Get Adobe Flash player

September 2017

10 September 2017

عوام نے نوازشریف کی نااہلی کا عدالتی فیصلہ مسترد کر دیا، مریم نواز

مریم نواز کا کہنا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد نے نوازشریف کی نااہلی کا عدالتی فیصلہ مسترد کر دیا ہے۔حلقہ این اے 120 میں انتخابی مہم کے دوران ماڈل ٹان میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ لاہور وکلا کنونشن تاریخ ساز تھا جس پر شرکا اور منتظمین کو مبارکباد دیتی ہوں، وکلا کنونشن سے پوری دنیا اور باالخصوص مخالفین کو مضبوط پیغام گیا جب کہ کنونشن میں وکلا کی بڑی تعداد کی شرکت نے ہمیں حوصلہ دیا۔مریم نواز نے کہا کہ کنونشن اتنا بھرپور تھا کہ مخالفین کو کہنا پڑا کہ لیگی ورکرز کو کالے کوٹ پہنچائے گئے جب کہ عوام کی بڑی تعداد نے نوازشریف کی نااہلی کا عدالتی فیصلہ مسترد کر دیا ہے۔


Read more

صدر ممنون سے ترک ہم منصب کی ملاقات، افغانستان و میانمار کی صورتحال پر گفتگو

صدرمملکت ممنون حسین اور ترک صدر رجب طیب اردگان نے آستانہ میں او آئی سی اجلاس کے موقع پر ملاقات کی۔دفتر خارجہ کے مطابق سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لئے صدر مملکت ممنون حسین ان دنوں قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں موجود ہیں جہاں انہوں نے کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔ آستانہ میں صدر مملکت ممنون حسین کی ترک صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ ملاقات ہوئی جس میں دونوں سربراہان نے پاک ترک دیرینہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار اور تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا اعادہ کیا۔دفترخارجہ کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ امور، خطے کی موجودہ صورتحال بالخصوص افغانستان اور میانمار میں پیدا ہونے والے حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں پاکستان کے پرامن کردار کو سراہتے ہوئے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ترکی افغانستان میں امن کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔


Read more

کراچی کے ساحل کی خونی موجیں 3 ماہ میں 55 افراد کو نگل گئیں

شہر قائد میں تین ماہ کے دوران 55 افراد سمندر کی بے رحم لہروں کی نذر ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق کراچی کے ساحلی علاقوں میں 3 ماہ کے دوران سمندر میں ڈوب کر جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 55 ہوگئی ہے۔ ایدھی ویلفیئر کے مطابق ہاکس بے کے سمندر میں سب سے زیادہ 40 شہری ڈوبے، جب کہ منوڑا، حب ڈیم اور گڈانی میں 15 افراد سمندر کی لہروں کی نظر ہوگئے۔ایدھی کے لائف گارڈز نے امدادی کارروائیوں کے دوران 14 شہریوں کو ڈوبنے سے بچایا۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ہی ہاکس بے پر سعودی ڈپٹی قونصل جنرل کے بیٹے سمیت 3 افراد نہاتے ہوئے ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے، جب کہ 2014 میں کلفٹن کے ساحل پر عید کے روز 60 افراد ڈوب گئے تھے۔


