Get Adobe Flash player

September 2017

06 September 2017

ہمایوں سعید بالی ووڈ حسیناں کے دیوانے نکلے

نامور پاکستانی اداکار ہمایوں سعید کا کہنا ہے کہ انہیں بالی ووڈ میں کرینہ کپور بہت پسند ہیں اور اگر انہیں موقع ملا تو وہ کرینہ کپور کے ساتھ فلموں میں کام کرنا چاہیں گے۔پاکستان شوبز انڈسٹری کے صف اول کے اداکار ہمایوں سعید ان دنوں اپنی فلم پنجاب نہیں جاں گی کی کامیابی کاجشن منارہے ہیں، عید کے موقعے پر ریلیز ہونے والی فلم پنجاب نہیں جاں گی میں ہمایوں سعید کے علاوہ مہوش حیات اور عروہ حسین نے مرکزی کردارادا کیے ہیں۔ایک انٹرویو کے دوران فلم کی کامیابی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہمایوں سعید کا کہنا تھا کہ پنجاب نہیں جاں گی کی پوری ٹیم نے فلم کو بنانے میں کڑی محنت کی تھی جس کا ہمیں بہت اچھا نتیجہ حاصل ہوا ہے، فلم کو شائقین کی جانب سے بے حد پزیرائی مل رہی ہے، لوگ ہمیشہ اچھی اورمعیاری فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں اورہماری فلم میں یہ سب کچھ موجود ہے۔


Read more

دشمنوں کوباورکرانا ہے کہ قوم دندان شکن جواب دینے کے لئے متحد ہے، احسن اقبال

وزیردفاع احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک دہائی سے دہشت گردی سے جنگ میں مصروف ہے اوردشمنوں کو باور کرانا ہے کہ قوم دندان شکن جواب دینے کے لئے متحد ہے۔یوم دفاع پروزیر داخلہ احسن اقبال کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ 6 ستمبر1965 یاد دلاتا ہے کہ ہم نے دشمن کے بزدلانہ حملے اور ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا، پاکستان ایک دہائی سے دہشت گردی سے جنگ میں مصروف ہے، دشمنوں کو باور کرانا ہے کہ قوم دندان شکن جواب دینے کے لئے متحد ہے۔وزیرداخلہ نے کہا کہ دشمنان ارض پاک میں بد امنی اور انتشارپھیلانے کی کوششیں کررہے ہیں، آئیے عہد کریں کہ ہم دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنائیں گے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان ترقی کی ڈگرپرچل پڑا ہے اورشہیدوں پرفخرہے، پاکستان چند سالوں میں اقتصادی قوت کے طورپرابھرے گا اورسی پیک منصوبوں کی تکمیل سے بیروزگاری اورغربت کا خاتمہ ہوگا۔

Read more

ملک بھرمیں آج یوم دفاعِ پاکستان ملی جوش وجذبے سے منایا جا رہا ہے

ملک بھر میں 52واں یوم دفاعِ پاکستان ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے۔ملک بھر میں 52 واں  یوم دفاع پاکستان آج قومی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے، یوم دفاع پاکستان کے موقع پراسلام آباد میں دن کا آغاز 31 جب کہ صوبائی دارالحکومتوں میں  21، 21، توپوں  کی سلامی سے ہوا، مساجد میں  نماز فجر کے بعد ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔یوم دفاع پاکستان کے سلسلے میں تمام کنٹونمنٹس کے ساتھ مختلف شہروں میں پروقارتقاریب کا اہتمام کیا جارہا ہے اور 6 ستمبر 1965 کی جنگ میں جام شہادت نوش کرنے اور نشان حیدر پانے والے شہدا کی یاد گاروں پر پھول چڑھانے کے علاوہ قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کی جارہی ہے۔کراچی میں بابائے قوم  قائد اعظم محمدعلی جناح اور لاہور میں لعلامہ اقبال کے مزاروں  پرگارڈز کی تبدیلی کی تقاریب کا انعقاد پوا۔   یوم دفاع پاکستان کی مناسبت سے پشاور میں  پاک فوج کے زیر اہتمام کرنل شیر خان اسٹیڈیم اور کوئٹہ میں بھی پاک فوج کے زیر اہتمام عسکری میلے کا اہتمام کیا گیا۔


Read more

رائس ایکسپورٹرز کا روہنگیا کو پاکستان بسانے کا اعلان

پاکستان کی تاجربرادی میانمارمیں ظلم کا شکار روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے میدان میں نکل آئی ہے۔پاکستان کے چاول کے ایکسپورٹرز کی نمائندہ انجمن رائس ایکسپورٹر ایسوسی ایشن نے ایک ہزار مسلمان روہنگیا خاندانوں کو پاکستان لانے، ان کو جگہ فراہم کرنے کے ساتھ باعزت نوکری دینے اور ان کے بچوں کو تعلیم دلوانے کا اعلان کیا ہے۔رائس ایکسپورٹر ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمود مولوی کے مطابق ایک ہزار مسلمان روہنگیا خاندانوں کی آبادکاری کے علاوہ ایسوسی ایشن کا ایک وفد فوری طورپر بنگلہ دیش جاناچاہتا ہے جہاں وہ متاثرہ خاندانوں کو راشن اور دیگر چیزیں فراہم کرے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ بنگلہ دیشن میں موجود اپنے سفیر کے ذریعے ایسوسی ایشن کے اراکین کو ان کے کیمپس تک پہنچانے اور ان کی امداد کیلیے سہولتیں فراہم کرے۔محمود مولوی نے بتایا کہ ایک ہزار خاندانوںکی آباد کاری کیلیے ایسوسی ایشن نے وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، برما کے سفیراور اقوام متحدہ کے پاکستان مشن کو خط ارسال کردیے ہیں۔اس سلسلے میں رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان اور دیگر تجارتی ایسوسی ایشنز میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظالم کیلیے اظہار یکجہتی کے طور پر بدھ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کریں گی جس میں روہنگیا مسلمانوں کی امداد کے حوالے سے اہم اعلان کیا جائیگا۔


Read more

بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونیوالے نوجوانوں کی نماز جنازہ ادا

