Get Adobe Flash player

September 2017

09 September 2017

نیکٹا رپورٹ' دہشت گردی کے خلاف قربانیاں اور کامیابیاں۔۔۔ضمیر نفیس

نیکٹا نے دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے اپنی پہلی رپورٹ مرتب کی ہے جو پاکستان کی کامیابیوں کا حقیقی گوشوارہ ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ موقف بے حد اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں جو قربانیاں دیں اور جو کامیابیاں حاصل کیں اس حوالے سے دنیا کا کوئی ملک ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ نیکٹا نے 2016ء واقعات میں 804افراد شہید اور 1914 زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو برسوں میں اگرچہ دہشت گردی کی لہر میں ماضی کی نسبت کمی آئی ہے لیکن سب سے زیادہ واقعات بلوچستان میں رونما ہوئے ان میں زیادہ تر حملے کالعدم تحریک طالبان پاکستان' کالعدم لشکرجھنگوی' ان سے منسلک مقامی طالبان گروپوں جیسے جماعت الاحرار' لشکر اسلام' سجنا گروپ اور داعش سے منسلک گروپوں نے کئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی حوصلہ افزاء ہے انسداد دہشت گردی سرگرمیوں کا سلسلہ اسی شد و مد کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔ انتہا پسندوں کے بیانیہ کا توڑ کرنا ضروری ہے کسی بھی نئے ابھرتے ہوئے یا تیار دہشت گرد و انتہا پسند گروپ پر گہری نظر رکھنے کا عمل جاری رہے انٹیلی جنس ' تحقیقاتی عمل اور آپریشنز کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں میں فوری شناخت کرکے کارروائی کرتے ہوئے دہشت گرد گروپوں کے خاتمہ کا سلسلہ جاری رکھا جائے 2016ء میں پاکستان دہشت گردی سے چوتھا سب سے زیادہ متاثرہ ملک تھا اگرچہ 2014سے 2016ء کے دوران دہشت گرد حملوں میں کمی آئیتاہم ابھی بھی دہشت گردی کے اثرات ختم کرنے اور اس سے متاثرہ ممالک کی صف میں  نیچے جانے کے لئے بہت زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے' دہشت گردی میں نمایاں کمی کی وجوہات  میں آپریشن ضرب عضب اور قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد ہے سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف مخصوص عسکری آپریشنز کئے خاص طور پر فاٹا کے علاوہ کراچی میں رینجرز' بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں اور مصالحتی کوششوں کی مدد  سے ' پنجاب اور کے پی کے میں پولیس کے انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز دہشت گردی میں کمی کی وجہ بنے2015ء میں دہشت گردی کے 139واقعات کے  مقابلے میں 2106ء میں نمایاں کمی آئی اور یہ 785 رہے' بلوچستان دہشت گردی میں سب سے زیادہ متاثر ہوا جبکہ اس کے بعد کے پی کے' فاٹا' سندھ اور پنجاب رہے' دہشت گردی کے ان واقعات میں بہت سے عسکریت پسند قوم پرست' شورش پسند' متشدد فرقہ وارانہ گروپ شامل تھے ان میں 804 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جن میں 460 عام شہری اور 364قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل تھے جبکہ اس سے پچھلے سال836افراد شہید ہوئے 2016ء میں 1914 جبکہ 2015ء میں 1706افراد زخمی ہوئے اگرچہ واقعات میں کمی آئی مگر جانی نقصان میں قدرے اضافہ ہوا جس سے  یہ واضح ہوا کہ 2016ء میں دہشت گردی کے بڑے واقعات ہوئے جن میں مہلک ہتھیار استعمال کئے گئے۔قوم پرستوں کے حملوں کے زیادہ واقعات بلوچستان  اور چند سندھ میں ہوئے ان میں سب سے زیادہ متاثر مکران ڈویژن اور پھر کوئٹہ' ڈیرہ بگٹی اور کوہلو ڈویژن91بلوچستان میں قوم پرستوں کے 126 جبکہ سندھ میں ایک واقعہ ہوا فرقہ وارانہ واقعات میں پنجاب میں چار اموات' سندھ میں آٹھ' کے پی کے میں دس' بلوچستان میں تین' فاٹا' آئی سی ٹی اور آزادکشمیر  میں ایک ایک واقعہ ہوا مجموعی طور پر چند سالوں میں دہشت گردی کے واقعات میں 49فیصد' دہشت گرد حملوں میں 40فیصد اور خودکش حملوں میں 36فیصد تک کمی آئی ہے۔2017ء کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردی کا گراف مزید نیچے آیا ہے اس دوران واقعات اور ہلاکتیں کم ہوئیں جبکہ سیکورٹی فورسز کو زیادہ کامیابیاں حاصل ہوئیں انہوں نے مقابلوں میں درجنوں دہشت گرد ہلاک کئے۔