Read more

متحدہ ریاست ہائے امریکہ ۔۔۔اطہر مسعود وانی

گزشتہ سے پیوستہ
امریکہ کے دو بر اعظموں کی دریافت:اسی صورتحال کے تناظر میں یورپ کے بادشاہ اور ملکہ اپنی طاقت میں اضافے کے لئے نئے علاقے دریافت کرنا چاہتے تھے۔کچھ افریقہ کی طرف گئے تا کہ وہاں سے انڈیا کا راستہ تلاش کیا جاسکے،جبکہ سپین میں رہنے والا کرسٹوفر کولمبس ایشیاء کے ساتھ تجارت کا نیا راستہ ڈھونڈنا چاہتا تھا۔ کولمبس مغرب کی طرف سے مشرق کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش میں تھا۔سمندری سفر کے ماہرکولمبس کا تعلق اٹلی سے تھا ۔اس تلاش مہم کے اخراجات شاہی طور پر اٹھائے جانے کی پانچ سال کی کوشش کے بعدسپین کی ملکہ ایزابیلا نے اس کے منصوبے کو قبول کیا۔اس نے تین جہازوں کا خرچہ برداشت کیا۔کولمبس کی اس مہم کے لئے آدمی میسر نہ تھے،لہذا پہلے پہل 87آدمی تیار کئے گئے جن میں ان پڑھ،جرائم پیشہ ،قاتل شامل تھے جو موت کی جگہ سمندر کا سفر اختیار کرنے پر رضامند ہوئے۔ان میں کئی سابق فوجی اورسور پالنے والے بھی شامل تھے۔12 اکتوبر1492کو کولمبس براعظم امریکہ کی سرزمین تک پہنچا۔تینوں جہاز تین ماہ تک وہاں لنگر انداز رہے اور وہ علاقے کی چھان بین کرتے رہے۔یہ انڈیا نہیں بلکہ کریبین کے ساحل تھے،سپین کے لئے انہوں نے نئی زمین دریافت کر لی تھی، لباس اور لوہے کے ہتھیاروں والے انسان مقامی افراد کے لئے حیران کن تھے۔کولمبس جہاں پہنچا،اس کے بائیں طرف براعظم جنوبی امریکہ(برازیل،ارجنٹینا،پیرا گوئے،یوروگوئے پیرو،ایکوڈور،کولمبیا،وینز ویلا وغیرہ )اور دائیں طرف شمالی امریکہ (کینڈا،امریکہ)موجودہ امریکہ کے تین حصے ،مغرب ،جس میں واشنگٹن،کیلیفورنیا سمیت 12ریاستیں،مڈ ویسٹ اور شمال مشرق میں16ریاستیں اور جنوب میں16۔کولمبس کی سربراہی میں 1942کے موسم گرما میں 69دن کے سفر کے بعد تین بحری جہاز امریکہ پہنچے۔یورپی ملکوں کی طرف سے آباد کار امریکہ پہنچے لگے ،وہ دریافت کے ساتھ ساتھ مقامی پسماندہ انسانی آبادیوں کا صفایا بھی کرتے گئے۔مقامی قدرتی وسائل ڈھونڈے اس سے امریکہ ایک نئے روپ میں سامنے آنے لگا۔یہ صرف پانچ سو سال پہلے کی بات ہے،جب امریکی علاقوں میں پسماندہ انسان تو بستے تھے لیکن دنیا کے دیگر خطوں کی ترقی کے مقابلے میں وہاں کچھ نہیں تھا۔قدرتی ماحول تھا،جانوروں،آبی حیات کی ایسی قسمیں ،جو دنیا میں کہیں اور نہیں پائی جاتی تھیں،چھ لاکھ میل پر محیط سمندری ساحل صاف پانی سے ،یہاں سے آگے ہر سمت گھنے جنگلات ۔ شمالی امریکہ کے لاکھوں کی تعداد میںدینڈئیر کے غول، اینٹی لوک،بائسن، اور گرزلی،ریچھ، مرغابیوں سمیت ہزاروں قسموں کے لا کھوں پرندے۔امریکہ میں کئی ایسی کئی قدیم تہذیبوںکے نشانات بھی ملے ہیں جہاں لوگ اچھے ،بڑی اور مضبوط عمارات اور شہروں کی شکل میں رہتے تھے۔1491 میں امریکہ میں انسانی تہذیب کی پانچ چھ قسم کی آبادیاں تھیں۔دس کروڑکی آبادی تھی،ان میں شکاری،گائوں،مچھیرے،کاشت کار،بادشاہ،غلام اور فوجی شامل تھے۔چھ ہزار سال سے امریکہ میں میں مکئی کی کاشت کی جاتی ہے ۔دنیا کی ایک قدیم اور مشہور منظم انکا تہذیب بھی امریکہ کے پہاڑوںمیں ہی واقع ہے۔یورپ میں امریکہ کی کشش اور یورپیئنز کی آمد:1493 میں سپینش ملکہ کو کولمبس کے خط سے اس نئی دریافت کا علم ہوا۔کولمبس نے لکھا کہ اس نے جنت جیسی جگہ دریافت کی ہے جو سپین کے لئے خدا کے نام پر عیسائیت کے لئے فتح کی گئی۔وہاں کئی معدنیات اور سونے کی موجودگی کی بھی اطلاع دی گئی۔تاجروں،فوجیوں اور مذہبی مسافروں کے ذریعے ہفتوں ،مہینوں میں کولمبس کی نئی دریافت اور شاندار ذرائع کی اطلاعات یورپ میں پھیل گئیں۔کولمبس کے ملکہ کے نام خط کے مختلف زبانوں میں ترجمے ہوئے اور وسیع پیمانے پر اس کی فروخت ہوئی۔اب کئی یورپی ملک اس نئے دریافت کے خزانے سے اپنا حصہ چاہتے تھے۔چند ماہ بعد سپین کے بے زمین،بے کار لوگ اور سور پالنے والے ہزاروں کی تعداد میں کولمبس کے دریافت کردہ علاقے کی طرف جانے لگے۔ 