Get Adobe Flash player

13 September 2017

نوازشریف کو تمام ججز نے نااہل کیا تاہم وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں، سپریم کورٹ

پاناما کیس کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماوت کے دوران سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نوازشریف کو تمام ججز نے متفقہ طور پر نااہل کیا تاہم وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔پاناما لیکس کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی پہلی سماعت کے دوران نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ 28جولائی کا فیصلہ پانچ رکنی بینچ نے سنایا تھا جب کہ دو ججز بیس اپریل کو اپنا فیصلہ دے چکے تھے بیس اپریل کے فیصلے کے بعد دو ججز کے بینچ میں بیٹھنے کا جواز نہیں تھا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ دوججوں کا بیس اپریل کا فیصلہ آپ نے کہیں چیلنج نہیں کیا؟ جوابا خواجہ حارث نے کہا کہ دو ججوں کے فیصلے کی قانونی حیثیت نہیں تھی اکثریتی فیصلے کو تسلیم کیا گیا تھا اس لئے چیلنج نہیں کیا۔خواجہ حارث نے دلائل میں یہ نکتہ اٹھایا کہ نوازشریف کو ایف زیڈ ای کمپنی کے معاملے پر نااہل کیا گیا آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کیلئے باقاعدہ سماعت کی ضرورت ہے جب کہ شوکاز نوٹس دینا اورمتاثرہ فریق کو سننا ضروری ہے۔ آرٹیکل 62 ون ایف کا طریقہ نااہلی سے متعلق مختلف ہے قانون کے مطابق اثاثے نہ بتانے پر انتخاب کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اثاثے نہ بتانے پر کامیاب امیدوار کو نااہل نہیں کیا جا سکتا ۔ پاناما لیکس کیس میں نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دینا بھی قانون کے مطابق نہیں ہے آج تک تحقیقات اور ٹرائل پر مانیٹرنگ جج کی تعیناتی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

