Get Adobe Flash player

09 September 2017

آصف زرداری کو اثاثہ جات کیس میں بری کرنے کا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج

پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف زرداری کو اثاثہ جات کیس میں بری کرنے کا فیصلہ لاہورہائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔نیب کی جانب سے پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کواثاثہ جات کیس میں بری کرنے کا فیصلہ لاہورہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں چیلنج کردیا گیا۔ جسٹس طارق عباسی اورجسٹس حبیب اللہ عامرپرمشتمل بنچ 11 ستمبرکو اپیل کی سماعت کرے گا۔نیب نے اپیل میں موقف اختیارکیا کہ اثاثہ جات ریفرنس میں ہمارے ٹھوس دلائل کو عدالت نیغیر قانونی طور پررد کیا اور درخواست میں استدعا کی گئی کہ بریت کو ختم کرکے نیب قانون کے مطابق سزادی جائے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ راولپنڈی کی احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری  کو 16 سال بعد غیر قانونی اثاثہ جات ریفرنس کیس میں بری کردیا تھا۔


Read more

کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے 7 مبینہ دہشت گرد گرفتار

گلستان جوہر الحبیب سوسائٹی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے 7 مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کرکے خود کش جیکٹس اور اسلحہ برآمد کرلیا ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی کے علاقے گلستان جوہر الحبیب سوسائٹی میں کارروائی کرکے 7 مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا ہے جب کہ ان کے قبضے سے اسلحہ اور خود جیکٹس بھی برآمد ہوئی ہیں۔پولیس حکام کے مطابق حساس اداروں کی مصدقہ اطلاعات پر ایک گھر میں چھاپہ مارا گیا جہاں سے کالعدم تحریک طالبان اور کالعدم لشکر جھنگوی کے 7 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ان کے قبضے سے اسلحہ، خودجیکٹس اور ممنوعہ لٹریچر بھی برآمد ہوا ہے۔ دہشت گردوں نے ابتدائی تفتیش میں اعتراف کیا ہے کہ وہ شہر میں ہونے والی دہشت گردی اور تخریب کاری کی مختلف وارداتوں میں ملوث ہیں۔ پولیس نے دہشت گردوں کو حراست میں لے کر مزید تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔


Read more

پاک فضائیہ اور چین کی مشترکہ مشقیں شاہین فائیو شروع

چین اور پاکستان کی فضائیہ کی مشترکہ مشقیں شاہین فائیو چین میں شروع ہو گئیں۔چینی فضائیہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ عالمی معیار کی فضائی قوت بننے کیلیے غیر ملکی افواج کی مہارت سے فائدہ اٹھانا نا گزیر ہے، پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس کے ترجمان شی جنکی کے مطابق ان مشقوں میں جے الیون فائٹرز، جے این سیون بمبر، کے جے 200 اواکس طیاروں، زمینی فورسز اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل اور ریڈارز شامل ہیں۔ ان مشقوں کیلیے پاکستان نے جے ایف 17اور قبل از وقت خبردار کرنے والے طیارے بھجوائے تھے۔ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی معیار کی فضائیہ بنانے کیلیے کام کر رہے ہیں، بین الاقوامی سطح پر تبادلوں سے آپریشنل تیاریوں میں مزید بہتری لا رہے ہیں، یہ مشقیں 27 ستمبر تک جاری رہیں گی۔ واضح رہے کہ شاہین نامی مشترکہ تربیتی پروگرام مارچ 2011 میں چینی اور پاکستانی فضائی افواج کی طرف سے شروع کیا گیا تھا۔

Read more

کوئٹہ سے جمعیت اہلحدیث بلوچستان کے نائب امیر اغوا

جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سینئر نائب امیر اور رکن اسلامی نظریاتی کونسل مولانا علی محمد ابو تراب کو مسلح افراد نے ایئرپورٹ سے ان کے بیٹے عبدالحمید، سیکریٹری عبدالستار اور محافظ سمیت اغوا کر لیا۔مولانا علی محمد ابو تراب کومسلح افراد نے ایئرپورٹ سے ان کے بیٹے عبدالحمید، سیکریٹری عبدالستار اور محافظ سمیت اغوا کیا اور ان کی گاڑی چھوڑ گئے تاہم مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر مرکزی اور صوبائی رہنماں جمعیت علمائے اسلام نظریاتی، مرکزی انجمن تاجران اور دیگر نے اغوا کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔پروفیسر ساجد میر نے خبردار کیا ہے کہ اگر انھیں فوری طورپر بازیاب نہیں کرایا گیا تو ملک گیر سطح پر سخت احتجاج کرینگے، انجمن تاجران نے بھی شٹر ڈان سمیت ہر قسم کے احتجاج کی دھمکی دی ہے، پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ مولانا ابو تراب جماعت کا سرمایہ ہیں وہ ایک امن پسند اور محب وطن رہنما ہیں۔ ان کا دن دیہاڑے کوئٹہ کے حساس علاقے سے اغواسیکیورٹی فورسزکی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، ہم حکومت بلوچستان اورفورسز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مولانا ابوتراب اور ان کے ساتھیوں کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔


Read more

ٹریلین ڈالر کے مقروض کی گیدڑ بھبھکیاں۔۔۔سردار اصغر علی عباسی

امریکہ نے9/11کے بعد افغانستان پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ جو چڑھائی کی وہ چڑھائی آج امریکہ کو اتنی ہی مہنگی پڑ  گئی ۔امریکہ نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو اسکے ذہن میں اسے فتح کرنے کے خوبصورت خواب معصوم افغانیوں کے خون سے ہولی کھیلنے کے راستے میںمجبور کر رہے تھے ۔امریکہ کو اس وقت افغانستان میں کثیر تعداد میں رہنے والے معصوم اور بے گناہ افغانی نظر نہیں آرہے تھے اسے صرف اور صرف اپنے مقصد کا حصول نظر آرہا تھا امریکہ کو ایک جانب گریٹر امریکہ تو دوسری جانب پس پشت گریٹر اسرائیل کاگھنائونامنصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچانے کیلئے معصوموں کے خون سے ہولی کھیلنا کوئی برا کام نظر نہیں آیا امریکہ نے گریٹر اسرائیل کی خاطر صرف افغانستان ہی نہیں عراق،کویت میں بھی معصوموں کے خون سے ان دھرتیوں کو لہو رنگ کیا اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ اس نے فوجی کمک کی کمی دیکھتے ہوئے دیگر عرب ممالک میں گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ایک نئی چال چلی اور عرب ممالک کو آپس میں باہم دست و گریباں کر دیا اور آج عرب خطہ بھی امریکہ کی اس سوچی سمجھی سازش کا شکار ہو چکا ہے اور امریکہ تو اس سے بھی آگے جانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے آج امریکہ کو نظر آرہا ہے کہ وہ دنیا میں تنہا ہوتا جا رہا ہے ۔امریکہ اس وقت ٹریلین ڈالرزکا مقروض ملک ہے یہ سارا قرض ان نام نہاد جنگوں کی نظر ہو گیا آج خود امریکی عوام بھی پینٹا گون اور وائٹ ہائوس کے سامنے سوال کرتی نظر آرہی ہے کہ معصوموں پر ظلم و جبر و بربریت کی راتیں تنگ کرنے سے آخر کیا ملا کہ امریکہ جیسا ملک جو دوسروں کو قرضے دے رہا تھا آج خود قرضوں کے بوجھ تلے دب رہا ہے اور حقیقت اگر عریاں ہو تو اس قرضے کی بہت ساری رقم اسرائیلی ایجنٹوں نے مہیا کی ہے جس کا مقصد امریکہ کی خارجی اور داخلی پالیسی کو کنٹرول کرنا ہے اب امریکہ امریکہ نہیں رہا بلکہ امریکہ اسرائیل کی لونڈی بن چکا ہے اور یہودیوں نے انتہائی چالاکی کے ساتھ امریکہ جیسی سپر پاور کا ریمورٹ کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور اب امریکہ یہودیوں کا فرنٹ مین ہے اور اُسے وہی کرنا پڑتا ہے جو اُسے کہا جاتا ہے ۔آج کا امریکہ کسی صورت عیسائی مذہب کے پیروکاروں کا ملک نہیں ہے بلکہ یہودی لابی کے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے سازشوں کے جال بننے والا ملک بن چکا ہے کیونکہ امریکہ ایک مقروض اور مفلوک الحال ملک ہے جس کی اکانومی یہودی ایجنٹوں اور یہودی لابی کی مدد سے پروان چڑھتی دکھائی دے رہی ہے اور اگر یہودی لابی اور یہودی ایجنٹ امریکی اکانومی کی آبیاری نہ کریں تو کسی صورت ممکن نہیں کہ امریکہ دنیا کے نقشے پر نظر آسکے ۔پاکستان کو امریکی دھمکی کوئی نئی دھمکی نہیں ماضی میں امریکہ کئی بار پاکستان کو دھمکیاں دے چکا ہے ۔افغانستان میں آنے کے بعد امریکہ کا یہ خیال تھا کہ وہ افغانستان کو فتح کرنے کے بعد پاکستان پر حملہ کرنے کی ناپاک جستجو کرے گا مگر اسے کیا معلوم کہ یہ اسلام کا قلعہ ہے اور اس پر حملہ کرنا آسان نہیں اس وطن میں رہنے والے22کروڑ عوام محب وطن ہیں وہ امریکیوں کی طرح بزدل اورفسطائیت کا شکار عوام نہیں ہیں یہ وہ عوام ہیں جنہوں نے بھوک اور افلاس کے باوجود اپنے وطن کے دفاع کو مضبوط بنانے کیلئے اپنے خون سے اسکی سرحدوں کی حفاظت کی اور یہ وہ وطن ہے جس کے پاس دنیا کی بہترین ایٹمی ٹیکنالوجی ہے اور دنیا کا بہترین فضائی نظام بھی وطن عزیز کے بہادر سپوتوں اور تجربہ کار انجنیئرزکی شب و روز محنت کا عکاس ہے بات ادھر ہی ختم نہیں ہوتی اس وطن کی سرحدوں میں رہنے والے تمام باسی وطن عزیزکی سالمیت پر قربان ہونے کیلئے ہر لمحہ تیار ہیں کیا امریکہ کے باسیوں کی سوچ ایسی ہے وہ توامن کا راگ الاپتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے جو آگ ہم نے دوسروں کے گھروں میں لگا رکھی ہے اب وہ ہمارے گھر تک پہنچنے والی ہے ۔امریکہ اب شرمندگی سے منہ ڈھانپ کرنکلنے کی بجائے ڈھٹائی سے بھاگنا چاہتا ہے اگر اسکی یہی مرضی ہے تو وطن عز یزکابچہ بچہ اسکے سامنے سیسہ پلائی دیوار ہے اور جنگیں جذبوں سے لڑی جاتی ہیں نہ کہ ڈھٹائی سے امریکہ کی اگلی نسلیں فیس بک،ویٹس ایپ،یو ٹیوب اور سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمزپر اخلاق باختہ گفتگو کے سہارے جس زندگی کا عہد کر چکے ہیں اب کسی پاکستانی کو ان سے کوئی خطرہ نہیں وہ خود ہی اپنے لئے بہت بڑا خطرہ ہیں ۔وطن عزیزکے پاس اس وقت دنیا کی بہترین فوج ہے جس کے فوجی جوانوں سے مقابلے کیلئے کئی بار سوچنا ہوگا یہ وہ فوج ہے جو بیک وقت کبھی ''را'' کی مذُموم سازشوں اور کبھی''موساد''کی ریشہ دوانیوں اور کبھی وطن عزیزمیں چھپے دہشتگردوں اور کبھی وطن عزیزمیں آنے والی آفتوں کے خلاف سینہ سپر رہی ہے اس فوج کو جنگی حکمت عملی کا جتنا تجربہ ہے وہ دنیا کی کسی فوج کو نہیں دہشتگردوںکو امریکہ اپنے ساتھ لئے درجنوں اتحادیوں کے ہمراہ شکست نہیں دے سکا مگر اس بہادر فوج نے غیر ملکی ایجنٹوں کی فنڈنگ پر پلنے والے ان دہشتگردوں کو وطن سے دور بھگایا ہے اوران کو گیدڑ سے بھی بد تر بنا دیا ہے ۔امریکہ اوراسکی تمام اتحادی افواج محنث سے بڑھ کر کچھ نہیں ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے جس سے یہ کسی صورت مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں ۔امریکہ کی دھمکیوں کو نہ ماضی میں کسی نے سنجیدگی سے لیا ہے اور نہ اب لے گا یہ پاکستان بہادروں کا ملک ہے امریکہ کو پہلے بہادر سپوتوں کی فوج بنانا ہوگی پھر ہمارے مد مقابل آنا ہوگا۔