1413 میں 17بحری جہازوں پر 12سو اسپین کے باشندے کریبین کے ساحل پر پہنچے اور نئی دریافتوں کی تلاش میں مختلف اطراف کی طرف چل پڑے،یہ امریکہ کو فتح کرنے کی مہم تھی،ان کے پاس ہتھیار وں کے علاوہ گھوڑے تھے جو امریکہ میں وجود نہیں رکھتے تھے،گھوڑوں کی وجہ سے ہی سپین کے لوگوں نے چند ہی عشروں میں امریکہ کے تمام علاقے چھان ڈالے،ان چالیس سالوں میں سپینی لوگ جہاں گئے انہوں نے مقامی لوگوں کو مارا اور ان کی بستیوں کو تباہ کیا،انہوں نے زمینوں کے انتظام پر توجہ نہ دی۔سپینی لوگوں کے لائے گھوڑے امریکہ کے نئے ماحول میں تیزی سے پروان چڑھنے لگے۔ سپینی لوگوں کے چند گھوڑے جنگلی ہو گئے اور ان کی آبادی تیزی سے بڑھنے لگی۔ان کے ملاپ سے گھوڑوں کی نئی نسل تیار ہوئی اورشمالی امریکہ ان جنگلی گھوڑوں افرائش کو راس آیا ۔تین سو سال میں وہ وسطی امریکہ کے میدانوں اور چٹانی پہاڑی علاقوں میںبھی پہنچ گئے۔18ویں صدی کے اختتام تک وہ کینیڈا تک پہنچ گئے۔150سال میں ان جنگلی گھوڑوں کی تعداد شمالی امریکہ میں 70لاکھ سے زیادہ ہو گئی۔امریکہ کے مقامی قبائل کے لئے یہ جنگلی گھوڑے ایک بڑی نعمت ثابت ہوئے اور وہ لڑائیوں،شکار اور سفر کے لئے ان گھوڑوں کا استعمال کرنے لگے۔ یہ گھوڑے ان قبائل کی مقامی ثقافت کا حصہ بن گئے۔جب سپینی گروہ جنوبی اوروسطی امریکہ کو فتح کر رہے تھے،ان میں سے ایک سپینی گروہ نے شمال کا رخ کیا۔فرنانڈو ڈیسوٹو کی سربراہی میں ایک سپینی گروہ نے فلوریڈا سے میسپی دریا کے اوپر کے حصے کی طرف کشتیوں میں سفر شروع کیا۔وہ سونے کی تلاش میں تھے۔وہ اپنے ساتھ خوراک کے لئے سور لائے تھے جو اس علاقے میں تیزی سے اپنی آبادی میں اضافہ کرنے لگے۔انہوں نے جنگلوں میں سفر کیا،ان سوروں کی وجہ سے ہی وہ زندہ رہے۔بعد میں آنے والوں کو بھی ان سوروں سے خوراک حاصل ہوئی۔تاہم شمالی امریکہ کے مقامی قبائل کے لئے یہ سور اچھے ثابت نہ ہوئے۔وہ ان کی کاشت کئے گئے مکئی کے دانے کھیتوں سے کھا جاتے تھے۔مقامی ماحول میں سور بڑے اور خطرناک ہو گئے اور مقامی قبائل کے لئے خوف کا باعث بنے۔کولمبس اپنے دوسرے سفر میں گھوڑوں کے علاوہ اپنے ساتھ 8سور لایا تھا۔20سال میں صرف کیوبا میں 30ہزار سور ہو گئے۔ایموزون اور شمالی امریکہ میں سوروں کی تعداد تیزی سے بڑھتی گئی۔امریکہ کی فتح میں گھوڑوں اور سور کے علاوہ عیسائی مبلغین نے بھی اہم کردار ادا کیا۔سپینی عیسائی مبلغین نے امریکہ کے ان علاقوں میں وسیع پیمانے پر بیماری پھیلنے کی اطلاعات دیں،جس سے بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہو رہے تھے،اور بیماری مسلسل پھیل رہی تھی،اس بیماری نے امریکہ کے دونوں بر اعظموں کو متاثر کیا۔بہت بڑی تعداد میںمقامی لوگ چیچک سے ہلاک ہو گئے۔ان بیماریوں پر آج بھی تحقیق جاری ہے۔16ویں صدی میں چیچک نے امریکہ کے رہنے والے انسانوں کو شدید متاثر کیا۔چیچک کی بیماری یورپ سے امریکہ پہنچی۔50سے 90فیصد مقامی آبادی چیچک کی بیماری سے ختم ہو گئی،کولمبس کی دریافت کے پچاس سال میں سپینی لوگوں کو انسانی آبادیاں نہیں ملیں،چیچک سے اکثر مقامی لوگ مر چکے تھے،انہیں وسیع علاقے جنگلات کے ملے،ان جنگلات میں ہزاروں اقسام کے جانور پرندے یورپی افراد نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔سپینی مشنریز نے رپورٹ دی کہ ایسے جانور جن کے کوئی نام نہیں ،ان کے بارے میں دنیا کی کسی قوم کو علم نہیں ہے۔یہاں قدرت جنگلی حیات کی نئی اقسام پال رہی تھی۔سپینی لوگوں نے مختلف قسم کے جانوروں کو بحری جہازوں کے ذریعے سپین بھیجنا شروع کیا،اس کے ساتھ مکئی، ٹماٹر اور آلووغیرہ بھی۔یہ چیزیں یورپ کے لئے اجنبی تھیں۔ان چیزوں کے ساتھ امریکہ سے چند بیماریاں بھی یورپ پہنچیں جو یورپ میں موت کا ذریعہ بن گئیں۔یہ بیماریاں یورپ کے دیہاتوں،قصبوں،شہروں میں تیزی سے پھیلنے لگیں۔بیماری کے شکار پاگل ہو جاتے تھے اور مرنے میں بہت وقت لگتا تھا۔یہ بیماری فرنچ پاکس،یا سپینش بخار کہلائی ۔یورپ کو معلوم نہ تھا کہ یہ بیماری امریکہ سے آئی ہے۔(جاری ہے)

