Get Adobe Flash player

September 2017

07 September 2017

سندھ ہائی کورٹ کا آئی جی سندھ کوعہدے پر برقراررہنے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کوعہدے پر برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔سندھ ہائیکورٹ نے آئی جی سندھ اللہ ڈنوخواجہ کوعہدے سے ہٹانے سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سنادیا۔ فیصلے میں سندھ ہائیکورٹ نے آئی جی سندھ کو پولیس ایکٹ 1861 کے مطابق کام جاری رکھنے کا حکم دے دیا اورکہا کہ آئی جی سندھ کو3 سال کی مدتِ ملازمت سے پہلے نہیں ہٹایا جاسکتا جب کہ عدالت نے 7 جولائی کا سندھ حکومت کا پولیس افسران کی تقرری و تبادلے کے دونوں نوٹیفکیشن بھی کالعدم قراردے دیے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ 30 مئی کومحفوظ کیا تھا۔دوسری جانب سندھ حکومت نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل سندھ کا کہنا ہے کہ عدالت نے تفصیلی احکامات دیے ہیں، فیصلے میں خامیاں ہیں جس کے باعث سپریم کورٹ میں اپیل دائرکریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس ریفارمزبہت ضروری ہیں، ٹرانسفرپوسٹنگ آئی جی سندھ کا اختیارہے جب کہ پولیس ایکٹ بھی آئی جی کی خود مختاری اورکمانڈ کو تقویت دیتا ہے۔

Read more

سپریم کورٹ میں عمران خان نااہلی کیس سماعت کے لیے مقرر

سپریم کورٹ میں عمران خان نااہلی کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا ہے جس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کرے گا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان اور سیکریٹری جنرل جہانگیر خان ترین کی نااہلی کے لیے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست کی سماعت کے لیے 12 ستمبر کی تاریخ مقرر کردی ہے۔کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سر براہی میں تین رکنی بینچ کرے گا، جس میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس فیصل عرب شامل ہوں گے۔ رجسٹرار آفس نے عمران خان، جہانگیر ترین، حنیف عباسی اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں۔




Read more

امریکہ نے پاکستان کو عزت دینے کے بجائے رسوائی سے دو چار کیا،فضل الرحمن

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو عزت دینے کی بجائے امریکا نے رسوائی سے دو چار کیا۔جمعیت علمائے ا سلام ف کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے بنوںمیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے نئے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کی صورت میں پاکستان اس قابل ہوا کہ متبادل وسائل پیدا کرے، چین کی سرمایا کاری کوخوش آمدید کہتے ہیں۔مولانافضل الرحمان کا کہنا ہے کہ 40ملکوں کااتحاد برما کے مسلمانوں کے قتل عام پر خاموش کیوں ہے، ہمارے حکمران بھی خاموش ہیں،مسلمانوں کی نسل کشی ہورہی ہے،عالمی برادری کو جگاناہماری ذمے داری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں چھوٹے سے واقعے کی فلم بندی کرلی جاتی ہے، این جی اوز انسانی حقوق کے نام پر واویلا شروع کر دیتی ہیں۔

Read more

07 September 2017

امریکی جارہیت کسی صورت قبول نہیں ،قوم متحد ہے،مولانا عبدالغفور حیدری

جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکریٹری جنرل ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولاناعبدالغفورحیدری نے کہاہے کہ امریکی جارحیت کسی صورت قبول نہیں ،سامراجی دبائوایک ناکام حربہ ہے جس کے خلاف قوم متحدہے ،امریکی دھمکیوں اوربرمامیں مظلوم مسلمانوں پرڈھانے جانے والے ظلم کے خلاف قائدجمعیت کے حکم پر8سے 15ستمبرتک پرامن ملک گیراحتجاج کیاجائے گا،کارکنان جمعہ کوہونے والی احتجاجی ریلیوں میں بھرپورشرکت کرکے تاریخ سازاحتجاج ریکارڈکرائیںاور سامراجی قوتوں کوپیغام دیدیں کہ ملکی سلامتی اوروقارپرکوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے مکہ مکرمہ سے سوراب کے صحافیوں سے خصوصی گفتگوکرتے ہوئے کیا،مولاناعبدالغفورحیدری کاکہناتھاکہ وطن عزیزکے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ،امریکی دھمکیاں پرانے حربے ہیں جن سے غیورپاکستان قوم مرعوب نہیں ہوگی ،دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں،امریکہ اپنی ناکامیوں کاملبہ دوسروں پرڈالنے کی کوشش کررہاہے ،خودمختارممالک میں بے جامداخلت کی پالیسی ان کی بربادی کاسبب بنے گی ،اس حوالے سے پوری قوم متحدومتفق ہے اورہم امریکی گیڈربھبکیوں کوجوتے کے نوک پررکھتے ہیں ،امریکہ کی سامراجی عزائم پوری دنیاپرعیاں ہوچکے ہیں اپنے مفادکے لئے دنیاکوجنگ کے شعلوں میں جھونکنے والے امریکہ سمیت دیگرنام نہادعالمی قوتوں کی برمامیں ہونے والے انسانیت سوزمظالم مجرمانہ خاموشی منافقت کی انتہاہے ،برماکے مظلوم مسلمانوں کی حالت زاراقوام متحدہ کے منہ پرایک طمانچہ ہے جے یوآئی برمامیں ہونے والے ظلم پرخاموش نہیں رہے گی ،ممبران کی جانب سے ایوان میں قراردادمذمت بل پہلی کڑی ہے اس حوالے سے ایوان بالاسمیت بین الاقوامی سطح پر برما کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف جے یوآئی موثرآوازبلندکرے گی ،اس سنگین صورتحا ل میں ترکی کاکردار دیگراسلامی ممالک کے لئے قابل تقلیدہے اس موقع پرامت مسلمہ کوایک جرائت مندانہ موقف اختیارکرنے کی ضرورت ہے ،اقوام متحدہ برمامیں ہونے والے انسانیت سوزمظالم کوروکنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائیںبصورت دیگران کی غیرجانب داری مزیدمبہم اورمشکوک بن جائے گی ۔