Read more

09 September 2017

رانگ نمبربھارتی با با:اب جیل میں۔۔۔عبدالجبار خان

گرمیت سنگھ عرف با با رام رحیم کو بھارتی عدالت نے طویل ٹرائل کے بعد آخر کارسز ا سنا ہی دی گرمیت سنگھ نے 23ستمبر 1990 کو ڈیرہ سچا سودا کے نا م سے ایک نئے فرقے کا اعلا ن کیا اس نے ہریانہ کے ہسیار میں ایک بہت بڑا آشرم کھو لا جس میں خاص کر ہند و کم ذات والے سکھ اور دیگر مذاہب کے ماننے والے لوگ آتے تھے جو غربت اور جہالت کے پیش نظر اس کے عقیدت مندوں میں شامل ہو تے رہے جب دن بدن اس ڈھونگی بابا کی شہر ت میں اضافہ ہو نے لگا اور اس کے چا ہنے والے یعنی اس کے مریدوں کی تعداد میں اضا فہ ہو نے لگا تو اس ڈھو نگی کے پاس بڑے بڑے سیاست دان بز نس مین اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے آنے لگے اس نے آہستہ آہستہ تقریبا پورے بھارت میں اپنے ڈیرے قا ئم کر دیے جس سے اس کو سیاست دانو ں کی پشت پناہی بھی ملنے لگی اور یہ بابا اور زیادہ پاورفل ہو گیا اس کو سرکاری وذاتی خزانوں سے فنڈنگ ہو نے لگی بڑی بڑی کمپنیوں اور میڈیا چینل کے مالکان اس کے آگے پیچے دوڑنے لگے بھارت کے بڑے بڑے سیاست دان اس کی تعریف کر تے تھے خود بھارتی وزیر اعظم مو دی بھی اس کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے اس کے علاوہ بی جے پی کے امیت شاہ  منو ج تیو اری  ہر یا نہ کے وزیر اعلی اور مہاراشٹر یا کے وزیر اعلی دیویندرکے علا وہ بی جے پی کے جنر ل سیکرٹری کیلاش وجے بھی اس کے مر ید وں میں شامل تھے جو اس کے ڈیر ے پر حاضری دیتے رہتے تھے اس نے 2014 کے الیکشن میں بی جے پی کی حما یت کا اعلان بھی کیا تھا یہ بابا میڈیا میں بھی ان ہو نے لگا جس کی بنا پر یہ رنگ بر نگ کپڑے بھی زیب تن کر تا تھا اور مہنگی جیو لر ی بھی پہنتا تھا جب اس ڈھو نگی کی شہر ت میں اضافہ ہوا تو اس کے پاس دولت کے انبار لگنا شروع ہو گئے تو اس نے فلمیں بنانا شر وع کر دیں جن میں اہم رول یہ خود ہی نبھاتا تھا اس نے مسنجر فرام گاڈ اور وارئیر لا ئین ہارٹ جیسی فلموں میں اہم کر دار بھی ادا کیے اس نے 2014 میں ایک گانا لو چارجر گایاجو بہت مقبول ہوا جس سے اس کو مزید شہرت ملی یہ ڈھو نگی لعنتی اور ذلیل بابا پاکستان کے خلاف بننے والی ایک فلم میں سیکرٹ ایجنٹ کا کر دار ادا کر رہا تھا یہ تو تھا اس ڈھو نگی اور رنگین بابے کا چہرہ جو میڈیا اور عام آدمی کے سامنے تھا اس کا اصلی چہرہ پردے کے پیچھے کچھ اور تھا اس کے ڈیرے پر لوگ مفت میں کام کر تے تھے خواتین اور کنواری لڑکیاں اس کی خدمت پر معمور ہوتی تھیں جن کو اپنے ہی گھر والے بابا سے عقیدت کی وجہ سے یہاں چھو ڑ جاتے تھے بابا ان خواتین اور لڑکیوں سے جنسی زیادتی کر تا اور جب ان لڑکیوں کی عمربڑھنے لگتی تو اپنے ڈیرے پر اجتماعی شادیوں کی تقریب کروا کے ان لڑکیوں کی شادی اپنے مریدوں سے کروا دیتا تھا دنیا کی نظر میں یہ اچھا بھی بن جا تا اور اس وجہ سے بڑے لو گوں اور سیاست دان اسے بھاری رقم عطیہ کے طور پر اس کے آشرم کیلئے دیتے تھے ایسے ہی اس ڈھونگی بابا کا یہ سلسلہ چلتا رہاآخر کار 2002 میں دو لڑکیاں اس کے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑی ہو ئیں دونوں لڑکیوں نے ہمت کر کے ایک خط تحر یر کیا جس میں انہوں نے اپنے اوپر ہو نے والے سارے ظلم اور بابا کی ہو س کی داستان لکھی اور یہ خط انہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی  چیف جسٹس  اور ایک مقامی اخبار کے ایڈیٹر رام چندر چھتری کو ارسال کر دیا جب یہ خط رام چند رکو ملا تو اس نے وہ خط اپنے اخبار میں شا ئع کر دیا جس سے ایک طو فان برپا ہو گیا بابا کے غنڈے رام چند ر کو جان سے ما ر دینے کی دھمکیاں دیتے رہے رام چندر بھی اس معاملے کو اپنے اخبار میں شائع کر تا رہا پھر بھارت میں خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں بھی ان لڑکیوں کی مدد کے لئے میدان میں آگئیں اور سا تھ ہی چار وکیل بھی سامنے آگئے جو ان لڑکیوں کا مفت میں مقدمہ لڑنے کو تیا ر ہو گئے معا ملہ میڈیا سے پر دھان منتری تک جا پہنچا تو اس نے سی بی آئی کو اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تو معاملہ آہستہ آہستہ چلتا رہا بابا کے غنڈے سب کو ڈراتے رہے ان غنڈوں نے صحافی رام چندر چھتری کو اس کے گھر کے باہر گولیاں مار کر قتل کر دیا کیس کی تحقیقات بابا کے سیا سی پر یشر کی وجہ سے لٹکی رہی جس کو پندرہ سال کا عرصہ ہو گیا 2002 میں ہو نے والے معا ملے کا فیصلہ بالآخر 2017  کوپندرہ سال بعد سنایا گیا 25 اگست کو جب سی بی آئی کی خصوصی کورٹ کے جج جگدیپ سنگھ نے بابا رام رحیم کو مجر م قرار دیا تو پورے بھارت میں ہنگا مے کھڑے ہو گئے جو پھیلتے پھیلتے کئی ریاستوں تک چلے گئے اس ڈھو نگی بابا کے چاہنے والوں نے بھارت کی سرکاری و نجی املاک کو جلایا توڑ پھوڑکی بھارت میں ان ہنگاموں کی وجہ سے پانچ سو کے قریب ٹر ینیں بند کر نا پڑیں ان ہنگاموں میں تقریبا  تیس سے زیادہ افراد ہلا ک ہو ئے عدالت نے مجر م قرار دینے کے تین دن بعد 28 اگست کو فیصلہ سناریا کی جیل میں سنا نا تھا جس کی وجہ اس جیل کی سیکورٹی کو سخت ترین بنایا گیا تھا'اس دن مو بائل فون اور انٹر نیٹ سروس بھی بند رکھی گئی جبکہ کسی بھی ہنگا مہ کرنے والے کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم بھی جا ری کیا گیا اس دن جج کو خصوصی طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے جیل لایا گیا اور مجر م کو بھی ہیلی کاپٹر کے ذریعے جیل منتقل کیا گیا جب خصوصی کورٹ کے جج جگدیپ سنگھ نے اس ڈھونگی بابا کا فیصلہ سنایا تو اسے جج نے جنگلی جانور کا خطاب دیا اس ڈھونگی کو 20 سال قید کی سزا سنائی جو دولڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے جرم میں یعنی دس سال ایک اور دس سال دوسری کے جر م میں اور ساتھ ہی 30لاکھ کا جرمانہ بھی عا ئد کیا جس میں سے 14/14لاکھ ایک ایک لڑکی کو دیے جائیں گے بابا سزا سنتے ہی رو پڑا اور جج کے سامنے ہاتھ جوڑ کر رحم کی اپیل کر نے لگا پولیس اہلکا ر اس کو گھسیٹ کر کمرہ عدالت سے باہر لے گئے اب یہ ڈھونگی بابا ساری زند گی جیل میں ہی گزارے گا کیو نکہ صحافی رام چندر اور مزید قتل کے مقدمات کے علا وہ درجنوں اور نوعیت کے مقدمات کا فیصلہ ابھی ہو نا ہے ویسے تو یہ بابا اپنے آپ کو ہیر و تصور کر تا لیکن یہ کم پڑھ لکھا تھا جس کی وجہ سے جیل میں اس سے مزدوری کروائی جائے گی جو صبح 8 بجے سے لے کر شا م 4 بجے تک ہو گی۔ اس کے جیل میں مالی درکھان بیکر ی میں آٹا گوندنے کے علاوہ کر سیاں اور چارپائیاں بنوائی جائیں گی بھارت میں یہ ایک تاریخی فیصلہ تھا جس میں ایک ظالم کو جیل میں ڈال کر کمز ور خواتین کو پندرہ سال کے بعد انصا ف ملا ہے جبکہ اس تاریخی فیصلہ کر نے والے جج جگدیپ سنگھ کو ہمیشہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گابھارتی حکومت اس جج کو بابا کے چاہنے والو ں کے خطر ے کے پیش نظر زیڈ پلس سیکیورٹی فراہم کرے گی بھارت میں زیڈ پلس سیکورٹی اعلی عہد ے داروں کو فراہم کی جاتی ہے جس میں اے سی پی رینک کے کسی آفیسر کو اس جج کی سیکیورٹی پر معمور کیا جائے گا ۔اگر دیکھا جا ئے بھارتی عوام کو جہالت اور غربت کی وجہ سے ایسے بابے اکثر اپنی گرفت میں رکھتے ہیں اب جیسے یوگی بابا جو کسی دور میں ایک عا م آدمی تھا اب وہ بہت بڑا بزنس مین بن چکا ہے اس کے اپنے برانڈ مارکیٹ میں آگئے ہیں جس میں ٹو تھ پیسٹ شیمپو' ہیرآئل اور دیگر کاسمیٹکس کے علا وہ کھانے پینے کی اشیاء تک شامل میں ہیں جن کی تشہیر کے لئے یو گی بابا خود اشہارات میں آتا ہے بھارت میں ایسے ہزاروں با بے ہیں جو بھارت کی عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں جن میں سے اکثر جیلوں میں قید ہیں بالی ووڈ کے ادکارمسٹر پر فیکٹ عامر خان نے ایسے ڈھو نگی با بوں پر پی کے (pk) فلم بنائی تھی جس میں ایسے لوگوں کو رانگ نمبر کا خطاب دیا گیا تھا اس فلم نے پوری دنیا میں خوب بزنس کیا لیکن اتنی کا میا ب فلم اور بزنس کرنے کے بعد بھی کہانی کا اثر بھارتی عوام پر نہ پڑ سکا-


