Get Adobe Flash player

September 2017

23 September 2017

23 September 2017

23 September 2017

23 September 2017

نوازشریف کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار ہوگئی

حکومت قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی الیکشن اصلاحات بل کی شق 203 منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی ہے جس کے بعد اب نوازشریف کے دوبارہ پارٹی صدر بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔حکومت الیکشن اصلاحات بل کی شق 203 قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی ہے اور اب نوازشریف کو ایک بار پھر پارٹی صدر بننے کا موقع مل سکتا ہے۔ انتخابی اصلاحات بل 2017 کی شق 203 پر پیپلزپارٹی کی جانب سے اعتزاز احسن نے ترمیم کی تجویز دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ جو قومی اسمبلی کا ممبر نہیں رہتا وہ پارٹی کا سربراہ بھی نہیں بن سکتا۔شق 203 میں ترمیم پر پریذائڈنگ افسر نے ووٹنگ کرائی اور بل کی حمایت میں 38 اور مخالفت میں 37 ووٹ آئے، اس طرح حکومت صرف ایک ووٹ سے شق منظور کرانے میں کامیاب ہوگئی اور اعتزاز احسن  کی شق 203 میں ترمیم صرف ایک ووٹ سے مسترد ہوگئی۔بل کی منظوری کے بعد مسلم لیگ (ن)کے رہنما مشاہداللہ خان کا کہنا تھا کہ شق 203 کی منظوری سے نوازشریف کے دوبارہ صدر بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے بلکہ اب یہ سمجھا جائے کہ نوازشریف دوبارہ صدر بن چکے ہیں۔دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے بعد سینٹ سے بھی انتخابی اصلاحات کا بِل منظور ہوگیا، اب کوئی سیاستدان اپنی پارٹی کی سربراہی سے پارٹی کی مرضی کے بغیر جبرا نہیں ہٹایا جاسکتا جب کہ این اے 120 میں کامیابی کی بعد نواز شریف کو سیاست سے بے دخل کرنے کی سازش پھرناکام ہوگئی ہے اور نواز شریف ہی مسلم لیگ (ن)کے صدر رہیں گے۔سعد رفیق نے کہا کہ آج سینٹ میں پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کا کردار شرمناک رہا، سیاسی مخالفین مخاصمت میں اندھے ھو چکے، جس ڈالی پر بیٹھے ہیں اسے ہی کاٹ رہے ہیں جب کہ جس قانونی ترمیم کے بعد جناب نواز شریف کے پارٹی سربراہ رہنے کی راہ ہموار ھوئی ہے، آنے والے دنوں میں یہی ترمیم جناب عمران خان کو بچانے کے کام آئے گی۔ انہوں نے قانون سازی میں تعاون کرنے پر تمام اتحادی جماعتوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔



Read more

پرویز مشرف اتنے ہی بہادر ہیں تو آکر عدالتوں کا سامنا کریں، آصف زرداری

پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پرویز مشرف اتنے ہی بہادر ہیں تو ملک آکر عدالتوں کا سامنا کریں۔کمالیہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہمارے ملک میں الزام لگانے والے پر الزام لگا دینا ہی بہترین دفاع مانا جاتا ہے، پرویزمشرف اتنے ہی بہادر ہیں تو عدالت آئیں اور پیش ہوں، اگر ان کی کمر میں اتنی ہی تکلیف ہے تو پھر ناچ گانے کیسے کررہے ہیں، ہم مشرف کے خلاف عدالت گئے ہیں تو اب ان کو یہ الزام یاد آیا ہے، مرتضی بھٹو کے قتل کے وقت بھی مجھ پر اور بی بی پر الزام لگایا گیا تھا، بینظیر نے جواب میں کہا کہ ایک بھٹو کو قتل اور دوسرے بھٹو کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ آصف زرداری کا نااہل ہونے والے وزیر اعظم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے کہنا تھا کہ میں نے کہا تھا کہ چار سال انہیں حکومت کرنے دوں گا پھر حساب لوں گا، تاریخ نے ثابت کردیا کہ ان کو نہ حکومت کرنی آتی ہے نہ ہی وہ معاملات سنبھال سکتے ہیں، یہ لوگ کہیں گے کہ چونکہ ہمیں نکالا گیا اس لیے معیشت کمزور ہورہی ہے، یہ لوگ بھارتی لابی سے ملے ہوئے ہیں اور کاروباری مفاد دیکھ کر سوچتے ہیں،  وزیر خزانہ اسحاق ڈار پاکستان کو زخمی حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگئے، لاقانونیت کی وجہ سے معاشی زبوں حالی ہے، صرف روڈ بنانے سے کچھ نہیں ہوتا۔آصف زرداری نے سینیٹ میں انتخابی اصلاحات کی شق منظور کرانے میں (ن)لیگ کا ساتھ دینے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختون خوا میں کوئی ترقی نظر نہیں آتی۔ عمران خان کے سیاسی مستقبل سے متعلق سوال کے جواب میں آصف زرداری نے کہا کہ عمران خان کو کرکٹ ٹیم کا کوچ بنتے دیکھ رہا ہوں۔


