Get Adobe Flash player

September 2017

06 September 2017

انقلابی فکر و عمل ہی وقت کی ضرورت۔۔۔ڈاکٹر محمد جاوید

وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے ستر سال ہونے والے ہیں، خوش فہمیوں، ناہلیوں، چوریوں اور بے انصافیوں سے گھرے ہوئے یہ ستر سال ہماری بحثیت قوم ناکامیوں کا مژدہ سنا رہے ہیں، اگر کامیابیوں کا تذکرہ کریں تو چند خاندانوں نے بھر پور ترقی کی ہے، خوب مال بنایا، اپنی اپنی ایمپائر کھڑی کیں، بھر پور طریقے سے اس بدقسمت ملک کے اداروں پہ کنٹرول کر کے قانون کو اپنے گھر کی رکھیل بنایا، غریب قوم کے وسائل کو برے طریقے سے نہ صرف خود لوٹا بلکہ بین الاقوامی چوروں سے بھی لٹوایا، انتہائی قانونی طریقے سے ہر شعبے کو دیوالیہ کر کے اپنے خاندان یا گروہ کو فائدے پہنچائے گئے۔عوام نے اپنے جاہل پن سے ان سفید پوش لٹیروں کی خوب آئو بھگت کی اور ہر آنے والے دنوں میں خود کو بڑے عذاب سے دوچار کرتے رہے اور کر رہے ہیں، پڑھا لکھا طبقہ جو باشعور ہے وہ سوائے تماشائی کے کوئی کردار ادا نہیں کر سکا۔اور پڑھا لکھا کہلانے والا وہ طبقہ جو اس استحصالی طبقے کا ساتھ دیتا رہا اور دے رہا ہے اس میں اور اس جاہل اور ان پڑھ طبقے میں کوئی فرق نہیں۔دونوں اس ملک کی بربادی میں برابر کے شریک ہیں،لیکن اس سے بھی بڑا مجرم وہ طبقہ جو سمجھتے ،بوجھتے فقط تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے،اور عملی جدو جہد نہیں کرتا۔کوئی ایک شعبہ یا ادارہ لے لیں،انتہائی ایمانداری سے اس کے کردار اور کام کا تجزیہ کریں،تو ان کی نااہلی، بد انتظامی، اقربا پروری، کرپشن کو دیکھ کر سر شرم سے جھک جائے گا۔ہمیں اپنے ارد گرد غور کرنا چاہئے۔جو قوم اپنے گرد و پیش اور حالات کو نہیں سمجھتی اس کے حالات اس کی دسترس سے باہر ہو جاتے ہیں۔اپنی آئندہ نسلوں کے مستقبل کے لئے مخصوص اجارہ دار خاندانوں نے تو بھر پور طریقے سے حکمت عملی ترتیب دی ہوئی ہے۔۔۔بیرون ملک جائیدادیں اور بزنس۔۔۔۔بیرون ملک تعلیم۔۔۔بیرون ملک علاج معالجہ۔۔۔۔۔بیرون ملک رہائشیں۔۔۔۔بیرون ملک عیاشیاں۔۔۔۔ملکی خزانے سے خرد برد ہو یا دیگر طریقوں سے ملکی معیشت کو تباہی و بربادی سے دوچار کر کے پیسہ بیرون ملک منتقل کر رہے ہیںلہذا انہیں قوم کی نسلوں سے کوئی غرض نہیں ہے۔تعلیمی نظام بدتر اور فرسودہ اور اس کے لئے مناسب بجٹ نہیں، صحت کا نظام بدتر اور فرسودہ اس کے لئے مناسب بجٹ نہیں، زراعت،صنعت و تجارت کا برا حال کیوں کہ اس کے لئے کوئی قومی پالیسی یا ایماندار افراد موجود نہیں۔۔۔۔۔سب اس تباہی میں اپنے اپنے حصے کا گوشت نوچ رہے ہیں۔۔۔۔لیکن اس جسم سے نوچا ہوا ہر لوتھڑا سب کو موت کی طرف لے جا رہا ہے۔۔۔اس گھر کو آگ لگ چکی ہے اس گھر کے چراغ سے۔۔۔۔۔اب کیا کیا جائے؟ایک اچھی اور مثبت تبدیلی کیسے آئے؟کس طرح سے اداروں کو اہل اور ایماندار افراد کے سپرد کیا جائے؟کیسے قومی خزانے کی چوریوں کو روکا جائے؟ ایسے ایک وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کا ڈھانچہ تشکیل دیا جائے اور اس میں بلاتفریق ہر طبقے کا بچہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر ملک کی ترقی کے لئے کام کر سکے؟کیسے ایک بہترین صحت کا نظام تشکیل دیا جائے کہ کوئی عام آدمی بغیر دوا و علاج کے نہ مر سکے؟کیسے ایک نظام عدل تشکیل دیا جائے جہاں عام آدمی کو سستا اور فوری انصاف مہیا ہو سکے؟کیسے ایسی قیادت پیدا کی جائے جو قو می سچ کی حامل ہو، قومی حب الوطنی کی حامل ہو، سب سے بڑھ کر ایماندار ہو،اس کا کردار کسی بھی قسم کی کرپشن سے پاک ہو، اس کے اندر قومی قیادت کی صلاحیت موجود ہو،وہ کسی مافیا کے زور پہ ملک کی بھاگ ڈور نہ سنبھالے بلکہ ملک کی اکثریت اسے منتخب کرے۔