Get Adobe Flash player

06 September 2017

اب ہمارے نہیں دنیا کے ڈومور کا وقت ہے، آرمی چیف

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں لہذا اب ہمارے نہیں دنیا کے ڈو مور کا وقت ہے۔جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو)میں یوم دفاع کی مرکزی تقریب سے خطاب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتنی قربانیوں کے باوجود بھی ہم سے ڈو مور کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن اب ہمارے نہیں دنیا کے ڈو مور کا وقت ہے، اب دشمن کی پسپائی اور ہماری ترقی و کامیابی کا وقت ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ قومی اتحاد آج وقت کی اہم ضرورت ہے، ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے، دین میں واضح حکم ہے کہ جہاد ریاست کی ذمے داری اور یہ حق ریاست کے پاس ہی رہنا چاہیے، جذبے کا تعلق صرف جنگ سے نہیں بلکہ قومی ترقی کے ہر پہلو سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج دہشتگردوں کو تو ختم کر سکتی ہے لیکن انتہا پسندی پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری ردالفساد کا سپاہی ہو۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، دشمن کوئی بھی حربہ آزمالیں ہم ہمیشہ متحد رہیں گے،ہم سے زیادہ وسائل رکھنے والے ملک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکے، سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کا سرمایہ اور امن کی ضمانت ہے، بلوچستان کے غیور عوام پر فخر ہے جنہوں نے دہشتگردوں،علیحدگی پسندوں کو یکسر مستر کر دیا۔امریکا اور عالمی طاقتوں کے حوالے سے پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ عالمی طاقتیں ہمارے ہاتھ مضبوط نہیں کرسکتیں تواپنی ناکامیوں کا ذمہ دار بھی ہمیں نہ ٹھہرائیں۔ انہوں نے کہا کہ جو جنگ ہم پر مسلط کی گئی اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے، ہمارا دشمن جان لے کہ ہم کٹ مریں گے لیکن وطن عزیز کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے۔امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہمیں امداد نہیں بلکہ عزت اور اعتماد چاہیے، ہمارے سیکیورٹی تحفظات کو بھی مد نظررکھنا ہوگا، آنے والی نسلوں کا ہم پرقرض ہے کہ انہیں دہشتگردی سے پاک پاکستان دیں،ادارے مضبوط ہوں گے تو پاکستان مضبوط ہوگا۔آرمی چیف نے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو سمجھ لینا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد دراندازوں کی محتاج نہیں، کشمیریوں کی حمایت سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔پاک فوج کے سربراہ نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف زمینی نہیں بلکہ نظریاتی اور ذہنی بھی ہے، دہشتگردی اور انتہاپسندی پر قابو پانے کے لیے میڈیا کا مثبت کردار بھی انتہائی اہم ہے، دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں  کامیابی کے لیے قوم کا جذبہ، تعاون اور آگاہی ضروری ہے۔سربراہ پاک فوج نے یہ بھی کہا کہ  اپنے یقین، ایمان اورروایات کے لیے ہمیں کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، ہم اس پرچم کے سبز اور سفید دونوں رنگوں پر نازاں ہیں، لا الہ الااللہ  کا وارث ہونے پر ہمیں فخر ہے،  ہم جانتے ہیں پاکستان کا مطلب کیا ہے، چند بھٹکے ہوئے لوگوں کی لگائی آگ کی قیمت پورا پاکستان ادا کررہاہے، بھٹکے ہوئے لوگوں کے طرز عمل سے وطن کو سب سے زیادہ نقصان ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک بزرگوں کاحوصلہ،جوانوں کی جرات برقرار ہے کوئی پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، آج کا پاکستان دہشتگردی کے خلاف کامیابی کی روشن مثال ہے، بلوچستان کا امن خراب کرنے کی دشمن کی کوششوں پر گہری نظر ہے، جب تک پاکستان امن کا گہوارہ نہ بن جائے چین سے نہیں بیٹھیں گے، یہ ہماری بقاکی جنگ ہے اور ہمیں اسے آنے والی نسلوں کے لیے جیتنا ہے، قوم یقین رکھے پاک فوج ہر مشکل وقت میں آپ کے ساتھ ہے۔آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے کہا کہ قوم کا تعاون اورمدد رہی توعنقریب دہشتگردی کوجڑ سیاکھاڑ پھینکیں گے، فوج قوم کے تعاون اور حمایت کے بغیر کچھ نہیں، پاکستان کی اصل طاقت کا سرچشمہ ہمارے نوجوان ہیں۔

Read more

بارشوںکے دوران کپاس کی دیکھ بھال۔۔۔نوید عصمت کاہلوں

پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے اور ملکی مجموعی پیداوار کا تقریباً 75فیصد حصہ پنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔ کپاس اور اس کی مصنوعات کے ذریعہ ملک کو کثیر زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ کپاس حساس فصل ہونے کی وجہ سے بارشوں اور ہوا میں موجود نمی سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ کپاس کی فصل کیلئے زیادہ بارشیں پیداوار پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ کپاس کی 90 فیصد سے زائد کاشت خطہ جنوبی پنجاب میں ہے۔ کپاس حساس فصل ہونے کی وجہ سے بارشوں اور ہوا میں موجود نمی سے متاثر ہوتی ہے۔ کپاس کی فصل کیلئے زیادہ بارشیں پیداوار پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔کھیت میں بارش کا پانی زیادہ دیر نہ کھڑا رہنے دیں۔ کیونکہ اگر بارش کا پانی کپاس کے کھیت میں 24گھنٹے سے زیادہ دیر تک کھڑا رہے تو فصل کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔ حتیٰ کہ 48 گھنٹے پانی کھڑا رہے تو پودے مرجھانا شروع کردیتے ہیں۔ پانی کھڑا رہنے سے پودوں کا پھل بھی گرجاتا ہے۔ اگر کپاس کے قریب دھان، کماد یا چارہ جات کی فصلیں موجود ہوں تو بارش کا پانی ان فصلوں میں نکال دیا جائے یا کھیت کے ایک طرف لمبائی کے رخ 2فٹ چوڑی اور 4فٹ گہری کھائی کھود کر پانی اس میں جمع کردیا جائے۔ اگر کپاس کی فصل پیلی ہوجائے تو ایک بوری یوریا کھیلیوں میں کیرا کریں۔ نائٹروجن کی زیادہ کمی کی صورت میں پانی نکالنے کے بعد کھیت وتر آنے پر یوریا کھاد کا 2 فیصد محلول بناکر سپرے کیا جائے تاکہ پودوں کی نشوونما دوبارہ شروع ہوسکے۔ اگر پھر بھی فصل پر نائٹروجن کی کمی کی علامات نظر آئیں تو 10دن کے وقفہ سے اس محلول کا دوبارہ سپرے کیا جائے۔ برسات میں نمی زیادہ ہونے کی وجہ سے کپاس کی فصل سے رس چوسنے والے کیڑوں خصوصاً چست تیلہ اور سفید مکھی کے حملہ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جس کیلئے ہفتہ میں پیسٹ سکائوٹنگ جاری رکھیں اور کسی بھی کیڑے کی معاشی نقصان دہ حد پر پہنچنے پر محکمانہ سفارش کردہ زرعی ادویات کا سپرے کریں۔ زیادہ بارشوں کی صورت میں کپاس کے پودوں کی غیر ثمر دار بڑھوتری میں تیزی آجاتی ہے ۔ کپاس کے کھیتوں کے اندر اور باہر دوسری نظر انداز جگہوں پر جڑی بوٹیوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ نتیجتاً نقصان رساں کیڑوں کی تعداد بھی بہت تیزی سے بڑھتی ہے۔ پیسٹ سکائوٹنگ کے لیے چند قدم اندر جا کر 20 مختلف پودوں کا معائنہ اس طرح کریں کہ پہلے پودے کے اوپر والے، دوسرے پودے کے درمیان والے اور تیسرے پودے کے نیچے والے اور پھر چوتھے پودے کے اوپر والے پتے کی نچلی طرف دیکھ کر رس چوسنے والے کیڑوں کی تعداد نوٹ کرلیں۔ یہی عمل جاری رکھ کر 20 پودے پورے کرلیں۔ آخر میں تمام پتوں پر دیکھی جانے والی تعداد کو جمع کر کے فی پتا اوسط نکال لیں۔ اگر سفید مکھی کی تعداد 5 پر دار یا 5 بچے فی پتا یا دونوں ملا کر 5 فی پتا ہو تو یہ سفید مکھی کے نقصان کی معاشی حد ہے۔ اگر جیسڈ اور سفید مکھی کا حملہ اکٹھا موجود ہو تو ایک جیسڈ کو 5 سفید مکھیوں کے برابر تصور کر کے معاشی نقصان کا اندازہ لگائیں اور   محکمہ زراعت کے مقامی عملہ سے مشورہ کے بعد ہی مناسب زہر استعمال کریں۔ کپاس کے علاقوں میں موجود نمی کے باعث کپاس کے ٹینڈوں کی سنڈیوں کا حملہ بھی بڑھنے کا خطرہ ہے۔ کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ اپنے کھیتوں میں ٹینڈوں کی سنڈیوں کے نقصان کی معاشی حد معلوم کرنے کے لیے ہفتے میں دو بار پیسٹ سکائوٹنگ کریں۔ چتکبری سنڈی، امریکن سنڈی اور گلابی سنڈی کی معاشی نقصان دہ حد پر پہنچیں تو ان کے کیمیائی تدارک کے لئے  محکمہ زراعت کی سفارش کردہ نئی کیمسٹری کی زرعی زہروں کا سپرے کریں۔ لشکری سنڈی کو قابو میں رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ کپاس کے کھیتوں کی پیسٹ سکائوٹنگ کے دوران کپاس کے پودوں کا بغور جائزہ لیتے رہیں۔ اگر کسی پودے پر اس کے انڈے یا چھوٹی سنڈیاں نظر آئیں تو اُن کو ہاتھوں کی مدد سے چن کر تلف کریں ۔ بارشوں کی وجہ سے کپاس کے کھیتوں میں جڑی بوٹیاں زیادہ اگنا شروع ہو جاتی ہیں جس سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ کاشتکاروں کو چاہیے کہ فصل بڑی ہونے پر جڑی بوٹیوں کے تدارک کیلئے شیلڈ لگا کر بوٹی مار زہر سپرے کریں۔ زیادہ بارشوں کی وجہ سے پودے کا قد بہت بڑھ جاتا ہے جس سے بجائے پھل لینے کے پودا بڑھوتری کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ اگر غیر ضروری بڑھوتری کو نہ روکا جائے تو پیداوار کم ہونے کے ساتھ فصل بھی دیر سے تیار ہوتی ہے۔

