Get Adobe Flash player

06 September 2017

ایک اور اسرائیل ۔۔۔ڈاکٹر تصور حسین

امریکہ بہادر اپنی کالونی انڈیا کو بنانا چاہتا ہے تاکہ جیسا اسرائیل نے عربوں بالخصوص فلسطینیوں کا جینا حرام کیا ہوا ہے اسی طرح جنوبی ایشیا بالخصوص چین اور پاکستان کو نتھ ڈالنے کے لئے ایک دوسرااسرائیل بنانا چاہتا ہے ۔ گزشتہ روز ریکس ٹلرس نے افغانستان کے مسئلے کے حل میں بھارت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھی افغان طالبان سے مذاکرات کرانے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ٹیلرسن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے شہریوں نے دہشت گردوں کے ہاتھوں جتنا ظلم سہا ہے اتنا ہم نے کہیں اور نہیں دیکھا۔امریکی وزیرِ خارجہ نے افغانستان کے لیے بھارت کو ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنرقرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی معاشی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے بھارت کی کوششیں اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اگلے ہفتے بھارت افغانستان کے لیے ایک اکنامک کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے اور ان کے بقول نئی دہلی کی ایسی تمام کوششوں کا مقصد افغانستان کے ساتھ تجارت اور باہمی تعلقات کو فروغ دے کر خطے میں امن قائم کرنا ہے۔اس سے قبل پیر کی شب جنوبی ایشیاء سے متعلق اپنی نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ پاکستان اربوں ڈالر کی امریکی امداد لینے کے باوجود شدت پسندوں کو پناہ فراہم کر رہا ہے جو امریکہ اور امریکی قوم کے دشمن ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان پالیسی میں پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کردی اور آئندہ کیلئے پاکستان سے ایک بار پھر ڈومور کا مطالبہ کردیا۔آرلینگٹن کے فوجی اڈے سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کیلوے امریکی پالیسی میں پاکستان سے متعلق پالیسی بیان کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردوں کی مبینہ پناہ گاہوں پر خاموش نہیں رہیں گے، پاکستان افراتفری پھیلانے والے افراد کو پناہ دیتا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان سے نمٹنے کے لیے اپنی سوچ تبدیل کر رہے ہیں جس کے لیے پاکستان کو پہلے اپنی صورتحال تبدیل کرنا ہوگی اور پاکستان تہذیب کا مظاہرہ کرکے قیام امن میں دلچسپی لے۔ جنوبی ایشیاء میں اب امریکی پالیسی کافی حد تک بدل جائے گی۔امریکی صدر نے اپنے خطاب میں ایک طرف پاکستانی عوام کی دہشتگردی کیخلاف قربانیوں کو سراہا تو دوسری جانب واضح کیا کہ پاکستان اربوں ڈالر لینے کے باوجود دہشتگردوں کو پناہ دے رہا ہے جب کہ ہم دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی مالی مدد کرتے آئے ہیں۔ پاکستان دہشتگردی کیخلاف ہمارا اہم شراکت دار ہے اس لیے پاکستان کا افغانستان میں ہمارا ساتھ دینے سے فائدہ، بصورت دیگر نقصان ہوگا۔ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دوایٹمی طاقتیں ہیں، ایٹمی ہتھیار دہشتگردوں کے ہاتھ نہیں لگنے دینا چاہتے تاہم پاکستان اور افغانستان میں ہمارے مقاصد واضح ہیں اس لیے پاکستان اور افغانستان ہماری ترجیح ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں صرف فوجی کارروائی سے امن نہیں ہو سکتا، سیاسی، سفارتی اور فوج حکمت یکجا کرکے اقدام کریں گے، افغان حکومت کی مدد جاری رکھیں گے اور امریکا افغان عوام کے ساتھ مل کر کام کرے گا اس لیے افغانستان کو اپنے مستقبل کا تعین خود کرنا ہوگا۔امریکی صدر نے کہا کہ دہشتگرد رکنے والے نہیں، بارسلونا حملہ ثبوت ہے، دہشتگردوں کو بزور طاقت شکست دیں گے۔ انہوں نے دہشتگردوں کو خبردار کرتے ہوئے کہ قاتل سن لیں، امریکی اسلحے سے بچنے کیلئے جگہ نہیں ملے گی اور دہشتگردی کے علمبرداروں کو دنیا میں کوئی جگہ نہیں ملے گی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں بھارتی کردار کا اعتراف بھی کیا اور مطالبہ کیا کہ بھار ت کریں گے، افغان حکومت کی مدد جاری رکھیں گے اور امریکا افغان عوام کے ساتھ مل کر کام کرے گا اس لیے افغانستان کو اپنے مستقبل کا تعین خود کرنا ہوگا۔امریکی صدر نے خطاب کے دوران دہشتگردی کے حوالے سے پالیسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد رکنے والے نہیں، بارسلونا حملہ ثبوت ہے، دہشتگردوں کو بزور طاقت شکست دیں گے۔ انہوں نے دہشتگردوں کو خبردار کرتے ہوئے کہ قاتل سن لیں، امریکی اسلحے سے بچنے کیلئے جگہ نہیں ملے گی اور دہشتگردی کے علمبرداروں کو دنیا میں کوئی جگہ نہیں ملے گی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں بھارتی کردار کے اعتراف بھی کیا اور مطالبہ کیا کہ بھارتی دہشتگردی کے خاتمے میں ہماری مدد کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو افغانستان میں چیلنج صورتحال کا سامنا ہے اس لیے افغانستان کو ہر زاویے سے دیکھ کر حکمت عملی تیار کی، ہم کسی نہ کسی طرح مسائل کا حل نکالیں گے اور دہشتگردی بڑھانے والوں پر معاشی پابندیاں لگائیں گے اور یقین ہے نیٹو بھی ہماری طرح فوج بڑھائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے بھی اپنی عوام کی طرح افغان جنگ میں طوالت پر پریشانی ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ نائن الیون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو کوئی نہیں بھول سکتا، یہ حملے بدترین دہشتگردی ہیں، ان کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد افغانستان سے ہوا تاہم امریکا کو بیرونی دشمنوں ۔امریکی صدر نے کہا کہ نائن الیون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو کوئی نہیں بھول سکتا، یہ حملے بدترین دہشتگردی ہیں، ان کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد افغانستان سے ہوا تاہم امریکا کو بیرونی دشمنوں سے بچانے کیلیے متحد ہونا پڑیگا اور دہشتگردی کے خلاف ساتھ دینے والے ہر ملک سے اتحاد کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اتحادیوں سے مل کر مشترکہ مفادات کا تحفظ کریں گے اور دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی قوم گزشتہ 16 سال کے جنگی حالات سے پریشان ہو چکی ہے جب کہ امریکا نے نسل در نسل مسائل کا سامنا کیا اور ہمیشہ فاتح رہا۔صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر پاکستان نے دہشت گردوں کی پشت پناہی جاری رکھی تو اس کا نقصان بھی سب سے زیادہ اسے ہی اٹھانا پڑے گا۔پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے صدر ٹرمپ کے پالیسی بیان پر اپنے ابتدائی ردِ عمل میں کہا ہے کہ امریکہ محفوظ پناہ گاہوں کے غلط دعوئوں کے بجائے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کا ساتھ دے۔پاکستان نے دہشت گردوں کو پناہ دینے کے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی نئی پالیسی میں پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستانی جنوبی ایشیاء میں قیامِ امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان کے دیرینہ اتحادی چین نے بھی نئی امریکی پالیسی پر اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ عالمی برادری کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔امریکہ بہادر ایک طرف پاکستان کو دوست جبکہ دوسری طرف عدم اعتماد کرتا ہے۔ امریکی صدر کے بیان کے بعد یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکہ بھارت کو تھانیدادی سونپ کر اپنی کالونی بنانا چاہتا ہے ۔ امریکہ کا یہ خواب کہ وہ جنوبی ایشیاء میں ایک اور اسرائیل بنا لے گاکبھی پورا نہیں ہوگاان شاء اللہ

