Get Adobe Flash player

September 2017

06 September 2017

مردم شماری پہ اٹھتے اعتراضات۔۔۔شہزاد حسین بھٹی

کوئی بھی ملک اُ سوقت تک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا جب تک اس ملک کی آبادی کے درست اعداد و شمار معلوم نہ ہوں۔ ملک کی آبادی کا تعین مردم شماری کے عمل سے ہی ہو سکتا ہے۔ مردم شماری کے تحت حاصل ہونے والے مواد  اور اعدادوشمار کے ذریعے محققین اور تجزیہ کار معاشرے کے مختلف امور پر معاشی اور معاشرتی عوامل کے وقوع پذیر ہونے یا ختم ہونے سے پیدا ہونے والے رجحان کی نشاندہی اور مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔آئین پاکستان کے تحت ملک میں ہر دس سال کے بعد مردم شماری و خانہ شماری لازم ہے لیکن انتہائی افسوس اور مقام شرمندگی ہے کہ ہم قیام پاکستان کے بعدسے لے کر اب تک صرف چھ بار مردم شماری کروا سکے۔ پہلی مردم شماری 1951، پھر بالترتیب 1961، 1972، 1998,1981 اور آخری بارمارچ اپریل 2017 میں ہوئی۔ یہ ہمارے حکمرانوں کی غفلت اور کوتاہی ہے کہ وہ تواتر کے ساتھ مردم شماری کرانے میں ناکام رہے، جسکا خمیازہ آج پاکستان مسائل کے انبار کی صورت میں بھگت رہا ہے۔پاکستان کی آبادی تیز رفتاری کے ساتھ بڑھ رہی ہے، پاپولیشن کونسل کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق پاکستان آبادی کے لحاظ سے چھٹا بڑا ملک ہے اور اگر اسی رفتار سے آبادی بڑھتی رہی تو 2050 میں پاکستان آبادی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر آجائے گا۔پاکستان میں چھٹی مردم شماری عبوری نتائج کے مطابق ملک کی آبادی 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار پانچ سو بیس افراد پر مشتمل ہے۔یہ اعدادوشمار پاکستان کے ادارہِ شماریات نے جمعے کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش کیے ہیں۔ان اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 19 سالوں کے دوران ملک کی آبادی میں 7,54,22,241افراد کا اضافہ ہوا ہے جو کہ 57 فیصد اضافے کے برابر ہے۔اعدادوشمار کے مطابق ملک کی موجودہ آبادی میں مرد اور خواتین کا تناسب تقریباً برابر ہے اور مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے میں صرف 51 لاکھ زیادہ ہے۔مردم شماری میں پہلی بار خواجہ سراؤں کو بھی گنتی میں شامل کیا گیا تھا جن کی تعداد 10418 بتائی گئی ہے۔ خواجہ سراؤں کی سب سے زیادہ تعداد صوبہ پنجاب میں تقریباً سات ہزار جبکہ سب سے کم تعداد فاٹا میں 27 ہے۔ابتدائی نتائج میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں آبادی میں اضافے کی اوسط سالانہ شرح دو اعشاریہ چار فیصد رہی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں اس شرح میں کمی آئی ہے جبکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور فاٹا میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔مردم شماری کے نتائج کے مطابق آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب ہے جو ملکی آبادی کا نصف سے زائد ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کی آبادی 11 کروڑ ہے جس میں دیہی آبادی تقریباً سات کروڑ ہے جبکہ چار کروڑ یا تقریباً 37 فیصد لوگ شہروں میں مقیم ہیں۔ 1998 ء  میں پنجاب کی آبادی سات کروڑ سے زیادہ تھی۔آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا صوبہ سندھ ہے جو پونے پانچ کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں دو کروڑ 49 لاکھ مرد، جبکہ دو کروڑ 29 لاکھ خواتین بستی ہیں۔باقی صوبوں کی نسبت سندھ میں آبادی کا بڑا حصہ شہری علاقوں میں مقیم ہے، جو صوبے کی کل آبادی کا 52 فیصد ہے۔خیبر پختونخوا کی آبادی پونے چار کروڑ ہے۔ وہاں بھی مرد و خواتین کی تعداد تقریباً برابر ہی ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں 81 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے جبکہ فاٹا کی کل آبادی 50 لاکھ بتائی گئی ہے۔بلوچستان میں کل آبادی ایک کروڑ 23 لاکھ سے زائد ہے۔ جہاں 64 لاکھ سے زائد مرد اور خواتین کی تعداد 58 لاکھ سے زائد ہے۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی آبادی 20 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ادارہ شماریات کے مطابق اسلام آباد میں شہری آبادی میں کمی جبکہ دیہی علاقوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 1998 میں اسلام آباد میں شہری آبادی تقریباً 66 فیصد تھی جو اب کم ہو کر تقریباً 51 فیصد رہ گئی ہے۔واضح رہے کہ ان اعداد وشمار میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے نتائج ابھی شامل ہونا باقی ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ انتخابی حلقہ بندیوں میں آج کی صورتحال کو مدِ نظر رکھ کر نشستوں کی فراہمی ممکن بنائی جائے نہ ماضی کے مطابق۔ ماضی میں ہونے والی مردم شماریوں پر بھی اعتراض اٹھائے گئے۔ 1961 میں ہونے والی مردم شماری پر مشرقی پاکستان کی جانب سے یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ ان کی آبادی کو کم ظاہر کرکے ان کے وسائل پر ڈاکا مارا جارہا ہے۔ اسی طرح 1982 میں بھی کراچی کی آبادی کو کم ظاہر کیا گیا اور سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس پر اس وقت کے سیکرٹری داخلہ محمد خان جونیجو نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے وفاق کے دباؤ پر کراچی کی آبادی کے اعداد و شمار میں رد و بدل کیا۔ 1991 کی مردم شماری بھی سیاست کی نظر ہوگئی تھی اس وقت بلوچستان اور کراچی کی آبادیوں میں غلطیاں اور تضاد پایا گیا تھا۔1998 کی مردم شماری کو آج تقریباً اٹھارہ سال ہو چکے ہیں، چھٹی مردم شماری 2008 میں ہونا تھی مگر اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے مردم شماری کرانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔موجودہ مردم شماری کے عبوری نتائج پر ابھی سے سیاسی جماعتوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں جوکہ خوش آئیند علامت نہیں۔ایم کیو ایم پاکستان نے مردم شماری 2017ء  کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی آبادی کم دکھاکر یہاں کی رہنے والی تمام قومیتوں کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مردم شماری میں شہر کی آبادی 1کروڑ 60 لاکھ دکھائی گئی ہے جبکہ کراچی میں 3کروڑ کے قریب لوگ رہتے ہیں۔حالیہ مردم شماری میں شہر کی آبادی سے 1کروڑ 40لاکھ لوگوں کو لاپتا کردیا گیا ہے،وہ 2017ء  کی مردم شماری کو مسترد کرتے ہیں اور ادارہ شماریات کی مذمت کرتے ہیں۔اسی طرح پاک سرزمین پارٹی نے بھی مردم شماری کے ابتدائی نتائج کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں کراچی میںاٹھارہ ٹائون بنائے گئے تھے جن کے مطابق کراچی کی مجموعی آباد ی 02 کروڑ سے زائد تھی جبکہ نئے اعداد و شمار کے مطابق یہ آبادی کم ہو کر صرف ایک کروڑ چالیس لاکھ رہ گئی ہے۔اسی طرح پیپلزپارٹی  اور دیگر چھوٹی جماعتوں نے بھی ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے اور انکی جانب سے پیش کر دہ تحفظات کو دورکرے۔مردم شماری کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم ہوتی ہے اور عوامی ضروریات کے مطابق منصوبوں کیلئے وسائل مختص کئے جاتے ہیں۔ یہ بالکل واضح ہے کہ کوئی بھی ملک اپنی آبادی کے درست اعداد و شمار کو جانے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔لیکن کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں مردم شماری کے نتائج کو درست اور حقیقت پر مبنی تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا؟ تعصب اور نسلی امتیاز کو کیوں ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ہمارا نظام شفاف کیوں نہیں ہو سکتا کہ کہ اس اعدادوشمار کی چھلنی پر سب کو اعتماد ہو۔اعتراضات کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ یاد رکھیں اگر کوئی سیاسی جماعت اپنے مفاد کی خاطر اعدادوشمار میں ہیر پھیر کرتی ہے تواس کے نتائج انتہائی بھیانک ہو نگے۔ہم ایک قوم ایک قوت اور ایک جان تب ہی ہونگے جب ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد ہو گاوگرنہ آنے والی نسلیں اس معاف نہیں کریں گی۔