Read more

07 September 2017

خواجہ آصف کا افغان ہم منصب کو ٹیلی فون ،قریبی تعلقات قائم کرنے پر اتفاق

وزیر خارجہ  خواجہ  آصف  نے ا فغان  ہم منصب  صلاح  الدین  کو ٹیلی فون  کیا  جس  میں دونوں  نے قریبی  تعلقات  قائم کرنے پر اتفاق  کیا، وزیر خارجہ  خواجہ آصف  کا کہنا  ہے کہ پاکستان افغانستان  سے تعلقات  کو بہت  اہمیت دیتاہے ،دیرپا امن واستحکام  کے لیے افغان عوام  پر مشتمل  مفاہمتی  عمل  کی حمایت  کرتے ہیں  سیاسی  ، معاشی  تجارتی  سمیت  تمام شعبوں  میں تعلقات  کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔بدھ کو وزیر خارجہ  خواجہ  آصف  نے ا فغان  ہم منصب  صلاح  الدین  کو ٹیلی فون  کیا ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان  سے تعلقات  کو بہت اہمیت  دیتا ہے۔  امن واستحکام  کے لیے افغان عوام  پر مشتمل  مفاہمتی  عمل کی حمایت  کرتے ہیں۔سیاسی  ،معاشی  ،تجارتی  سمیت تمام  شعبوں  میں تعلقات  کو فروغ   دینا چاہتے  ہیں۔  دونوں  وزرائے خارجہ  نے قریبی  تعلقات  قائم  کرنے پر اتفاق  کیا۔  جبکہ جنرل اسمبلی  اجلاس  کے موقع پر  ملاقات  پر بھی  اتفاق  کیا گیا۔


Read more

07 September 2017

سعودی عرب سے تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں،خرم دستگیر

وزیر دفاع خرم دستگیر نے کہاہے کہ پاکستان سعودی  عرب تعلقات  تاریخی ،برادرانہ،اور باہمی  مفاد پر مبنی ہیں،سعودی عرب  کے ساتھ  اپنے خصوصی  تعلقات  کر مزید وسعت دینا چاہتے دینا چاہتے ہیں،پاک چین  اقتصادی  راہداری  سے پورے خطے  کو فائدہ  ہوگا۔بدھ کو  خرم دستگیر  سے سعودی  سفیر  نواف  المالکی نے ملاقات کی ۔جس میں خرم دستگیر  نے کہا کہ  پاکستان ،سعودی عرب تعلقات تاریخی برادرانہ اور باہمی مفاد پر مبنی  ہیں۔ پاک چین اقتصادی  راہداری  سے  پورے خطے  کو فائدہ  ہوگا۔ سی پیک  سے سعودی  عرب ،مشرق وسطیٰ کی جنوبی  افریقہ  اور چین  کے ساتھ  تجارت بڑھے گی۔ پاکستان ،سعودی عرب دفاعی  تعاون  میں فروغ  کی ضرورت ہے۔ انہوں  نے کہا کہ سعودی عرب  کے ساتھ اپنے خصوصی  تعلقات  کو مزید  وسعت چاہتے ہیں۔ خرم دستگیر  نے خادم  حرمین  الشریفین  شاہ سلمان  کی صحت  کیلئے  نیک خواہشات  کا اظہار کیا۔