Read more

06 September 2017

دبنگ جواب۔۔۔محمد ناصر اقبال خان

ہماری زندگی میں کئی دوراہے اورچوراہے آتے ہیں جہاں سے ایک راستہ اِنسان کو عزت وعظمت ، دوسراراستہ ہزیمت،رسوائی اورپسپائی جبکہ تیسراراستہ گمنامی،تاریک راہوں( یعنی جس کادنیا میں ہونانہ ہوناایک برابر ہو) جبکہ چوتھاراستہ روشن مستقبل کی طرف جارہاہوتا ہے۔پریشانیاں اوردشواریاں ہرشاہراہ پربکھری پڑی ہوتی ہیں مگرجو لوگ سوچ بچار سے درست راہ منتخب کرتے ہیںانہیں رفعت ،عفت اور عافیت نصیب ہوتی ہے ۔ جس طرح دنیا کسی نڈر انسان کی بہادری کامظاہرہ دیکھتی ہے اس طرح بزدل یاحد سے زیادہ مصلحت پسنداورمنافق بھی بے نقاب ہوجاتے ہیں ۔شہزادہ کونین حضرت امام حسین  تاریخ کاقابل فخر حصہ ہیں جبکہ یزید بھی تاریخ کاحصہ ہے مگر یذیدیت گندے جوہڑ میں نابود ہوگئی جبکہ حسینیت  آج بھی زندہ وتابندہ ہے ۔ہم حسینیت  کے پیروکار اورعلمبردار ہیں ،ماضی کے یذید اورفرعون حق پرغالب آ ئے تھے نہ عہدحاضر کاکوئی یذید اورفرعون کسی قیمت پرحق کومغلوب کرسکتا ہے۔دشمن کوشکست فاش سے دوچار کرنے کیلئے حمیت سب سے بڑاہتھیار ہے ، نڈر ہونے کے ساتھ غیورہونا بھی ضروری ہے۔اپنے ملک کی خودمختاری کی حفاظت کاراستہ خوددداری سے ہوکرجاتا ہے۔خود دار لوگ ناقابل شکست ہوتے ہیں ،انہیں قیدکیاجاسکتا ہے مگرغلام نہیں بنایاجاسکتا۔ اگر میدان لگ جائے توپھردشمن پررحم نہ کرو ،دشمن سے انتہاسے زیادہ نفرت آپ کی طاقت بن جاتی ہے۔جس طرح نریندرمودی کووزرات عظمیٰ ملنے سے بھارت کابیڑاغرق ہونااٹل ہوگیا تھا اس طرح ڈونلڈٹرمپ اپنے ہاتھوں امریکہ کی  یونائٹیڈ اسٹیٹس کا شیرازہ بکھیرنے کے درپے ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کومنصب صدارت ملنا امریکہ کے ڈائون فال کانکتہ آغاز ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پارٹ ٹو نریندر مودی کے ہاتھوں بھارت کی بربادی اٹل ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ہم وطنوں کودوطبقات میںتقسیم جبکہ منقسم ومنتشر پاکستانیوں کو آپس میں جوڑدیا ہے۔شدت پسندنریندرمودی کے دوراقتدارمیں بھارت میں ہندوئوں کی انتہاپسندی زوروں پر ہے،اب بھارت میں مسلمانوں اورسکھوں سمیت کوئی اقلیت اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتی ۔پاکستانیوں کوامریکہ کے عوام نہیں وہاں کے حکمرانوں سے شدیدنفرت ہے ،مودی کاانتہاپسندانہ ایجنڈا بھارت کی گردن کیلئے پھندابن جائے گا۔ حالیہ دہائیوں میں دنیا تبدیل ہوگئی مگر وہائٹ ہائوس میں باری باری راج کرنیوالے صدور اوردہلی کے مائنڈسیٹ میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ۔ایٹمی پاکستان کیخلاف نریندرمودی کے پشت بان ڈونلڈٹرمپ کی حالیہ ہرزہ سرائی نے امریکہ،اسرائیل اورانڈیا سے بیزارپاکستانیوں کوبیدار کردیا اوروہ ڈونلڈ ٹرمپ سے اظہار نفرت اوراس کی مذمت کیلئے شاہراہوں پرنکل آئے ہیں ۔بلوچستان کے طول وارض سمیت پاکستان بھر میں ڈونلڈٹرمپ کیخلاف پرامن اورپرتشدداحتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔حکمران جماعت کے وہ لوگ جوپاکستان کے قومی اداروں کیخلاف توزوردارآوازمیں چیخناچلانااپناجمہوری سیاسی حق سمجھتے ہیں مگر ڈونلڈٹرمپ کو جواب دینے میں ناکام رہے ۔ اقتدارمیں شریک سیاسی قیادت کی ناکامی اورغلامی کودیکھتے ہوئے پاکستان کے دبنگ سپہ سالار قمر کاقہر دشمن پرٹوٹ پڑا،ایساماضی میں کبھی نہیں ہوا۔جنرل قمرجاویدباجوہ پاکستان میں قیام امن اورسیاسی استحکام کیلئے کمربستہ ہیں۔آئی ایس آئی سمیت افواج پاکستان کے مختلف شعبہ جات انتہائی پیشہ ورانہ اورماہرانہ اندازمیں اپنااپنافرض منصبی انجام دے رہے ہیں ۔ جنرل قمرجاویدباجوہ کے آبرومندانہ اورجرأتمندانہ انکارسے امریکہ ،انڈیا اوراسرائیل میں صف ماتم بچھ گئی ہے جبکہ پاکستان کے اندر سرگرم بھارت کے بھگت بھی بھاگ کھڑے ہوئے ہیں ۔پاکستانیت کے علمبردار جنرل قمرجاویدباجوہ کاانکار پاکستانیوں کیلئے سرمایہ افتخار ہے۔ پاکستان کے غیرتمند فرزندجنرل قمرجاویدباجوہ نے بھارت کے بھگت امریکہ پرواضح کردیا،پاکستان کوامدادنہیں اعتماد چاہئے۔امریکہ کے حکمران اپناپیسہ اپنے پاس رکھیں ،چند کوڑیوں کیلئے کوئی انسان جام شہادت نوش نہیں کرتا،یہ ایک مقدس اور صادق جذبہ ہے جس کی کوئی قیمت نہیں لگاسکتا۔کیا ڈونلڈٹرمپ کروڑوں ڈالرز کے عوض میدان جنگ میں دوپل کیلئے بھی اپنے دشمن کی بندوق اوراس کے بارود کاسامنا کرسکتا ہے،وہ ہرگز نہیں کرسکتاکیونکہ وہ بہادر نہیں بزدل ہے ۔بہادرلوگ اپنے دشمن کے نڈرہیروزاورشہیدوں کی بھی قدر کرتے ہیں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ہزاروں شہیدوں کی قربانیوں کاتمسخراڑایا ہے جودہشت گردی کانشانہ بنے مگر الحمداللہ ہمارے شہیدوں کے سینوں پروارکیا گیا آج تک کسی کے پیٹھ پر کوئی زخم نہیں آیا۔پاکستان کے نڈر محافظ اورمعمار جوڈیزاسٹر مینجمنٹ اورشعبہ صحت سے وابستہ ہیں وہ خودکش حملے یابم دھماکے میں شہید اورزخمی ہونیوالے ہم وطنوں کی مددکیلئے فوراً لپکتے ہیں اور موت سے قطعاً نہیں ڈرتے کیونکہ متاثرہ مقام پردوسرے دھماکے یاخود کش حملے کاامکان موجودہوتا ہے۔پاکستان میں مختلف سانحات کے باوجود زندگی نہیں رکتی ،لوگ اپنے ہاتھوں سے پیاروں کاجسدخاکی اٹھاتے اورانہیں دفناتے ہیں مگر روشن پاکستان رواں دواں رہتا ہے ۔ہماری سکیورٹی فورسز افواج پاکستان ،رینجرز ،پولیس اورایف سی کے شہداء ہمارے ہیروز ہیں ۔جنرل قمرجاویدباجوہ نے پاکستان کے ہزاروں شہیدوں کی قربانیوں کامذاق اڑانے اورپاکستان کی خودداری وخودمختاری کوللکارنے والے شعبدہ بازڈونلڈ ٹرمپ کو دوٹوک جواب دیا ۔ڈونلڈٹرمپ یادرکھیں غلط فیصلے سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے مگر غلط فیصلے پرڈٹ جانے سے بہت زیادہ بربادی ہوتی ہے۔