Read more

افغانستان کے منہ میں بھارتی زبان۔۔۔راجہ طاہر محمود

پاکستان ،بھارت اور افغانستان ایسے ہمسایہ ممالک ہیں جن کی طویل ترین سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں افغانستان چونکہ خشک ممالک میں شامل ہیں ایسے ممالک جن میں سمندر نہیں لگتا اور ان کی تمام درآمدات اور برآمدات کا انحصار دوسرے ممالک پر ہوتاہے اور پاکستان اور بھارت اپنی، اپنی آبی سرحدوں کی وجہ سے اس کے لئے اہم ہیں ایسے میں پاکستان کا روٹ انتہائی مختصر ترین ہے جہاں سے اشیاء ایک سے دو دن میں افغانستان تک پہنچ سکتی ہیں اور بھارتی روٹ کافی لمبا بھی ہے اور ا سکی ڈائریکٹ رسائی وہاں پر نہیں ہوتی ایسے میں افغانستان کو اپنی تمام ضروریات پوری کرنے کے لئے پاکستان پر انحصار کرنا پڑتا ہے ماضی میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہت گہرے اور برادرانہ رہے ہیں جبکہ پاکستان نے ہمیشہ پر امن افغانستان کی بات کی ہے اور اس کے لئے کئی بڑی قربانیاں بھی دی ہیں اور کئی سال تک افغانستان کے عوام کی میزبانی بھی کی ہے مگر جیسے ہی افغانستان کے حالات کچھ بہتر ہوئے فورا انہوں نے منہ بھارت کی طرف موڑ لیا اور پاکستان کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا حالانکہ پاکستان نے ہمیشہ اس کا بھلا چاہا ہے اور اس کے لئے عملی اقدامات بھی اٹھائے مگر اب خطے میں سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈز کے منصوبوں میں چینی سرمایہ کاری کو بھارت اپنے لئے ایک چیلنج سمجھ رہاہے اور ایسے میں وہ افغانستان کو استعمال کر کے ناصرف پاکستان بلکہ چین کو بھی اس منصوبے پر کام سے روکنا چاہ رہا ہے اور اس میں بھارتی عزائم سب کے سامنے ہیں ایسے میں افغانستان کے حکمران بھارت کے آلہ کار بن کر صرف اور صرف اپنے ملک کا نقصان کرنے کے در پے ہیں کیونکہ پاکستان پہلے ہی اس منصوبے میں افغانستان کو شمولیت کی دعوت دے چکا ہے ۔پاکستان نے ہمیشہ پر امن اور خوشحال افغانستان کی بات کی ہے اور ایسے میں بھارت کبھی نہیں چاہے گا کہ افغانستان ترقی کرے اور وہ اس منصوبے میں شامل ہو شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں وہ اپنی مذموم کاروائیوں کی وجہ سے رنگے ہاتھوں پکڑا جا چکا ہے اور اس کی مثال کلبھوشن کی صورت میں سب کے سامنے ہے اب جبکہ سی پیک منصوبہ شروع ہو چکا ہے ایسے میں بھارت کی تمام چالیں ناکام ہونے کے بعد اس نے افغانستان کو اپنا ہمنوا بنانے کی پوری کوشش کی ہے اور وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہا ہے افغان حکومت گزشتہ کچھ عرصے سے اس روش پر عمل پیرا ہے کہ وہ اپنے ہاں ہونے والی دہشت گردی کی کسی بھی بڑی واردات کا الزام پاکستان کے سر تھوپ دیتی ہے اور اپنی کوتاہی اور ناکامی کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے ظاہری سی بات ہے یہ سب کچھ بھارت کے کہنے پر ہو رہا ہے افغانستان داخلی سطح پر ہونے والے انتشار اور اس کی وجہ سے اپنے ملک میں دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرنے کی بجائے اپنے داخلی معاملات کا جائزہ لے اور اس کا سد باب کرے پاکستان متعدد بار اس بات کی وضاحت کر چکا ہے کہ پاکستان نے بڑی محنت کے بعد آپریشن ضرب عضب کے ذریعے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک تباہ کیے اس دوران جو لوگ ملک کے دوسرے حصوں میں منتقل ہوگئے تھے آپریشن ردالفساد کے ذریعے ان کا صفایا کیا جارہا ہے اس کے باوجود افغان مہاجرین میں مبینہ طور پر ایسے عناصر بھی موجود ہیں  پاکستان اور افغانستان کے خلاف ان کی نشاندہی مشکل ہے سوچنے کی بات ہے کہ افغانستان میں ایسی کارروائیوں کا فائدہ کس کو پہنچتا ہے اس پر غور کئے بغیر حقائق تک نہیں پہنچا جاسکتاسوچے سمجھے بغیر اور کسی ثبوت کے بغیر پاکستان پر الزام کرنے سے کسی کو فائدہ نہیں ہو گا بنیادی سوال پر کابل حکومت کو غور کرنا چاہیے کابل دھماکوں سے کس کو فائدہ پہنچ سکتا ہے پاکستان جس نے ہمیشہ یہ کہا ہے اور جو حقیقت بھی ہے کہ وہ کابل کے عدم استحکام سے متاثر ہوتا ہے افغانستان میں امن اس کے لئے ناگزیر ہے وہ کیونکر کابل میں بدامنی سے اطمینان حاصل کر سکتا ہے کابل انتظامیہ کو اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اس نے اپنے معاملات کو درست کرنے کے لئے کس حد تک کوششیں کی ہیں محض امریکی ڈالروں کے ذریعے حکومت کرنا ہی طرز حکمرانی نہیں ہوتا ملک میں امن و امان کا قیام اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی حکمرانوں کے فرائض میں شامل ہوتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانستان پاکستان کے ان احسانات کو یاد کرے جن کی وجہ سے وہاں کے عوام اس قابل ہوئے کہ انھوں نے ملک کو قابضین سے بچایا اور وہاں کے عوام کو وہ سہولیات دی جنھیں کوئی بھی میزبان ملک نہیں دے سکتا تھا اس وقت تو بھارت نے بھی ان کا داخلہ اپنے ہاں بند کر دیا تھا جب پاکستان نے ان کو اپنا بھائی کہا ایسے وقت میں جب پاکستان کو افغانستان کی ضرورت ہے۔ اس نے ہمارے دشمن ملک بھارت سے ہاتھ ملا کر پاکستان کی پیٹ میں چھرا گھونپنے کی ناکام کوشش کی ہے یہ بات افغانستان کو بھی یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان اسلامی ملک ہے جبکہ بھارت غیراسلامی اور وہاں پر بسنے والی ہندو قوم کی خصلت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے بعد کسی کی پروا نہیں کرتا اور خاص طور پر مسلمان تو ان کے دوست ہو ہی نہیں سکتے ایسے میں افغانستان بھارت کا آلہ کار بن کر صرف اور صرف افغانستان کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے اس وقت افغانستان کے منہ میں بھارتی زبان اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ بھارت نے اپنے طور پر افغانی حکمرانوں کو مکمل طور پر اپنے قابو میں کیا ہواہے کیونکہ بھارت کبھی نہیں چاہے گا کہ افغانستان سی پیک یا ون روڈ ون بیلٹ منصوبے میں شامل ہو کر ترقی کرے ۔