Read more

09 September 2017

شجاعت کی نئی تاریخ ۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں جہاں پاکستان کی بری اور بحری افواج نے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ وہیں پاک فضائیہ کا کردار بھی سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔6 ستمبر 1965ء کو جنگ کے پہلے ہی دن' پاک فضائیہ نے بری فوج کے دوش بدوش بڑا اہم کردار ادا کیا اور پٹھان کوٹ' آدم پور اور ہلواڑہ کے ہوائی اڈوں پر حملہ کرکے' دشمن کے 22 طیارے اور متعدد ٹینک' بھاری توپیں اور دوسرا اسلحہ تباہ کیا۔ لیکن جنگ کا اگلا دن' یعنی 7 ستمبر 1965ء  کا دن تو پاک فضائیہ ہی کا دن تھا۔7 ستمبر 1965، پاکستان میں یہ دن یوم فضائیہ کے نام سے منایا جاتا ہے۔ 1965 کی جنگ میں اس روز پاک فضائیہ نے دشمن کو ایسی دھول چٹائی جس نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔اس دن اگرچہ پاک فضائیہ کے طیارے سرگودھا کے ہوائی اڈے پر' طلوع آفتاب سے پہلے ہی بھارت کے ممکنہ حملے کے دفاع کے لیے تیار کھڑے تھے۔ مگر دشمن کا حملہ اس قدر ناگہانی تھا کہ حملے کا علم ان کی آمد کے بعد ہی ہوا چنانچہ فضائیہ کے طیاروں نے اپنا فریضہ بھرپور طریقے سے انجام دیا۔دشمن کے طیاروں کو نہ صرف فرار پر مجبور ہونا پڑا بلکہ پاک فضائیہ کے طیاروں نے ان کا پیچھا کرتے ہوئے ان کے کئی طیارے مار گرائے۔اس کے بعد پاک فضائیہ نے دشمن کے ہوائی اڈوں پر جوابی حملہ کیا اور لدھیانہ' جالندھر' بمبئی اور کلکتہ کے ہوائی اڈوں پر حملہ کرکے مجموعی طور پر دشمن کے 31 طیارے تباہ کردیے۔ جنگ ستمبر کے دوران پاک فضائیہ نے 1965ء  میں پیشقدمی کرنے والی بھارتی فوج کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر لاہور کو بچا لیا۔ بھارت کے لڑاکا طیاروں کو اڑنے سے پہلے ہی پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر تباہ کر دیااور بغیر کسی مزاحمت کے سرینگر ہوائی اڈے کو بمباری سے تباہ کر کے ناقابل استعمال بنا دیا۔ 7 ستمبر 1965 کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے پانچ جنگی طیاروںکو تباہ کرکے عالمی ریکارڈ بنانے والے اسکوارڈن لیڈر ایم ایم عالم کے کارنامے زندہ و جاوید اوریوم فضائیہ کا خاصا ہیں۔ جنگ کے ہیرو سکوارڈن لیڈر محمد محمود عالم نے دشمن کے9 جنگی طیارے مار گرائے جن میں پانچ لڑاکا طیارے تو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں تباہ کیے۔ بہادری کے صلے میں دوبار ستارہ جرات سے نوازاگیا۔ اٹھارہ برس قبل وائس چیف آف آرمی سٹاف کی حیثیت سے ریٹائر ہونے والے ائر مارشل ارشد چودھری نے تیئس سالہ فلائنگ آفیسر کے طور پر جنگ ستمبر کے دوران کل بتیس فضائی معرکوں میں حصہ لیا۔بقول ارشد چودھری جنگ ستمبر شروع ہونے سے پہلے ہی جنگ کے آثار نمایاں تھے اور پشاورمیں متعین فضائیہ کے انیسویں سکواڈرن کو پٹھان کوٹ کا بھارتی ہوائی اڈہ تباہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔ہم نے اس کام کی خوب پریکٹس کی۔ سکواڈرن لیڈر سجاد حیدر جنہیں پیار سے نوزی حیدر کہا جاتا تھا، بہترین قائد، استاد اور ساتھی تھے۔ چھ ستمبر ہمارے لئے بہت اہم دن تھا کیونکہ چار ستمبر کو ہمارے ساتھ چھمب جوڑیاں میں دو بھارتی طیارے گرا کر ہیرو بن گئے تھے۔ ہمیں بھی معرکہ کارزار میں کودنے کی جلدی تھی۔ چھ ستمبر کو حکم ملا کہ بھارتی دستوں کی واہگہ کی جانب پیشقدمی کی اطلاع ملی ہے۔ صبح نو بجے چھ طیاروں پر مشتمل ہمارے فارمیشن نے پرواز کی۔ دو دو طیارے آگے اور کور کیلئے دو طیارے عقب میں اڑ رہے تھے۔ بی آر بی عبور کرنے کے بعد ناقابل یقین منظر دیکھا کہ ہم بھارتی فوج کے سر پر پہنچ چکے ہیں۔ بھارتی ٹینک آگے تھے۔ ساتھ پیدل فوجی چل رہے تھے۔ پیچھے فوجی ٹرک، ان کے پیچھے ڈبل ڈیکر اور عام بسوں میں سوار لاہور کو فتح کرنے کیلئے بھارتی چلے آ رہے تھے۔ ہم نے بھارتی فارمیشن اور پیشقدمی کے انداز کا جائزہ لیا۔ نوزی حیدر نے پوزیشنیں سمجھائیں اور سب سے پہلے ہم نے راکٹوں سے بھارتی ٹینکوں کو عمدگی سے نشانہ بنایا۔ بھارتیوں کو خوش فہمی میں خود پر پڑنے والی افتاد کا کوئی اندازہ نہیں تھا لیکن ٹینکوں کی تباہی نے انہیں بوکھلا دیا۔ ہمارے لئے ہدف کی کوئی کمی نہیں تھی۔ دوسرے حملہ میں پھر ٹینکوں کو نشانہ بنایا۔ اس دوران بھارتی پیش قدمی رک چکی تھی اور فوجیوں کی پسپائی کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ مزید حملوں میں ہم نے بھارتی فارمیشنوں پر فائر شروع کر دیا۔ ہر طرف بھارتیوں کی لاشیں، تباہ شدہ ٹینک، ٹرک اور بسیں پڑی تھیں۔ مفرور بھارتیوں کو نشانہ بنانے کیلئے ہم نے وسیع علاقہ میں پھیلے کماد کے کھیتوں میں ان کا تعاقب کیا۔ جب ایندھن اور اسلحہ بارود ختم ہونے لگا اس وقت تک ہم جی بھر کے بھارتیوں کو نقصان پہنچا چکے تھے۔حکم ہوا کہ اسی شام پٹھانکوٹ کا مشن مکمل کرنا ہے۔ ہمارے جذبے جوان، جوش انتہا پر پہنچا ہوا تھا۔انتہائی بلندی پر اڑنے والے دو جاسوس طیاروں کی بدولت پاکستان کے پا س پٹھانکوٹ کے اڈے کی مکمل تفصیلات موجود تھیں۔ تربیت نے خوف سے بے نیاز کر دیا تھا۔ رہی سہی کسر جذبہ شہادت نے نکال دی۔ طویل فاصلہ کے سبب ہمیں صرف ایک ایک حملہ کرنا تھا۔ فضا میں بلند ہوئے، پھر اترنا شروع کر دیا اور بھارتی راڈار سے بچنے کیلئے درختوں کی بلندی تک آ گئے اور بغیر کسی مزاحمت کے شام پانچ بج کر پانچ منٹ پر پٹھانکوٹ پہنچ گئے۔ہم نے بھارتیوں کو مکمل سرپرائز دیا۔ ہوئی اڈے پر پہنچ کر اپنے اہداف تلاش کئے، پوزیشن لی۔ اس وقت صرف اللہ کا خوف دل میں تھا۔ مشن لیڈر نے آواز دی کہ اڈے پر موجود طیارے  مگ 21 ہیں۔ یہ اس وقت کے جدید ترین طیارے تھے۔ طے ہوا کہ سب کو تباہ کرنا ہے چاہے ایک سے زائد حملے کرنے پڑیں۔ ہمارے حملوں سے تباہ ہونے والے طیارے آگ کے گولے بن چکے تھے۔ ہمارے تمام طیارے مشن مکمل کر کے کامیابی سے واپس آ گئے۔ فضائی جنگوں کی تاریخ کی یہ کامیاب ترین کارروائی تھی ۔بھارتی فضائیہ کے مورال کا یہ حال ہو گیا تھا کہ بھارتی طیارے، پاکستانی طیاروں کو دیکھ کر ہی رخ بدل لیتے تھے۔ متعدد بار بھارتی طیاروں نے تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود پسپائی اختیار کی۔پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے خلاف اپنی کارروائی 6 ستمبر کو شام 5 بجے کے بعد شروع کی تھی اور 7 ستمبر کو شام 5 بجے سے پہلے وہ دشمن کے 53 طیارے تباہ کرکے ناقابل شکست فضائی برتری حاصل کرچکی تھی۔ اس کے بعد جنگی بندی تک' ماسوائے سرحدی جھڑپوں کے' بھارتی فضائیہ نے کبھی بھی پاک فضائیہ کے اس تسلط کو چیلنج نہیں کیا جو اس نے فضائوں میں پہلے ہی روز قائم کرلیا تھا۔ پاکستان کے لیے فضائی جنگ 6 ستمبر کو شروع کی گئی تھی اس کی فضائیہ نے 7 ستمبر ہی کو جیت لی تھی۔پاک فضائیہ کے موجودہ نوجوان ہواباز زبردست تربیت اور جوش و جذبہ کے حامل ہیں جو وقت آنے پر دشمن کے دانت کھٹے کر سکتے ہیں۔