مقبوضہ کشمیرمیںگزشتہ روز بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونیوالے کشمیری نوجوانوںنعیم احمد نجاز اور پرویز احمد وانی کے آبائی علاقوں بارہمولہ اور کپواڑہ میں انکی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کئے۔اطلاعات کے مطابق بھارتی فوجیوںنے پیر کو سوپورکے علاقے شنکر گنڈ میں ایک کریک ڈائون آپریشن کے دوران پرویز احمد وانی اورنعیم احمدنجارکو شہید کردیا تھا۔سوپور اور ہندواڑہ کے مختلف علاقوں سے ہزاروں لوگوںنے آزادی کے حق میں نعروں کی گونج میں شہید نوجوان کے جنازے میں شرکت کیلئے مارچ کیا جبکہ خواتین نے شہید کی میت پر پھول برسائے اور متعدد مجاہدین نے علاقے میںفضا میں فائرنگ کر کے شہید نوجوان کو سلام پیش کیا۔ادھربھارتی فوجیوں کے ہاتھوں دونوجوانوں کی شہادت پر سوپور اور ملحقہ علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے اور سڑکوں پرٹریفک معطل رہی۔ قابض انتظامیہ نے لوگوں کو بھارت مخالف مظاہرے کرنے سے روکنے کیلئے سوپور میں فوجیوں کی بڑی تعداد کو تعینات کر رکھاتھا۔دریں اثناء ضلع کولگام کے علاقے قاضی گنڈ میں ایک حملے میں بھارتی فوج کی سینٹرل ریزروپولیس فورس کے پانچ اہلکار زخمی ہو گئے جبکہ جموں کے علاقے ستواری میں واقع ملٹری ہسپتال میں بھارتی فوج کا ایک لیفٹیننٹ کرنل سائیبل سبھاش دتہ دل کا دورہ پڑنے ہلاک ہو گیا ہے۔

 

 

Read more

06 September 2017

پاک فوج نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں قابل قدر کامیابیاں حاصل کیں،ایاز صادق

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم5 196کی جنگ میں پاک فوج کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں پر ان کی شکر گزار ہے جنہوں نے ملک کی سرحدوں کی حفاظت اور مادر ِ وطن کے وقار کے لئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہاریوم دفاع کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کیا جو پورے ملک میں قومی جوش و جذبے کے ساتھ6 ستمبر منایا جا ئے گا۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ اس دن کو منانے کا مقصدمسلح افواج کے ان ہیروز کو خراج تحسین اور نذرانہ عقیدت پیش کرنا ہے جنہوں نے اپنی لازوال قربانیوں کے ذریعے ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا۔ مسلح افواج کی دفاعی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ہمیں اپنی مسلح افواج کی جدید صلاحیتوں پر ناز ہے ا وراس امر کا پختہ یقین ہے کہ یہ مادروطن کے خلاف کسی بھی جارحیت کا منہ توڑجواب دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی افواج نے دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ میں قابل قدر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اسپیکر نے کہاکہ ان کامرانیوں کے نتیجے میں مسلح افواج نے قوم کے دل جیت لئے ہیں جو اس جنگ میں مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ سردار ایاز صادق نے 1965 کی جنگ میں عوام اور مسلح افواج کی جانب سے اتحاد کے بے مثال مظاہرے کوسراہتے ہوئے کہا کہ یہ دن پاکستان کی تاریخ کا ایک یادگاردن ہے جب ہر شخص نے ملک کے لیے اپنے بے لوث جذبے اور محبت کا ثبوت دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج ان بہادر، باہمت اور دلیرجانبازوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا موقع ہے جنہوں نے ملک اور قوم کی حفاظت کے لیے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ا من پسند ملک ہے اور خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پاکستانی مسلح افواج اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے ساتھ نبرد آزما ہے۔ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی نے اپنے پیغام میں ملک کے تحفظ کے لیے مسلح افواج کی اعلیٰ خدمات اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے انہیں بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 6ستمبر 1965ء کو قوم اور پاکستانی فوج نے جس جذبے، اتحاد اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا آج انہی جذبوں کے ساتھ ہم مْلک کو درپیش تمام چیلنجزسے نبرد آزما ہوتے ہوئے قوم کو ترقی و استحکام کی نئی بلندیوں تک لے جاسکتے ہیں

 

 