Read more

09 September 2017

بے نظیر قتل کے فیصلے کے خلاف پیپلزپارٹی کی اپیل یا انتخابی سیاست

سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بے نظیربھٹو قتل کیس سے متعلق انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے پیپلزپارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر کے مطابق فیصلے کے خلاف درخواست دائر کرنے کا فیصلہ بلاول ہائوس کراچی میں اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں کیا گیا سابق صدر نے سردار لطیف کھوسہ کو کیس  میں اپنا وکیل مقرر کیا ہے فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ اجلاس میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا کیس دوبارہ کھولنے کے ریفرنس پر بھی غور کیا گیا۔ یہ ریفرنس سابق صدر نے اپنے دور صدارت میں سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا بلاول زرداری اس ریفرنس میں فریق بنیں گے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جو فیصلہ دیا اگرچہ اس پر بہت سے تبصرے  منظر عام پر آئے ہیں اور پیپلزپارٹی نے بھی مذکورہ فیصلے کو مسترد کر دیا ہے لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ جب انسداد دہشت گردی کی عدالت میں کیس چل رہا تھا اور متعدد گواہ پیش ہو رہے تھے پیپلزپارٹی اس وقت کہاں تھی اس کے قائد اور دیگر  لیڈروں نے کیس میں اس وقت دلچسپی کیوں نہ لی اور عدالت سے تعاون کیوں نہ کیا اگر پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے دلچسپی لی ہوتی تو کیس کی صورتحال مختلف ہوتی اب محض سیاسی مقاصد کے لئے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے عام انتخابات چونکہ سات آٹھ ماہ کے فاصلے پر ہیں اس لئے شہید بے نظیر بھٹو کیس کی آڑ میں سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں کی جائیں گی پیپلزپارٹی پانچ سال اقتدار میں رہی ایوان صدر میں بی بی کے شوہر براجمان تھے انہوں نے شہید بی بی کے نام پر خوب سیاست کی مگر اس دوران ان کے قاتلوں تک پہنچنے کی ایک بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی اب ہائیکورٹ میں فیصلہ کے خلاف درخواست دائر کرنے کے پس منظر میں محض انتخابی سیاست کو مدنظر رکھا جارہا ہے ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل اور بے نظیر بھٹو کی شہادت کے نام پر پیپلزپارٹی کی قیادت پہلے ہی بھرپور سیاسی مقاصد حاصل کر چکی یہ اب مزید سیاسی مفادات حاصل نہیں ہوسکتے عوام بھی ان کے اس انداز سیاست سے آگاہ ہوچکے ہیں کرپشن اور مایوس کن کارکردگی کو چھپانے کے لئے یہ ہتھکنڈے اب کام نہیں دیں گے بلکہ عوام سیاسی جماعتوں کو الیکشن میں ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیں گے۔