Read more

09 September 2017

گرومیت سنگھ:باباسے قیدی نمبر1997۔۔۔ سید منصور آغا

کل تک جس کے اشارے پرسرکارناچتی تھی، ہزاروں لاکھوں افراد جس کے لئے جان دینے کو تیار تھے، جس کی دسترس میں وسائل دنیا کی کوئی کمی نہ تھی ، جو کاروں کے لمبے قافلہ میں چلتا تھا ، جس کے ست سنگ میں ہزاروں کی بھیڑ ہوتی تھی،جو لاکھوں کے لئے عقیدت اوراحترام کا مرکز تھا، جو ایک بڑے سکھ پنتھ ڈیرہ سچا سودا  کا بے تاج بادشاہ تھا، وہ جب احتساب کی کسوٹی پر کسا گیا تو گناہ گار نکلا۔سزاکا مستحق قرارپایااورجب عدالت میں سزا سنائی گئی تو وہ گڑگڑارہاتھا، رحم کی بھیک مانگ رہاتھا، دھاڑیں مارمار کر رورہاتھا، یہاں تک اس کی ٹانگوں نے بھی ساتھ چھوڑدیا۔ وہ کھڑا نہ رہ سکا اور زمین پر گرپڑا۔اس کو گھسیٹ کرباہرلیجایا گیا ۔ اب وہ جیل میں قیدی نمبر 1997 ہے ۔ عدالت نے اس کو جبری عصمت دری کے دو کیسوں میں بیس سال بامشقت کی سزاسنائی ہے۔ 30لاکھ روپیہ جرمانہ عائد کیا۔کیس ابھی اوربھی چل رہے ہیں۔ دیکھئے آخرانجام کیا ہوتا ہے؟ وہ شوگرکا مریض ہے ،بی پی کابھی۔کئی دن تک ہم نے اس کی خبروں کو سنا، ٹی وی پر اس کے مناظر کودیکھا ، تبصرے سنے اورکئے۔ برابھلا کہا ، لعنت ملامت بھی کی، مگرذرا ٹھہریے اوردیکھئے کہ کیااس رواں روداد سے ہم نے خود کوئی سبق لیا ؟ کیا ہمیں یاد آیا کہ ایک دن ہمیں بھی ایک سچی عدالت میں اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ خدانہ کرے اس دن کہیں ہمارا حال گرمیت جیسا تو نہیں ہوجائیگا؟گرمیت سنگھ کی ولادت اگست 1967میں راجستھان کے سرحدی ضلع گنگانگر کے گائوں گروسرموڈیا میں ہوئی۔ سات سال کی عمرمیں اس وقت ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ شاہ ست نام سنگھ نے اس کو ڈیرے میں داخل کرلیا۔ 23 ستمبر1990کو شاہ نے ایک بڑے ست سنگ کا اہتمام کیا جس میں گرمیت کو سنت کا اعزاز دیا اور اپنا نائب اورخلیفہ نامزدکردیا۔ اس وقت گرمیت کی عمر صرف 23 سال کی تھی۔سوا سال بعد شاہ کی وفات ہوگئی اور گرمیت ڈیرہ کے سربراہ بن گئے۔سب کچھ بنا کسب ، بغیرامتحان مل گیا۔ سچاسودا ایک سکھ صوفیانہ پنتھ ہے جس کی بنیاد1948میں ایک خداترس صوفی سنت مستانہ بلوچستانی نے ڈالی تھی۔وہ سنت کرپال سنگھ مہاراج کے چیلے اورمرید تھے۔اس ڈیرہ کی تعلیمات اور اصول اعلی اقداراور بلند نظریہ پر قائم ہیں۔محنت کی کمائی سے گزراوقات کرنے اورعطیات قبول نہ کرنے کی سخت ہدایت ہے۔ہرفکروعمل میںانسانیت پرزوردیاگیا ہے۔ ذات یا مذہب کی بنیاد پر کسی سے تفریق نہیں کی جاتی۔ جو ڈیرے میں آجائے وہی مہمان۔ ہرکسی کی خاطر ومدارات ہوتی ہے۔ معاشرتی برائیوں جیسے جہیز'تلک، بیڑی ،سگریٹ، گٹکا، نشہ ، شراب وغیرہ سے سختی سے روکا جاتا ہے۔ خدمت خلق کی باتیں ہوتی ہیں۔طوائف پیشہ خواتین کی بھی شادی کرادی جاتی ہے۔ مذہبی و سماجی عدم تفریق اورشرف انسانیت پرزورکی وجہ سے اس کااثرورسوخ بڑھا۔ پسماندہ طبقات، دکھی افراد اور خصوصا خواتین میں اس کے معتقدین بڑھتے چلے گئے۔ اپریل 1960میں بابابلوچستانی کی وفات کے بعد ان کے چیلے شاہ ست نام نے گدی سنبھالی۔لیکن اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ گرمیت سنگھ نے ڈیرے کے تمام اصولوں کو تلاجنی دیدی اوربقول جج ایک وحشی جنگلی جانور کی طرح برتائو کیا۔ دولت کی ریل پیل ہوگئی۔ ذکروفکر کے بجائے فلموں میں دلچسپی لی جانے لگی اورمغربی طرز کے لباس پہنے جانے لگے۔ابتدامیں اس ڈیرے کا کوئی سروکارسیاست سے نہیں تھا۔فلاحی کام البتہ ہوتے تھے۔ گرمیت نے ان کوترقی دی۔کئی جگہ اسکول وکالج بھی قائم کیے جن میں فیس کم اور تعلیم اچھی بتائی جاتی ہے اوربھی سماجی کام کئے ۔ مگرساتھ ہی سیاست میں بھی دخل دیا اورعطیات لینے لگے۔ان کے بیٹے کی شادی پنجاب کے ایک بڑے سیاسی لیڈرکی بیٹی سے ہوئی ہے۔چنانچہ الیکشن میں ڈیرہ سچاسودا کے اثر و رسوخ کا پکارا گیا۔ اگرچہ وہ ہار گئے مگر 2012 کے چنائو میں کانگریس کی ریاستی قیادت نے ان کی تائید چاہی اورپائی۔ نتیجہ مایوس کن رہا۔ حالیہ لوک سبھا واسمبلی چنائو میں گرمیت سنگھ پرمودی جی کا جادوچل گیا اور انہوں نے بھاجپا کے کشکول میں اپنا وزن ڈال دیا۔حالانکہ بھاجپا آرایس ایس کے جن اصولوں پر کاربند ہے ،وہ ڈیرے کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔ڈیرے کا اصول فرقہ ورانہ ہم آہنگی اوربھاجپا کا فرقہ وارانہ گروہ بندی۔ بہرحال ہریانہ میں توان کی تائید رنگ لائی اور پہلی مرتبہ بھاجپا کو اکثریت حاصل ہوگئی مگردہلی اوربہار میں ڈیرے کا جادو نہ چل سکا۔اس سے قبل چوٹالہ کی سرکار بھی ان کی اسیررہی۔ گرمیت نے یہ سب کچھ تو کیا مگروہ نہ کیا جو سادھو سنتوں کا کام ہے۔ خود شادی شدہ ہیں۔ تین بیٹیاں اورایک بیٹا ہے۔محنت کے بجائے عیش پرستی کو جگہ دی' گندی فلمیں دیکھنے لگے ' لباس بدل ڈالا۔ مصرفیات بھی عجیب عجیب ہوگئیں لیکن شہرت کو بٹہ تب لگا جب عورتوں کی عصمت دری، قتل، اور دیگرجرائم کی خبریں آنے لگیں۔ 2002 میں یہ خبرآئی کہ دونوجوان خواتین ،جو ڈیرہ میں سادھوی تھیں اور گرمیت کو اپنا خدا سمجھ بیٹھی تھی، اس کی جنسی ہوس کا شکارہوگئیں۔ اندازہ لگائیے کہ اس لمحہ ان بے بس خواتین کی شخصیت کس طرح پارہ پارہ ہوئی ہوگی؟ جس کو اپنا روحانی پیشوا اور پختہ محافظ جانا، اسی نے گھیرگھونٹ کر بدکاری کی۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک سادھوی کا بیان ہے کہ گرمیت نے رات کو اس کو اپنے کمرے میں بلایا جہاں ننگی فلم چل رہی تھی ۔ ریوالور کی نوک پر اس سے زیادتی کیااورپھر یہ سلسلہ چلتا ہی رہا۔ خبرہے کہ اس طرح کوئی تین درجن خواتین کا جنسی استحصال وہ کرتارہااورسب دم بخود رہیں۔آخراپریل2002 میں وزیراعظم اٹل بہاری باجپئی، مرکزی وزیرداخلہ ایل کے ایڈوانی، پنجاب اور ہریانہ کے وزرائے اعلی اورپنجاب وہریانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ایک خاتون کاگمنام خط ملا، جس میں جنسی استحصال کی شکایت اورجانچ کی گزارش کی گئی۔ سیاست دانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔البتہ چیف جسٹس نے سرسہ کے ضلع وسیشن جج ایم ایس سولارکو مستعد کیا ۔ ابتدائی جانچ کے بعد جسٹس سولار نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی کہ معاملہ کی سنٹرل ایجنسی سے جانچ ہونی چاہئے۔ چنانچہ ہائی کورٹ نے سی بی آئی جانچ کا حکم دے دیا۔وزیراعلی اوم پرکاش چوٹالہ بلبلا اٹھے اورسپریم کورٹ میں عرضی گزاری کہ سی بی آئی جانچ نہ ہو لیکن عرضی مسترد ہوئی۔پانچ سال کی تفتیش کے بعد سی بی آئی نے جولائی2007 میں دوخواتین کی جبری عصمت دری کاکیس داخل عدالت کیا۔ ان خواتین نے عدالت میں گواہی دی، مگرایک نے کہا کہ یہ تو بابا نے اس کو شدھ کرنے کے لئے کیا تھا۔ اسی دوران ایک جراتمند صحافی رام چندرچھترپتی نے اپنے شام نامہ پوراسچ میں مذکورہ خط اورڈیرے میں جنسی غلاظت پر ایک رپورٹ شائع کردی۔ ان کو ان کے دفتر کے باہر گولی ماردی گئی۔ اسپتال میں موت وزیست کے درمیان لٹکے ہوئے صحافی نے بار بارگزارش کی کہ مجسٹریٹ کو بلایا جائے اور ان کا بیان درج کرایا جائے مگرچوٹالہ سرکارٹس سے مس نہیں ہوئی۔ آخر کوئی بارہ دن بعدچھترپتی نے دم توڑدیاان کے قتل کرانے کا الزام بھی گرمیت پر ہے۔کیس اسی سی بی آئی عدالت میں چل رہا ہے۔پانچ سال بعد انبالہ میں مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی توہرتاریخ پر ہنگامہ ہوتا رہا۔ آخر اپریل 2011 میں عدالت کوا نبالہ سے پنچ کلہ شفٹ کردیا گیا۔مقدمہ دس سال تک گھسٹتارہا'ایک سو سماعتیں ہوئیں۔2016 میں روزانہ سماعت شروع ہوئی اوراگلی ایک سوسماعتوں کے بعد گرمیت کو سزا ہو گئی۔ ان پر اپنے بہت سے معتقدین کوجبری خصی کرانے کا بھی الزام ہے۔ ان کو جھانسا دیا گیا تھا کہ اس کے بعد بھگوان کے درشن ہونگے۔یہ تفصیل اس لئے بیان کردی کہ اندازہ ہوجائے گزشتہ پندرہ سال میں گرمیت کے پاس کتنا موقع تھا کہ اپنی غلط روش سے بازآجاتے اورڈیرہ کے اس کے اصولوں پر پھر سے قائم کرتے  مگر انہوں نے اس مہلت سے فائدہ نہیں اٹھایا اورفیصلے کا دن آگیا۔ وہ گڑگڑارہے تھے ، ارے کوئی مجھے بچالے۔ اندازہ کیجئے کہ جب انسان اپنی قدروں سے، اپنے اصولوں سے گرجاتا ہے تو کس مقام پر پہنچ جاتا ہے، جہاں اس کے لئے بجز سزا کوئی راہ فرار نہیں رہتی۔ یہ وقت دیرسویر آکر رہتا ہے۔میں نے اس تحریرکا آغازجہاں سے کیا تھا، کہ اس میں ہمارے لئے کیا سبق ہے، وہیں آجاتے ہیں۔ کیا قرآ ن ہمیں باربار یہ خبردارنہیں کرتا کہ آخرایک دن آنے والا ہے جب انصاف کا ترازوقائم ہوگا اورہمارے سارا کیا دھرا، ذرا ذرا، ہمارے سامنے ہوگا اورہم اس دن ہم اپنی غلطیوں پر بہت پچھتائیں گے مگراس پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔دھن دولت، اولاد، اقتدار منصب کچھ کام نہ آئیں گے۔ یہ دنیا کی زندگی چارروزہ ہے۔ جن کو خدا پر یقین نہیں، جن کیلئے بس اس دنیا کا اقتدار، دھن، دولت، عیش پرستی اوراولاد ہی سب کچھ ہیں ان کو نہ دیکھئے۔ اپنی طرف دیکھئے۔ گرمیت نے قصورصرف جنسی بے راہ روی کاہی نہیں کیا،اس کا بڑاقصور اعتماد شکنی بھی ہے۔ وہ اعتماد جو شاہ ست پال نے ان پر کیا، جو لاکھوں مجبورمرداورخواتین نے کیا، جنہوں نے خدمت خلق کے لئے خود کو ڈیرہ کے لئے وقف کردیا۔ سی بی آئی جج جگدیپ سنگھ نے سزامیں نرمی کی درخواست کو مستردکرتے ہوئے یہی بات کہی ہے، نرمی کیسی، جس کو صنف نازک نے خدا جاناتھا وہ ان کے لئے جنگلی وحشی بن گیا۔ دیکھئے جنسی بے راہ روی انسان کو کیا سے کیا کردیتی ہے؟خداہم سب کی حفاظت فرمائے۔لیکن آپ کو یہ جان کرحیرانی نہ ہونی چاہئے کہ جس شخص کی تعریف وزیراعظم مودی سمیت بھاجپا کے بے شمارلیڈروں نے کی، ان کے قدموں پرعقیدت کے پھول نچھاورکئے ،وہ گرمیت کے جیل جانے سے کس قدر راحت محسوس کررہے ہوں گے۔ ڈیرہ سچا سودا کاایک مضبوط ووٹ بنک تھا،جو ٹوٹ گیا۔ وزیراعلی کھٹرپر کچھ تنقید ہوئی ہے۔ وہ پارٹی صدرامیت شاہ سے ملے ہیں لیکن یہ امید کرنا فضول ہے کہ یہ ملاقات کچھ نتیجہ خیزہوگی۔ یہ سطریں لکھنے تک اس کی کوئی خبرنہیں آئی۔اس سارے معاملے میں ہمیں افسوس اس بات ہے کہ تشدد میں کوئی چالیس بے قصورنادان لوگ مارے گئے۔ ہم ان کے اہل خاندان کو تعزیت پیش کرتے ہیں۔


