ور نظارہ اِسی طرح جا ری و ساری رہے گا۔ عقیدت کی آنچ سے چہرے تمتا  رہے تھے آنکھوں سے اشکوں کے سیلاب جا ری تھے 'آہیں سسکیاں جا ری تھیں کچھ تلا وت قرآن میں مصروف اور کچھ دیوانے دنیا جہاں سے بے خبر ٹکٹکی لگا ئے خا نہ کعبہ کو دیکھتے جا رہے تھے 'سب اپنی خطائوں پر نادم 'شرمندہ 'غرق ندامت ہو کر اشکوں کا نذرانہ پیش کر رہے تھے دنیا جہاں سے آئے گنا ہ گا ر یہاں پر طہا رت پا کیزگی کے سانچے میں ڈھل رہے تھے 'احرام میں اللہ کے گھر کا طواف بھی خا ص لذت رکھتا ہے عرب و عجم کی بستیوں سے آنے والے دیوانے کے ایک دوسرے سے بے خبر دیوانہ وار طواف کی لذت سمیٹ رہے تھے سب خدا کی بزرگی کا اعلان اپنی بندگی کا اقرار کر رہے تھے 'اپنے گنا ہوں کی معا فی ما نگ رہے تھے سب نے جھولیاں پھیلا رکھی تھیں 'میں اپنے گنا ہوں پر شرمندہ اپنی آنکھوں کے چھپر کھول دئیے تا کہ ندا مت کے آنسو میری بخشش کا وسیلہ بن سکیں میں نے بھی اپنی جھو لی پھیلا دی اور کعبہ شریف کے گرد سمندر جو لہروں کی شکل میں بہہ رہا تھا اُس کا حصہ بن گیا ۔


Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
          2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30