Get Adobe Flash player

09 September 2017

بے نظیر قتل کے فیصلے کے خلاف پیپلزپارٹی کی اپیل یا انتخابی سیاست

سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بے نظیربھٹو قتل کیس سے متعلق انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے پیپلزپارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر کے مطابق فیصلے کے خلاف درخواست دائر کرنے کا فیصلہ بلاول ہائوس کراچی میں اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں کیا گیا سابق صدر نے سردار لطیف کھوسہ کو کیس  میں اپنا وکیل مقرر کیا ہے فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ اجلاس میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا کیس دوبارہ کھولنے کے ریفرنس پر بھی غور کیا گیا۔ یہ ریفرنس سابق صدر نے اپنے دور صدارت میں سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا بلاول زرداری اس ریفرنس میں فریق بنیں گے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جو فیصلہ دیا اگرچہ اس پر بہت سے تبصرے  منظر عام پر آئے ہیں اور پیپلزپارٹی نے بھی مذکورہ فیصلے کو مسترد کر دیا ہے لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ جب انسداد دہشت گردی کی عدالت میں کیس چل رہا تھا اور متعدد گواہ پیش ہو رہے تھے پیپلزپارٹی اس وقت کہاں تھی اس کے قائد اور دیگر  لیڈروں نے کیس میں اس وقت دلچسپی کیوں نہ لی اور عدالت سے تعاون کیوں نہ کیا اگر پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے دلچسپی لی ہوتی تو کیس کی صورتحال مختلف ہوتی اب محض سیاسی مقاصد کے لئے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے عام انتخابات چونکہ سات آٹھ ماہ کے فاصلے پر ہیں اس لئے شہید بے نظیر بھٹو کیس کی آڑ میں سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں کی جائیں گی پیپلزپارٹی پانچ سال اقتدار میں رہی ایوان صدر میں بی بی کے شوہر براجمان تھے انہوں نے شہید بی بی کے نام پر خوب سیاست کی مگر اس دوران ان کے قاتلوں تک پہنچنے کی ایک بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی اب ہائیکورٹ میں فیصلہ کے خلاف درخواست دائر کرنے کے پس منظر میں محض انتخابی سیاست کو مدنظر رکھا جارہا ہے ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل اور بے نظیر بھٹو کی شہادت کے نام پر پیپلزپارٹی کی قیادت پہلے ہی بھرپور سیاسی مقاصد حاصل کر چکی یہ اب مزید سیاسی مفادات حاصل نہیں ہوسکتے عوام بھی ان کے اس انداز سیاست سے آگاہ ہوچکے ہیں کرپشن اور مایوس کن کارکردگی کو چھپانے کے لئے یہ ہتھکنڈے اب کام نہیں دیں گے بلکہ عوام سیاسی جماعتوں کو الیکشن میں ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیں گے۔