Read more

10 September 2017

برمامیں 31ارب ڈالرز ۔۔۔شہزاد سلیم عباسی

برما میں جہاں مسلمانوں کی چند آبادیاں ہیںیہ علاقہ بنگلہ دیش سے ملتا ہے ۔برما کے ساتھ بنگلہ دیش اور بھارت کا بارڈر باالترتیب 271اور1643 کلومیٹر ہے ۔ اس قدر وسیع بارڈر کے ہوتے ہوئے برما کے مظلوم روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام 24کروڑ بھارتیوں اور 16کروڑ بنگالیوں کو ڈرپوک اور بے ضمیر کہنے کے لیے کافی ہے۔ برمی مسلمان اقلیت میں ہونے کی وجہ سے ظلم و استبداد کا شکار ہیں۔ 60کی دہائی میں برمی حکومت نے برمی مسلمانوں کو بنگالی سمجھ کر نکالا اور اس وقت کے پاکستانی صدر ایوب خان نے روہنگیا مسلمانوں کو مشرقی پاکستان میں پناہ دی ۔ 80ء کی دہائی میں کچھ برمی کراچی آباد ہوئے اور ایک برما'کالونی نامی بستی بھی آباد ہوئی جو آج بھی موجود ہے۔ 90ء کی دہائی میں بھی برمی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کیا ۔ پچھلے دوسال سے برما میں جو ظلم و ستم جاری ہے اس میں اور پرانی وحشیانہ داستانوں میں فرق ہے ۔ آج جو ناقابل برداشت زیادتیاں ہورہی ہیں اس میں حکومتی ایجنسیوں کیساتھ ساتھ بدھ مت کے کچھ تشدد پسند گروپس بھی شامل ہیں جو مسلمان کشی کی صورت میں بظاہر اسلام پسندوں کی لاشوں کو کاٹ رہے ہیں، بے حرمتی کررہے ہیں اور جلا رہے ہیں۔بقول شاعر: کعبے کی قسم ، عرش پہ محشر کی گھڑی تھی!  اک طفل کی جاں، موج تلاطم سے لڑی تھی۔کل شام سے جنت میں بھی ماتم کا سماں ہے۔پا نی کے کنارے پہ کوئی لاش پڑی تھی۔  اقوام متحدہ ، پاکستان ،ترکی ، انڈونیشیااور ایران کی طرف سے احتجاج کے باوجود مسلمانوں کو بے گھر کر کے انکی قیمتی املاک پر قبضہ کیا جارہا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق برمی حکومت مسلمانوں کی زمینوں میں قیمتی دھاتوں کی وجہ سے ان پر ظلم روا رکھے ہوئے ہے جس میں ایک بڑے ملک کی بھی برسوں سے دلچسپی ہے۔ صحیح معنوں میں سرفہرست ترکی ہے جو روہنگیا مسلمانوں کو گلے لگا رہاہے جبکہ بنگلہ دیش، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا میں بھی برمی مسلمان آرہے ہیں۔اور پاکستانی حکومت اور قوم برما میں جاری ظلم کے خلاف ایک پیج پر ہے اور الخدمت فائوڈیشن ترکی اور انڈونیشیا کی این جی اوز کے ساتھ مل کر برما کے مسلمانوں کی مدد کر رہی ہے۔  برمی متعصب فوج ، آنگ سان سوچی اور آشین ویراتھو اصل گماشتے ہیں جو یہ سب کرارہے ہیں۔لہذااقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کی میٹنگ بلا کر بڑی طاقتوں کے ذریعے برما کی فوجی اور بے بس سرکاری حکومت پر دبائو بڑھا کر برمی مسلمانوں کو تحفظ دے۔ اقوام متحدہ Peace keeping forceکے ذریعے بھی برما کے مسلمان کمیونٹی کو تحفظ دلا سکتی ہے۔ بدھ مت اکثر دنیا میں اقلیت میں ہیں، جنہیں مکمل تحفط فراہم کیا جاتا ہے۔ اگر برما میں مسلمان اقلیت میں تو برمی فوجی اور جمہوری حکومت کو بھی اقلیت کا احترام ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی فوجی اتحاد کو فی الفور آن بورڈ لاکر فعال کیا جائے اور پلیٹ فارم ترتیب دیا جائے کہ دنیا میں کسی جگہ پر اسلام پسندوں سے زیادتی نہ کی جائے اور امن و سلامتی کو ان کے لیے یقینی بنایا جائے۔ کشمیر ، فلسطین، چیچنیا، بوسنیا، برما، شام سمیت جن ممالک میں مسلمانوں کیساتھ ظلم ہورہا ہے انکا ساتھ دیا جائے وغیرہ وغیرہ یہ سب تو تھی ایک مسلمان کے دل کے بھڑاس۔ آئیے !اگلی چند سطروں میں مسلمان کی بے بسی کی اصل وجہ دیکھتے ہیں۔ سو رہ رعد میں اللہ فرماتا ہے '': بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا؛ جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے اور جب اللہ کسی قوم کو برے دن دکھانے کا ارادہ فرماتا ہے تو پھر اُسے کوئی ٹال نہیںسکتا اور اللہ کے سوا ایسوں کا کوئی بھی مددگار نہیں ہوسکتا''۔ ہم ہر ظلم، زیادتی اور بربربریت کا دوش امریکہ اور بھارت کو دیتے ہیں حالانکہ ان ممالک نے اپنے ملک میں انصاف کو عام کیا ہے جس کے بل بوتے پر وہ جب جہاں جیسے چاہتے ہیں کرتے ہیں اور پوری دنیا ایک طرف اور یہ دو ممالک ایک طرف کھڑے ہوتے ہیں۔ اوباما نے اپنے آٹھ سالہ دور میں 27 ٹریلین ڈالرز کا بجٹ پیش کیا لیکن اپنے دور حکومت میں وہ ٹوائلٹ کے ٹشوز تک اپنے ذاتی پیسوں سے خریدتا رہا اور ریٹائرمنٹ کے بعد ایک چھوٹے سے گھر میں چلا گیا۔ امریکہ کے نائب صدر جوبائیڈن نے 842ارب ڈالرز کے منصوبہ جات لگائے اور حال یہ ہے کہ اپنی مدت ملازمت کے دوران اس نے آٹھ ہزار مرتبہ ٹرین میں سفر کیا ۔ ہم جب تک من حیث الامہ اپنی پتلی حالت نہیں سنواریں گے نامراد ہوتے رہیں گے اور جب تک پورا عالم اسلام اپنی شاہ خرچیوں اورذاتی ترجیحات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے ملک و قوم کے بہترین مفاد کے لیے نہیں سوچے گاتب تلک فلسطین، شام ، کشمیر اور برما جیسے کئی قسطوارسانحات ہمارے سامنے آتے رہیں گے۔جس دن ہم نے اپنی حالت بدلنے کا ارادہ کر لیا تو پھر ہماری اکانومی اور آواز دونوں مضبوط ہونگے ۔