Read more

09 September 2017

متحدہ ریاست ہائے امریکہ ۔۔۔اطہر مسعود وانی

دنیا کی ناقابل چیلنج سپر پاورامریکہ اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کی 70سالہ تاریخ کے تناظر میں ہر پاکستانی امریکہ میں مختلف حوالوں سے دلچسپی رکھتا ہے لیکن پاکستان میں امریکہ کے بارے میں معلومات نامکمل اور محدود ہیں۔امریکہ کو سمجھنے کیلئے اس کی تاریخ کے مختلف ادوار کو دیکھنا پڑتا ہے۔پہلا دور امریکہ کی دریافت کے بعد یورپی آباد کاروں کی آمد کا دور ہے،اس کے بعد کالونیوںکی تشکیل،مقامی حکومتوں کا قیام،برٹش راج سے آزادی کا اعلان اور برٹش فوج سے 18سال کی جنگ کے بعد امن کا معاہدہ اور آزادی،اس کے تقریبا چھ عشرے بعد چار سال کی ہولناک سول وارکے بعد مزید دس سال قتل و غارت گری کی لہر اور اس کے بعد امریکہ میں انسانی آزادی اور آزادی اظہار کی عزم کے ساتھ تعمیر نو کے نئے دور کا آغاز۔ان تمام مراحل کا جائزہ لینے سے ہی امریکی باشندوں اور ان کے فکر و عمل کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔دنیا پر حکومت کرنے والے امریکیوں کے بارے میں جاننے کے لئے امریکہ کی گزشتہ پانچ صدیوں کی تاریخ پر نظر ڈالنا ضروری ہو جاتا ہے۔امریکہ کی دریافت اور دریافت کے محرکات:16ویں صدی سے 18صدی تک امریکہ میں رہنے والوں نے ترقی کے اہداف کس طرح حاصل کرنا شروع کئے ، اس کی ابتدا 1493 میں کرسٹوفر کولمبس کی دو بر اعظموں پر مشتمل امریکہ کی دریافت سے ہوتی ہے۔امریکہ میں سپین،انگلینڈ اور دوسرے یورپی ملکوں کے لوگ آئے ۔ان کے ملاپ سے پیدا ہونے والی نسلیں انسانی ارتقائی ترقی کے حوالے سے بہترین ثابت ہوئیں۔وہ اپنے ساتھ دنیا کے بہترین ہتھیار ،اوزار اور مختلف اقسام کے جانور اور کاشت کاری کے بہتر طریقے،نئی فصلوں ،پھولوں کی بیج لے کر آئے اور انہوں نے اپنی محنت اور افریقی غلاموں کی مدد سے ایک امریکہ کی تعمیر شروع کی ۔اس وقت امریکہ میں پانچ ،چھ اقسام کے چھ ،سات قسم کے قبائل آباد تھے۔امریکہ کی انسانی تہذیب یورپ کے مقابلے میں بہت پسماندہ تھی۔ان کے پاس اچھے اوزار نہ تھے،امریکہ کے مختلف علاقوں میں مکئی،ٹماٹر،آلو کی کھیتی اگائی جاتی تھی اور خوراک کے لئے تیر کمان سے جنگلی جانوروں کا شکار کیا جاتاتھا۔امریکہ سے سب سے پہلے تمباکو یورپ پہنچا۔ٹماٹر،آلو اور مکئی بھی امریکہ سے ہی یورپ لائے گئے۔جبکہ یورپ سے گھوڑے،بیل، سور،مرغیاں ، امریکہ لائے گئے اور وہ امریکہ میں تیزی سے پھیلتے چلے گئے۔یورپ کے لئے مشرق کے ساتھ تجارت نہایت اہم تھی۔ مشرق سے یورپ کے لئے مصالحے،سونا،جم سٹون اور سلک قیمتی اشیاء تھیں۔ ترکوں کی وجہ سے یورپ کا مشرقی تجارتی روٹ شدید متاثر ہوا جس سے یورپ کی بیرونی تجارت بہت کم رہ گئی۔یورپ کے بادشاہوں کے خزانے خطرے میں پڑ گئے۔سپین کی ملکہ ایزابیلا شدت سے ہندوستان کے لئے نئے سمندری تجارتی روٹ کی تلاش میں تھی۔ایزابیلا یورپ میں سب سے مضبوط حکمران تھی۔یورپ کے حکمرانوں نے پانچ سو سال بڑے بڑے محلات،قلعے،بڑی عمارات اور تجارتی مراکز تعمیر کئے۔یورپ کے بادشاہ اور پوپ(عیسائی مذہبی پیشوا)نے جنگوں کے لئے اپنی فوجوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔طاقت کی پیاس نے یورپی ملکوں کو اپنی حدود سے باہرنکلنے پر آمادہ کیا۔1491 میں یورپ ایک مصروف اور گنجان آباد بر اعظم تھا جس کی آبادی دس کروڑ ون ہنڈرڈ ملین تھی۔آبادی کے لئے خوراک کی ضرورت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ قدرتی وسائل کے ذرائع محدود ہوتے جار ہے تھے،جگہ کم پڑتی جا رہی تھی،زیادہ لوگ بادشاہ، امرائ، یا چرچ کی زمینوں پر کاشت کاری کرتے تھے۔ان کی عمومی خوراک ڈبل روٹی اور پورج تھے۔تین موسموں میں تین مختلف قسموں کی فصلیں اگاتے،رائی اور ویٹ ونٹر میں ،اوٹس اینڈ بارلی ان سپرنگ۔انہوں نے ہوا اور پانی کی طاقت کا استعمال سیکھ لیا تھا۔اس زرعی انقلاب سے یورپی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوتا گیا۔اس ترقی میں پالتو جانوروں کا بھی اہم اور بنیادی کردار ہے جن میں گھوڑے،گائے ،بیل، جس سے دودھ ،چمڑا اور گوشت حاصل ہوتا ،سور گوشت اور چمڑے کا بڑا ذریعہ تھااور بھیڑیںوگدھے۔گائے کے دودھ سے مکھن اور پنیر بھی بنایا جاتا۔اس وقت یورپ میں زراعت کے اچھے اوزار استعمال ہو رہے تھے۔مچھلیاں بھی یورپ میں خوراک کا ایک بڑا ذریعہ تھیں۔یورپ کے غالب ترین مذہب عیسائیت نے1491میں مچھلی کھانے کی باقاعدہ اجازت دی تاہم سال میں ایک سو خصوصی دنوں میں مچھلی کھانے پر پابندی تھی۔مچھلی کا وسیع پیمانے پر شکار ہو رہا تھا،سمندروں میں بھی مچھلی کا شکار شروع ہو گیااور سال بہ سال پکڑی جانے والی مچھلی کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوتا چلا گیا۔13ویں صدی میں ہزاروں ٹن خشک مچھلی ناروے سے برطانیہ بھیجی جاتی تھی۔1491 میں یورپی جھیلیں، دریا گندے اور مچھلیوں سے خالی ہو رہے تھے۔1491میں یورپ میں درختوں کی کٹائی تیزی سے جاری تھی جس سے جنگلات کا صفایا ہوتا جارہا تھا،تیزی سے بڑھتی آبادی کے لئے مزید جگہوں اور کاشت کاری کی ضرورت تھی۔،ان کے پاس کٹائی اور درختوں کی ڈھلائی کے لئے اچھے اوزار اور وسائل میسر تھے لیکن جگہ کی قلت بڑھتی جا رہی تھی،لکڑی کی ضرورت میںاضافہ ہوتا جا رہا تھا،اسی وقت لڑائیوں،جنگوں میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا،جنگوں کے ہتھیاروں کی تیاری کیلئے بھٹیاں دن رات جلتی رہتی تھیں،اسی دور میں بڑی اور مضبوط عمارات کی تعمیر کے لئے لکڑی کے ساتھ پتھروں کا استعمال بھی ہو رہا تھا۔اس دور میںجرمنی، فرانس ،اٹلی ،سپین اور انگلینڈمیں تمام اقتصادی و معاشرتی سرگرمیوں کا محور جنگلات ہی تھے،لکڑی کے حصول کی اس کشمکش میں پیسوں والوں نے اپنے قوانین بنائے اور پیسہ شہروں میں تھا،ان سب میں امیر ترین شہر وینس تھا،جو تمام کا تمام لکڑی سے بنایا گیا،دلدلی اور پانی کی جگہوں پرپتھروں کی عمارات کی بنیادیں لکڑی سے قائم کی گئیں،اس کے علاوہ بحری تجارت کو بہت اہمیت حاصل تھی،بحری جہازوں کی وسیع پیمانے پر تیاری کے لئے بھی لکڑی کا بہت استعمال ہوا،اس صورتحال میں جنگلات میں لکڑی اور دریائوں میں مچھلی کم سے کم ہوتی گئی،اسی دور میں پرٹنگ پریس کی ایجاد سے کتابیں اور آئیڈیازلوگوں میں پھیلنے لگے۔(جاری ہے)