Read more

09 September 2017

سفیروں کی کانفرنس اور خارجہ پالیسی کے نئے خدوخال

آباد میں منعقدہ پاکستانی سفیروں کی تین روزہ کانفرنس میں  پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے خارجہ پالیسی کے نئے خدوخال کا تعین کرلیا گیا ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ موقف خوش آئند ہے کہ ان سفارشات کی قومی سلامتی کمیٹی اور پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کرلی جائے گی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے اپنے مختصر خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ خارجہ پالیسی عصری تقاضوں' جیو پولیٹکل صورتحال اور ملک کے  وسیع تر مفاد میں ازسر نو تشکیل دی جارہی ہے انہوں نے سفراء کو ہدایت کی کہ پاکستان کا موقف زیادہ واضح انداز میں دنیا کے سامنے لایا جائے انہوں نے  پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہمسایہ ملک پر زور دیا کہ وہ اپنی کارروائیاں بند کرے کسی کو افغان جنگ پاکستان کی سرزمین پر لانے کی اجازت نہیں دی جائے گی وزیراعظم نے کہا کہ امریکی صدر کی نئی افغان پالیسی ناکام ہوگی افغان مسئلہ کا فوجی نہیں سیاسی حل ہے ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کا حال پہلے منصوبوں جیسا ہی ہوگا بھارت کو افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال کرنے سے روکنا ہوگا کانفرنس کے اختتام پر وزیر خارجہ  خواجہ محمد آصف نے پریس  بریفنگ میں کہا کہ ہم نے نیا خارجہ پالیسی بیانیہ تیار کرلیا ہے پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کا اعتراف کرنے والے ممالک کے ساتھ ہی آگے بڑھے گا بدلتے اتحادوں کے تناظر میں پاکستان ایک نئی مگر درست سمت اختیار کرنے جارہا ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ خطے کے حالات سے غافل ہے  پاکستان کا اس پر انحصار کم ہو چکا ہے ہم پاکستانی قوم کو قربانی کا بکرا نہیں بننے دیں گے ہم باعزت اور خود دار قوم ہیں۔ اپنی حفاظت کرنا جانتے ہیں اپنی علاقائی سالمیت اور قومی وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں نئی تبدیلیاں آرہی ہیں نئے اتحاد بن رہے ہیں آنے والے دنوں میں درست  سخت کا تعین کرنا پڑے گا  ہماری پہلی ترجیح ہوگی کہ اقتصادی مفادات حاصل ہوں اس حوالے سے ٹریڈ اتاثیوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا دنیا ہیماری قربانیوں کو دوسرے انداز میں دیکھتی ہے جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت رہا ہے کراچی اور سوات میں امن ہے ہماری مساجد' گھر اور گلیاں محفوظ ہیں ہماری بقاء  دائو پر لگی ہے اس لئے ہم سے بہتر کوئی لڑ ہی نہیں سکتا اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنا مقصد ہے تو یہ کام پاکستان کے بغیر نہیں ہوسکتا افغانستان کا مسئلہ روس اور چین کے ساتھ مل کر حل کیا جائے گا وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم امریکہ سے تعلقات ختم نہیں کر رہے انہیں قائم رکھنا چاہتے ہیں لیکن اسے بھی ہماری بنیادی اہمیت کا احترام کرنا چاہیے امریکہ سے تعلقات میں ملکی مفاد سب سے پہلے ہوگا خارجہ پالیسی کی ازسر نو تشکیل کے معاملے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ دیر آید درست آید' اصولی طور پر سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد جب دنیا میں نئے اتحاد بننے لگے اس وقت ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن بنانے کے لئے فوری طور پر اقدامات کرنے تھے جو ہم نہیں کر سکے اس کے مقابلے میں بھارت  نے پہل کی وہ سوویت یونین کے تحلیل ہونے اور سردجنگ کے خاتمہ کے بعد تیزی سے امریکہ کی طرف بڑھا اور اس سے دوستی کی پینگیں بڑھانے لگا امریکہ نے بھی اس کے دوستانہ جذبات کا خیر مقدم کیا اور اس کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اس سے سول ایٹمی تعاون کا معاہدہ کیا مگر پاکستان جو اس کا پرانا اتحادی اور حلیف تھا اس نے اس کے ساتھ اس قسم کے معاہدے سے انکار کر دیا ہماری دانست میں امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کرنے کے یہ بہترین لمحات تھے چین کے ساتھ مضبوط دوستی پہلے سے موجود تھی ہم روس کے ساتھ بھی تیزی سے تعلقات استوار کر سکتے تھے اگر اس وقت ہم نے یہی کچھ کیا ہوتا جو آج کرنے جارہے ہیں تو امریکہ نئی افغان پالیسی کی آڑ میں ہمیں دھمکیاں دیتا نہ الزامات عائد کرتا بہرحال یہ اچھی بات ہے کہ تاخیر سے ہی سہی ہم نے ایک زبردست فیصلہ کیا ہے جبکہ روس کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات میںبتدریج اضافہ ہوا ہے امریکہ کی نئی افغان پالیسی ہماری خارجہ پالیسی کی سمت درست کرنے کا باعث بنی ہے سفیروں کی کانفرنس نے جن سفارشات کی منظوری دی ہے قومی سلامتی کمیٹی اور پارلیمنٹ سے ان کی جلد از جلد منظوری حاصل کرکے انہیں خارجہ پالیسی کے قالب میں ڈھلنا چاہیے۔


Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
          1 2
3 4 5 6 7 8
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30