Read more

بھارتی اشتعال انگیزی؛ پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کا ہاٹ لائن رابطہ

آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹرجنرل ملٹری آپریشز(ڈی جی ایم اوز) کا خصوصی ہاٹ لائن رابطہ ہوا ہے جس میں پاکستان نے ورکنگ بانڈی پر پاکستانی شہریوں کو بھارت کی جانب سے نشانہ بنانے کا معاملہ اٹھایا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کے مطابق پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کا خصوصی ہات لائن رابطہ ہوا۔ پاکستانی ڈی جی ایم او نے ورکنگ بانڈری پر پاکستانی شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا معاملہ اٹھایا۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی ڈی جی ایم او کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کی فائرنگ سے 6 معصوم شہری شہید جب کہ 26 افراد زخمی ہوئے بھارتی فائرنگ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور یہ خلاف ورزی موجودہ سمجھوتوں کو واضح طور پر نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔پاکستانی ڈی جی ایم او نے بھارتی ہم منصب کو  پاک فوج کے غیر متزلزل عزم سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج پاکستان کی آبادی کی سلامتی کو یقینی بنائے گی اور کسی بھی قسم کی جارحیت کے مقابلے کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جاتے رہیں گے۔

Read more

آرمی چیف سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات، دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی اور علاقائی سیکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کی جانب سے جاری بیان کے مطابق برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو نے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملاقات کی جس میں انہوں نے باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سیکیورٹی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔برطانوی ہائی کمشنر نے آرمی چیف سے ملاقات میں خطے میں امن واستحکام کے لیے پاکستانی کوششوں کو سراہا۔