Read more

بھارت کا امریکی ایما پرافغانستان میں کردار۔۔۔عبدالقادرخان

افغانستان میں کرائے کے فوجی بھیجے جانے کی اطلاعات متواتر ذرائع ابلاغ کا حصہ بنتی رہی ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی ایشیا کے لئے نئی پالیسی میں اس بات کی توقع کی جارہی تھی کہ امریکی صدر اپنے 8400فوجیوں کو واپس بلا کر ان کی جگہ کرائے کے فوجی افغانستان میں بھیجیں گے ۔ جس کے دو مقاصد نمایاں تھے ، ایک مقصد اپنی پیشہ ور فوجی قوت کو مزید شرمساری اور بے معنی موت سے امریکی فوجیوں کو مزید نقصان سے بچانا تھا ۔ امریکی فوج کی افغانستان میں حفاظت کی ذمہ داری خود اپنی امریکی اور نیٹو کے پانچ ہزار فوجیوں پر عائدہے کہ پہلے اپنی جان کی حفاظت کرو،فضائی پروازوں میں زمین پر نہتے عوام پر داعش کبھی طالبان کے نام پر جتنی ہوسکے اندھا دھند بمباری کرسکتے ہو ، کرتے رہو،زمینی جنگ سے بچو،گوریلا جنگ میں افغان طالبان کا سامنا کرنے سے گریز کرو اور ان علاقوں میں نہ جائوجہاں افغانستان کے چالیس فیصد حصے پر امارات اسلامیہ کا کنٹرول ہے۔ امارات اسلامیہ ، امریکی حکومت کو ناکام بناتے ہوئے پھر بھی امریکی بیس و فورسز پرفدائی و راکٹ حملے کرکے انھیں جانی ومالی نقصان پہنچاتے ہیں جس کی وجہ سے امریکی پریشانی میں متواتر اضافہ ہورہا ہے ۔دوسری جانب افغان فوجیوں کے ہی ہاتھوں امریکی فوجیوں کے مارے جانے کے واقعات میں اضافے کے بعدبلیو وارسے امریکی اور نیٹو فوجی سخت ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں کیونکہ انھیں خود علم نہیں ہوتا کہ کابل سیکورٹی فورسز کی بلیو وردی میں ملبوس کون سا فوجی کب اور کہاں اِن پر فائرکھول دے گا ۔ اس قسم کے واقعات کو بلیو وارکا نام دیا گیا جس میں سینکڑوں غیر ملکی فوجی مارے جاچکے ہیں ۔ امریکی صدر اپنے فوجیوں کی حفاظت کے لئے مزید 3900فوجیوں کو افغانستان بھیجنے کے لئے اپنی نئی پالیسی سے قبل اس کی منظوری بھی دے دی تھی ۔ لیکن اس کے ساتھ کرائے کے فوجیوں کا آپشن بھی زیر غور لایا گیا کیونکہ اس میں انھیں مخصوص معاوضہ دیکر ریمنڈ ڈیوس کی طرح جاسوس و عالمی قاتل گروہ کو بھیج کر افغانستان میں ہائی پروفائل امریکہ مخالف شخصیات کو نشانہ بنانا تو دوسری جانب پاکستان میں عدم استحکام کیلئے اہم پاکستانی شخصیات کو بھی ٹارگٹ کرنا تھا ۔ وہیں بھارت کو بھی کرائے کے فوجی بنا کر افغانستان کے میدان میں بھیجنے پر بھی غور کیا گیا کہ بھارتی فوجیوں کو افغانستان میں تعینات کرنے سے دوہرا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ۔یہاں اس مکروہ سازش کا بھی خطرہ موجود ہے کہ افغانستان میں بھیجے جانے والے بھارتی فوجیوں میں زیادہ تعداد مسلمانوں اور سکھوں کی ہو ۔ تا کہ دونوں جانب جو بھی مرے ، ان کا ہردوصورت فائدہ امریکہ و بھارت کو اور مسلمانوں کو نقصان ملے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر بھی ہے کہ بھارت اپنے فوجی افغانستان میں بھیج کر دیرینہ خواہش بھی پوری کرنا چاہتاہے کہ ہندوستان میں غیور پختون حکمرانوں کی غلامی کا بدلہ لینے کیلئے کسی بھی قیمت پر کابل کا کنٹرول یا حکومتی اقدامات پر اثر نفوذ حاصل کرلیں اور دوسری جانب مشرقی سرحدوں کی طرح پاکستانی علاقوں میں گولہ باریاں اور در اندازیاں کرکے پاکستان کو مسلسل غیر مستحکم رکھ کر سی پیک منصوبے کو ناکام بنایا جاسکے کیونکہ شمال مغربی سرحدوں کو مسلسل غیر محفوظ رکھنا عالمی قوتوں کا استعماری ایجنڈا بھی ہے  لیکن افغانستان کی تاریخ ثابت کرکے امریکہ کی یہ غلط فہمی دور کردے گی کہ جب وہ خود دنیا کے جدید ترین اسلحہ کے ساتھ افغانستان پر قبضہ نہیں کرسکا تووہ ٹڈی دل بھارتی فوج جو مقبوضہ وادی کشمیر میں سات لاکھ سے زائد انتہا پسند فوج کے باوجود 70برسوں میں کامیاب نہیں ہوسکی کس طرح غیور قوم کی تاریخی زمین پر  پیاس مٹانے کی خواہش رکھنے والوں پر غالب کس طرح آسکتی ہے۔دراصل یہ امریکہ کی جانب سے، پاکستان پر دبائو ڈالناہے کہ امریکہ ٹارگٹ کلرز فورسز کو ماضی کی طرح پاکستان میں بلا روک ٹوک آنے جانے اور من مانی کرنے کی اجازت دے ورنہ بھارت کی مدد سے مشرقی اور پھر شمال مغربی سرحدوں پر محدود پیمانے کی جنگ چھیڑدی جائے ۔ جس کی وجہ سے سی پیک منصوبہ خطرے میں پڑ کر ناکام کرایا جاسکتا ہے ۔ بھارت کی جانب سے بھی ساز ش کا پردہ فاش ہوچکا ہے کہ بھارت کو سی پیک پر تحفظات ہیں اور اس منصوبے کوتشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔رواں برس جنوری میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے رئیسنا ڈائیلاگ کی افتتاحی تقریب میں اپنے خطاب میں میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا نام لیے بغیر اسے بھارت کی علاقائی خودمختاری کیخلاف ورزی قرار دیا تھا، تاہم چین نے منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے اسے علاقائی امن اور ترقی کا منصوبہ قرار دے دیا تھا۔بھارت کی باقاعدہ مداخلت افغانستان میں اس وقت عروج پر پہنچ چکی تھی جب 2014 میں امریکی و نیٹو افواج کا انخلا کیا جارہا تھا۔ امریکہ مستقبل میں افغانستان کا ٹھیکہ بھارت کو دینے اور بالادستی کی کوششیں منصوبے کے تحت کئی برس قبل شروع کرچکا تھا ۔ بھارت اور افغانستان نے ابتدائی مشترکہ طور پر انڈوتبتین ہارڈ پولیس ITBP 500 اہلکاروں پر مشتمل تشکیل دی ۔ بھارت کو پاکستان کے مقابلے میں افغانستان کی زراعت، مواصلات اور معدنیات کے شعبے میں مواقع فراہم کرتے ہوئے 14 بھارتی فرموں کو افغانستان میں بھیجا گیا تھا۔ افغان سیکورٹی فورسز کو بھارتی فارن سروس اور پولیس سروس میں اپنے ٹریننگ کیمپوں میں تربیت شروع کی گئی جو اب این ڈی ایس کی راجھستان میں ٹریننگ کی شکل میں منظر عام پر راکی سازش آچکی ہے۔ انڈین بارڈر روڈ آرگنائزیشن بی آر او سی پیک منصوبے کی افادیت کم کرنے کیلئے مختلف پراجیکٹ پر مصروف ہے۔ امریکی تھنک ٹینکRAND نے دعوی کیا تھا کہ افغانستان میں بھارت کی موجودگی کو افغانستان کے شہریوں کی74 فیصد آبادی پسند کرتی ہے جبکہ صرف8 فیصد آبادی پاکستان کو پسندیدہ ملک قرار دیتی ہے۔ افغانستان میں انڈیا کی فوجی مداخلت کا ثبوت خود بھارتی ابلاغ دیتے ہیں۔ یہ سروے اے بی سی نیوز اور بی بی سی نے کروایا تھا۔ دوسری جانب بھارتی میگزین پر گاتی(Pragati) کے ایڈیٹر سوشانت کے سنگھ(Sushant K.Singh)اور بی بی سی نیوز نے RAND کے ساتھ ملکر کئے گئے سروے میں کہا ہے کہ" An Indian Military Involvement in Afghanistan will Shift The Battleground Away from Kashmir and the Indian Mainland.Targeting the Jihadi Base will be a huge for India,s Anti-Terrorist Operations, Especially in Kashmir, Both Millitary and Psychologically"-افغانستان میں بھارت کی موجودگی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کا افغانستان میں مضبوط نیٹ ورک اس امر کی نشاندہی کررہا ہے۔ان حقائق کی روشنی میں امریکہ کی جانب سے بھارت کو عملی شکل میں افغانستان میں کلیدی کردار دلانے کی کوشش کئی برسوں سے جاری ہے ۔ اس صورت میں اگر بھارتی فوجی افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ امریکی مدد کے ساتھ شامل ہوکر ظاہر ہوجاتے ہیں تو پاکستان کے لئے مزید مشکلات پیدا کرنا بھارت کا اہم ایجنڈا ہوگا ۔ افغانستان میں پہلے ہی را ایجنسی کی ماتحت کالعدم جماعتیں TTP، جماعت الاحرار ،  سمیت کئی گروپ پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف نے امریکہ سے ڈومور کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ، افغانستان میں موجود دہشت گرد کالعدم جماعتوں کے خلاف کاروائی کرے اور افغان جنگ پاکستان میں لانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پاکستانی حکام نے بھارت کے افغانستان کے بڑھتے کردار اور بلین ڈالرز کی مالی امداد کے نام پر افغانستان میں اثر رسوخ بڑھانے کی سازشوں پر ماضی میں کوتاہی برتی ، جس کے سبب بھارت کو افغانستان میں قدم جمانے کا موقع ملا اور پاکستان نے 80ہزار پاکستانیوں کی قربانی اور اربوں ڈالرز کا نقصان برداشت کیا ، پاکستانی سائیڈ لائن کرکے بھارت کو مسلط کرنے کی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی  کیونکہ بھارت کا افغانستان میں جاری جنگ سے صرف فائدہ ہے ، کوئی نقصان نہیں ہے اور نہ ہی بھارت کا افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کوئی کردار رہا ہے اس لئے پاک سر زمین کے خلاف تمام سازشوں کا انجام ناکامی سے دوچار ہونا ہی ہے۔افغانستان میں امن کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو پہنچے گا یہی وجہ ہے کہ ملک دشمن نہیں چاہتے کہ افغانستان میں امن مستحکم اور قائم رہے۔ قیام پاکستان سے لیکر آج تک اسی سازش پرعمل ہورہا ہے۔افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کبھی مثالی نہیں رہے ہیں ، افغانستان کا زیادہ تر جھکائو بھارت کی جانب ہی رہا ہے ، پاکستان ، افغانستان کو بردار اسلامی ملک کا درجہ دیتا ہے لیکن سابق کابل کے صدر حامد کرزئی نے پاکستان کو بردار اسلامی ملک کا درجہ دینے کے بجائے پڑوسی ملک کہہ کر پاکستان کے خلاف کئی بار سنگین الزامات عائد کئے ۔ اب وہی حامد کرزئی کبھی امریکی زبان بولتا تھا تو کبھی بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا رہتا تھا ۔امریکہ کی نئی پالیسی پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرکے اپنے گناہوں پر پردہ ڈال رہا ہے۔