Read more

قائد اعظم اور دو قومی نظریہ کے سچے جانشین۔۔۔میر افسر امان

اگر پاکستان کے سیاسی حالات پرذراگہری نذرسے دیکھا جائے تو قائد اعظم  اور دوقومی نظریہ کے سب سے پہلے اور سچے جانشین ہندوستان سے ہجرت کر کے آنے والے مسلمان اور اس کے بعد ان کو خوش آمدید کہنے والے پاکستان کی خاموش اکثریت والے عام مسلمان عوام ہیںجو اللہ اوررسولۖ اللہ کے بتائے ہوئے اسلامی نظام ، حکومت الہیہ، نظام ِمصطفےٰ کے نام پر مر مٹنے کے لیے ہر قوت تیار رہتے ہیں۔ جن کو قائد اعظم  نے تحریک پاکستان کے دوران اس بات کی نوید سنائی تھی کہ دو قومی نظریہ کے تحت پاکستان حاصل کرنے کے بعد پاکستان میں مثل مدینہ اسلامی فلاحی ریاست قائم کی جائے گی جو امت مسلمہ کی ہمیشہ سے خواہش تھی اور اب بھی ہے۔ اس کی تشریع کرتے ہوئے قائد اعظم نے ٢٦مارچ  ١٩٤٨ء چٹاگانگ میں مسلمانوں سے فرمایا تھا'' اتنا یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا (مقصدحیات) اسلام کے بنیادی اصولوں پر مشتمل جمہوری نوعیت کا ہو گا ان اصولوں کا اطلاق ہماری زندگی پر اسی طرح ہو گا جس طرح تیرہ سو سال قبل ہوا تھا''۔ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم   نے قیامِ پاکستان سے پہلے٢٢ اکتوبر  ١٩٣٩ء کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا'' مسلمانو! میں نے بہت کچھ دیکھا ہے۔ دولت،شہرت اور آرام و راحت کے بہت لطف اٹھائے اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سر بلند دیکھوں ۔میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یہ یقین اور اطمینان لے کر مروں کے میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہیں کی اور مسلمانوں کی آزادی، تنظیم اور مدافعت میں اپنا حق ادا کر دیا میں آپ سے اس کی داد اور صلہ کا طلب گار نہیں ہوں میں یہ چاہتا ہوں کہ مرتے دم میرا اپنا دل، میرا ایمان اور میرا اپنا ضمیر گواہی دے کہ جناح تم نے واقعی مدا فعت اسلام کا حق ادا کر دیا اور میرا خدا یہ کہے کہ جناح بے شک تم مسلمان پیدا ہوئے مسلمان جئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبہ میں اسلام کے علم کو بلند رکھتے ہوئے مرے'' ۔ ڈاکٹر پروفیسر ریاض علی شاہ اور کرنل الہی بخش قائد اعظم کے ذاتی معالج کی موجودگی میں قائد اعظم  نے موت سے دو دن پہلے کہا تھا''آپ کو اندازہ نہیں ہو سکتاکہ مجھے کتنا اطمینان ہے کہ پاکستان قائم ہو گیا اور یہ کام میں تنہا نہیں کر سکتا تھا جب تک رسول ۖ ِ خدا کا مقامی فیصلہ نہ ہوتا اب جبکہ پاکستان بن گیا ہے اب یہ لوگوں کا کام ہے کہ خلفائے راشدین  کا نظام قائم کریں۔'' حوالہ ڈاکٹر پروفیر رریاض کی ڈائری کے صفحات''۔کیا قائد اعظم کے بعد اقتدار کے بھوکے سیاست دانوں نے اس خاموش اکثریت کا میڈیا،دھن دولت،جبر، وڈھیرا شاہی، تھانہ اور پٹواری کلچر کے اپنے وسائل استعمال کر کے ان کی خواہشات کا احتصال اور  نہیںخون کیا؟۔ کیا قائد کی جانشین مسلم لیگ ،جو کبھی کنونشن لیگ،جونیجو لیگ، ق لیگ اور ن لیگ کے روپ میں پاکستان میں اقتدار اور اختیار ہونے اور پاکستان کا اسلامی آئین ہونے کے باوجود پاکستان میں قائد کے ویژن اور تحریک پاکستان میں برصغیر کے مسلمانوں کے وعدے کے مطابق بابرکت مثل مدینہ اسلامی ریاست قائم کی؟ یقیناً نہیں کی۔ آج کل نواز شریف اقتدار سے تا حیات نا اہل ہونے کی وجہ سے پروپگنڈا کر رہے ہیں کہ پاکستان کے١٨ وزیر اعظوں کو مدت پوری نہیں کر نے دی گئی اور مجھے اقتدار سے کیوں ہٹا دیا گیا۔ شاید اس کی وجہ پاکستان میں اسلامی حکومت قائم کرنے کا جو اللہ اور برصغیر کے مسلمانوں سے کیا گیا تھا، وعدہ پورا نہ کرنا ہو جو تحریک پاکستان کے دوران کیا گیا تھا ۔ اس وجہ سے اللہ کی مشیت کے تحت پاکستان کے ١٨ وزیر اعظم اپنی مدت پوری نہ کر سکے اور اقتدار سے علیحدہ کر دیے گئے۔ قائد اعظم کے سچے جانشین وہ بھی ہیں جو اقتدار میں نہیں تھے مگر حکمرانوں پر دبائو ڈالتے رہے کہ اللہ کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں اللہ کا نظام قائم کیا جائے۔ان میں پاکستان کے علماء اور دینی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ جماعت اسلامی نے علماء کو ملا کر پاکستان بننے کے بعد ہی اسلامی دستور کی مہم شروع کر دی تھی۔ پھرقر ارداد مقاصد کی منظوری کے بعد١٩٥٤ء میں ملک کا اسلامی دستور بن گیا تھا۔ اس کے نفاذ کا بھی اعلان ہو گیا۔ مگرغلام محمد گورنر جنرل جسے لوگ قادیانی سمجھتے ہیں نے٢٣  اکتوبر ١٩٥٤ کو اسمبلی توڑ کر منسوخ کر دیا۔ڈکٹیٹرایوب خان نے مارشل لا لگا دیا۔ امریکا کے کہنے پر مسلمانوں کے عائلی قوانین میں تبدیلی کی جو غلام محمد کے بعد پاکستان میں اسلامی نظام کی نفی تھی۔ عوام کے غضب کے سامنے ایوب خان نہ ٹھر سکے اور اقتدار ایک شرابی ڈکٹیٹر یخییٰ کے حوالے کر گئے۔ اس دوران ملک کے دو ٹکڑے ہو گئے۔مشرقی پاکستان کے مسلمان مغربی پاکستان کے مسلمانوں سے علیحدہ ہو گئے۔صاحبو! مسلمان حکمران جو اسلام کے آفاقی نظام کے تحت دنیا کے پونے چار براعظموں کے مختلف زبانوں،ثقافتوں اور تہذہبوں رکھنے والے قوموں کوایک ہزار سال تک ایک خدا ، ایک رسولۖ اور ایک قرآن کی تعلیمات کے تحت کامیابی سے ایک ساتھ جوڑ کر حکومت کرتے رہے۔ پاکستان کے نا عاقبت اندیش حکمران اسلامی نظام رائج نہ کر کے٢٤ سالوں میں صرف ایک بنگالی قوم کے مسلمانوں کو ساتھ نہ رکھ سکے ۔بھٹو کے کارناموں میں پاکستان کو ایک متفقہ اسلامی آئین شامل ہے گو کہ اس نے اس اسلامی آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا اور عوام کا نظام مصطفےٰ کا مطالبہ نہیں مانا۔ کبھی اسلامی شوشلزم اور کبھی روشن خیالی کے پر فریب نعروں پر ملک چلایا۔ ملک میں افراتفری سے ڈکٹیٹر ضیا الحق نے فاہدہ اُٹھا کر ملک میں مارشل لا لگا دیا۔ اس نے کچھ اسلامی دفعات نفاذ کیں مگر وہ بھی نامکمل تھیں۔پھر باری باری ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی سیاسی حکومتیں قائم ہوئیں مگر کسی نے بھی قائد  کے ویژن اور اللہ سے وعدے پر عمل نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی سے توعوام کوکچھ بھی امید نہیں تھی۔ (ن )مسلم لیگ جو قائد کی مسلم لیگ کے نام پر تھی اس سے عوام کو کچھ امید تھی۔ مگر نواز شریف نے قائد اور دوقومی نظریہ کی بیج کنی کرتے ہوئے الٹی گنگاہ بہا دی۔  ذراملاختہ فرمایں کہ ''قائد لاہور میں٢٣مارچ ١٩٤٠ء میں فرماتے ہیں کہ ہم مسلمان ہندوئوں سے علیحدہ قوم ہیں۔ ہمارا کلچر،ہماری ثقافت ،ہماری تاریخ ، ہماراکھانا پینا ہمارا معاشرہ سب کچھ یکسر ان سے مختلف ہے'' اور نا اہل وزیر اعظم نواز شریف ١٣ اگست ٢٠١١ء میں لاہور ہی میں فرماتے ہیں کہ''ہم مسلمان ہندو ایک ہی قوم ہیں ہماراایک ہی کلچر ایک ہی ثقافت ہے ہم کھانا بھی ایک جیسا کھاتے ہیںصرف درمیان میں ایک سرحد کا فرق ہے''۔ اس طرح پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے بر عکس قائد کی مسلم لیگ کی جانشین ن مسلم لیگ کے سابق سربراہ، تم نے تو قائد کے ساتھ بلکہ مسلمانان برصغیر اور پاکستان کے مسلمانوں کے ساتھ غداری کی ۔ قائڈ اور دوقومی نظریہ کی نفی کی۔ پاکستان کے خزانے کو لوٹا۔ ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے تمھیں عوامی عہدے سے تا حیات نا اہل قرار دے دیا۔ اب تم کہتے ہو مجھے کیوں ہٹایاگیا۔ پاکستان کے آئین کی کھلم کھلا آئین کی خلاف دردی کر رہے ہو۔ عدلیہ اور ملک کی مسلح افواج کے خلاف بغاوت پر اتر آئے ہو ۔اسی لیے لاہور ہائی کورٹ نے آئین  کے مطابق فوج اور عدلیہ خلاف آپ کے بیانات کی اشاعت پر پابندی لگا دی ہے۔ پہلے کہا جمہوریت ختم ہو جائے گی۔ آئین کے مطابق ن مسلم لیگ کا وزیر اعظم ملک چلا رہا ہے ،جمہوریت چل رہی ہے ۔صرف کرپشن میں پکڑاجانے والانواز شریف حکومت میں نہیں ہے۔صاحبو! ملک میں قائد اور دو قومی نظریہ کے سچے جانشین ملک کے بیس کروڑ سے زائد مسلمان اور نظریہ پاکستان پریقین رکھنے والی سیاسی اور دینی جماعتیں ہیںجن میںسر فہرست جماعت اسلامی ہے۔ جو کشمیر میں قائد کے تکمیلِ پاکستان کی تحریک جاری کیے ہوئے ہے۔ جس نے افغانستان میں سرخ ریچھ کو پاکستان پر قبضہ سے روکا۔ جو دنیامیں مسلمانوں کی پشتی بان ہے۔ جس کے لیڈروں کو بنگلہ دیش میں پاکستان کی فوج کا ساتھ دینے اور دو قومی نظریہ کی پاسداری کی وجہ سے سولیوں پر چڑھایا جا رہے۔ اب تک جماعت اسلامی کے ١٢لیڈروں کو بھانسیاں دی جا چکی ہیں۔ سیکڑوں کارکن جیل میں بند ہیں ۔ جو کرپشن سے پاک ہے۔ جس کے امیر کو ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے صادق اور امین کہا ہے۔ یہ ہیں قائد اور دو قومی نظریہ کے سچے جانشین۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین۔                                                                                                


