Get Adobe Flash player

11 September 2017

ق لیگ کا ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان

پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ میاں نوازشریف اور شہبازشریف دھاندلی سپیشلسٹ ہیں، این اے 120 کے الیکشن میں دھاندلی شہبازشریف اور ان کے ساتھیوں کو سانحہ ماڈل ٹائون میں سزا سے نہیں بچا سکتی، میڈیا ان کی انتخابی دھاندلیاں اور ہتھکنڈے رکوانے کیلئے بے نقاب کرے، پاکستان مسلم لیگ این اے 120 میں سینیٹر کامل علی آغا کی قیادت میں پی ٹی آئی امیدوار یاسمین راشد کی حمایت میں بھرپور مہم چلائے گی اور مسلم لیگی خواتین بھی بطور پولنگ ایجنٹ تعینات کی جائیں گی۔ وہ یہاں اپنی رہائش گاہ پر سابق گورنر چودھری سرور، میاں محمود الرشید، حامد معراج، میاں ماجد اور دیگر رہنمائوں پر مشتمل پی ٹی آئی کے رہنمائوں کے وفد سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ باہمی بات چیت میں پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ ایم این اے، سینیٹر کامل علی آغا، مونس الٰہی، میاں منیر بھی شریک تھے۔ چودھری پرویزالٰہی نے یقین ظاہر کیا کہ شہبازشریف اور سانحہ ماڈل ٹائون میں 14 بے گناہوں کے قتل میں ملوث دیگر ملزم اللہ تعالیٰ کے حضور اور دنیا کی عدالت میں سزا سے نہیں بچ سکیں گے، ہماری عدالتوں نے تاریخ رقم کی ہے، جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ شائع ہو گی اور شریف برادران سمیت تمام ملزم کیفر کردار تک ضرور پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کو سپورٹ کیا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ پوری اپوزیشن مل کر ان کے امیدوار کی حمایت کرے۔ انہوں نے میڈیا سے بھی کہا کہ الیکشن ڈے پر باالخصوص میڈیا کا بڑا کردار ہوگا کیونکہ ن لیگ دھاندلی کی ماسٹر ہے، دھاندلی کے بغیر آج تک انہوں نے کوئی الیکشن نہیں جیتا، شہبازشریف نے سانحہ ماڈل ٹائون پر خود باقر نجفی کمیشن بنایا تھا اس کی رپورٹ اس لیے دبا رہے ہیں کہ انہیں پھانسی کا پھندا نظر آتا ہے اور 14 بیگناہ افراد کو قتل کرنے کے بعد اب خوفزدہ ہیں۔ چودھری سرور نے پی ٹی آئی کے امیدوار کی حمایت پر چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویزالٰہی اور پاکستان مسلم لیگ سے دلی تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ نے حلقہ این اے 122 میں بھی ہماری رہنمائی اور بھرپور حمایت کی تھی، این اے 120 میں کامل علی آغا کا بڑا اثر و رسوخ ہے اور ہم چودھری پرویزالٰہی کے ممنون ہیں کہ انہوں نے ہماری درخواست پر کامل علی آغا کو ہمارے لیے انتخابی سرگرمیاں ادا کرنے کیلئے کہا اور مسلم لیگ کی سمجھدار پولنگ ایجنٹ خواتین بھی ہماری نمائندگی کریں گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ باقر نجفی کی رپورٹ فوری شائع کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ پری پول دھاندلی کے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے، الیکشن کمیشن ہماری شکایات پر توجہ نہیں دے رہا، 30 ہزار ایسے ووٹ ہیں جن کی شناخت نہیں ہو رہی، ایک ہی بلڈنگ میں 6 پولنگ سٹیشن بنا دئیے گئے ہیں، ہم نے اس پر ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے

 

 