Read more

13 September 2017

نمرود اٹھ گیا ہے مچھر کو بھیج دو۔۔اویس خالد

بغداد میں تباہی مچانے کے بعد ایک دن ہلاکو خان کی بیٹی گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے باپ کے ہاتھوں مقبوضہ ہونے والے علاقے کی سیر کرنے کی غرض سے نکلی۔ایک مقام پر اس نے دیکھا کہ ایک مسلمان عالم ایک مجمعے سے خطاب کر رہا ہے اور لوگ ہمہ تن گوش ہو کر اس کا وعظ سماعت کر رہے ہیں۔شہزادی نے اپنے غلام سے کہا کہ جا اور اس عالم کو بلا کر لا۔غلام بلا لایا،جب وہ آئے تو شہزادی نے استفسار کیا کہ تم لوگوں سے کیا کہہ رہے تھے؟ اس عالم نے بڑے تحمل سے جواب دیا کہ میں پروردگار کی تعریف و توصیف بیان کر رہا تھا۔اس پروردگار کی کہ جس کو چاہتا ہے بادشاہت عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اسے حقیر کرتا ہے۔یہ سن کر شہزادی مسکرائی اور کہنے لگی کہ پھر مانو اس بات کو کہ تمہارے پروردگار نے ہمیں بادشاہت عطا کی گئی ہے ،ہمیں آقا اور تمہیں غلام بنایا ہے۔عالم کچھ دیر توقف کے بعد گویا ہوئے کہ اے شہزادی پہلے یہ بتا کہ بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ کتے کیوں رکھے جاتے ہیں؟ شہزادی نے کہا سادہ سی بات ہے کہ بکریوں کی حفاظت کے لئے،جب کوئی بکری اپنے ریوڑ سے بچھڑ جاتی ہے اور اپنے مالک سے دور ہو جاتی ہے تو وہ کتے گھیر کر اس بکری کو واپس ریوڑ میں اپنے مالک کے پاس لے آتے ہیں۔عالم نے جواب دیا کہ تم نے بالکل درست کہا ۔تم لوگوں کی حیثیت بھی ایسی ہی ہے،ہم اپنے مالک سے بچھڑ گئے ہیں اور اس نے تمہیں ہمارے پیچھے لگا دیا ہے کہ ہمیں گھیر کر واپس اپنے پروردگار کے پاس لے آئو۔جس دن ہم واپس اپنے مالک کے پاس آگئے اس دن تمہارا کام ختم ہو جائے گا۔یہ امربھی قابل توجہ ہے کہ جب بغداد پر حملہ ہوا تو اس وقت مسلمان قوم امورِخاص چھوڑ کرکئی روز سے فقط اس بات پر مناظرہ کر رہی تھی کہ مسواک کی لمبائی کتنی ہونی چاہیے اور پھر بعد کے مناظر نے تاریخ میں لکھوایا کہ نہ مسواک رہی اور نہ مسواک والے۔دشمن ہر لحظہ سر پر ہے اور پوری قوم غیر ضروری بحث و مباحثے میں الجھی ہوئی ہے،کسی کی شادی کو قوم کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا جاتا ہے تو کسی کی طلاق کوقومی سلامتی کا سب سے اہم مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور ساری قوم کئی کئی روز تک چوکوں اور چوراہوں میں،گھروں اور دفاتر میں اس پر اپنے ماہرانہ تبصرے کرتے پھرتے ہیں،بسا اوقات تو اتنے جذباتی ہو جاتے ہیں کہ بات آپس میں تلخ کلامی اور بعد ازاں دھینگا مشتی اور پھر قطع تعلقی تک بھی جا پہنچتی ہے۔آج بھی ہمارا حال اس سے مختلف نہیں ہے۔ہم اصل راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ہمیں راہ پر لانے کیلئے ہمارے پروردگار نے ایسے ہی جابر،ظالم،تند خو ،دریدہ دہن اور درندہ صفت حاکموں کو ہم پر مسلط کر دیاہے۔ پاکستان عرصہ دراز سے حالت جنگ میں ہے اور دہشت گردی کا شکار ہونے والوں میں سرفہرست ہے۔اس دہشت گردی نے اب تک ہزاروں نہتے مسلمانوں کی جان لی ہے،پاکستان نے اس ضمن میں لازوال قربانیاں دی ہیں اورابھی تک دے رہا ہے۔شہادتوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔امریکہ جو بار بار دس ارب ڈالر کا طعنہ دیتا ہے اسے یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ پاکستان اب تک دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جانی نذرانے دینے کے ساتھ ساتھ اپنا دو سو ارب ڈالر بھی خرچ کر چکا ہے۔ استعماریت پسند امریکہ جو خود بے بنیاد الزامات کی آڑ میں کئی ممالک کا امن تباہ کر چکا ہے،خود کو سب سے بڑا امن پسند سمجھتا ہے اور پاکستان بے انتہا قربانیوں کے باوجود بھی اسے خوش نہیں کر سکا۔وہ اس خطے میں طاقت کے توازن کو اپنی مٹھی میں رکھنے کے لئے کبھی ہما کسی کے سر پر بٹھاتا ہے تو کبھی کسی کو اکیلا کر کے کمزور کرنے کی دھمکی دیتاہے۔حضرت اقبال نے فرمایا تھا:
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
ہم نے اقبال کی شاعری کو محض اپنی جذباتی تقریروں میں جوش کا تڑکا لگانے کے لئے رکھ چھوڑا ہے۔نہ سمجھے اور نہ اپنایا،اب حالت یہ ہے کہ راقم نے لکھا تھا
وہ طائر لاہوتی اغیار کے نرغے میں ہے قید
اقبال جسے لقمہ ذلت سے چاہتے تھے بچانا
کب تک ہم ڈالروں کے عوض پرائی جنگ میں خود کو جھونکتے رہیں گے؟اتنے قرضے لینے کے بعد یا تو عوام کی حالت زار بدل کر خوشحالی کی سیج پر بیٹھ گئی ہوتی۔عوام بنیادی ضرورتوں کے چنگل سے نکل کر سہولیات کے مزے لوٹ رہی ہوتی،ہر پاکستانی عیش و عشرت سے پورے ٹھاٹھ باٹھ سے گزر اوقات کر رہا ہوتا تو بھی بات سمجھ میں آتی مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے،پہاڑ جیسے قرضے لینے کے بعد بھی عوام دو وقت کی روٹی کو ترستی ہے۔ڈگری سے نوکری کے حصول تک کے سفر میں کامیابی سے پہلے بڑھاپا آ جاتا ہے۔بڑے بڑے سرکاری محکمے گھٹ گھٹ کر سانس لے رہے ہیں،امن و امان سے لے کر صحت و تعلیم تک ہر سہولت مفقود ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہم سے کبھی خوش ہونا ہی نہیں چاہتا،چین کب تک ہماری ایما پر غیرت کا مظاہرہ کرتا رہے گا۔اگرچہ ہم اس وقت اس حالت میں نہیں ہیں کہ اسے کرارا جواب دے سکیں اور مصلحت کا تقاضا ہے کہ دینا بھی نہیں چاہیے لیکن اب اس راہ کے مسافربننے کی راہ ضرور اپنا لینی چاہیے جہاں خودداری و حمیت کا تاج و تخت ہمارا منتظر ہے۔حکومت سے بھی یہ مطالبہ نہیں کہ وہ طاقت سے ٹکر لے مگر یہ مطالبہ ضرور ہے کہ خود طاقتور ہونے کی سبیل کرے۔ قوم جو پہلے ہی کسمپرسی کی حالت میں ہے ۔غربت کی لکیر کے نیچے رہ کر بھی جینا سیکھ گئی ہے۔وہ ہر مشکل میں گزارا کر لے گی بس درجہ بدرجہ مزید بھیک لینی بند کر دی جائے ۔اپنے ملک کے ممکنہ وسائل کوبروئے کار لا کر اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کا سامان کیا جائے۔اگر ایسا ہو گیا تو پھرپوری دنیا میں کسی بھی میدان میں پاکستانی قوم کا کوئی ثانی نہیں ہو گا۔ایجادات کی قطاریں لگ جائیں گی،دریافتوں کے دریا بہیں گے۔پھر چاہے امریکہ ہو یا روس کسی سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہو گی،کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی حاجت نہیں رہے گی۔نیابت و امامت کے لئے پھر حجاز سے نام پکارا جائے گا۔ایک طرف عزت کی مسند ہے اور دوسری طرف ذلت کی دلدل لیکن فیصلہ بحیثیت قوم ہمیں مل کر کرنا ہے،ورنہ وہ کارساز ہے جس سے مرضی کام لے لے،ابھی ہم یہ دعا تو کر ہی سکتے ہیں کہ۔
نمرود اٹھ گیا ہے مچھر کو بھیج دو
قاسم کو جو بلاوے،دختر کو بھیج دو


