Get Adobe Flash player

September 2017

04 September 2017

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سردار ایاز صادق کا چالان ہو گیا

موٹر وے پولیس نے مقررہ رفتار سے زیادہ تیز گاڑی چلانے پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی گاڑی کا چالان کر دیا۔موٹر وے پر گاڑی کی رفتار 120 کلو میٹر فی گھنٹہ تک لے جانے کی اجازت ہے تاہم اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی گاڑی موٹر وے پر سفر کے دوران جیسے ہی 150 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچی تو موٹر وے پولیس کے اسپیڈ ریڈار پر آ گئی جس کے بعد ٹریفک وارڈن نے اسپیکر قومی اسمبلی کا 1200 روپے کا چالان کاٹ دیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز تحریک انصاف کے مرکزی رہنما چوہدری سرور کا بھی موٹر وے پر چالان ہوا تھا۔


Read more

روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک التوا جمع

پاکستان تحریک انصاف نے روہنگیا مسلمانوں پر لرزہ خیز مظالم کیخلاف قومی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کرادی۔پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں تحریک التوا جمع کراتے ہوئے میانمار (برما)میں مسلمانوں پر جاری خوفناک ظلم و ستم پر فوری بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر عارف علوی، شیریں مزاری، اسد عمر اور شفقت محمود نے تحریک التوا جمع کرائی۔تحریک انصاف نے کہا کہ لاکھوں برمی مسلمانوں کے گھر نذر آتش کئے جارہے ہیں، یہ ایوان میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کا معاملہ فوری طور پر اٹھائے، ایوان میں جامع بحث کی جائے اور قومی لائحہ عمل سامنے لایا جائے۔


Read more

01 September 2017

امریکا:انسانیت کامجرم ۔۔۔سمیع اللہ ملک

 گزشتہ سے پیوستہ
 دوسری طرف اسلامی اسٹیٹ آف عراق اورالشام کوبھی مغربی خفیہ اداروں کی حمایت حاصل ہے۔ انہیں فنڈز کے ساتھ ساتھ جدید ترین اسلحہ بھی فراہم کیاجارہاہے۔ منظر نامہ یہ ہے کہ عراق اورشام میں تمام حکومت مخالف گروپوں کوبھرپورتیارکرکے میدان میں لایاجائے تاکہ فوج سے ان کاتصادم ہواوریوں مغربی قوتوں کو ایجنڈے کے مطابق اہداف حاصل کرنے میں بھرپورمدد ملے۔میڈیا کے ذریعے عوام کویہ باورکرایاجارہاہے کہ عراق اورشام میں جوکچھ ہو رہاہے وہ شیعہ سنی اختلافات کاشاخسانہ ہے۔ شیعہ سنی اختلافات کی پشت پر امریکی،برطانوی اوراسرائیلی ایجنڈاہے یعنی یہ کہ خطے کے چندبڑے ممالک کومسلک،نسل اورزبان کی بنیادپرتقسیم کردیاجائے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے خطے میں دیگرحلیفوں سے مددبھی لی جارہی ہے۔اب تک تویہی سامنے آیاہے کہ مختلف ممالک میں نسلی،مسلکی اورلسانی بنیادپر تفاوت اوراختلاف کوبڑھاوادیاجائے تاکہ اندرونی لڑائی کادائرہ وسیع ہو۔اِس پورے معمے کاسب سے اہم جزواشنگٹن کی طرف سے دہشت گردوں کو بھرپورتعاون فراہم کرناہے۔پال بریمرنے  عراق میں سِوِل گورنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اِس میعاد کی بنیاد پر" مائی ڈیئر ایئر اِن عراق"کے عنوان سے کتاب بھی لکھی ہے جو بہت مختلف ہے۔ پال بریمر نے جب عراق انٹیلی جنس اور پولیس کو ختم کیا تو امریکی قبضے کی بھرپور حمایت کرنے والے گروپوں کی فنڈنگ شروع کی۔ ان گروپوں نے عراق کے طول و عرض میں انسانیت سوز مظالم ڈھائے۔ اِن مظالم ہی کے باعث اورمیں عراق کے طول وعرض میں قتل وغارت کاسلسلہ چلاتھا۔پال بریمرکی گورنری کے عہد میں قابض افواج جنیوا کنونشن کے طے کردہ اصولوں کے تحت مقبوضہ علاقوں کے عوام کوتحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہیں اوردوسری طرف اِس قبضے کومضبوط کرنے کیلئے دہشت گردوں اورجرائم پیشہ افرادکے گروپوں کومنظم کیا گیا۔وزارت داخلہ اوراسپیشل کمانڈوفورسزکے ذریعے عراق میں ہزاروں بے قصورسویلینزکوموت کے گھاٹ اتاراگیا۔پال بریمرکے بعدعراق میں امریکی سفیرجان نیگروپونٹے نے قتل وغارت کا بازارگرم رکھا۔ انہوں نے   وسطی امریکامیں بھی ایسا ہی کیاتھا۔ پال بریمر نے جوکام ادھوراچھوڑاتھا،اسے جان نیگروپونٹے نے مکمل کیا۔ جان نیگرو پونٹے نے قاتل دستوں کوبھرپورامداد فراہم کی۔ ان دستوں نے ملک بھر میں لاکھوں سویلینزکے قتل کی راہ ہموارکی۔عراق کابنیادی ڈھانچاتباہ ہوگیا۔ معیشت برائے نام بھی نہ رہی۔ تیل کی پیداواراوربرآمد میں ایسارخنہ پڑاکہ ملک تباہی کے دہانے تک پہنچ گیا۔نیگرو پونٹے نے وسطی امریکا کے ملک ہونڈراس میں سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔ وہاں انہوں نے تربیت یافتہ قاتلوں کے دستے تیارکیے تھے۔عراق میں بھی انہوں نے ایساہی کیا۔کردوں اورشیعوں پرمشتمل ایسے دستے تیارکیے گئے جوعراق پر امریکی قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے والے سنی رہنمائوں کوقتل کرنے پر مامورتھے۔ السلواڈورآپشن کے تحت امریکی اورعراقی افواج مزاحمت کرنے والے رہنمائوں کوقتل کرنے کیلئے شام کی حدودمیں داخل ہونے سے بھی گریز نہیں کریں گی۔شام میں حکومت کے خلاف لڑنے والوں کے پاس امریکی ہتھیارہیں۔ یہ کوئی حیرت انگیزبات نہیں۔ایسانہیں ہے کہ امریکیوں کواس کاعلم یااندازہ نہ تھا۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہوگاکہ ایساہوسکتاہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جنہیں پروان چڑھایاگیاہوتاہے وہی مفادات کے خلاف جاناشروع کردیتے ہیں۔امریکی پالیسی میکرزکواندازہ تھاکہ ان کے دیے ہوئے ہتھیارکسی حدتک انہی کے خلاف استعمال ہوں گے مگرخیر،امریکاکوطویل المیعادبنیادپراپنے مفادات کی زیادہ فکر لاحق تھی۔بہت سے لوگوں کوایسالگتاہے جیسے امریکی پالیسی میکرزبے وقوف ہیں یایہ کہ امریکی پالیسی ناکام ہوچکی ہے،ایسا نہیں ہے۔ دراصل امریکی پالیسی میکرزیہی چاہتے تھے کہ آپ یہ سمجھیں کہ مشرق وسطی میں ان کی پالیسی ناکام ہوچکی ہے یاوہ بے وقوف ہیں۔امریکا نے مشرق وسطی کے حوالے سے جوپالیسی اپنائی ہے وہ غیرجمہوری،مجرمانہ اورسفاک ہے یعنی پہلے تومعاملات کوخوب خراب کیجیے اورقتل وغیرت کا بازار گرم ہونے دیجیے اورآخر میں ایک قدم آگے بڑھ کرخودہی قانون کی بالادستی کی بات کیجیے تاکہ معاملات کودرست کرنے کی راہ کسی حدتک ہموار ہولیکن حقیقت یہ ہے کہ اب دنیا کے مشہور سیاسی تجزیہ نگاروں کی طرف سے بارہامطالبہ کیاجارہاہے کہ جن لوگوں نے عراق پرجنگ مسلط کی ان کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہیے کیونکہ انہوں نے انسانیت کے خلاف جرم کاارتکاب کیا۔انہیں کسی بھی حالت میں معافی نہیں ملنی چاہیے۔ یاد رہے کہ برطانیہ کے سابق وزیراعظم اورجنگ میں امریکاکے سب سے بڑے اتحادی ٹونی بلئیرعالمی میڈیاکے سامنے عراق جنگ کے سلسلے میں اپنی غلطی کااعتراف کرکے معافی کی درخواست کرچکے ہیں۔