Read more

پاکستانی طالبہ نے پارکنسن مریضوں کیلیے ذہین چھڑی تیار کرلی

برسٹل میں یونیورسٹی آف ویسٹ انگلینڈ (یوڈبلیو ای)میں زیرِ تعلیم پاکستان کی ہونہار طالبہ نیہا چوہدری نے پارکنسن کے مریضوں کیلیے ایک اسمارٹ چھڑی بنائی ہے جس سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد استفادہ کرسکتے ہیں۔تفصیل کیمطابق نیہا چوہدری کے دادا پارکنسن کے مرض میں مبتلا تھے اور گزشتہ سات برس تک ان کے والد کے جوڑ سخت ہوجاتے تھے جس سے وہ بار بار گر کر زخمی ہوجاتے تھے۔ اسی مناسبت سے یہ چھڑی مریض کے جوڑ میں اکڑن اور سختی محسوس کرکے ارتعاش پیدا کرتی ہے اور مریض دوبارہ بحال ہو کر پھر سے چلنے لگتا ہے۔نیہا نے  یو ڈبلیو ای میں گریجویشن کے دوران یہ چھڑی تیار کی تھی جس سے خود برطانیہ کے 125000 پارکنسن مریض استفادہ کرسکتے ہیں اور یہ اسٹک عضلات اچانک جامد ہوجانے پر تھرتھراہٹ پیدا کرکے مریض کو دوبارہ چلنے کے قابل بناتی ہے۔اس اہم ایجاد کو برطانیہ میں ہزاروں افراد پر آزمایا جاچکا ہے اور خود برطانوی نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) اور پارکنسن کی تنظیم نے اس میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ اب نیہا نے ایک کمپنی کی بنیاد رکھی ہے جسے واک ٹو بیٹ کا نام دیا گیا ہے۔ نیہا نے بتایا کہ جب یہ چھڑی مریضوں کو دی گئی تو ان کے چہرے پر مسکراہٹ نمایاں تھی اور اکثریت نے کہا کہ یہ چھڑی واقعی کام کی ہے۔نیہا چوہدری اپنی انقلابی پارکنسن چھڑی کے ساتھ۔ فوٹو: بشکریہ یونیورسٹی آف ویسٹ انگلینڈ برسٹلاس ایجاد کی کامیابی ہی میری سب سے بڑی خوشی ہے۔ پارکنسن کا کوئی علاج نہیں کیونکہ دوائیں صرف اس کیفیت کو ٹال دیتی ہیں جبکہ مریض چلتے چلتے گرجاتا ہے کیونکہ اس کے اعضا اور پٹھے منجمد ہوجاتے ہیں، نیہا نے بتایا۔ انہوں نے اس کام کو 2014 میں اپنے فائنل ایئر پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا تھا۔پلاسٹک سے بنی ہلکی پھلکی چھڑی میں اعلی ٹیکنالوجی کے تحت سینسر لگائے گئے ہیں جو چلنے والے کے قدم رکنے کو فوری طور پر محسوس کرتے ہیں۔ اس کا احساس کرتے ہی چھڑی خودکار اندازمیں ارتعاش خارج کرتی ہے اور مریض دوبارہ چلنے کے قابل ہوجاتا ہے۔اس چھڑی کا ڈیزائن سادہ اور روایتی رکھا گیا ہے تاکہ لوگ مریض اور اس کی تکلیف کی جانب زیادہ متوجہ نہ ہوسکیں۔ نیہا نے بتایا کہ انہوں نے کئی ماہ تک مریضوں سے ملاقات کی اور اسپتالوں کا دورہ کرکے ڈاکٹروں سے بھی مشورہ لیا۔نیہا چوہدری اب ماسٹرز کے آخری مراحل میں ہیں تاہم انہوں نے واک ٹو بیٹ کمپنی کا بہت سا کام برسٹل کی روبوٹکس لیبارٹری میں انجام دیا ہے۔ البتہ ان کے ساتھ ایک ناخوشگوار واقعہ اس وقت پیش آیا جب ان کے کاغذات مکمل نہ ہونے پر انہیں 14 روز میں برطانیہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ اس وقت تک وہ اپنے پروجیکٹ کیلیے ایک لاکھ برطانوی پونڈ کے بقدر رقم جمع کرچکی تھیں۔ تاہم جلد ہی برطانوی محکمہ داخلہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے نیہا کو برطانیہ میں رہنے کی اجازت دیدی ہے۔