امریکہ کی افغان پالیسی حقیقت پسندانہ نہیں ، امریکہ کے سابق صدوربش اوراوباما سمیت ڈونلڈ ٹرمپ کی ہٹ دھرمی نے افغانستان کو اپنے فوجی جوانوں کیلئے قبرستان بنادیا ۔افغانستان میں مہم جوئی کیلئے آنیوالے امریکہ کے اہلکار تابوت کی صورت واپس جارہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مینڈیٹ سے تجاوزنہ کرے۔پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرنے کی بجائے الٹا ہماری ریاست کودھمکایا اوردبایا جارہا ہے۔اگرپاکستان آگے بڑھ کردہشت گردی کے سیلاب کونہ روکتا تویہ کئی ملکوں کواپنے ساتھ بہالے جاتا ۔ عالمی ضمیر کوپاکستان کااحسان مند اورممنون ہوناچاہئے ۔یہ امریکہ اوراس کے اتحادیوں کی جنگ تھی جس میں پاکستان بے خطر کودپڑا ،اب دنیا والے ہمارے گھرکوجلتاہوادیکھ رہے ہیں مگرکوئی اس آگ کوبجھانے کیلئے ہماری مددکونہیں آرہا ۔پاکستان سے زیادہ کسی ملک نے دہشت گردی کیخلاف اپناکردارادا کیا اورنہ کرے گا۔دہشت گردی ختم کرنے کیلئے بھارت کولگام ڈالنا ہوگی۔پاک فوج نے پاکستان میں دہشت گردعناصرکی ایک بھی محفوظ پناہ گاہ نہیں چھوڑی ۔امریکہ اوراس کے حامی پاکستا ن کوملزم کی طرح کٹہرے میںکھڑا کرکے یادیوار کے ساتھ لگاکردہشت گردی کاباب  بندنہیں کرسکتے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ جس ٹریک پرہے وہ ہرگز درست نہیں۔یہ پاکستان پر امریکہ کی ناکامی کاملبہ گرانے کاوقت نہیں ،مقتدرقوتوں کو دہشت گردی کاصفایاکرنے کیلئے پاکستان کی بھرپور مدداوراس کے دفاعی اداروں پراعتمادکرنے کی ضرورت ہے۔ڈونلڈٹرمپ کادہشت گردی کے سلسلہ میںنام نہادفلسفہ کسی مہذب فردیاریاست کیلئے قابل قبول نہیں۔ پاکستان نے نوے فیصد دہشت گردی ختم کردی،اگرعالمی ضمیر ہمارے پڑوسی ملک کامحاسبہ کرے تویقینا باقی ماندہ دس فیصد دہشت گردی بھی دم توڑدے گی۔زیادہ تر دہشت گرد عناصر اورانتہاپسند بھارت کے وظیفہ خور ہیں اورانہیں نریندرمودی سے آکسیجن اورڈکٹیشن ملتی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ دہشت کے زورپردنیاسے دہشت ختم نہیں کرسکتا،پاکستانیوں نے موصوف کادبائومسترد کردیا۔ پاکستان نے ہزاروں شہادتیں دے کر دہشت گردوں کولگام ڈالی۔امن وآشتی کیلئے ملکوں کے درمیان کئی دہائیوں سے چلے آرہے تنازعات ختم کرناہوں گے ۔کشمیر میں بھارتی بربریت ،فلسطینیوں کیخلاف اسرائیلی دہشت گردی جبکہ برمامیں مسلمانوں کی نسل کشی پرعالمی ضمیرکیوں خاموش ہے ۔دہشت گردی ایک ناسور ہے ،امریکہ تنہا اس کی تشریح نہیں کرسکتا ۔پاکستان نے دہشت گردوں کوللکارا ،ان کاپیچھا اوران کاصفایا کیا جبکہ اس دوران دنیانے پاکستان کوتنہا چھوڑدیا ۔پاکستان دوسرے ملکوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر ہوااورمسلسل ہورہا ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ اگردہشت گردی ختم کرنے کیلئے سنجیدہ ہے توپاکستان کودھمکانا اورڈکٹیشن دینابندکرے اورہماری سیاسی و دفاعی قیادت کے کندھے سے کندھاجوڑے۔ ڈونلڈٹرمپ کی جارحانہ سوچ انسانیت اور عالمی امن کیلئے خطرہ ہے،اس کے منتخب ہونے سے خودامریکہ میں بے چینی اوربے یقینی کادوردورہ ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ اپنے داخلی مسائل پرفوکس کرے ،وہ پاکستان اوردنیا کی قسمت کے فیصلے کرنے کاحق اوراختیار نہیں رکھتا۔دنیا انتہاپسندانہ رویوں اوراشتعال انگیز طرزحکومت کی متحمل نہیں ہوسکتی ،ڈونلڈ ٹرمپ اوراس کے نام نہاداتحادیوں کویہ بات سمجھناہوگی ۔پائیدار امن کیلئے مذاہب کے درمیان مکالمے کی اشد ضرورت ہے۔ ڈونلڈٹرمپ مسلسل اپنے طرز گفتگواورطرزحکومت سے سفارتی آداب کوبلڈوز کررہاہے  ۔پاکستان کو پچھلے کئی برسوں سے جس بدترین دہشت گردی کاسامنا ہے وہ امریکہ کی جنگ میں کودنے کاشاخسانہ ہے ۔ امریکہ کی جنگ کاخمیازہ پاکستان بھگت رہا ہے ،ڈونلڈٹرمپ کابیانیہ قابل ملامت اورقابل مذمت ہے ۔ ڈونلڈٹرمپ اپنے اتحادی پاکستان کے دشمن بھارت کابھگت بن گیا ۔پاکستان کے لوگ مادر وطن کی سالمیت اورحفاظت کیلئے پوری طرح متفق، متحد اورمنظم ہیں،ڈونلڈٹرمپ کی جارحانہ اورانتہاپسندانہ روش کیخلاف اوورسیزپاکستانیوں سمیت ہم وطن بھی پرامن احتجاجی ریلیاں منعقد کررہے ہیں۔امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کوبھی بھارت کے بھگت ڈونلڈ ٹرمپ کے طرزحکومت کیخلاف آوازاٹھاناہوگی۔امریکہ کا آشیرباد بھی بھارت کوجنوبی ایشیاء کاتھانیدار نہیں بناسکتا۔امریکہ کے عوام نے بھی ڈونلڈٹرمپ کی منفی سوچ کومسترد کردیا ۔ہزاروں پاکستانیوں کے گھروں سے جنازے اٹھائے گئے جودہشت گردی کانشانہ بنے ،اظہار ہمدردی اوراظہاراعتماد کی بجائے طوطاچشم امریکہ الٹا پاکستان کی سالمیت کے درپے ہے۔اگر کسی مورخ نے ایمانداری سے دہشت گردی کیخلاف جدوجہداورجنگ بارے تاریخ لکھی تواس میں پاکستان کے کردار اورپاکستانیوں کی قربانیوں کویقینا جلی لفظوں کے ساتھ لکھااوربہت سراہاجائے گا۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت اوردشمن کیخلاف مزاحمت اوراستقامت کوامریکہ سے زیادہ کوئی نہیں سمجھتا۔پاکستان اپنے زوربازوسے آج بھی حجم میں بڑے دشمن کودھول چٹاسکتا ہے۔ پاکستان کے ہاتھوں روس کاانجام امریکہ کویادرکھنا ہوگا ۔ امریکہ کی طوطاچشمی سے بیزارپاکستانیوں نے ڈونلڈ مودی گٹھ جوڑ اوران کادبائومسترد کردیا ۔ پاکستان کے سیاسی طبقات آپس میں ضرورالجھتے مگر وہ پاکستان پرآنچ نہیں آنے دیں گے،امریکہ اپنے پٹھو بھارت کی مددسے ایٹمی پاکستان کیخلاف مہم جوئی کی جسارت نہ کرے ورنہ اس باراسے ویتنام کے ہاتھوں شکست سے بڑی شکست اورخفت کاسامنا کرنا پڑے گا ۔ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کی خودمختاری اورپاکستانیوں کی خودداری چیلنج کرکے اپنی زندگی کی سب سے بڑی حماقت کربیٹھا ہے ۔ افواج پاکستان کے دبنگ سپہ سالار جنرل قمرجاویدباجوہ کاموقف امدادنہیں اعتماد پاکستان کاقومی نعرہ بن گیاہے ۔پاکستان کے عوام اپنی قابل فخر افواج کی پشت پر کھڑے ہیں۔