Read more

09 September 2017

سفیروں کی کانفرنس اور خارجہ پالیسی کے نئے خدوخال

آباد میں منعقدہ پاکستانی سفیروں کی تین روزہ کانفرنس میں  پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے خارجہ پالیسی کے نئے خدوخال کا تعین کرلیا گیا ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ موقف خوش آئند ہے کہ ان سفارشات کی قومی سلامتی کمیٹی اور پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کرلی جائے گی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے اپنے مختصر خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ خارجہ پالیسی عصری تقاضوں' جیو پولیٹکل صورتحال اور ملک کے  وسیع تر مفاد میں ازسر نو تشکیل دی جارہی ہے انہوں نے سفراء کو ہدایت کی کہ پاکستان کا موقف زیادہ واضح انداز میں دنیا کے سامنے لایا جائے انہوں نے  پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہمسایہ ملک پر زور دیا کہ وہ اپنی کارروائیاں بند کرے کسی کو افغان جنگ پاکستان کی سرزمین پر لانے کی اجازت نہیں دی جائے گی وزیراعظم نے کہا کہ امریکی صدر کی نئی افغان پالیسی ناکام ہوگی افغان مسئلہ کا فوجی نہیں سیاسی حل ہے ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کا حال پہلے منصوبوں جیسا ہی ہوگا بھارت کو افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال کرنے سے روکنا ہوگا کانفرنس کے اختتام پر وزیر خارجہ  خواجہ محمد آصف نے پریس  بریفنگ میں کہا کہ ہم نے نیا خارجہ پالیسی بیانیہ تیار کرلیا ہے پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کا اعتراف کرنے والے ممالک کے ساتھ ہی آگے بڑھے گا بدلتے اتحادوں کے تناظر میں پاکستان ایک نئی مگر درست سمت اختیار کرنے جارہا ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ خطے کے حالات سے غافل ہے  پاکستان کا اس پر انحصار کم ہو چکا ہے ہم پاکستانی قوم کو قربانی کا بکرا نہیں بننے دیں گے ہم باعزت اور خود دار قوم ہیں۔ اپنی حفاظت کرنا جانتے ہیں اپنی علاقائی سالمیت اور قومی وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں نئی تبدیلیاں آرہی ہیں نئے اتحاد بن رہے ہیں آنے والے دنوں میں درست  سخت کا تعین کرنا پڑے گا  ہماری پہلی ترجیح ہوگی کہ اقتصادی مفادات حاصل ہوں اس حوالے سے ٹریڈ اتاثیوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا دنیا ہیماری قربانیوں کو دوسرے انداز میں دیکھتی ہے جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت رہا ہے کراچی اور سوات میں امن ہے ہماری مساجد' گھر اور گلیاں محفوظ ہیں ہماری بقاء  دائو پر لگی ہے اس لئے ہم سے بہتر کوئی لڑ ہی نہیں سکتا اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنا مقصد ہے تو یہ کام پاکستان کے بغیر نہیں ہوسکتا افغانستان کا مسئلہ روس اور چین کے ساتھ مل کر حل کیا جائے گا وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم امریکہ سے تعلقات ختم نہیں کر رہے انہیں قائم رکھنا چاہتے ہیں لیکن اسے بھی ہماری بنیادی اہمیت کا احترام کرنا چاہیے امریکہ سے تعلقات میں ملکی مفاد سب سے پہلے ہوگا خارجہ پالیسی کی ازسر نو تشکیل کے معاملے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ دیر آید درست آید' اصولی طور پر سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد جب دنیا میں نئے اتحاد بننے لگے اس وقت ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو متوازن بنانے کے لئے فوری طور پر اقدامات کرنے تھے جو ہم نہیں کر سکے اس کے مقابلے میں بھارت  نے پہل کی وہ سوویت یونین کے تحلیل ہونے اور سردجنگ کے خاتمہ کے بعد تیزی سے امریکہ کی طرف بڑھا اور اس سے دوستی کی پینگیں بڑھانے لگا امریکہ نے بھی اس کے دوستانہ جذبات کا خیر مقدم کیا اور اس کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اس سے سول ایٹمی تعاون کا معاہدہ کیا مگر پاکستان جو اس کا پرانا اتحادی اور حلیف تھا اس نے اس کے ساتھ اس قسم کے معاہدے سے انکار کر دیا ہماری دانست میں امریکہ کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کرنے کے یہ بہترین لمحات تھے چین کے ساتھ مضبوط دوستی پہلے سے موجود تھی ہم روس کے ساتھ بھی تیزی سے تعلقات استوار کر سکتے تھے اگر اس وقت ہم نے یہی کچھ کیا ہوتا جو آج کرنے جارہے ہیں تو امریکہ نئی افغان پالیسی کی آڑ میں ہمیں دھمکیاں دیتا نہ الزامات عائد کرتا بہرحال یہ اچھی بات ہے کہ تاخیر سے ہی سہی ہم نے ایک زبردست فیصلہ کیا ہے جبکہ روس کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات میںبتدریج اضافہ ہوا ہے امریکہ کی نئی افغان پالیسی ہماری خارجہ پالیسی کی سمت درست کرنے کا باعث بنی ہے سفیروں کی کانفرنس نے جن سفارشات کی منظوری دی ہے قومی سلامتی کمیٹی اور پارلیمنٹ سے ان کی جلد از جلد منظوری حاصل کرکے انہیں خارجہ پالیسی کے قالب میں ڈھلنا چاہیے۔


Read more

آرمی چیف نے چار دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی، آئی ایس پی آر