Read more

سرکاری سطح پر مفت بون میرو ٹرانسپلانٹ شروع

حکومت سندھ نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز سینٹر میں خون کے کینسر اورتھیلے سیمیا میں مبتلا بچوں کے سب سے مہنگے علاج بون میروٹرانسپلانٹ کومفت کردیا اورگزشتہ روزسرکاری خرچ پر خون کے کینسر میں مبتلا 17سالہ نوجوان کا پہلا بون میرو ٹرانسپلانٹ(ہڈیوں کے گودے کی منتقلی)کردی گئی۔حکومت سندھ نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیزکوخون کے مہلک امراض کے علاج کیلیے سرکاری سطح پرتسلیم کرلیا،ماہرین کے مطابق خون کے کینسرکاکامیاب علاج بون میروٹرانسپلانٹ (ہڈیوں کے گودے)کی منتقلی ہی ہوتا ہے نجی اسپتالوں میں اس علاج پر 25 لاکھ روپے سے زائد اخراجات آتے ہیں جو اب این آئی بی ڈی میں مستحق افرادکیلیے مفت کردیاگیا ہے۔علاوہ ازیں حکومت سندھ نے آئندہ مالی سال میں این آئی بی ڈی کو سالانہ گرانٹ دینے کا بھی فیصلہ کیا،معلوم ہوا ہے کہ حکومت سندھ نے این آئی بی ڈی کو ایس آئی یوٹی اورانڈس اسپتال کی طرز پر سالانہ سرکاری گرانٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے، این آئی بی ڈی کے سربراہ ڈاکٹر طاہر شمسی نے بتایاکہ حکومت سندھ کی جانب سے اسپتال میں خون کے کینسراورتھیلے سیمیاکے مرض میں مبتلا بچوں کے علاج کیلیے گرانٹ دیدی گئی ہے جس کے بعد بدھ کو خون کے کینسر اے پیلاسٹک اینیمیاکے مرض میں مبتلا 17سالہ نوجوان کاپہلا سرکاری طورپر بون میروکیاگیاجوکامیاب رہا مریض روبصحت ہے،اسپتال میں خون کے کینسر اورتھیلے سیمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کو بون میروکے لیے منتخب کرنے کیلیے ماہرین پر مشتمل کمیٹی قائم کردی ہے،انھوں نے کہاکہ حکومت سندھ کے انقلابی اقدام سے خون کے کینسر اورتھیلے سیمیا میں مبتلا بچوں کے والدین کیلیے بڑی خوشخبری ہے۔انھوں نے کہا کہ ان دونوں مہلک امراض میں مبتلا افراد وبچوں کی زندگیاں بچائی جاسکیں گی ، ڈاکٹر طاہر شمسی نے حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ یہ خوش آئندبات ہے کہ حکومت سندھ نے این آئی بی ڈی کو خون کے کینسر اور بون میروکے علاج کیلیے سرکاری سطح پر تسلیم کر لیا اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سالانہ گرانٹ بھی مختص کی جائے گی، انھوں نے بتایا کہ حکومت سندھ کی جانب سے این آئی بی ڈی کو5سوبستروں پر مشتمل خون کے کینسر اورخون کی بیماریوںکے علاج کیلیے جدید ترین اسپتال بھی قائم کرنے کیا جارہا ہے جس کے بعد صوبہ سندھ واحد صوبہ ہوگا جہاں خون کے کینسراور خون کی دیگر بیماریوں کے علاج کی تمام سہولتیں مہیا ہوسکیں گی ، ڈاکٹر طاہر شمسی نے بتایا کہ حکومت پاکستان اورحکومت پنجاب نے بھی این آئی بی ڈی کولاہور میں چلڈرن اسپتال میں بون میروٹرانسپلانٹ سینٹر قائم کیا جہاں پہلے 2سرکاری بون میروبدھ کے روزکیے گئے،انھوں نے بتایا کہ اس سے قبل بیت المال کی مدد سے بھی مستحق افراد کوخون کے کینسرکے علاج کی سہولتیں مہیا کی جارہی تھیں ۔انھوں نے حکومت سندھ اور حکومت پنجاب کا شکریہ بھی ادا کیا اورکہاکہ حکومت کے اس اقدام سے خون کے کینسر کے مریضوں کو پہلی مرتبہ سرکاری علاج کی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں ،خون کے کینسر کا علاج پاکستان میں نجی سطح پر 25لاکھ سے 30لاکھ روپے میں ہوتا ہے تاہم حکومت سندھ کی جانب سے واضح کہ حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب نے گزشتہ دو سال سے علاج کی مدد میں امداد فراہم کررہی ہے، حکومت سندھ کی جانب سے مستقبل میں این آئی بی ڈی کو 5سو بستروں پر مشمل خون کی بیماریوںکے علاج کیلیے اسپتال اور تمام وسائل پر مہیا کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی،واضح رہے کہ این آئی بی ڈی 10سال سے اپنی مدد آپ کے تحت خون کے کینسر اور تھیلے سیمیا کے بچوں کا ہزاروں افرادکے علاج کی سہولتیں مہیاکررہا ہے،اب حکومتی سرپرستی سے این آئی بی ڈی میں خون کے کینسر کے مریضوں کے علاج کا دائرہ مزید وسیع کردیاجائے گا،حکومت پنجاب نے این آئی بی ڈی کی مدد سے لاہورکے چلڈرن اسپتال میں بون میرو ٹرانسپلانٹ بھی شروع کر دیا، ملتان اور بہاولپورمیں بھی بی ایم ٹی سینٹرز قائم کرنے کی ذمے داری بھی این آئی بی ڈی کو دیدی ہے۔


Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30