Read more

10 September 2017

عقیدت کامقام۔۔۔پروفیسر محمد عبدللہ بھٹی

 روزِ اول سے آج تک کروڑوں انسان اِس جہان ِ فانی میں آئے کھایا پیا افزائشِ نسل کا حصہ بنے اور پیوندِ خاک ہو گئے ۔اِن کروڑوں انسانوں میں زیادہ تر تو گمنامی کی زندگی گزار کر گئے جبکہ کچھ اور چند ایسے انسان بھی تھے کہ خالقِ ارض و سما نے ان کو بادشاہت کا اختیار بھی دیا یہ وہ لوگ تھے کہ لاکھوں انسانوں کی زندگی موت کا فیصلہ اِن کے ہاتھ میں تھا جب یہ حرکت کرتے تو لاکھوں لوگ اِن کے ساتھ حرکت کرتے جب یہ ساکن ہو تے تو دنیا ساکن ہو جاتی ۔شب و روز گزرتے چلے گئے اور یہ بڑے لوگ بھی ماضی کا حصہ بنتے چلے گئے یہ سلاطین اور شہنشاہ جب زندہ تھے تو ہر زبان پر اِن کا چرچا اور حکمرانی تھی لیکن جب وقت نے کروٹ لی اور یہ پیوندِ خاک ہوئے تو کچھ ہی دنوں بعد اِن کی قبروں اور مزارات پر دھول اڑنے لگی اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ اِن کی قبروں اور مزارات کے نشان تک مٹ گئے ۔مسلمانوں کی تاریخ بھی ایسے ہی بادشاہوں کے ناموں سے بھری پڑی ہے جو دنیا دار تھے وہ کچھ عرصہ تو لوگوں کو یاد رہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ہی ایسے حکمرانوں کے نام بھی آج اذھان سے محو ہو چکے ہیں ۔لیکن اِن حکمرانوں میں وہ بادشاہ جنہوں نے عشق ِ رسول ۖ کی وادی میں قدم رکھا اپنی عقیدت و احترام کا اظہار کیا اور خود کو آقائے دو جہاںۖ کا ادنی غلام سمجھا تو ایسے حکمرانوں کے نام آج تاریخ میں صرف اور صرف عشقِ رسول ۖ کی وجہ سے زندہ ہیں ۔ایسے حکمرانوں کے شب و روز عشقِ رسول ۖ ، سنتِ نبوی ۖ ، عبادت ، ریاضت خشتِ الہی میں گزرے ایسے حکمرانوں کے نام تاریخ کے اوراق پر روشن ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں ۔بت شکن سلطان محمود غزنوی جو بت شکنی کے حوالے سے قیامت تک تاریخ کے اوراق میں امر ہو گیا وہ بھی عشقِ رسول ۖ کی دولت سے مالا مال تھا سلطان محمود کی اپنے غلام ایاز سے بھی محبت تاریخ کا حصہ ہے اس غلام ایاز کا ایک بیٹا تھا جس کا نام محمد تھا جو بادشاہ کی خدمت کے لیے مامور تھا ایک روز سلطان محمود غزنوی طہارت خانے میں آیا اور آواز دی ایاز بیٹے سے کہو کہ وضو کے لیے پانی لے کر آئے ایاز شاہانہ مزاج سے خوب واقف تھا بادشاہ کی بات سن کر پریشان ہو گیا کہ شاید میرے بیٹے سے کوئی گستاخی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے بادشاہ سلامت ناراض اور ناخوش ہو گئے ہیں اِ س لیے روزانہ کی طرح آج بیٹے کا نام لے کر نہیں پکارا سلطان محمودوضو سے فارغ ہو کر جب باہر آیا تو اپنے عزیز غلام ایاز کو غم کے سمندر میں ڈوبا ہوا پایا کیونکہ ایا ز غم کا مجسمہ بن کر اداس غمگین کھڑا تھا ۔ بادشاہ ایاز کو غمزدہ دیکھ کر بولا آج تم دکھ اور غم کا مجسمہ بن کر کیوں کھڑے ہو، تو ایاز بولا عالم پناہ آج آپ نے غلام زادے کو نام لے کر نہیں بلایا اِس وجہ سے میں بہت پریشان ہوں کہ پتہ نہیں غلام زادے سے کیا غلطی یا نافرمانی ہو گئی جس کی وجہ سے عالی جاہ ناراض ہو گئے ہیں سلطان محمود سن کر مسکرایا اور کہا ۔ ایاز ایسی کوئی بات نہیں تم مطمئن رہو نہ تو صاحبزادے سے کوئی غلطی ہوئی ہے اور نہ ہی میں اس سے ناراض ہوں ۔ لیکن ایاز کے چہرے پر ابھی تک سوالیہ اور غم کے تاثرات نمایاں تھے سلطان محمود مسکرایا اور کہا آج صاحبزادے کو نام لے کر نہ بلانے کی وجہ یہ تھی کہ مجھے شرم آئی اور میں بے ادبی سمجھا کہ بے وضو میری زبان سے راحت انس و جان و رحمتِ دو جہاں ۖ کا اسمِ گرامی ادا ہو۔ اِسی طرح سلطان ناصر الدین بھی عشقِ رسول ۖ میں سر سے پائوں تک ڈوبا ہوا تھا ۔ نبی کریم ۖ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ آپ ۖکا نام بے حد ادب و احترام سے لیتا اس کے ایک مصاحب کا نام محمد تھا ایک دن اسے نام لے کر نہ پکارا بلکہ کہا تاج دین اِدھر آ اور یہ کام کرو ۔ کام کرنے کے بعد محمد اپنے گھر چلا گیا اور پھر تین دن تک بادشاہ کی خدمت میں نہ آیا تو سلطان نے کسی کو بھیج کر اسے طلب کیا اور نہ آنے کی وجہ پوچھی تو مصاحب نے عرض کی عالی جاہ جب آپ نے مجھے خلافِ عادت تاج دین کہہ کر پکارا تو مجھے لگا میری کسی غلطی اور گستاخی کی وجہ سے آپ مجھ سے ناراض ہیں اِس شرمندگی اور غم میں تین دن میں گھر میں پڑا رہا تو سلطان ناصر دین شفقت آمیز لہجے میں بولے اے عزیز ایسی ناراضگی والی کوئی بات نہیں اس وقت میں باوضو نہیں تھا اِس لیے بغیر وضو محمد نام لینا مجھے بے ادبی لگا اِس لیے تاج دین کہہ دیا ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی فاتح بیت المقدس کو جولازوال شہرت ملی اور قیامت تک امر ہو گیا اس کی وجہ بھی عشقِ رسول ۖ ہی تھا ۔ ایک دفعہ مدینہ منورہ کے حکام میں سے کسی نے ایک پنکھا بطور ہدیہ بھیجا جس کے ایک طرف لکھا تھا ۔ یہ آپ کے لیے ایسا خاص تحفہ ہے کہ آج سے پہلے ایسا نایاب تحفہ آپ کو نہ تو کسی نے بھیجا اور نہ ہی کسی نے آپ کے والد کو اور نہ ہی کسی بادشاہ کو بھیجا ہو گا ۔ یہ پڑھ کر سلطان صلاح الدین ایوبی کو بہت زیادہ غصہ آگیا ۔ بادشاہ کا غصہ دیکھ کر قاصد نے عاجزی سے عرض کی اے بادشاہ سلامت آپ غصہ فرمانے سے پہلے برائے مہربانی ایک بار دوسری طرف کو بھی پڑھ لیں اور غصہ نہ کریں ۔ لہذا سلطان صلاح الدین ایوبی نے پنکھے کو دوسری طرف الٹ کر پڑھا تو وہاں دو ایمان افروز شعر لکھے ہوئے تھے ۔ میں نخلستا ن مدینہ کا پنکھا ہوں اور نبی کریم ۖ کی قبر مبارک کا ہمسایہ ہو ں کہ ساری مخلوق اِس کی زیارت کے لیے آتی ہے ۔میں نے اِسی قبر مبارک کے زیر سایہ پرورش پائی حتی کہ ا،سی برکت کی وجہ سے میں سلطان صلاح الدین کے لیے راحت پر مقرر ہوا۔ یہ پڑھنے کی دیر تھی کہ بے ساختہ سلطان بول اٹھا ۔ خدا کی قسم تو نے سچ کہا ۔عقیدت اور عشقِ رسول ۖ سے سلطان کی خوشی کی انتہا نہ رہی ، کیونکہ یہ دنیا جہاں کے خزانوں اور نایاب تحفوں سے بڑھ کر ایسا خزانہ خاص تھا کہ اِس کے سامنے دنیا بھر کے ہیرے جواہرات اور سونے چاندی چاندی کے ڈھیر ہیچ تھے اور واقعی سلطان کو آج سے پہلے کسی نے ایسا نایاب اور مقدس تحفہ نہیں بھیجا تھا۔ یہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی کا سب سے بڑا اور مقدس تحفہ تھا ۔ سلطان عشقِ رسول ۖاور ادب احترام میں پنکھے کو اپنی آنکھ پر رکھ لیا اور آنکھوں سے عقیدت و احترام سے خوشی کے آنسوئوں کا سیلاب بہہ نکلا۔