آئی ایس پی آر کے مطابق سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ نے کالعدم تنظیموں کے 4 دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے 4 اہم دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔ موت کی سزا پانے والے دہشت گردوں میں ریاض احمد، حفیظ الرحمان، محمد سلیم اور کفایت اللہ شامل ہیں اور چاروں کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث ہیں اور مجموعی طور پر  16 افراد کو قتل جب کہ 8 افراد کو زخمی کیا، چاروں دہشت گردوں سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے اور انہوں نے فوجی عدالتوں کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا جس پر فوجی عدالتوں نے انہیں کو سزائے موت کا حکم دیا جب کہ  مزید 23 مجرموں کو مختلف مدت کی قید کی سزائیں بھی سنائی گئی ہیں۔

Read more

آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس میں ملکی سلامتی کی صورتحال پر غور

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت 204ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں ملکی سلامتی کی صورتحال پر غور کیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جی ایچ کیو میں 204 ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں ملک کی اندرونی و بیرونی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیاگیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز کانفرنس میں آپریشن رد الفساد میں پیشرفت کا بھی جائزہ لیاگیا۔

Read more

ملکی سلامتی کے لیے قربانی دینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ڈی جی رینجرز سندھ

ڈی جی رینجرز سندھ میجرجنرل محمد سعید نے کہا کہ ملکی سلامتی کے لیے قربانی دینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے.ترجمان سندھ رینجرزکے جاری کردہ بیان کے مطابق یوم شہدا کے موقع پرشہدا ٹریننگ سینٹر اینڈ اسکول میں پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا، تقریب کے دوران رینجرز پبلک اسکول کے طلبا نے شہدا کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ملی نغمے اورٹیبلو پیش کئے اس کے علاوہ ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادرسپوتوں کی زندگی اورشہادت کودستاویزی فلم کی شکل میں بھی پیش کیا گیا، اس موقع پرڈی جی رینجرز میجرجنرل محمد سعید نے یادگار شہدا پر پھولوں کی چادرچڑھائی اورفاتحہ خوانی کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میجرجنرل محمد سعید نے کہا کہ یوم شہدا کی روایت ہرآنے والے سال کے ساتھ جذبوں کو تقویت دے رہی ہے، تقریب میں پاکستان کے ہرگوشے سے آنے والے شہدا کے ورثا شریک ہیں، رینجرز وہ منفرد فورس ہے جس نے چارسال کی قلیل مدت میں اپنی اعلی صلاحیتوں کی بدولت دہشت گردی کے تدارک کے ساتھ قیام امن کو بھی یقینی بنایا، ان کامیابیوں کا سہرا شہدا اوران کے ورثا کے سرہے، ہمیں اپنے شہدا اوران کے ورثا پرفخر ہے۔ ملکی سلامتی کیلیے قربانی دینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔


Read more

کراچی یونی ورسٹی میں دہشتگردی کا کوئی ونگ نہیں چل رہا، وائس چانسلر

جامعہ کراچی کے وائس چانسلرڈاکٹر اجمل خان کا کہنا ہے کہ طلبا تنظیموں کی بحالی ہونی چاہیے جب کہ جامعہ میں دہشتگردی کا کوئی ونگ نہیں چل رہا۔جامعہ کراچی کے وائس چانسلرڈاکٹر اجمل خان نے پریس کانفرنس میں میڈیا پرچلنے والی خبروں اورطلبا کا دہشت گردی میں ملوث ہونے کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مجھے سیکیورٹی ایجنسیزکی جانب سے کوئی معلومات نہیں دی گئی، میری معلومات کا ذریعہ میڈیا ہے۔  چیئرمین سینٹ کی طلبا تنظیموں کی بحالی کے حوالے سے رائے ذاتی نوعیت پراچھی ہے، سیکیورٹی انتظامات ہمارا نہیں اداروں کا کام ہے تاہم ہم پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں اورذاتی طورپرمیرا خیال ہے کہ طلبا تنظیموں کی بحالی ہونی چاہیے۔وائس چانسلرکا کہنا تھا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ جامعہ میں دہشت گرد پیدا ہورہے ہیں، ایسا کہہ کرجامعہ کراچی کا نام خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، عدم برداشت صرف جامعہ کراچی کا مسئلہ نہیں جب کہ جامعہ میں دہشتگردی کا کوئی ونگ نہیں چل رہا، سیکورٹی ادارے ہمیں بتائیں کہ ہم کس طرح جامعہ کی سیکیورٹی بہتر بنائیں، سیکیورٹی اداروں کو ڈیٹا فراہم کرنیکے حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