Read more

06 September 2017

بھارت کی نیو کلیئر ڈاکٹرائن پر بدلتا رویہ۔۔۔عبدالقادر خان

بھارت نے خطے میں طاقت کے عدم توازن پر اپنی جارحانہ روش کو قائم رکھتے ہوئے اپنے نیوکلیئر ڈاکٹرائن پر تبدیلی کے ساتھ اپنے جوہری رویئے کو بدل لیا ہے۔ گزشتہ دنوں بھارتی اہلکاروں اور اسکالرز کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات سے اشارہ ملتا ہے کہ بھارتی حکومت اپنے جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کے اصول پر نظرثانی کے لئے غور کر سکتی ہے اور اس میں پیشگی حملے کے آپشن کو شامل کر سکتی ہے۔اس سے قبل ہی پاکستانی وزرات خارجہ کے ترجمان نے2016 میں بھارتی وزیر داخلہ کے ایٹمی حملے میں پہل نہ کرنے کے بیان کو ڈھونگ قرار دے دیاتھا ۔ واضح رہے کہ پاکستان نے ہمیشہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے بات کی ،کیوں کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کرنے کے خوفناک نتائج ہوسکتے ہیں جبکہ پاکستان کی تجویز کردہ اسٹریٹیجک ریسٹرین ریجیم ایٹمی تصادم سے بچنے کی بہترین حکمت عملی ہے۔ دوسری جانب ٹائمز آف انڈیا کے مطابق میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں جنوبی ایشیاء میں جوہری توانائی کے ماہر ویپین نارانگ نے واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی ترک کرسکتا ہے، کارنیگی انٹرنیشنل نیوکلیئر پالیسی کانفرنس 2017 کے موقع پر نارانگ کا کہنا تھا کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ بھارت ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پاکستان کو پہل کرنے کی اجازت نہیں دے گا ۔ علاوہ ازیں تھنک ٹینک سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹیڈیز کی میزبانی میں ہونے والی ایک گول میز مباحثے میں بھارت کی جانب سے نیو کلیئر ڈاکڑائن کی تبدیلی کے موضوع فرام کاوینٹر ویلیو ٹو کائونٹر فورس: چینج ان انڈیاز نیوکلیئر ڈاکٹرائن  پر اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ بھارت ایٹمی حملے میں پہل کرنے کی پالیسی کو تبدیل کرسکتا ہے۔امریکی انٹیلی جنس چیف نے امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کے خطرے کی تشخیص برائے 18-2017 پر بریفنگ دیتے ہوئے امریکی کانگریس کو خبردار کرچکے ہیں کہ بھارت سرحد پار حملوں کو بہانا بناکر پاکستان کے خلاف جارحیت پر اتر سکتا ہے اور لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کے درمیان مارٹر شیل فائر کرنے کے واقعات خطے کے دو ہمسایہ جوہری ہتھیاروں کی حامل ریاستوں کے درمیان براہ راست تنازع کا باعث ہوسکتے ہیں۔بھارتی عزائم کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے ملکی دفاع میں ایٹمی حملوں میں پہل کو روکنے کیلئے چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنا ئے ہیں ۔امریکہ اور روس کے بعدپاکستان دنیا کا تیسرا ملک ہے جس نے یہ صلاحیت حاصل کی ہے۔ ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر ثمر مبارک کے مطابق ہم نے ملکی بقا کی خاطر کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا سو ہم نے ٹیکنیکل ہتھیار بنا لئے ، ہم نے شاہین ون اور ٹو بنائے ضرورت پڑی تو شاہین تھری بھی بنائیں گے ۔پاکستان نے بھارت کی جارحانہ پالیسیوں پر ہمیشہ اپنا دفاع کیا ہے اور اسی دفاعی نکتہ نظر کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے کم رینج پر داغے جانے والے ایٹمی ٹیکنیکل ہتھیار بنائے۔ ان ٹیکنیکل چھوٹے ہتھیاروں کو ہائی سیکیورٹی جگہ پر محفوظ کیا گیا ہے ، یہ ہتھیار سیکرٹ کوڈ کے بغیر فائر بھی نہیں کئے جاسکتے ، نیز اس سے ہیروشیما میں گرائے جانے والے ایٹم بم کی طرح تابکاری اثرات بھی کم پھیلتے ہیں ، اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان ہتھیاروں کو کسی بھی جگہ سے فائر کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح پورا بھارت پاکستان کے چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں کی زد میں آچکا ہے ۔پاکستان نے اپنی مملکت کے دفاع اور بقا کیلئے بھارت کے روایتی جنگ کے ڈاکٹرائن کولڈ سٹارٹ سے بچائو کیلئے مختصر رینج کے یہ ٹیکنیکل ہتھیار بنائے ہیں۔یہ ایٹمی ہتھیار میزائل کے اوپر نصب کئے جاتے ہیں ۔ پاکستان نے امریکہ اور روس کے بعد ان ہتھیاروں کو بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ، تاہم بھارت ابھی تک اس ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ۔لیکن چین میزائل پر متعددجوہری  وار ہیڈ لگانے کے تجربے میزائل ڈیفنس انڈسٹریز میں کرچکا ہے۔پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام و صلاحیتوں اور حفاظت پر ہمیشہ تنقید و تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان میں اس بات کی اہلیت نہیں ہے کہ وہ اپنے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کرسکتا ہے ۔ لیکن تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان نے اپنے ایٹمی اثاثوں کی جس طرح حفاظت کی ہے وہ دیگر ایٹمی ممالک کے لئے ضرب المثال ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیاء پر اپنی پالیسی بیان میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے متعلق تحفظات کا ایک بار پھر اظہار کیا تھا کہ کہیں یہ اثاثے کسی انتہا پسند گروپ کے ہاتھ نہ لگ جائیں ۔ لیکن پاکستانی فوج نے جس طرح مملکت میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں ہیں وہ اس بات کو باعث اطمینان بناتی ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہے اور پاکستان اپنی ذمے داریاں سنجیدگی سے ادا کررہا ہے ۔ اس صورتحال سے پاکستان بھی بخوبی آگاہ ہے کہ بھارت ، مقبوضہ کشمیر میں روز بہ روز بڑھتی حریت پسندی کی تحریک کی کامیابی سے سخت پریشان اور خوف زدہ ہے اور وہ کوئی بھی مکروہ چال چل سکتا ہے ۔بھارت کنٹرول لائن کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے اور مقبوضہ وادی کو اپنے ظلم و جبر کا نشانہ بھی بنا رہا ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کی عوام کے رائے اور اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق عمل درآمدکرنے پر زور دیا ہے ، لیکن سات لاکھ بھارتی فوجی ، نہتے آزادی پسند عوام کے خلاف کسی بھی انتہائی سخت اقدام سے باز نہیں آرہے اور مسلسل کشمیریوں کی نسل کشی کررہے ہیں ۔ بھارت اپنی سبکی و ناکامی کو چھپانے کیلئے  سرجیکل اسٹرائیک  کے جھوٹے دعوے کرتا ہے لیکن اسے خود اپنے ملک کی عوام اور اپوزیشن جماعتیں شدید تنقید کا نشانہ بنا کر شرمندہ کرتی ہیں تو دوسری جانب مودی سرکار کی پارٹی کے انتہا پسند ہندوں کی بھارت کے مسلمانوں کے خلاف پرتشدد واقعات بھارتی مسلمانوں کے لئے سوہان روح بنے ہوئے ہیں ۔ بھارتی شر انگیزیوں سے کوئی پڑوسی ملک نہیں بچا ہوا ، کبھی امریکی شہ پر چین کے ساتھ سرحدی تنازعات بڑھاتا ہے تو کبھی افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرانے سے باز نہیں آتا ۔ بھارت اپنے مخصوص عزائم کو پورا کرنے کیلئے کسی بھی سطح تک جا سکتا ہے ۔ اس کے لئے را ء کے ایجنٹ مخصوص ایجنڈوں پر مصروف عمل ہیں ۔ پاکستان میں لسانیت ہو یا فرقہ واریت کے ذریعے پاکستانیوں کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کوششوں اور سازشوں کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہی نکلتا ہے ۔پاکستان اپنی دفاع کے لئے جہاں نظریاتی اساس کے تحت جنگ میں مصروف ہے تو دوسری جانب مشرقی ، شمال مغربی سرحدوں پر بھی دشمن کی حکمت عملی کو ناکام بنانے میں قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کررہا ہے۔ یہ کسی بھی ملک کی عوام کیلئے فخر کا مقام ہے کہ 39برسوں سے حالت جنگ میں رہنے والا ملک ، بغیر کسی دوسرے ملک کی مداخلت کے بغیر تن و تنہا کئی ممالک کی پراکسی وار کا مقابلہ کررہا ہے۔بھارت اگر پراکسی وار میں مشرقی پاکستان کے تلخ تجربے کو دوہرانا چاہتا ہے تو اسے ناکامی کا سامنا ہوگا ، اگر کسی ایٹمی حملے کی ناکام کوشش کرتا ہے تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ، اگر بھارت روایتی جنگ لڑنا چاہتا ہے تو بھی تمام پاکستانی عوام اس کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ پاکستان محض ایک زمین کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ یہ کروڑوں پاکستانیوں کی بقا و سلامتی کے لئے پاک سر زمین ہے ۔ جس کے لئے من الحیث پاکستانی قوم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی ۔