Read more

طاقتوراتحادی مثلث۔۔۔سمیع اللہ ملک

پاکستان، روس اور چین کے د رمیان طاقتور اتحادی بننے کاسفر تیزی سے جاری ہے اور تینوں ممالک کے ہرسطح پررابطے مستحکم ہو رہے ہیں۔پاکستان اور روس کے درمیان سردجنگ کا طویل اور تلخ دورانیہ سالوں پر محیط ہے لیکن اب جہاں چین کے ساتھ مل کرطاقتور اتحادی مثلث بننے جارہے ہیں وہاں خوشگوار باہمی تعلقات کے ذریعے خطے میں امن وامان لانے کیلئے سر جوڑکربیٹھے ہیں۔ بہرحال اب یہ طے ہوگیاہے کہ ماسکو اوراسلام آبادکے تعلقات اب مخالف سمت میں سفر نہیں کرسکتے اوریہ بھی واضح ہوگیاہے کہ امریکاکواب افغانستان یااس خطے میں امن سے کوئی دلچسپی نہیں ہے،اس لئے خطے میں امن وامان اورافغانستان کے مسائل کے حل کیلئے چین،روس اورپاکستان کااتحادبہت ضروری ہے۔افغان جنگ اوراس کی وجہ سے سرحدوں پرفروغ پانے والی دہشتگردی اورانتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے ان ممالک کے درمیان دوفریقی اورسہ فریقی مذاکرات ہوچکے ہیں۔پاکستان کوپچھلے کئی برسوں سے دہشتگردی کے حملوں کاسامنارہا ہے جبکہ ماسکوبھی بم حملوں کی زدمیں رہاہے۔پاکستان اورماسکومیں دہشتگردی کی حالیہ لہراس بات کااشارہ کررہی ہے کہ دہشتگردی ایک بارپھران دونوں ممالک کی سرحدوں پردستک دے رہی ہے۔ چین اپنے صوبے سنکیانگ میں ایک عرصے سے دہشت گردی کاسامناکررہاہے لیکن اب سی پیک منصوبے کی کامیابی کیلئے پاکستان اور چین مل کرامن وامان کویقینی بنانے کیلئے انتھک محنت کررہے ہیں تاکہ گوادرسے سنکیانگ تک سی پیک پرکام جاری رہ سکے۔امریکااپنے مفادات کیلئے افغان جنگ کوخطہ میں پھیلاناچاہتاہے خصوصااسلام آباد،ماسکواوربیجنگ کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطے امریکاکے مفادمیں نہیں ہیں۔ سیاسی ماہرین کایہ خیال ہے کہ افغانستان میں شام جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش ہورہی ہے لیکن یہ تین ملکی اتحادایشیا کی صورتحال بھی تبدیل کردے گا۔موجودہ حالات میں امریکااورپاکستان کے تعلقات اب پہلے جیسے نہیں رہے اسی لیے ایک طرف روس اورپاکستان اورروس کے تعلقات مضبوط ہوتے جارہے ہیں تودوسری طرف امریکانے بھارت کوگودمیں لے لیاہے۔ چین،روس اور پاکستان کے تعلقات نہ صرف پوری دنیاکیلئے حیران کن ہیں بلکہ کئی ممالک اس طاقتوراتحادی مثلث کاحصہ بنناچاہتے ہیں تاکہ مستقبل میں ملکوں کے درمیان معاشی،تجارتی اورفوجی تعلقات بہترہوسکیں۔کچھ عرصہ پہلے ایران نے افغان جنگ کے سیاسی حل کیلئے روس،چین اور پاکستان کے اتحادی دائرے میں شامل ہونے کی خواہش کااظہارکیاتھا۔ یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کی امیدیں دم توڑچکی ہیں اورترکی اب اس اتحادی دائرہ میں شمولیت کاخواہاں ہے۔افغانستان میں امن اورخطہ میں استحکام کیلئے روس،پاکستان اورچین نے اپنی کوششوں کوتیزکردیاہے۔ پاک فوج کے ذرائع نے ٹرمپ انتظامیہ کوخبردارکیاہے اگرافغان مسئلے کاپائیدارحل نہیں نکالاگیاتویہ کام اب روس کرے گا۔مودی کوخوش کرنے کیلئے ٹرمپ کے بیانات پربھی جان مکین کی قیادت میں آنے والے اعلی سطحی امریکی وفدکواپنے شدیدخدشات سے آگاہ کردیاہے۔حقانی نیٹ ورک کے بارے میں تمام الزامات کومستردکرتے ہوئے ایک مرتبہ پھرسارے وفدکووزیرستان کے ان علاقوں کو دورہ بھی کروایاگیاجس کو دہشتگردوں نے اپنے آقائوں کی مددسے ناقابل تسخیربنارکھاتھااوران کے مستقبل کے ناپاک ارادوں مکمل طورپرخاک میں ملادیا گیاہے۔ ادھرپاکستان نے نصر میزائل کے کامیاب تجربے کے بعدبھارتی کولڈسٹارٹ کو مکمل طورپرٹھنڈاکر دیاہے اور خطے میں ہونے والی سازشوں کے جواب میں مزیدمیزائل تجربوں کے تسلسل کا بھی امکان ہے۔روس، چین اورپاکستان کاتین ملکی بین الاقوامی اتحاد خطہ میں امن واستحکام کیلئے کوشاں ہے اورحالیہ دنوں میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ماسکو،اسلام آباد اور بیجنگ کے دفتر خارجہ اور فوج کے حکام نے افغان جنگ کاسیاسی حل تلاش کرنے کیلئے بات چیت کی ہے۔ تین ملکی اتحادی مسلسل اس بات کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ واشنگٹن اب افغان جنگ کوختم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا، پاکستانی حکام کاکہناہے کے وہ اسلام آباد پریہ دبائو ڈال رہے ہیں کہ خطہ کے اہم ملکوں کومذاکرات میں شامل کرکے جلدازجلد افغان جنگ کے مسئلے کاسیاسی حل نکالاجائے۔افغان جنگ کے مسئلے پرروس، چین اور پاکستان کے درمیان کئی بار مذاکرات ہوچکے ہیں اوران میں سے اکثر میں امریکااوربھارت کوشریک نہیں کیاگیاہے،رواں مہینے کے آخرمیں روس ایک بار پھرافغان مسئلے پر مذاکرات کرناچاہ رہاہے اوراس میں امریکااوربھارت کے علاوہ دوسرے ممالک کی شرکت بھی متوقع ہے،ان مذاکرات کامقصدافغان حکومت اورطالبان کے درمیان سمجھوتاکرواناہے تاکہ افغانستان کی طویل جنگ کا خاتمہ ہو سکے۔پاکستان،روس اورچین خطہ میں پائیدار امن کا قیام چاہتے ہیں یہ تینوں ممالک صرف معاشی،سفارتی اوردفاعی تعلقات ہی بہتر بنانا نہیں چاہتے بلکہ یہ اپنی اور سرزمین اوراپنی سرحدوں سے انتہاپسندی دہشتگردی کامکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق داعش کے سینکڑوں جنگجوافغانستان میں داخل ہوچکے ہیں اور امریکی معاونت سے تورا بورا کے اہم علاقوں پرداعش کے قبضے کے بعدآئندہ کے امریکی لائحہ عمل کے خطرناک ارادوں کابھی پتہ چل گیاہے کہ اب اپنے مقاصد کے حصول کیلئے داعش کے ذریعے ان تینوں ممالک کیلئے بڑے مسائل پیداکرکے اپنی موجودگی کا جواز اور سی پیک کوناکام بنانے کی پوری کوشش کی جائے گی یہی وجہ ہے کہ یہ تینوں اتحادی ممالک امن کا قیام یقینی بنانا چاہتے ہیں تاکہ سی پیک بھی محفوظ رہے اوراس کے ساتھ ساتھ ایشیاء میں اقتصادی اورکاروباری مواقع بھی پیداہوں۔روس کے پاکستان اورچین سے بہترین تعلقات کے بعد اب یہ تینوں ممالک علاقائی منصوبوں پرمل کر بہتراندازمیں کام کرسکیں گے۔روس اورپاکستان کے درمیان مفاہمت2011 میں اس وقت شروع ہوئی، جب امریکا نے پاکستان پراسامہ بن لادن کوپناہ دینے کاالزام لگایااورایک خفیہ آپریشن میں اسے ہلاک کردیااس کے ساتھ ساتھ نیٹوافواج نے ہوائی حملہ کرکے پاکستانی فوجی جوانوں کو شہید کردیا، یہی دونوں واقعات پاک امریکا تعلقات میں بگاڑ کا سبب بنے ہیں۔آنے والے سالوں میں پاکستان کی پرخلوص کوششوں کے باوجودکچھ ممالک سے تعلقات بگڑرہے ہیں اوررابطے ختم ہورہے ہیں،ایسے میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کوتبدیل کیااوراسے وسیع بنیادوں پراستوار کرتے ہوئے ماسکوسے اپنے تعلقات کوبہتربنانے کافیصلہ کیا۔میں روس نے پاکستان پرسے اقتصادی پابندی اٹھالیں،روس کے اس مثبت اقدام نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اورسیکورٹی شراکت داری کے دروازے کھول دیے ہیں اور ستمبر میں پہلی باران دوریاستوں کے مابین مشترکہ فوجی مشقوں کاآغازہواہے۔امریکاکے طالبان سے بات چیت نہ کرنے کے واضح موقف کے باوجودپاکستان، روس اورچین نے حالیہ ملاقاتوں میں افغان جنگ کے اختتام اورافغانستان میں امن واستحکام کیلئے کابل اورطالبان کے درمیان پرامن مذاکرات پر اتفاق کیا ہے۔افغان جنگ کو ختم کرنے کیلئے چاہے شام جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے روس، پاکستان اور چین مل کر اس کا پرامن حل نکالیں گے، اگر تین ملکی اتحاد افغان جنگ کوپرامن طریقے سے ختم کرنے میں کامیاب ہوگیا تویہ اتحادی مثلث طاقتورترین اتحادمیں شمارکیاجائے گا۔اوریہ تینوں ممالک آئندہ دنیاکے امن کے نقیب کے طورپرپہچانے جائیں گے۔