یہاں قیادت سے مراد کوئی ایک شخصیت نہیں بلکہ وہ سیاسی ٹیم ہے جو ملک کے سیاسی نظام کو چلائے۔۔۔۔لیکن یہ سب خوش فہمیاں اور خوبصورت اور دل نشین آرزو کے سوا کچھ نہیں جب تک ایسی کسی قیادت کی تیاری اور سیاسی انقلاب کے ذریعے ملکی اداروں کے اندر جوہری تبدیلی کے لئے عملی جدو جہد نہیں کی جاتی۔۔۔تاریخ کا یہ سبق ہے کہ جب کسی قوم یا ریاست کو سرمایہ پرست ،مفاد پرست مافیا کنٹرول کر لیتی ہے تو پھر اس کے تسلط سے نکلنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ایسا سیاسی مافیا نہ صرف ملکی اداروں ، قانون، معیشت، میڈیا پہ کنٹرول کر کے اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے بلکہ جب اسے کسی انقلابی قوت سے خطرہ درپیش ہو تو وہ انتہائی ظالمانہ ،گھنائونے ہتھکنڈوں پہ اتر آتا ہے۔۔۔تاریخ نے یہ بتایا ہے کہ جب کسی قوم کے اندر غیرت جاگتی ہے اور وہ اپنے اوپر مسلط ظالمانہ نظام کو ختم کرنے کے درپے ہو جاتی ہے تو پھر اسے قربانیاں دینی پڑتی ہیں، بغیر قربانی کے ظالم مافیا کبھی قوم کو آزادی نہیں دیتی اور نہ ہی عادلانہ نظام کو قائم ہونے دیتی ہے۔۔۔۔کیونکہ ان کے اثاثے اور معاشی و سیاسی مفادات خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔۔۔۔وہ قوم کو ذلت کے گڑھوں میں تو دفن کرنے سے گریز نہیں کرتے لیکن جب ان کے مفادات پہ زد پڑتی ہے تو وہ اس پسی ہوئی قوم کو مزید آگ اور خون میں دھکیلنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔۔۔۔انقلاب ہی دراصل قوموں کی زندگی ہے۔۔۔۔قوم جب مر رہی ہوتی ہے۔تو ذوق انقلاب ہی اس کے اندر زندگی کی رمق پیدا کرتا ہے۔۔۔۔انقلاب کا ذوق ہی ظالموں اور مفاد پرست گروہوں کے سامنے سینہ سپر ہونے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔۔۔۔ذوق انقلاب ہی نوجوانوں کے اندر قومی قیادت کا شعور پیدا کرتا ہے۔۔۔انقلابی جدو جہد قومی خود کفالت، قومی تشکیل کی جدو جہد ہوتی ہے۔۔۔۔جب ریاستی نظام اداروں کے نام پہ ظلم و جور اور کرپشن کا گڑھ بن جائے تو اس کی مثال اس پانی کی ہے جسے روک دیا جائے تو اس میں بدبو بھر جاتی ہے اور وہ بیماریوں اور خرابیوں کا ذریعہ بن جاتا ہے۔۔۔۔انقلابی عمل اس رکے ہوئے بد بو پانی کی رکاوٹ کو توڑ دیتا ہے اور اسے قیام عدل کے ذریعے جاری وساری کرتا ہے۔۔۔۔اس سے معاشرہ پھر سے اپنے پائوں پہ کھڑا ہونے کے قابل ہو جاتا ہے۔۔۔انقلاب ایک نئی روح پھونک دیتا ہے۔۔۔۔ظالموں جابروں، بھتہ خوروں، سفید پوش ڈاکوئوں،رسہ گیروں،جاہلوں، نااہلوں اور غداروں سے معاشرے کو صاف کرتا ہے۔۔۔۔ستر سال کے تجربے سے اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ اس ناسور کا خاتمہ فقط انقلابی جدو جہد ہی سے ہو سکتا ہے۔۔۔۔کیونکہ جزوی خرابی دعوت و اصلاح سے درست کی جا سکتی ہے لیکن اگر کلی خرابی پیدا ہو جائے تو اسے انقلاب ہی سے درست کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔آئیے دنیا کے انقلابات کا مطالعہ کریں۔۔۔قوموں کے عروج و زوال کا تجزیہ کریں۔۔۔۔انقلابیوں کی سیرت وکردار کا مطالعہ کریں۔۔۔اپنے اندر ذوق انقلاب پیدا کریں۔۔۔۔۔انسانیت کا درد اپنے اندر پیدا کریں۔۔۔اپنے اندر تنظیم پیدا کریں۔۔۔اور اپنی قوم کے بہتر مستقبل کے لئے استبدادی قوتوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے اپنے اندر سیاسی تنظیم پیدا کریں۔۔۔ملک کے اکثریتی طبقے کو جو کہ ان پڑھ ہے اور سرمایہ پرست اور مفاد پرست مافیا کے اثر میں ہے اسے ان کے اثر سے نکالنے کے لئے جدو جہد کریں۔۔۔۔۔جب تک خرابی کی جڑ کو ختم نہیں کیا جائے گا۔۔۔۔کسی بھی مثبت تبدیلی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔


Read more

06 September 2017

عالمی کرکٹ بحالی، حکومت کی اہم کامیابی۔۔۔ضمیر نفیس

پاکستان میں ورلڈ الیون کے میچز کا فیصلہ عالمی کرکٹ کی بحالی کا اعلان ہے اس سے قبل پاکستان سپرلیگ کے مقابلوں نے عالمی کرکٹ کیلئے بھرپور راہ ہموار کی تھی ان میچوں میں بھی عالمی کھلاڑیوں نے شرکت کی تھی پاکستان کے عوام نے جس غیر معمولی جوش و خروش کے ساتھ ان میچوں میں شرکت کی اور جس طرح حکومت نے کھلاڑیوں اور شائقین کے تحفظ کے اقدامات کئے اس سے عالمی سطح پر ایک مثبت پیغام پہنچا چنانچہ اس کے بعد ورلڈ الیون کے میچوں کیلئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو زیادہ جدوجہد نہیں کرنی پڑی۔ اب ان میچوں کے بعد سری لنکا کی ٹیم کا دورہ متوقف ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ ورلڈ الیون میں سات ملکوں کے نامی گرامی کھلاڑی شامل ہیں قومی ٹیم کے ساتھ ورلڈ الیون کے تینوں ٹی ٹوئنٹی میچز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں منعقد ہوں گے حکومت نے مہمان ٹیم کو صدر مملکت کی سکیورٹی کے برابر سکیورٹی دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اسٹیڈیم اور اس کے ملحقہ علاقوں میں اضافی سی سی ٹی وی کمیرے نصب کئے جائیںگے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی دونوں کا موقف ہے کہ ہمیں کھیلوں اور ثقافتی پروگراموں کے ذریعے عالمی برادری کو پاکستان کا سافٹ چہرہ دکھانا ہے اور اس پر یہ واضح کرنا ہے کہ دہشتگردی کا شکار اس ملک نے دہشتگردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑ کے ملک میں امن بحال کیا ہے موقع کی مناسبت سے یہاں اس امر کا ذکر بھی ضروری ہے کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے ثقافتی ورثہ عرفان صدیقی نے عالمی اہل قلم کانفرنس سے لے کر خطاطی کے عالمی نمائش تک درجنوں پروگراموں کا انعقاد کیا ہے جن میں دنیا کے مختلف ممالک کے ادیبوں، دانشوروں اور مختلف فنون سے تعلق رکھنے والی ممتاز عالمی شخصیات نے شرکت کی ہے ان کاوشوں کے پس پردہ مقاصد بھی یہی تھے کہ عالمی برادری کو اس نئے پاکستان سے متعارف کرایا جائے جس نے دہشتگردی کے معاملے میں قربانیوں اور کامیابیوں کی ایک تاریخ رقم کی ہے اور امن و خوشحالی کے سفر کا تیز تر آغاز کیا ہے۔ورلڈ الیون کے میچوں کو بھی اپنی مقاصد کے پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے اگر بھارت تعاون کرتا تو بہت پہلے عالمی کرکٹ کی بحالی ہوسکتی تھی مگر بدقسمتی سے بھارت نے کھیلوں کے معاملے میں بھی تعصب پر مبنی سیاست کی اور دانستہ یہ تاثر دیا کہ پاکستان میں کھلاڑیوں کا تحفظ نہیں کیا جاسکتا جس ملک کے ساتھ ماضی میں کرکٹ ڈپلومسی چلتی رہی اس نے کرکٹ کے ذریعے اپنے مفادات کی سیاست کی پاکستان سپرلیگ کے میچوں کی زبردست کامیابی نے پوری دنیا کو پاکستان کی طرف متوجہ کیا اس کے بعد ایشین ٹرافی چمپئن کے مقابلوں میں پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر اپنے لئے مزید کشش پیدا کرلی نتیجہ ورلڈ الیون کے میچوں کے فیصلے کی صورت میں سامنے آیا۔عالمی سطح پر پاکستان میں امن و خوشحالی کے تیز تر سفر کا پیغام پہنچ چکا ہے یہی وجہ ہے کہ اس برس موسم گرما کے دوران سوات، ناران، مانسہرہ اور دیگر علاقوں میں ملکی اور عالمی سیاح اس طرح ٹوٹ کر آئے کہ ہوٹلوں کی تعداد کم پڑ گئی چنانچہ بہت سے ہوٹلوں نے اپنی حدود میں ٹینٹ لگا کر سیاحوں کیلئے رہائش کا بندوبست کیا سیاحوں کے اس نوعیت کے غیر معمولی رش کا یہ پہلا موقع تھا مقام شکر کہ لاکھوں کی تعداد میں سیاحوں نے محفوظ سیاحت کی اور کوئی معمولی سا بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔یاد رہے کہ ورلڈ الیون کے میچ 12,13اور 15ستبر کو لاہور میں کھیلے جائیں گے ورلڈ الیون کی ٹیم جنوبی افریقہ کے کپتان مناف ڈپلوسی کی قیادت میں اور قومی کرکٹ ٹیم سرفراز احمد کی قیادت میں سرمیدان ہوں گی مبصرین کے مطابق دونوں ٹیموں میں مضبوط کھلاڑی شامل ہیں اور شائقین کو بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔ادھر افغان لیگ کے میچوں کے معاملے میں سابق کپتان شاہد آفریدی کے این او سی کا معاملہ التواء میں ہے پی سی بی اور افغان بورڈ کے درمیان بات چیت اس وقت آگے نہ بڑھ سکی جب افغان بورڈ کی جانب سے پاکستان میں میچ کھیلنے سے انکار کیا گیا اس صورتحال میں جبکہ ورلڈ الیون پاکستان میں تین میچ کھیلتے جارہی ہے افغان بورڈ کا پاکستان میں میچ کھیلنے سے انکار کوئی استدلال نہیں رکھتا اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جس طرح بہت سے معاملوں میں افغانستان بھارت کی زبان بول رہا ہے اور نئی دہلی کی پالیسی کو لاگو کئے ہوئے ہے  اسی طرح پاکستان میں کرکٹ کے معاملے میں بھی اسکی پالیسی بھارت کے تابع ہے بھارت پاکستان میں میچ کھیلنے سے انکار کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اب افغانستان نے بھی یہی روش اختیار کرلی ہے شاہدآفریدی کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنی افغان بورڈ کیلئے دستیابی کو پاکستان میں میچوں سے مشروط کردیں۔