Read more

06 September 2017

ٹرمپ کی نئی پالیسی۔۔۔محمد امجد

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی نئی جنوبی ایشیاء پالیسی میں پرانی باتوں کو دہرا کر امریکی عوام اور دنیا کوایک مرتبہ پھر افغان ٹرک کی بتی پیچھے لگا دیا ہے۔ فورٹ میئر آرلنگٹن میں تقریبا آدھے گھنٹے تک کی تقریر میں صدر ٹرمپ نے پاکستان کے حوالے سے وہی گھسا پٹا  ڈو مور کا پرانا راگ الاپتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اپنے ملک سے ان تمام شر انگیزوں کا خاتمہ کرے جو وہاں پناہ لیتے ہیں اور امریکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر دیتے ہیں لیکن وہ دوسری جانب انھی دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں جو ہمارے دشمن ہیں۔ امریکہ اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں امریکہ کے اہداف بالکل واضح ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کا صفایا ہو۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 20 غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں پاکستان اور افغانستان میں کام کر رہی ہیں جو کہ دنیا میں کسی بھی جگہ سے زیادہ ہیں۔ امریکہ سے شراکت داری پاکستان کے لیے بہت سود مند ثابت ہوگی لیکن اگر وہ مسلسل دہشت گردوں کا ساتھ دے گا تو اس کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ افغانستان کے بارے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جلد بازی میں امریکی فوجیوں کے انخلا کے باعث افغانستان میں دہشت گردوں کو دوبارہ جگہ مل جائے گی اور اس بارے میں وہ زمینی حقائق پر مبنی فیصلے کریں گے جس میں ڈیڈ لائن نہیں ہوں گی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا پہلے ارادہ تھا کہ وہ افغانستان سے فوجیں جلد واپس بلا لیں گے لیکن وہ عراق میں کرنے والی غلطیاں نہیں دہرائیں گے اور اس وقت تک ملک میں موجود رہیں گے جب تک جیت نہ مل جائے۔امریکہ افغان حکومت کے ساتھ تب تک مل کر کام کرے گا جب تک ملک ترقی کے راستے پر گامزن نہ ہو جائے۔اپنے خطاب میں ٹرمپ نے افغانستان کی ترقی میں بھارتی کردار کی تعریف کی اور اس پر اقتصادی اور مالی طور پر افغانستان کی مدد کرنے پر زوردیا۔دنیا،خاص طور پر امریکی عوام یہ خیال کررہے تھے کہ افغانستان کے حوالے سے ٹرمپ اپنے پیشروں سے ہٹ کر ایک واضح، حتمی اور فیصلہ کن پالیسی اختیار کریں گے تاہم انہوں نے پرانا مشروب نئی بوتل میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے بھی بش اور اوبامہ کی طرح افغانستان میں اپنی کمزوریوں اور شکستوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی یہ تازہ پالیسی خطے کے معروضی حالات اور زمینی حقائق سے بالکل ماوراء ہے۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف جو لب و لہجہ استعمال کیا وہ پاکستان کی قربانیوں اور دہشت گردی کے خلاف عزم کو فراموش کرنے کے مترادف ہے اور اس بات کا واضح اظہار کررہا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے وہ شدید لاعلمی کا شکار ہیں۔ بھارت کی طرف ضرورت سے زیادہ جھکائو ان کی پالیسی کے ناقص اور غیرمتوازن ہونے پر مہرثبت کررہا ہے۔امریکہ نے خطے خاص طور پر افغانستان میں بھارت کوجس غیرفطری طور پر شریک کار کیا ہے، وہ نہ صرف حقائق کے منافی بلکہ افغان مسئلے کو مزید الجھانے کے مترادف ہے۔سب کو معلوم ہے کہ بھارت عرصہ دراز سے افغان سرزمین کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کررہا ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں دہشت گردی کو پروان چڑھانے اور امریکہ اور افغان حکومت میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے وہی سازشوں کے جال بن رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و تشدد پر نوٹس لینے کی بجائے آنکھیں بند کرلینا ، حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرارددینا اور حزب المجاہدین پر پابندی سے ظاہرہوتا ہے کہ امریکہ خطے میں بھارت سے کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ کسی بھی حد کو جانے کے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تو بھارت نے باقاعدہ چھیڑ چھاڑ شروع کرکے اس کے پہلے ایجنڈے پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔ اسی طرح افغانستان میں بھارتی کردار یقینا خطے کی صورتحال کو ابتر رکھنے کی گہری سازش کے سوا کچھ نہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے کوئی نیگ شگون نہیں کیونکہ امریکہ کی بھارت نوازی کشمیریوں کی جائز جدوجہد آزادی اور کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے موقف کے منافی ہے۔ یہ نہ صرف بھارت کو کشمیریوں کو قتل عام کا لائسنس دینے بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی بے حرمتی کے بھی مترادف ہے۔ امریکہ کی اس جانبدارانہ پالیسی کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان اعتمادی سازی اور بہترتعلقات کیسے فروغ پا سکتے ہیں۔جہاں تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تعلق ہے تو پوری دنیا پاکستان کی کوششوں، صلاحیتوں اور کامیابیوں کی معترف ہے۔ مگر افسوس سب سے بڑے اتحادی امریکہ کو اس کی خبر نہیں۔ٹرمپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف موثر اور مسلسل آپریشنز کے ذریعے ان کے بہت سے نیٹ ورک تباہ و برباد کردیئے ۔ پاکستان نے موثر انٹیلی جنس کے ذریعے امریکی اور نیٹو افواج کی خوب معاونت کی۔ ضرب عضب اور ردالفساد دہشت گردوں کے خلاف کاری ضرب ثابت ہوئے۔ اسی طرح خیبر فور آپریشن گزشتہ روز ختم ہوا جس کے دوران پاک فوج نے بہت سے دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا۔ دہشت گردی کے خلاف یہ مسلسل کارروائیاں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف عزم اور کوششوں کا واضح اظہار ہیں۔ تاہم امریکی صدر سے پاکستان سے متعلق بیان اور ڈور مور کا تقاضا افسوسناک ہے۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو وہاں امریکی، اتحادی افواج اور لاکھوں کنٹرکٹ مسلح دستے دہشت گردی پر قابو نہیں پا سکے ہیں۔ پاکستان نے سرحد کے اس طرف موثر کارروائیوں کے ذریعے کسی دہشت گرد تنظیم کو پنپنے کا موقع فراہم نہیں کیا ہے۔ البتہ بھارت اور دیگر قوتوں نے پاکستان میں تخریب کاری، فرقہ ورانہ فسادات اور شورشوں کے لیے افغانستان کی سرزمین کو استعمال کیا ہے اور اب بھی کررہی ہیں۔ یہی قوتیں پاکستان اور افغانستان حکومتوں کو ایک دوسرے سے الجھائے رکھنے کے لیے غلط فہمیاں اور سازشیں کرتی رہتی ہیں۔اگر ٹرمپ واقعی افغانستان سے باعزت نکلنے کے متمنی ہیں تو انہیں زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی بھارت نوازی کو اعتدال پر لانا ہوگا، افغانستان میں پاکستان کے خلاف بھارتی سازشوں کو روکنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں اور قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اعتمادسازی کو فروغ دینا ہوگا ۔ بصورت دیگر افغانستان امریکہ کے لیے دردسر بنا رہے گااورٹرمپ بھی بش، اوبامہ کی طرح اپنے عوام سے افغانستان میں کامیابیوں سے متعلق جھوٹ بولتے رہیں گے ۔