Read more

11 September 2017

متحدہ ریاست ہائے امریکہ ۔۔۔اطہر مسعود وانی

گزشتہ سے پیوستہ
امریکہ میں آباد کاری اور وسائل کا استعمال:17ویں صدی میں یورپ سے بڑی تعداد میں لوگ نئی جگہوں پر آباد ہونے کے لئے مختلف خطوں کی جانب روانہ ہورہے تھے۔انگلینڈ نے سپین کو ہرا کر نئی سپر پاور ہونے کا مقام حاصل کر لیا۔1607میںامریکہ کے مشرقی علاقے میںپہلی انگلینڈ کی کالونی جیمز ٹائون کے نام سے قائم ہوئی جسے اب ورجینیا کہتے ہیں۔یہ امریکہ میں ایک نئی دنیا کی تعمیر کی ابتدا تھی۔ان کا کام برٹش کمپنی کے لئے پیسہ کمانا تھا۔ان شاندار وسیع علاقوں کا مالک کوئی نہیں تھا۔ان علاقوں میں14ہزار مقامی لوگ چھوٹی چھوٹی آبادیوں میں رہتے تھے۔ دریائوں اور ساحل کے ساتھ دو سو گائوں آباد تھے اور گھنے جنگلوں میں بڑے گھر واقع تھے۔وہ بینز اور مکئی اگاتے تھے۔یہ لوگ کسان اور شکاری تھے۔یہاں آباد کاروں کی امید کے برعکس سونا یا چاندی نہیں تھا۔صرف زمینیں اور وہاں کے لوگ تھے۔شروع میں آباد کار اور مقامی لوگ آپس میں کسی ٹکرائو کے بغیر رہتے رہے۔یہ سرزمین ایسے قدرتی وسائل سے مالا مال تھی جن کی یورپ میں کمی تھی۔ آباد کاروں کی طرف سے امریکہ کے دریائوں سے بڑے پیمانے پر مچھلیاں پکڑی جانے لگیں اور بڑی تعداد میں یہ مچھلیاں انگلینڈ ،سپین وغیرہ بھیجی جانے لگیں۔آباد کاروں نے دو سو سال میں امریکہ سے اتنا حاصل کر لیا جو یورپ میں ہزاروں سالوں میں حاصل کیا گیا تھا۔کئی جہاز زیادہ مچھلی کے وزن کی وجہ سے ڈوب جاتے۔اتنے وسیع پیمانے پر مچھلیوں کے شکار سے مچھلیوں کی افزائش پر نہایت برے اثرات مرتب ہونے لگے۔پیسوں کے لئے مچھلی خشک کر کے نمک میں رکھ کر بھی یورپ بھیجی جاتی تھی۔نہ ختم ہونے والے جنگلات یورپئینز کے لئے حیران کن تھے،کاشت کاری کے لئے جنگلات کے درخت کا صفایا کیا جانے لگا اور یہاں سے لکڑی بھی یورپ بھیجی جانے لگی۔درختوں کے وسیع پیمانے پر کٹائو سے 17ویں صدی میں کریبین اور اٹلانٹک آئی لینڈ کے وسیع علاقوں سے جنگلات کا مکمل صفایا ہو گیا۔ آباد کاروں کے گھروں میں دن رات ہر وقت ہر کمرے میں آگ جلتی رہتی تھی،جلانے کے علاوہ کاشت کاری اور تعمیرات کے لئے بھی تیزی سے درخت کاٹے جا رہے تھے۔یورپی لوگوں نے امریکہ کے وسائل لوٹ کر خطے کو بدل دیا اور ساتھ ہی اپنے ساتھ لائی چیزوں سے بھی امریکہ کو تبدیل کر دیا۔اپنی ملکیتی زمینوں کے خواہشمندیورپی لوگ بہتر زندگی کے لئے امریکہ کا رخ کرنے لگے۔ وہ مذہبی آزادی کے بھی متلاشی تھے۔ان کا یقین تھا کہ وہ اپنی کامیابیوں اور خوشیوں کے خود ذمہ دار ہیں۔پہلی بار آباد کاروں کے ساتھ عورتیں بھی امریکہ پہنچنے لگیں اور وہ اپنے ساتھ استعمال کی مختلف مزید اشیاء بھی لے کر آئیں۔وہ بھیڑیں،مرغیاں، پودے اور یورپی فصلوں کے بیج بھی ساتھ لائیں جو اس خطے کے لئے نیا تھا ۔انہوں نے کاشت کاری کے یورپی اوزاروں اور طریقوں سے زمینوں میں کاشت کاری شروع کی۔ ماحولیاتی تبدیلی وقوع پذیر ہونے لگی اورجلد ہی گندم اور دوسری یورپی فصلیں امریکہ میں بھی پیدا کی جانے لگیں۔ گائے کی طرح کے امریکی جانور بائیسن کی جگہ بیل گائے زیادہ نظر آنے لگیں۔مویشیوں کی تعداد یورپ کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑھنے لگی۔بیلوں کی آبادی بڑھنے سے امریکہ میں بیج مختلف زمینوں تک پھیلتے چلے گئے۔یورپی لوگوں کے لائے گئے جانور امریکہ میں تبدیلی کی ایک اہم بنیاد ثابت ہوئے اور ان کی آبادی مختلف حصوں میں پھیلتی چلی گئی۔آباد کاروں کے گھر لکڑی کے ستونوں کی دیواروں کے حصاروں میں قائم کئے گئے۔ان کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔گوشت امریکہ میں سستی ترین خوراک بن گئی۔ان کے پاس یورپ سے لایا گیا آتشی اسلحہ،ہتھیار ،اوزار تھے۔کاشت کاری وسیع ہوتی گئی،درخت کاٹ کر مزید علاقے کاشت کاری کے قابل بناتے ہوئے ہر قسم کے چیزیں اگائی جانے لگیں۔انہوں نے یورپی درخت بھی علاقے میں لگانے شروع کر دیئے۔یورپ سے لائے گئے پھلوں کے درخت بھی لگائے گئے۔یورپ کے پودے ،پھول لگانے سے امریکہ میں شہدکی پیداوار بھی شروع ہو گئی۔یورپی شہد کی مکھیاں بھی یہاں شہد پیدا کرنے لگیں جو مقامی شہد مکھیوں کی نسبت ہر قسم کے پھولوں سے شہد حاصل کر سکتی تھیں۔سیب کے باغات سے شمالی امریکہ میں سیب کی پیداواربڑی صنعت بن گئی،جس کاتخمینہ پانچ ملین ٹن سالانہ تھا۔یورپی پھل وغیرہ امریکہ میں اچھی پیداوار دینے لگے۔امریکہ سے ٹماٹر اور آلو وغیرہ کی یورپ آمد سے یورپ کے کھانوں میں نیا اضافہ ہوا۔امریکہ سے لائے گئے ٹماٹر اور آلو کی پیداوار یورپ میں تیزی سے ہونے لگی۔16صدی میں ٹماٹر یورپ کے اکثر حصوں میں پیدا کیا جانے لگا اورروس میں بھی ٹماٹر اگایا جانے لگا۔یورپ کے امرا میں چائے کے ساتھ چینی اور تمباکو سٹیٹس سمبل بن گیا۔تمباکو امریکہ سے ہی یورپ لایا جانے لگا اور آباد کاروں نے اس کی پیداوار یورپ بھیجنا وسیع پیمانے پر شروع کیا۔ یورپ کی طلب پوری کرنے کے لئے گنے اور تمباکو کی کاشت میں اضافہ ہونے لگا۔امریکہ کے ان کھیتوں میں کام کرنے کے لئے یورپ سے افریقی غلاموں کو بھی امریکہ لایا جانے لگا۔دس ملین افریقی غلام امریکہ لائے گئے۔ان افریقی غلاموں کے ذریعے یورپ کی طلب پوری کرنے کے لئے امریکہ میں گنا،گندم،تمباکو،چاول کی وسیع کاشت ہونے لگی۔18ویں صدی تک امریکہ کافی حد تک مکمل ہو گیا تھا۔نیو سپین اور نیو انگلینڈ کے علاقے پوری طرح مستحکم ہو گئے۔امریکہ میں آباد کار وں کی دولت میں اضافہ ہونے لگا۔اب امریکہ آنے والوں نے مغرب کا رخ کرنے کے لئے ریلوے لائین بچھانیاشروع کی۔اس طرف مزید زمینیں موجود تھیں۔اس نئے امریکہ کی تعمیر میں امریکہ کی تقریبا 90فیصد مقامی آبادی ہلاک کر دی گئی۔امریکہ یورپ کے تمام علاقوں سے امریکہ آئے آباد کاروں،دریافتیں کرنے والوں،نئی کالونیاں بنانے والوں کا ملک بن گیا۔ان میں افریقہ سے لائے گئے غلام بھی شامل تھے۔امریکہ میںشہری نظام کا قیام اور آزادی کی لہر:16ویں صدی کے ایک عشرے بعد امریکہ سے تمباکو انگلینڈ بھیجا گیا اور1619 میں ٹوبیکو انڈسٹری قائم ہوئی۔ اس کے بعد آباد کاروں کے لئے زمینوں کی ملکیت کو قانونی شکل دینا شروع ہوئی۔ حقوق ملکیت امریکی جمہوریت کی بنیاد قرار پائی۔ورجینیا میں دنیا کی پہلی قانون ساز اسمبلی قائم ہوئی۔ہائوس آف برٹرسز نامی اس اسمبلی نے اپنا پہلا قانون منظور کیا جس کے تحت جمہوری حکومت قائم کی گئی۔ورجینیا امریکہ کی دوسری کالونیوں کے لئے ایک مثال بن گئی۔اس اسمبلی کے ایک رکن پیٹرک ہنری نے اپنی مشہور تقریر میں کہا کہ مجھے یا تو آزادی دو یا موت۔1620 کے بعد امریکہ مختلف یورپی قوموں کے آباد کار لوگوں کے ملاپ کامجموعہ بن گیا۔مونٹیچوسس ریاست میں امریکہ کے مجموعی تصور، آزادی،انسانی حقوق،سیلف گورننس،تعلیم اور دانشوارانہ خیالات کا تصور اورقیام پر وان چڑھنے لگا۔مو نٹی چوسس ریاست میں 1700میں لندن کے احکامات کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔امریکہ میںسیلف گورنمنٹ کے قیام میں مونٹی چوسس نے قائدانہ کردار ادا کیا۔مونٹی چوسس نے چرچ اور حکومت کو الگ کرنے اور آزادی اظہار کے امریکی اصولوںکے قیام میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ اس پر دیگرکالونیوں نے بھی سیلف گورنمنٹ کے طریقوں پر غور شروع کیا۔ کالونی کے پروپرائٹر لارڈ بالٹی مو رنے کہا کہ کالونیوں کے آزاد لوگوں کو کسی بھی قانون سازی کا حق حاصل ہے اور آزاد آدمی وہ ہے جو قانون ساز اسمبلی کے رکن کے لئے ووٹ دینے کا حق رکھتا ہو ۔اسی دوران مقامی مسائل کے حوالے سے ٹائون میٹنگز کے اجلاسوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔جس میں لوگ اکٹھے ہو کر ٹیکسوں،تعلیم،عوامی قوانین اور عطیات کے لئے فیصلے کرتے اور بعد ازاں ان میں انقلاب کے امور بھی طے کئے جانے لگے۔1638 میں کلونئیل لیڈر ٹامس ہوکر نے کنٹیکی ٹائون کمیٹی اجلاس میں یہ تاریخی الفاظ کہے کہ ''ا تھارٹی کی بنیاد انسانوں کی آزادانہ مرضی پر منحصر ہیہر انسان آواز رکھتا ہے ،ووٹ کا حق رکھتا ہے''۔1669 میںکیرو لینیا کالونیوںکے پرو پرائیٹرز جان لاک نے بنیادی آئین تیار کیا،اس میں حکومت کے قیام کا طریقہ کار بتایا گیا۔118سال بعد یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ نے حکومت کی تشکیل کے طریقہ کار کی منظوری دی گئی۔کیرولینیا کے بنیادی آئین کی پیروی میں 1680میں ولیم پینز پینس نے حکومت کی تشکیل کے حوالے سے ایک بلو پرنٹ تیار کیا جس میں حکومت کی تشکیل پر عائد شرائط شامل تھیں۔18ویں صدی کے آغاز میں تمام انگلش کالونیوں میں عوامی نمائندہ حکومتیں قائم تھیں۔برٹش پارلیمنٹ نے امریکہ پر کنٹرول کی کوشش کی لیکن امریکی کالونیوں میں ایک نئی طرز کے سیلف رول کا تصور مضبوط ہو رہا تھا جو لوگوں کے جمہوری حقوق پر مشتمل تھا۔(جاری ہے)