Read more

اب ہمارے نہیں دنیا کے ڈومور کا وقت ہے، آرمی چیف

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں لہذا اب ہمارے نہیں دنیا کے ڈو مور کا وقت ہے۔جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو)میں یوم دفاع کی مرکزی تقریب سے خطاب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتنی قربانیوں کے باوجود بھی ہم سے ڈو مور کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن اب ہمارے نہیں دنیا کے ڈو مور کا وقت ہے، اب دشمن کی پسپائی اور ہماری ترقی و کامیابی کا وقت ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ قومی اتحاد آج وقت کی اہم ضرورت ہے، ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے، دین میں واضح حکم ہے کہ جہاد ریاست کی ذمے داری اور یہ حق ریاست کے پاس ہی رہنا چاہیے، جذبے کا تعلق صرف جنگ سے نہیں بلکہ قومی ترقی کے ہر پہلو سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج دہشتگردوں کو تو ختم کر سکتی ہے لیکن انتہا پسندی پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری ردالفساد کا سپاہی ہو۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، دشمن کوئی بھی حربہ آزمالیں ہم ہمیشہ متحد رہیں گے،ہم سے زیادہ وسائل رکھنے والے ملک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکے، سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کا سرمایہ اور امن کی ضمانت ہے، بلوچستان کے غیور عوام پر فخر ہے جنہوں نے دہشتگردوں،علیحدگی پسندوں کو یکسر مستر کر دیا۔امریکا اور عالمی طاقتوں کے حوالے سے پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ عالمی طاقتیں ہمارے ہاتھ مضبوط نہیں کرسکتیں تواپنی ناکامیوں کا ذمہ دار بھی ہمیں نہ ٹھہرائیں۔ انہوں نے کہا کہ جو جنگ ہم پر مسلط کی گئی اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے، ہمارا دشمن جان لے کہ ہم کٹ مریں گے لیکن وطن عزیز کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے۔امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہمیں امداد نہیں بلکہ عزت اور اعتماد چاہیے، ہمارے سیکیورٹی تحفظات کو بھی مد نظررکھنا ہوگا، آنے والی نسلوں کا ہم پرقرض ہے کہ انہیں دہشتگردی سے پاک پاکستان دیں،ادارے مضبوط ہوں گے تو پاکستان مضبوط ہوگا۔آرمی چیف نے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو سمجھ لینا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد دراندازوں کی محتاج نہیں، کشمیریوں کی حمایت سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا۔پاک فوج کے سربراہ نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف زمینی نہیں بلکہ نظریاتی اور ذہنی بھی ہے، دہشتگردی اور انتہاپسندی پر قابو پانے کے لیے میڈیا کا مثبت کردار بھی انتہائی اہم ہے، دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں  کامیابی کے لیے قوم کا جذبہ، تعاون اور آگاہی ضروری ہے۔سربراہ پاک فوج نے یہ بھی کہا کہ  اپنے یقین، ایمان اورروایات کے لیے ہمیں کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، ہم اس پرچم کے سبز اور سفید دونوں رنگوں پر نازاں ہیں، لا الہ الااللہ  کا وارث ہونے پر ہمیں فخر ہے،  ہم جانتے ہیں پاکستان کا مطلب کیا ہے، چند بھٹکے ہوئے لوگوں کی لگائی آگ کی قیمت پورا پاکستان ادا کررہاہے، بھٹکے ہوئے لوگوں کے طرز عمل سے وطن کو سب سے زیادہ نقصان ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک بزرگوں کاحوصلہ،جوانوں کی جرات برقرار ہے کوئی پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، آج کا پاکستان دہشتگردی کے خلاف کامیابی کی روشن مثال ہے، بلوچستان کا امن خراب کرنے کی دشمن کی کوششوں پر گہری نظر ہے، جب تک پاکستان امن کا گہوارہ نہ بن جائے چین سے نہیں بیٹھیں گے، یہ ہماری بقاکی جنگ ہے اور ہمیں اسے آنے والی نسلوں کے لیے جیتنا ہے، قوم یقین رکھے پاک فوج ہر مشکل وقت میں آپ کے ساتھ ہے۔آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے کہا کہ قوم کا تعاون اورمدد رہی توعنقریب دہشتگردی کوجڑ سیاکھاڑ پھینکیں گے، فوج قوم کے تعاون اور حمایت کے بغیر کچھ نہیں، پاکستان کی اصل طاقت کا سرچشمہ ہمارے نوجوان ہیں۔