Read more

عرفان قادرکے نام ۔۔۔محمد آصف عنایت

ناسٹیلجیا یعنی ماضی میں کھونا یا پرانی یادوں میں مبتلا ہونا، سنا تھا دراصل انسان کی زندگی کا ایسا گوشہ یا نگر ہے جس میں بلا شرکت غیرے محظوظ بھی ہوتا ہے اور خدانخواستہ مغموم بھی، ارادہ تو تھا کہ کسی وقت اپنے چند دوستوں میں سے جناب عرفان قادر پر لکھا جائے مگر یہ معلوم نہ تھا کہ یہ کوشش باقاعدہ ناسٹیلجیا کے حملے کی زد میں لے آئے گی، ہم کسی شخصیت کے مثبت پہلوؤں کا اس کی زندگی میں اعتراف کرنے میں کافی بخیل واقع ہونے والے معاشرے کی بنیاد رکھ چکے ہیں البتہ اگر کچھ غرض ہو تو وہ خوبیاں بھی اس کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں جن سے وہ خود بھی کبھی واقف نہ رہا ہو۔کوئی موجودہ شخصیت اگر ماضی میں بھی شریک سفر رہی ہو تو اس کا یاد آنا فطری اور حسین عمل اس لیے ہے کہ انسان فطری طور پر ہی لڑکپن، جوانی اور نو عمری کے دنوں کو کبھی کبھار یاد کرتا رہتا ہے۔ ماضی کے کھلتے ہوئے دریچوں میں چلنے والے مناظر میں وہ لوگ ہی قبضہ جمائے ہوئے ہوتے ہیں جن کے ساتھ وہ دن گزرے ہوں۔ 1981-83ء کا دور ضیاء الحق کا دور تھا یا وطن عزیز پر عتاب کا راج، تب آج کی طرح لاء کالجز قریہ قریہ اور نگر نگر نہیں کھلے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی لاء کالج ہی تھا اور اس کی اپنی شان اور نام تھا۔ وطن عزیز کے نامور وکلاء وہاں پر لیکچر دیا کرتے تھے۔ میری کلاس کے طلباء میں علی اکبر قریشی، شاہد مبین، ممتاز بخاری،  عمر مہدی، طارق شاہ کھگا، عرفان قادر وغیرہ میرے قریبی ترین دوستوں میں شامل تھے۔ علی اکبر قریشی بعد میں مسٹر جسٹس علی اکبر قریشی (دوبار) مسٹر جسٹس شاہد مبین حالیہ دور میں بھی ہائی کورٹ میں بطور جسٹس فرائض انجام دے رہے ہیں۔ دونوں محنت اور دیانتداری کا شاہکار ہیں لیکن آج دل چاہا کہ دبنگ شخصیت جناب عرفان قادر کی بات کی جائے۔ مجھے یاد ہے اُن دنوں یونیورسٹی پر ایک طلباء تنظیم کا راج تھا جس کے سامنے کوئی پرندہ بھی پر نہیں مارتا تھا مگر الحمداللہ ہمارے لیے وہ کبھی بھی مسئلہ نہیں رہے تھے۔ عملی زندگی ایک تیز پانی کے بہاؤ کی طرح ہوتی ہے جس کے بہاؤ میں کوئی کہیں اور کوئی کہیں بہہ نکلتا ہے۔ راقم نے بھی کیریئر کا آغاز وکالت سے کیا۔ ایم آر ڈی کے وقت میں سیاست کی، پھر امریکہ چلا گیا واپس آکر وکالت شروع کی، پھر غلامی سے بد تر سرکاری نوکری زندگی کا توانائی سے بھرپور حصہ کھا گئی، اسی دوران افسانہ نگاری ، کالم نگاری میں بھی وقت لگایا مگر باقی شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ دوستوں کے ساتھ قریبی رابطہ رہا… عرفان قادر جب عملی زندگی میں آئے ، وکالت شروع کر دی، عرفان قادر سینئر بیوروکریٹ سابقہ چیئرمین ریلوے جناب چوہدری عبدالقادر کے بیٹے تھے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی اور انتہائی نیک نام شخصیت سابق چیف جسٹس آف پاکستان ریٹائرڈ جناب اسلم ریاض حسین کے ہاں بیاہے گئے، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، ممبر پرزنر ریفارمز کمیشن، کئی سال تک پراسیکیوٹر جنرل نیب، مسٹر جسٹس لاہور ہائی کورٹ، پھر دوبارہ پراسیکیوٹر جنرل نیب آف پاکستان، صدر پاکستان کے قانونی امور کے مشیر، سیکرٹری وزارت قانون و انصاف و پارلیمانی امور حکومت پاکستان کے علاوہ اٹارنی جنرل آف پاکستان کے عہدے پر فائز رہے۔ قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ ان تمام عہدوں پر قومی و آئینی خدمات جواں سالی میں ہی انجام دیں ورنہ ایسے عہدوں پر عموماً میانی صاحب کے مسافروں کو ہی دیکھا گیا ہے۔ واحد عرفان قادر ہیں جو نوجوانی سے جوانی تک ان عہدوں پر قومی خدمات انجام دے چکے… مسٹر عرفان قادر ہمارے دوستوں کے گروپ میں زیادہ کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ انتہائی شرمیلے، خوش پوش ، خوش گفتار، خوش مزاج، خوش اخلاق مگر حیرت انگیز طور پر بے باک بھی ۔ کلاس میں ٹیچر کے ساتھ سوال و جواب کا سلسلہ عرفان قادر کا ہی سب سے زیادہ ہوا کرتا تھا۔ کلاس روم میں ٹیچر سوال کے جواب کی وجہ سے اور اب عدالت میں مخالف وکلاء کے علاوہ معذرت سے جج صاحبان قانونی نکات کی وجہ سے گھبرائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سب کے ساتھ اچھے تھے مگر طلباء میں علی اکبر قریشی کے زیادہ دوست تھے۔ میرے ساتھ دوستی تو تھی البتہ نظریاتی اختلاف کی بنا پر تھوڑا محتاط بھی رہتے تھے ۔ دوستوں سے چھیڑ خانی میری طبیعت کا خاصہ رہا ہے لہٰذا عرفان بھی اس زد میں آجایا کرتے۔ میں انہیں دلیپ کے وقتوں کے انڈین فلموں کے ایک معروف ہیرو سے تشبیہ دیا کرتا تھا۔ علی اکبر قریشی ہمارے CRبھی رہے۔ ہم یعنی علی اکبر قریشی ، عرفان قادر، ممتاز بخاری، شاہد مبین عموماً ساتھ ساتھ کرسیوںیا بنچوں پر ہوتے۔ گوجرانوالہ سے میرا دوست خواجہ عمر مہدی بھی میری وساطت سے اس گروپ کا حصہ تھا۔ ٹیچرز سے چبھنے والا سوال یہ لوگ مجھ سے کرواتے تھے جبکہ قانونی ابہام کی وضاحت کا سوال عرفان قادر خود ہی کر لیا کرتے تھے۔ میں نے کئی بار اس حوالہ سے ان سے چھیڑ چھاڑ بھی کی مگر عرفان قادر شرمیلے ہونے کے باوجود سوال کرنے میں کبھی دیر نہ کرتے۔ الگ الگ مصروفیات زندگی کے با وجود کبھی کبھار ملاقات ہو جایا کرتی مگر رابطہ مسلسل رہا۔ جب بھی رابطہ ہوا میں نے محسوس کیا کہ جناب عرفان قادر کی معصومیت ، صاف گوئی، بے باکی،سچائی، ذہانت ، شرافت، صداقت، امانت، دانش، دیانت، متانت، ذہانت، فصاحت، اور بلاغت نے جیسے قدرت سے حکم امتناعی لے رکھا ہو، اتنے بڑے بڑے عہدوں پر سال ہا سال فائز رہے۔ جنرل مشرف ، جناب آصف علی زرداری، وزرائے اعظم ، عسکری قیادتوں، اعلیٰ ترین عدالتی شخصیات کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات کار رہے مگر عرفان قادر کی معصومیت ، عاجزی نے کسی بڑے عہدے یا بڑی شخصیت کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیا… کبھی ہوتا تھا کہ عدالت کے زیر سماعت مقدمات پر بات نہیں ہوا کرتی تھی اور نہ ہی ججز کے ریمارکس شہ سرخیاں بنا کرتے تھے مگر اب الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے عدالت کی کارروائی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ ہوتی ہے اور قانونی و سیاسی تجزیہ کار عدالت کے باہر ہی ڈائس لگا کر متعلقہ مقدمہ کے متعلق کھلے عام اپنے خیالات کا اظہار فرمایا کرتے ہیں۔ این آر او کا مقدمہ ہو، وزیراعظم کا چٹھی نہ لکھنا، پانامہ کیس ہو، کوئی جے آئی ٹی ہو، کسی توہین عدالت کا مقدمہ ہو یا کوئی آئینی مسئلہ اگر مسٹر عرفان قادر سے کسی نے کوئی سوال کیا یا ان کی رائے مانگی ہو تو انہوں نے ہمیشہ بے لاگ تبصرہ کیا، چاہے وہ اُن کے مزاج اور مفاد کے بھی خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ جسٹس رمدے ہوں یا جسٹس افتخار محمد چوہدری ، مسٹر عرفان قادر کی کسی کی بھی عدالت میں موجودگی تاریخ کا حصہ رہی ہے۔ اتنی معصوم شکل و صورت اور فطرت میں ، اتنا بے باک قانون دان میں نے نہیں دیکھا ۔ مسٹر عرفان قادر نے کبھی اپنے مؤقف کو پیش کرنے میں مصلحت کا پہلو تلاش کیااور نہ ہی کسی کا پریشر لیا۔ اُن کی سوچ اور رائے کے پیچھے ہمیشہ قانون اور انسانی وزڈم کارفرما رہے۔اُن کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے وکالت اور عدالتی عہدوں کے معیار، روایات، اخلاقیات اور اقدار کو اپنے مستقبل اور مفاد کو داؤپر لگا کر زندہ رکھا۔ وطن عزیز کے اتنے بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہتے ہوئے مسٹر عرفان قادر پر کبھی کسی سکینڈل کا شائبہ تک نہیں ہوا۔ مسٹر جسٹس علی اکبر قریشی، مسٹر جسٹس شاہد مبین اور جناب عرفان قادر جیسے ضرب المثل لوگوں کو قومی خدمت کے عہدوں پر فائز دیکھ کر احسا س ہوتا ہے کہ وطن عزیز میں ایک مضبوط نظام ہے جو اسے کبھی ناکام ریاست نہیں بننے دے گا۔ یہ سطور لکھ رہا تھا کہ نواز شریف کی تقریر کے حوالے سے ٹی وی چینل پر مسٹر عرفان قادر اور فروغ نسیم آراء دے رہے تھے۔ فروغ نسیم نے تو بھٹو صاحب کے مقدمہ میں یہ کہہ کر کہ وہ ٹھیک طرح لڑا نہیں گیا تھا عدالتی تاریخ ہی بدل ڈالی حالانکہ جسٹس نسیم حسن شاہ کا بیان آن ریکارڈ ہے کہ ہم پر پریشر تھا۔ اور پھر فروغ نسیم کہتے ہیں کہ ججوں کو ناراض نہیں کرنا چاہیے ۔ offend نہ کریں گو یا اگر وہ ناراض ہوں تو (جیسے ناراضی فیصلے کی صورت میں بھی نظر آئے گی) ان کی بات کا مفہوم یہ تھا جبکہ مسٹر عرفان قادر کا مؤقف کتابی اور خالص آئینی و قانونی بنیادوں پر تھا۔ میری نظر میں اور میرے مطابق مسٹر عرفان قادر وطن عزیز کے سب سے بڑے قانون دان ہیں۔