Read more

13 September 2017

ریاست کے ہر ستون کو اپنی ذمہ داریاںادا کرنا ہونگی ۔۔۔ظہیر الدین بابر

 نئے عدالتی سال  2017-18   آغاز کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کا  کہنا تھا کہ اصل جمہوریت کا سب سے اہم پہلو قانون کی حکمرانی ہے جس کے لیے عدلیہ کا آزاد ہونا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ  عدلیہ کی آزادی کا مقصد  ججز کا انتظامیہ ،کسی بھی شخص یاطاقتور اتھارٹی سمیت ہر قسم کے دبائو سے آزاد ہونا ہے۔ جناب جسٹس ثاقب نثار کے بقول آئین بالادست ہے اور ریاست کے ہر ستون کو اپنی ذمہ داریاں اور افعال آئین کے مطابق سرانجام دینے ہوتے ہیں۔''مملکت خداداد پاکستان میں نظامِ عدل، قانون کی بالا دستی اور آئین کی حکمرانی کئی دہائیوں سے اہم موضوع بحث  ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ  اب تک ہر حکمران نے قانون کی حکمرانی کو  من پسند معانی پہنائے ہیں جس کے نتیجے میں مسائل کم ہونے کی بجائے ان میں اضافہ ہوا۔ دراصل آئین اور قانون کی بالادستی کی اہمیت یہ بھی ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی ریاست کے فعال اور دیانتدار اداروں کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح ہر  جمہوری ریاست کے شہری ایسی ریاست  کا خواب دیکھنے میں حق بجانب ہیں جہاں عدلیہ آزاد ہو اور ریاست کے سبھی  طبقات اس کے فیصلوں پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کریں ۔ عصر حاضر میں یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ  امن و امان اور خوش حالی کی فضا میں سانس لینے کی خواہش رکھنا ریاست کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔دراصل ایک  مثالی ریاست وہی کہلا سکتی ہے  جہاں قانون کی بالا دستی ہو، ریاست کے سبھی شہریوں بشمول اقلیتوں کو ان کے بنیادی حقوق مساوی بنیادوں پر حاصل ہوں ۔ جہاں کی سرزمیں پر  بسنے والے  غربت بھوک اور بیروزگاری جیسے ناموں سے  نا آشنا ہوں۔جہاں دہشت گردی اور اس سے ملتے جلتے عفریت ناپید ہوں دراصل یہ وہی دیس ہے جس کے بارے میں  میں  راوی امن اور چین لکھے۔دراصل تیسری دنیا کے کئی ملکوں کی طرح پاکستان کا  رائج  نظامِ عدل بھی ہمیں  نو آبادیات سے منتقل ہوا۔تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ متحدہ  برصغیر پاک و ہند میں  شخصی نظامِ حکومت ہی فعال تھا جس کے تحت ہر قسم کے  اختیارات اور فیصلے  فردِ واحد کے ہاتھ میں محفوظ رہے یعنی جہاں  قاضی شہر بھی حاکمِ وقت کے آگے سر جھکائے دست بستہ کھڑا رہتا تھا۔ 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد برصغیر پاک وہند پر رہنے والوں پر  مسلط ہونے والا برطانوی راج اگرچہ اپنے ساتھ قانون کی ایک نئی شکل لے کر آیا تاہم مخصوص حوالوں سے وہ   کسی طور پر بہترین  نظامِ عدل نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انگریز سرکار کا تشکیل دیا جانے والا قانون جو مقامی باشندوں کے لئے تعصب سے بھرپور مگر خود انگریزوں کے لیے ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد تھا۔ تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں کہ متحدہ برصغیر پاک وہند کی مقامی آبادی سے  انگریزوں کا روا رکھا جانے والا سلوک  امتیازی اور تحقیر آمیز تھا۔یقینا پاکستان کے قیام کا ایک مقصد  تھا کہ ایسا ملک حاصل کرنا  یہاں قانون کی حکمرانی اس انداز میں نظر آئے کہ حکمران اور عوام کے درمیان کسی قسم کا فرق دکھائی نہ دے۔اس میں شک نہیں کہ آج بھی ہم تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ایک طرف ہمارے تمام تر پرانے خستہ سماجی ڈھانچے شکست و ریخت کا شکار ہو رہے ہیں جب کہ دوسری طرف ان کی جگہ لینے والے نئے نظام اپنی تشکیل کے ابتدائی مراحل سے گزر رہا ہے ۔کوئی نہ بھولے کہ کسی بھی ریاست میں  عدل وانصاف کے قوانین کا براہِ راست تعلق عوام کی ذاتی زندگی سے ہے۔ معیشت بھی اسی وقت مستحکم ہوتی ہے جب وہاں امن و امان قائم ہو۔ اس کے ساتھ  جمہوریت کا استحکام بھی ریاست کی خوش حالی سے ہی مشروط ہے۔دراصل اسی نقطہ کو چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے تازہ  خطاب میں بیان کیا۔ یاد رکھنا ہوگا کہ جب  ملک کا  بااثر طبقہ، اشرافیہ یا جاگیردار طبقہ خود کو قانون سے مستثنی قرار دیتا ہے تو عملا پورا نظام تہس نہس ہوجایا کرتا ہے۔ دراصل  معاشرے میں بگاڑ تب ہی پیدا ہوتا ہے جب ریاست کا بااثر طبقہ یا جرائم پیشہ افراد محض حکامِ بالا تک اپنی رسائی کے زعم میں مبتلا ہو کر سرکشی کے مرتکب قرار پائے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بطور قوم ہمیں  انصاف کے لیے کسی مثالی صورتِ حال کے انتظار میں نہیں رہنا چاہیے بلکہ  سماج کو درپیش بنیادی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنی  انفرادی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ہماری اجتماعی کامیابی یہی ہے کہ ہم ایک ایسا لائحہ عمل ترتیب دے ڈالیں  جو ملک سے ناانصافی کو بتدریج ختم کرڈالے۔ اس میں شک نہیںکہ ہمارے ہاں جمہوری نظام ابتدائی مرحلے میں ہی سہی مگر بہرکیف موجود ہے چنانچہ ہمیں  اپنی ناکامیوں سے سیکھنا ہوگا۔ دراصل یہ اسی وقت ممکن ہے  جب ہم اپنے ماضی کی غلطیوں اور غلط فیصلوں کو کسی صورت فراموش نہ کریں۔چیف جسٹس جناب ثاقب نثارکا یہ کہنا غلط نہیں کہ قانون شکنی کرنے والوں کا سخت مواخذہ ہی ریاست میں امن کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ دراصل ہم میں سے کسی کو بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر نظام انصاف کو متنازعہ بنانے کی کوشش نہیںکرنی چاہیے۔ریاست کے ذمہ دار اداروں کا فرض ہے کہ وہ مختلف اداروں کے باہمی تصادم کو روک کر قانون کی بالا دستی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔


Read more

13 September 2017

برمی مسلمانوں کی نسل کشی کیوں؟۔۔۔شاہ زمان

اللہ پاک کی زمین پر ایک خطہ میانمار ہے، جس کی سرحدیں، بنگلہ دیش ، بھارت، تھائی لینڈ، لاس، اور چین کی سرحدوں سے ملتی ہیں،جہاں پندرہ لاکھ کے قریب کلمہ گو آباد ہیں،جنھیں دنیا روہنگیا مسلمان کہتی ہے۔ہماری آزادی کے ایک سال بعد ان کو بھی جاپانیوں سے آزادی ملی تھی، انھوں نے بھی ہماری طرح یوم آزادی منایا تھا، مگربد قسمی سے ان کو ملک کا شہری تسلیم نہیں کیا گیا کیوں کہ ان کے نام کے ساتھ مسلمان چپساں تھا۔ آتش پرستوں نے بہت کوشش کی مگر راہِ توحید سے نہ پھیر سکے۔پھر جبر و استبداد کی انتہاشروع ہوگئی، اس سال روہنگیا مسلمانوں نے بھی آزادی کے بعدسترویں عید قربان منائی، موازنہ کیجیے  عید کے دن ہمارے بچے اپنی پسندکے کھلونوں سے کھیل رہے تھے۔ قربانی کے جانوروں کے ساتھ سیلفی بنا کر پھولے نہیں سما رہے تھے، والدین اپنے بچوں کو ہنستے کھیلتے دیکھ کر محظوظ ہو رہے تھے،مگر ان کے بچے اپنی امی ابو کو کفار کے ہاتھوں ذبح ہوتے اور گولیوں سے چھلنی ہوتے دیکھ رہے تھے ، ماں باپ اپنے جگر گوشوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے کٹتے اور زندہ جلتے دیکھ رہے ہیں۔میانمار کے اس ماحول میں عید قربان منانے والو تم نے توواقعی عہد رفتہ کی یاد تازہ کردی، تمہاری ایک فرد کی قربانی آج پوری دنیا کے مسلمانوں کی اجتماعی قربانی پر بھاری محسوس ہو رہی ہے۔ مغربی میڈیا برمی مسلمانوں کی نام نہاد حمایت کے ساتھ ساتھ عجیب انداز میں منافقانہ چال چل رہا ہے ، جس میں بہت ہی دھیمے انداز میں برما کے مسلمانوں کو غیر ملکی مہاجر ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، بی بی سی نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ برمی مسلمان کالونیل دور میں بنگال سے آکر آباد ہوئے ہیں، حالانکہ اراکان جہاں روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت ہے ،کالونیل دور سے پہلے ہی مسلمانوں کے زیر نگیں تھا،پندرویں صدی میں بنگال کے سلطان جلال الدین محمود شاہ کی حکومت میں شامل تھا ، مغلیہ دور میں بھی ،پورے برما میں مسلم حکمرانی کو تسلیم کیا جاتا تھا، مسلم لباس اور طرز زندگی کو فوقیت حاصل رہی، کرنسی پرایک طرف برمی اور دوسری طرف فارسی کندہ تھی۔برما کی آزادی میں بھی روہنگیا مسلمانوں کا اہم کردار تھا۔آزادی کے بعد برمی مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کا آغاز ہوا، شہریت دینے سے انکار کر دیا گیا، مگر قومی شناختی کارڈ جاری کر دیااور مسلمانوں کو پارلیمنٹ میں بھی رسائی حاصل ہوئی۔ 1962کی فوجی بغاوت نے مسلمانوں پر ابتلا، ظلم اور بربریت کے کئی دروازے کھول دیے، مسلمانوں سے قومی شناختی کارڈ واپس لیکر غیر ملکی کارڈ جاری کر دیے۔ رہی سہی کسر 1982کے شہریت کے قانون نے پوری کردی جس میں مسلمانوں کو مکمل طور پر غیر ملکی قرار دیدیا، روہنگیا مسلمانوں کے اکثریتی صوبے اراکان کو قیدخانہ بنا دیا گیا، مسلمانوں کی نقل و حرکت پر بھی پابندی لگادی گئی، تعلیم،روزگار اور صحت کی سہولیات سے بھی یکسر محروم کر دیا گیا۔ میڈیا کی رسائی پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ۔1970کے بعد متعدد کریک ڈائون ہوئے اور لاکھوں مسلمانوں کو جبرا پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا گیا ۔امید کی جارہی تھی کہ فوجی حکومت کا ظلم برداشت کرنے والی آنگ سان سوچی کے برسرِاقدار آنے پر مسلمانوں کے دن بدلیں گے ، مگر اس کی پارٹی کے حکمران بنتے ہی ، روہنگیا مسلمانوں پر تاریخ ساز بربریت کا آغازہوا، سوچی نے برما میں مودی کا کردار ادا کرتے ہوئے، بدھ مت کے دہشت گردوں کو شہ دی جنھوں نے فوج کے ساتھ ملک کر برما کے مسلمانوں کی باقائدہ نسل کشی شروع کردی، جس کے متعلق گزشتہ برس لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کے محققین کی رپورٹ میں کہا گیا ہے میانمار کی سرکاری سرپرستی میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی آخری مراحل میں ہے۔اس کے ردعمل میں ہی حرکت الیقین نامی مزاحمتی تحریک نے جنم لیا، جن کا کہنا ہے کہ انھوں نے صرف اپنی حفاظت کی خاطر ہتھیار اٹھائے ہیں۔اکتوبر2016میں چند سرحدی فورس کے جوانوں کے قتل کا بہانہ بنا کر برمی فوج اور بدھ ملیشیاز نے مسلم آبادیوں پر چڑھائی کر دی، مکانات نظر آتش کر دیے گئے،ہزاروں معصوم مسلمان،بچوں، نوجوانوں ،بوڑھوں اور عورتوں کو شہید کردیا گیا، نومبر2016میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی مداخلت پر برمی حکومت نے کمیشن کے قیام پر رضامندی کا اظہار کیا، پھرعالمی رائے عامہ کی آنکھوں میں دھول جھونک کرمعاملہ ٹھپ کر دیا گیا۔ جنوری2017کو اقوام متحدہ کی سپیشل نمائندہ کو رسائی دینے سے انکار کیا گیا اور پھر اقوم متحدہ کے تفتیش کاروں کو ویزے جاری کرنے سے بھی میانمار حکومت نے معذرت کر لی۔ انڈونیشیا کے صوبہ سماترا میں بیس فیصد عیسائی آبادی کے لیے اقوام متحدہ کی پھرتی قابل دید تھی مگر یہاں باجی اقوام متحدہ شرم کے مارے آنکھ نہ اٹھا سکی۔روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تازہ لہر 25اگست 2017اس وقت شروع ہوئی جب حرکت الیقین کی طرف سے پولیس اور فوج کی چوکیوں پر مبینہ حملے کا بہانہ بنا کر، برمی فوج اور بدھ ملیشیا ایک بار پھر مسلم آبادی پر چڑھ دوڑے، متعدد گائوں کے ہزاروں مکانات نظر آتش کر دیے گئے، ہزارو ں بے گناہ مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا، معصوم بچوں تک کو جلتے مکانوں میں پھینک کر زندہ جلا دیا گیا، پچھلے ایک ہفتہ کے دوران ایک لاکھ کے قریب برمی مسلمان بنگلہ دیش کے سرحد پر پہنچ چکے ہیں جہاں خوراک اور ادویات کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ دنیاخاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، مسلم حکمران اپنا اقتدار بچانے، اور انسانی حقوق کے علمبردار اپنی تنخواہ پانے کی فکر میں ہیں جبکہ مسلم نوجوان اور اقبال کے شاہیں سوشل میڈیا پر خوش گپیوں میں مصروف ہیں ، کچھ نوجوان صرف مذمتی پوسٹ شیئر کرکے خیالوں میں محمد بن قاسم کا کردار ادا کر رہے ہیں، کچھ پروفیسر قسم کے نام نہاد مسلمان تو یہ فلسفہ جھاڑ رہے ہیں کہ کیا ہم نے مسلمانوں کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔واہ جی اگر یہ فلسفہ ابنِ قاسم کو سمجھ آجاتا تو آپ پروفیسر رام چندر کے سوا کچھ نہ ہوتے۔