Read more

11 September 2017

برمی مسلمانوں کی پکار ۔۔۔ محمد طاہر رانا

وہ انتہائی سفاک انسان ہوگا جو برما کی موجودہ صورتحال پر غمگین اور مضطرب نہ ہوا ہو، انسانیت کی ایسی تذلیل کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی ،بدھ مت کے پیروکاروں نے ظلم و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے، مظلوم روہنگیاکے مسلمان اپنے ہیں گھر میں بے گھر ہو کر رہ گئے ہیں ، درندہ صفت بدھ بھکشو مذہبی انتہا پسندی میں اس حد تک گر چکے ہیں کہ نہ تو کسی عورت کے تقدس کا خیال رکھا جا رہا ہے نہ ہی شیر خوار بچوں اور بزرگوں کا ، انسانیت کا جنازہ نکل چکا ہے ، روہنگیا مسلمانوں کی آہ و بکا جاری ہے جبکہ دوسری طرف  اقوام متحدہ، عالمی میڈیا، او ائی سی ، اسلامی اتحاد اور نام نہاد انسانیت کے علمبردار ممالک خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں ۔ اس صورتحال کو سمجھنے کیلئے ہمیں برما کی تاریخ پر نظر دوڑانی پڑیگی ،برما جسے میانمار کہا جاتا ہے، بدھ مت کے پیرو کاروں کا ملک ہے ، اراکان اس کا ایک صوبہ ہے جو بیس ہزار مربع میل پر مشتمل مسلم اکثریتی علاقہ ہے ،جہاں تقریبا 30 لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں۔ بد ھ مت کے پیروکاروں کا کہنا  ہیکہ مسلمان برما میں باہر سے آئے ہیںاور انہیں برما سے بالکل اسی طرح ختم کر دیں گے جس طرح اسپین سے عیسائیوںنے مسلمانوں کو ختم کر دیا تھا۔ برما کا صوبہ اراکان وہ سر زمین ہے جہاں خلیفہ ہارون الرشید کے عہد خلافت میں یہاں مسلم تاجروں کے ذریعے اسلام پہنچا ۔ اسلام کی فطری تعلیمات سے متاثر ہوکر وہاں کی کثیر آبادی نے اسلام قبول کر لیااور ایک ایسی قوت بن گئے کہ 1430ء میں سلیمان شاہ کے ہاتھوں اسلامی حکومت تشکیل پائی ، اس ملک پر ساڑھے تین صدیوں تک مسلمانوں کی حکومت رہی ، مسجدیں بنائی گئیں ، قرآنی حلقے قائم کئے گئے، مدارس جامعات کھولے گئے ان کی کرنسی پر  لا الٰہ الااللہ محمد رسول اللہ  کندہ ہوتا تھا، اراکان کے پڑوس میں برما تھا ،جہاں بدھسٹوں کی حکومت تھی۔ مسلم حکمرانی بدھسٹوں کو ایک آنکھ نہ بھائی اور انہوں نے 1784 ء میں اراکان پر حملہ کر کے قبضہ جمایا  اور اسے برما میں ضم کر دیا اور نام بدل کر میانمار رکھ دیا، 1824ء سے 1938ء برما انگریزوں کے زیر تسلط رہا ۔ 1938ء میں انگریزوں سے برما نے خودمختاری حاصل کر کے مسلم مٹائو پالیسی کے تحت اسلامی شناخت کو مٹانے کی پالیسی پر گامزن ہوئے۔ برماکے ناقابل برداشت تشدد کے باعث لاکھوں مسلمان ہجرت پر مجبور ہو گئے اور ہمسایہ ممالک بنگلہ دیش ، سعودی عرب اور پاکستان میں آباد ہوئے۔1982ء میں اراکان کے مسلمانوں کو حق شہریت سے محروم کر دیا گیا، اس اقدام سے ان کی نسبت کسی ملک سے نہ رہی ، گزشتہ ساٹھ سالوں سے اراکان کے مسلمان ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے ہیں ، انکے بچے ننگے بدن ،ننگے پیر،بوسیدہ کپڑے زیب تن کئے قابل رحم حالت میں دکھائی دیتے ہیں۔ برما کے مسلمانوں پر مظالم کا یہ سلسلہ ایک مرتبہ پھر زور پکڑ چکا ہے ، روہنگیا اپنے ہی ملک میں بے گھر اور بے ریاست ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں ،یعنی وہ دنیا کے ان بد قسمت اقلیتوں میں شامل ہو گئے جو اس کرہ ارض پر تو رہتے ہیں لیکن قانونی طور پر کسی بھی ملک کے شہری نہیں ہیں، میانمار میں جون کے اوائل سے شروع ہونے والی پر تشدد کاروائیوں کی نئی لہر نے دنیا میں کہرام برپا کر دیا ہے۔برما کے صدر تھین سین نے واضح کر دیا ہیکہ روہنگیا کے مسلمانوں کو کسی تیسرے ملک میں آباد کرنا چاہتے ہیں اور وہ انہیں برما میں رہنے کی اجازت نہیں دیتے ، یاد رہے کہ اگر برما تمام مسلمانو ں کو ملک سے نکال باہر کر دیتا ہے تو یہ اسپین کے بعد دوسرا اسلامی ملک ہوگا جہاں سے مسلمانوں کو بزور ختم کر دیا جائیگا۔ انسان نما درندوں نے برمی فوج کے ساتھ مل کر کئی بستیوں کو جلا کر خاکستر کر دیا ہے، 4000 گھروں کو مسمار کر دیا ہے ، 25 ہزار سے زائد مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹ چکے ہیں ، لاکھوں مسلمان ہجرت پر مجبور ہوکر بری اور بحری راستوں سے بنگلہ دیش میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں ، مسلمانوں کی قاتلہ حکمران حسینہ واجد نے داخلے پر پابندی لگا دی ، جبکہ مسلمانوں کا قتل عا م جاری ہے، عالمی میڈیا اور انصاف کے دعوے دار ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں ، مسلمانوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس قتل عام کو منظر عام پر لایا تب مسلم حکومتوں نے بھی تشویش ظاہر کی ، مگر ہم اس موقع پر مسلم دنیا کے ٹائیگر طیب اردگان کو سیلوٹ پیش کرتے ہیں جس نے روہنگیا کے مظلوموں کی داد رسی کیلئے آواز بلند کی ۔آج مسلم دنیا کے حکمران مادی ترقی کیلئے برق رفتاری پر مشتمل پالیسیاں تشکیل دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں، آج ہماری تلواریں جنگوں کے بجائے رقصوں میں لہراتی نظر آتی ہے ، ہماری مضبوط و مربوط ، مستقل اور موثر خارجہ پالیسی نہ ہونے کے باعث آج عالمی طاقتوں کے درمیان ہماری پوزیشن دھوبی کے کتے کے مصداق ہے۔ اگر ہمارے تعلقات امریکہ کے ساتھ نا خوشگوار ہیں تو وہاں پاک چین دوستی پوری دنیا کیلئے ایک مثال ہے۔ایسے موقع پر ہم سمجھتے ہیں کہ چین واحد ملک ہے جو برما کی پالیسیوں پر صحیح معنوں میں اثر انداز ہو سکتا ہے، سفارتی کوششوں میں اس پہلو کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ کاشغر تا گوادر پاک چین راہداری کے بارے میں تو ہم بہت جانتے ہیں لیکن چین کی ایک اور راہداری چین ،برما ، بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان بھی ہے یہ راہداریاں مکمل ہوں تو یہ پورا خطہ ایک تجارتی زنجیر میں بندھ جائیگا، ان بڑے منصوبوں کی تکمیل کیلئے علاقائی امن کی شدید ضرورت ہے ، چین کو اس صورتحال پر غیر جانبدار پالیسی کو ترک کر کے عملی کردار ادا کرنا ہوگا ۔سعودی عرب اور خلیجی ریاستیں اگر روہنگیا کے مسلمانوں کیلئے مجاہدانہ کردار ادا نہیں کر سکتے تو کم از کم ہندوستان اور برما کے ساتھ تجارتی تعلقات فوری طور پر منقطع کر دیں۔پاکستان بے بسی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ترک ، ایران اور مالدیپ کی طرح دلیرانہ موقف اختیار کرے اور چین کی عالمی اثر رسوخ کو استعمال کرتے  ہوئے روہنگیا کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا سدباب و تدارک کرے ،  روہنگیا کے مسلمانوں کو زیادہ دیر شہریت کے حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا ۔کیونکہ وہ سینکڑوں سالوں سے میانمار میں آباد ہیںاور عالمی قوانین کے تحت انکو برما کا شہری تسلیم کیا جائے اور فوری طور پر ظلم و بربریت کا یہ سلسلہ روکا جائے،مظلوم، نہتے ، بے گھر اور روہنگیا کے مہاجرین کو محفوظ ٹھکانا فراہم کرنے کیلئے عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے،  ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ہمسایہ ممالک نہ صرف غذائی اخراجات برداشت کریں بلکہ روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کیلئے اپنی سرحدوں کے دروازے کھول دے ۔چونکہ آج دنیا ایسے دلدل میں پھنستی جا رہی ہے کہ کسی بھی ملک میں ایسے گھنائونے حالات پیدا ہو سکتے ہیں اور کسی بھی ملک کو دوسرے ملک کی ضرورت پڑ سکتی ہے، اسلامی ممالک پر مشتمل اسلامی اتحاد چپ کا روزہ توڑدے ، لادین تہذیبوں اور نظریات کی صبح و شام پرچار کرنے والا نام نہاد  اسلامی میڈیا روہنگیا کے مظالم کو دنیا کے سامنے  منظر عام پر لائے۔گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں برما کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ، جبکہ الخدمت فاونڈیشن پاکستان نے ترکی کے فلاحی اداروں TIKA اور حرات فاونڈیشن کے ساتھ مل کر روہنگیا کے مہاجرین کیلئے امداد کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جو کہ قابل ستائش ہے ، حکومت پاکستان اور دیگر فلاحی اداروں کو بھی اس موقع پر اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔


Read more

11 September 2017

خارجہ پالیسی تبدیل ہونے جارہی ؟۔۔۔ظہیر الدین بابر

 چین کی جانب سے ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کھل کر حمایت کرنا بلاشبہ خوش آئند ہے ، ایسے میں جب پاکستان کے خلاف علاقائی اور عالمی سطح پر محاذ بنایا جارہاچین ایک بار پھر پاکستانی موقف کی ترجمانی کرتا نظر آتا ہے۔ بیجنگ میں  وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا  کہ چین اور پاکستان اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ افغان مسئلے کو صرف سیاسی انداز میں حل کیا جاسکتا ہے اور اس کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔ اس موقع پر خواجہ آصف نے  چین کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی پاکستانی کوششوں کی حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔یقینا  کئی دہائیوں کے باوجود  پاک چین دوستی بے مثال اور قابل تقلید ہے۔ شائد چین ہی وہ واحد ملک ہے جس نے مشکل کی ہر گھڑی میں کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا ۔  اسی سبب سے  پاکستان ون چائنا پالیسی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔تاریخ اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے  پاکستان اور چین کے تعلقات مثالی  نوعیت کے ہیں ۔ شک نہیں کہ سی پیک کے اعلان کے بعد دونوں ملکوں  میں  تجارت،  اور دفاع سمیت کئی شبعوں میں تعاون کو فروغ دیا جارہا ہے۔ وزیر دفاع نے چین کا دورہ ایسے موقع پر کیاجب حال ہی میں دنیا کی ابھرتی ہوئی پانچ معاشی طاقتوں کی جانب سے بعض دہشت گرد گروہوں کے خلاف بھرپور کاروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ان میں لشکر طیبہ اورجیش محمد بارے تاثر یہی ہے کہ وہ پاکستان میں سرگرم عمل ہیں مگر ان کے خلاف خلاف  خاطر خواہ کاروائی نہیں کی جارہی۔ توقعات کے عین مطابق قومی میڈیا میں اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا  کہ بریکس میں چین کی شمولیت  کے باوجود  تنظیم کی جانب سے ایسا اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان کی دہشت گردی کے  خلاف ہونے والی کوششوں پر سوالات اٹھے۔ اس پر حیرت اور افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کے مثبت نتائج کی حوصلہ افزائی نہیںکی جارہی ۔ پاکستان کے اس موقف کو بھی نہیں سنا جارہا کہ  افغان مسئلے کا حل صرف بات چیت اور امن سے ممکن ہے یعنی میں خطے کے مفاد میں ہے۔نائن الیون کے بعد پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جس نے کم وبیش ستر ہزار جانوں کی قربانی دی۔اب تک جامع فوجی آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے  بھرپور کردار ادا کیا  جس کے مثبت نتائج ظاہر ہوئے۔  پاکستان نے انسداد دہشت گردی کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں اور بین الاقوامی برادری کو پاکستان کو ان کوششوں کے لیے مکمل کریڈٹ نہ دینا انصاف نہیں ہوگا۔ چین نے  پاکستان کی افغان پالیسی کی حمایت کا  پھر  اعادہ کیا۔ دراصل  بدلتی ہوئی علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال میں پاکستان اور چین کا ساتھ ساتھ کھڑا ہونا خود ان کے مفاد میں ہے۔  یہی وہ حکمت عملی ہے جس کی بدولت  پاک چین اسٹریٹیجک تعلقات کو مزید مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ چین اس حقیقت سے باخوبی آگاہ ہے کہ پاکستان کے خلاف حالیہ  مہم کا ایک مقصد سی پیک  کو ناکام بنانا بھی ہے۔  پاکستان اور چین کے بدخواہ باخوبی جانتے ہیں کہ سی پیک عظیم منصوبہ ہے جو خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے۔یقینا یہ پاکستان کی ناکامی ہے کہ انتہاپسندی کے خلاف کی جانے والی کوششوں کو عالمی سطح پر نہیں سراہا جارہا۔ یقینا یہ شکوہ بے  جا نہیں کہ  پاکستان اپنے   دوست ملکوں کو یہ باور کروانے میںکامیاب نہیںہوسکا کہ  دہشت گردی  مشترکہ مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی ۔ علاقائی اور عالمی طاقتوں کو  بھی نہیں بھولنا چاہے کہ اگر افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک جدید ترین ٹیکنالوجی اور وسائل کے باوجود طالبان کو شکست نہیں دے سکے تو پاکستان سے مثالی کارکردگی کی امید رکھنا ہرگز انصاف نہیں۔ یاد رکھنا ہوگا کہ  افغان قیادت پر مشتمل مصالحتی عمل ہی افغانستان میں امن کا ضامن ہے جس کے لیے پاکستان اور چین مشترکہ کوششیں بدستور کررہے ہیں۔ لازم ہے کہ امن کے عالمی ٹھیکیدار بھارت کو بھی بہتری کی جانب راغب کریں۔ افغانستان کو پاکستان کے خلاف سازشوں کے لیے استمال کرنے کی بجائے جنگ سے تباہ حال ملک میں امن وسکون لانا ہوگا۔پڑوسی ملک میں خرابیوں کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرنا ہرگز مسائل کا حل نہیں۔ روس افغانستان جنگ کے نتیجے میں ایک طرف پاکستان نے لاکھوںافغان مہاجرین کو اپنے ہاں خوش آمدیدکہا تو دوسری جانب انتہاپسندی کا عفریت بھی اس کے  گلے پڑگیا۔ پاکستان کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ  اقوام عالم   پاکستان کی خودمختاری،سیکیورٹی خدشات کا احترام کرے۔یہ سمجھنا نادانی کے سوا کچھ نہیں کہ پاکستان پڑوسی ملک میں امن نہیں چاہتا اس کے برعکس سچ یہ ہے کہ  افغانستان میں امن کی ضرورت کا احساس افغانستان سمیت پاکستان اور چین  کے لیے کسی طور پر  نعمت سے کم نہیں۔افغانستان اور جنوبی ایشیاء کے لیے نئی امریکی پالیسی کس حد تک  علاقائی امن و استحکام کی بحالی کے لیے سود مند ثابت ہوگی اس ضمن میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔ رواں سال کے آخر میں چین، پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کی پہلی ملاقات ہونے جارہی جس میںجہاں ایک دوسرے سے گلے شکوے کیے جائیں گے وہی باہمی تعاون کے لیے نئے راستے تلاش کیے جانے کی بھی امید ہے ۔ پاکستان جنوبی ایشیاء سمیت عالمی برداری کا اہم ملک ہے لہذا اسے نظرانداز کرنا کسی طور پر  علاقائی اور عالمی امن واستحکام کے لیے سودمند ثابت نہیںہونے والا۔