Read more

مردم شماری پہ اٹھتے اعتراضات۔۔۔شہزاد حسین بھٹی

کوئی بھی ملک اُ سوقت تک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا جب تک اس ملک کی آبادی کے درست اعداد و شمار معلوم نہ ہوں۔ ملک کی آبادی کا تعین مردم شماری کے عمل سے ہی ہو سکتا ہے۔ مردم شماری کے تحت حاصل ہونے والے مواد  اور اعدادوشمار کے ذریعے محققین اور تجزیہ کار معاشرے کے مختلف امور پر معاشی اور معاشرتی عوامل کے وقوع پذیر ہونے یا ختم ہونے سے پیدا ہونے والے رجحان کی نشاندہی اور مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔آئین پاکستان کے تحت ملک میں ہر دس سال کے بعد مردم شماری و خانہ شماری لازم ہے لیکن انتہائی افسوس اور مقام شرمندگی ہے کہ ہم قیام پاکستان کے بعدسے لے کر اب تک صرف چھ بار مردم شماری کروا سکے۔ پہلی مردم شماری 1951، پھر بالترتیب 1961، 1972، 1998,1981 اور آخری بارمارچ اپریل 2017 میں ہوئی۔ یہ ہمارے حکمرانوں کی غفلت اور کوتاہی ہے کہ وہ تواتر کے ساتھ مردم شماری کرانے میں ناکام رہے، جسکا خمیازہ آج پاکستان مسائل کے انبار کی صورت میں بھگت رہا ہے۔پاکستان کی آبادی تیز رفتاری کے ساتھ بڑھ رہی ہے، پاپولیشن کونسل کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق پاکستان آبادی کے لحاظ سے چھٹا بڑا ملک ہے اور اگر اسی رفتار سے آبادی بڑھتی رہی تو 2050 میں پاکستان آبادی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر آجائے گا۔پاکستان میں چھٹی مردم شماری عبوری نتائج کے مطابق ملک کی آبادی 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار پانچ سو بیس افراد پر مشتمل ہے۔یہ اعدادوشمار پاکستان کے ادارہِ شماریات نے جمعے کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش کیے ہیں۔ان اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 19 سالوں کے دوران ملک کی آبادی میں 7,54,22,241افراد کا اضافہ ہوا ہے جو کہ 57 فیصد اضافے کے برابر ہے۔اعدادوشمار کے مطابق ملک کی موجودہ آبادی میں مرد اور خواتین کا تناسب تقریباً برابر ہے اور مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے میں صرف 51 لاکھ زیادہ ہے۔مردم شماری میں پہلی بار خواجہ سراؤں کو بھی گنتی میں شامل کیا گیا تھا جن کی تعداد 10418 بتائی گئی ہے۔ خواجہ سراؤں کی سب سے زیادہ تعداد صوبہ پنجاب میں تقریباً سات ہزار جبکہ سب سے کم تعداد فاٹا میں 27 ہے۔ابتدائی نتائج میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں آبادی میں اضافے کی اوسط سالانہ شرح دو اعشاریہ چار فیصد رہی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں اس شرح میں کمی آئی ہے جبکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور فاٹا میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔مردم شماری کے نتائج کے مطابق آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب ہے جو ملکی آبادی کا نصف سے زائد ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کی آبادی 11 کروڑ ہے جس میں دیہی آبادی تقریباً سات کروڑ ہے جبکہ چار کروڑ یا تقریباً 37 فیصد لوگ شہروں میں مقیم ہیں۔ 1998 ء  میں پنجاب کی آبادی سات کروڑ سے زیادہ تھی۔آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا صوبہ سندھ ہے جو پونے پانچ کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں دو کروڑ 49 لاکھ مرد، جبکہ دو کروڑ 29 لاکھ خواتین بستی ہیں۔باقی صوبوں کی نسبت سندھ میں آبادی کا بڑا حصہ شہری علاقوں میں مقیم ہے، جو صوبے کی کل آبادی کا 52 فیصد ہے۔خیبر پختونخوا کی آبادی پونے چار کروڑ ہے۔ وہاں بھی مرد و خواتین کی تعداد تقریباً برابر ہی ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں 81 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے جبکہ فاٹا کی کل آبادی 50 لاکھ بتائی گئی ہے۔بلوچستان میں کل آبادی ایک کروڑ 23 لاکھ سے زائد ہے۔ جہاں 64 لاکھ سے زائد مرد اور خواتین کی تعداد 58 لاکھ سے زائد ہے۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی آبادی 20 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ادارہ شماریات کے مطابق اسلام آباد میں شہری آبادی میں کمی جبکہ دیہی علاقوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 1998 میں اسلام آباد میں شہری آبادی تقریباً 66 فیصد تھی جو اب کم ہو کر تقریباً 51 فیصد رہ گئی ہے۔واضح رہے کہ ان اعداد وشمار میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے نتائج ابھی شامل ہونا باقی ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ انتخابی حلقہ بندیوں میں آج کی صورتحال کو مدِ نظر رکھ کر نشستوں کی فراہمی ممکن بنائی جائے نہ ماضی کے مطابق۔ ماضی میں ہونے والی مردم شماریوں پر بھی اعتراض اٹھائے گئے۔ 1961 میں ہونے والی مردم شماری پر مشرقی پاکستان کی جانب سے یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ ان کی آبادی کو کم ظاہر کرکے ان کے وسائل پر ڈاکا مارا جارہا ہے۔ اسی طرح 1982 میں بھی کراچی کی آبادی کو کم ظاہر کیا گیا اور سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس پر اس وقت کے سیکرٹری داخلہ محمد خان جونیجو نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے وفاق کے دباؤ پر کراچی کی آبادی کے اعداد و شمار میں رد و بدل کیا۔ 1991 کی مردم شماری بھی سیاست کی نظر ہوگئی تھی اس وقت بلوچستان اور کراچی کی آبادیوں میں غلطیاں اور تضاد پایا گیا تھا۔1998 کی مردم شماری کو آج تقریباً اٹھارہ سال ہو چکے ہیں، چھٹی مردم شماری 2008 میں ہونا تھی مگر اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے مردم شماری کرانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔موجودہ مردم شماری کے عبوری نتائج پر ابھی سے سیاسی جماعتوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں جوکہ خوش آئیند علامت نہیں۔ایم کیو ایم پاکستان نے مردم شماری 2017ء  کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی آبادی کم دکھاکر یہاں کی رہنے والی تمام قومیتوں کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مردم شماری میں شہر کی آبادی 1کروڑ 60 لاکھ دکھائی گئی ہے جبکہ کراچی میں 3کروڑ کے قریب لوگ رہتے ہیں۔حالیہ مردم شماری میں شہر کی آبادی سے 1کروڑ 40لاکھ لوگوں کو لاپتا کردیا گیا ہے،وہ 2017ء  کی مردم شماری کو مسترد کرتے ہیں اور ادارہ شماریات کی مذمت کرتے ہیں۔اسی طرح پاک سرزمین پارٹی نے بھی مردم شماری کے ابتدائی نتائج کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں کراچی میںاٹھارہ ٹائون بنائے گئے تھے جن کے مطابق کراچی کی مجموعی آباد ی 02 کروڑ سے زائد تھی جبکہ نئے اعداد و شمار کے مطابق یہ آبادی کم ہو کر صرف ایک کروڑ چالیس لاکھ رہ گئی ہے۔اسی طرح پیپلزپارٹی  اور دیگر چھوٹی جماعتوں نے بھی ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے اور انکی جانب سے پیش کر دہ تحفظات کو دورکرے۔مردم شماری کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم ہوتی ہے اور عوامی ضروریات کے مطابق منصوبوں کیلئے وسائل مختص کئے جاتے ہیں۔ یہ بالکل واضح ہے کہ کوئی بھی ملک اپنی آبادی کے درست اعداد و شمار کو جانے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔لیکن کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں مردم شماری کے نتائج کو درست اور حقیقت پر مبنی تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا؟ تعصب اور نسلی امتیاز کو کیوں ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ہمارا نظام شفاف کیوں نہیں ہو سکتا کہ کہ اس اعدادوشمار کی چھلنی پر سب کو اعتماد ہو۔اعتراضات کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ یاد رکھیں اگر کوئی سیاسی جماعت اپنے مفاد کی خاطر اعدادوشمار میں ہیر پھیر کرتی ہے تواس کے نتائج انتہائی بھیانک ہو نگے۔ہم ایک قوم ایک قوت اور ایک جان تب ہی ہونگے جب ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد ہو گاوگرنہ آنے والی نسلیں اس معاف نہیں کریں گی۔