Read more

انسانیت کی خدمت جماعت اسلامی کی مہم چرم قربانی ۔۔۔میر افسر امان

جماعت اسلامی کی ذیلی فلاحی تنظیم الخدمت اتنی پُرانی ہے جتنا ہمارا پیار١ ملک اسلامیہ جمہوریہ پاکستان ہے۔ جماعت اسلامی اپنے قیام کے وقت سے اسلامیان پاکستان کی خدمت کرتی آئی ہے۔ اس سال چرم قربانی کی مہم کی تشہر کے لیے کراچی شہر کے صحافیوں کے ساتھ جماعت اسلامی نے ایک پروگرام ادارہ نور حق میں رکھا اس میں الخدمت کی کوششوں پر روشنی ڈالی گئی اور آئندہ کے پروگرام میڈیا کے سامنے رکھے گئے۔امید ہے میڈیا اس کی تشہیرکر کے ان نیک کام میں شریک ہو جائے گا۔ جماعت اسلامی کوبرسہابرس سے اس فیلڈمیں انسانیت کی خدمت کرتے ہوئے کافی تجربہ ہو گیا ہے۔ اِسے اپنے پرائے سب جانتے اور تحریف بھی کرتے ہیں اس کی مدر تنظیم الخدمت فاوئڈیشن پاکستان، بلا مبا لغہ پاکستان کی سب سے بڑی این جی اوئز ہے اس کی خدمت کا اعتراف پاکستان کے علاوہ باہر کے ملک بھی  کرتے ہیں ۔اسلامی ملکوں کی این جی اوئز نے بھی ہمیشہ پاکستان میں الخدمت فاوئڈیشن کی فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہتی ہیں ۔ فیڈریشن آف اسلامک میڈیکل اسوسی ایشن کے ذ مہ داران اس میں پیش پیش ہیں۔ کراچی سمیت پورے پاکستان میں الخدمت فاوئڈیشن کے تحت چرم قربانی مہم شروع ہوگئی ہے۔ الخدمت ویلفر سوسائٹی کراچی مستحقین کی اپنی روزانہ خدمات کے علاوہ ملک میں آنے والے زلزلہ اور سیلاب سے متاثرین کی فوری مدد بذریعہ خیمے، ترپالیں،ادویات اور راشن فراہمی کی صورت میں کرتی رہی ہے ۔سردیوں میں گرم کپڑے،لحاف وگدے اور راشن پیک جن میں چاول،آٹا،گھی، دودھ اور چینی وغیرہ شامل ہوتی ہے مدد کرتی ہے متا ثرہ علاقوں میں فری میڈیکل کیمپ اور مفت ادویات کی فراہمی کی جاتی ہے ۔شہر کی کچی آبادیوں اور سفید پوش لوگوں میں ماہانہ اور ہنگامی بنیادوں پر راشن تقسیم کیا جاتا ہے خصوصاً رمضان المبارک کے مہینے میں۔ کچھ عرصہ پہلے برما کے مسلمانوں، جن پر بد ھسٹوں کے ظلم و ستم سے مسلمان بے گھر ہو گئے ہیں اور ان کے افراد بنگلہ دیش کے کیمپوںمیں تھے الحمداللہ الخدمت کے مرکزی ذمہ داران براستہ بنگلہ دیش برما کی سرحد تک گئے اور ہزاروں مسلمانوں میں راشن اور بنیادی اشیاء تقسیم کیں۔ الخدمت کی مےّت گاڑیاں شہر میں24گھنٹے کا م کر رہی ہیں۔پاکستان میں پینے کے پانے کے فلٹر پلانٹ لگائے گئے ہیں۔ہینڈ پمپ بھی لگائے جاتے ہیں۔ شعبہ صحت کے پورے پاکستان میں ہسپتال قائم ہیں جہاں ریاعتی نرخوں پر عوام کا علاج کیا جاتا ہے۔ کراچی میں شعبہ صحت کے تحت الخدمت کے4بڑے ہسپتا ل،5 میڈکل سینٹرز، ڈ ئیکنوسٹک سینٹرز۔ ہومیو اور ایلو پیتھک کلینکس کا م کر رہے ہیں جہاں بارعایت علاج کیا جاتا ہے ۔کچی آبادیوں میں اور شہر کے مضافات میں فری میڈیکل کیمپ لگائے جاتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ میڈیکل اسٹور پر ادویات پر15 فی صد رعایت بھی دی جاتی ہے۔ناظم آباد میں جدید مشینری کے ساتھ بلڈ بنک کام کر رہا ہے۔ شہر کے دوسرے بلڈ بنکس سے رعایات کے ساتھ خدمات انجام دی جا رہی ہیں۔شہر بھر میںایک سو پندرہ  دینی مدارس عوام کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ان مدارس میں آٹھ ہزار سے زائدبچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان میں کئی بچوں نے بچوں نے قرآن شریف حفظ بھی کیا ہے ۔ہرسال کی طرح اس سال بھی کراچی میں فی سبیل اللہ قربانی کا اہتمام کیا گیاہے اور ہزاروں مستحقین میں گوشت تقسیم کیا جائے گا۔الخدمت کی تحت مستحق بچیوں کی شادی کے موقع پر نقد امداد کے علاوہ جہیز بکس فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ مختصر سا جائزہ کراچی الخدمت کا پیش کیا گیا ہے ۔اس کی مدر این جی او الخدمت فائوڈیشن کے تحت پاکستان کی بنیاد پر دس ہزار سے زائد یتیم بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور اہم نصابی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ پاکستان میں زلزلے اور سیلاب کے متاثرین کے لیے خیمہ بستیاں ،لکڑی کے مکانات اور پکے مکانات بھی الخدمت  نے بنا کر دیے تھے۔ اسکولوں، مساجد او ر خواتین کے لیے کیمنٹی سینٹرز کا قیام بھی شامل ہے۔ الخدمت کراچی میں عید قربان سے پہلے ہی اس مہم کاآغاز ہو جاتا ہے ہر سال امیر جماعت اسلامی حلقہ کراچی اپنے خط میں کارکنان جماعت اسلامی کے جذبے خدمتِ خلق کو اُبھارتے ہیں ۔ اضلاع کی سطح پر خصوصی اجتماعات منعقد کئے جاتے ہیں اس کے بعد زوئز کی سطح پر اس طرح کے اجتماعات ہوتے ہیں کارکنان دوسرے سارے کام چھوڑ کر اس مہم میں مصروف ہو جاتے ہیں اس دفعہ بھی کراچی کے اضلاع میں اس مہم کو زور شور سے شروع کیا گیا تھا ہمیشہ کی طرح اس سال بھی کار کنان جماعت اسلامی نے انسانیت کی خدمت کے لیے اپنے عید کے تین دن اسی مہم میں گزاریںگے۔ اللہ ضرور اس کا اَجر دے گا۔الخدمت کراچی نے ہر سال کی طرح اس سال بھی عوام کے سامنے اپنے آمدنی اور اخراجات کا گوشوارہ پیش کیا اس میں کروڑوں کی آمدنی اور اخراجات بتائے گئے ہیں ۔بقول شاعر :۔دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو... ورنہ اطاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں۔ انسانیت کی خدمت ہی اللہ کی رضا اور فلاح اُخروی کے لیے ضروری ہے شہر میں دوسری تنظیموں نے بھی اللہ کی رضا اور فلاح اُخروی کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اللہ سب کی محنت قبول فرمائے ۔جماعت اسلامی کے مرد و خواتین کارکنان سال بھر اسی کام میں مصروف رہتے ہے اس کے کارکنان فی سبیل اللہ پورے سال مستحقین کو ان کا حق پہنچاتے رہتے ہیں الخدمت کی تاریخ نصف صدی پر محیط ہے جب تک یہ دنیا قائم ہے اللہ ان کارکنان سے اپنے بندوں کے لیے کام لیتا رہے آمین۔