Read more

10 September 2017

میانمار میں مسلم کشی، او آئی سی کہاں ہے؟۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 میانمر میں صدیوں سے آباد روہنگیا مسلمانوں پر اپنے ہی ملک کی سرزمین تنگ ہو گئی۔ ریاست ر اکھائن میں مسلمانوں کے اکثریتی علاقے میں دو ہزار چھ سو گھروں کو جلا دیا ہے۔یہ کارروائی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کیے جانے والے پرتشدد واقعات کے چند بڑے واقعات میں سے ایک ہے۔ میانمار کے حکام کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کو لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے متنبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کو ان کے علاقوں میں داخل ہونے پر چیلنج نہ کریں۔ میانمار کے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم میں ایک بار پھر شدت آچکی ہے۔ بچوں اور خواتین سمیت روزانہ بیسیوں مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ نسل کشی کا یہ کھیل امن کی نوبل انعام یافتہ حکمران آنگ سان سوچی کی نگرانی میں جاری ہے۔ آنگ سان سوچی کی سرکاری فوج کے ساتھ بودھسٹ ملیشیاز بھی میانمار کے مسلمانوں کے گھروں پر حملوں اور جلانے میں مصروف ہیں۔  لوگ ان حملوں سے بچ کر پناہ کی تلاش میں خلیج بنگال عبور کر کے بنگلہ دیش کی طرف جارہے ہیں مگر کئی ایسی کشتیاں بھی تھیں، جن کے نصیب میں کنارا ہی نہ تھا۔ ڈوب کر جاں بحق ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں کی ہے جن کی نعشوں کو دریا کنارے ہی اجتماعی قبروں میں دفن کیا جارہا ہے۔ بچنے والے بنگلہ دیش کے ریلیف کیمپوں میں  پہنچے جہاں غذا اور رہائش کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق ہزاروں روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں اور بنگلہ دیش میں مہاجر کیمپ پہلے ہی بھر چکے ہیں۔ جان بچا کر بنگلہ دیش پہنچنے والے افراد کی تعداد 90 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔مسلمانوں کے قتل عام پر آنگ سانگ سوچی کی خاموشی ناقابل فہم ہے۔ سوچی کی خاموشی مسلمانوں کے قتل عام میں شراکت کے برابر ہے۔ جہاں تک  میانمار کی سربراہ آنگ سان سوچی کی مسلم نسل کشی پالیسی کا تعلق ہے تو سوچی سے نوبل امن انعام واپس لینے کیلئے آن لائن پٹیشن شروع کر دی گئی ہے۔ پٹیشن میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم ڈھانے پر سوچی سے نوبل انعام واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پٹیشن میں آنگ سان سوچی اور میانمار کے فوجی سربراہ کو عالمی عدالت لے جانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ پٹیشن پر 3 لاکھ 500 سے زائد دستخط ہو گئے ہیںجبکہ پٹیشن کو نارویجن نوبل کمیٹی تک پہنچانے کیلئے تین لاکھ دستخط درکار ہیں۔ آنگ سان سوچی کو جمہوریت کیلئے جدوجہد پر 2012ء میں نوبل امن انعام دیا گیا تھا۔پاکستان نے میانمار میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے قتل اور ملک سے ان کی جبری بے دخلی کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میانمار کے مسلمانوں پر ظلم و ستم اور قتل وغارت پاکستان کیلئے ازحد باعث تشویش ہیں۔ پاکستان زور دیتا ہے میانمار کی حکومت ان واقعات کی تحقیقات کرائے' ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے اور روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔اپنی پالیسی کے تحت' پاکستان دنیا بھر کی مسلمان اقلیتوں کی طرح روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و تشدد کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و تشدد کا سلسلہ بند کیا جائے۔ روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار عالمی برداری کے ضمیر کے لئے چیلنج ہے۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے میانمار میںمسلمانوں پر مظالم کی مذمت کی ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے میانمار کے مسلمانوں پر مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے عالمی برادری نے میانمار اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم پر آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ او آئی سی اور تمام بااثر اسلامی ممالک کو اس مسئلہ کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے میانمار میں ڈیڑھ سو سال سے زائد عرصہ سے آباد مسلمانوں کے خلاف حکومت کا سفاکانہ برتاؤ اور انسانیت سوز سلوک قابل مذمت اور قابل گرفت ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا اقوام متحدہ، اسلامی دنیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں فی الفور نوٹس لیں۔ میانمار میں مسلمانوں کی بدترین نسل کشی اور انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہے۔  بچوں،عورتوں، نوجوانوں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے ۔ بچوں کو پاؤں کے نیچے کچلا اور ذبح کیا جا رہا ہے انہیں زندہ جلایا جا رہا ہے۔ جماعة الدعوةکے پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہا ہے میانمار کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر عالمی اداروں کا طرزعمل منافقانہ ہے۔ حکومت پاکستان مسلمانوں پر مظالم کے حوالہ سے لائحہ عمل طے کرنے کے لئے او آئی سی کا اجلاس طلب کرے۔  اقوام متحدہ اور دیگر عالمی قوتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے روہنگیا مسلمانوں پر منظم حملوں کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میانمار کے ہمسایہ ممالک کی خاموشی انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں سینکڑوں افراد نے میانمار کے سفارتخانہ کے باہر مظاہرہ کیا۔جکارتہ میں میانمار سفارت خانے پر پٹرول بم پھینکا گیا۔ روسی دارالحکومت ماسکو میں ہزاروں افراد نے میانمار کے سفارتخانے کے باہر رونگیا مسلمانوں پر مظالم پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔  پاکستان کی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے اپنے ایک پیغام میں مطالبہ کیا ہے کہ روہنگیا میں تشدد کا خاتمہ کیا جائے۔ دیگر ملکوں اور میرے وطن پاکستان کو بنگلہ دیش کی پیروی کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کو خوراک، گھر اور تعلیم تک رسائی فراہم کرنی چاہیے۔ پوپ فرانسس نے روہنگیا میں مسلمانوں پر ظلم و ستم اور ان کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو روہنگیا سے باہر نکال کر پھینک دیا گیا ہے۔ انہیں ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں دھکیل دیا گیا ہے لیکن وہ سب اچھے اور امن پسند لوگ ہیں۔ وہ ہمارے بھائی ہیں۔سال ہا سال سے روہنگیا کے مسلمان مصائب کا شکار ہیں۔ ان پر تشدد کیا گیا اور انہیں قتل کیا گیا اور اس کی وجہ صرف یہ ہے وہ اپنی روایات پر عمل کرتے ہیں، اپنے مسلم عقیدے پر عمل کرتے ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ  کے مطابق مصنوعی سیارے سے لی گئی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے آگ میانمار کی فوج نے لگائی ہے۔ گزشتہ ہفتے میانمر کی فوج نے چار سو روہنگیا مسلمانوں کو قتل کر دیا تھا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔  اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کی امداد کے ادارے یو این ایچ سی آر کے مطابق 60 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان اپنی جانیں بچا کر بنگلا دیش جا چکے ہیں۔ مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو دقت پیش آ رہی ہے۔ جہاں بھی کہیں مسلم کشی کی واردات ہو تو اس کے پیچھے بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ہمیشہ نظر آتا ہے۔ میانمار میں بھی جہاں  مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے اور ایسے وقت میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی یانگون پہنچ گئے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے ملاقات کی اور انہیں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ ملاقات میں مسلمانوں پر مظالم کا تذکرہ گول کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نے آنگ سان سوچی سے دہشت گردی کے خاتمے پر تعاون کی پیشکش کی ۔  بھارتی وزیراعظم نے برما کے صوبہ راکھائن جہاں روہنگیا مسلمان آباد ہیں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر جاری مظالم میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق اسرائیل میانمار کی فوج کو اسلحہ اور تربیت فراہم کررہا ہے۔ صہیونی حکومت نے میانمار کو سرحدی نگرانی کے لیے 100 سے زائد ٹینکس، اسلحہ اور کشتیاں فروخت کی ہیں۔ متعدد اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنیاں راکھائن ریاست میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والی برمی اسپیشل فورسز کو فوجی تربیت فراہم کررہی ہیں۔ اسرائیلی اسلحہ کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر تصاویر بھی شائع کی ہیں جس میں اس کا عملہ راکھائن میں آپریشن کرنے والی میانمار کی اسپیشل فورسز کو جنگی تکنیک اور ہتھیاروں کی تربیت فراہم کررہا ہے۔اسرائیلی حکومتیں کئی سال سے میانمار کو اسلحہ بیچ رہی ہیں۔ اس پالیسی کا فلسطین پر قبضے اور فلسطینی مسلمانوں کو بے گھر کرنے سے گہرا تعلق ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیاروں کو ''آزمودہ'' کہہ کر دنیا کی بدترین حکومتوں کو فروخت کرتا ہے۔روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کو سامنے والی انسانی حقوق کی کارکن پینی گرین نے کہا کہ صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی ممالک روہنگیا مسلمانوں پر مظالم میں ملوث ہیں۔ پچھلے سال برطانیہ نے بھی میانمار کی فوج پر 3 لاکھ پاؤنڈز اخراجات کیے اور تربیت فراہم کی۔