Read more

قائد اعظم اور دو قومی نظریہ کے سچے جانشین۔۔۔میر افسر امان

اگر پاکستان کے سیاسی حالات پرذراگہری نذرسے دیکھا جائے تو قائد اعظم  اور دوقومی نظریہ کے سب سے پہلے اور سچے جانشین ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والے مسلمان اور اس کے بعد ان کو خوش آمدید کہنے والے پاکستان کی خاموش اکثریت والے عام مسلمان عوام ہیںجو اللہ اوررسولۖ اللہ کے بتائے ہوئے اسلامی نظام ، حکومت الہیہ، نظام ِمصطفےٰ کے نام پر مر مٹنے کے لیے ہر قوت تیار رہتے ہیں۔ جن کو قائد اعظم  نے تحریک پاکستان کے دوران اس بات کی نوید سنائی تھی کہ دو قومی نظریہ کے تحت پاکستان حاصل کرنے کے بعد پاکستان میں مثل مدینہ اسلامی فلاحی ریاست قائم کی جائے گی جو امت مسلمہ کی ہمیشہ سے خواہش تھی اور اب بھی ہے۔ اس کی تشریع کرتے ہوئے قائد اعظم نے ٢٦مارچ  ١٩٤٨ء چٹاگانگ میں مسلمانوں سے فرمایا تھا'' اتنا یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا (مقصدحیات) اسلام کے بنیادی اصولوں پر مشتمل جمہوری نوعیت کا ہو گا ان اصولوں کا اطلاق ہماری زندگی پر اسی طرح ہو گا جس طرح تیرہ سو سال قبل ہوا تھا''۔ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم   نے قیامِ پاکستان سے پہلے٢٢ اکتوبر  ١٩٣٩ء کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا'' مسلمانو! میں نے بہت کچھ دیکھا ہے۔ دولت،شہرت اور آرام و راحت کے بہت لطف اٹھائے اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سر بلند دیکھوں ۔میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کے میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی، تنظیم اور مدافعت میں اپنا حق ادا کر دیا میں آپ سے اس کی داد اور صلہ کا طلب گار نہیں ہوں میں یہ چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل، میرا ایمان اور میرا اپنا ضمیر گواہی دے کہ جناح تم نے واقعی مدا فعت اسلام کا حق ادا کر دیا اور میرا خدا یہ کہے کہ جناح بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے مسلمان جئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبہ میں اسلام کے علم کو بلند رکھتے ہوئے مرے'' ۔ ڈاکٹر پروفیسر ریاض علی شاہ اور کرنل الہی بخش قائد اعظم کے ذاتی معالج کی موجودگی میں قائد اعظم  نے موت سے دو دن پہلے کہا تھا''آپ کو اندازہ نہیں ہو سکتاکہ مجھے کتنا اطمینان ہے کہ پاکستان قائم ہو گیا اور یہ کام میں تنہا نہیں کر سکتا تھا جب تک رسول ۖ ِ خدا کا مقامی فیصلہ نہ ہوتا اب جبکہ پاکستان بن گیا ہے اب یہ لوگوں کا کام ہے کہ خلفائے راشدین  کا نظام قائم کریں۔'' حوالہ ڈاکٹر پروفیر رریاض کی ڈائری کے صفحات''۔کیا قائد اعظم کے بعد اقتدار کے بھوکے سیاست دانوں نے اس خاموش اکثریت کا میڈیا،دھن دولت،جبر، وڈھیرا شاہی، تھانہ اور پٹواری کلچر کے اپنے وسائل استعمال کر کے ان کی خواہشات کا احتصال اور  نہیںخون کیا؟۔ کیا قائد کی جانشین مسلم لیگ ،جو کبھی کنونشن لیگ،جونیجو لیگ، ق لیگ اور ن لیگ کے روپ میں پاکستان میں اقتدار اور اختیار ہونے اور پاکستان کا اسلامی آئین ہونے کے باوجود پاکستان میں قائد کے ویژن اور تحریک پاکستان میں برصغیر کے مسلمانوں کے وعدے کے مطابق بابرکت مثل مدینہ اسلامی ریاست قائم کی؟ یقیناً نہیں کی۔ آج کل نواز شریف اقتدار سے تا حیات نا اہل ہونے کی وجہ سے پروپگنڈا کر رہے ہیں کہ پاکستان کے١٨ وزیر اعظوں کو مدت پوری نہیں کر نے دی گئی اور مجھے اقتدار سے کیوں ہٹا دیا گیا۔ شاید اس کی وجہ پاکستان میں اسلامی حکومت قائم کرنے کا جو اللہ اور برصغیر کے مسلمانوں سے کیا گیا تھا، وعدہ پورا نہ کرنا ہو جو تحریک پاکستان کے دوران کیا گیا تھا ۔ اس وجہ سے اللہ کی مشیت کے تحت پاکستان کے ١٨ وزیر اعظم اپنی مدت پوری نہ کر سکے اور اقتدار سے علیحدہ کر دیے گئے۔ قائد اعظم کے سچے جانشین وہ بھی ہیں جو اقتدار میں نہیں تھے مگر حکمرانوں پر دبائو ڈالتے رہے کہ اللہ کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں اللہ کا نظام قائم کیا جائے۔ان میں پاکستان کے علماء اور دینی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ جماعت اسلامی نے علماء کو ملا کر پاکستان بننے کے بعد ہی اسلامی دستور کی مہم شروع کر دی تھی۔ پھرقر ارداد مقاصد کی منظوری کے بعد١٩٥٤ء میں ملک کا اسلامی دستور بن گیا تھا۔ اس کے نفاذ کا بھی اعلان ہو گیا۔ مگرغلام محمد گورنر جنرل جسے لوگ قادیانی سمجھتے ہیں نے٢٣  اکتوبر ١٩٥٤ کو اسمبلی توڑ کر منسوخ کر دیا۔ڈکٹیٹرایوب خان نے مارشل لا لگا دیا۔ امریکا کے کہنے پر مسلمانوں کے عائلی قوانین میں تبدیلی کی جو غلام محمد کے بعد پاکستان میں اسلامی نظام کی نفی تھی۔ عوام کے غضب کے سامنے ایوب خان نہ ٹھر سکے اور اقتدار ایک شرابی ڈکٹیٹر یخییٰ کے حوالے کر گئے۔ اس دوران ملک کے دو ٹکڑے ہو گئے۔مشرقی پاکستان کے مسلمان مغربی پاکستان کے مسلمانوں سے علیحدہ ہو گئے۔صاحبو! مسلمان حکمران جو اسلام کے آفاقی نظام کے تحت دنیا کے پونے چار براعظموں کے مختلف زبانوں،ثقافتوں اور تہذہبوں رکھنے والے قوموں کوایک ہزار سال تک ایک خدا ، ایک رسولۖ اور ایک قرآن کی تعلیمات کے تحت کامیابی سے ایک ساتھ جوڑ کر حکومت کرتے رہے۔ پاکستان کے نا عاقبت اندیش حکمران اسلامی نظام رائج نہ کر کے٢٤ سالوں میں صرف ایک بنگالی قوم کے مسلمانوں کو ساتھ نہ رکھ سکے ۔بھٹو کے کارناموں میں پاکستان کو ایک متفقہ اسلامی آئین شامل ہے گو کہ اس نے اس اسلامی آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا اور عوام کا نظام مصطفےٰ کا مطالبہ نہیں مانا۔ کبھی اسلامی شوشلزم اور کبھی روشن خیالی کے پر فریب نعروں پر ملک چلایا۔ ملک میں افراتفری سے ڈکٹیٹر ضیا الحق نے فاہدہ اُٹھا کر ملک میں مارشل لا لگا دیا۔ اس نے کچھ اسلامی دفعات نفاذ کیں مگر وہ بھی نامکمل تھیں۔پھر باری باری ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی سیاسی حکومتیں قائم ہوئیں مگر کسی نے بھی قائد  کے ویژن اور اللہ سے وعدے پر عمل نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی سے توعوام کوکچھ بھی امید نہیں تھی۔ (ن )مسلم لیگ جو قائد کی مسلم لیگ کے نام پر تھی اس سے عوام کو کچھ امید تھی۔ مگر نواز شریف نے قائد اور دوقومی نظریہ کی بیج کنی کرتے ہوئے الٹی گنگاہ بہا دی۔  ذراملاختہ فرمایں کہ ''قائد لاہور میں٢٣مارچ ١٩٤٠ء میں فرماتے ہیں کہ ہم مسلمان ہندوئوں سے علیحدہ قوم ہیں۔ ہمارا کلچر،ہماری ثقافت ،ہماری تاریخ ، ہماراکھانا پینا ہمارا معاشرہ سب کچھ یکسر ان سے مختلف ہے'' اور نا اہل وزیر اعظم نواز شریف ١٣ اگست ٢٠١١ء میں لاہور ہی میں فرماتے ہیں کہ''ہم مسلمان ہندو ایک ہی قوم ہیں ہماراایک ہی کلچر ایک ہی ثقافت ہے ہم کھانا بھی ایک جیسا کھاتے ہیںصرف درمیان میں ایک سرحد کا فرق ہے''۔ اس طرح پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے بر عکس قائد کی مسلم لیگ کی جانشین ن مسلم لیگ کے سابق سربراہ، تم نے تو قائد کے ساتھ بلکہ مسلمانان برصغیر اور پاکستان کے مسلمانوں کے ساتھ غداری کی ۔ قائڈ اور دوقومی نظریہ کی نفی کی۔ پاکستان کے خزانے کو لوٹا۔ ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے تمھیں عوامی عہدے سے تا حیات نا اہل قرار دے دیا۔ اب تم کہتے ہو مجھے کیوں ہٹایاگیا۔ پاکستان کے آئین کی کھلم کھلا آئین کی خلاف دردی کر رہے ہو۔ عدلیہ اور ملک کی مسلح افواج کے خلاف بغاوت پر اتر آئے ہو ۔اسی لیے لاہور ہائی کورٹ نے آئین  کے مطابق فوج اور عدلیہ خلاف آپ کے بیانات کی اشاعت پر پابندی لگا دی ہے۔ پہلے کہا جمہوریت ختم ہو جائے گی۔ آئین کے مطابق ن مسلم لیگ کا وزیر اعظم ملک چلا رہا ہے ،جمہوریت چل رہی ہے ۔صرف کرپشن میں پکڑاجانے والانواز شریف حکومت میں نہیں ہے۔صاحبو! ملک میں قائد اور دو قومی نظریہ کے سچے جانشین ملک کے بیس کروڑ سے زائد مسلمان اور نظریہ پاکستان پریقین رکھنے والی سیاسی اور دینی جماعتیں ہیںجن میںسر فہرست جماعت اسلامی ہے۔ جو کشمیر میں قائد کے تکمیلِ پاکستان کی تحریک جاری کیے ہوئے ہے۔ جس نے افغانستان میں سرخ ریچھ کو پاکستان پر قبضہ سے روکا۔ جو دنیامیں مسلمانوں کی پشتی بان ہے۔ جس کے لیڈروں کو بنگلہ دیش میں پاکستان کی فوج کا ساتھ دینے اور دو قومی نظریہ کی پاسداری کی وجہ سے سولیوں پر چڑھایا جا رہے۔ اب تک جماعت اسلامی کے ١٢لیڈروں کو بھانسیاں دی جا چکی ہیں۔ سیکڑوں کارکن جیل میں بند ہیں ۔ جو کرپشن سے پاک ہے۔ جس کے امیر کو ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے صادق اور امین کہا ہے۔ یہ ہیں قائد اور دو قومی نظریہ کے سچے جانشین۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین۔                                                                                                