Read more

13 September 2017

برمی مسلمانوں کا قتل عام اورہماری بے حسی۔۔۔اشفاق بھٹی

برما کی کل آبادی 75لاکھ کے لگ بھگ ہے جس میں سے مسلم آبادی تقریبا 0.7%ہے،یہاں پرزیادہ ترتعدادبدھشٹ فرقے سے تعلق رکھنے والے افرادکی ہے،یہ زمین ہیرے اگلنے میں ماہرہے اسی وجہ سے یہاں کی حکومت نے ملک کو ہمیشہ غیرملکی میڈیا سے دوررکھا،باہری دنیا سے اس ملک کا رابطہ صرف ضرورت کی حدتک ہے،مہنگائی حدسے زیادہ ہے اور امراء انتہائی بے حس اور سخت گیرہیں،پوری دنیا کا غیرملکی میڈیا اس وقت پرجوش ہوا جب مسلمانوں کی ایک بس کوروک کراس میں سے 11افرادکو بے دردی سے شہیدکردیا گیااور حکومت اس واقعے اور تشددکو ہوا دیتی رہی ،یہ بس برما کے دارالحکومت رنگون سے تبلیغی سفرکے سلسلے میں جارہی تھی،اور تشددکا یہ سلسلہ یہی ختم نہیں ہوا،اس کے بعدسے تومسلمانوں کے قتل عام کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلا ہے،ہرروزبے انتہا مسلمان قتل کئے جارہے ہیں،برمی افواج اور بدھ مت کے شدت پسندوں سے تنگ آکر بنگلا دیش کی جانب فرار ہونے والے روہنگیا مسلمان بچوں کے سرقلم اور زندہ جلانے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ اس بات کا انکشاف عینی شاہدین نے کیا ہے۔دیگر ذرائع کے مطابق برما کی سرکاری افواج اوردیگر فورسز کی جانب سے مشرقی ریاست راکھین میں مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے جہاں نہتے اور بے بس مسلمان ملک کی ایک اقلیت میں شمار ہوتے ہیں۔ راکھین کی سرحد بنگلہ دیش سے ملتی ہے اور ظلم و ستم سے تنگ آکر اب تک 60 ہزار سے زائد افراد بنگلہ دیش کی سرحد تک پہنچ گئے ہیں۔دوسری جانب روہنگیا مسلمانوں نے ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت بھی شروع کردی ہے اور برمی افواج نے ایسے 400 مزاحمت کار ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے لیکن درحقیقت مرنے والوں میں عام شہریوں اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق برمی افواج کے تشدد اور ظلم سے بچنے والے افراد نے ہولناک داستانیں بیان کی ہیں۔ 41 سالہ عبدالرحمان نے بتایا کہ اس کے گائوں چوٹ پیون پر پانچ گھنٹے تک مسلسل حملہ کیا گیا۔ روہنگیا مردوں کو گھیر کر ایک جھونپڑی میں لے جایا گیا اور انہیں دائرے میں بٹھا کر آگ لگائی گئی جس میں عبدالرحمان کا بھائی بھی مارا گیا۔عبدالرحمان نے ایک ہولناک واقعہ بتایا کہ میرے دو بھتیجوں جن کی عمریں چھ اور نو برس تھیں، ان کے سر کاٹے گئے اور میری سالی کو گولی ماردی گئی۔ ہم نے بہت سی جلی، کٹی اور سوختہ لاشیں دیکھیں جنہیں بے دردی سے مارا گیا تھا۔27 سالہ سلطان احمد نے بتایا کہ بعض لوگوں کے سرقلم کردئیے گئے اور انہیں بے دردی سے کاٹا گیا اور میں اپنے گھرمیں چھپا تھا۔ اس کی اطلاع پاتے ہی مکان کے عقب سے فرار ہوگیا۔ دیگر گائوں میں بھی گلے کاٹنے اور ذبح کرنے کے واقعات نوٹ کئے گئے ہیں۔ان تمام واقعات کو ایک غیرسرکاری تنظیم فورٹیفائی رائٹس نے بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ سیٹلائٹ تصاویر سے عیاں ہے کہ ایک علاقے میں کم ازکم 700 گھروں کو نذرِ آتش کیا گیا ہے جس کے بعد لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ہیومن رائٹس واچ ایشیا کے سربراہ فِل رابرٹسن نے کہا کہ سیٹلائٹ تصاویر سے مسلم آبادی کی تباہی ظاہر ہے جو خود ہماری توقعات سے بھی بڑھ کر ہے۔ اب تک ہم نے 17 ایسے مقامات دریافت کئے ہیں جہاں آگ لگائی گئی ہے لیکن ضرورت ہے کہ فوری طور پر وہاں لوگوں کو بھیج کر صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔واضح رہے کہ آج سے ایک سال قبل دنیا بھر کے کئی نوبیل انعام یافتہ افراد اور ممتازشخصیات نے ایک کھلے خط کے تحت اقوامِ متحدہ اور دیگر اداروں سے روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کی اپیل کی تھی۔ ہفتے کے روز برطانوی وزیرِخارجہ بورس جانسن نے آنگ سان سوچی سے کہا ہے کہ وہ اس المیے کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔ دوسری جانب اسلامی ممالک میں ترکی پیش پیش ہے اور ترک وزیرِ خارجہ میولود چاوش اولو نے بنگلہ دیش سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی سرحدیں روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے کھول دے اور اس کے اخراجات ترک حکومت ادا کرے گی۔واضح رہے کہ 25 اگست کو راکھین میں روہنگیا سالویشن آرمی نے ایک فوجی اڈے پر حملہ کیا تھا جس کے بعد برمی افواج کے ظلم میں مزید شدت آگئی ہے اور اب وہ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنارہی ہے۔روہنگیا مسلمانوں کا المیہ عشروں پرانا ہے اور گزشتہ کئی برس میں یہ مزید شدت اختیار کرگیا ہے جبکہ ان کے ساتھ بدھ مذہب افراد کا ظلم اور امتیاز عروج پر ہے اور انہیں بنگالی کہہ کر بنگلہ دیش جانے کو کہا جاتا ہے لیکن بنگلہ دیش انہیں قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔دوسری جانب ترک صدر رجب طیب ایردوان نے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کونسل کشی قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جمہوریت کے نقاب میں اس نسل کشی پر خاموش رہنے والا ہر شخص اس قتل عام میں برابر کا شریک ہے۔