Read more

کچھ تذکرہ ضیاء آمریت کا۔۔۔ضمیر نفیس

شاعر نے یاد ماضی کو عذاب قرار دیا ہے مگر میں ان خوش قسمت افراد میں سے ہوں جن کا ماضی شاندار اور قابل فخر رہا ہے دولت سے حال اور ماضی شاندار ہوتا ہے نہ قابل فخر البتہ یہ اعلیٰ مقاصد اور اس کے حصول کی جدوجہد سے ہوتا ہے جس ترقی پسندی کے ساتھ شاعری اور صحافت کے میدان میں قدم رکھا تھا اس پر قائم رہنے اور اس کاذ کے لئے جدوجہد پر اطمینان معمولی کامیابی نہیں میری یہ بھی خوش قسمتی رہی کہ اس سفر کے دوران ایسے شریک سفر ملے جن سے نظریاتی ہم آہنگی تھی  صحافت کے سفر میں ضیاء الحق کا دور کٹھن تھا اپوزیشن کے ترجمان اخبار ''حیدر'' کے ایڈیٹر کی حیثیت سے اس وقت کے سیکرٹری اطلاعات جنرل مجیب الرحمان خیبرپختونخواہ کے گورنر جنرل فضل حق اور آزادکشمیر کے چیف ایگزیکٹو بریگیڈئیر حیات کے ساتھ بڑے معرکے ہوئے مجیب الرحمان کی دھمکیوں کے علاوہ اشتہارات اور نیوز پرنٹ کے کوٹہ کی بندش بھی تھی مگر پوری ٹیم کے اندر ایک جذبہ تھا جسے فوجی حکومت ماند نہ کر سکی۔حافظ طاہر خلیل میرے معتمد ترین ساتھیوں میں سے تھے بہت کم احباب جانتے ہیں کہ وہ ایک زبردست ترقی پسند شخصیت ہیں خوبصورت تحریر کے ساتھ موثر خبر بنانے کا ہنر رکھتے ہیں انہوں نے سیاسی رپورٹ کے علاوہ اخبار میں شفٹ انچارج کی حیثیت سے بھی کام کیا' ترجمہ بھی کیا' جس شعبہ میں کمی دیکھی آگے بڑھ کر فرائض ادا کئے' بھٹو دور میں اس وقت کے وفاقی وزیر ممتاز بھٹو کے پریس سیکرٹری بھی رہے بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ بھی کام کیا ان کی بہت سی خوبیوں میں یہ بھی ہے کہ  وہ قائل کرتے ہیں اور قائل ہونا بھی جانتے ہیں سی آر شمسی جو ایک دور میں پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل رہے چکوال میں ہمارے اخبار کے نامہ نگار تھے انہوں نے مجھے کہا کہ وہ راولپنڈی میں رہائش اختیار کرنا چاہتے ہیں ۔ پنڈی میں ان کے لئے جگہ بنائی جائے میں نے ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر ہاں کی اور راولپنڈی میں شروع میں انہیں سٹی رپورٹر اس کے بعد سیاسی رپورٹر کی ذمہ داریاں بھی دیں اس طرح ہمارے اخبار نے صحافیوں کے مستقبل کے لیڈر کو مواقع فراہم کئے منظور صادق حیدر کے نیوز ایڈیٹر تھے اگرچہ احمدی تھے اس کے باوجود حافظ طاہر خلیل ان کی عزت کرتے تھے اور دفتر میں ایک دوستانہ ماحول تھا۔ یہ معمولی بات نہیں تھی ایک ایسا ماحول تھا جس میں مذہب اور عقیدے کی بنیادپر کوئی تعصب نہ تھا سب کا ایک ہی مشن تھا جمہوریت کی بحالی ترقی پسندانہ فکر کا فروغ اور استحصالی معاشرے کا خاتمہ' محمد عاشق  اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں زبردست محنتی سب ایڈیٹر تھے اکرم سلیم نو آموز کارکنوں میں شامل تھے جلد ہی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور اندر کی ایک کاپی کے انچارج بنا دئیے گئے۔راجہ ظفر الحق جنرل ضیاء الحق کے وفاقی وزیر اطلاعات تھے جنرل ضیاء نے کہا تھا وہ میرے اوپننگ بیٹسمین ہیں تاہم  سیکرٹری اطلاعات جنرل مجیب الرحمان جو پرویزی تھے بہت زیادہ طاقتور تھے ہمارا پی آئی ڈی اور حکومت سے جھگڑا یہ تھا کہ ہم ایم آر ڈی کو نام نہاد لکھنے کے معاملے میں حکومت کا  حکم نہیں مانے تھے کم و بیش تمام اخبارات نے ایم آر ڈی کو نام نہاد لکھنا شروع کر دیا تھا۔ حکومت کی دوسری تکلیف اخبار کے سخت اداریے اور میرا زیر زبر کے عنوان سے کالم تھا ایک دن مجھے پی آئی او نے کہا کہ کل آپ کی سیکرٹری اطلاعات سے دس بجے میٹنگ طے پائی ہے آپ ہماری بات تو مانتے نہیں اب آپ جانیں اور وہ جانیں مختصراً اگلے روز میں وقت مقررہ پر پہنچا جونہی کمرے میں داخل ہوا اپوزیشن کے ترجمان اخبار کے ایڈیٹر کی انہوں نے اس طرح پذیرائی کی ''کیا ایم  آر ڈی لگا  رکھی ہے اخبار سمیت آپ سب کو بند کردونگا'' میں نے ہنس کر کہا جنرل صاحب میں آپ کا مہمان ہوں پہلے مجھے بیٹھنے کو کہیں پھر ٹھنڈا گرم پوچھیں اس کے بعد ڈانٹ ڈپٹ بھی کرلیں انہیں فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا بیٹھنے کو کہا اور ٹھنڈا گرم منگوایا مجھے ٹرسٹ کے اخبار میںزیادہ تنخواہ کی پیشکش کی میں نے کہا پالیسی چیف ایڈیٹر کی ہے میرے بعد ہوسکتا ہے مجھ سے بھی زیریلا آئے مسئلہ تو وہیں رہے گا' کہنے لگے جنرل ضیاء کا موڈ صبح صبح آپ کے اخبار کو پڑھ کر خراب ہوتا ہے اور مجھے فون کرتے ہیں کہ ایک اخبار آپ سے قابو نہیں ہو رہا میں ہے کہا آپ ان کو ہمارا اخبار بھجواتے ہی کیوں ہیں کہنے لگے یہ بھی کرکے دیکھ لیا وہ حیدر مانگتے ہیں مجیب الرحمان کہنے لگے راہ راست پر آجائو ورنہ! اس ملاقات کے ایک ہفتے بعد  اخبار کے چیف ایڈیٹر محمد رفیق بٹ کو نظر بند کر دیا گیا۔