Read more

اچھا تو یہ ہماری جنگ نہیں تھی؟۔۔۔ سلیم اللہ شیخ

اس جنگ میں حصہ لینے کے باعث دنیا بھر میں پاکستان کا تشخص مجروح ہوا، اس جنگ میں حصہ لینے کے باعث پاکستان کو ناقابل تلافی نقصانات اٹھانے پڑے ہیں اور تاحال پاکستان اس کے نقصانات اٹھا رہا ہے۔ ہمارے ہاتھ میں کیا آیا؟ دھوکا دہی کے الزامات۔ ناقابل اعتبار ریاست کا خطاب۔ ڈو مور کے مطالبات اور دھمکیاں۔ افغانستان بھی ہماری نسبت بھارت پر زیادہ بھروسہ کرتا ہے۔23 اگست کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح چھے بجے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے خلاف بیان دیا اور ڈو مور کا مطالبہ کیا۔بلکہ انہوںنے پاکستانی کو دھمکیاں دی ہیں۔ ان کی دھمکی کے بعد پاکستانی حکومت، پارلیمنٹ ، سینیٹ اور عسکری قیادت نے اس کی پر زور مذمت کی اور امریکہ کو یاد دلایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بیشمار قربانیاں دی ہیں، امریکہ کو پاکستان کی قربانیوں کا احساس کرنا چاہیے۔ یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔ موجودہ صورتحال میں یہی بیان دینا چاہیے اور امریکہ کو بتا دینا چاہیے کہ پاکستان اس کی کوئی باجگزار ریاست نہیں ہے۔ہمیں اس بات پر بہت خوشی ہے کہ پاکستانی سول اورعسکری قیادت نے اس معاملے پر ایک واضح موقف اختیار کیا۔ لیکن اس بیان کے اگلے روز قومی سلامتی کے اجلاس میں ایک بات کا اظہار کیا گیا کہ  افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جاسکتی۔ جب کہ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ ہم امریکی جنگ لڑتے رہے ہیں۔ دیر آید درست آید بالاخر پاکستانی سیاسی قیادت نے اس بات کوواضح طور پر قبول کرلیا کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ ہماری یعنی پاکستان کی جنگ نہیں ہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کا اعتراف کرنے میں اتنی تاخیر کیوں کی؟ اور کیا اگر امریکہ پاکستان کو دھمکیاں نہیں دیتا تو کیا اس وقت بھی ہماری سیاسی اور عسکری قیادت اس بات کا اعتراف کرتی؟؟جس بات کا اظہار سیاسی و عسکری قیادت نے آج کیا ہے، یہی بات سترہ سال سے دینی و مذہبی جماعتیں کررہی ہیں۔ دینی جماعتیں افغانستان پر امریکی حملے کے وقت سے یہ بات کررہی تھیں کہ یہ امریکی جنگ ہے جو پاکستان کے سر پر تھوپی جارہی ہے اور پاکستان کو اس جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے، لیکن کمانڈو جنرل پرویز مشرف ایک فون پر ڈھیر ہوگئے اور انہوںنے اس پرائی جنگ میں پاکستان کو دھکیل دیا۔ اس جنگ میں حصہ لینے کے باعث پاکستان کو ناقابل تلافی نقصانات اٹھانے پڑے ہیں اور تاحال پاکستان اس کے نقصانات اٹھا رہا ہے۔اس جنگ میں حصہ لینے کے باعث دنیا بھر میں پاکستان کا تشخص مجروح ہوا، پاکستانی پاسپورٹ کی توقیر دنیا بھر میں کم ہوئی۔ پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر جانا گیا۔ ہماری مغربی سرحدیں غیر محفوظ ہوگئیں، ہماری فوج کو بھارت کے ساتھ ساتھ مغربی سرحدوں پر بھی نبرد آزما ہونا پڑا ، یہ جنگ ہمارے ہزاروں محافظوں کو کھا گئی، ملک میں دہشت گردی کا طوفان آگیا۔ اربوں روپوں کا نقصان ۔ اور یہ سب کچھ ہونے کے بعد بھی ہمارے ہاتھ میں کیا آیا؟ دھوکا دہی کے الزامات۔ ناقابل اعتبار ریاست کا خطاب۔ ڈو مور کے مطالبات اور دھمکیاں۔ آج افغانستان بھی ہمیں آنکھیں دکھا رہا ہے۔ اس کے بر عکس بھارت جس نے اس جنگ میں نہ تو امریکہ کا پاکستا ن کی طرح ساتھ دیا، نہ امریکہ کو کوئی لاجسٹک سپورٹ فراہم کی اور نہ ہی اپنے اڈے دئیے، وہ اس وقت امریکہ کا چہیتا دوست ہے اور ہماری نسبت وہ آج افغانستان سے زیادہ قریب ہے اور افغانستان بھی ہماری نسبت بھارت پر زیادہ بھروسہ کرتا ہے۔تو پھر کیا ثابت ہوا؟ ہمارے نزدیک یہ ثابت ہوا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کی افغان پالیسی بالکل درست تھی۔ اس پالیسی کے باعث ہماری مغربی سرحدیں بھی محفوظ تھیں اور ملک دہشت گردی سے بھی پاک تھا۔ لیکن جنرل مشرف کے افغان پالیسی پر یو ٹرن لینے کے بعد ہمارے ملک کا یہ حال ہوا ہے۔بہر حال اب جب کہ پاکستان سیاسی و عسکری قیادت نے امریکہ کے سامنے سر اٹھا ہی لیا ہے تو اس کو اٹھا ہی رہنے دیں، دوبارہ سر جھکانے کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکہ کو کہہ دیا جائے کہ  بس بھائی بس زیادہ بات نہیں ۔