Read more

13 September 2017

خارجہ پالیسی پر نظرثانی کا اہم فیصلہ۔۔۔ضمیر نفیس

کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی جامد اور منجمد شے نہیں ہوتی بلکہ گردوپیش کی تبدیلیاں اس پر اثر انداز ہوتی ہیں چنانچہ اس میں ردوبدل ناگزیر ہو جاتا ہے سرد جنگ کے خاتمہ کے  بعد ملکوں کی صف بندیوں میں تبدیلی آئی جو ممالک اس سے پہلے سوویت یونین کے حلیف اور قریبی تھے انہوں نے امریکہ سے قریبی تعلقات استوار کرلئے اور جو قبل ازیں امریکی بلاک میں شامل تھے انہوں نے روس سے تعلقات پیدا کرلئے اس خطے میں بھارت سوویت  اتحادی تھا لیکن جب سرد جنگ کے خاتمہ کے  بعد سویت یونین مختلف ریاستوں میں تحلیل ہوا تو بھارت نے اپنے مفاد میں امریکہ سے تعلقات استوار کئے اسے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے سول ایٹمی تعاون کی ضرورت تھی جبکہ امریکہ کی نظر اس کی وسیع منڈی پر تھی امریکہ نے فوراً اس سے سول ایٹمی تعاون کا معاہدہ کیا جبکہ اپنے پرانے اتحادی پاکستان نے جب اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اسی نوعیت کے معاہدے کی خواہش کی تو امریکہ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ دیگر ذرائع سے اس کی توانائی کی ضروریات پوری کرے گا۔ اس کے بعد امریکہ نے بھارت کو فوجی سازوسامان کی فراہمی کے بھی معاہدے کئے امریکہ جو دنیا میں اسلحہ کی فروخت میں سب سے آگے ہے اسے بھارت کی صورت میں نہ صرف نیا گاہک ملا بلکہ چین کے مدمقابل کھڑا کرنے کے لئے ایک حاشیہ بردار بھی ملا۔پاکستان کے لئے مناسب تھا کہ سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد وہ بھی بتدریج  نئے راستے تلاش کرتا لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث اسکے لئے ممکن نہ تھا کہ فوری طور پر واشنٹگن سے فاصلے پیدا کرتا اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی افغان پالیسی کے تناظر میں جو کچھ کہا ہے اور جس دھمکی آمیز لہجے اور الزامات کا سہارا لیا ہے اس نے پاکستان کو خارجہ پالیسی پر نظرثانی کے لئے مجبورکر دیا ہے اگرچہ امریکہ کا رویہ پاکستان کے عوام کے لئے کبھی بھی اطمینان بخش نہیں رہا مگر حکومت نے عالمی مصلحتوں کے تحت اس کے ساتھ تعلقات استوار رکھے اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے برابری کے تعلقات کبھی نہیں رکھے بلکہ اسے اپنا تابع فرمان سمجھا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ دونوں اس خیال پر متفق ہیں کہ پاک امریکہ تعلقات پر نظرثانی کا وقت آپہنچا ہے چنانچہ اس ضمن میں اقدامات کئے جانے چاہئیں حکومت نے اس ضمن میں بڑے فیصلے نہ کئے کہ صدر ٹرمپ کی تقریر کے بعد وزیر خارجہ کے امریکہ کے دورے کو موخر کیا امریکہ کی نائب وزیر سے بھی ان کے دورہ پاکستان کے سلسلے میں معذرت کرلی اور کہا کہ بعدازاں شیڈول طے کرنے کے بعد ہی یہ دورہ ممکن ہوسکتا ہے اس کے ساتھ ہی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کے سلسلے میں پاکستانی سفیروں کی تینر وزہ کانفرنس طلب کرلی یہی نہیں حکومت نے صدر ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات اور ان کی دھمکیوں کو مستردکر دیا۔ اگرچہ بعدازاں امریکی سفیر نے صدر ٹرمپ کی افغان پالیسی کے بعض نکات پر وضاحتیں کرکے پاکستان کو مطمئن کرنے کی کوشش کی مگر ان وضاحتوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیاگیا۔ سفیروں کی کانفرنس نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے  جو سفارشات مرتب کیں ان کے بارے میں وزیراعظم نے غیر مبہم انداز میں کہاکہ ان کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی سے منظوری حاصل کی جائے گی اور انہیں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بھی پیش کیا جائے گا۔ یہ پہلا موقعہ ہوگا کہ  خارجہ  پالیسی کے خدوخال کا یقین کسی فرد واحد کے بجائے اجتماعی دانش کو بروئے کار لا کر کیا جارہا ہے حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات قائم رہیں گے تاہم پاکستان کی خودمختیار اور سلامتی کے مقاصد اور مفادات کو ہر صورت میں تحفظ دیا جائے گا دوست ممالک سے خطے کی صورتحال کے بارے میں مشاورت کا عمل بھی جاری ہے وزیر خارجہ نے سب سے پہلے چین کا دورہ کیا اس کے بعد ایران گئے ایران سے واپسی پر دوست ملک ترقی کے دورے پر روانہ ہوگئے' خطے کا استحکام اور افغانستان میں قیام امن کے لئے اقدامات ان کی ملاقاتوں کے اہم موضوعات ہیں یہ بھی ضروری ہے کہ خارجہ پالیسی پر نظرثانی کے حوالے سے سفارشات کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی اور پارلیمنٹ سے جلد منظوری حاصل کی جائے۔