Read more

ایوان کی طرف سے سعودی عرب کو مذاکرات کی پیشکش

ایران کے عازمین حج کو اس بار سعودی حکومت کی طرف سے جو سہولتیں فراہم کی گئیں انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی مزید بہتری کا راستہ کھولا ہے چنانچہ ایران کی طرف سے سعودی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق حج تنظیم کے سربراہ علی غازی عسکر نے ایرانی عازمین کے لئے الگ سے نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممالک کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو ڈائیلاگ اور مذاکرات کے ذریعے طے کریں ان کا مزید کہنا تھا کہ حج کے کامیاب انعقاد کے بعد دونوں فریقوں کے لئے یہ ایک اچھا وقت ہے کہ وہ دوسرے شعبوں میںاپنے دوطرفہ امور کو طے کرنے کے لئے مذاکرات کریں ادھر ایران کے وزیر خارجہ محمد جواذ ظریف نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک واضح تبدیلی کی تصویر کے منتظر ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سال 86 ہزار کے لگ بھگ ایرانیوں نے فریضہ حج ادا کیا اور سعودی حکومت کی طرف سے کئے گئے انتظامات کو بے حد سراہا۔ صدر ایران حسن روحانی نے کہا تھا کہ اس سال کسی ناخوشگوار واقعہ سے پاک حج سے تہران اور ریاض کے درمیان دوسرے شعبوں میں بھی اعتماد کی فصا پیدا کرنے  میں مدد مل سکتی ہے۔ ہماری دانست میں ایران کا مثبت رویہ اہم پیش رفت ہے ایران کی حج تنظیم کے سربراہ کے بیان سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک خوشگوار فضا پیدا  ہوئی ہے اس فضا کو دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے  لئے استعمال میں لایا جانا چاہیے ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی علامتی پیرائے میں خوبصورت بات کی ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ دونوں ممولک کے تعلقات میں ایک واضح تبدیلی کی تصویر کے منتظر ہیں گویا وہ امید کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہتری کا رخ اختیار کریں گے ہمارے نزدیک سعودی عرب اور ایران کے درمیان خوشگوار تعلقات مسلم امہ کے مفاد میں ہیں جو دونوں ملکوں کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے مظہر ہیں  دونوں ملکوں کو یہ حقیقت اپنے پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اسلام دشمن طاقتیں مسلم ممالک میں اتحاد اور یکجہتی کے خلاف ہیں ان کا مفاد اسی میں ہے کہ مسلم ریاستیں متحد نہ ہوں ایک دوسرے سے برسرپیکار رہیں اور وہ ان کے وسائل لوٹتے رہیں اسلام اتحاد کا درس دیتا ہے اور مسلم ممالک کو اسلام کے اس اصول پر عمل پیرا ہونا چاہیے ہم توقع کرتے ہیں کہ سعودی حکومت کی طرف سے بھی ایران کے مثبت اور پرجوش جذبات کا خیر مقدم کیا جائے گا۔



Read more

پاکستان کا مضبوط موقف' امریکی وضاحتیں

صدر امریکہ کی طرف سے نئی افغان پالیسی کے حوالے سے پاکستان کے بارے میں جو لب و لہجہ اختیار کیا گیا پاکستان کی پارلیمنٹ حکومت اور آرمی چیف کی طرف سے اس کا جس موثر انداز میں جواب دیا گیا اس کے نتیجے میں اب امریکہ اپنے موقف کی وضاحتیں پیش کرنے لگا ہے اور اس کے موقف میں بھی قدرے تبدیلی سامنے آئی ہے اسلام آباد میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے وزیراعظم کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ناصر جنجوعہ سے ملاقات کے دوران امریکی پالیسی کے اہم نکات کی جو وضاحت کی ہے اسے بڑی حد تک اطمینان بخش قرار دیا جاسکتا ہے امریکی سفیر نے واضح کیا کہ صدر امریکہ نے افغانستان میں ناکامی کا الزام پاکستان پر عائد نہیں کیا یہ کہنا بھی درست نہیں کہ انہوں نے نظرثانی کی پالیسی میں افغان مسئلہ کا فوجی حل قرار دیا ہے ان کا کہنا تھا کہ فوجی حل مسئلہ کا محض ایک پالیسی جزو ہے اسی طرح افغان مسئلہ کے حل کے لئے پاکستان کے کردار کو خارج از امکان قرار دنہیں دیا جاسکتا  اس مقصد کے لئے پاکستان' افغانستان' چین اور امریکہ پر مشتمل جو رابطہ گروپ قائم کیا گیا ہے اسے فعال کرنے پر غور ہو رہا ہے جس میں پاکستان کا کردار یقینا اہم ہوگا امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں امریکہ ان کا اعتراف کرتا ہے ہم افغان مسئلہ کے حل کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے تعاون کے خواہاں ہیں ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف تعاون پر مبنی اپنا کردار جاری رکھے گا امریکی سفیر نے یہ بھی واضح کیا کہ افغانستان میں اضافی فوج کی تعیناتی کا مقصد افغان فوج کو تربیت  فراہم کرنا ہے افغانستان میں موجود کمانڈوز کے اضافی اختیارات کا مقصد پاکستان مخالف تحریک طالبان کے خلاف فوری کارروائی کرنا ہے افغان حکومت کو بھی دہشت گردی پر قابو پانے  اور لوگوں کے دل و دماغ جیتنے گورننس کو بہتر بنانے کے لئے کہا گیا ہے امریکی سفیر نے افغانستان میں بھارت کے کردار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پاکستان کے جذبات سے بخوبی آگاہ ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں اپنا کردار  ادا کرنے کو تیار ہے افغانستان میں بھارت کا کردار صرف معاشی ترقی کے لئے ہے جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے امریکی سفیر پر واضح کیا کہ پاکستان امریکی پالیسی کا جائزہ لے رہا ہے اسے ابھی بعض تفصیلات اور مزید وضاحتیں درکارہیں پاکستان افغانستان میں دیرپا امن کے لئے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے انہوں نے کہاکہ امریکہ کا رویہ مایوس کن تھا دنیا کے سامنے پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کئے گئے اسے دھمکیاں دی گئیں اس کا غلط تشخص پیش کیا گیا۔ یہ سب ہمیں کسی صورت قبول نہیں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو غلط انداز میں دہشت گردی کے ساتھ منسلک کیا گیا نئی افغان پالیسی نے خطے کے توازن میں بگاڑ پیدا کیا اسی باعث پاکستان کے عوم اور پارلیمنٹ نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو  غلط نہ ہوگا کہ پانی پالیسی کی تشریح اور وضاحت کے نام پر امریکہ بعض معاملات میں اعلان کردہ پالیسی سے پیچھے ہٹ رہا ہے ' صدر ٹرمپ نے جس پالیسی کا اعلان کیا تھا اس میں چار ممالک پر مشتمل رابطہ گروپ کا کوئی تذکرہ اور کردار نہ تھا کئی ماہ سے امریکہ اس رابطہ گروپ کو نظرانداز کر رہا تھا جبکہ پاکستان کا یہ اٹل موقف تھا کہ چین' افغانستان ' امریکہ اور پاکستان پر مشتمل گروپ کو افغانستان میں قیام امن کے لئے کوششیں تیز کرنی ہیں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ پاکستان اور دیگر ممالک کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ مسئلہ افغانستان کا حل طاقت کے استعمال میں  نہیں ہے بلکہ مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے اسے حل کیا جاسکتا ہے اس کے برعکس صدر ٹرمپ نے فوجی طاقت کے استعمال پر زور دیا تھا اب امریکہ نے یہ وضاحت کی ہے کہ فوجی حل پالیسی کا محض ایک جزو ہے گویا مذاکرات کے ذریعے بھی قیام امن کے لئے کوششیں کی جاسکتی ہیں۔ یہ امر بھی اطمینان بخش ہے کہ امریکی وضاحت میں افغانستان کے اندر پاکستان مخالف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے اور یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بھارت کا افغانستان میں کردار محض معاشی حوالے سے ہے اس کے علاوہ کوئی کردار نہیں ہے۔ قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے بجا طور پر کہا کہ پاکستان کو امریکی پالیسی کے حوالے سے مزید وضاحتیں درکار ہیں ادھر امریکہ نے چار ہزار مزید فوجیوں کی افغانستان میں تعیناتی کا اعلان کیا ہے  جبکہ آٹھ ہزار کے لگ بھگ پہلے سے موجود ہیں اس تناظر میں عسکری کارروائیوں کے ذریعے کسی کامیابی کی توقع عبث ہے امریکہ اگر بڑھکیں لگانے کے بجائے امن عمل کو آگے بڑھانے کے لئے سنجیدگی سے کوششیں کرے  اور چار ملکی رابطہ گروپ کو فعال بنائے تو یقینا افغان تنازعہ کے حل کی توقع کی جاسکتی ہے۔