Read more

06 September 2017

انقلابی فکر و عمل ہی وقت کی ضرورت۔۔۔ڈاکٹر محمد جاوید

وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے ستر سال ہونے والے ہیں، خوش فہمیوں، ناہلیوں، چوریوں اور بے انصافیوں سے گھرے ہوئے یہ ستر سال ہماری بحثیت قوم ناکامیوں کا مژدہ سنا رہے ہیں، اگر کامیابیوں کا تذکرہ کریں تو چند خاندانوں نے بھر پور ترقی کی ہے، خوب مال بنایا، اپنی اپنی ایمپائر کھڑی کیں، بھر پور طریقے سے اس بدقسمت ملک کے اداروں پہ کنٹرول کر کے قانون کو اپنے گھر کی رکھیل بنایا، غریب قوم کے وسائل کو برے طریقے سے نہ صرف خود لوٹا بلکہ بین الاقوامی چوروں سے بھی لٹوایا، انتہائی قانونی طریقے سے ہر شعبے کو دیوالیہ کر کے اپنے خاندان یا گروہ کو فائدے پہنچائے گئے۔عوام نے اپنے جاہل پن سے ان سفید پوش لٹیروں کی خوب آئو بھگت کی اور ہر آنے والے دنوں میں خود کو بڑے عذاب سے دوچار کرتے رہے اور کر رہے ہیں، پڑھا لکھا طبقہ جو باشعور ہے وہ سوائے تماشائی کے کوئی کردار ادا نہیں کر سکا۔اور پڑھا لکھا کہلانے والا وہ طبقہ جو اس استحصالی طبقے کا ساتھ دیتا رہا اور دے رہا ہے اس میں اور اس جاہل اور ان پڑھ طبقے میں کوئی فرق نہیں۔دونوں اس ملک کی بربادی میں برابر کے شریک ہیں،لیکن اس سے بھی بڑا مجرم وہ طبقہ جو سمجھتے ،بوجھتے فقط تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے،اور عملی جدو جہد نہیں کرتا۔کوئی ایک شعبہ یا ادارہ لے لیں،انتہائی ایمانداری سے اس کے کردار اور کام کا تجزیہ کریں،تو ان کی نااہلی، بد انتظامی، اقربا پروری، کرپشن کو دیکھ کر سر شرم سے جھک جائے گا۔ہمیں اپنے ارد گرد غور کرنا چاہئے۔جو قوم اپنے گرد و پیش اور حالات کو نہیں سمجھتی اس کے حالات اس کی دسترس سے باہر ہو جاتے ہیں۔اپنی آئندہ نسلوں کے مستقبل کے لئے مخصوص اجارہ دار خاندانوں نے تو بھر پور طریقے سے حکمت عملی ترتیب دی ہوئی ہے۔۔۔بیرون ملک جائیدادیں اور بزنس۔۔۔۔بیرون ملک تعلیم۔۔۔بیرون ملک علاج معالجہ۔۔۔۔۔بیرون ملک رہائشیں۔۔۔۔بیرون ملک عیاشیاں۔۔۔۔ملکی خزانے سے خرد برد ہو یا دیگر طریقوں سے ملکی معیشت کو تباہی و بربادی سے دوچار کر کے پیسہ بیرون ملک منتقل کر رہے ہیںلہذا انہیں قوم کی نسلوں سے کوئی غرض نہیں ہے۔تعلیمی نظام بدتر اور فرسودہ اور اس کے لئے مناسب بجٹ نہیں، صحت کا نظام بدتر اور فرسودہ اس کے لئے مناسب بجٹ نہیں، زراعت،صنعت و تجارت کا برا حال کیوں کہ اس کے لئے کوئی قومی پالیسی یا ایماندار افراد موجود نہیں۔۔۔۔۔سب اس تباہی میں اپنے اپنے حصے کا گوشت نوچ رہے ہیں۔۔۔۔لیکن اس جسم سے نوچا ہوا ہر لوتھڑا سب کو موت کی طرف لے جا رہا ہے۔۔۔اس گھر کو آگ لگ چکی ہے اس گھر کے چراغ سے۔۔۔۔۔اب کیا کیا جائے؟ایک اچھی اور مثبت تبدیلی کیسے آئے؟کس طرح سے اداروں کو اہل اور ایماندار افراد کے سپرد کیا جائے؟کیسے قومی خزانے کی چوریوں کو روکا جائے؟ ایسے ایک وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کا ڈھانچہ تشکیل دیا جائے اور اس میں بلاتفریق ہر طبقے کا بچہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر ملک کی ترقی کے لئے کام کر سکے؟کیسے ایک بہترین صحت کا نظام تشکیل دیا جائے کہ کوئی عام آدمی بغیر دوا و علاج کے نہ مر سکے؟کیسے ایک نظام عدل تشکیل دیا جائے جہاں عام آدمی کو سستا اور فوری انصاف مہیا ہو سکے؟کیسے ایسی قیادت پیدا کی جائے جو قو می سچ کی حامل ہو، قومی حب الوطنی کی حامل ہو، سب سے بڑھ کر ایماندار ہو،اس کا کردار کسی بھی قسم کی کرپشن سے پاک ہو، اس کے اندر قومی قیادت کی صلاحیت موجود ہو،وہ کسی مافیا کے زور پہ ملک کی بھاگ ڈور نہ سنبھالے بلکہ ملک کی اکثریت اسے منتخب کرے۔یہاں قیادت سے مراد کوئی ایک شخصیت نہیں بلکہ وہ سیاسی ٹیم ہے جو ملک کے سیاسی نظام کو چلائے۔۔۔۔لیکن یہ سب خوش فہمیاں اور خوبصورت اور دل نشین آرزو کے سوا کچھ نہیں جب تک ایسی کسی قیادت کی تیاری اور سیاسی انقلاب کے ذریعے ملکی اداروں کے اندر جوہری تبدیلی کے لئے عملی جدو جہد نہیں کی جاتی۔۔۔تاریخ کا یہ سبق ہے کہ جب کسی قوم یا ریاست کو سرمایہ پرست ،مفاد پرست مافیا کنٹرول کر لیتی ہے تو پھر اس کے تسلط سے نکلنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ایسا سیاسی مافیا نہ صرف ملکی اداروں ، قانون، معیشت، میڈیا پہ کنٹرول کر کے اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے بلکہ جب اسے کسی انقلابی قوت سے خطرہ درپیش ہو تو وہ انتہائی ظالمانہ ،گھنائونے ہتھکنڈوں پہ اتر آتا ہے۔۔۔تاریخ نے یہ بتایا ہے کہ جب کسی قوم کے اندر غیرت جاگتی ہے اور وہ اپنے اوپر مسلط ظالمانہ نظام کو ختم کرنے کے درپے ہو جاتی ہے تو پھر اسے قربانیاں دینی پڑتی ہیں، بغیر قربانی کے ظالم مافیا کبھی قوم کو آزادی نہیں دیتی اور نہ ہی عادلانہ نظام کو قائم ہونے دیتی ہے۔۔۔۔کیونکہ ان کے اثاثے اور معاشی و سیاسی مفادات خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔۔۔۔وہ قوم کو ذلت کے گڑھوں میں تو دفن کرنے سے گریز نہیں کرتے لیکن جب ان کے مفادات پہ زد پڑتی ہے تو وہ اس پسی ہوئی قوم کو مزید آگ اور خون میں دھکیلنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔۔۔۔انقلاب ہی دراصل قوموں کی زندگی ہے۔۔۔۔قوم جب مر رہی ہوتی ہے۔تو ذوق انقلاب ہی اس کے اندر زندگی کی رمق پیدا کرتا ہے۔۔۔۔انقلاب کا ذوق ہی ظالموں اور مفاد پرست گروہوں کے سامنے سینہ سپر ہونے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔۔۔۔ذوق انقلاب ہی نوجوانوں کے اندر قومی قیادت کا شعور پیدا کرتا ہے۔۔۔انقلابی جدو جہد قومی خود کفالت، قومی تشکیل کی جدو جہد ہوتی ہے۔۔۔۔جب ریاستی نظام اداروں کے نام پہ ظلم و جور اور کرپشن کا گڑھ بن جائے تو اس کی مثال اس پانی کی ہے جسے روک دیا جائے تو اس میں بدبو بھر جاتی ہے اور وہ بیماریوں اور خرابیوں کا ذریعہ بن جاتا ہے۔۔۔۔انقلابی عمل اس رکے ہوئے بد بو پانی کی رکاوٹ کو توڑ دیتا ہے اور اسے قیام عدل کے ذریعے جاری وساری کرتا ہے۔۔۔۔اس سے معاشرہ پھر سے اپنے پائوں پہ کھڑا ہونے کے قابل ہو جاتا ہے۔۔۔انقلاب ایک نئی روح پھونک دیتا ہے۔۔۔۔ظالموں جابروں، بھتہ خوروں، سفید پوش ڈاکوئوں،رسہ گیروں،جاہلوں، نااہلوں اور غداروں سے معاشرے کو صاف کرتا ہے۔۔۔۔ستر سال کے تجربے سے اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ اس ناسور کا خاتمہ فقط انقلابی جدو جہد ہی سے ہو سکتا ہے۔۔۔۔کیونکہ جزوی خرابی دعوت و اصلاح سے درست کی جا سکتی ہے لیکن اگر کلی خرابی پیدا ہو جائے تو اسے انقلاب ہی سے درست کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔آئیے دنیا کے انقلابات کا مطالعہ کریں۔۔۔قوموں کے عروج و زوال کا تجزیہ کریں۔۔۔۔انقلابیوں کی سیرت وکردار کا مطالعہ کریں۔۔۔اپنے اندر ذوق انقلاب پیدا کریں۔۔۔۔۔انسانیت کا درد اپنے اندر پیدا کریں۔۔۔اپنے اندر تنظیم پیدا کریں۔۔۔اور اپنی قوم کے بہتر مستقبل کے لئے استبدادی قوتوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے اپنے اندر سیاسی تنظیم پیدا کریں۔۔۔ملک کے اکثریتی طبقے کو جو کہ ان پڑھ ہے اور سرمایہ پرست اور مفاد پرست مافیا کے اثر میں ہے اسے ان کے اثر سے نکالنے کے لئے جدو جہد کریں۔۔۔۔۔جب تک خرابی کی جڑ کو ختم نہیں کیا جائے گا۔۔۔۔کسی بھی مثبت تبدیلی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔


Read more

06 September 2017

عالمی کرکٹ بحالی، حکومت کی اہم کامیابی۔۔۔ضمیر نفیس

پاکستان میں ورلڈ الیون کے میچز کا فیصلہ عالمی کرکٹ کی بحالی کا اعلان ہے اس سے قبل پاکستان سپرلیگ کے مقابلوں نے عالمی کرکٹ کیلئے بھرپور راہ ہموار کی تھی ان میچوں میں بھی عالمی کھلاڑیوں نے شرکت کی تھی پاکستان کے عوام نے جس غیر معمولی جوش و خروش کے ساتھ ان میچوں میں شرکت کی اور جس طرح حکومت نے کھلاڑیوں اور شائقین کے تحفظ کے اقدامات کئے اس سے عالمی سطح پر ایک مثبت پیغام پہنچا چنانچہ اس کے بعد ورلڈ الیون کے میچوں کیلئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو زیادہ جدوجہد نہیں کرنی پڑی۔ اب ان میچوں کے بعد سری لنکا کی ٹیم کا دورہ متوقف ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ ورلڈ الیون میں سات ملکوں کے نامی گرامی کھلاڑی شامل ہیں قومی ٹیم کے ساتھ ورلڈ الیون کے تینوں ٹی ٹوئنٹی میچز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں منعقد ہوں گے حکومت نے مہمان ٹیم کو صدر مملکت کی سکیورٹی کے برابر سکیورٹی دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اسٹیڈیم اور اس کے ملحقہ علاقوں میں اضافی سی سی ٹی وی کمیرے نصب کئے جائیںگے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی دونوں کا موقف ہے کہ ہمیں کھیلوں اور ثقافتی پروگراموں کے ذریعے عالمی برادری کو پاکستان کا سافٹ چہرہ دکھانا ہے اور اس پر یہ واضح کرنا ہے کہ دہشتگردی کا شکار اس ملک نے دہشتگردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑ کے ملک میں امن بحال کیا ہے موقع کی مناسبت سے یہاں اس امر کا ذکر بھی ضروری ہے کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے ثقافتی ورثہ عرفان صدیقی نے عالمی اہل قلم کانفرنس سے لے کر خطاطی کے عالمی نمائش تک درجنوں پروگراموں کا انعقاد کیا ہے جن میں دنیا کے مختلف ممالک کے ادیبوں، دانشوروں اور مختلف فنون سے تعلق رکھنے والی ممتاز عالمی شخصیات نے شرکت کی ہے ان کاوشوں کے پس پردہ مقاصد بھی یہی تھے کہ عالمی برادری کو اس نئے پاکستان سے متعارف کرایا جائے جس نے دہشتگردی کے معاملے میں قربانیوں اور کامیابیوں کی ایک تاریخ رقم کی ہے اور امن و خوشحالی کے سفر کا تیز تر آغاز کیا ہے۔ورلڈ الیون کے میچوں کو بھی اپنی مقاصد کے پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے اگر بھارت تعاون کرتا تو بہت پہلے عالمی کرکٹ کی بحالی ہوسکتی تھی مگر بدقسمتی سے بھارت نے کھیلوں کے معاملے میں بھی تعصب پر مبنی سیاست کی اور دانستہ یہ تاثر دیا کہ پاکستان میں کھلاڑیوں کا تحفظ نہیں کیا جاسکتا جس ملک کے ساتھ ماضی میں کرکٹ ڈپلومسی چلتی رہی اس نے کرکٹ کے ذریعے اپنے مفادات کی سیاست کی پاکستان سپرلیگ کے میچوں کی زبردست کامیابی نے پوری دنیا کو پاکستان کی طرف متوجہ کیا اس کے بعد ایشین ٹرافی چمپئن کے مقابلوں میں پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر اپنے لئے مزید کشش پیدا کرلی نتیجہ ورلڈ الیون کے میچوں کے فیصلے کی صورت میں سامنے آیا۔عالمی سطح پر پاکستان میں امن و خوشحالی کے تیز تر سفر کا پیغام پہنچ چکا ہے یہی وجہ ہے کہ اس برس موسم گرما کے دوران سوات، ناران، مانسہرہ اور دیگر علاقوں میں ملکی اور عالمی سیاح اس طرح ٹوٹ کر آئے کہ ہوٹلوں کی تعداد کم پڑ گئی چنانچہ بہت سے ہوٹلوں نے اپنی حدود میں ٹینٹ لگا کر سیاحوں کیلئے رہائش کا بندوبست کیا سیاحوں کے اس نوعیت کے غیر معمولی رش کا یہ پہلا موقع تھا مقام شکر کہ لاکھوں کی تعداد میں سیاحوں نے محفوظ سیاحت کی اور کوئی معمولی سا بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔یاد رہے کہ ورلڈ الیون کے میچ 12,13اور 15ستبر کو لاہور میں کھیلے جائیں گے ورلڈ الیون کی ٹیم جنوبی افریقہ کے کپتان مناف ڈپلوسی کی قیادت میں اور قومی کرکٹ ٹیم سرفراز احمد کی قیادت میں سرمیدان ہوں گی مبصرین کے مطابق دونوں ٹیموں میں مضبوط کھلاڑی شامل ہیں اور شائقین کو بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔ادھر افغان لیگ کے میچوں کے معاملے میں سابق کپتان شاہد آفریدی کے این او سی کا معاملہ التواء میں ہے پی سی بی اور افغان بورڈ کے درمیان بات چیت اس وقت آگے نہ بڑھ سکی جب افغان بورڈ کی جانب سے پاکستان میں میچ کھیلنے سے انکار کیا گیا اس صورتحال میں جبکہ ورلڈ الیون پاکستان میں تین میچ کھیلتے جارہی ہے افغان بورڈ کا پاکستان میں میچ کھیلنے سے انکار کوئی استدلال نہیں رکھتا اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جس طرح بہت سے معاملوں میں افغانستان بھارت کی زبان بول رہا ہے اور نئی دہلی کی پالیسی کو لاگو کئے ہوئے ہے  اسی طرح پاکستان میں کرکٹ کے معاملے میں بھی اسکی پالیسی بھارت کے تابع ہے بھارت پاکستان میں میچ کھیلنے سے انکار کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اب افغانستان نے بھی یہی روش اختیار کرلی ہے شاہدآفریدی کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنی افغان بورڈ کیلئے دستیابی کو پاکستان میں میچوں سے مشروط کردیں۔