Read more

11 September 2017

پاکستان کے دشمنوں سے یارانہ۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 الطاف حسین نے کچھ عرصہ قبل پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی جس کی سارے پاکستان اور پوری دنیاکے محب وطن پاکستانیوں نے شدید مذمت کی۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا ،اکثر ہوتا تھا۔پھر مذمت، معافی اور اپنے الفاظ کی واپسی پر بات ختم ہو جاتی تھی۔پاکستان کے خلاف اتنی نفرت کا اظہار تو شاید بھارت نہیں کرتا جتنا نفرت کا اظہار قائد تحریک کرتا تھا۔کراچی کی سیاست ہمیشہ لسانی اور علاقائیت کی بنیاد پر تھی۔کہا جاتا تھا کہ الطاف حسین جنون یا مدہوشی کی کیفیت میں بات کر جاتے ہیں مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ الطاف حسین اسی جنون یا پھر مدہوشی کی کیفیت میں بھارت مردہ باد ، بھارت ''ناسور'' کہتے ہوں۔امریکہ ،برطانیہ اور اسرائیل کے خلاف بات کی ہو۔ اپنی ذات اور نظریات کے خلاف بات کی ہو۔پاکستان میں جنرل مشرف کے اقتدار کے دوران موصوف الطاف حسین برطانیہ سے بھارت ایک سیمینار میں شرکت کے لئے گئے تو بھارت کی مرکزی شاہراہوں پر الطاف حسین کی تصاویر لگائی گئیں، VIP پروٹوکول دیا گیا۔گزشتہ برس 22 اگست کو پاکستان مخالف اور اشتعال انگیز تقریر کرنے کے بعد ایم کیو ایم کی پاکستان میں موجود قیادت نے الطاف حسین سے علیحدگی اختیار کرلی تھی، اور تنظیم بظاہر دو حصوں پاکستان اور لندن میں تقسیم ہوگئی تھی۔ایم کیو ایم پاکستان مسلسل یہ باور کروانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اب یہ تسلیم کرلینا چاہئیے کہ ایم کیو ایم لندن ایک الگ جماعت ہے، جس سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ایم کیو ایم لندن کے الطاف حسین  اب بھی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی سے باز نہیں آتے۔ وقتاً فوقتاً پاکستان مخالف بیان داغتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے دشمنوں سے ان کا بہت یارانہ ہے ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی اگست کے مہینے میں  متحدہ قومی موومنٹ لندن کے سربراہ الطاف حسین کی ایم کیو ایم کے انٹرنیشنل سیکرٹریٹ میں پاکستان مخالف رکن کانگریس ڈانا روہرا باچر اور جلاوطن بلوچ رہنما خان آف قلات سے طویل ملاقات  اور ان کے ساتھ مشترکہ مقاصد کیلئے مل کر کام کرنے پر تبادلہ خیالات  ہے۔ جس کے بارے میں  ایم کیو ایم لندن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین نے کیلی فورنیا سے امریکی رکن کانگریس سے حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے بارے میں شکایت کی۔یہ ملاقات 4گھنٹے تک جاری رہی اور ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ایم کیو ایم  لندن کے ایک ترجمان نے بتایا کہ امریکی رکن کانگریس نے حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں پر افسوس کا اظہار کیا اور ایم کیو ایم کے قائد کو یقین دلایا کہ وہ یہ معاملہ امریکی کانگریس اور دوسرے فورمز پر اٹھائیں گے۔ترجمان نے یہ بھی انکشاف کیا  خان آف قلات بھی ملاقات میں موجود تھے اور انھوں نے مشترکہ مقاصد کیلئے مل کر کام کرنے سے اتفاق کیا۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ ہم خیال لوگ مستقبل میں مل جل کر کام کریں گے اور باہمی رابطوں میں اضافہ کریں گے۔ الطاف حسین کی یہ ملاقات ان کے بااعتماد ساتھی ندیم نصرت کی جون کے آخر میں واشنگٹن میں سینیٹر جان مک کین، رکن کانگریس ڈانا روہراباچر اور ٹیڈ پوئے سے مدد کے حصول سے ملاقات کے بعد ہوئی ہے۔ پاکستانی اخبار اور چینل میں اس ملاقات کی خبروں کی اشاعت کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے ایم کیو ایم لندن اور اپنے سابق ساتھیوں پر پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کرنے اور پاکستان مخالف عناصر سے ہاتھ ملانے کا الزام عائد کیا تھا۔ فاروق ستار نے واشنگٹن میں پاکستان امریکی سیاستدانوں سے ندیم نصرت کی ملاقات کو ایم کیو ایم لندن کے پاکستان دشمن ایجنڈے اور کا حصہ اور 22اگست کی الطاف حسین کی تقریر کا تسلسل قرار دیا تھا۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ندیم نصرت امریکہ میں پاکستان مخالف لابنگ میں مصروف ہیں لیکن ہم ایم کیو ایم لندن کو اردو بولنے والی کمیونٹی کے نام پر وہ کچھ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جو ایم کیو ایم لندن کر رہی ہے۔مہاجروں کے نمائندے اپنے ورکرز اور حامیوں کے ساتھ یہاں ہیں۔انھوں نے الطاف حسین کی جانب سے امریکی کانگریس سے پاکستان کی امداد روکنے کی اپیل کو احمقانہ اور مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔فاروق ستار کے اس بیان کا جواب دیتے ہوئے ندیم نصرت نے امریکی ارکان سیاستدانوں سے اپنی ملاقاتوں اور پاکستان کے خلاف مدد مانگنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ الطاف حسین کی 22اگست کی تقریر کے بعد ان کی تقاریر پر لگائی جانے والی پابندی اور ایم کیو ایم کے 3گروپوں میں تقسیم ہونے کے بعد اب ایم کیو ایم لندن کے پاس اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ ایم کیو ایم لندن نے حالیہ دنوں میں جلاوطن بلوچ گروپوں سے رابطہ کرکے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن کسی بھی معروف گروپ نے ان کو مثبت جواب نہیں دیا۔ اقوام متحدہ کی سطح پر مہم چلانے والے جلاوطن بلوچ رہنما مہران بلوچ نے کہا کہ ایم کیو ایم اپنے عروج کے دور میں کراچی میں رہنے والے بلوچوں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث رہی ہے اور بلوچوں کے خلاف متعصبانہ کارروائی کرتی رہی ہے۔ مہران بلوچ نے الزام لگایا کہ کراچی میں اپنے عروج کے دور میں ایم کیو ایم کراچی میں بلوچوں کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ انھوں نے اور دوسرے بلوچ رہنمائوں نے ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر کام کرنے سے انکار کر دیا لیکن ایم کیو ایم لندن نے خان آف قلات سے روابط استوار کرلئے ہیں جنھوں نے برطانیہ میں پناہ کی درخواست دی ہے اور پاکستان کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں لانے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں لیکن گزشتہ 10سال کے دوران ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ خان آف قلات اس سے قبل لندن میں امریکی ارکان کانگریس ڈانا روہراباچر اور ٹیڈ پوئے کے ساتھ پاکستان کے خلاف ایونٹ منعقد کرتے رہے ہیں۔الطاف حسین کا یارانہ اب تک بھارت ، امریکہ ، اسرائیل اور برطانیہ سے رہا ہے  اور وہ ہر فورم پر پاکستان، پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی نفرت کا نشانہ بناتے ہیں۔ان کو یہ عقل نہیں کہ ہمارے ازلی دشمن تو چاہتے ہی یہی ہیں کہ کوئی پاکستانی ان کے ہتھے چڑھے جس کے منہ میں وہ اپنی زبان بلوا سکیں۔ الطاف حسین نے  مختلف پریس کانفرنسوں میں بھارت ، امریکہ اور اسرائیل کی ترجمانی کی۔ہمیں چاہیے کہ نہ صرف الطاف حسین کے بیانات کی بھرپور مذمت کریں بلکہ ان کی ہرزہ سرائی کو روکنے کیلئے بھی اقدامات کریں۔