Read more

جی ایچ کیو میں یوم دفاع کی مرکزی تقریب، آرمی چیف مہمان خصوصی

جنرل ہیڈ کوارٹرز میں یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے مرکزی تقریب جاری ہے جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت اعلی سیاسی و عسکری شخصیات شریک ہیں۔جی ایچ کیو میں جاری تقریب میں پاک فوج کی جرات، بہادری اور قربانیوں کو سراہا اور وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ تقریب کے مہمان خصوصی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں جبکہ ایئر چیف سہیل امان اور نیول چیف ایڈمرل محمد ذکا اللہ بھی تقریب میں موجود ہیں۔اس کے علاوہ تقریب میں وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیر خارجہ خواجہ آصف، وزیر دفاع خرم دستگیر، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، مریم اورنگزیب، قائد حزب اختلاف خورشید شاہ، چینی سفیر سن وائی ڈونگ اور دفاع وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کے اہل خانہ بھی شریک ہیں۔تقریب میں ملی نغموں اور قومی ترانوں کے ذریعے پاک وطن کے دفاع میں اپنی جانیں نچھاور کرنے والے عظیم شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔ اس موقع پر کشمیر میں بھارتی فورسز کے ظلم و بربریت کی بھی مذمت کی گئی اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی گئی۔


Read more

انصارالشریعہ سے تعلق کے الزام میں جامعہ کراچی کے لیکچرار اوران کا بیٹا گرفتار

پولیس اہلکاروں پر حملوں میں ملوث تنظیم انصار الشریعہ سے تعلق کے الزام میں جامعہ کراچی کے استاد اور ان کے بیٹے کو گرفتار کرلیا گیا۔انصار الشریعہ کے گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کا گھیرا مزید تنگ ہوگیا۔ سیکیورٹی اداروں نے جامعہ کراچی کی اسٹاف کالونی میں چھاپہ مار کر لیکچرار اور ان کے بیٹے دانش کو گرفتار کرلیا ہے۔ دونوں ملزمان کو حراست میں لے کر تفتیش کی غرض سے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق دانش مبینہ طور پر سائٹ ایریا اور عزیز آباد میں پولیس اور ٹریفک پولیس پر حملوں میں ملوث ہے،  دانش 2015 میں لندن کی یونیورسٹی سے پڑھ کر پاکستان آیا تھا اور پھر انصار الشریعہ میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ ملزم کے قبضے سے موبائل فون ، لیپ ٹاپ ، یو ایس بی اور دیگر اشیا بھی برآمد ہوئی ہیں۔