Read more

06 September 2017

6ستمبر کی جنگ جب مسلح افواج اور قوم یک جان ہوگئیں

آج پوری قوم دفاع پاکستان منا رہی ہے 6ستمبر1965ء کو پاکستان کی قوم اور اس کی مسلح افواج نے کئی گنا بڑے دشمن کو جس طرح للکارا اس کی جارحیت کا مقابلہ کیا اور اسے اس کی سرزمین پر دھکیل دیا ہر سال 6ستمبر کو قوم ان تاریخ ساز لمحوں کی یاد مناتی ہے 6 ستمبر کی صبح بھارتی فوج نے پاکستان کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا۔ بھارتی فوج کے جنرل چوہدری نے اعلان کیا تھا کہ وہ لاہور کے جم خانہ کلب میں شام گزاریں گے مگر پاک فوج نے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دئیے پاک فوج کے جوانوں نے جہاں پی آر بی نہر یک پل کو اڑا کر دشمن کا راستہ روکا وہاں اس پر تابڑ توڑ  حملے کئے چنانچہ دشمن لاہور کا رخ نہ کر سکا دنیا نے یہ منظر بھی دیکھا کہ پاک فضائیہ نے دشمن کے درجنوں جہاز اڈوں پر ہی تباہ کر دئیے جبکہ فضا میں پاک فضائیہ کے سکوارڈن لیڈر ایم ایم عالم نے 30سیکنڈ میں بھارت کے چھ طیارے مار گرائے۔ چونڈہ میں ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی بھارت نے سینکڑوں ٹینکوں کے ساتھ یلغار کی مگر ہمارے جوان بم باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے' انہوں نے ملک کے لئے شہادتوں کا نذرانہ پیش کیا اور ٹینکوں کے پرخچے اڑ گئے وہی سہی کسر پاک فضائیہ نے پوری کر دی اس نے بمباری کرکے چونڈہ کو بھارتی ٹینکوں کے قبرستان میں تبدیل کر دیا پاک بحریہ نے بھی بھارتی اڈے دوار کو نشانہ بنایا پاکستان نے بڑے دشمن کے بہت بڑے لائو لشکر کا زبردست مقابلہ کیا چنانچہ بہت سے سیکٹروں میں یہ جنگ دشمن کی سرزمین پر لڑی گئی۔ ان کامیابیوں کی وجہ قوم کی یکجہتی تھی مسلح افواج اور قوم دونوں ملک کر دشمن کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئیں شاعروں نے پاک فوج کے لئے ترانے لکھے گلوکاروں نے  ان میں آواز کا جادو جگایا گویا زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس جنگ میں حصہ لیا اتحاد' یکجہتی اور وطن کے دفاع کا جذبہ تھا جس کے باعث کئی گنا زیادہ عسکری طاقت رکھنے والے دشمن کو پسپا کر دیا گیا اس سترہ روزہ جنگ نے یہ واضح کر دیا کہ جنگوں میں صرف عسکری طاقتہی کام نہیں آتی جذبوں کا بھی بے پناہ عمل دخل ہوتا ہے خدا کے فضل و کرم سے اج ملک ایٹمی طاقت اور ناقابل تسخیر ہے تاہم قومی سلامتی کے لئے اتحاد اور یکجہتی ناگزیر ہے قوم کو یہ حقیقت ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنی ہوگی۔