Read more

13 September 2017

جماعت اسلامی کا احتساب مارچ اور راولپنڈی کے عوام کے انسانی حقوق

جماعت اسلامی نے لاہور سے احتساب مارچ شروع کیا اس سلسلے میں وارث خان مری روڈ راولپنڈی میں ایک جلسے کا اہتمام کیا گیا اگرچہ اعلان کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کو ساڑھے آٹھ بجے مری روڈ راولپنڈی کے اجتماع سے خطاب کرنا تھا مگر ان کا جلوس زیادہ تاخیر کے ساتھ مری روڈ پہنچا تاہم شام چار بجے سے ہی یہاں کرسیاں لگا کر روڈ کو یکطرفہ طور پر بند کر دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں راولپنڈی کے شہریوں کو جلسے کے اختتام تک مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اگر انتظامیہ نے مری روڈ پر جلسے کی اجازت دی ہے تو یقینا وزیراعلیٰ کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے اور اگر یہ سارا اہتمام کسی اجازت کے بغیر ہوا ہے تو انتظامیہ کو قانون کے تحت کارروائی کرنی چاہیے راولپنڈی  شہر اور چھائونی کے لاکھوں شہریوں کو مسلسل آٹھ گھنٹے تک ٹریفک کی جن مشکلات سے دوچار ہونا پڑا اگر ذمہ داری اور دانشمندی سے کام لیا جاتا تو انہیں ان مشکلات سے محفوظ رکھا جاسکتا تھا ہم حیران ہیں کہ جماعت اسلامی نے مری روڈ کو جلسے کے لئے کیوں منتخب کیا وہ ایک منظم جماعت ہے اور اس کی تنظمیں  پارٹی کے ایک حکم پر بھرپور ریلیوں کا اہتمام کر سکتی ہیں اسے اپنے جلسوں کی رونق کے لئے مصروف شاہراہوں پر ٹریفک بند کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس کے اس اقدام سے لاکھوں شہریوں عورتوں اور بچوں کو شدید پریشانی سے دوچار کیا اگر اجتماع کرنا ہی مقصود تھا تو فیض آباد کے قریب پریڈ گرائونڈ میں یہ شوق پورا کیا جاسکتا تھا۔ جہاں تک احتساب مارچ کے جواز کا معاملہ ہے سنجیدہ اور فہمیدہ حلقوں نے اسے ایک بلاجواز مہم جوئی سے تعبیر کیا ہے جماعت اسلامی پانامہ کیس کے معاملے میں سپریم کورٹ میں درخواست دہندہ اور مدعی تھی بلاشبہ اس طرح اس نے احتساب کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا اسے عدلیہ کے ذریعے اس باب میں مزید کردار ادا کرنا ہے اور پانامہ فہرست میں شامل  تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہے یہ کام جلوسوں اور مارچ کے ذریعے انجام نہیں دیاجاسکتا۔ اس ضمن میں یہ لازم ہے کہ ملک کی جو معروف شخصیات اس فہرست میں  شامل ہیں چاہے ان کا تعلق عدلیہ سے ہے سیاست' بیورو کریسی یا تاجر برادری سے اسے ان کے خلاف کارروائی کے لئے جدوجہد کرنی ہے۔ یہ جدوجہد مارچ یا جلسے کے ذریعے ممکن نہیں ہے بہت سے حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی نے احتساب مارچ کے ذریعے وقت اور سرمائے کا زیاں کیا ہے اسے احتساب کے ضمن میں پہلے کی طرح ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں' جماعت اسلامی کے امیر انسانی حقوق کا شدت سے ذکر کرتے ہیں لیکن  مری روڈ پر جلسے کا فیصلہ کرکے انہوں نے راولپنڈی کے لاکھوں شہریوں کے انسانی حقوق پامال کئے ہیں انہیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ان کی پارٹی نے اس ضمن میں غلط اقدام کیا ان کی پارٹی کو راولپنڈی کے عوام سے معذرت کرنی چاہیے۔


Read more

13 September 2017

''امریکی رویے دہشتگردی کیخلاف کوششوں کے لئے نقصان دہ ہیں''

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے رائٹرز سے انٹرویو کے دوران پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے حقیقت پسندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پر پابندیاں لگانے اور پاکستان کی فوجی امداد مزید کم کرنے سے امریکہ کا نقصان ہوگا اس سے دونوں ممالک کی عسکریت پسندی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچے گا  پاکستان کو چین اور روس سے مجبوراً ہتھیار خریدنے پڑیں گے وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس عہدیداروں پر پابندیاں انسداد دہشت گردی کی امریکی کاوشوں کے لئے مددگار ثابت نہیں ہوں گی ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کر رہے ہیں ہماری کاوشوں کو حقیر کرنے والے کسی بھی اقدام کا نقصان امریکی کوششوں کو ہوگا پاکستان کے فنڈز روکنے سے امریکہ اپنے انسداد دہشت گردی کے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا ہمیں جو کچھ بھی کرنا ہے اس کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہوگی فوجی امداد کم کرنے اور سستے ایف سولہ طیاروں کی فروخت روکنے پر پاکستان چین اور روس سے ہتھیار خریدنے پر مجبور  ہو جائے گا ہمیں اپنی دفاعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے دیگر آپشنز کی جانب دیکھنا پڑے گا انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مسائل کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دینا غیر منصفانہ ہوگا امریکہ کو دہشت گردی کے باعث پاکستان کے نقصانات اور 35لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کے پاکستانی کردار کا اعتراف کرنا چاہیے افغانستان کے دہشت گرد پاکستان میں سویلین اور فوجیوں پر حملے کرتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کئی ارب ڈالر کی لاگت سے 2500کلو میٹر سرحد پر باڑ لگا رہا ہے تاکہ صورتحال کو کنٹرول کیا جاسکے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پاس دوبارہ جانے سے بچنے کے لئے اپنے کرنٹ اکائونٹ پر موجود دبائو کو کم کرنے کے لئے بھی اقدامات کر رہا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پاکستان کی جو معاونت کی جاتی تھی وہ کسی قسم کی خصوصی مدد نہ تھی بلکہ دہشت گردی کو مشترکہ  کاذ قرار دیتے ہوئے یہ طے پایا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی  کے خلاف کارروائیوں کے اخراجات فراہم کئے جائیں گے اور یہ مسئلہ کئی برسوں سے جاری تھا اب بعض ادائیگیوں کے بعد 35کروڑ ڈالر کی رقم روک دی گئی ہے  اور یہ ڈرامہ رچایا جارہا ہے کہ امریکہ کے وزیر دفاع جب یہ سرٹیفکیٹ جاری کریں گے کہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی ہے  تب ہی یہ رقم جاری کی جائے گی جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ اس نے بلاتخصیص تمام دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ہے اور کسی گروپ کو تحفظ فراہم نہیں کیا مگر امریکہ نے مذکورہ رقم کو روکنے کے لئے یہ اعتراض کر دیا ہے اس ضمن میں صاف اور سیدھی بات یہی ہے کہ اگر امریکہ آئندہ کے لئے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے اخراجات ادا نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہی ہے کہ  اب اسے انسداد دہشت گردی کے کاذ سے کوئی سروکار نہیں ہے افغانستان میں مزید چار ہزار فوج بھیجنے کا اعلان بھی یہی واضح کرتا ہے جہاں ایک لاکھ فوج امن قائم نہ کر سکی وہاں دس بارہ ہزار امریکی فوج کیسے کوئی معجزہ دکھا سکے گی' وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بجا طور پر کہا ہے کہ اگر امریکہ کا رویہ یہی رہا تو انسداد دہشت گردی کے اس کے کاذ کو شدید نقصان پہنچے گا پاکستان سے فوجی تعاون پر امریکی پابندی پاکستان کے لئے کسی صورت پریشان کن نہیں ہوسکتی اسے بہرصورت اپنی دفاعی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے اگر یہ ضرورتیں امریکہ پوری نہیں کر ے گا تو پاکستان کسی دوسرے ملک سے خریداری کر سکتا ہے اس کا دیرینہ دوست چین یہ ضرورت پوری کر سکتا ہے جبکہ روس بھی اب پاکستان کے دوستوں میں شامل ہے اس سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے ہماری دانست میں امریکہ سے دفاعی سازوسامان یا طیاروں کی خریداری  مسئلہ نہیں  اہم مسئلہ دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو جاری رکھنے اور انہیں نتیجہ خیز بنانے کا ہے افغانستان کا امن مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے اس حقیقت کو جب تک امریکہ تسلیم نہیں کرے گا بہتری کی جانب پیش رفت نہیں ہوسکتی اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے پہلے اسے یہ بات بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ طاقت کے استعمال سے وہ امن بحال کرنے میں ناکام رہا ہے۔


Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30