Read more

بارشوںکے دوران کپاس کی دیکھ بھال۔۔۔نوید عصمت کاہلوں

پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے اور ملکی مجموعی پیداوار کا تقریباً 75فیصد حصہ پنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔ کپاس اور اس کی مصنوعات کے ذریعہ ملک کو کثیر زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ کپاس حساس فصل ہونے کی وجہ سے بارشوں اور ہوا میں موجود نمی سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ کپاس کی فصل کیلئے زیادہ بارشیں پیداوار پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ کپاس کی 90 فیصد سے زائد کاشت خطہ جنوبی پنجاب میں ہے۔ کپاس حساس فصل ہونے کی وجہ سے بارشوں اور ہوا میں موجود نمی سے متاثر ہوتی ہے۔ کپاس کی فصل کیلئے زیادہ بارشیں پیداوار پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔کھیت میں بارش کا پانی زیادہ دیر نہ کھڑا رہنے دیں۔ کیونکہ اگر بارش کا پانی کپاس کے کھیت میں 24گھنٹے سے زیادہ دیر تک کھڑا رہے تو فصل کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔ حتیٰ کہ 48 گھنٹے پانی کھڑا رہے تو پودے مرجھانا شروع کردیتے ہیں۔ پانی کھڑا رہنے سے پودوں کا پھل بھی گرجاتا ہے۔ اگر کپاس کے قریب دھان، کماد یا چارہ جات کی فصلیں موجود ہوں تو بارش کا پانی ان فصلوں میں نکال دیا جائے یا کھیت کے ایک طرف لمبائی کے رخ 2فٹ چوڑی اور 4فٹ گہری کھائی کھود کر پانی اس میں جمع کردیا جائے۔ اگر کپاس کی فصل پیلی ہوجائے تو ایک بوری یوریا کھیلیوں میں کیرا کریں۔ نائٹروجن کی زیادہ کمی کی صورت میں پانی نکالنے کے بعد کھیت وتر آنے پر یوریا کھاد کا 2 فیصد محلول بناکر سپرے کیا جائے تاکہ پودوں کی نشوونما دوبارہ شروع ہوسکے۔ اگر پھر بھی فصل پر نائٹروجن کی کمی کی علامات نظر آئیں تو 10دن کے وقفہ سے اس محلول کا دوبارہ سپرے کیا جائے۔ برسات میں نمی زیادہ ہونے کی وجہ سے کپاس کی فصل سے رس چوسنے والے کیڑوں خصوصاً چست تیلہ اور سفید مکھی کے حملہ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جس کیلئے ہفتہ میں پیسٹ سکائوٹنگ جاری رکھیں اور کسی بھی کیڑے کی معاشی نقصان دہ حد پر پہنچنے پر محکمانہ سفارش کردہ زرعی ادویات کا سپرے کریں۔ زیادہ بارشوں کی صورت میں کپاس کے پودوں کی غیر ثمر دار بڑھوتری میں تیزی آجاتی ہے ۔ کپاس کے کھیتوں کے اندر اور باہر دوسری نظر انداز جگہوں پر جڑی بوٹیوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ نتیجتاً نقصان رساں کیڑوں کی تعداد بھی بہت تیزی سے بڑھتی ہے۔ پیسٹ سکائوٹنگ کے لیے چند قدم اندر جا کر 20 مختلف پودوں کا معائنہ اس طرح کریں کہ پہلے پودے کے اوپر والے، دوسرے پودے کے درمیان والے اور تیسرے پودے کے نیچے والے اور پھر چوتھے پودے کے اوپر والے پتے کی نچلی طرف دیکھ کر رس چوسنے والے کیڑوں کی تعداد نوٹ کرلیں۔ یہی عمل جاری رکھ کر 20 پودے پورے کرلیں۔ آخر میں تمام پتوں پر دیکھی جانے والی تعداد کو جمع کر کے فی پتا اوسط نکال لیں۔ اگر سفید مکھی کی تعداد 5 پر دار یا 5 بچے فی پتا یا دونوں ملا کر 5 فی پتا ہو تو یہ سفید مکھی کے نقصان کی معاشی حد ہے۔ اگر جیسڈ اور سفید مکھی کا حملہ اکٹھا موجود ہو تو ایک جیسڈ کو 5 سفید مکھیوں کے برابر تصور کر کے معاشی نقصان کا اندازہ لگائیں اور   محکمہ زراعت کے مقامی عملہ سے مشورہ کے بعد ہی مناسب زہر استعمال کریں۔ کپاس کے علاقوں میں موجود نمی کے باعث کپاس کے ٹینڈوں کی سنڈیوں کا حملہ بھی بڑھنے کا خطرہ ہے۔ کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ اپنے کھیتوں میں ٹینڈوں کی سنڈیوں کے نقصان کی معاشی حد معلوم کرنے کے لیے ہفتے میں دو بار پیسٹ سکائوٹنگ کریں۔ چتکبری سنڈی، امریکن سنڈی اور گلابی سنڈی کی معاشی نقصان دہ حد پر پہنچیں تو ان کے کیمیائی تدارک کے لئے  محکمہ زراعت کی سفارش کردہ نئی کیمسٹری کی زرعی زہروں کا سپرے کریں۔ لشکری سنڈی کو قابو میں رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ کپاس کے کھیتوں کی پیسٹ سکائوٹنگ کے دوران کپاس کے پودوں کا بغور جائزہ لیتے رہیں۔ اگر کسی پودے پر اس کے انڈے یا چھوٹی سنڈیاں نظر آئیں تو اُن کو ہاتھوں کی مدد سے چن کر تلف کریں ۔ بارشوں کی وجہ سے کپاس کے کھیتوں میں جڑی بوٹیاں زیادہ اگنا شروع ہو جاتی ہیں جس سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ کاشتکاروں کو چاہیے کہ فصل بڑی ہونے پر جڑی بوٹیوں کے تدارک کیلئے شیلڈ لگا کر بوٹی مار زہر سپرے کریں۔ زیادہ بارشوں کی وجہ سے پودے کا قد بہت بڑھ جاتا ہے جس سے بجائے پھل لینے کے پودا بڑھوتری کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ اگر غیر ضروری بڑھوتری کو نہ روکا جائے تو پیداوار کم ہونے کے ساتھ فصل بھی دیر سے تیار ہوتی ہے۔