Read more

ایک کی چونچ۔ایک کی دم۔۔۔تنوویر صادق

دونوں گاڑیاں ایک دوسرے کے پیچھے بڑی تیزی سے بھاگی آ رہی تھیں۔ موڑ پر مڑتے وقت بھی دونوں میں سے کسی نے گاڑی آہستہ کرنے کا تکلف نہیں کیا۔ موڑ مڑتے ہی سامنے سپیڈ بریکر تھا جو وہاں رہنے والوں نے اپنی حفاظت کے لئے خود ہی بنوایا تھا۔ بنانے والوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ اس بریکر کی ساخت کیا ہے، سائز کیا ہے،فائدہ کیا ہے۔ نقصان کیا ہے۔اندھا دھند چلتی گاڑیاں کچھ سنبھلتی تو ہیں۔وہاں بریکر کی آمد کا نہ تو کوئی نشان تھا اور نہ ہی بریکر پر کوئی نشان۔بس ایک پہاڑ نما بڑا سا ٹیلا بنا دیا گیا تھا۔ اگلی گاڑی والے کی اس ٹیلے یا سپیڈ بریکر پر نظر پڑی تو دیر ہو چکی تھی ۔ پورے زور سے بریکیں لگانے کے باوجود پہلے گاڑی کا اگلا حصہ آسمان کے رخ محو پرواز ہوا اور اس کے بعدپچھلا حصہ فضا میں رقص کرنے لگا۔پچھلے گاڑی والے نے بھی گاڑی روکنے کی بہت کوشش کی مگرجب اگلی گاڑی زمین پر واپس آ رہی تھی، یہ گاڑی بریکر سے اچھلی اور اس کا اگلا حصہ پہلی گاڑی کے پچھلے حصے میں یوں پیوست ہوا جیسے برسوں کے بچھڑے بڑے تپاک سے گلے مل رہے ہوں۔لمحوں میں گاڑیوں کے کچھ حصے دائیں بائیں سڑک پر گھو منے لگے۔ پچھلی گاڑی کا اگلا بمپر آدھا سڑک پر جھول رہا تھا اور آدھا دونوں کے درمیان پھنسا ہوا تھا جب کہ اگلی گاڑی کا پچھلا بمپر پرواز کرتا ہوا ڈیڑھ دو سو فٹ کے فاصلے پر آرام کر رہا تھا۔ مجھے بچپن میں پڑھی ہوئی نظم یاد آ گئی۔ لڑتے لڑتے ہو گئی گم، ایک کی چونچ، ایک کی دم۔کمبخت سپیڈ بریکر نے دونوں گاڑیوں کو لڑا کر ایک کی چونچ اور ایک کی دم غائب کر دی تھی۔ محلے کے کئی لڑکے بھاگتے ہوئے آئے کہ دیکھیں کوئی زخمی تو نہیں ہوا۔دونوں گاڑی مالکان خیریت سے تھے مگر شدید غصے میں۔ انہوں نے اتر کر پہلے اپنی گاڑیوں پر نظر ڈالی پھر ایک دوسرے کو گالیاں دینا شروع کر دیں ۔ ہر ڈرائیور حادثے کاذمہ دار دوسرے کو قرار دے رہا تھا۔اس سے پہلے کہ دونوں گتھم گتھا ہوتے ، محلے کے ایک پہلوان نما بزرگ آگے بڑھ کر انہیں روکااور بتایا کہ قصور دونوں کا ہے۔ اس علاقے میں گاڑی تیز چلانا اپنے ساتھ بھی اور علاقہ مکینوں کے ساتھ بھی ظلم ہے۔ تھوڑا سا شعور اگر ہے تو گاڑی رکھنے کے ساتھ اسے چلانے کے اخلاقی تقاضے بھی جانو۔دونوں ڈرائیوروں کو یہ نصیحتیں اچھی نہیں لگیں ۔ بولے یہ سپیڈ بریکر ہے یاآپ لوگوں نے اپنی قبر بنائی ہوئی ہے۔ پہلوان کو بھی غصہ آ گیا۔ اس نے محلے کے پندرہ بیس لڑکے ،جو وہاں اکھٹے ہو گئے ،کو کہا ، بیٹا لگتا ہے گاڑیاں تڑوا کر بھی ان کا پاگل پن دور نہیں ہو، اب زیادہ بولیں تو یہیں سڑک پر لٹا کر تھوڑا سا دھو نا ضروری ہے۔پکڑو اور اسی قبر پر انہیں لٹا دو۔ دونوں گاڑی والوں کو بات سمجھ آ گئی،معذرت کرنے لگے۔پہلوا ن نے لڑکوں کو کہا، پہلے ان کی گاڑیاں ایک سائیڈ پر کرائو اور پھر ان کی جو مدد ہو سکے کرو۔لڑکے ان کے ساتھ گاڑیاں ایک طرف کرانے لگے اور پہلوان سامنے ایک تھڑے پر بیٹھ کر صورت حال کا جائزہ لیتا رہا۔یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ۔ ایسے واقعات روز کا معمول ہیں۔پوری دنیا میں لوگ خصوصا نوجوان اندھا دھند گاڑیاں چلاتے ہیں۔لوگوں کی سلامتی کے لئے ان کی رفتار کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لئے سپیڈ بریکرز، سپیڈ کشن اور سپیڈ لمٹ سے کام لیا جاتا ہے۔سپیڈ لمٹ بڑی شاہرائوں پر نافد ہوتی ہے۔ جو عموما سو کلومیٹر یا اس سے کچھ زیادہ ہوتی ہے۔سپیڈ کشن ربڑ، کنکریٹ یا پلاسٹک کسی بھی میٹیریل سے بنائے جا سکتے ہیں ان کی زیادہ سے زیادہ اونچائی تین انچ ہوتی ہے ۔یہ گروپ کی صورت تھوڑے تھوڑے فاصلے پر لگائے جاتے ہیں۔ چھوٹی گاڑیاں ان پر سے گزرتے تھوڑی سی رقصاں ہوتی ہیں اور ڈرائیور 15 سے20 فیصد تک رفتار کم کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔البتہ ایمر جنسی بڑی گاڑیاں ان سے با آسانی گزر جاتی ہیں۔سپیڈ بریکر اپنی ابتدا سے آج تک متنازعہ رہا ہے۔یہ لمبائی میں سڑک کی پوری چوڑائی کے برابر ہوتا ہے۔اس کی سٹینڈرڈ چوڑائی بارہ فٹ سے چودہ فٹ ہوتی ہے جب کہ اونچائی چار انچ ہوتی ہے۔ اگر سپیڈ زیادہ کم کرنی مطلوب ہوتو ایک خاص نسبت سے اس کی چوڑائی تھوڑی کم اور اونچائی تھوڑی بڑھا دی باتی ہے ۔اس کے لئے اب ایک باقاعدہ فارمولا بنا دیا گیا ہے ۔ یہ بریکر آہستہ چلنے والوں کو محسوس نہیں ہوتے البتہ تیز چلنے والوں کو ہلکے سے جھٹکے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ٹریفک کو کنٹرول رکھنے کے لئے سپیڈ بریکر کی کہاں ضرورت اور اور کیسا ہونا چاہیے اس کا فیصلہ حکومت کرتی ہے۔پاکستان جیسے ممالک جہاں قانون کی حکمرانی قدرے کمزور ہوتی ہے، وہاں عوام جہاں چاہتے ہیں ، جب چاہتے ہیں اور جیسا چاہتے ہیں بریکر بنانے میں آزاد ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہاں آدھے سے زیادہ بریکر ایک فٹ اونچے اور فقط ایک فٹ چوڑے نظر آتے ہیں۔ایسے بریکر صرف رفتار ہی کم نہیں کرتے، کار کو سبق بھی سکھا کر بھیجتے ہیں۔یہ بریکر دنیا بھر میں خلاف قانون قرار دئیے جاتے ہیں۔1906 میں گاڑیوں کی تیز سپیڈ تیس میل یا 48 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوتی تھی۔ اس رفتار کو کم کرنے کے لئے امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں شیتم کے علاقے میں روڈ کراس کرنے والی جگہ سڑک پر فٹ پاتھ کی طرز پر ایک پا نچ انچ اونچی چوڑی سی پٹی بنا دی گئی۔ یہ دنیا کا سب سے پہلا سپیڈ بریکر تھا۔اس کے بعد مختلف ملکوں میں اس پر باقاعدہ تحقیق ہوتی رہی۔ اور کئی انداز میں سپیڈ بریکر وجود میں آتے رہے۔آج سپیڈ بریکر پوری دنیا میں موجود ہیں۔ انگلینڈ میں لوگ سپیڈ بریکر کو سویا ہوا پولیس مین کہتے ہیں۔ گنجان آبادیوں میں اور سکولوں کے گرد نواح لوگوں خصوصابچوں کی حفاظت، حادثات سے بچائواور تیز رفتار ڈرائیوروں کو گاڑی آہستہ چلانے پر مجبور کرنے میں سپیڈ بریکر کی افادیت سے کسی طرح انکار ممکن نہیں۔لیکن سپیڈ بریکروں کی بغیر ضرورت تعمیر، غیر ضروری بھر ماراورناقص ڈیزائین نے لوگوں کے لئے مشکلات پید اکر دی ہیں ۔ ایمر جنسی گاڑیوں کی نقل و حمل میں مشکلات بھی پیدا کی ہیں۔ان بریکرز کی وجہ سے کم رفتار کے لئے چھوٹے گئیر کا استعمال شور اور آلودگی کا باعث بنتا ہے۔نوکدار بریکر گاڑیوں کی ٹوٹ پھوٹ کا بھی باعث ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں ایمبولینس ایسوسی ایشن کے مطابق سپیڈ بریکرز کی موجودگی میں گاڑیوں کی تیزرفتاری میں رکاوٹ ہزاروں مریضوں کی ہلاکت کا باعث ہوئی ہے۔سپیڈ بریکر کی تمام تر افادیت کے باوجود،حکومتی سطح پر ضرورت ہے کہ عوام کے ہر جگہ اور ہر علاقے میں بغیر پوچھے ، بغیر اجازت غیر ضروری سپیڈ بریکر بنانے پر پابندی عائد کی جائے ۔جہاں ضرورت ہو حکومت بریکر خود بنوائے یا اگر کوئی دوسرا بنانا چاہے تو اس کی تعمیرکوحکومتی اجازت کے ساتھ منسوب کر دیا جائے۔جو سپیڈ بیکر بنایا جائے وہ مروجہ ڈیزائن کے مطابق ہو تا کہ بریکر گاڑیاں نہ توڑیں صرف رفتار پر قابو پائیں۔



