Get Adobe Flash player

September 2017

01 September 2017

معلومات تک رسائی کا نیا قانون۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 وزیر مملکت برائے اطلاعات و،نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے وفاقی حکومت کی جانب سے عام پاکستانی کو معلومات تک رسائی کا حق دینے کے لئے بل 2017ء ایوان بالا میں پیش کیا جسے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے مزید غور کیلئے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا جسے بعد میں متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ بل کا مقصد وفاقی حکومت کی تمام وزارتوں، ڈویژنوں اور خودمختار اداروں کے کام اور کارکردگی کے حوالے سے ہر قسم کی معلومات عام پاکستانیوں کو فراہم کرنا ہے۔ بل کی منظوری کے بعد یہ ایکٹ آف پارلیمنٹ بن جائے گا جس کے بعد ہر پاکستانی کو معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہو جائے گا۔سینٹ سے معلومات تک رسائی کے بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کے اگلے سیشن میں بل پیش کر دیا جائیگا یہاں سے بھی اسکی متفقہ منظوری کی توقعات ہیں۔بل کی منظوری کے بعد 6 ماہ کے اندر ادارے ریکارڈ تیار کر کے انٹر نیٹ پر اپ لوڈ کریں گے۔ بل کے مطابق معلومات کی فراہمی کیلئے دی گئی کسی درخواست پر انکار نہیں کیا جاسکے گا۔ ہر ادارے میں معلومات تک رسائی کیلئے پرنسپل افسر تعینات کیا جائیگا۔ بل کا اطلاق وفاقی حکومت کے سرکاری اداروں میں ہوگا۔ معلومات تک رسائی بل کے تحت بنکوں' کمپنیوں' مالیاتی اداروں کے اکاؤنٹ ریکارڈ تک رسائی نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ  فورسز' تنصیبات اور قومی سلامتی سے متعلق معلومات تک بھی رسائی نہیں ہو گی۔ ایسے قانون کی کافی عرصہ سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ بل کے تین حصے ہیں جن میں عوامی مفاد کا تحفظ کیا گیاہے۔ 10 دن میں معلومات دینا ہوں گی ۔ معلومات روکنے کی صورت میں دو سال سزا اور جرمانہ ہے۔ متعلقہ حکام کو معلومات فراہم نہ کرنے کی وجوہات تین دن کے اندردینی ہوں گی۔ معلومات روکنے کی صورت میں 2 سال سزا اور جرمانہ ہو گا'معلومات کی فراہمی کے حوالے سے درجہ بھی بندی بھی کی گئی ہے۔ جن معلومات کا اجراء قومی مفاد میں نہیں ان کو ایسی کیٹگری میں رکھا گیا ہے جس تک رسائی ممکن نہیں ہو گی۔ اس قانون سے قبل ادارے ایسی معلومات کی فراہمی سے بھی گریز کرتے تھے جن کا تعلق قومی سلامتی اور سیکیورٹی سے دور دور تک بھی نہیں تھا۔ اہلکار اپنی صوابدید پر فیصلہ کرتے اور اپنے تعلقات ہی کو معلومات کی فراہمی کا قانون سمجھتے تھے۔ بینکوں، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے ایسے اکاؤنٹس ضرور اخفا میں رکھے جائینگے جن کے افشا ہونے سے اداروں کی سیکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے۔ بعض این جی اوز اور میڈیا کے اداروں کو اپنی رپورٹوں کی تیاری کیلئے بینک اکاؤنٹس کی معلومات ضروری ہوتی ہیں۔ ان کو اکاؤنٹ ہولڈرز نے بھی کانفیڈنشل نہیں رکھا ہوتا۔ ایسی معلومات پر یکسر پابندی بھی مناسب نہیں۔ فورسز کو معلومات کی فراہمی کے دائرے سے استثنیٰ دینا بھی مناسب نہیں۔ فورسز کے حوالے سے معلومات کی بھی درجہ بندی کر لی جائے۔ جن معاملات کا اخفا ضروری ہے ان تک رسائی کی ضرورت نہیں۔ تاہم جن معاملات کی معلومات کا سیکیورٹی سے تعلق نہیں ان تک رسائی دینے میں حرج نہیں۔ صوبوں میں بھی اس قانون کا اطلاق ہونا چاہیے۔بل کی منظوری کے بعد ہر ایک پبلک باڈی 30 دنوں کے اندر ایک افسر کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی جو 19 گریڈ سے کم نہیں ہوگا۔ وہ افسر لوگوں کو معلومات کی فراہمی کی ذمہ داری نبھائے گا۔ بل کے تحت ہر ادارے کا سربراہ معلومات تک رسائی کا حق دینے کو یقینی بنائے گا۔ وہ اس بل کے تحت تمام تر ذمہ داریوں کی نگرانی بھی کرے گا۔ بل کے تحت اگر کوئی شہری یا درخواست گزار فراہم کردہ معلومات سے مطمئن نہیں ہوگا تو وہ 30 دنوں کے اندر معلومات بارے تشکیل شدہ کمیشن کو اپیل کرے گا۔اپیل دائر کرنے کی کوئی فیس نہیں ہوگی، وہ مفت دی جائے گی۔کمیشن اس اپیل کو 60 دنوں کے اندر نمٹانے کا پابند ہوگا۔ بل کی منظوری اور ایکٹ بننے کے بعد 6 ماہ کے اندر وزیراعظم معلومات تک رسائی کے حوالے سے ''انفارمیشن کمیشن'' تشکیل دیں گے۔ یہ کمیشن ایک خودمختار ادارہ ہوگا۔ تین کمشنر بھی مقرر کئے جائیں گے جو ہائی کورٹ کے جج کی اہلیت رکھتے ہوں گے۔کمشنر وزیراعظم نامزد کریں گے جن کی عمریں 65 سال تک ہوں گی۔ بل کے تحت وزیراعظم ایک چیف انفارمیشن کمشنر بھی مقرر کریں گے جو ان تین کمشنرز میں سے ہی ہوگا۔ کمیشن کے ارکان'کمشنرز انفارمیشن کمیشن میں تعینات ہونے کے بعد اور ذمہ داریاں نبھانے کے دوران کوئی بھی دوسرا عہدہ نہیں رکھ سکیں گے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت سے وابستہ ہوںگے۔اس قانون کے آنے سے بلیک میلنگ کا کلچر کم ہوگا۔ کیونکہ بلیک میلر معلومات عام کرنے کا خوف دلاکر بلیک میل کرتے ہیں۔چند بااثر اخباروں' میڈیا گروپس اور صحافیوں کی اجارہ داری ختم ہوگی اور کوئی بھی فرد بغیر رقم خرچ کیے ای میل پر بھی معلومات حاصل کرسکے گا۔اس بل کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیلئے ضروری ہے کہ اس کی مناسب انداز میں تشہیر کی جائے۔ عوام کو بتایا جائے کہ ان کے کیا حقوق ہیں۔ کن کن معاملات میں وہ کیا کیا معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اب سے پہلے عوام کو بہت سے معاملات میں بے خبر رکھا جاتا تھا اس طرح کرپشن کی بیماری جڑ پکڑتی گئی مگر معلومات کی رسائی کے بل کی منظوری کے بعد عوام براہ راست کسی بھی قومی و صوبائی معاملات  کے بارے میں جان سکیں گے۔ خصوصاً ایسے ترقیاتی کام جو عوامی ٹیکس کے پیسے سے انجام پاتے ہیں، ان کے معاہدے،  مدت تکمیل، میٹریل اور دیگر معلومات جو پہلے عام نہیں کی جاتی ہیں اور  بعض اوقات کرپشن کی نذر ہو جاتی تھیں، اب براہ راست عوام کے علم میں  ہوں گی ۔ عوام جانتے ہوں گے کہ فلاں منصوبے کی تفصیلات کیا ہیں اور عملاً کیا ہو رہا ہے۔ اس سے کرپشن کے خاتمے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔


Read more

01 September 2017

نظر کعبہ پر ۔۔۔پروفیسر محمد عبدللہ بھٹی

 سعودی ائیر لائن کا دیو ہیکل بو ئنگ طیا رہ جدہ کی فضائوں میں داخل ہو چکا تھا 'ائر ہوسٹس کی سریلی آواز کا نوں میں رس گھو ل رہی تھی کہ ہم جدہ پہنچ گئے ہیں 'میں نیم خوا بیدگی سے ہو ش کی وادی میں آگیا اور متجسس بچے کی طرح جہاز کی کھڑکی کی طرف سرک گیا اورنیچے جدہ شہر روشنیوں میں ڈوبا نظر آیا 'کرو ڑوں برقی قمقموں کی وجہ سے نیچے رنگ و نور کا سیلا ب آیا ہوا تھا 'جیسے جیسے جہاز مین کے قریب آرہا تھا روشنیوں کی لو تیز ہو تی جا رہی تھی رنگ و نور سے بھرا آسمان زمین پر اُتر آیا 'جیسے دھاتی پرندہ پروں کو کھو لتا ہوا نیچے آرہا تھا 'میری رگوں میں خو ن کی گردش تیز ہو تی جا رہی تھی 'دل کی دھڑکنیں محبوب سے ملاپ کی وجہ سے خو ب دھڑک رہی تھیں جیسے محبوب کے نظا رے کے لیے سینہ شق کر کے با ہر آجا ئے گا 'روشنیوں کا لا محدود سمندر قریب آتا جا رہا تھا 'جہاز نے آخری غو طہ لگا یا اور رن وے کے قریب آکر تھوڑی دیر بعد رن وے پر ہلکے جھٹکے سے اُتر کر دوڑنے لگا 'سر شاری نشہ اطمینان میری رگ و پے میں دوڑنے لگا 'کو چہ جاناں قریب آرہا تھا میں اُس ملک کی دھرتی پر اترنے کی سعادت حاصل کر رہا تھا جہاں کی خا ک کے ذرات بھی آسمانوں سے بلند ہیں آخر کا ر جہا ز رک گیا 'احرام پہنے عاشقان توحید اپنی اپنی سیٹوں پر کھڑے ہو گئے مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ میں بھی حج کے مسا فروں میں شامل ہو ں 'یہ عظیم سعادت مُجھ سیا ہ کار کے مقدر میں بھی انشا ء اللہ آنے والی ہے 'جہاز سے اُتر کر جیسے ہی حج ٹرمینل میں داخل ہو ئے تو عازمین حج کے سیلا ب سے واسطہ پڑا ایک کو نے سے دوسرے کو نے تک سفید احرام میں ملبوس خواتین حضرات دنیا جہاں سے آئے ہو ئے متلا شیان حق امیگریشن کے انتظار میں کو ئی بیٹھا تھا 'کو ئی سو رہا تھا کو ئی نوا فل پڑھ رہا تھااور کو ئی چائے وغیرہ پی رہا تھا 'چہروں پر عقیدت و محبت کا نور پھیلا ئے عازمین حج 'ہال میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی میں خوشی اور حیرت سے دنیا جہاں کے عاشقوں کو غور سے دیکھ رہا تھا طویل انتظا ر کے باوجود ہر کو ئی خو ش تھا کیونکہ اِن سب کے خو ابوں کے سچ ہو نے کا دن قریب آرہا تھا وہ دن جن کے سپنے انہوں نے سالوں دیکھے تھے ایسا انتظار تو قسمت والوں کو نصیب ہو تا ہے جو آج ہمیں نصیب ہو رہا تھا میں نے وضو کیا اور نوافل شروع کر دئیے ہم سے پہلے کئی جہاز آچکے تھے 'امیگریشن حکام با ری با ری سب کو دیکھ رہے تھے 'جیسے ہی کسی ملک کے جہاز والوں کو پکا را جاتا لوگ دیوانہ وار ہال سے دوسرے ہال کی طرح چلے جاتے 'ہال میں کچھ آسانی پیدا ہو ئی اِسی دوران ایک اور جہاز آتا اور انسانوں کا دریا ہال میں پھر داخل ہو جا تا مجھے پہلی دفعہ طویل انتظار کابھی لطف آرہا تھا اِس سفر کا ہرقدم اور ہر سانس عبا دت تھی لہٰذا میں اپنی خلو ت سے انجمن کا لطف لے رہا تھا آخر طویل انتظار کے بعد ہما ری با ری آئی پھر امیگریشن کائونٹر پر طویل صبر آزما عمل 'آخر کار تقریبا چھ گھنٹے بعد ہم امیگریشن سے فارغ ہو کر اپنے سامان کی طرف بڑھے 'سامان لینے کے بعد ہم مکہ شریف جا نے والی بسوں میں بیٹھ کر کعبہ شریف کی طرف جانے لگے 'ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دل کی دھڑکنیں تیز ہو تی جا رہی تھیں اور پھر ہم کر ہ ارض کے اہم ترین شہر مکہ شریف کی حدود میں داخل ہو ئے 'دوران سفر میرا مسلسل رابطہ عرفان عزیزم کے ساتھ تھاجو حرم شریف کے اندر ہی بلند و بالا آرام دہ ہو ٹل میں میرا انتظا رکر رہا تھا دوپہر کا وقت سورج سوا نیزے پر تھا لیکن عشق اور جو ش کی وجہ سے گر می کا احساس تک نہ تھا آخر کا ر مجھے عرفان کا مسکراتا چہرہ نظر آیا اُس نے سامان پکڑا اور ہم ہو