Read more

افغانستان کے منہ میں بھارتی زبان۔۔۔راجہ طاہر محمود

پاکستان ،بھارت اور افغانستان ایسے ہمسایہ ممالک ہیں جن کی طویل ترین سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں افغانستان چونکہ خشک ممالک میں شامل ہیں ایسے ممالک جن میں سمندر نہیں لگتا اور ان کی تمام درآمدات اور برآمدات کا انحصار دوسرے ممالک پر ہوتاہے اور پاکستان اور بھارت اپنی، اپنی آبی سرحدوں کی وجہ سے اس کے لئے اہم ہیں ایسے میں پاکستان کا روٹ انتہائی مختصر ترین ہے جہاں سے اشیاء ایک سے دو دن میں افغانستان تک پہنچ سکتی ہیں اور بھارتی روٹ کافی لمبا بھی ہے اور ا سکی ڈائریکٹ رسائی وہاں پر نہیں ہوتی ایسے میں افغانستان کو اپنی تمام ضروریات پوری کرنے کے لئے پاکستان پر انحصار کرنا پڑتا ہے ماضی میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہت گہرے اور برادرانہ رہے ہیں جبکہ پاکستان نے ہمیشہ پر امن افغانستان کی بات کی ہے اور اس کے لئے کئی بڑی قربانیاں بھی دی ہیں اور کئی سال تک افغانستان کے عوام کی میزبانی بھی کی ہے مگر جیسے ہی افغانستان کے حالات کچھ بہتر ہوئے فورا انہوں نے منہ بھارت کی طرف موڑ لیا اور پاکستان کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا حالانکہ پاکستان نے ہمیشہ اس کا بھلا چاہا ہے اور اس کے لئے عملی اقدامات بھی اٹھائے مگر اب خطے میں سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈز کے منصوبوں میں چینی سرمایہ کاری کو بھارت اپنے لئے ایک چیلنج سمجھ رہاہے اور ایسے میں وہ افغانستان کو استعمال کر کے ناصرف پاکستان بلکہ چین کو بھی اس منصوبے پر کام سے روکنا چاہ رہا ہے اور اس میں بھارتی عزائم سب کے سامنے ہیں ایسے میں افغانستان کے حکمران بھارت کے آلہ کار بن کر صرف اور صرف اپنے ملک کا نقصان کرنے کے در پے ہیں کیونکہ پاکستان پہلے ہی اس منصوبے میں افغانستان کو شمولیت کی دعوت دے چکا ہے ۔پاکستان نے ہمیشہ پر امن اور خوشحال افغانستان کی بات کی ہے اور ایسے میں بھارت کبھی نہیں چاہے گا کہ افغانستان ترقی کرے اور وہ اس منصوبے میں شامل ہو شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں وہ اپنی مذموم کاروائیوں کی وجہ سے رنگے ہاتھوں پکڑا جا چکا ہے اور اس کی مثال کلبھوشن کی صورت میں سب کے سامنے ہے اب جبکہ سی پیک منصوبہ شروع ہو چکا ہے ایسے میں بھارت کی تمام چالیں ناکام ہونے کے بعد اس نے افغانستان کو اپنا ہمنوا بنانے کی پوری کوشش کی ہے اور وہ اس کوشش میں کامیاب بھی رہا ہے افغان حکومت گزشتہ کچھ عرصے سے اس روش پر عمل پیرا ہے کہ وہ اپنے ہاں ہونے والی دہشت گردی کی کسی بھی بڑی واردات کا الزام پاکستان کے سر تھوپ دیتی ہے اور اپنی کوتاہی اور ناکامی کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے ظاہری سی بات ہے یہ سب کچھ بھارت کے کہنے پر ہو رہا ہے افغانستان داخلی سطح پر ہونے والے انتشار اور اس کی وجہ سے