Read more

06 September 2017

ایک اور اسرائیل ۔۔۔ڈاکٹر تصور حسین

امریکہ بہادر اپنی کالونی انڈیا کو بنانا چاہتا ہے تاکہ جیسا اسرائیل نے عربوں بالخصوص فلسطینیوں کا جینا حرام کیا ہوا ہے اسی طرح جنوبی ایشیا بالخصوص چین اور پاکستان کو نتھ ڈالنے کے لئے ایک دوسرااسرائیل بنانا چاہتا ہے ۔ گزشتہ روز ریکس ٹلرس نے افغانستان کے مسئلے کے حل میں بھارت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھی افغان طالبان سے مذاکرات کرانے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ٹیلرسن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے شہریوں نے دہشت گردوں کے ہاتھوں جتنا ظلم سہا ہے اتنا ہم نے کہیں اور نہیں دیکھا۔امریکی وزیرِ خارجہ نے افغانستان کے لیے بھارت کو ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنرقرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی معاشی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے بھارت کی کوششیں اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اگلے ہفتے بھارت افغانستان کے لیے ایک اکنامک کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے اور ان کے بقول نئی دہلی کی ایسی تمام کوششوں کا مقصد افغانستان کے ساتھ تجارت اور باہمی تعلقات کو فروغ دے کر خطے میں امن قائم کرنا ہے۔اس سے قبل پیر کی شب جنوبی ایشیاء سے متعلق اپنی نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ پاکستان اربوں ڈالر کی امریکی امداد لینے کے باوجود شدت پسندوں کو پناہ فراہم کر رہا ہے جو امریکہ اور امریکی قوم کے دشمن ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان پالیسی میں پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کردی اور آئندہ کیلئے پاکستان سے ایک بار پھر ڈومور کا مطالبہ کردیا۔آرلینگٹن کے فوجی اڈے سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کیلوے امریکی پالیسی میں پاکستان سے متعلق پالیسی بیان کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردوں کی مبینہ پناہ گاہوں پر خاموش نہیں رہیں گے، پاکستان افراتفری پھیلانے والے افراد کو پناہ دیتا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان سے نمٹنے کے لیے اپنی سوچ تبدیل کر رہے ہیں جس کے لیے پاکستان کو پہلے اپنی صورتحال تبدیل کرنا ہوگی اور پاکستان تہذیب کا مظاہرہ کرکے قیام امن میں دلچسپی لے۔ جنوبی ایشیاء میں اب امریکی پالیسی کافی حد تک بدل جائے گی۔امریکی صدر نے اپنے خطاب میں ایک طرف پاکستانی عوام کی دہشتگردی کیخلاف قربانیوں کو سراہا تو دوسری جانب واضح کیا کہ پاکستان اربوں ڈالر لینے کے باوجود دہشتگردوں کو پناہ دے رہا ہے جب کہ ہم دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی مالی مدد کرتے آئے ہیں۔ پاکستان دہشتگردی کیخلاف ہمارا اہم شراکت دار ہے اس لیے پاکستان کا افغانستان میں ہمارا ساتھ دینے سے فائدہ، بصورت دیگر نقصان ہوگا۔ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دوایٹمی طاقتیں ہیں، ایٹمی ہتھیار دہشتگردوں کے ہاتھ نہیں لگنے دینا چاہتے تاہم پاکستان اور افغانستان میں ہمارے مقاصد واضح ہیں اس لیے پاکستان اور افغانستان ہماری ترجیح ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں صرف فوجی کارروائی سے امن نہیں ہو سکتا، سیاسی، سفارتی اور فوج حکمت یکجا کرکے اقدام کریں گے، افغان حکومت کی مدد جاری رکھیں گے اور امریکا افغان عوام کے ساتھ مل کر کام کرے گا اس لیے افغانستان کو اپنے مستقبل کا تعین خود کرنا ہوگا۔امریکی صدر نے کہا کہ دہشتگرد رکنے والے نہیں، بارسلونا حملہ ثبوت ہے، دہشتگردوں کو بزور طاقت شکست دیں گے۔ انہوں نے دہشتگردوں کو خبردار کرتے ہوئے کہ قاتل سن لیں، امریکی اسلحے سے بچنے کیلئے جگہ نہیں ملے گی اور دہشتگردی کے علمبرداروں کو دنیا میں کوئی جگہ نہیں ملے گی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں بھارتی کردار کا اعتراف بھی کیا اور مطالبہ کیا کہ بھار ت کریں گے، افغان حکومت کی مدد جاری رکھیں گے اور امریکا افغان عوام کے ساتھ مل کر کام کرے گا اس لیے افغانستان کو اپنے مستقبل کا تعین خود کرنا ہوگا۔امریکی صدر نے خطاب کے دوران دہشتگردی کے حوالے سے پالیسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد رکنے والے نہیں، بارسلونا حملہ ثبوت ہے، دہشتگردوں کو بزور طاقت شکست دیں گے۔ انہوں نے دہشتگردوں کو خبردار کرتے ہوئے کہ قاتل سن لیں، امریکی اسلحے سے بچنے کیلئے جگہ نہیں ملے گی اور دہشتگردی کے علمبرداروں کو دنیا میں کوئی جگہ نہیں ملے گی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں بھارتی کردار کے اعتراف بھی کیا اور مطالبہ کیا کہ بھارتی دہشتگردی کے خاتمے میں ہماری مدد کرے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو افغانستان میں چیلنج صورتحال کا سامنا ہے اس لیے افغانستان کو ہر زاویے سے دیکھ کر حکمت عملی تیار کی، ہم کسی نہ کسی طرح مسائل کا حل نکالیں گے اور دہشتگردی بڑھانے والوں پر معاشی پابندیاں لگائیں گے اور یقین ہے نیٹو بھی ہماری طرح فوج بڑھائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے بھی اپنی عوام کی طرح افغان جنگ میں طوالت پر پریشانی ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ نائن الیون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو کوئی نہیں بھول سکتا، یہ حملے بدترین دہشتگردی ہیں، ان کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد افغانستان سے ہوا تاہم امریکا کو بیرونی دشمنوں ۔امریکی صدر نے کہا کہ نائن الیون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کو کوئی نہیں بھول سکتا، یہ حملے بدترین دہشتگردی ہیں، ان کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد افغانستان سے ہوا تاہم امریکا کو بیرونی دشمنوں سے بچانے کیلیے متحد ہونا پڑیگا اور دہشتگردی کے خلاف ساتھ دینے والے ہر ملک سے اتحاد کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اتحادیوں سے مل کر مشترکہ مفادات کا تحفظ کریں گے اور دہشتگردوں کے مکمل خاتمے تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی قوم گزشتہ 16 سال کے جنگی حالات سے پریشان ہو چکی ہے جب کہ امریکا نے نسل در نسل مسائل کا سامنا کیا اور ہمیشہ فاتح رہا۔صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر پاکستان نے دہشت گردوں کی پشت پناہی جاری رکھی تو اس کا نقصان بھی سب سے زیادہ اسے ہی اٹھانا پڑے گا۔پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے صدر ٹرمپ کے پالیسی بیان پر اپنے ابتدائی ردِ عمل میں کہا ہے کہ امریکہ محفوظ پناہ گاہوں کے غلط دعوئوں کے بجائے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کا ساتھ دے۔پاکستان نے دہشت گردوں کو پناہ دینے کے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی نئی پالیسی میں پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستانی جنوبی ایشیاء میں قیامِ امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان کے دیرینہ اتحادی چین نے بھی نئی امریکی پالیسی پر اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ عالمی برادری کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔امریکہ بہادر ایک طرف پاکستان کو دوست جبکہ دوسری طرف عدم اعتماد کرتا ہے۔ امریکی صدر کے بیان کے بعد یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکہ بھارت کو تھانیدادی سونپ کر اپنی کالونی بنانا چاہتا ہے ۔ امریکہ کا یہ خواب کہ وہ جنوبی ایشیاء میں ایک اور اسرائیل بنا لے گاکبھی پورا نہیں ہوگاان شاء اللہ