ٹل کی لفٹ میں با لا ئی منزل کی طرف چڑھنے لگے کمرے میں جاتے ہی  جیسے ہی میری نظر کھڑکی کے اُس پار کعبہ شریف پر پڑی تو بے چینی بے قراری بہت بڑھ گئی تھو ڑا آرام کر نے کے بعد ہم حرم شریف کی طرف جا رہے تھے ہر قدم پر مستی نشہ سرور دل کر رہا تھا کہ مجھے پر لگ جائیں اور میں اُڑ کر کعبہ شریف کے پاس چلا جائوں 'باب عبدالعزیز کے با ہر انسانوں کا حرکت کر تا سمندر آیا اُس سمندر کو چیرتے ہو ئے ہم آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے دروازے سے داخل ہو کر خو ب آب زم زم پیا اور آگے بڑھنے لگے 'حرم کی فضائیں اذان کی آواز سے گو نج رہی تھیں 'اہل علم بتا تے ہیں کہ آپ جس بھی دروازے سے داخل ہو ں سب سے پہلے نظر کعبہ پر پڑتی ہے اور پہلی نظر میں جو بھی دعا مانگو وہ قبو ل ہو تی ہے 'انسان جس بھی دروازے جس بھی زاویے سے حرم میں داخل ہو تو سامنے سیا ہ غلا ف پر سنہری آیا ت کے ساتھ کعبہ اپنے تمام تر لازوال حسن اور جلال کے ساتھ کھڑا ہو تا ہے کعبہ کو ڈھونڈنا نہیں پڑتا وہ تو خو د ہی سامنے آجا تا ہے 'صدیوں کی پیا سی نظریں جیسے ہی اُس پر پڑتی ہیں تو اُس کا حصہ بن جا تی ہیں 'ٹھنڈ پڑ جا تی ہے میرے سامنے بھی کعبہ اپنی پوری آب و تا ب جمال و جلال کے ساتھ کھڑا تھا اورمیرا دل دھڑکنا بھی بھول چکا تھا میں پتھر کا بت بنا حیرت سے اُسے دیکھ رہا تھا وہ کعبہ جس پر محبوب خدا کی نظریں صحابہ اکرام کی نظریں وقت کے ہر ولی کی نظر پڑی تھی 'دنیا جہاں سے آئے دیوانے طواف کر رہے تھے بلند آواز میں تلبیہ پڑھ رہے تھے جسموں پر سفید احرام باندھے آسمانی مخلوق لگ رہے تھے دنیا کے چپے چپے سے آئے ہو ئے دیوانوں میں کو ئی امتیاز نہ تھا 'ایک لباس 'ایک زبان 'ایک جنون 'دیوانگی 'شوق 'احساس 'نہ کو ئی با دشاہ نہ کو ئی فقیر 'نہ کو ئی ولی نہ کو ئی گنا ہ گار 'سب کے چہروں پر عقیدت و احترام کے پھول کھلے تھے سب کی آنکھیں نم تھیں دیوانے زندگی بھر کی آلا ئشیں پر یشانیاں چھو ڑ کر اِس گو شہ تو حید میں آئے تھے جہاں چاروں طرف تو حید کی شبنمی پھوا ر پڑ رہی تھی 'صحن حرم انسانوں سے بھرا ہو اتھا اللہ کا حرم اِسی طرح صدیوں سے آباد ہے اور رہے گا عشق و محبت سے مالا مال دیوانے کعبة اللہ کے گرد 'دن رات گر می سردی سے آزاد دائرے کی شکل میں عقیدتوں کا اظہا ر کر رہے تھے رکن یما نی کی طرف بڑھتے ہا تھ اِسی طرح حرکت میں رہیں گے 'حجر اسود پر عشق و محبت سے لبریز بو سوں کی برسات اِسی طرح جا ری رہے گی 'ملتزم سے لپٹے دیوانوں کے جنون کو کون روک سکے گا 'مقام ابراہیم کے اطراف میں دیوانوں کے سجدے ٹو ٹے پڑے تھے عاشقان تو حید آب زم زم سے سیراب ہو رہے تھے 'میزان رحمت کے نیچے حطیم کے نیم دائرے میں نوا فل کا روح پر ور نظارہ اِسی طرح جا ری و ساری رہے گا۔ عقیدت کی آنچ سے چہرے تمتا  رہے تھے آنکھوں سے اشکوں کے سیلاب جا ری تھے 'آہیں سسکیاں جا ری تھیں کچھ تلا وت قرآن میں مصروف اور کچھ دیوانے دنیا جہاں سے بے خبر ٹکٹکی لگا ئے خا نہ کعبہ کو دیکھتے جا رہے تھے 'سب اپنی خطائوں پر نادم 'شرمندہ 'غرق ندامت ہو کر اشکوں کا نذرانہ پیش کر رہے تھے دنیا جہاں سے آئے گنا ہ گا ر یہاں پر طہا رت پا کیزگی کے سانچے میں ڈھل رہے تھے 'احرام میں اللہ کے گھر کا طواف بھی خا ص لذت رکھتا ہے عرب و عجم کی بستیوں سے آنے والے دیوانے کے ایک دوسرے سے بے خبر دیوانہ وار طواف کی لذت سمیٹ رہے تھے سب خدا کی بزرگی کا اعلان اپنی بندگی کا اقرار کر رہے تھے 'اپنے گنا ہوں کی معا فی ما نگ رہے تھے سب نے جھولیاں پھیلا رکھی تھیں 'میں اپنے گنا ہوں پر شرمندہ اپنی آنکھوں کے چھپر کھول دئیے تا کہ ندا مت کے آنسو میری بخشش کا وسیلہ بن سکیں میں نے بھی اپنی جھو لی پھیلا دی اور کعبہ شریف کے گرد سمندر جو لہروں کی شکل میں بہہ رہا تھا اُس کا حصہ بن گیا ۔