Read more

10 September 2017

تحقیقی جرائد اور علم کا دیوالیہ۔۔۔ڈاکٹرمحبوب حسین

پاکستان میں پالیسیوں کی تشکیل اور ترجیحات میں اجتماعی مفادات کی جگہ انفرادی مفاد کو اہمیت حاصل ہوتی ہے فیصلہ سازی میں بسا اوقات زمینی حقائق کو بھی مد نظر نہیں رکھا جاتا۔یہی وجہ ہے کہ ملک کی 70 سالہ تاریخ میں سات قومی تعلیمی پالیسیاں، 8 پانچ سالہ منصوبے، درجنوں مختلف تعلیمی منصوبہ جات بنے اور ان پر عمل درامد کے لیے کئی کمیشن بنائے گئے مگر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکے۔پاکستان میں 2002 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن بنایا گیا آج پندرہ سال بعد اس ادارے نے اعلی تعلیم کے فروغ میں کیا کردار نبھایا، اہداف حاصل ہوسکے اور مجموعی کارکردگی کیا ہے اس پر بھی بحث کی جانا ضروری ہے۔ایچ ای سی ملک کی سرکاری و نجی یونیورسٹیز کو ریگولیٹ کرتی ہے تاکہ معیاری تعلیم پر سمجھوتہ نہ کیا جاسکے۔ اسی معیار تعلیم کے تصور کے تحت ایچ ای سی کا ایک نوٹیفکیشن اساتذہ کیمونٹی میں گردش کر رہا ہے۔ جس کے تحت کمیشن ایکس، وائے اور زیڈ کیٹیگری کے ریسرچ جرنلز کو تسلیم کرنے سے انکار کرنے جارہا ہے۔اگرچہ یہ نوٹیفکیشن 2016 میں جاری ہوا تھا لیکن اس کا اطلاق اب 30 جون دو ہزار سترہ سے کیا جارہا ہے۔ جس کے تحت اساتذہ کی اگلے گریڈز میں ترقیوں، تقرریوں ، پی ایچ ڈی سپروائزروں کی منظوری اور پی ایچ ڈی ڈگری کے حصول کے لئے مقالہ جات کی اشاعت کے لئے امپیکٹ فیکٹر کے حامل صرف وہ جرنلز قابل قبول ہوں گے۔جس کے ساتھ یہ بھی شرط عائد کہ وہ جرنلز انسٹیٹیوٹ آف سائنٹیفک انفارمیشن کی جرنل سائٹیش رپورٹ کی فہرست میں شامل ہوں گے۔ اور اب ایچ ای سی صرف ڈبلیو کیٹیگری کے ریسرچ جرنلز میں شائع شدہ آرٹیکل کو قابل قبول سمجھا جائے گا۔ اور اس سے کم درجے کے جرنلز میں شائع شدہ مقالہ جات ترقیوں کے حصول ، تقرریوں کے لئے قابل قبول نہیں تصور ہوں گے۔ایکس، وائے اور زیڈ کیٹیگری کے ریسرچ جرنل متروک ہو گئے گویا بیٹھے بٹھائے یہ جرنل ردی کی ٹوکری ہوگئے ہیں اور ان جرنلز میں اساتذہ کے شائع شدہ مقالہ جات ان کی بھرتیوں اور ترقیوں کے لیے کسی کھاتے میں شامل نہیں ہوں گے۔خوش گمانی تو یہ ہے کہ ایچ ای سی میں بیٹھے ہوئے پالیسی ساز ملک میں تعلیم کے معیار کی بہتری کے لیے ہی سوچ رکھتے ہوں گے مگر سوال یہ ہے کہ ملکی زمینی حقائق کو پیش نظر رکھ کریہ فیصلہ کیا گیا ہے؟ یا پھر محض ایچ ای سی کی پھرتیاں ہیں؟مذکورہ ریسرچ جرنلز کی کوالٹی پر یقینا بحث کی جاسکتی ہے اور ان جرنلز کی کوالٹی کو بہتر کرنے کے لیے کمیشن ایک سٹرٹیجی بنا سکتا ہے اور اس سٹرٹیجی کے تحت مختلف فیز میں جرنلز پر پاپندی عائد کی جاسکتی ہے کیونکہ علم کے معیاری ہونے پر تو سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا اور اگر علم چوری شدہ ہو تو اس کی سزا بھی ضروری ہے۔ لیکن اتنا بڑے فیصلے سے ملک کے پروفیسرز پر کیا اثرات ہوں گے اس کا اندازہ کون لگائے گا؟اب ان جرنلز میں شائع ہونے والے آرٹیکلز کی اگر کوئی اہمیت نہیں ہو گی تو ان جرنلز میں کوئی اپنے مقالہ جات کیونکر چھپوائے گا اور ان جرنلز میں اگر میعاری مقالہ جات شائع نہیں ہوں گے تو یہ اپ گریڈ کیسے ہوں گے؟اس کی مثال بالکل ایسے ہی ہے اگر کسی بنک کے بارے میں یہ اعلان کر دیا جائے کہ وہ دیوالیہ ہونے والا ہے تو لوگ اس سے اپنا سرمایہ نکالنا شروع کر دیں گے اور چند دنوں میں وہ بنک واقعی ہی دیوالیہ ہو جائے گا۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں تحقیقی سہولتوں کا فقدان ہے ،ملک میں موجود تحقیقی جرائد پر چند افراد کی اجارہ داری اور ملک کی مختلف جامعات میں تحقیقی جرائد کی اپ گریڈیشن کے لئے یکساں مواقع نہ ہونے سے معاملات مزید الجھیں گے۔اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے یہ پابندی تحقیقی معیار کو بہتر کرنے کی بجائے تنزلی کی طرف لے جائے گی اورپہلے سے موجود بے چینی میں مزید اضافہ ہو گا۔ایچ ای سی کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ جامعات کو اپنے جرائد کو اپ گریڈکرنا چاہئے تھا جو کہ نہیں کیا گیا مگر ان سے کوئی یہ بھی پوچھے کی ان جرائد کو اپ گریڈ کرنے کے لیے جو مالی اور تکنیکی وسائل درکار ہیں وہ کس حد تک فراہم کئے گئے ہیں؟ان جرائد سے متعلق کوئی پالیسی بنانے کے لیے گذشتہ برس جامعات کے اساتذہ کے نمائندوں کی تنظیم فپواسا نے جب ایچ ای سی کے چیئرمین اور دیگر انتظامی افسروں سے ملاقات کی تو طے ہوا تھا کہ اس سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جسکی رپورٹ کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔کمیٹی بنی مگرکوئی رپورٹ نہیں آئی، سٹیک ہولڈرز کا فیڈ بیک لیے بغیر یہ حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے، اب چشم تصور سے اندازہ کریں کہ ملک میں شائع ہونے میں ڈبلیو کٹیگری اور امپیکٹ فیکٹر ریسرچ جرنلز کی تعداد کتنی ہے اور تقرریوں اور ترقیوں کے منتظر اساتذہ جن کے کیسز پہلے ہی دیگر رکاوٹوں کی وجہ سے التوا کا شکار رہتے ہیں۔ایسے میں یہ نیا حکم نامہ سونے پہ سہاگے کا کام کرے گا، مثلا اگر کسی ٹیچر کے ایسوسی ایٹ پروفیسر یا پروفیسر بننے کے لیے دیگر شرائط پوری ہو چکی ہوں تو اس کے مطلوبہ تعداد سے ایک، دو، یا تین آرٹیکلز کم ہیں تو وہ اب اس تعداد کو پورا کرنے کے لئے پہلے تو کمیشن کی نئی شرائط کے تحت مطلوبہ میعار کے جرائد کو تلاش کریں گے اور پھر ان کے باہر لگی ہوئی طویل قطار میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کریں گے۔میرے خیال میں یہ پالیسی اس وقت تک نا قابل عمل ہے جب تک ایک خاص تعداد میں ملکی جرائد اپ گریڈ نہیں ہو جاتے۔ایچ ای سی کی یہ نئی پالیسی سماجی علوم، زبان و ادب اور انجیئرنگ کے اساتذہ کے لیے بالخصوص اور سائنس کے باقی مضامین کے لیے بالعموم مسائل پیدا کرے گی۔ پاکستان میں سماجی علوم کی قدر میں پہلے بھی کمی آئی ہے اور اس کی اہمیت کو ماضی میں خود ایچ ای سی نے نادانستہ طور پر نظر انداز کیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ ملک میں بڑے نامور سماجی سائنسدان پیدا نہیں ہوسکے۔کیا ہی اچھا ہو اگرریسرچ جرنلز پر پاپندی عائد کرنے کی اس نئی پالیسی سے پہلے اساتذہ کیلئے متبادل ریسرچ جرنلز پیش کر دیے جاتے تاکہ علم دوست اساتذہ کو ایسا پلیٹ فارم میسر آ جاتا جو اپنا تحقیقی کام شائع کراسکتے۔(ڈاکٹر محبوب حسین شعبہ تاریخ، پنجاب یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور فپواسا کے سابق جنرل سیکرٹری رہے ہیں)