Read more

کچھ تذکرہ ضیاء آمریت کا۔۔۔ضمیر نفیس

شاعر نے یاد ماضی کو عذاب قرار دیا ہے مگر میں ان خوش قسمت افراد میں سے ہوں جن کا ماضی شاندار اور قابل فخر رہا ہے دولت سے حال اور ماضی شاندار ہوتا ہے نہ قابل فخر البتہ یہ اعلیٰ مقاصد اور اس کے حصول کی جدوجہد سے ہوتا ہے جس ترقی پسندی کے ساتھ شاعری اور صحافت کے میدان میں قدم رکھا تھا اس پر قائم رہنے اور اس کاذ کے لئے جدوجہد پر اطمینان معمولی کامیابی نہیں میری یہ بھی خوش قسمتی رہی کہ اس سفر کے دوران ایسے شریک سفر ملے جن سے نظریاتی ہم آہنگی تھی  صحافت کے سفر میں ضیاء الحق کا دور کٹھن تھا اپوزیشن کے ترجمان اخبار ''حیدر'' کے ایڈیٹر کی حیثیت سے اس وقت کے سیکرٹری اطلاعات جنرل مجیب الرحمان خیبرپختونخواہ کے گورنر جنرل فضل حق اور آزادکشمیر کے چیف ایگزیکٹو بریگیڈئیر حیات کے ساتھ بڑے معرکے ہوئے مجیب الرحمان کی دھمکیوں کے علاوہ اشتہارات اور نیوز پرنٹ کے کوٹہ کی بندش بھی تھی مگر پوری ٹیم کے اندر ایک جذبہ تھا جسے فوجی حکومت ماند نہ کر سکی۔حافظ طاہر خلیل میرے معتمد ترین ساتھیوں میں سے تھے بہت کم احباب جانتے ہیں کہ وہ ایک زبردست ترقی پسند شخصیت ہیں خوبصورت تحریر کے ساتھ موثر خبر بنانے کا ہنر رکھتے ہیں انہوں نے سیاسی رپورٹ کے علاوہ اخبار میں شفٹ انچارج کی حیثیت سے بھی کام کیا' ترجمہ بھی کیا' جس شعبہ میں کمی دیکھی آگے بڑھ کر فرائض ادا کئے' بھٹو دور میں اس وقت کے وفاقی وزیر ممتاز بھٹو کے پریس سیکرٹری بھی رہے بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ بھی کام کیا ان کی بہت سی خوبیوں میں یہ بھی ہے کہ  وہ قائل کرتے ہیں اور قائل ہونا بھی جانتے ہیں سی آر شمسی جو ایک دور میں پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل رہے چکوال میں ہمارے اخبار کے نامہ نگار تھے انہوں نے مجھے کہا کہ وہ راولپنڈی میں رہائش اختیار کرنا چاہتے ہیں ۔ پنڈی میں ان کے لئے جگہ بنائی جائے میں نے ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر ہاں کی اور راولپنڈی میں شروع میں انہیں سٹی رپورٹر اس کے بعد سیاسی رپورٹر کی ذمہ داریاں بھی دیں اس طرح ہمارے اخبار نے صحافیوں کے مستقبل کے لیڈر کو مواقع فراہم کئے منظور صادق حیدر کے نیوز ایڈیٹر تھے اگرچہ احمدی تھے اس کے باوجود حافظ طاہر خلیل ان کی عزت کرتے تھے اور دفتر میں ایک دوستانہ ماحول تھا۔ یہ معمولی بات نہیں تھی ایک ایسا ماحول تھا جس میں مذہب اور عقیدے کی بنیادپر کوئی تعصب نہ تھا سب کا ایک ہی مشن تھا جمہوریت کی بحالی ترقی پسندانہ فکر کا فروغ اور استحصالی معاشرے کا خاتمہ' محمد عاشق  اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں زبردست محنتی سب ایڈیٹر تھے اکرم سلیم نو آموز کارکنوں میں شامل تھے جلد ہی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور اندر کی ایک کاپی کے انچارج بنا دئیے گئے۔راجہ ظفر الحق جنرل ضیاء الحق کے وفاقی وزیر اطلاعات تھے جنرل ضیاء نے کہا تھا وہ میرے اوپننگ بیٹسمین ہیں تاہم  سیکرٹری اطلاعات جنرل مجیب الرحمان جو پرویزی تھے بہت زیادہ طاقتور تھے ہمارا پی آئی ڈی اور حکومت سے جھگڑا یہ تھا کہ ہم ایم آر ڈی کو نام نہاد لکھنے کے معاملے میں حکومت کا  حکم نہیں مانے تھے کم و بیش تمام اخبارات نے ایم آر ڈی کو نام نہاد لکھنا شروع کر دیا تھا۔ حکومت کی دوسری تکلیف اخبار کے سخت اداریے اور میرا زیر زبر کے عنوان سے کالم تھا ایک دن مجھے پی آئی او نے کہا کہ کل آپ کی سیکرٹری اطلاعات سے دس بجے میٹنگ طے پائی ہے آپ ہماری بات تو مانتے نہیں اب آپ جانیں اور وہ جانیں مختصراً اگلے روز میں وقت مقررہ پر پہنچا جونہی کمرے میں داخل ہوا اپوزیشن کے ترجمان اخبار کے ایڈیٹر کی انہوں نے اس طرح پذیرائی کی ''کیا ایم  آر ڈی لگا  رکھی ہے اخبار سمیت آپ سب کو بند کردونگا'' میں نے ہنس کر کہا جنرل صاحب میں آپ کا مہمان ہوں پہلے مجھے بیٹھنے کو کہیں پھر ٹھنڈا گرم پوچھیں اس کے بعد ڈانٹ ڈپٹ بھی کرلیں انہیں فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا بیٹھنے کو کہا اور ٹھنڈا گرم منگوایا مجھے ٹرسٹ کے اخبار میںزیادہ تنخواہ کی پیشکش کی میں نے کہا پالیسی چیف ایڈیٹر کی ہے میرے بعد ہوسکتا ہے مجھ سے بھی زیریلا آئے مسئلہ تو وہیں رہے گا' کہنے لگے جنرل ضیاء کا موڈ صبح صبح آپ کے اخبار کو پڑھ کر خراب ہوتا ہے اور مجھے فون کرتے ہیں کہ ایک اخبار آپ سے قابو نہیں ہو رہا میں ہے کہا آپ ان کو ہمارا اخبار بھجواتے ہی کیوں ہیں کہنے لگے یہ بھی کرکے دیکھ لیا وہ حیدر مانگتے ہیں مجیب الرحمان کہنے لگے راہ راست پر آجائو ورنہ! اس ملاقات کے ایک ہفتے بعد  اخبار کے چیف ایڈیٹر محمد رفیق بٹ کو نظر بند کر دیا گیا۔


Read more

ایوان کی طرف سے سعودی عرب کو مذاکرات کی پیشکش

ایران کے عازمین حج کو اس بار سعودی حکومت کی طرف سے جو سہولتیں فراہم کی گئیں انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی مزید بہتری کا راستہ کھولا ہے چنانچہ ایران کی طرف سے سعودی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق حج تنظیم کے سربراہ علی غازی عسکر نے ایرانی عازمین کے لئے الگ سے نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممالک کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو ڈائیلاگ اور مذاکرات کے ذریعے طے کریں ان کا مزید کہنا تھا کہ حج کے کامیاب انعقاد کے بعد دونوں فریقوں کے لئے یہ ایک اچھا وقت ہے کہ وہ دوسرے شعبوں میںاپنے دوطرفہ امور کو طے کرنے کے لئے مذاکرات کریں ادھر ایران کے وزیر خارجہ محمد جواذ ظریف نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک واضح تبدیلی کی تصویر کے منتظر ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سال 86 ہزار کے لگ بھگ ایرانیوں نے فریضہ حج ادا کیا اور سعودی حکومت کی طرف سے کئے گئے انتظامات کو بے حد سراہا۔ صدر ایران حسن روحانی نے کہا تھا کہ اس سال کسی ناخوشگوار واقعہ سے پاک حج سے تہران اور ریاض کے درمیان دوسرے شعبوں میں بھی اعتماد کی فصا پیدا کرنے  میں مدد مل سکتی ہے۔ ہماری دانست میں ایران کا مثبت رویہ اہم پیش رفت ہے ایران کی حج تنظیم کے سربراہ کے بیان سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک خوشگوار فضا پیدا  ہوئی ہے اس فضا کو دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے  لئے استعمال میں لایا جانا چاہیے ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی علامتی پیرائے میں خوبصورت بات کی ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ دونوں ممولک کے تعلقات میں ایک واضح تبدیلی کی تصویر کے منتظر ہیں گویا وہ امید کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہتری کا رخ اختیار کریں گے ہمارے نزدیک سعودی عرب اور ایران کے درمیان خوشگوار تعلقات مسلم امہ کے مفاد میں ہیں جو دونوں ملکوں کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے مظہر ہیں  دونوں ملکوں کو یہ حقیقت اپنے پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اسلام دشمن طاقتیں مسلم ممالک میں اتحاد اور یکجہتی کے خلاف ہیں ان کا مفاد اسی میں ہے کہ مسلم ریاستیں متحد نہ ہوں ایک دوسرے سے برسرپیکار رہیں اور وہ ان کے وسائل لوٹتے رہیں اسلام اتحاد کا درس دیتا ہے اور مسلم ممالک کو اسلام کے اس اصول پر عمل پیرا ہونا چاہیے ہم توقع کرتے ہیں کہ سعودی حکومت کی طرف سے بھی ایران کے مثبت اور پرجوش جذبات کا خیر مقدم کیا جائے گا۔