Read more

چیرمین سینیٹ کا ہزاروں طلبہ کا ریکارڈ ایجنسیوں کو دینے پر اظہار تشویش

چیرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو خط لکھ کر ہزاروں طلبہ کا ریکارڈ حساس اداروں کے حوالے کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔چیرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اجمل خان کو لکھے گئے خط میں یونیورسٹی کے طلبا کا ریکارڈ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو دیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ خط میں کہا گیا کہ جامعہ میں داخلے کے وقت مقامی تھانے سے کریکٹر سرٹیفکٹ لینے کے فیصلے پر تشویش ہے، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور پولیس سے رابطہ کرنے پر طلبا میں خوف اور بے چینی بڑھے گی۔چئیرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ سینیٹ کی قرارداد کے مطابق طلبہ یونینز بحال کی جائیں جس سے طلبہ کی مثبت سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا ، ادبی اور تعلیمی سرگرمیوں سے ایک مختلف مقف جنم لے گا۔ خط میں سفارش کی گئی کہ نصاب کا ازسر نو جائزہ لیا جائے اور نوجوانوں میں انتہا پسندی و تشدد روکنے کے لئے اقدامات کیے جائیں، طلبہ میں بڑھتی انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے نصاب میں بنیادی تبدیلیاں لانے اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ چیرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے امید ظاہر کی کہ وائس چانسلر جامعہ کراچی میرے نقطہ نظر کی روشنی میں بہتر فیصلہ کریں گے۔


Read more

وکلا بینچ تنازع،صدر ملتان ہائیکورٹ بار نے غیر مشروط معافی مانگ لی

ہائی کورٹ ملتان بینچ کے فاضل جج سے بدتمیزی سے متعلق نوٹس پر صدر ملتان ہائی کورٹ بار شیر زمان قریشی نے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ملتان میں وکلا کی ہائیکورٹ کے سینئیر جج کے ساتھ بدتمیزی کیس کی سماعت ہوئی۔ صدر ملتان ہائی کورٹ بار شیر زمان صدیقی نے پیش ہوکر غیر مشروط معافی نامہ جمع کرادیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جج سے کوئی بدتمیزی نہیں کی نہ ہی تختی اکھاڑی۔سینئیر وکیل کی جانب سے معافی نامے پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ واقعہ سے مجھے انتہائی دکھ ہوا آپ یہ بیان لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوکر دیتے تو اچھا تھا۔ کیس کی سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کردی گئی۔واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ میں سماعت کے دوران ملتان ہائی کورٹ بار کے صدر شیر زمان قریشی نے مبینہ طور پر جج سے بدتمیزی کی تھی جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے واقعے کا نوٹس لیا تھا۔ لاہور میں کیس کی سماعت کے دوران بھی وکلا نے عدالت عالیہ کی عمارت کا گیٹ توڑ دیا تھا۔


Read more

خواجہ اظہار حملہ؛ انصارالشریعہ کے سربراہ اور ملزمان کے والدین کے اہم انکشافات

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن پر حملہ کرنے والی تنظیم انصارالشریعہ کے سربراہ اور ملزمان کے والدین نے دوران تفتیش اہم انکشافات کیے ہیں۔انصارالشریعہ کے سربراہ ڈاکٹرعبداللہ ہاشمی نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے انصارالشریعہ نے 2015 کے آخر میں تنظیم کا آغاز کیا، تنظیم کے القاعدہ سے الحاق اور تعاون کے لئیعبداللہ بلوچ سے رابطہ کیا گیا۔ جس پر عبداللہ بلوچ نے اپنی مددآ پ کے تحت کام کرنے کو کہا، عبداللہ بلوچ 2012 تک کراچی میں تھا تاہم 2012 میں چھاپے کے دوران عبداللہ کے ٹھکانے سے اسلحہ اور بارود ملا تھا جس کے بعد عبداللہ بلوچ افغانستان فرارہوگیا تھا۔ڈاکٹرعبداللہ ہاشمی نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اس کا گروپ اعلی تعلیم یافتہ 10سے 12 لڑکوں پر مشتمل ہے، تمام لڑکے کراچی یونیورسٹی، این ای ڈی اور داد یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ہیں، یہ لڑکے افغانستان کے علاقے شراوک سے تربیت لے کر آئے ہیں،کراچی میں اپنے آپ کومنوانے کے لیے پولیس کی ٹارگٹ کلنگ کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خواجہ اظہار پر حملے کے مفرور مرکزی ملزم عبدالکریم عرف سروش کے والد سجاد صدیقی نے تحقیقاتی اداروں کو بتایا کہ سروش کی کئی مہینوں سے حرکات و سکنات مشکوک تھیں اور وہ زیادہ تر گم سم رہتا تھا، رات رات بھر جاگتا اور پوچھنے پر تسلی بخش جواب نہیں دیتا تھا۔ میرا بیٹا ایک سال کے دوران 2 مرتبہ ایک سے 2 ہفتوں کے لئے غائب ہوا تاہم بعد میں پتا چلا کہ سروش افغانستان گیا تھا، مجھے اس بات کا علم ہو گیا تھا کہ یہ کسی کالعدم تنظیم کے ساتھ کام کررہا ہے۔ مجھے اس بات کا علم تھا کہ یہ پولیس مخالف ہے، 2 سال پہلے ہماری گاڑی گلشن اقبال سے چوری ہوئی تھی اس کے بعد سروش پولیس سے اکثر الجھتا تھا۔ ایک سال قبل پتا چلا کہ سروش نے اسلحہ رکھا ہوا ہے، جب پولیس نے صبح چھاپا مارا تو میں نے اسے ہتھیار چلانے سے منع کیا  اور سرینڈر کرنے کا کہا لیکن وہ نہیں مانا۔


Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30