Read more

10 September 2017

''احتساب عدالتوں کے فیصلے اس کے بعد اپیلیں''۔۔۔ضمیر نفیس

سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نیب کو حکم دیا تھا کہ وہ شریف فیملی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف چھ ہفتوں کے اندر ریفرنس دائر کرے اور احتساب عدالتیں چھ ماہ کے اندر ان ریفرنسز پر فیصلے دیں سپریم کورٹ کی طرف سے ایک جج بھی مقرر کئے گئے جو اس سارے عمل کی نگرانی کریں گے مقصد یہ تھا کہ کسی سطح پر نیب جان بوجھ کر کوئی کمزور ریفرنس نہ بنائے جو مدعاعلیہ کو فائدہ دے سکے اسی طرح احتساب عدالت کی مانیٹرنگ بھی کی جائے گی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور عدالت کسی مرحلے پر بھی غلط طور پر کسی مدعاعلیہ کو ریلیف نہ دے سکے۔بعض قانونی حلقوں کی طرف سے احتساب عدالت کی سپریم کورٹ کے جج کی طرف سے مانیٹرنگ کے عدالت عظمیٰ کے حکم پر تنقید کی گئی اور اس ضمن میں یہ استدلال دیا گیا کہ سپریم کورٹ کے جج کی مانیٹرنگ ماتحت عدالت کی آزادی پر دبائو ہے ماتحت عدالت کو آزادانہ اور اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کا حق ہونا چاہیے مانیٹرنگ کے عمل سے اس کا یہ حق پامال ہوسکتا ہے بہرحال اس  استدلال کا کسی نے نوٹس نہ لیا' نیب نے معینہ مدت کے اندر ریفرنسز مکمل کرکے متعلقہ عدالتون کے سپرد کر دئیے ہیں۔ادھر یہ پیش رفت ہوئی کہ جمعہ کے روز ہی سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر ایکشن ہوا اپنی درخواست میں انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کی تھی چنانچہ چیف جسٹس نے اس درخواست کی سماعت کے لئے تین رکنی بنچ قائم کر دیا جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گا اور اس سلسلے میں کارروائی 12ستمبر سے شروع ہوگی قانونی ماہرین کا موقفہے کہ ریفرنسز پر احتساب عدالت اس وقت تک کارروائی نہیں کر سکتی جب تک کہ سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست پر فیصلہ سامنے نہیں آجاتا۔ ایسی صورتحال میں ہفتہ دس دن کی تاخیر ہوسکتی ہے اس کے بعد احتساب عدالتیں سماعت شروع کریں گی۔سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق احتساب عدالتوں کو چھ ماہ کے اندر فیصلے دینے میں دوسرے لفظوں میں آئندہ سال مارچ تک یہ مقدمات سمیٹے جانے چاہئیں عدالتوں کے فیصلے شریف فیملی کے حق میں ہوں یا خلاف قومی سیاست پر ان کے زبردست اثرات مرتب ہوں گے مئی کے اواخر یا جون کے اوائل میں عام انتخابات منعقد ہوں گے انتخابی نتائج پر احتساب عدالتوں کے فیصلوں کے اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔جس انداز سے سارے عمل کی مانیٹرنگ ہو رہی ہے اس کے پیش نظر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ احتساب عدالتوں کے پاس کافی شواہد موجود ہیں جو شریف فیملی کے خلاف فیصلوں کا جواز بن سکتے ہیں مگر احتساب عدالت آخری نہیں ہے خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں کوئی بھی سائل ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتا ہے اور ہائیکورٹ سے خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حق رکھتا ہے گویا انصاف کے آخری مرحلے تک پہنچنے کے لئے مارچ 2018ء کے بعد بھی سال ڈیڑھ سال کا عرصہ لگ سکتا ہے عمران خان کو یہ خوش فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ شریف فیملی کو فوری طور پر سیاست سے آئوٹ کر دیا جائے گا یا اسے جیلوں کے سپرد کر دیا جائے گا جب بھی کوئی معاملہ طوالت کا رخ اختیار کرتا ہے تو عام طور پر مدعاعلیہ کو ہی اس کا فائدہ پہنچتا ہے اب دیکھئے شریف فیملی اس معاملے میں کس حد تک خوش قسمت ثابت ہوسکتا ہے۔عمران خان کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ وزیر خزانہ کے خلاف ریفرنس دائر ہونے کے بعد انہیں اپنے منصب سے مستعفی ہو جانا چاہیے اس مطالبہ کو سراسر غلط بھی نہیں قرار دیا جاسکتا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے پہلے  سے ہی تیار ہیں انہوں نے متعدد کمیٹیوں کی سربراہی یا رکنیت سے اسحاق ڈار کو فارغ کر دیا ہے اور سرتاج عزیز کو پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کی حیثیت سے لائے ہیں تاکہ کسی اچانک صورتحال میں انہیں مشیر خزانہ مقرر کیا جاسکے یوں محسوس ہوتا ہے کہ سرتاج عزیز کو ایک بار پھر اپنے معاشی تجربے کی قومی معیشت کی بہتری کے لئے بروئے کار لائیں گے اسحاق ڈار پر ایک سادہ سا الزام ہے کہ ان کے اثاثے ان کی آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں اگرچہ وہ استدلال دیتے ہیں کہ ان کے بیٹوں نے ان کی معاونت کی مگر اس استدلال سے عدلیہ پہلے مطمئن ہوئی نہ آئندہ ہوگی۔



Read more

10 September 2017

روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف حکومت کی موثر آواز

میانمار کی حکمران جماعت کی سربراہ آنگ سان سوچی یہ دور کی کوڑی لائی ہیں کہ ان کی ریاست راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ مقبوضہ کشمیر کے تنازعے سے  ملتا جلتاہے' روہنگیا اور مسئلہ کشمیر میں مماثلت ہے بھارتی نیوز ایجنسی سے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور میانمار کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے معصوم شہریوں کی پرواہ ہے حالانکہ ہمارے وسائل ہماری ضرورت کے مطابق نہیں ہیں اس کے باوجود ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہر شہری کو تحفظ فراہم کیا جائے اپنی حکومت کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں دہیشت گردوں اور معصوم لوگوں کے درمیان فرق کے طریقہ کار کے بار میں سوچنا ہوگا۔ ادھر دنیا بھر سے مختلف آوازیں اٹھ رہی ہیں جن میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ آنگ سان سوچی سے نوبل امن انعام واپس لیا جائے میانمار میں مسلم کش واقعات کے بعد انہیں یہ انعام اپنے پاس رکھنے کا حق نہیں ہے برطانوی میدیا نے بھی لکھا ہے کہ سوچی سے یہ انعام واپس لے لینا چاہیے ایک برطانوی اخبار نے لکھا ہے کہ سوچی نے روہنگیا میں ہونے والے مظالم پر اس سال فروری میں شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ  نہیں پڑی روہنگیا مسلمانوں کو اقوام متحدہ دنیا کی سب سے پسی ہوئی اور مظلوم اقلیت قرار دے چکا ہے لیکن سوچی یہ حقیقت تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں وہ میانمار کی فوج کی مذمت کے لئے بھی آمادہ نہیں۔ پاکستان کی حکومت اور اس کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے ۔ وزیراعظم کی صدارت میں منعقدہ کابینہ کے اجلاس میں بھی اس سلسلے میں ایک قرارداد منظور کی گئی ہے قرارداد میں مسلمانوں کے وحشیانہ قتل عام اور نسل کشی کی مذمت کی گئی ہے قرارداد میں کہا گیا ہے کہ غیر مسلم سول آبادی کے خلاف بربریت اور وحشیانہ سلوک نہ صرف ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہے بلکہ اقوام عالم اور معاشروں کے ضمیر کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے اس ظلم اور جبر نے میانمارکی جمہوری قیادت کی منافقت کو بے نقاب کر دیا ہے قرارداد میں آنگ سان سوچی سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس ظلم وس تم کو روکنے کے لئے فوری اقدامات کریں کابینہ نے اقوام متحدہ سے بھی اپیل کی کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی بند کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے  جو اس کے مینڈیٹ کا عالمی تقاضا ہے۔ وفاقی کابینہ کی قرارداد پاکستانی عوام کے جذبات کی آئینہ دار ہے ہم سمجھتے ہیں اس جامع قرارداد کے بعد  مزید کسی احتجاج کی ضرورت نہیں ہے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمان نے بھی اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ برما میں مظالم رکوانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں تاہم جماعت اسلامی نے اسلام آباد میں شدید مظاہرہ کیا اور برما کے سفارتخانے پر جانے کی کوشش کی جسے انتطامیہ نے ناکام بنا دیا احتجاج کو جمہوری رویوں اور اخلاقیات کے دائرے میں رہنا چاہیے اور اسے سیاست چمکانے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے اس قسم کے جذباتی احتجاج اور رویوں سے سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں ہرگز اضافہ نہیں ہوتا' حکومت پاکستان اور متعدد سیاسی جماعتوں نے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے  بجا طور پر بربریت رکوانے کا مطالبہ کیا ہے احتجاج کو ان ہی حدود کے اندر رہنا چاہیے سڑکوں کی سیاست سے گریز کیا جانا چاہیے۔


Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30