اپنے ملک میں دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرنے کی بجائے اپنے داخلی معاملات کا جائزہ لے اور اس کا سد باب کرے پاکستان متعدد بار اس بات کی وضاحت کر چکا ہے کہ پاکستان نے بڑی محنت کے بعد آپریشن ضرب عضب کے ذریعے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک تباہ کیے اس دوران جو لوگ ملک کے دوسرے حصوں میں منتقل ہوگئے تھے آپریشن ردالفساد کے ذریعے ان کا صفایا کیا جارہا ہے اس کے باوجود افغان مہاجرین میں مبینہ طور پر ایسے عناصر بھی موجود ہیں  پاکستان اور افغانستان کے خلاف ان کی نشاندہی مشکل ہے سوچنے کی بات ہے کہ افغانستان میں ایسی کارروائیوں کا فائدہ کس کو پہنچتا ہے اس پر غور کئے بغیر حقائق تک نہیں پہنچا جاسکتاسوچے سمجھے بغیر اور کسی ثبوت کے بغیر پاکستان پر الزام کرنے سے کسی کو فائدہ نہیں ہو گا بنیادی سوال پر کابل حکومت کو غور کرنا چاہیے کابل دھماکوں سے کس کو فائدہ پہنچ سکتا ہے پاکستان جس نے ہمیشہ یہ کہا ہے اور جو حقیقت بھی ہے کہ وہ کابل کے عدم استحکام سے متاثر ہوتا ہے افغانستان میں امن اس کے لئے ناگزیر ہے وہ کیونکر کابل میں بدامنی سے اطمینان حاصل کر سکتا ہے کابل انتظامیہ کو اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اس نے اپنے معاملات کو درست کرنے کے لئے کس حد تک کوششیں کی ہیں محض امریکی ڈالروں کے ذریعے حکومت کرنا ہی طرز حکمرانی نہیں ہوتا ملک میں امن و امان کا قیام اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی حکمرانوں کے فرائض میں شامل ہوتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانستان پاکستان کے ان احسانات کو یاد کرے جن کی وجہ سے وہاں کے عوام اس قابل ہوئے کہ انھوں نے ملک کو قابضین سے بچایا اور وہاں کے عوام کو وہ سہولیات دی جنھیں کوئی بھی میزبان ملک نہیں دے سکتا تھا اس وقت تو بھارت نے بھی ان کا داخلہ اپنے ہاں بند کر دیا تھا جب پاکستان نے ان کو اپنا بھائی کہا ایسے وقت میں جب پاکستان کو افغانستان کی ضرورت ہے۔ اس نے ہمارے دشمن ملک بھارت سے ہاتھ ملا کر پاکستان کی پیٹ میں چھرا گھونپنے کی ناکام کوشش کی ہے یہ بات افغانستان کو بھی یاد رکھنی چاہیے کہ پاکستان اسلامی ملک ہے جبکہ بھارت غیراسلامی اور وہاں پر بسنے والی ہندو قوم کی خصلت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے بعد کسی کی پروا نہیں کرتا اور خاص طور پر مسلمان تو ان کے دوست ہو ہی نہیں سکتے ایسے میں افغانستان بھارت کا آلہ کار بن کر صرف اور صرف افغانستان کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے اس وقت افغانستان کے منہ میں بھارتی زبان اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ بھارت نے اپنے طور پر افغانی حکمرانوں کو مکمل طور پر اپنے قابو میں کیا ہواہے کیونکہ بھارت کبھی نہیں چاہے گا کہ افغانستان سی پیک یا ون روڈ ون بیلٹ منصوبے میں شامل ہو کر ترقی کرے ۔