Read more

06 September 2017

دبنگ جواب۔۔۔محمد ناصر اقبال خان

ہماری زندگی میں کئی دوراہے اورچوراہے آتے ہیں جہاں سے ایک راستہ اِنسان کو عزت وعظمت ، دوسراراستہ ہزیمت،رسوائی اورپسپائی جبکہ تیسراراستہ گمنامی،تاریک راہوں( یعنی جس کادنیا میں ہونانہ ہوناایک برابر ہو) جبکہ چوتھاراستہ روشن مستقبل کی طرف جارہاہوتا ہے۔پریشانیاں اوردشواریاں ہرشاہراہ پربکھری پڑی ہوتی ہیں مگرجو لوگ سوچ بچار سے درست راہ منتخب کرتے ہیںانہیں رفعت ،عفت اور عافیت نصیب ہوتی ہے ۔ جس طرح دنیا کسی نڈر انسان کی بہادری کامظاہرہ دیکھتی ہے اس طرح بزدل یاحد سے زیادہ مصلحت پسنداورمنافق بھی بے نقاب ہوجاتے ہیں ۔شہزادہ کونین حضرت امام حسین  تاریخ کاقابل فخر حصہ ہیں جبکہ یزید بھی تاریخ کاحصہ ہے مگر یذیدیت گندے جوہڑ میں نابود ہوگئی جبکہ حسینیت  آج بھی زندہ وتابندہ ہے ۔ہم حسینیت  کے پیروکار اورعلمبردار ہیں ،ماضی کے یذید اورفرعون حق پرغالب آ ئے تھے نہ عہدحاضر کاکوئی یذید اورفرعون کسی قیمت پرحق کومغلوب کرسکتا ہے۔دشمن کوشکست فاش سے دوچار کرنے کیلئے حمیت سب سے بڑاہتھیار ہے ، نڈر ہونے کے ساتھ غیورہونا بھی ضروری ہے۔اپنے ملک کی خودمختاری کی حفاظت کاراستہ خوددداری سے ہوکرجاتا ہے۔خود دار لوگ ناقابل شکست ہوتے ہیں ،انہیں قیدکیاجاسکتا ہے مگرغلام نہیں بنایاجاسکتا۔ اگر میدان لگ جائے توپھردشمن پررحم نہ کرو ،دشمن سے انتہاسے زیادہ نفرت آپ کی طاقت بن جاتی ہے۔جس طرح نریندرمودی کووزرات عظمیٰ ملنے سے بھارت کابیڑاغرق ہونااٹل ہوگیا تھا اس طرح ڈونلڈٹرمپ اپنے ہاتھوں امریکہ کی  یونائٹیڈ اسٹیٹس کا شیرازہ بکھیرنے کے درپے ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کومنصب صدارت ملنا امریکہ کے ڈائون فال کانکتہ آغاز ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پارٹ ٹو نریندر مودی کے ہاتھوں بھارت کی بربادی اٹل ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ہم وطنوں کودوطبقات میںتقسیم جبکہ منقسم ومنتشر پاکستانیوں کو آپس میں جوڑدیا ہے۔شدت پسندنریندرمودی کے دوراقتدارمیں بھارت میں ہندوئوں کی انتہاپسندی زوروں پر ہے،اب بھارت میں مسلمانوں اورسکھوں سمیت کوئی اقلیت اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتی ۔پاکستانیوں کوامریکہ کے عوام نہیں وہاں کے حکمرانوں سے شدیدنفرت ہے ،مودی کاانتہاپسندانہ ایجنڈا بھارت کی گردن کیلئے پھندابن جائے گا۔ حالیہ دہائیوں میں دنیا تبدیل ہوگئی مگر وہائٹ ہائوس میں باری باری راج کرنیوالے صدور اوردہلی کے مائنڈسیٹ میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ۔ایٹمی پاکستان کیخلاف نریندرمودی کے پشت بان ڈونلڈٹرمپ کی حالیہ ہرزہ سرائی نے امریکہ،اسرائیل اورانڈیا سے بیزارپاکستانیوں کوبیدار کردیا اوروہ ڈونلڈ ٹرمپ سے اظہار نفرت اوراس کی مذمت کیلئے شاہراہوں پرنکل آئے ہیں ۔بلوچستان کے طول وارض سمیت پاکستان بھر میں ڈونلڈٹرمپ کیخلاف پرامن اورپرتشدداحتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔حکمران جماعت کے وہ لوگ جوپاکستان کے قومی اداروں کیخلاف توزوردارآوازمیں چیخناچلانااپناجمہوری سیاسی حق سمجھتے ہیں مگر ڈونلڈٹرمپ کو جواب دینے میں ناکام رہے ۔ اقتدارمیں شریک سیاسی قیادت کی ناکامی اورغلامی کودیکھتے ہوئے پاکستان کے دبنگ سپہ سالار قمر کاقہر دشمن پرٹوٹ پڑا،ایساماضی میں کبھی نہیں ہوا۔جنرل قمرجاویدباجوہ پاکستان میں قیام امن اورسیاسی استحکام کیلئے کمربستہ ہیں۔آئی ایس آئی سمیت افواج پاکستان کے مختلف شعبہ جات انتہائی پیشہ ورانہ اورماہرانہ اندازمیں اپنااپنافرض منصبی انجام دے رہے ہیں ۔ جنرل قمرجاویدباجوہ کے آبرومندانہ اورجرأتمندانہ انکارسے امریکہ ،انڈیا اوراسرائیل میں صف ماتم بچھ گئی ہے جبکہ پاکستان کے اندر سرگرم بھارت کے بھگت بھی بھاگ کھڑے ہوئے ہیں ۔