Read more

میانمار میں مسلمانوں اورسندھ میں مہاجروں سے زیادتی کی جارہی ہے، فاروق ستار

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا ہے کہ میانمار میں مسلمانوں پر اور سندھ میں مہاجروں سے زیادتی کی جارہی ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ برما کے حالات پر ہم نے سخت موقف اور پیغام بھیجا ہے، ہم نے عالمی اداروں سے کہا کہ وہ مداخلت کرکے میانمار کے حالات پر قابو پائیں، ہم نے سینیٹ، قومی اور سندھ اسمبلی میں برما کے حوالے سے قراد داد پیش کی ہیں، ہمیں برما کے ساتھ سفارتی تعلقات پربھی نظرثانی کرنا چاہیے، میانمار میں مسلمانوں اور سندھ میں مہاجروں کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ایم کیو ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ 22 اگست 2016 کے واقعات آپ کے سامنے ہیں، مجھ سمیت سینکڑوں نامعلوم افراد کے خلاف ایف ائی آر درج کی گئی تھیں، میری اورعامرخان کی ضمانتوں میں توثیق ہوگئی ہے، عدالتیں خوش اسلوبی کے ساتھ کام کر رہی ہیں، جب کیس کی سماعت آگے بڑھے گی تو ہمارے موقف کی بھی حمایت ہوگئی اور جس دن یہ واقعہ ہوا تھا اسی دن ہم نے ایو کیو ایم لندن سے اظہارلاتعلقی کر دیا تھا۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیں دہشت گردوں کے رحم و کرم پرچھوڑا ہے تاکہ ہمارے ساتھ کچھ برا اور پیپلز پارٹی والوں کے لئے میدان صاف ہوسکے۔ اے ڈی خواجہ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک اچھے افسر ہیں جس پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں ، جو حکومت سندھ کے غیر قانونی فیصلوں کو نہیں مانتا اور پوری سندھ حکومت اسے ہٹانے کے لیے مصروف عمل ہے۔


Read more

آنگ سان سوچی روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و زیادتی کے سلسلے کو روکیں، پاکستان

پاکستان نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے برما کی نوبیل انعام یافتہ حکمران آنگ سان سوچی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مسلمانوں کے خلاف ظلم و زیادتی کا سلسلہ رکوائیں۔اسلام آباد میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی پر مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتا ہے، میانمار میں براہ راست ریاستی اداروں کی سرپرستی میں خواتین و بچوں سمیت بے گناہ روہنگیا مسلمانوں کو بے رحمی سے قتل کیا جا رہا ہے۔قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ نہتے شہریوں کے خلاف سفاکانہ اقدامات نہ صرف ریاستی دہشت گردی کے مترادف ہیں بلکہ دنیا بھر کی قوموں اور برادریوں کے ضمیر پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔ قرارداد میں نوبیل انعام یافتہ آنگ سان سوچی سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ میانمار میں ہونے والے ظلم و زیادتیوں کے سلسلے کو فوری طور پر رکوائیں کیوں کہ ملک میں ان کی سیاسی جماعت کی حکومت ہے۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو روکنے کے لیے آگے بڑھ کر ٹھوس اقدامات کرے۔


Read more

07 September 2017

تمام ممالک کو پاکستان کیساتھ احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے، برطانوی اپوزیشن رہنما

برطانوی اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن پاکستان کی حمایت میں بول پڑے اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔برطانوی نشریاتی ادارے کو خصوصی انٹریو میں اپوزیشن رہنما جیریمی کوربن نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان کے ساتھ عزت سے پیش آنا چاہیے اور دوسرے ممالک کو اسلام آباد پر تنقید سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا اشارہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس خطاب کی جانب تھا جس میں انہوں نے جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔جب جیریمی کوربن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس خیال سے متفق ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں تو انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جس کے ساتھ عزت سے پیش آنا چاہیے اور اس پر باہر سے تنقید نہیں ہونی چاہیے۔ تمام ممالک کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنا ہو گا اور اس بات کا اطلاق سب پر ہوتا ہے۔افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے جیریمی کوربن نے کہا کہ ٹرمپ کی افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد میں اضافے کی نئی پالیسی افغانستان کے بارے میں ان کی ناکام پالیسی کا تسلسل ہے، میں اس کی حمایت نہیں کرتا، افغانستان کے مسئلے کا حل سیاسی مذاکرات ہیں۔

 

Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22
24 25 26 27 28 29 30