Read more

06 September 2017

برما کے مسلمانوں کی نسل کشی اور اہم طاقتوں کی خاموشی

روہنگیا کے مسلمانوں پر میانمار کی فوج کے مظالم کے بارے میں مسلسل خبریں منظر عام پر آرہی ہیں مگر ابھی تک مسلم امہ یا مغربی ممالک کی طرف سے ان مظالم کے خلاف کوئی آواز سننے میں نہیں آئی اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق میانمار کی شمال مغربی ریاست راکھین میں روہنگیا مسلم اقلیت کے خلاف میانمار کی فوج کے مبینہ آپریشن میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 370تک پہنچ گئی ہے  روہنگیا مسلمانوں سے وابستہ عسکریت پسند گروپ کے پولیس چیک پوسٹوں پر کئے جانے والے منظم حملوں کے بعد سے فوج نے جوابی کارروائی شروع کر رکھی ہے اس آپریشن کے دوران تقریباً چالیس ہزار روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی سرحد عبور کر چکے ہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ میانمار کی فوج کے مظالم سے جان بچا کر بھاگنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تین کشتیاں الٹنے سے 26افراد جاں بحق ہوگئے اطلاعات کے مطابق اس حادثہ میں جاں بحق ہونے والوں میں پندرہ بچے اور گیارہ خواتین شامل ہیں۔ روہنگیا میں مسلم اقلیت کے ساتھ ناروا سلوک نئی بات نہیں ہے مگر اس بار یہ سلوک بربریت کی صورت میں ظاہر ہوا ہے میانمار کی فوج کے مظالم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور نہتے مسلمانوں کے پاس سوائے اس کے کوئی راستہ نہیں کہ وہ جان بچا کر بنگلہ دیش میں داخل ہو جائیں' ابھی تک بنگلہ دیش حکومت نے سرکاری طور پر روہنگیا مسلمانوں کو مہاجر کا درجہ دے کر ان کی امداد نہیں کی جبکہ یہ بنگلہ دیش میں داخل ہو کر از خود ہی اپنی گزر بسر کر رہے ہیں یہ صورتحال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین حرکت میں آئے اور میانمار  سے آنے والے مسلمان مہاجروں کی دیکھ بھال اور ان کی امداد کے سلسلے میں فنڈز مختص  کرے جبکہ بنگلہ دیش حکومت کو بھی چاہیے کہ مفلوک الحال ان مسلمانوں کی رہائش اور خوراک کے سلسلے میں ان کی مدد کرے یہ امر ناقابل فہم ہے کہ تمام تر صورتحال اقوام متحدہ کے علم میں ہونے کے باوجود عالمی ادارے نے مسلم اقلیت پر میانمار کی فوج کے مظالم رکوانے کے معاملے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا اسلامی ممالک کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے مغربی ممالک جو انسانی حقوق کے سلسلے میں بہت حساس ہیں۔ انہیں بھی روہنگیا کی مسلم اقلیت کے خلاف میانمار کی فوج کے مظالم رکوانے کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں انجام دینی چاہئیں۔ اسلامی کانفرنس تنظیم کو بھی اس صورتحال میں اپنا موثر کردار ادا کرنا چاہیے اور اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلانا چاہیے۔ برما کا المیہ تو یہ ہے کہ عالمی نوبل انعام یافتہ وزیراعظم آنگ سوان سوچی کی حکومت کے دوران مسلمانوں پر مظالم  ڈھائے جارہے ہیں وزیراعظم سوچی نے جمہوریت اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں ایک طویل عرصہ جیل میں گزارا مگر اب انہیں انسانی حقوق کا کوئی احساس نہیں ہے انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی شاید اس لئے خاموش ہیں کہ بربریت کا نشانہ محض مسلمان ہیں' وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے برما کی حکومت سے مظالم ختم کرنے کی اپیل کرنی چاہیے اور پارلیمانی وفد کو برما کے دورے پر بھیجنا چاہیے وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان اگرچہ مثبت ہے مگر امداد اور مظالم رکوانے کے  معاملے میں حکومت کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔برما کی صورتحال پر برادر ملک ترقی کے صدر طیب اردوان کا بیان قابل ستائش ہے انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے نقاب میں اس نسل کشی پر خاموش رہنے والا ہر شخص اس قتل عام  میں برابر کا شریک ہے انہوں نے بنگلہ دیش حکومت سے بھی اپیل کی کہ وہ برمی مسلمانوں کو  پناہ دے ان کے تمام اخراجات ان کی حکومت برداشت کرے گی۔ اگرچہ میانمار میں مسلم اقلیت کے خلاف مظالم کا سلسلہ دو سال سے جاری ہے جس کے نتیجے میں اب تک 73ہزار مسلمان شہید کئے گئے ہیں تاہم بربریت کی تازہ لہر 25اگست کو برما کے ضلع راکھین سے  شروع ہوئی جہاں روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت رہتی ہے 25اگست سے لے کر 4ستمبر تک صرف اس ضلع میں کم از کم چار سو مسلمانوں کو شہید جبکہ 2600گھروں کو جلا دیا گیا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ان واقعات پر محض تشویش کا اظہار کیا ہے اس کے علاوہ انہوں نے بربریت کو رکوانے کے معاملے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا او آئی سی نے اب تک مسلم امہ کو مایوس کیا ہے اس اعتبار سے اقوام متحدہ اور او آئی سی ایک پلڑے میں ہیں او آئی سی اگر مسلم امہ کے تحفظ کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی تو اسے تحلیل کر دینا چاہیے اس طرح مسلم امہ اس سے کسی قسم کی امید تو وابستہ نہیں کرے گی۔