پاکستانیت کے علمبردار جنرل قمرجاویدباجوہ کاانکار پاکستانیوں کیلئے سرمایہ افتخار ہے۔ پاکستان کے غیرتمند فرزندجنرل قمرجاویدباجوہ نے بھارت کے بھگت امریکہ پرواضح کردیا،پاکستان کوامدادنہیں اعتماد چاہئے۔امریکہ کے حکمران اپناپیسہ اپنے پاس رکھیں ،چند کوڑیوں کیلئے کوئی انسان جام شہادت نوش نہیں کرتا،یہ ایک مقدس اور صادق جذبہ ہے جس کی کوئی قیمت نہیں لگاسکتا۔کیا ڈونلڈٹرمپ کروڑوں ڈالرز کے عوض میدان جنگ میں دوپل کیلئے بھی اپنے دشمن کی بندوق اوراس کے بارود کاسامنا کرسکتا ہے،وہ ہرگز نہیں کرسکتاکیونکہ وہ بہادر نہیں بزدل ہے ۔بہادرلوگ اپنے دشمن کے نڈرہیروزاورشہیدوں کی بھی قدر کرتے ہیں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ہزاروں شہیدوں کی قربانیوں کاتمسخراڑایا ہے جودہشت گردی کانشانہ بنے مگر الحمداللہ ہمارے شہیدوں کے سینوں پروارکیا گیا آج تک کسی کے پیٹھ پر کوئی زخم نہیں آیا۔پاکستان کے نڈر محافظ اورمعمار جوڈیزاسٹر مینجمنٹ اورشعبہ صحت سے وابستہ ہیں وہ خودکش حملے یابم دھماکے میں شہید اورزخمی ہونیوالے ہم وطنوں کی مددکیلئے فوراً لپکتے ہیں اور موت سے قطعاً نہیں ڈرتے کیونکہ متاثرہ مقام پردوسرے دھماکے یاخود کش حملے کاامکان موجودہوتا ہے۔پاکستان میں مختلف سانحات کے باوجود زندگی نہیں رکتی ،لوگ اپنے ہاتھوں سے پیاروں کاجسدخاکی اٹھاتے اورانہیں دفناتے ہیں مگر روشن پاکستان رواں دواں رہتا ہے ۔ہماری سکیورٹی فورسز افواج پاکستان ،رینجرز ،پولیس اورایف سی کے شہداء ہمارے ہیروز ہیں ۔جنرل قمرجاویدباجوہ نے پاکستان کے ہزاروں شہیدوں کی قربانیوں کامذاق اڑانے اورپاکستان کی خودداری وخودمختاری کوللکارنے والے شعبدہ بازڈونلڈ ٹرمپ کو دوٹوک جواب دیا ۔ڈونلڈٹرمپ یادرکھیں غلط فیصلے سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے مگر غلط فیصلے پرڈٹ جانے سے بہت زیادہ بربادی ہوتی ہے۔امریکہ کی افغان پالیسی حقیقت پسندانہ نہیں ، امریکہ کے سابق صدوربش اوراوباما سمیت ڈونلڈ ٹرمپ کی ہٹ دھرمی نے افغانستان کو اپنے فوجی جوانوں کیلئے قبرستان بنادیا ۔افغانستان میں مہم جوئی کیلئے آنیوالے امریکہ کے اہلکار تابوت کی صورت واپس جارہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مینڈیٹ سے تجاوزنہ کرے۔پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرنے کی بجائے الٹا ہماری ریاست کودھمکایا اوردبایا جارہا ہے۔اگرپاکستان آگے بڑھ کردہشت گردی کے سیلاب کونہ روکتا تویہ کئی ملکوں کواپنے ساتھ بہالے جاتا ۔ عالمی ضمیر کوپاکستان کااحسان مند اورممنون ہوناچاہئے ۔یہ امریکہ اوراس کے اتحادیوں کی جنگ تھی جس میں پاکستان بے خطر کودپڑا ،اب دنیا والے ہمارے گھرکوجلتاہوادیکھ رہے ہیں مگرکوئی اس آگ کوبجھانے کیلئے ہماری مددکونہیں آرہا ۔پاکستان سے زیادہ کسی ملک نے دہشت گردی کیخلاف اپناکردارادا کیا اورنہ کرے گا۔دہشت گردی ختم کرنے کیلئے بھارت کولگام ڈالنا ہوگی۔پاک فوج نے پاکستان میں دہشت گردعناصرکی ایک بھی محفوظ پناہ گاہ نہیں چھوڑی ۔امریکہ اوراس کے حامی پاکستا ن کوملزم کی طرح کٹہرے میںکھڑا کرکے یادیوار کے ساتھ لگاکردہشت گردی کاباب  بندنہیں کرسکتے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ جس ٹریک پرہے وہ ہرگز درست نہیں۔یہ پاکستان پر امریکہ کی ناکامی کاملبہ گرانے کاوقت نہیں ،مقتدرقوتوں کو دہشت گردی کاصفایاکرنے کیلئے پاکستان کی بھرپور مدداوراس کے دفاعی اداروں پراعتمادکرنے کی ضرورت ہے۔ڈونلڈٹرمپ کادہشت گردی کے سلسلہ میںنام نہادفلسفہ کسی مہذب فردیاریاست کیلئے قابل قبول نہیں۔ پاکستان نے نوے فیصد دہشت گردی ختم کردی،اگرعالمی ضمیر ہمارے پڑوسی ملک کامحاسبہ کرے تویقینا باقی ماندہ دس فیصد دہشت گردی بھی دم توڑدے گی۔زیادہ تر دہشت گرد عناصر اورانتہاپسند بھارت کے وظیفہ خور ہیں اورانہیں نریندرمودی سے آکسیجن اورڈکٹیشن ملتی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ دہشت کے زورپردنیاسے دہشت ختم نہیں کرسکتا،پاکستانیوں نے موصوف کادبائومسترد کردیا۔ پاکستان نے ہزاروں شہادتیں دے کر دہشت گردوں کولگام ڈالی۔امن وآشتی کیلئے ملکوں کے درمیان کئی دہائیوں سے چلے آرہے تنازعات ختم کرناہوں گے ۔کشمیر میں بھارتی بربریت ،فلسطینیوں کیخلاف اسرائیلی دہشت گردی جبکہ برمامیں مسلمانوں کی نسل کشی پرعالمی ضمیرکیوں خاموش ہے ۔دہشت گردی ایک ناسور ہے ،امریکہ تنہا اس کی تشریح نہیں کرسکتا ۔پاکستان نے دہشت گردوں کوللکارا ،ان کاپیچھا اوران کاصفایا کیا جبکہ اس دوران دنیانے پاکستان کوتنہا چھوڑدیا ۔پاکستان دوسرے ملکوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثر ہوااورمسلسل ہورہا ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ اگردہشت گردی ختم کرنے کیلئے سنجیدہ ہے توپاکستان کودھمکانا اورڈکٹیشن دینابندکرے اورہماری سیاسی و دفاعی قیادت کے کندھے سے کندھاجوڑے۔ ڈونلڈٹرمپ کی جارحانہ سوچ انسانیت اور عالمی امن کیلئے خطرہ ہے،اس کے منتخب ہونے سے خودامریکہ میں بے چینی اوربے یقینی کادوردورہ ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ اپنے داخلی مسائل پرفوکس کرے ،وہ پاکستان اوردنیا کی قسمت کے فیصلے کرنے کاحق اوراختیار نہیں رکھتا۔دنیا انتہاپسندانہ رویوں اوراشتعال انگیز طرزحکومت کی متحمل نہیں ہوسکتی ،ڈونلڈ ٹرمپ اوراس کے نام نہاداتحادیوں کویہ بات سمجھناہوگی ۔پائیدار امن کیلئے مذاہب کے درمیان مکالمے کی اشد ضرورت ہے۔ ڈونلڈٹرمپ مسلسل اپنے طرز گفتگواورطرزحکومت سے سفارتی آداب کوبلڈوز کررہاہے  ۔پاکستان کو پچھلے کئی برسوں سے جس بدترین دہشت گردی کاسامنا ہے وہ امریکہ کی جنگ میں کودنے کاشاخسانہ ہے ۔ امریکہ کی جنگ کاخمیازہ پاکستان بھگت رہا ہے ،ڈونلڈٹرمپ کابیانیہ قابل ملامت اورقابل مذمت ہے ۔ ڈونلڈٹرمپ اپنے اتحادی پاکستان کے دشمن بھارت کابھگت بن گیا ۔پاکستان کے لوگ مادر وطن کی سالمیت اورحفاظت کیلئے پوری طرح متفق، متحد اورمنظم ہیں،ڈونلڈٹرمپ کی جارحانہ اورانتہاپسندانہ روش کیخلاف اوورسیزپاکستانیوں سمیت ہم وطن بھی پرامن احتجاجی ریلیاں منعقد کررہے ہیں۔امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کوبھی بھارت کے بھگت ڈونلڈ ٹرمپ کے طرزحکومت کیخلاف آوازاٹھاناہوگی۔امریکہ کا آشیرباد بھی بھارت کوجنوبی ایشیاء کاتھانیدار نہیں بناسکتا۔امریکہ کے عوام نے بھی ڈونلڈٹرمپ کی منفی سوچ کومسترد کردیا ۔ہزاروں پاکستانیوں کے گھروں سے جنازے اٹھائے گئے جودہشت گردی کانشانہ بنے ،اظہار ہمدردی اوراظہاراعتماد کی بجائے طوطاچشم امریکہ الٹا پاکستان کی سالمیت کے درپے ہے۔اگر کسی مورخ نے ایمانداری سے دہشت گردی کیخلاف جدوجہداورجنگ بارے تاریخ لکھی تواس میں پاکستان کے کردار اورپاکستانیوں کی قربانیوں کویقینا جلی لفظوں کے ساتھ لکھااوربہت سراہاجائے گا۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت اوردشمن کیخلاف مزاحمت اوراستقامت کوامریکہ سے زیادہ کوئی نہیں سمجھتا۔پاکستان اپنے زوربازوسے آج بھی حجم میں بڑے دشمن کودھول چٹاسکتا ہے۔ پاکستان کے ہاتھوں روس کاانجام امریکہ کویادرکھنا ہوگا ۔ امریکہ کی طوطاچشمی سے بیزارپاکستانیوں نے ڈونلڈ مودی گٹھ جوڑ اوران کادبائومسترد کردیا ۔ پاکستان کے سیاسی طبقات آپس میں ضرورالجھتے مگر وہ پاکستان پرآنچ نہیں آنے دیں گے،امریکہ اپنے پٹھو بھارت کی مددسے ایٹمی پاکستان کیخلاف مہم جوئی کی جسارت نہ کرے ورنہ اس باراسے ویتنام کے ہاتھوں شکست سے بڑی شکست اورخفت کاسامنا کرنا پڑے گا ۔ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کی خودمختاری اورپاکستانیوں کی خودداری چیلنج کرکے اپنی زندگی کی سب سے بڑی حماقت کربیٹھا ہے ۔ افواج پاکستان کے دبنگ سپہ سالار جنرل قمرجاویدباجوہ کاموقف امدادنہیں اعتماد پاکستان کاقومی نعرہ بن گیاہے ۔پاکستان کے عوام اپنی قابل فخر افواج کی پشت پر کھڑے ہیں۔