Read more

01 September 2017

مستقبل کا فیصلہ۔۔۔عابد محمود عزام

 ہر سال لاکھوں طلبا و طالبات اپنی تعلیم مکمل کر کے مختلف شعبہ جات میں عملی میدان میں اترتے ہیں، لیکن ان لاکھوں میں سے چند فیصد ہی ایسے ہوتے ہیں، جن کا انتخاب کردہ شعبہ واقعی ان کا پسندیدہ شعبہ بھی ہوتا ہے۔ نتیجتا وہ اس شعبے میں اس بہترین کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرپاتے۔ یہ طلبا و طالبات والدین کی مرضی یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے اپنے مستقبل کے حوالے سے غلط شعبے کا انتخاب کرلیتے ہیں، جس کے نتائج انہیں ساری زندگی بھگتنا پڑتے ہیں۔ طالب علموں اور خاص کر والدین کو چاہیے کہ وہ کیریئر پلاننگ پر قدرے زیادہ توجہ دیں، تاکہ کہیں غلط شعبے کا انتخاب نہ ہوجائے، جس سے بچوں کی زندگی کے کئی قیمتی سال ضائع ہوجاتے ہیں۔ غلط شعبے کا انتخاب کرنے والا فرد زندگی میں اس لگن اور جستجو سے کام نہیں کرسکتا، جس لگن و شوق کے ساتھ وہ اس صورت میں کرسکتا ہے، جب کیرئیر کا انتخاب وہ اپنی مرضی اور شوق سے کرے۔شعبے کا انتخاب زندگی کااہم ترین حصہ ہوتا ہے، جو ہر نوجوان کو اپنی مرضی اور ذہنی رجحان کے مطابق ہی بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں والدین کا ردعمل مثبت ہونا چاہیے۔ اگر ان کا بچہ کسی خاص شعبے کے حوالے سے اپنے اندر صلاحیت رکھتا ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ اس پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی بجائے اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ بہت سے والدین بچے کی باتوں کو خاطر میں نہیں لاتے اور بچے کے مستقبل کا فیصلہ بھی خود کرتے ہیں، اس بات کی فکر کیے بغیر کہ بچہ اپنے لیے کیا فیصلہ کرنا چاہتا ہے، اس سے بچہ ساری زندگی اس لگن سے کام نہیں کرسکتا، جس لگن سے اس صورت میں کرسکتا ہے، جب وہ شعبے کا انتخاب اپنی مرضی سے کرتا ہے۔ بہت سے والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ بڑا ہوکر ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ، بزنس مین میں سے کچھ بنے یا والدین کی مرضی کے کسی اور شعبے میں جائے، بلکہ بعض اوقات تو بچے کی پیدائش کے وقت ہی اس کے مستقبل کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے، یہ سوچے بغیر کہ بچہ خود کیا بننا چاہتا ہے اور بچے کی دلچسپی کس شعبے میں کام کرنے کی ہے، بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچے کی تعلیم سے لے کر روزگار تک کے انتخاب میں دادا، دادی، ابو، امی، تایا چچا وغیرہ کے فیصلے چلتے ہیں۔ سب کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کی مرضی کا انتخاب بچے پر مسلط کیا جائے اور پھر گھر میں جس کی زیادہ چلتی ہو، اس کی مرضی بچے پر مسلط کردی جاتی ہے۔ ہر ایک کو بچے پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی فکر ہوتی ہے، لیکن بچے کی مرضی اور اس کی پسند جاننے کی کوشش کوئی بھی نہیں کرتا۔اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر والدین نے کسی شعبے سے منسلک ہوکر اس شعبے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اپنے پیشے سے نام اور خوب دولت کمائی ہے تو ان کا ذاتی تجربہ یہی ہوتا ہے کہ جتنا کچھ اس پیشے میں ہے، کسی دوسرے پیشے میں نہیں۔ اس لیے ان کا بچہ یہی شعبہ اپنائے۔ وہ اپنے بچے کے مستقبل کے لیے یہی منصوبہ بندی کرتے ہیں کہ وہ ان کے علم، تجربے اور ہنر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود بھی انہیں کے نقش قدم پر چلے۔ جب کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ کامیاب ہونے والے والد کے نقش قدم پر چلنے والا بچہ اپنے کیرئیر میں اتنا ہی کامیاب ثابت ہو، جتنا اس کے والد ہوئے ہیں۔ ممکن ہے بچے کو ایسے سازگار حالات میسر نہ آئیں، جس طرح والد کو میسر آئے تھے اور بچہ بری طرح ناکام ہوجائے۔ بہت سے والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے وہ کر دکھائیں جو وہ خود نہیں کرسکے یا کرنے کی لگن رکھنے کے باوجود ان کے وسائل نے اجازت نہیں دی اور ان کے خواب ادھورے رہ گئے ہیں۔ مثلا وہ ڈاکٹر یا انجینئر بننا چاہتے تھے، لیکن کسی وجہ سے نہیں بن سکے تو پھر ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے ڈاکٹر یا انجینئر بن کر ان کی ادھوری خواہش پوری کریں۔ ایسی صورتحال میں انتہائی مشکل پیدا ہوجاتی ہے ، جب والدین اپنے بچوں پر اپنی پسند اور مرضی مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور والدین کے خواب پورے کرنے کی کوشش میں بچے کے اپنے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں، جبکہ والدین کے خوابوں کو بھی ٹھیک سے تعبیر نہیں ملتی کیونکہ اگر بچہ کسی اور شعبے میں جانا چاہتا ہے اور والدین اسے کسی دوسرے شعبے میں لے جانا چاہتے ہیں تو بچے کے مستقبل کے لیے سخت مشکلات کھڑی ہوجاتی ہیں اور وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ معاشرے میں کوئی مقام حاصل نہیں کرسکے گا۔والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں پر اپنی مرضی اور پسند مسلط کرنے کی بجائے ان کی راہنمائی اور حوصلہ افزائی کریں۔ بچے تب ہی اپنا کیریئر کامیاب بناسکتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ جو کچھ بننے کی خواہش والدین کرتے رہے ہوں، بچے بھی وہ کچھ بننے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ قدرت نے ہر انسان کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا ہے اور اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ اس شعبے سے وابستہ ہوکر ہی کیا جاسکتا ہے، جو صلاحتیں قدرت نے انسان میں رکھی ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ مثبت سوچ کو پروان چڑھائیں، اگر وہ اپنے بچے کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں تو انہیں کام کرنے اور اپنے اہداف کو حاصل کرنے کا مکمل طریقہ کار بتائیں۔اگربچے کا رجحان کسی ایسے مضمون میں ہے جس میں تعلیم دلوانے کے لیے والدین کا بجٹ اجازت نہیں دیتا تو بچے کو بہت پیار سے سمجھائیں اور بتائیں کہ کس طرح وہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے فنانس کے مسائل حل کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔والدین اگر چاہیں تو اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی سے ان کی زندگی کا سفر آسان بناسکتے ہیں۔متعدد جگہوں پر اختلاف رائے ہونے کے باوجود انہیں ہر بات پر بھی نہ ٹوکیں۔اپنے بچوں کو زندگی میں کامیاب انسان بنانے کے لیے انہیں مختلف مواقع فراہم کریں۔اس کے بعد نشان دہی کریں کہ وہ صحیح کر رہے ہیں یا نہیں اور اگر غلط کر رہے ہیں تو پیار سے ان خامیوں کی اصلاح کرنے کی کوشش کریں۔ ان کی مثبت کوششوں کی تعریف ضرور کریں۔ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ان کی بچے کی دل چسپی کس شعبے میں ہے۔ والدین بچے کے رجحان کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، اس لیے بجائے اس کے کہ والدین بچوں پر اپنی مرضی مسلط کریں، ان کی راہ نمائی کریں، تاکہ وہ درست سمت میں چلتے ہوئے اپنے من پسند شعبے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ نوجوان اپنی ذہنی صلاحیتوں کے مطابق اپنی پسند سے مضامین کا انتخاب کرلیں اور پھر اپنے والدین اور اساتذہ سے اس کے بارے میں رائے لیں۔ انہیں اپنی مرضی اور پسند کی وجوہ سے بھی آگاہ کریں، تاکہ ان کے علم میں یہ بات آسکے کہ آپ نے اس مضمون کا انتخاب کس وجہ سے کیا ہے اور پھر اپنے اسی انتخاب کے مطابق لگن و دلچسپی سے تعلیم حاصل کریں اور آگے شعبے کا انتخاب بھی کریں۔ یہ صورت حال نہ صرف بچوں بلکہ والدین کے لیے بھی اطمینان کا باعث بنے گی کہ ان کے بچے نے اپنے کیریئر کا انتخاب کرلیا ہے اور اب بہتر طریقے سے اس میں کامیابی حاصل کرسکے گے۔