Read more

06 September 2017

حمزہ شہباز نے میرے پیچھیغنڈے لگا دیے ہیں، عائشہ احد کا الزام

حمزہ شہباز شریف کی بیوی کا دعوی کرنے والی عائشہ احد نے الزام عائد کیا ہے کہ حمزہ نے ان کے پیچھے غنڈے لگا دیے ہیں۔وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز کی بیوی ہونے کی دعوے دار عائشہ احد نے ان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حمزہ شہباز نے میرے پیچھے غنڈے لگا دیے ہیں جو گھر سے باہر نکلنے پر میرا تعاقب کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پنجاب سے درخواست کی ہے کہ حمزہ شہباز کے غنڈوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔دوسری جانب حمزہ شہباز شریف کے ترجمان نے عائشہ احد کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حمزہ شہباز پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں جن کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں جب کہ وہ پی ٹی آئی کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہیں۔واضح رہے کہ عائشہ احد نے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز کی بیوی ہونے کا دعوی کرتے ہوئے نوازشریف سے انصاف کا مطالبہ کیا تھا جب کہ وہ گزشتہ دور حکومت میں مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر رکن پنجاب اسمبلی بھی رہ چکی ہیں۔

Read more

افغانستان میں موجود انتہاپسند تنظیمیں پاکستان میں دہشتگردی کرتی ہیں، دفترخارجہ

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں جو پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔برکس سربراہی کانفرنس کے اعلامیہ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ نفیس زکریا کہنا تھا کہ پاکستان کو خطے میں بڑھتے ہوئے انتہا پسندانہ نظریات اور عدم برداشت پر شدید تشویش ہے اور اس کی سب بڑی وجہ داعش اور کئی دہشت گرد تنظیموں کی افغانستان میں موجودگی ہے۔ترجمان نے کہا کہ تحریک طالبان اور اس کی ذیلی تنظیمیں جماعت الاحرار،  جیش الاسلام اور جیش محمد افغانستان میں موجود ہیں اور افغانستان میں رہتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں ان تنظیموں کا افغانستان میں موجود ہونا ناصرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لئیخطرہ ہے۔