Read more

06 September 2017

بھارت کی نیو کلیئر ڈاکٹرائن پر بدلتا رویہ۔۔۔عبدالقادر خان

بھارت نے خطے میں طاقت کے عدم توازن پر اپنی جارحانہ روش کو قائم رکھتے ہوئے اپنے نیوکلیئر ڈاکٹرائن پر تبدیلی کے ساتھ اپنے جوہری رویئے کو بدل لیا ہے۔ گزشتہ دنوں بھارتی اہلکاروں اور اسکالرز کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات سے اشارہ ملتا ہے کہ بھارتی حکومت اپنے جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کے اصول پر نظرثانی کے لئے غور کر سکتی ہے اور اس میں پیشگی حملے کے آپشن کو شامل کر سکتی ہے۔اس سے قبل ہی پاکستانی وزرات خارجہ کے ترجمان نے2016 میں بھارتی وزیر داخلہ کے ایٹمی حملے میں پہل نہ کرنے کے بیان کو ڈھونگ قرار دے دیاتھا ۔ واضح رہے کہ پاکستان نے ہمیشہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے بات کی ،کیوں کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کرنے کے خوفناک نتائج ہوسکتے ہیں جبکہ پاکستان کی تجویز کردہ اسٹریٹیجک ریسٹرین ریجیم ایٹمی تصادم سے بچنے کی بہترین حکمت عملی ہے۔ دوسری جانب ٹائمز آف انڈیا کے مطابق میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں جنوبی ایشیاء میں جوہری توانائی کے ماہر ویپین نارانگ نے واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی ترک کرسکتا ہے، کارنیگی انٹرنیشنل نیوکلیئر پالیسی کانفرنس 2017 کے موقع پر نارانگ کا کہنا تھا کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ بھارت ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پاکستان کو پہل کرنے کی اجازت نہیں دے گا ۔ علاوہ ازیں تھنک ٹینک سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹیڈیز کی میزبانی میں ہونے والی ایک گول میز مباحثے میں بھارت کی جانب سے نیو کلیئر ڈاکڑائن کی تبدیلی کے موضوع فرام کاوینٹر ویلیو ٹو کائونٹر فورس: چینج ان انڈیاز نیوکلیئر ڈاکٹرائن  پر اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ بھارت ایٹمی حملے میں پہل کرنے کی پالیسی کو تبدیل کرسکتا ہے۔امریکی انٹیلی جنس چیف نے امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کے خطرے کی تشخیص برائے 18-2017 پر بریفنگ دیتے ہوئے امریکی کانگریس کو خبردار کرچکے ہیں کہ بھارت سرحد پار حملوں کو بہانا بناکر پاکستان کے خلاف جارحیت پر اتر سکتا ہے اور لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کے درمیان مارٹر شیل فائر کرنے کے واقعات خطے کے دو ہمسایہ جوہری ہتھیاروں کی حامل ریاستوں کے درمیان براہ راست تنازع کا باعث ہوسکتے ہیں۔بھارتی عزائم کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے ملکی دفاع میں ایٹمی حملوں میں پہل کو روکنے کیلئے چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنا ئے ہیں ۔امریکہ اور روس کے بعدپاکستان دنیا کا تیسرا ملک ہے جس نے یہ صلاحیت حاصل کی ہے۔ ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر ثمر مبارک کے مطابق ہم نے ملکی بقا کی خاطر کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا سو ہم نے ٹیکنیکل ہتھیار بنا لئے ، ہم نے شاہین ون اور ٹو بنائے ضرورت پڑی تو شاہین تھری بھی بنائیں گے ۔پاکستان نے بھارت کی جارحانہ پالیسیوں پر ہمیشہ اپنا دفاع کیا ہے اور اسی دفاعی نکتہ نظر کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے کم رینج پر داغے جانے والے ایٹمی ٹیکنیکل ہتھیار بنائے۔ ان ٹیکنیکل چھوٹے ہتھیاروں کو ہائی سیکیورٹی جگہ پر محفوظ کیا گیا ہے ، یہ ہتھیار سیکرٹ کوڈ کے بغیر فائر بھی نہیں کئے جاسکتے ، نیز اس سے ہیروشیما میں گرائے جانے والے ایٹم بم کی طرح تابکاری اثرات بھی کم پھیلتے ہیں ، اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان ہتھیاروں کو کسی بھی جگہ سے فائر کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح پورا بھارت پاکستان کے چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں کی زد میں آچکا ہے ۔پاکستان نے اپنی مملکت کے دفاع اور بقا کیلئے بھارت کے روایتی جنگ کے ڈاکٹرائن کولڈ سٹارٹ سے بچائو کیلئے مختصر رینج کے یہ ٹیکنیکل ہتھیار بنائے ہیں۔یہ ایٹمی ہتھیار میزائل کے اوپر نصب کئے جاتے ہیں ۔ پاکستان نے امریکہ اور روس کے بعد ان ہتھیاروں کو بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ، تاہم بھارت ابھی تک اس ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ۔لیکن چین میزائل پر متعددجوہری  وار ہیڈ لگانے کے تجربے میزائل ڈیفنس انڈسٹریز میں کرچکا ہے۔پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام و صلاحیتوں اور حفاظت پر ہمیشہ تنقید و تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان میں اس بات کی اہلیت نہیں ہے کہ وہ اپنے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کرسکتا ہے ۔ لیکن تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان نے اپنے ایٹمی اثاثوں کی جس طرح حفاظت کی ہے وہ دیگر ایٹمی ممالک کے لئے ضرب المثال ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیاء پر اپنی پالیسی بیان میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے متعلق تحفظات کا ایک بار پھر اظہار کیا تھا کہ کہیں یہ اثاثے کسی انتہا پسند گروپ کے ہاتھ نہ لگ جائیں ۔ لیکن پاکستانی فوج نے جس طرح مملکت میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں ہیں وہ اس بات کو باعث اطمینان بناتی ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہے اور پاکستان اپنی ذمے داریاں سنجیدگی سے ادا کررہا ہے ۔ اس صورتحال سے پاکستان بھی بخوبی آگاہ ہے کہ بھارت ، مقبوضہ کشمیر میں روز بہ روز بڑھتی حریت پسندی کی تحریک کی کامیابی سے سخت پریشان اور خوف زدہ ہے اور وہ کوئی بھی مکروہ چال چل سکتا ہے ۔بھارت کنٹرول لائن کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے اور مقبوضہ وادی کو اپنے ظلم و جبر کا نشانہ بھی بنا رہا ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کی عوام کے رائے اور اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق عمل درآمدکرنے پر زور دیا ہے ، لیکن سات لاکھ بھارتی فوجی ، نہتے آزادی پسند عوام کے خلاف کسی بھی انتہائی سخت اقدام سے باز نہیں آرہے اور مسلسل کشمیریوں کی نسل کشی کررہے ہیں ۔ بھارت اپنی سبکی و ناکامی کو چھپانے کیلئے  سرجیکل اسٹرائیک  کے جھوٹے دعوے کرتا ہے لیکن اسے خود اپنے ملک کی عوام اور اپوزیشن جماعتیں شدید تنقید کا نشانہ بنا کر شرمندہ کرتی ہیں تو دوسری جانب مودی سرکار کی پارٹی کے انتہا پسند ہندوں کی بھارت کے مسلمانوں کے خلاف پرتشدد واقعات بھارتی مسلمانوں کے لئے سوہان روح بنے ہوئے ہیں ۔ بھارتی شر انگیزیوں سے کوئی پڑوسی ملک نہیں بچا ہوا ، کبھی امریکی شہ پر چین کے ساتھ سرحدی تنازعات بڑھاتا ہے تو کبھی افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرانے سے باز نہیں آتا ۔ بھارت اپنے مخصوص عزائم کو پورا کرنے کیلئے کسی بھی سطح تک جا سکتا ہے ۔ اس کے لئے را ء کے ایجنٹ مخصوص ایجنڈوں پر مصروف عمل ہیں ۔ پاکستان میں لسانیت ہو یا فرقہ واریت کے ذریعے پاکستانیوں کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کوششوں اور سازشوں کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہی نکلتا ہے ۔پاکستان اپنی دفاع کے لئے جہاں نظریاتی اساس کے تحت جنگ میں مصروف ہے تو دوسری جانب مشرقی ، شمال مغربی سرحدوں پر بھی دشمن کی حکمت عملی کو ناکام بنانے میں قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کررہا ہے۔ یہ کسی بھی ملک کی عوام کیلئے فخر کا مقام ہے کہ 39برسوں سے حالت جنگ میں رہنے والا ملک ، بغیر کسی دوسرے ملک کی مداخلت کے بغیر تن و تنہا کئی ممالک کی پراکسی وار کا مقابلہ کررہا ہے۔بھارت اگر پراکسی وار میں مشرقی پاکستان کے تلخ تجربے کو دوہرانا چاہتا ہے تو اسے ناکامی کا سامنا ہوگا ، اگر کسی ایٹمی حملے کی ناکام کوشش کرتا ہے تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ، اگر بھارت روایتی جنگ لڑنا چاہتا ہے تو بھی تمام پاکستانی عوام اس کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ پاکستان محض ایک زمین کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ یہ کروڑوں پاکستانیوں کی بقا و سلامتی کے لئے پاک سر زمین ہے ۔ جس کے لئے من الحیث پاکستانی قوم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی ۔