Read more

11 September 2017

برمی سفارت خانے تک احتجاجی ریلی۔۔۔میر افسر امان

آٹھ ستمبر کو جماعت اسلامی اسلام آباد نے مسجد شہدا آبپارہ سے برمی سفارت خانے تک جانے کے لیے روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں ایک احتجاجی ریلی نکالی۔ شہر اسلام آباد میں اس ریلی کی تشہیر کے لیے خوبصورت بینر لگائے گئے ۔ ریلی میں شریک ہونے کے لیے اسلام آباد کی گلی گلی میں ہینڈ بل تقسیم کیے گئے۔ شہر کی مساجد کے خطیبوں سے جماعت اسلامی کے ذمہ داروں نے ملاقاتیں کیں۔ان سے درخواست کی کہ جمعہ کے خطبے میں روہنگیا کے مسلمانوں کے ساتھ بدھ مذہب کے پیرو کاروں کے مظالم کو نمازیوں کے سامنے بیان کیا جائے۔ ان کے حق میں نکالی جانے والی ریلی میں شرکت کی اپیل کی جائے۔ بیشتر مساجد میں خطیبوں نے برما کے صوبہ روہنگیا کے مسلمانوں پر بدھ مذہب کے پیروکاروں کے ساتھ ان کی فوج نے مل کر جو مظالم کیے ہیں ان پر روشنی ڈالی۔ اس اپیل پر شہر کی مساجد سے لوگ جلوس کی شکل میں اس احتجاجی ریلی میں شریک ہوئے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر میاں محمد اسلم صاحب نے تمام مکتبہ فکر کے علماسے ملاقاتیں کر کے اس ریلی میں شرکت کی درخواست کی۔اس سلسلے میں ریلی سے ایک دن پہلے پریس کانفرنس بھی کی گئی۔ جماعت اسلامی کے سوشل میڈیا ونگ نے اس کی خوب تشہیر کی۔ اخبارات میں ایک دن پہلے اس ریلی کے متعلق خبریں شائع ہوئی۔ نتیجتاً اس ریلی میں تمام مکتبہ فکر کے لوگ اپنے اپنے جھنڈے لیے شریک ہوئے جس میں اہل سنت الجماعت کے علما اور عوام کے ساتھ ساتھ ان کے  پنجاب صوبائی اسمبلی کے ممبر شریک ہوئے۔بریلوی حضرات کے علما اپنے لوگوں کے ساتھ شریک ہوئے۔جمعیت اسلام مولانا فضل الرحمان صاحب کے لوگ اس ریلی میں شریک ہوئے۔مسلم اسٹوڈنٹ فیڈر یشن کے لوگ شریک ہوئے۔اسلام آباد شہر کی کاروباری حضرات کی تنظیموں کے عہدادار اس احتجاجی ریلی میں شریک ہوئے۔ شہر کی ٹراسپورٹ یونین، مزدور یونین کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمایندے بھی شریک ہوئے۔ اسلام آباد بار کے عہدیدار اور وکیل حضرات بھی شریک ہوئے۔ جماعت اسلامی اور اس کی ذیلی تنظیم جے آئی یوتھ کے کارکن بھاری تعداد میں شریک ہوئے۔جہاں تک میانمار میں مسلمانوں پر مظالم کا معاملہ ہے تو کافی عرصہ یہ مظالم جاری ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے مسلم دشمن میانمار کی حکومت نے مسلمانوں سے امتیازی سلوک کرتے ہوئے بدنام زمانہ ایک کالا قانون پاس کیا تھا کہ ١٨٢٣ء کے بعد میانمار میں داخل ہونے والے شہریوں کی شہریت منسوخ کر دی گئی۔ جبکہ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ عرب مسلمان تاجر آٹھویں صدی عیسوی سے میانمار میں آباد ہو گئے تھے۔ کالے قانون کے خلاف میانمار کے مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ ١٩٢٠ء سے مسلمانوں پر بدھ مذہب کے بھکشو اپنی سیکورٹی فورسز سے مل کر مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں۔ اب ایک سو میل تک کے مسلمان بستی کا صفایا کر دیا گیا۔ لوگوں کے گلے کاٹ کر ان کی لاشوں کو آگ میںجلا دیا گیا۔اقوام متحدہ اور ہیومین رائٹس کی بین الاقوامی تظیموں نے اس پر میانمار کی حکومت سے صرف رسمی احتجاج کیا۔ ہزاروں لوگ سمندر اور جنگلوں میں دربدر جان بچانے کے لیے بھاگ گئے۔ ہزاروں لوگ بنگلہ دیش میں پناہ کے لیے داخل ہو گئے۔ ترکی کے مرد مجاہد کے علاوہ کسی مسلمان ملک نے ان مظلوموں کی مدد نہیں کی بلکہ ان کے حق میں آواز تک نہیں اُٹھائی۔ ترکی کے اردگان ہزاروں ٹن امدادی سامان کے ساتھ بنگلہ دیش پہنچ گئے۔ صاحبوان دہشت گردوں کے ساتھ مسلمان نام نہیں ہے اس لیے اس کے خلاف مغرب، مغربی فنڈڈ این جی،ہیومن رائٹس کی تنظیمیں اور اقوام متحد ہ خاموش ہے۔ ترکی نے بنگلہ دیش حکومت سے کہا ہے کہ میانمار کے سارے مہاجرین کے اخراجات وہ ادا کرے گا۔ان حالات میں سینیٹر اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پورے پاکستان میں دنیا کے مسلمانوں کی آواز میں آواز ملانے کی جماعت اسلامی کی مستقل پالیسی کے تحت پورے ملک میں میانمار کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ریلیوں کی کال دی۔ جس پرشہر شہر اور گلی گلی روہنگیا کے مسلمانوں کی حمایت میں پاکستانی عوام نے احتجاج کیا۔ اسی کال کے تحت اسلام آباد کی ریلی کا انتظام کیاگیا ہے جس میں سراج الحق شریک ہوئے۔ ریلی کاپروگرام کا باقاعدہ آغاز نماز جمعہ کے بعد آپارہ چوک پر ہوا۔اسٹیج سیکر ٹری کے فرائض جماعت اسلامی اسلام آباد کے نائب امیر اور کاروباری تنظیم کے صدر جناب کاشف عباسی اور اسلام آباد جماعت اسلامی کے سیکر ٹیری جناب قاری امیر عثمان نے مشترکا طور پر اداکیے۔ اسلام آباد کی مختلف مساجد سے نمازی جلوس کی شکل میں جوق در جوق اس پروگرام میں شریک ہوتے گئے اور پھر جلوس کی شکل بنتی گئی جو آہستہ آہستہ برما کے سفارت خانے کے طرف بڑھتا گیا۔ جگہ جگہ جلوس رُکتا رہا اور مقررین تقریریں کرتے رہے ۔ پرجوش شریکِ جلوس ان کی تقریروں کے درمیان نعرے لگاتے رہے ۔ پروگرام شروع ہونے سے پہلے اور پروگرام اور تقریر کے دوران سائونڈ سسٹم سے روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کے لیے دُکھیاگیت بھی سنائے جاتے رہے۔ انتظامیہ نے پہلے سے شہر میں چھ ہزار پولیس لگا دی تھی۔ جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر کے عوام کو اس ریلی میں شامل ہونے سے روکا جا رہا تھا۔ ارد گرد کی سڑکوں اور آبپارہ کی سڑک کو دونوں طرف سے بند کر دیا گیا تھا۔ کسی قسم کی گاڑی کو مسجد شہدا کے گیٹ تک نہیں جانے دیا جارہا تھا۔ نمازیوں کو مسجد شہدا میں جانے کے لیے دشواری ہو رہی تھی۔ راقم ایک آزاد مشن صحافی ہونے کے ناتے اس ریلی کی رپورٹنگ کے لیے اس میں شریک ہوا۔ میں کئی سالوں سے معذور ہوں۔ خود میری گاڑی جسے میرا بیٹا چلا رہا تھا کو آبپارہ چوک پر پولیس نے روک لیا۔ میںایک فرلانگ بھی پیدل نہیں چل سکتا۔ میرے بیٹے نے پولیس والوں کو کہا کہ میں مسجد کے گیٹ پر والد کو اُتار کر واپس آ جاتا ہوں۔مگر پولیس والوںنے ایک نہ مانی اور مجھے بھی چوک سے مسجد تک سہارہ لے کر جانا پڑا۔ جب ریلی شروع ہوئی تو نہتے شرکا ہاتھوں میں اپنی اپنی پارٹیوں کے جھنڈے اور برما کی حکمران سوچی کی تصویر والے پلے کارڈ اور احتجاجی بینرز لیے برما کے سفارت خانے کی طرف بڑھتے گئے۔پولیس والے جنگی لباس پہنے جلوس کے ساتھ ساتھ چلتے گئے۔آگے سرینا چوک اور ریڈ زون کے قریب کنٹینرز اور خار دار تاریںلگا کر ریلی کا راستہ روک دیا گیا۔ کنٹینرز پر لیوی کے نوجوان بٹھا دیے گئے۔ کنٹینرز کے سامنے سراج الحق سینیٹر اورامیر جماعت اسلامی پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا دنیا کے مسلمان یک جان ہیں ۔مسلمانوں کے خلاف جہاں بھی ظلم ہو گا ہم آواز اُٹھائیں گے۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ میانمار سے سفارتی تعلقات ختم کر کے اس کے سفیر کو پاکستان بدر کر کے اپنے سفیر کو واپس بلایا جائے۔ میانمار اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے عالمی چارٹر پر دستخط کیے ہوئے ہیں کہ اپنی اپنی اقلیتوں کا تحفظ کریں  گے۔ میانمار نے اس کی خلاف ورزی کی ہے۔ روہنگیا کے مسلمانوں نے بدھ مذہب کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔اب کہا ں ہیں یہ این جی اوز کہ آٹھویں صدی سے آباد روہنگیا کے مسلمانوں کی شہریت ختم کر دی گئی اور یہ آواز نہیں اُٹھا رہیں۔ سراج الحق صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ میانمار کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف مقدمہ قائم کیا جائے۔ انہوں نے اسلامی دنیا کے حکمرانوں سے کہاکہ میانمار کے مسلمانوں کے حق میں آواز اُٹھائیںان کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا حکومت ہمارے برما کے سفارتخانے پر احتجاج کرنے سے ڈرتی ہے۔ اصل میںاس کو امریکا کا ڈر ہے۔ اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو میں جماعت اسلامی کے کارکنوں اور عوام کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا کہوں گا۔ پھر حکمرانوں کی حکمرانی بچے گی نہ ان کے امریکی غلامی ۔ہمارا کام اپنے ملک کی املاک کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ میانمار کے مسلمانوں کے خلاف آواز بلند کر کے دنیا کے ضمیرکو جھنجھوڑنا ہے۔مغرب سے چند منٹ پہلے یہ پرامن ریلی اس دعا پر ختم ہوئی کی روہنگیا کے مسلمانوں کی اللہ تعالیٰ مدد کرے آمین۔                                                                         