Read more

سعودی عرب سے پاکستانی حجاج کرام کی وطن واپسی کا سلسلہ شروع

سعودی عرب سے پاکستانی حجاج کرام کی وطن واپسی کا سلسلہ آج (بدھ )سے شروع ہوگا جبکہ حجاج کرام کی واپسی کا عمل اگلے مہینے کی 5تاریخ کو مکمل ہوگا۔آج بدھ کو 1945حجاج کرام کی 9 پروازوں کے ذریعے آمد سے آپریشن کا آغاز ہوگا۔واضح رہے کہ اس سال ایک لاکھ اناسی ہزار پاکستانیوں سمیت دنیا کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے بائیس لاکھ تیس ہزار سے زیادہ افراد نے فریضہ حج ادا کیا۔دوسری جانب حج مشاورتی کمیٹی نے رواں سال حج پروگرام کو کامیاب قرار دیا ہے اورحکومت کی جانب سے حجاج کرام کے لئے ٹرانسپورٹ، رہائش اورکھانے کی فراہمی کے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا، کمیٹی نے ان خیالات کا اظہار مذہبی امور و حج کے وزیر سردار محمد یوسف کی زیر صدارت مکہ مکرمہ میں اپنے ایک اجلاس میں کیا۔ڈائریکٹر جنر ل حج ساجد یوسفانی نے حج انتظامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی ۔سرکاری ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور و حج سردار محمد یوسف نے کہاکہ حجاج کرام کی جانب سے جائز شکایات ملنے کے بعد مشاورتی کمیٹی نے ان 58ہزار پاکستانی حجاج کرام کو فی کس 250 ریال واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہیں ٹرین کا ٹکٹ فراہم نہیں کیا گیا اور انہیں بسوں کے ذریعے سفر کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ حجاج کرام کو یہ رقم ان کی وطن واپسی سے پہلے ادا کی جائے گی۔

Read more

امریکہ کو پاکستان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے،برطانوی تھنک ٹینک

برطانوی تھنک ٹینک    نے کہاہے کہ  امریکہ  کو پاکستان  کی سب سے زیادہ  ضرورت ہے، پاکستان  کے بغیر  امریکہ  افغانستان  سے نہیں نکل سکتا ،امریکی دھمکیوں کے بعد پاکستان میں  سول ملٹری  تعلقات  بہت بہتر ہوئے ہیں،پاکستان  کے فوجی  آپریشنز  کو دنیا  بھر میں سراہا گیا ہے، امریکی  دھمکیوں کے بعد پاک چین اقتصادی  راہداری  پربھی  کام مزید  تیز کردیا گیاہے۔منگل کو برطانوی  تھنک ٹینک نے اپنی رپورٹ  میں امریکی  حکومت پرزور  دیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات استوار رکھے کیونکہ  اسے  پاکستان  کی سب سے زیادہ  ضرورت ہے اور  پاکستان  کے بغیر  امریکہ  افغانستان  سے نہیں نکل سکتا۔رپورٹ کے مطابق   امریکی  دھمکیوں سے پاکستان  ملٹری اور سول  لیڈر شپ  کو متحد ہونے میں مدد ملی ہے اور ان کے درمیان  تعلقات بہت بہتر ہوئے ہیں ۔ فوجی آپریشنوں  کی کامیابی ،اقتصادی بحالی  اور چینی مدد نے پاکستان  کے اعتماد  کو  تقویت دی ہے۔ رپورٹ  میں یہ بھی  کہا گیا کہ پاکستان کے فوجی آپریشنز کو دنیا بھر میںسراہا گیا ہے۔ پاک  چین دوستی مضبوط ہے۔امریکی  دھمکیوں  کے بعد پاک چین  اقتصادی  راہداری  پر کام  مزید  تیز کردیا گیا ہے۔ (خ ف)