Read more

01 September 2017

سابق ہائی کمشنر کا غم و غصہ اور احتجاج۔۔۔ضمیر نفیس

قومی حلقوں میں ان دنوں نئی دہلی میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط کے اس الوداعی خط کا زور شور سے تذکرہ ہے جو امریکہ میں پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری کے نام لکھا گیا ہے اس خط میں اعزاز چوہدری کو پاکستان کا بدترین خارجہ سیکرٹری اور امریکہ میں ملک کا ممکنہ ناکام ترین سفیر قرار دیا گیا ہے دفتر خارجہ نے اس تنازعہ کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے اعزاز چوہدری نے امریکہ میں پاکستان کے سفیر کا منصب سنبھالنے کے لئے خارجہ سیکرٹری کے عہدے سے سبکدوشی سے قبل اپنے تمام رفقائے کار کو الوداعی خطوط لکھے تھے جس میں ان کے تعاون پر روایتی انداز میں تشکر کے جذبات کا اظہار تھا بعض حلقوں کا خیال ہے کہ عبدالباسط نے اعزاز چوہدری کے اس خط کے جواب میں دل کی بھڑاس نکالی ہے نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کے دفتر کے سرکاری خط و کتابت کے کاغذ پر انگریزی میں خط لکھا گیا ہے۔ اس کے ایک پیرا گراف میں کہا گیا ہے کہ جتنا  میں آپ کے بارے میں غور کرتا ہوں اتنا ہی میرا یہ تاثر پختہ ہوتا ہے کہ آپ پاکستان کے بدترین خارجہ سیکرٹری ہیں مجھے اندیشہ ہے کہ امریکہ میں بھی آپ پاکستان کے بدترین سفیر ثابت ہوں گے ان خدشات کی وجہ بہت سادہ ہے یہی وجہ تو یہ ہے کہ آپ سفارتکاری جیسے نازک اور اہم کام کے لئے موزوں نہیں ہیں ویسے تو میں کئی مثالیں دے سکتا ہوں لیکن اونا میں پاک بھارت مشترکہ اعلامیہ اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کی ذلت آمیز شکست  میرا موقف ثابت کرنے کے لئے کافی ہے دوسری بات یہ ہے کہ آپ کا دل اپنی جگہ نہیں ہے  میں پوری شدت سے محسوس کرتا ہوں کہ جتنی جلد آپ کی واشنگٹن سے ہٹا دیا جائے اتنا ہی پاکستان کے مفاد میں بہتر ہوگا' اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو 27فروری 2018ء کو جب آپ کی مدت ملازمت مکمل ہو جائے گا آپ کو ملازمت میں توسیع نہیں دی جانی چاہیے۔خط کی آخری سطر میں  کہا گیا ہے کہ اتنے اہم عہدے پر مشکوک حیثیت کے افراد کی تعیناتی پر اللہ ہی پاکستان کی مدد کرے۔عبدالباسط وزارت خارجہ کے سینئر افسر تھے وہ سیکرٹری خارجہ بننے کے اہل تھے مگر تہمینہ جنجوعہ کے سیکرٹری خارجہ بننے کے بعد انہوں نے اس سال جولائی میں قبل ازوقت ریٹائرمنٹ کے لئے درخواست دی تھی جو اس وقت کے وزیراعظم نے قبول کرلی تھی ان کے بعد ترکی میں پاکستان  کے سفیر سہیل محمود کو بھارت میں پاکستان کا ہائی کمشنر لگایا گیا اعزاز چوہدری امریکہ میں سفیر ہونے سے پہلے دسمبر 2013ء سے مارچ 2017ء تک سیکرٹری خارجہ رہے وہ تجربہ کار سفارتکار ہیں مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ عبدالباسط کو اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی نے سخت صدمہ دیا ہے اور وہ شدید غصے و دبائو  کا شکار ہیں تہمینہ جنجوعہ کی سیکرٹری خارجہ کی حیثیت سے تعیناتی کو بھی انہوں نے غیر مستحق قرار دیا ہے ان کے مطابق محترم خاتون ان سے جونیئر ہیں اور وہ میرٹ کے مطابق اس عہدے کا استحقاق نہیں رکھتیں۔ہائی کمشنر ' سفیر یا سیکرٹری خارجہ سمیت کوئی بھی منصب ہو اس پر زیادہ دیر تک نااہلیت پوشیدہ نہیں رہ سکتی فوراً آشکار ہو جاتی ہے اعزاز چوہدری نے اسلام آباد میں میڈیا کے سامنے اور وزارت میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے غیر مستحق ہوتے تو چند ہی دنوں میں  بے نقاب ہو جاتے میں سمجھتا ہوں عبدالباسط  جنہیں سینئر ہونے کا زخم ہے دراصل ایک غیر متوازی اور سیکرٹری خارجہ کے لئے غیر مستحق شخصیت تھے انہوں نے اپنے خط میں سفارتکاری کو ایک نازک اور اہم کام قرار دیا ہے  سوال یہ ہے کہ کیا سابق ڈپٹی کمشنر عبدالباسط کا اپنا لب و لہجہ نازک ہے اور سفارتکاری کی ضروریات پوری کرتا ہے وہ تو الفاظ کے  لٹھ لئے چاروں طرف وار کر رہے ہیں یہ درست ہے کہ ان کے ساتھ ترقی کے معاملے میں ناانصافی ہوئی ہے لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ آگے ''جنجوعہ'' ہے پاکستان کے معاشرے میں سرکاری ملازمتوں میں افسروں سے ناانصافی کوئی انوکھی بات نہیں ہے اور عبدالباسط کو صبر کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ صبر آنے والوں کے ساتھ ہے۔