Read more

11 September 2017

بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں۔۔۔ضمیر نفیس

سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنما چوہدری نثار علی کے ایک انٹرویو  پر ان دنوں بعض حلقوں میں بڑی بحث ہو رہی ہے مذکورہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور بے نظیر بھٹو کا کوئی مقابلہ نہیں' مریم نواز ابھی بچی ہیں اور بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں میں نے کبھی ان کو اپنا لیڈر نہیں مانا ابھی تو انہوں نے سیاسی سفر کا آغاز کیا ہے انہیں لیڈر بننے میں وقت لگے گا' ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو ایک دم لیڈر نہیں بنیں انہوں نے دس سال تک نشیب و فراز اور انتہائی مصائب کے ساتھ سیاسی جدوجہد کے عمل کو جاری رکھا اس دوران انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں اور جلاوطنی بھی کاٹی تب کہیں جا کر قوم نے انہیں اپنا لیڈر مانا مریم نواز کو اپنے آپ کو لیڈر ثابت کرنے کے لئے بہت وقت چاہیے نواز شریف کو رخصتی میں فوج کا کردار نہیں ہے اگر انہوں نے محاذ آرائی کی تو اس سے اپنی پوزیشن کمزور کریںگے سپریم کورٹ اور فوج سے محاذ آرائی کا راستہ غلط ہے فوج سے ہماری کوئی لڑائی نہیں محاذ آرائی کا مشورہ دینے والے لوگ پارٹی کے اندر اقلیت میں ہیں۔چوہدری نثار علی نے محولہ انٹرویو میں کوئی ایک بات بھی غلط نہیں کی  میں اس میں اضافہ کرتے ہوئے بلاول کو بھی شامل کرتا ہوں بلاول کی بھی محض یہی خصوصیت ہے کہ وہ بے نظیر  کا بیٹا ہے لیکن وہ آصف زرداری کے بھی بیٹے ہیں اگر بے نظیر کا بیٹا ہونا ان کی خصوصیت اور امتیاز ہے تو آصف زرداری کا بیٹا ہونا ان کے لئے منفی پوائنٹ ہے والدین کی اچھی یا بری شہرت کے بچوں پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں سیاست کے میدان میں عملی جدوجہد بلاول نے بھی نہیں کی اس اعتبار سے مریم نواز اور بلاول دونوں یکساں ہیں دونوں اپنے اپنے گھرانوں اور ان کے اقتدار کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں اقتدار میں نہ ہوتیں پھر دیکھتے لیدری کیسے چلتی' چوہدری نثار علی نے درست کہا کہ بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں انہیں ایک لمہے یا چند دنوں میں سیاسی اور پھر لیڈر نہیں بنایا جاسکتا اس کام میں وقت لگتا ہے سرکاری میڈیا کوریج کرے دوسروں کے لکھے ہوئے سکرپٹ سامنے ہوں اور خوشامدیوں کا ہجوم ہو جو تقریر کے ایک ایک لفظ پر سر دھنتے اور تعریف کرتے ہوں تو ایسے میں انسان کے اندر اپنے آپ کو لیڈر سمجھنے کی خوش فہمی پیدا ہو جاتی ہے  میں یہ تماشا دیکھتا ہوں کہ جن لوگوں کا چالیس چالیس سال کا سیاسی تجربہ ہے جو تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ہیں وہ بھی اپنے سفید سروں کے ساتھ راونڈ ٹیبل  بیٹھے ہیں اور بلاول اپنے معتمد کی رومن میں لکھی ہوئی مختصر تقریر ان کے سامنے پڑھ کر انہیں عوام سے رابطے کی نصیحت کرتے ہیں۔ یہ  پرانے سیاستدان بھی موروثنی سیاست میں پھنسے ہوئے ہیں ٹکٹ کی مجبوری ہے اپنے بچوں سے بھی  چھوٹے بلاول کو قائد کہہ کر خوشامد نہ کریں تو ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو جائے گا' اگر ان سب سے حلف لے کر ان کے دل کا حال پوچھا جائے تو ہر ایک یہ تسلیم کرے گا کہ مجبوری کے عالم میں وہ اس بچے کو قائد کہہ رہے ہیں جو ان کے مقابلے میں سیاست کا علم اور تجربہ زیرو رکھتا ہے گویا قائد ہونے کے لئے سیاست کا تجربہ نہیں کسی قائد کی اولاد ہونا شرط اول ہے عوام سے تعارف بھی ضروری نہیں یہ بعد میں ہوتا رہے گا یہ سب خوشامدیوں اور ملازموں کے ذمے ہے چوہدری نثار علی نے درست کہا کہ مریم نواز میرے قائد کی بیٹی ہے قائد نہیں ابھی تو ان کے سیاسی سفر کا آغاز ہے منزل ابھی بہت دور ہے' عوام  کا لیڈر ہونا بہت مشکل  ہے البتہ اس کے لئے وقت اور محنت چاہیے جبکہ والد کا لیڈر ہونا بھی ضروری نہیں والدین کے زورپر جو لیڈر بنتے ہیں عوام کے لئے انہیں قبول کرنا ضروری نہیں عوام آزاد ہیں پارٹی کارکنوں کی طرح مجبور نہیں ہوتے ان کا مسئلہ خوشامد بھی نہیں ہوتا عوام جنہیں لیڈر بناتے ہیں وہ پھانسی پانے کے  بعد بھی زندہ رہتے ہیں نہ صرف تاریخ میں بلکہ عوام کے دلوں میں !!