Read more

09 September 2017

نیکٹا رپورٹ' دہشت گردی کے خلاف قربانیاں اور کامیابیاں۔۔۔ضمیر نفیس

نیکٹا نے دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے اپنی پہلی رپورٹ مرتب کی ہے جو پاکستان کی کامیابیوں کا حقیقی گوشوارہ ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ موقف بے حد اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں جو قربانیاں دیں اور جو کامیابیاں حاصل کیں اس حوالے سے دنیا کا کوئی ملک ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ نیکٹا نے 2016ء واقعات میں 804افراد شہید اور 1914 زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو برسوں میں اگرچہ دہشت گردی کی لہر میں ماضی کی نسبت کمی آئی ہے لیکن سب سے زیادہ واقعات بلوچستان میں رونما ہوئے ان میں زیادہ تر حملے کالعدم تحریک طالبان پاکستان' کالعدم لشکرجھنگوی' ان سے منسلک مقامی طالبان گروپوں جیسے جماعت الاحرار' لشکر اسلام' سجنا گروپ اور داعش سے منسلک گروپوں نے کئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی حوصلہ افزاء ہے انسداد دہشت گردی سرگرمیوں کا سلسلہ اسی شد و مد کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔ انتہا پسندوں کے بیانیہ کا توڑ کرنا ضروری ہے کسی بھی نئے ابھرتے ہوئے یا تیار دہشت گرد و انتہا پسند گروپ پر گہری نظر رکھنے کا عمل جاری رہے انٹیلی جنس ' تحقیقاتی عمل اور آپریشنز کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں میں فوری شناخت کرکے کارروائی کرتے ہوئے دہشت گرد گروپوں کے خاتمہ کا سلسلہ جاری رکھا جائے 2016ء میں پاکستان دہشت گردی سے چوتھا سب سے زیادہ متاثرہ ملک تھا اگرچہ 2014سے 2016ء کے دوران دہشت گرد حملوں میں کمی آئیتاہم ابھی بھی دہشت گردی کے اثرات ختم کرنے اور اس سے متاثرہ ممالک کی صف میں  نیچے جانے کے لئے بہت زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے' دہشت گردی میں نمایاں کمی کی وجوہات  میں آپریشن ضرب عضب اور قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد ہے سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف مخصوص عسکری آپریشنز کئے خاص طور پر فاٹا کے علاوہ کراچی میں رینجرز' بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں اور مصالحتی کوششوں کی مدد  سے ' پنجاب اور کے پی کے میں پولیس کے انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز دہشت گردی میں کمی کی وجہ بنے2015ء میں دہشت گردی کے 139واقعات کے  مقابلے میں 2106ء میں نمایاں کمی آئی اور یہ 785 رہے' بلوچستان دہشت گردی میں سب سے زیادہ متاثر ہوا جبکہ اس کے بعد کے پی کے' فاٹا' سندھ اور پنجاب رہے' دہشت گردی کے ان واقعات میں بہت سے عسکریت پسند قوم پرست' شورش پسند' متشدد فرقہ وارانہ گروپ شامل تھے ان میں 804 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جن میں 460 عام شہری اور 364قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل تھے جبکہ اس سے پچھلے سال836افراد شہید ہوئے 2016ء میں 1914 جبکہ 2015ء میں 1706افراد زخمی ہوئے اگرچہ واقعات میں کمی آئی مگر جانی نقصان میں قدرے اضافہ ہوا جس سے  یہ واضح ہوا کہ 2016ء میں دہشت گردی کے بڑے واقعات ہوئے جن میں مہلک ہتھیار استعمال کئے گئے۔قوم پرستوں کے حملوں کے زیادہ واقعات بلوچستان  اور چند سندھ میں ہوئے ان میں سب سے زیادہ متاثر مکران ڈویژن اور پھر کوئٹہ' ڈیرہ بگٹی اور کوہلو ڈویژن91بلوچستان میں قوم پرستوں کے 126 جبکہ سندھ میں ایک واقعہ ہوا فرقہ وارانہ واقعات میں پنجاب میں چار اموات' سندھ میں آٹھ' کے پی کے میں دس' بلوچستان میں تین' فاٹا' آئی سی ٹی اور آزادکشمیر  میں ایک ایک واقعہ ہوا مجموعی طور پر چند سالوں میں دہشت گردی کے واقعات میں 49فیصد' دہشت گرد حملوں میں 40فیصد اور خودکش حملوں میں 36فیصد تک کمی آئی ہے۔2017ء کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردی کا گراف مزید نیچے آیا ہے اس دوران واقعات اور ہلاکتیں کم ہوئیں جبکہ سیکورٹی فورسز کو زیادہ کامیابیاں حاصل ہوئیں انہوں نے مقابلوں میں درجنوں دہشت گرد ہلاک کئے۔


Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
          1 2
3 4 5 6 7 8
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30