Read more

06 September 2017

ٹرمپ کی نئی پالیسی۔۔۔محمد امجد

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی نئی جنوبی ایشیاء پالیسی میں پرانی باتوں کو دہرا کر امریکی عوام اور دنیا کوایک مرتبہ پھر افغان ٹرک کی بتی پیچھے لگا دیا ہے۔ فورٹ میئر آرلنگٹن میں تقریبا آدھے گھنٹے تک کی تقریر میں صدر ٹرمپ نے پاکستان کے حوالے سے وہی گھسا پٹا  ڈو مور کا پرانا راگ الاپتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اپنے ملک سے ان تمام شر انگیزوں کا خاتمہ کرے جو وہاں پناہ لیتے ہیں اور امریکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر دیتے ہیں لیکن وہ دوسری جانب انھی دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں جو ہمارے دشمن ہیں۔ امریکہ اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں امریکہ کے اہداف بالکل واضح ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کا صفایا ہو۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 20 غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں پاکستان اور افغانستان میں کام کر رہی ہیں جو کہ دنیا میں کسی بھی جگہ سے زیادہ ہیں۔ امریکہ سے شراکت داری پاکستان کے لیے بہت سود مند ثابت ہوگی لیکن اگر وہ مسلسل دہشت گردوں کا ساتھ دے گا تو اس کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ افغانستان کے بارے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جلد بازی میں امریکی فوجیوں کے انخلا کے باعث افغانستان میں دہشت گردوں کو دوبارہ جگہ مل جائے گی اور اس بارے میں وہ زمینی حقائق پر مبنی فیصلے کریں گے جس میں ڈیڈ لائن نہیں ہوں گی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا پہلے ارادہ تھا کہ وہ افغانستان سے فوجیں جلد واپس بلا لیں گے لیکن وہ عراق میں کرنے والی غلطیاں نہیں دہرائیں گے اور اس وقت تک ملک میں موجود رہیں گے جب تک جیت نہ مل جائے۔امریکہ افغان حکومت کے ساتھ تب تک مل کر کام کرے گا جب تک ملک ترقی کے راستے پر گامزن نہ ہو جائے۔اپنے خطاب میں ٹرمپ نے افغانستان کی ترقی میں بھارتی کردار کی تعریف کی اور اس پر اقتصادی اور مالی طور پر افغانستان کی مدد کرنے پر زوردیا۔دنیا،خاص طور پر امریکی عوام یہ خیال کررہے تھے کہ افغانستان کے حوالے سے ٹرمپ اپنے پیشروں سے ہٹ کر ایک واضح، حتمی اور فیصلہ کن پالیسی اختیار کریں گے تاہم انہوں نے پرانا مشروب نئی بوتل میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے بھی بش اور اوبامہ کی طرح افغانستان میں اپنی کمزوریوں اور شکستوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی یہ تازہ پالیسی خطے کے معروضی حالات اور زمینی حقائق سے بالکل ماوراء ہے۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف جو لب و لہجہ استعمال کیا وہ پاکستان کی قربانیوں اور دہشت گردی کے خلاف عزم کو فراموش کرنے کے مترادف ہے اور اس بات کا واضح اظہار کررہا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے وہ شدید لاعلمی کا شکار ہیں۔ بھارت کی طرف ضرورت سے زیادہ جھکائو ان کی پالیسی کے ناقص اور غیرمتوازن ہونے پر مہرثبت کررہا ہے۔امریکہ نے خطے خاص طور پر افغانستان میں بھارت کوجس غیرفطری طور پر شریک کار کیا ہے، وہ نہ صرف حقائق کے منافی بلکہ افغان مسئلے کو مزید الجھانے کے مترادف ہے۔سب کو معلوم ہے کہ بھارت عرصہ دراز سے افغان سرزمین کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کررہا ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں دہشت گردی کو پروان چڑھانے اور امریکہ اور افغان حکومت میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے وہی سازشوں کے جال بن رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و تشدد پر نوٹس لینے کی بجائے آنکھیں بند کرلینا ، حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرارددینا اور حزب المجاہدین پر پابندی سے ظاہرہوتا ہے کہ امریکہ خطے میں بھارت سے کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ کسی بھی حد کو جانے کے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تو بھارت نے باقاعدہ چھیڑ چھاڑ شروع کرکے اس کے پہلے ایجنڈے پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔ اسی طرح افغانستان میں بھارتی کردار یقینا خطے کی صورتحال کو ابتر رکھنے کی گہری سازش کے سوا کچھ نہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے کوئی نیگ شگون نہیں کیونکہ امریکہ کی بھارت نوازی کشمیریوں کی جائز جدوجہد آزادی اور کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے موقف کے منافی ہے۔ یہ نہ صرف بھارت کو کشمیریوں کو قتل عام کا لائسنس دینے بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی بے حرمتی کے بھی مترادف ہے۔ امریکہ کی اس جانبدارانہ پالیسی کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان اعتمادی سازی اور بہترتعلقات کیسے فروغ پا سکتے ہیں۔جہاں تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تعلق ہے تو پوری دنیا پاکستان کی کوششوں، صلاحیتوں اور کامیابیوں کی معترف ہے۔ مگر افسوس سب سے بڑے اتحادی امریکہ کو اس کی خبر نہیں۔ٹرمپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف موثر اور مسلسل آپریشنز کے ذریعے ان کے بہت سے نیٹ ورک تباہ و برباد کردیئے ۔ پاکستان نے موثر انٹیلی جنس کے ذریعے امریکی اور نیٹو افواج کی خوب معاونت کی۔ ضرب عضب اور ردالفساد دہشت گردوں کے خلاف کاری ضرب ثابت ہوئے۔ اسی طرح خیبر فور آپریشن گزشتہ روز ختم ہوا جس کے دوران پاک فوج نے بہت سے دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا۔ دہشت گردی کے خلاف یہ مسلسل کارروائیاں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف عزم اور کوششوں کا واضح اظہار ہیں۔ تاہم امریکی صدر سے پاکستان سے متعلق بیان اور ڈور مور کا تقاضا افسوسناک ہے۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو وہاں امریکی، اتحادی افواج اور لاکھوں کنٹرکٹ مسلح دستے دہشت گردی پر قابو نہیں پا سکے ہیں۔ پاکستان نے سرحد کے اس طرف موثر کارروائیوں کے ذریعے کسی دہشت گرد تنظیم کو پنپنے کا موقع فراہم نہیں کیا ہے۔ البتہ بھارت اور دیگر قوتوں نے پاکستان میں تخریب کاری، فرقہ ورانہ فسادات اور شورشوں کے لیے افغانستان کی سرزمین کو استعمال کیا ہے اور اب بھی کررہی ہیں۔ یہی قوتیں پاکستان اور افغانستان حکومتوں کو ایک دوسرے سے الجھائے رکھنے کے لیے غلط فہمیاں اور سازشیں کرتی رہتی ہیں۔اگر ٹرمپ واقعی افغانستان سے باعزت نکلنے کے متمنی ہیں تو انہیں زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی بھارت نوازی کو اعتدال پر لانا ہوگا، افغانستان میں پاکستان کے خلاف بھارتی سازشوں کو روکنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں اور قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اعتمادسازی کو فروغ دینا ہوگا ۔ بصورت دیگر افغانستان امریکہ کے لیے دردسر بنا رہے گااورٹرمپ بھی بش، اوبامہ کی طرح اپنے عوام سے افغانستان میں کامیابیوں سے متعلق جھوٹ بولتے رہیں گے ۔



Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22
24 25 26 27 28 29 30