Read more

11 September 2017

امریکہ اور افغانستان الزام تراشیوں کو چھوڑ کر زمینی حقائق قبول کریں

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی صدارت میں منعقدہ کور کمانڈرز کانفرنس میں ملک کی داخلی اور خارجی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور آپریشن  ردالفساد کے نتائج پر تبادلہ خیال کیا گیا کور کمانڈرز نے کنٹرول لائن  کی صورتحال پر بھی غور کیا اور  مشرقی و مغربی سرحدوں پر آپریشن تیاریوں پر مکمل اطمینان کا  اظہار  کیا کانفرنس میں عسکری قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کو دہشت گردی سے مکمل نجات دلانے کے لئے آپریشنز جاری رہیں گے ہمارے نزدیک کوئی اچھا برا دہشت گرد نہیں سب کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری ہے خطے کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی میں پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کیا گیا اپنے دفاع اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے تمام اقدامات اٹھائیں گے۔ عسکری قیادت کا کہنا تھا کہ الزام تراشی مسائل کا حل نہیں زمینی حقائق کو سمجھا جائے افغانستان میں امن کے لئے پاکستان نے بنیادی کردار ادا کیا ہے افغانستان کی لڑائی کو پاکستان کے اندر توسیع دینے کی کوششوں کو ناکام بنایا  جائے گا۔ کور کمانڈروں کی کانفرنس کا پیغام بہت واضح ہے متعلقہ ممالک کو اس کا مفہوم سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے' دہشت گردی افغانستان اور پاکستان کا مشترکہ مسئلہ ہے دونوں کو اپنی سرحدوں کو کنٹرول کرکے دہشت گردوں کا خاتمہ کرنا ہے پاکستان نے بڑی حد تک اپنے حصے کا کردار ادا کیا ہے اور دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر اور مضبوط ٹھکانوں کو ختم کیا ہے اب اس کی سیکورٹی فورسز بھاگے ہوئے اور بچے کچھے دہشت گردوں کو ملک کے مختلف کونوں  کھدروں سے نکال کر کیفر کردار کو پہنچا رہی ہیں جبکہ اس کے برعکس افغانستان کی حکومت اس معاملے میں کسی قسم کی موثر کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ امریکہ اور نیٹو کی فورسز بھی سولہ برسوں تک  جدید ترین اسلحہ کے باوجود افغانستان کا امن بحال کرنے میں کامیاب نہ ہوسکیں چنانچہ امریکہ اور افغانستان دونوں نے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی کہ اس کی سرزمین سے دہشت گرد آکر افغانستان میں کارروائی کر رہے ہیں اگر ایک لمحہ کے لئے اس جواز کو درست تسلیم کرلیا جائے تو بھی افغان حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ  بارڈر کو سیل کرکے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرے الزام تراشیوں کے بجائے امریکہ اور افغانستان کو اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے الزام تراشیوں سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا افغانستان کے بہت سے علاقوں پر طالبان نے کنٹرول حاصل کرلیا ہے طاقت کے استعمال کا تجربہ  ناکام ہوچکا ہے مذاکرات اور مکالمے کے ذریعے اس تباہ حال ملک میں امن بحال کیا جاسکتا ہے' خطے کے تمام ممالک طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حامی  ہیں امریکہ اور افغانستان کو بھی الزام تراشی کی سیاست چھوڑ کر زمینی حقائق کو قبول کرنا چاہیے۔



Read more

11 September 2017

سول ایٹمی تعاون کے معاملے میں چین کی زبردست معاونت

چشمہ سی فور پاور پلانٹ کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وطن سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے دس ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کے منصوبے آئندہ سال جون سے پہلے مکمل ہو جائیں گے' بجلی کی صورتحال اب کافی بہتر ہے امید ہے کہ ہم نومبر2017ء کے بعد ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کرنے کے قابل ہوں گے انہوں نے کہا کہ جوہری توانائی کا منصوبہ 2020ء تک پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو دئیے جانے والے8800میگاواٹ کے ہدف کے حصول کی جانب اہم قدم ثابت ہوگا ہماری حکومت نے چین کے ساتھ مل کر سی پیک کے تحت بہت سے بڑے منصوبے شروع کئے ہیں جن کے ثمرات پاکستان کے عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں ملک کی ترقی کی شرح 5فیصد سے تجاوز کر گئی ہے جو اس سال 6فیصد کے لگ بھگ ہوگی وزیراعظم نے کہا کہ 28دسمبر2016ء میںچشمہ یونٹ تھری کے باقاعدہ آغاز کے صرف آٹھ ماہ بعد ملک کے پانچویں ایٹمی بجلی گھر چشمہ یونٹ فور کا افتتاح باعث افتخار ہے ماضی کی طرف دیکھتے ہوئے مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ جب چشمہ یونٹ ون کی تعمیر کا معاہدہ ہوا تھا تو اس وقت بھی ملک میں محمد نواز شریف کی حکومت تھی اور  اسی معاہدے نے دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی توانائی کے شعبے میں تعاون کی بنیاد رکھی چشمہ میں چلنے والے تینوں یونٹ ملک میں بہترین کارکردگی کے حامل ہیں اور اس وقت ملک کو 900میگاواٹ سے زائد بجلی ارزاں نرخ پر فراہم کر رہے ہیں مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ دو اضافی منصوبے کے 2اور کے 3بھی تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن ہیں اور یہ وقت سے پہلے مکمل ہو کر ملک کو روشن بھی کریںگے اور ماحول میں آلودگی کو کم کرنے  میں بھی اپنا کردار اا کریں گے وزیراعظم نے کہا کہ یہ امر پاکستان کے لئے باعث فخر ہے کہ بین الاقوامی امداد کے بغیر چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط کمپنیوں سے محفوظ اور مسلسل پیداوار حاصل ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ حکومت سی پیک منصوبوں میں نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شراکت چاہتی ہے چین کی قیادت نے بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ سی پیک کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور صنعتی شعبہ میں ہماری مدد کے خواہاں ہیں۔چشمہ میں یونٹ فور کا افتتاح ایک اہم پیش رفت ہے چشمہ میں پہلے ایٹمی پاور پلانٹ کی تنصیب کے موقع پر چین نے زبردست معاونت کی چین کے انجینئروں نے نہ  صرف خود محنت کی بلکہ انہوں نے اٹامک انرجی کمیشن کے انجینئروں کی تربیت بھی کی جس کے بعد پاکستان کے انجینئر اور متعلقہ افراد خود تمام امور سرانجام دینے لگے۔ اب بھی مخصوص حالات میں پاکستان کے متعلقہ حکام چینی ماہرین کی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہیں چشمہ کے تینوں یونٹوں سے اس وقت تو سو میگاواٹ سے زائد بجلی حاصل ہو رہی ہے یونٹ فورکی تکمیل کے بعد یہ پیداوار 1250میگاواٹ تک پہنچ جائے گی پاکستان کو صنعتی شعبہ کے لئے اس وقت سستی بجلی کی ضرورت ہے تاکہ کم لاگت کے باعث ارزاں پیداوار حاصل کرے اور عالمی منڈیوں کا مقابلہ آسکے ایٹمی بجلی گھر اس معاملے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ان سے حاصل کردہ بجلی نہ صرف سستی ہے بلکہ اس کے یونٹ ماحول کو بھی آلودہ نہیں کرتے حکومت نے اٹامک انرجی کمیشن کو 2020ء تک 8800میگاواٹ بجلی کی پیداوار کا ہدف  دے رکھا ہے اس وقت چشمہ کے علاوہ کینپ سے بھی جوہری توانائی کے ذریعے بجلی حاصل کی جارہی ہے۔ ہمیں ایٹمی بجلی کے حصول کے لئے مزید بجٹ مختص کرنا ہوگا اور مزید منصوبے شروع کرنے ہوں گے۔ امریکہ ماضی میں پاکستان کو اپنا زبردست حلیف قرار دیتا رہا۔ پاکستان کو اپنا سٹریٹجک پارٹز کہتا رہا سرد جنگ کے  خاتمہ کے بعد بھارت اور اس کی گرمجوشی بڑھی اور بھارت کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اس نے اس کے ساتھ سول ایٹمی تعاون کا معاہدہ کیا لیکن جب پاکستان نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اسے بھی توانائی کے بحران کا سامنا ہے اس کے ساتھ بھی سول ایٹمی تعاون معاہدہ کیا جائے تو امریکہ نے مزکورہ معاہدے سے صاف انکار کر دیا تاہم یہ کہا کہ وہ دیگر ذرائع سے اس کی توانائی کی ضروریات پوری کرے گا اس صورتحال میں چین نے زبردست تعاون کیا اور ایٹمی توانائی کو پرامن مقاصد کے لئے استعمال کرنے کے معاملے میں پاکستان کی بہت مدد کی' چشمہ کے تمام تر یونٹ چین کے تعاون اور پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط  دیکھنے کی خواہش کے آئینہ دار ہیں۔


Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30