Read more

06 September 2017

6ستمبر کی جنگ جب مسلح افواج اور قوم یک جان ہوگئیں

آج پوری قوم دفاع پاکستان منا رہی ہے 6ستمبر1965ء کو پاکستان کی قوم اور اس کی مسلح افواج نے کئی گنا بڑے دشمن کو جس طرح للکارا اس کی جارحیت کا مقابلہ کیا اور اسے اس کی سرزمین پر دھکیل دیا ہر سال 6ستمبر کو قوم ان تاریخ ساز لمحوں کی یاد مناتی ہے 6 ستمبر کی صبح بھارتی فوج نے پاکستان کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا۔ بھارتی فوج کے جنرل چوہدری نے اعلان کیا تھا کہ وہ لاہور کے جم خانہ کلب میں شام گزاریں گے مگر پاک فوج نے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دئیے پاک فوج کے جوانوں نے جہاں پی آر بی نہر یک پل کو اڑا کر دشمن کا راستہ روکا وہاں اس پر تابڑ توڑ  حملے کئے چنانچہ دشمن لاہور کا رخ نہ کر سکا دنیا نے یہ منظر بھی دیکھا کہ پاک فضائیہ نے دشمن کے درجنوں جہاز اڈوں پر ہی تباہ کر دئیے جبکہ فضا میں پاک فضائیہ کے سکوارڈن لیڈر ایم ایم عالم نے 30سیکنڈ میں بھارت کے چھ طیارے مار گرائے۔ چونڈہ میں ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی بھارت نے سینکڑوں ٹینکوں کے ساتھ یلغار کی مگر ہمارے جوان بم باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے' انہوں نے ملک کے لئے شہادتوں کا نذرانہ پیش کیا اور ٹینکوں کے پرخچے اڑ گئے وہی سہی کسر پاک فضائیہ نے پوری کر دی اس نے بمباری کرکے چونڈہ کو بھارتی ٹینکوں کے قبرستان میں تبدیل کر دیا پاک بحریہ نے بھی بھارتی اڈے دوار کو نشانہ بنایا پاکستان نے بڑے دشمن کے بہت بڑے لائو لشکر کا زبردست مقابلہ کیا چنانچہ بہت سے سیکٹروں میں یہ جنگ دشمن کی سرزمین پر لڑی گئی۔ ان کامیابیوں کی وجہ قوم کی یکجہتی تھی مسلح افواج اور قوم دونوں ملک کر دشمن کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئیں شاعروں نے پاک فوج کے لئے ترانے لکھے گلوکاروں نے  ان میں آواز کا جادو جگایا گویا زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس جنگ میں حصہ لیا اتحاد' یکجہتی اور وطن کے دفاع کا جذبہ تھا جس کے باعث کئی گنا زیادہ عسکری طاقت رکھنے والے دشمن کو پسپا کر دیا گیا اس سترہ روزہ جنگ نے یہ واضح کر دیا کہ جنگوں میں صرف عسکری طاقتہی کام نہیں آتی جذبوں کا بھی بے پناہ عمل دخل ہوتا ہے خدا کے فضل و کرم سے اج ملک ایٹمی طاقت اور ناقابل تسخیر ہے تاہم قومی سلامتی کے لئے اتحاد اور یکجہتی ناگزیر ہے قوم کو یہ حقیقت ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنی ہوگی۔



Read more

06 September 2017

برما کے مسلمانوں کی نسل کشی اور اہم طاقتوں کی خاموشی

روہنگیا کے مسلمانوں پر میانمار کی فوج کے مظالم کے بارے میں مسلسل خبریں منظر عام پر آرہی ہیں مگر ابھی تک مسلم امہ یا مغربی ممالک کی طرف سے ان مظالم کے خلاف کوئی آواز سننے میں نہیں آئی اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق میانمار کی شمال مغربی ریاست راکھین میں روہنگیا مسلم اقلیت کے خلاف میانمار کی فوج کے مبینہ آپریشن میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 370تک پہنچ گئی ہے  روہنگیا مسلمانوں سے وابستہ عسکریت پسند گروپ کے پولیس چیک پوسٹوں پر کئے جانے والے منظم حملوں کے بعد سے فوج نے جوابی کارروائی شروع کر رکھی ہے اس آپریشن کے دوران تقریباً چالیس ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی سرحد عبور کر چکے ہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ میانمار کی فوج کے مظالم سے جان بچا کر بھاگنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تین کشتیاں الٹنے سے 26افراد جاں بحق ہوگئے اطلاعات کے مطابق اس حادثہ میں جاں بحق ہونے والوں میں پندرہ بچے اور گیارہ خواتین شامل ہیں۔ روہنگیا میں مسلم اقلیت کے ساتھ ناروا سلوک نئی بات نہیں ہے مگر اس بار یہ سلوک بربریت کی صورت میں ظاہر ہوا ہے میانمار کی فوج کے مظالم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور نہتے مسلمانوں کے پاس سوائے اس کے کوئی راستہ نہیں کہ وہ جان بچا کر بنگلہ دیش میں داخل ہو جائیں' ابھی تک بنگلہ دیش حکومت نے سرکاری طور پر روہنگیا مسلمانوں کو مہاجر کا درجہ دے کر ان کی امداد نہیں کی جبکہ یہ بنگلہ دیش میں داخل ہو کر از خود ہی اپنی گزر بسر کر رہے ہیں یہ صورتحال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین حرکت میں آئے اور میانمار  سے آنے والے مسلمان مہاجروں کی دیکھ بھال اور ان کی امداد کے سلسلے میں فنڈز مختص  کرے جبکہ بنگلہ دیش حکومت کو بھی چاہیے کہ مفلوک الحال ان مسلمانوں کی رہائش اور خوراک کے سلسلے میں ان کی مدد کرے یہ امر ناقابل فہم ہے کہ تمام تر صورتحال اقوام متحدہ کے علم میں ہونے کے باوجود عالمی ادارے نے مسلم اقلیت پر میانمار کی فوج کے مظالم رکوانے کے معاملے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا اسلامی ممالک کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے مغربی ممالک جو انسانی حقوق کے سلسلے میں بہت حساس ہیں۔ انہیں بھی روہنگیا کی مسلم اقلیت کے خلاف میانمار کی فوج کے مظالم رکوانے کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں انجام دینی چاہئیں۔ اسلامی کانفرنس تنظیم کو بھی اس صورتحال میں اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہیے اور اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلانا چاہیے۔ برما کا المیہ تو یہ ہے کہ عالمی نوبل انعام یافتہ وزیراعظم آنگ سوان سوچی کی حکومت کے دوران مسلمانوں پر مظالم  ڈھائے جارہے ہیں وزیراعظم سوچی نے جمہوریت اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں ایک طویل عرصہ جیل میں گزارا مگر اب انہیں انسانی حقوق کا کوئی احساس نہیں ہے انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی شاید اس لئے خاموش ہیں کہ بربریت کا نشانہ محض مسلمان ہیں' وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے برما کی حکومت سے مظالم ختم کرنے کی اپیل کرنی چاہیے اور پارلیمانی وفد کو برما کے دورے پر بھیجنا چاہیے وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان اگرچہ مثبت ہے مگر امداد اور مظالم رکوانے کے  معاملے میں حکومت کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔برما کی صورتحال پر برادر ملک ترقی کے صدر طیب اردوان کا بیان قابل ستائش ہے انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے نقاب میں اس نسل کشی پر خاموش رہنے والا ہر شخص اس قتل عام  میں برابر کا شریک ہے انہوں نے بنگلہ دیش حکومت سے بھی اپیل کی کہ وہ برمی مسلمانوں کو  پناہ دے ان کے تمام اخراجات ان کی حکومت برداشت کرے گی۔ اگرچہ میانمار میں مسلم اقلیت کے خلاف مظالم کا سلسلہ دو سال سے جاری ہے جس کے نتیجے میں اب تک 73ہزار مسلمان شہید کئے گئے ہیں تاہم بربریت کی تازہ لہر 25اگست کو برما کے ضلع راکھین سے  شروع ہوئی جہاں روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت رہتی ہے 25اگست سے لے کر 4ستمبر تک صرف اس ضلع میں کم از کم چار سو مسلمانوں کو شہید جبکہ 2600گھروں کو جلا دیا گیا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ان واقعات پر محض تشویش کا اظہار کیا ہے اس کے علاوہ انہوں نے بربریت کو رکوانے کے معاملے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا او آئی سی نے اب تک مسلم امہ کو مایوس کیا ہے اس اعتبار سے اقوام متحدہ اور او آئی سی ایک پلڑے میں ہیں او آئی سی اگر مسلم امہ کے تحفظ کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی تو اسے تحلیل کر دینا چاہیے اس طرح مسلم امہ اس سے کسی قسم کی امید تو وابستہ نہیں کرے گی۔


Read more

06 September 2017

حمزہ شہباز نے میرے پیچھیغنڈے لگا دیے ہیں، عائشہ احد کا الزام

حمزہ شہباز شریف کی بیوی کا دعوی کرنے والی عائشہ احد نے الزام عائد کیا ہے کہ حمزہ نے ان کے پیچھے غنڈے لگا دیے ہیں۔وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز کی بیوی ہونے کی دعوے دار عائشہ احد نے ان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حمزہ شہباز نے میرے پیچھے غنڈے لگا دیے ہیں جو گھر سے باہر نکلنے پر میرا تعاقب کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پنجاب سے درخواست کی ہے کہ حمزہ شہباز کے غنڈوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔دوسری جانب حمزہ شہباز شریف کے ترجمان نے عائشہ احد کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حمزہ شہباز پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں جن کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں جب کہ وہ پی ٹی آئی کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہیں۔واضح رہے کہ عائشہ احد نے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز کی بیوی ہونے کا دعوی کرتے ہوئے نوازشریف سے انصاف کا مطالبہ کیا تھا جب کہ وہ گزشتہ دور حکومت میں مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر رکن پنجاب اسمبلی بھی رہ چکی ہیں۔

Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
          1 2
3 4 5 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30