Read more

مسلمانوں کے قتل عام پر عا لم اسلام کی خاموشی افسوس ناک ہے،سراج الحق

امیر جماعت اسلامی پاکستان سنیٹر سراج الحق نے کہا کہ برما کے مسلمانوں کے قتل عام پر عا لم  اسلام کی خاموشی  افسوس ناک ہے پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک سے برما کے سفیروں کو ملک بدر کیا جائے  برما کے مسلمانو ں  کے قتل عام کے خلاف جماعت اسلامی اٹھ ستمبرکو اسلام آباد میں برما کے سفارت خانے کے سامنے احتجاج جبکہ 10 ستمبر کو کراچی میں بڑا  احتجاجی مظاہرہ کیا جایگااور 11 ستمبرسے جماعت اسلامی لاہور سے دوبارہ احتساب مارچ شروع کرے گی ان خیالات کا اظہار انھوں نے لویر دیر کے علاقہ منڈا میں عید ملن پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کیا عید ملن پارٹی سے جماعت اسلامی کے ممبر صوبائی اسمبلی اعزاز الملک افکاری ،تحصیل ناظمین ہما یون خان ،سعید پاچا، نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی سعید گل ،آمیر جماعت اسلامی مولانا اسداللہ،مولانا عزیزلحق، اور مولانا عمران بھی موجود تھے سراج الحق نے کہا کہ اس وقت برما  میں مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے دنیا بھر میں مسلمان عید قربان کے موقع پر جانور ذبح کررہے ہیں جبکہ رونگیا برما میں مسلمانوں اور بچوں کو ذبح کیا جارہا ہیںاور حاملہ خواتین کے پیٹ سے بچے نکال کر اسے کتوں کے ڈال رہے ہیں جبکہ مسلم دنیا  کے حکمرانوں نے اس مظالم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے انھوں نے کہا کہ 46اسلامی ممالک کی مشترکہ فوج جس کی قیادت جنرل راحیل کررہے ہیںعالم اسلام اور برما کے مظلوم مسلمانوں کاکب کام ائیگا انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے انھوں نے وزیر خارجہ سے ملاقات کی ہے انھوں نے کہا کہ برما کے مسلمانوںپر مظالم کے خلاف مسلم ممالک برما کے سفیروں کو ملک بدر کیا جائے اور فوری طور پر او ائی سی کا اجلاس بلا یا جا ئے انھوں نے کہا کہ برما کے مسلمانون کے قتل عام پر مسلم دنیا کو شدید احتجاج کرنا چاہئے تھا لیکن افسوس ہے کہ مسلم ممالک قبرستان کا منظر پیش کر رہے ہیں ا گرمسلم ممالک جھاگ نہیں اٹھے تو انڈیا اور دیگر ملکوں کے مسلمانوں کے ساتھ بھی ایسا ہوسکتا ہےٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ   نھوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں بد امنی ، مہنگائی ،لوڈ شیڈنگ اور لوٹ مار کا دور دورہ ہے پی پی پی ، ن لیگ اور جر نیلوں نے ملک کو لوٹا اور ملک کا بچہ بچہ ائی ایم ایف اور ورلڈ بنک کا مقروض بنا یا انھوں نے کہا کہ قوم نے 70سالوں سے پی پی پی اور مسلم لیگ کو موقع دیا لیکن ملک کی تقدیر نہیں بدلاانھوں نے کہا کہ سیا سی پارٹیاں سیاسی ڈیلرز بن چکے ہیں لیکن جما عت اسلامی ان لوٹیروں کا احتساب کرے گی  انھوں نے کہا کہ نواز شریف کی شکل میں ایک بت گرگیا جبکہ باقی دیگر 436افراد کو بھی احتساب کے کٹہرے میں لاینگے اور 11ستمبر کو لاہور سے اسلام آباد کو احتساب مارچ شروع کرینگے انھوں نے کہا کہ نواز شریف نے عاشق رسول ممتاز قادری کو پھانسی دی جس پر نواز شریف اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں اگئے انھوں نے کہ جماعت اسلامی نے شہید ممتاز قادری کے بیٹے کی تعلیم اور تربیت کے لئے پانچ لاکھ روپے دئے  انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان میں اسلامی انقلاب کے لئے کوشا ں ہیں اور ملک میں اسلامی انقلاب بر پا کرکے دم لینگے ۔


Read more

روہنگیا مسلمانوں پرمظالم؛ سینیٹ اوراسمبلیوں میں قراردادیں اورتحاریک جمع

روہنگیا مسلمانوں پرجاری ظلم و ستم کے خلاف قومی و صوبائی اسمبلیوں اورسینیٹ میں مختلف قراردادیں اور تحاریک التوا جمع کرائی گئی ہیں۔سینیٹ میں جے یو آئی (ف) کے حافظ حمد اللہ کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک التوا میں کہا گیا ہے کہ برما میں مسلمانوں پر بدھ مت دہشتگرد اور فوج مظالم کررہی ہے، روزانہ سینکڑوں روہنگیا مسلمانوں کو شہید اور خواتین کی عصمت دری کی جارہی ہے، ہزاروں سربریدہ لاشیں کھلے آسمان تلے مظالم کی داستان سنا رہی ہیں لیکن وہاں کی جمہوریت پسند نوبیل انعام یافتہ سیاسی رہنما آنگ سان سوچی اس قتل عام پر مجرمانہ طور پر خاموش ہے۔ برما کے مسلمانوں کو انسانیت سوز مظالم سے بچانے کے بجائے عالمی ضمیر بھی سویا ہوا ہے، ایوان میں معمول کی کارروائی روک کر برما میں مسلمانوں پر مظالم کے واقعات پر بحث کرائی جائے۔ایم کیو ایم کی جانب سے سینیٹر شیخ عتیق نے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف تحریک التوا سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرائی، جس میں کہا گیا ہے کہ میانمارمیں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی اور مہاجرین کی مشکلات پر ایوان بحث کرے۔ اس کے علاوہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں بھی ایم کیو ایم نے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف قرارداد جمع کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پرہرممکن مدد فراہم کی جائے، حکومت پاکستان روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے معاملے کو اٹھائے، بین الاقوامی برادری خواتین بچوں پر بدترین مظالم کا سنجیدگی سے نوٹس لے، متاثرین کو ہمسایہ ممالک میں داخلے کی اجازت دی جائے، متاثرہ خاندانوں کو خوراک، طبی سہولیات اور شیلٹر فراہم کیا جائے۔



Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30