Read more

طاقتوراتحادی مثلث۔۔۔سمیع اللہ ملک

پاکستان، روس اور چین کے د رمیان طاقتور اتحادی بننے کاسفر تیزی سے جاری ہے اور تینوں ممالک کے ہرسطح پررابطے مستحکم ہو رہے ہیں۔پاکستان اور روس کے درمیان سردجنگ کا طویل اور تلخ دورانیہ سالوں پر محیط ہے لیکن اب جہاں چین کے ساتھ مل کرطاقتور اتحادی مثلث بننے جارہے ہیں وہاں خوشگوار باہمی تعلقات کے ذریعے خطے میں امن وامان لانے کیلئے سر جوڑکربیٹھے ہیں۔ بہرحال اب یہ طے ہوگیاہے کہ ماسکو اوراسلام آبادکے تعلقات اب مخالف سمت میں سفر نہیں کرسکتے اوریہ بھی واضح ہوگیاہے کہ امریکاکواب افغانستان یااس خطے میں امن سے کوئی دلچسپی نہیں ہے،اس لئے خطے میں امن وامان اورافغانستان کے مسائل کے حل کیلئے چین،روس اورپاکستان کااتحادبہت ضروری ہے۔افغان جنگ اوراس کی وجہ سے سرحدوں پرفروغ پانے والی دہشتگردی اورانتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے ان ممالک کے درمیان دوفریقی اورسہ فریقی مذاکرات ہوچکے ہیں۔پاکستان کوپچھلے کئی برسوں سے دہشتگردی کے حملوں کاسامنارہا ہے جبکہ ماسکوبھی بم حملوں کی زدمیں رہاہے۔پاکستان اورماسکومیں دہشتگردی کی حالیہ لہراس بات کااشارہ کررہی ہے کہ دہشتگردی ایک بارپھران دونوں ممالک کی سرحدوں پردستک دے رہی ہے۔ چین اپنے صوبے سنکیانگ میں ایک عرصے سے دہشت گردی کاسامناکررہاہے لیکن اب سی پیک منصوبے کی کامیابی کیلئے پاکستان اور چین مل کرامن وامان کویقینی بنانے کیلئے انتھک محنت کررہے ہیں تاکہ گوادرسے سنکیانگ تک سی پیک پرکام جاری رہ سکے۔امریکااپنے مفادات کیلئے افغان جنگ کوخطہ میں پھیلاناچاہتاہے خصوصااسلام آباد،ماسکواوربیجنگ کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطے امریکاکے مفادمیں نہیں ہیں۔ سیاسی ماہرین کایہ خیال ہے کہ افغانستان میں شام جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش ہورہی ہے لیکن یہ تین ملکی اتحادایشیا کی صورتحال بھی تبدیل کردے گا۔موجودہ حالات میں امریکااورپاکستان کے تعلقات اب پہلے جیسے نہیں رہے اسی لیے ایک طرف روس اورپاکستان اورروس کے تعلقات مضبوط ہوتے جارہے ہیں تودوسری طرف امریکانے بھارت کوگودمیں لے لیاہے۔ چین،روس اور پاکستان کے تعلقات نہ صرف پوری دنیاکیلئے حیران کن ہیں بلکہ کئی ممالک اس طاقتوراتحادی مثلث کاحصہ بنناچاہتے ہیں تاکہ مستقبل میں ملکوں کے درمیان معاشی،تجارتی اورفوجی تعلقات بہترہوسکیں۔کچھ عرصہ پہلے ایران نے افغان جنگ کے سیاسی حل کیلئے روس،چین اور پاکستان کے اتحادی دائرے میں شامل ہونے کی خواہش کااظہارکیاتھا۔ یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کی امیدیں دم توڑچکی ہیں اورترکی اب اس اتحادی دائرہ میں شمولیت کاخواہاں ہے۔افغانستان میں امن اورخطہ میں استحکام کیلئے روس،پاکستان اورچین نے اپنی کوششوں کوتیزکردیاہے۔ پاک فوج کے ذرائع نے ٹرمپ انتظامیہ کوخبردارکیاہے اگرافغان مسئلے کاپائیدارحل نہیں نکالاگیاتویہ کام اب روس کرے گا۔مودی کوخوش کرنے کیلئے ٹرمپ کے بیانات پربھی جان مکین کی قیادت میں آنے والے اعلی سطحی امریکی وفدکواپنے شدیدخدشات سے آگاہ کردیاہے۔حقانی نیٹ ورک کے بارے میں تمام الزامات کومستردکرتے ہوئے ایک مرتبہ پھرسارے وفدکووزیرستان کے ان علاقوں کو دورہ بھی کروایاگیاجس کو دہشتگردوں نے اپنے آقائوں کی مددسے ناقابل تسخیربنارکھاتھااوران کے مستقبل کے ناپاک ارادوں مکمل طورپرخاک میں ملادیا گیاہے۔ ادھرپاکستان نے نصر میزائل کے کامیاب تجربے کے بعدبھارتی کولڈسٹارٹ کو مکمل طورپرٹھنڈاکر دیاہے اور خطے میں ہونے والی سازشوں کے جواب میں مزیدمیزائل تجربوں کے تسلسل کا بھی امکان ہے۔