Read more

امریکی کانگرس اور قومی اسمبلی کے درمیان رابطوں کی ضرورت۔۔۔ضمیرنفیس

صدر ٹرمپ کے الزامات اور ان کی دھمکیوں کے جواب میں قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر جس قرارداد کی منظوری دی ہے اس کا لب و لہجہ سخت ہے اور یہ سینٹ کی سفارشات کے مقابلے میں قومی امنگوں کی موثر طور پر نمائندگی کرتی ہے قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ '' امریکی الزامات واپس لئے جانے تک افغانستان کیلئے پاکستان کے راستے امریکی سازو سامان کی رسد پر پابندی عائد کی جائے''پاکستان اور امریکہ کے درمیان وفود کے تبادلوں پر بھی پابندی عائد کی جائے مشترکہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کا ایوان 21اگست کو افغانستان و جنوبی ایشیاء سے متعلق بیان میں پاکستان پر الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے جنرل نکلسن کے کوئٹہ اور پشاور میں طالبان شوریٰ کی موجودگی کے الزام کو بھی ایوان مسترد کرتا ہے اور بھارت کو افغانستان میں کردار دینے کی مذمت کرتا ہے یہ کردار زمینی حقائق سے راہ فرار اختیار کرنے کے مترادف ہے بھارت کو بالادست بنانے سے خطہ غیر مستحکم ہوگا۔قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ایوان مقبوضہ کشمیر کے عوام کی سفارتی،  سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے اور ان کے حق خود ارادیت کی تائید کرتا ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ ایوان امریکہ کے پاکستان کو اربوں ڈالر دینے کے دعوے کو مسترد کرتا ہے جبکہ حقائق یہ ہیں کہ پاکستانی معیشت کو 123ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوچکا اس جنگ سے پاکستان میں 70ہزار قیمتیں جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر اور افغانستان میں نیٹو کمانڈر کے بیانات پاکستان کو یرغمال بنانے اور دھمکیاں دینے کے مترادف ہیں چنانچہ اس صورتحال میں ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستان کی آزادی ، خود مختاری اور علاقائی سالیمت کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام کیا جائے۔قرارداد میں افغان مہاجرین کی واپسی کو ممکن بنانے پر زور دیا گیا۔ افغان حکومت سے اپنی سرزمین پر تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے محفوظ ٹھکانوں کو جہاں سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے حملے کئے جاتے ہیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ امریکہ ، اتحادی افواج اور افغان حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارت کو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہ کرنے دیں۔ قومی اسمبلی کی مذکورہ قرارداد بلاشبہ ایک جامع قرارداد ہے مناسب تھا کہ اس میں سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کی تقریر کے اہم نکات بھی شامل کردئیے جاتے انہوں نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی امریکی کانگریس کے سربراہ کو خط لکھیں جس میں پاک امریکہ جوائنٹ کمیٹی بنانے کی تجویز دی جائے اور ان سے کہا جائے کہ افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کی نشاندہی ہم کرتے ہیں جبکہ پاکستان پر لگائے گئے الزامات کے وہ ہمیں ثبوت فراہم کریں ہم اپنا موقف واضح کرینگے۔ چوہدری نثار علی کی تجویز بامعانی اور قابل عمل ہے پاکستان اور امریکہ منتخب ایوانوں کے سربراہوں کے درمیان مکالمے اور رابطے کے ذریعے مشترکہ کمیٹی دونوں طرف کے الرامات کا جائزہ لے سکتی ہے۔امریکہ اگر دھمکیاں دے سکتا ہے تو ہم بھی اپنا لیور استعمال کرنے کے حوالے وارننگ دے سکتے ہیں ماضی میں امریکی فوجیوں کے سلالہ حملے پر پاکستان نے افغانستان کو نیٹو سپلائی روک دی تھی اور امریکہ سے معافی کا مطالبہ کیا تھا شروع میں امریکہ نے معذرت سے انکار کردیا تھا مگر سپلائی کی معطلی کے بعد جب اس پر دبائو بڑھا تو اس نے معذرت کرلی تھی ہمیں نہ صرف رسد روکنے کے حوالے سے وارننگ دینی چاہیے بلکہ یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ رسد کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ ہونا چاہیے آئندہ کیلئے ہمیں مفت سہولت کو ختم کردینا چاہیے۔اس وقت افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک دوسرے کے شہریوں کو مفت ویزا فراہم کیا جارہا ہے یہ طریقہ کار ختم ہونا چاہیے اس کی وجہ سے افغانستان سے لوگ بھاری تعداد میں پاکستان تے ہیں کیونکہ وہاں روزگار کے مواقع نہیں ہیں اس کے برعکس پاکستان سے افغانستان جانے والوں کی تعداد بہت مختصر ہے افغانیوں کیلئے کم از کم پچاس ڈالر  مقرر ہونی چاہیے۔


Read more

ایٹمی دھماکے ماحولیات اور عالمی استحکام کیلئے خطرہ

ایٹمی دھماکوں کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل انتونیو گوترس کی طرف سے  جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں گزشتہ سات دہائیوں میں دو ہزار ایٹمی تجربات کئے گئے یہ تجربات جنوبی بحرالکاہل ، شمالی امریکہ اور وسطی ایشیاء سے لے کر شمالی افریقہ تک کئے گئے یہ دھماکے ماحولیات اور عالمی استحکام کیلئے مسلسل خطرہ ہیں بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دن ماضی میں جوہری دھماکوں سے متاثرین سے احترام کے ساتھ ساتھ اس لئے منایا جاتا ہے تاکہ دنیا کو یہ یاد دہانی کرائی جائے کہ کوئی ملک مزید ایٹمی دھماکہ نہ کرے اور سی ٹی بی ٹی پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔ یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ سات دہائیوں کے دوران دنیا میں دو ہزار ایٹمی تجربات پر اربوں ڈالر تو خرچ کئے گئے لیکن انسانوں کی بھوک مٹانے کیلئے اس حد تک وسائل استعمال نہیں کئے گئے آج کی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پسماندہ اور غریب خطوں کے عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں اور ان کی خوراک ان  کیلئے چھت اور تعلیم و صحت کی سہولتوں کو یقینی بنایا جائے مگر اس مسئلہ پر بہت کم توجہ دی جارہی ہے بعض ممالک نے ایٹمی دھماکوں کا راستہ مختلف خطوں اور علاقوں میں اپنی بالادستی کا سکہ جمانے کیلئے اختیار کیا ہے جبکہ بعض ایسے ہیں جنہوں نے بہ امر مجبوری اپنے آپ کو اپنے دشمنوں کی جارحیت سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے اس راستے کا انتخاب کیا ہے پاکستان ان ممالک میں سے ہے جو اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کیلئے کم از کم ڈیڑنس پر یقین رکھتے ہیں اگر اقوام متحدہ کا ادارہ مختلف خطوں میں موجود تنازعات کو حل کروانے کے سلسلے میں موثر کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہوتا اور وہ جارح کے خلاف کارروائی کرتا تو بہت سے ممالک میں عدم تحفظ کا احساس پیدا نہ ہوتا حقیقت یہ ہے کہ عالمی ادارہ بڑی طاقتوں کی خواہشات کے گرد گھومتا ہے جہاں ان طاقتوں کے مفادات ہوتے ہیں وہاں ادارے کی قراردادوں پر دنوں اور گھنٹوں میں عمل ہوتا ہے اس کے برعکس جہاں ان کی دلچسپی نہیں ہوتی وہاں کئی دہائیوں سے قراردادیں الماریوں کی زینت رہتی ہیں اور عمل درآمد کے مراحل تک نہیں پہنچتیں بالادستی کے تصور اور توسیع پسندانہ روش کو لگام دے کر ایٹھی دھماکوں کی روش کے آگے بند باندھا جاسکتا ہے اس طرح بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ایٹمی تجربات انسانی ماحول کیلئے مضر اثرات اور ماحولیات کی تباہی کا باعث بنتے ہیں انسانوں کو دھماکوں کی نہیں محبت ،خوراک اورتوجہ کی ضرورت ہے دہشتگردی کا دھماکہ ہو یا کسی ایٹمی تجربے کا دھماکہ دونوں معاشی بدحلی کو آواز دیتے ہیں اقوام متحدہ ایٹمی دھماکوں کے خلاف عالمی دن ضرور منائے مگر کمزور اورپسماندہ اقوام کے معاشی تحفظ کو بھی یقینی بنانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔


Read more

حج و قربانی کا فلسفہ اور خطبہ حج

وطن عزیز کے مسلمان آج عید الاضحیٰ منا رہے ہیں خوش قسمت ہیں وہ مسلمان جنہیں اس بار حج کی سعادت حاصل کرنے کا موقع ملا ہے عید الاضحیٰ کی نماز کے بعد قربانی سنت ابراہمی ہے حج اور قربانی کے فلسفے پر غ ور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے یہ سب کچھ اطاعت الٰہی اور حضرت ابراہیم کے خاندان کی کہانی ہے حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اللہ کی راہ میں اپنی سب سے عزیز شے قربان کررہے ہیں انہوں نے سوچا کہ ان کے پیارے لخت جگر حضرت اسماعیل علیہ اسلام ہی ان کی سب سے عزیز ہیں چنانچہ انہوں نے اپنی اہلیہ بی بی ہاجرہ سے اپنا خواب بیان کیا اور اپنا فیصلہ بتایا انہوں نے بھی آپ کے فیصلے کو تسلیم کیا اس کے بعد آپ لخت جگر حضرت اسماعیل کو قربان کرنے کیلئے لے کر چلے آپ نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی کہ کہیں بیٹے کے گلے پر چھری چلاتے ہوئے شفقت پدری ایسا جوش نہ مارے کہ قدم ڈگمگا جائیں چنانچہ آپ نے آنکھوں پر پٹی باندھی اور بیٹے کی گردن پر چھری چلا دی حکم خداوندی سے اسماعیل علیہ اسلام محفوظ رہے اور ان کی جگہ ایک مینڈھا زبح ہوچکا تھا ارشاد خداوندی ہوا اے ابراہیم آپ نے اپنا خواب سچ کر دکھایا اسی طرح جب حضرت ابراہیم  مکہ کی پہاڑی پر بی بی ہاجرہ اور ننھے اسماعیل  کو چھوڑ کر روانہ ہوگئے تو کچھ دیر بعد بی بی ہاجرہ نے محسوس کیا اسماعیل کو پیاس لگی ہے بی بی ہجرہ بچے کو لٹا کر پانی کی تلاش میں دیوانہ وار کبھی منا اور کبھی مروہ کی طرف بھاگیں اسی دوران حکم الٰہی سے اسماعیل کے ایڑیاں رگڑنے سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا اور تیزی سے بہنے لگا بی بی نے کہا زم زم یعنی ٹھہر جا سینکڑوں برسوں سے یہ پانی انسانوں کیلئے شفاء ہے خالق کائنات کو پانی کی تلاش میں بی بی ہاجرہ کا دوڑنا اس قدر پسند آیا کہ منا اور مروہ کے درمیان سعی کو مناسک حج میں شامل کردیا بی بی ہاجرہ اگرچہ نبی نہ تھیں مگر نبی کی والدہ اور نبی کی اہلیہ تھیں نبی نہ ہونے کے باوجود ان کی سعی عمرہ اور حج کی سعادت حاصل کرنے والے ہر مسلمان کیلئے لازم قرار پائی انبیاء نے بھی سنت ہاجرہ کی تقلید میں سعی کی حج ایک عظیم عبادت ہے جس کا پیغام اطاعت الٰہی اور سنت ابراہیمی پر عمل درآمد ہے یہ عبادت مسلمانوں کو گناہوں سے توبہ و استغفار کے لمحات عطا کرتی ہے اپنے خطبہ حج میں ڈاکٹر سعد بن ناصر الشتری نے بجا طور پر کہا ہے کہ حج  مقدس عبادت ہے یہ سیاست کا میدان نہیں حج کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا اور مفادات کے حصول کا اکھاڑا بنانا جاہلیت کے رسم و رواج ہیں جنہیں اسلام مٹانے کیلئے آیا ہے انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات امن اور بھائی چارے کا درس دیتی ہیں اسلام شدت پسند جماعتوں کا مخالف ہے اسلام میں غیر مسلم کا خون بہنا بھی حرام ہے امت سیاست کی بنیاد پر تقسیم ہونے سے بچے مسلم حکمران قرآن کے مطابق حکمرانی کریں ہم پر لازم ہے کہ شریعت کے احکامات پر پوری طرح عمل پیرا ہوں ہر قسم کے تعصب سے گریز کیا جائے زیادتی مسلمان کے ساتھ ہو یا غیر مسلم کے ساتھ اسلام میں منع ہے شریعت پر عمل کرو گے تو اللہ رحم فرمائے گا تقویٰ اختیار کرنیوالوں کو اللہ دنیا اور آخرت کی فلاح دیتا ہے انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہمیں ایک دوسرے کی گردن مارنے سے منع کیا ہے اسلام نے تجارت کو فروغ دیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے سود ، قمار بازی اور حرام طریقوں سے مال کھانا کسی طور جائز نہیں تقویٰ دین کا لب لباب ہے اسی میں دنیا اور آخر کی کامیابی ہے۔ ڈاکٹر سعد بن ناصر نے اپنے خطبہ حج میں اسلام کا نچوڑ پیش کیا ہے کہ تقوی درحقیقت دین کا خلاصہ ہے آج کے دور میں ہمیں قدم قدم پر تقویٰ کو پیش نظر رکھنا چاہیے اسلام انسانیت کیلئے فلاح کا پیغام لایا ہے ظلم و ناانصافی کسی بھی انسان کے ساتھ منع ہے چاہے وہ غیر مسلم ہی کوں نہ ہو اگر ہم صرف اس اصول ہی پر عمل پیرا ہوجائیں تو اپنے معاشرے اور ماحول کو بہتر بنا سکتے ہیں اور انسانوں کے مسائل میں کمی لا سکتے ہیں۔


Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30