Read more

پاکستان کا مضبوط موقف' امریکی وضاحتیں

صدر امریکہ کی طرف سے نئی افغان پالیسی کے حوالے سے پاکستان کے بارے میں جو لب و لہجہ اختیار کیا گیا پاکستان کی پارلیمنٹ حکومت اور آرمی چیف کی طرف سے اس کا جس موثر انداز میں جواب دیا گیا اس کے نتیجے میں اب امریکہ اپنے موقف کی وضاحتیں پیش کرنے لگا ہے اور اس کے موقف میں بھی قدرے تبدیلی سامنے آئی ہے اسلام آباد میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ناصر جنجوعہ سے ملاقات کے دوران امریکی پالیسی کے اہم نکات کی جو وضاحت کی ہے اسے بڑی حد تک اطمینان بخش قرار دیا جاسکتا ہے امریکی سفیر نے واضح کیا کہ صدر امریکہ نے افغانستان میں ناکامی کا الزام پاکستان پر عائد نہیں کیا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ انہوں نے نظرثانی کی پالیسی میں افغان مسئلہ کا فوجی حل قرار دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ فوجی حل مسئلہ کا محض ایک پالیسی جزو ہے اسی طرح افغان مسئلہ کے حل کے لئے پاکستان کے کردار کو خارج از امکان قرار دنہیں دیا جاسکتا  اس مقصد کے لئے پاکستان' افغانستان' چین اور امریکہ پر مشتمل جو رابطہ گروپ قائم کیا گیا ہے اسے فعال کرنے پر غور ہو رہا ہے جس میں پاکستان کا کردار یقینا اہم ہوگا امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں امریکہ ان کا اعتراف کرتا ہے ہم افغان مسئلہ کے حل کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے تعاون کے خواہاں ہیں ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف تعاون پر مبنی اپنا کردار جاری رکھے گا امریکی سفیر نے یہ بھی واضح کیا کہ افغانستان میں اضافی فوج کی تعیناتی کا مقصد افغان فوج کو تربیت  فراہم کرنا ہے افغانستان میں موجود کمانڈوز کے اضافی اختیارات کا مقصد پاکستان مخالف تحریک طالبان کے خلاف فوری کارروائی کرنا ہے افغان حکومت کو بھی دہشت گردی پر قابو پانے  اور لوگوں کے دل و دماغ جیتنے گورننس کو بہتر بنانے کے لئے کہا گیا ہے امریکی سفیر نے افغانستان میں بھارت کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پاکستان کے جذبات سے بخوبی آگاہ ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں اپنا کردار  ادا کرنے کو تیار ہے افغانستان میں بھارت کا کردار صرف معاشی ترقی کے لئے ہے جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے امریکی سفیر پر واضح کیا کہ پاکستان امریکی پالیسی کا جائزہ لے رہا ہے اسے ابھی بعض تفصیلات اور مزید وضاحتیں درکارہیں پاکستان افغانستان میں دیرپا امن کے لئے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے انہوں نے کہاکہ امریکہ کا رویہ مایوس کن تھا دنیا کے سامنے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے اسے دھمکیاں دی گئیں اس کا غلط تشخص پیش کیا گیا۔ یہ سب ہمیں کسی صورت قبول نہیں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو غلط انداز میں دہشت گردی کے ساتھ منسلک کیا گیا نئی افغان پالیسی نے خطے کے توازن میں بگاڑ پیدا کیا اسی باعث پاکستان کے عوم اور پارلیمنٹ نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو  غلط نہ ہوگا کہ پانی پالیسی کی تشریح اور وضاحت کے نام پر امریکہ بعض معاملات میں اعلان کردہ پالیسی سے پیچھے ہٹ رہا ہے ' صدر ٹرمپ نے جس پالیسی کا اعلان کیا تھا اس میں چار ممالک پر مشتمل رابطہ گروپ کا کوئی تذکرہ اور کردار نہ تھا کئی ماہ سے امریکہ اس رابطہ گروپ کو نظرانداز کر رہا تھا جبکہ پاکستان کا یہ اٹل موقف تھا کہ چین' افغانستان ' امریکہ اور پاکستان پر مشتمل گروپ کو افغانستان میں قیام امن کے لئے کوششیں تیز کرنی ہیں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ پاکستان اور دیگر ممالک کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ مسئلہ افغانستان کا حل طاقت کے استعمال میں  نہیں ہے بلکہ مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے اسے حل کیا جاسکتا ہے اس کے برعکس صدر ٹرمپ نے فوجی طاقت کے استعمال پر زور دیا تھا اب امریکہ نے یہ وضاحت کی ہے کہ فوجی حل پالیسی کا محض ایک جزو ہے گویا مذاکرات کے ذریعے بھی قیام امن کے لئے کوششیں کی جاسکتی ہیں۔ یہ امر بھی اطمینان بخش ہے کہ امریکی وضاحت میں افغانستان کے اندر پاکستان مخالف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے اور یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بھارت کا افغانستان میں کردار محض معاشی حوالے سے ہے اس کے علاوہ کوئی کردار نہیں ہے۔ قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے بجا طور پر کہا کہ پاکستان کو امریکی پالیسی کے حوالے سے مزید وضاحتیں درکار ہیں ادھر امریکہ نے چار ہزار مزید فوجیوں کی افغانستان میں تعیناتی کا اعلان کیا ہے  جبکہ آٹھ ہزار کے لگ بھگ پہلے سے موجود ہیں اس تناظر میں عسکری کارروائیوں کے ذریعے کسی کامیابی کی توقع عبث ہے امریکہ اگر بڑھکیں لگانے کے بجائے امن عمل کو آگے بڑھانے کے لئے سنجیدگی سے کوششیں کرے  اور چار ملکی رابطہ گروپ کو فعال بنائے تو یقینا افغان تنازعہ کے حل کی توقع کی جاسکتی ہے۔

Read more

جی ایچ کیو میں یوم دفاع کی مرکزی تقریب، آرمی چیف مہمان خصوصی

جنرل ہیڈ کوارٹرز میں یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے مرکزی تقریب جاری ہے جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت اعلی سیاسی و عسکری شخصیات شریک ہیں۔جی ایچ کیو میں جاری تقریب میں پاک فوج کی جرات، بہادری اور قربانیوں کو سراہا اور وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ تقریب کے مہمان خصوصی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں جبکہ ایئر چیف سہیل امان اور نیول چیف ایڈمرل محمد ذکا اللہ بھی تقریب میں موجود ہیں۔اس کے علاوہ تقریب میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر خارجہ خواجہ آصف، وزیر دفاع خرم دستگیر، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، مریم اورنگزیب، قائد حزب اختلاف خورشید شاہ، چینی سفیر سن وائی ڈونگ اور دفاع وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کے اہل خانہ بھی شریک ہیں۔تقریب میں ملی نغموں اور قومی ترانوں کے ذریعے پاک وطن کے دفاع میں اپنی جانیں نچھاور کرنے والے عظیم شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔ اس موقع پر کشمیر میں بھارتی فورسز کے ظلم و بربریت کی بھی مذمت کی گئی اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی گئی۔


Read more