روس، چین اورپاکستان کاتین ملکی بین الاقوامی اتحاد خطہ میں امن واستحکام کیلئے کوشاں ہے اورحالیہ دنوں میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ماسکو،اسلام آباد اور بیجنگ کے دفتر خارجہ اور فوج کے حکام نے افغان جنگ کاسیاسی حل تلاش کرنے کیلئے بات چیت کی ہے۔ تین ملکی اتحادی مسلسل اس بات کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ واشنگٹن اب افغان جنگ کوختم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا، پاکستانی حکام کاکہناہے کے وہ اسلام آباد پریہ دبائو ڈال رہے ہیں کہ خطہ کے اہم ملکوں کومذاکرات میں شامل کرکے جلدازجلد افغان جنگ کے مسئلے کاسیاسی حل نکالاجائے۔افغان جنگ کے مسئلے پرروس، چین اور پاکستان کے درمیان کئی بار مذاکرات ہوچکے ہیں اوران میں سے اکثر میں امریکااوربھارت کوشریک نہیں کیاگیاہے،رواں مہینے کے آخرمیں روس ایک بار پھرافغان مسئلے پر مذاکرات کرناچاہ رہاہے اوراس میں امریکااوربھارت کے علاوہ دوسرے ممالک کی شرکت بھی متوقع ہے،ان مذاکرات کامقصدافغان حکومت اورطالبان کے درمیان سمجھوتاکرواناہے تاکہ افغانستان کی طویل جنگ کا خاتمہ ہو سکے۔پاکستان،روس اورچین خطہ میں پائیدار امن کا قیام چاہتے ہیں یہ تینوں ممالک صرف معاشی،سفارتی اوردفاعی تعلقات ہی بہتر بنانا نہیں چاہتے بلکہ یہ اپنی اور سرزمین اوراپنی سرحدوں سے انتہاپسندی دہشتگردی کامکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق داعش کے سینکڑوں جنگجوافغانستان میں داخل ہوچکے ہیں اور امریکی معاونت سے تورا بورا کے اہم علاقوں پرداعش کے قبضے کے بعدآئندہ کے امریکی لائحہ عمل کے خطرناک ارادوں کابھی پتہ چل گیاہے کہ اب اپنے مقاصد کے حصول کیلئے داعش کے ذریعے ان تینوں ممالک کیلئے بڑے مسائل پیداکرکے اپنی موجودگی کا جواز اور سی پیک کوناکام بنانے کی پوری کوشش کی جائے گی یہی وجہ ہے کہ یہ تینوں اتحادی ممالک امن کا قیام یقینی بنانا چاہتے ہیں تاکہ سی پیک بھی محفوظ رہے اوراس کے ساتھ ساتھ ایشیاء میں اقتصادی اورکاروباری مواقع بھی پیداہوں۔روس کے پاکستان اورچین سے بہترین تعلقات کے بعد اب یہ تینوں ممالک علاقائی منصوبوں پرمل کر بہتراندازمیں کام کرسکیں گے۔روس اورپاکستان کے درمیان مفاہمت2011 میں اس وقت شروع ہوئی، جب امریکا نے پاکستان پراسامہ بن لادن کوپناہ دینے کاالزام لگایااورایک خفیہ آپریشن میں اسے ہلاک کردیااس کے ساتھ ساتھ نیٹوافواج نے ہوائی حملہ کرکے پاکستانی فوجی جوانوں کو شہید کردیا، یہی دونوں واقعات پاک امریکا تعلقات میں بگاڑ کا سبب بنے ہیں۔آنے والے سالوں میں پاکستان کی پرخلوص کوششوں کے باوجودکچھ ممالک سے تعلقات بگڑرہے ہیں اوررابطے ختم ہورہے ہیں،ایسے میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کوتبدیل کیااوراسے وسیع بنیادوں پراستوار کرتے ہوئے ماسکوسے اپنے تعلقات کوبہتربنانے کافیصلہ کیا۔میں روس نے پاکستان پرسے اقتصادی پابندی اٹھالیں،روس کے اس مثبت اقدام نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اورسیکورٹی شراکت داری کے دروازے کھول دیے ہیں اور ستمبر میں پہلی باران دوریاستوں کے مابین مشترکہ فوجی مشقوں کاآغازہواہے۔امریکاکے طالبان سے بات چیت نہ کرنے کے واضح موقف کے باوجودپاکستان، روس اورچین نے حالیہ ملاقاتوں میں افغان جنگ کے اختتام اورافغانستان میں امن واستحکام کیلئے کابل اورطالبان کے درمیان پرامن مذاکرات پر اتفاق کیا ہے۔افغان جنگ کو ختم کرنے کیلئے چاہے شام جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے روس، پاکستان اور چین مل کر اس کا پرامن حل نکالیں گے، اگر تین ملکی اتحاد افغان جنگ کوپرامن طریقے سے ختم کرنے میں کامیاب ہوگیا تویہ اتحادی مثلث طاقتورترین اتحادمیں شمارکیاجائے گا۔اوریہ تینوں ممالک آئندہ دنیاکے امن کے نقیب کے طورپرپہچانے جائیں گے۔



Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30