Read more

01 September 2017

نیب کی قابل تحسین کارکردگی' ادارے کو مزید طاقتور بنایا جائے

قومی احتساب بیورو کے ڈپٹی چیئرمین امتیاز تاجور نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیب ایک قومی ادارہ ہے لیکن عجیب بات ہے کہ ایک سانس میں اس کی تعریف اور دوسری میں اس کے خلاف باتیں کی جاتی ہیں ایک سیاستدان کے خلاف کام کرتے ہیں تو دوسرا خوش ہوتا ہے جب خوش ہونے والا خود نیب کے شکنجے میں آتا ہے تو وہ بھی ہمارے خلاف ہو جاتا ہے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز ظاہر شاہ کا کہنا تھا کہ ہم تمام اداروں کا احترام کرتے ہیں ہمارے لئے تمام سیاسی جماعتیں ایک جیسی ہیں جب بعض ادارے نیب کو کیسوں میں ملزمان کو ریلیف دینے کا الزام لگاتے ہیں تو پھر یہی ادارے نیب کے پاس  کیس کیوں بھیجتے ہیں انہوں نے کہا کہ نیب نے ملکی تاریخ میں ایسے ایسے لوگوں پر ہاتھ ڈالے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جو نہ صرف لوگوں کو قتل کرواتے تھے بلکہ انہوں نے اپنی نجی جیلیں بھی بنوا رکھی تھیں اور ملک کا کوئی ادارہ ان پر ہاتھ نہیں ڈالتا تھا اس میں شک نہیں کہ نیب کے ناقدین بھی بہت سے ہیں مگر بدعنوانی کے خاتمے کے سلسلے میں اس کی کارکردگی کا گراف ازخود بولتا ہے اس ادارے نے اربوں کی لوٹی گئی دولت قومی خزانے کو واپس لوٹائی ہے یقینا اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے اس کی کارکردگی کو مزید بہتر' موثر اور تیز کیا جاسکتا ہے اس کے لئے جہاں قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہو حکومت کو اس پر فوری توجہ دینی چاہیے ملک میں احتساب کا یہ واحد ادارہ ہے اسے مزید طاقتور اور موثر بنانے کی اشد ضرورت ہے خواہ مخواہ تنقید کرکے اس کے بارے میں منفی تاثر دینے سے گریز کیا جانا چاہیے۔نیب پر ایک عمومی اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ برسہا برس کی تحقیقات اور سنسنی خیزی پھیلانے کے بعد اچانک معلوم ہوتا ہے کہ متعلقہ شخص کے خلاف کچھ ثابت نہیں ہوا اس طریقہ کار کو درست کیا جانا چاہیے او تحقیقات کو غیر معینہ مدت تک طول نہیں دینا چاہیے ٹھوس ثبوت حاصل کرنے کے بعد نیب کو حرکت میں آنا چاہیے اور کم سے کم وقت میں اس کے کیسز نمٹائے جائیں ملک میں جس شدت سے بدعنوانی کا  کا زہر پھیل رہا ہے اس کا یہ تقاضا ہے کہ نیب جیسے اہم ادارے کی کارکردگی میں بھی تیزی لائی جائے اور اسے قومی ضرورتوں سے ہم آہنگ کیا جائے عدلیہ سمیت بعض حلقوں کی طرف سے پلی بارگینگ کے نظام پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اس سے بدعنوانی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے لوٹنے والے کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ وہ مخصوص رقم ادا کرکے لوٹ کے بقیہ مال کو ہضم کرنے میں کامیاب ہو جائے گا مذکورہ اعتراض یقینا اپین اندر وزن رکھتا ہے چنانچہ اس سلسلے میں متعلقہ قانون کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے تاہم نیب کو کسی کی پرواہ کئے بغیر اپنے مشن کو جاری رکھنا چاہیے ۔ قوم اس کی غیر معمولی کارکردگی کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔


Read more

01 September 2017

پارلیمنٹ کی سفارشات کو پالیسی کا حصہ بنایا جائے

صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان پالیسی کے اعلان کے موقع پر جس قسم کا لب و لہجہ اختیار کیا اس کے ردعمل میں ایوان بالا نے پاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں سفارشات منظور کی ہیں سینٹ نے کہا ہے کہ افغانستان میں اضافی عسکری تنائو سے متعلق کردار نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کو غیر مستحکم کرے گا جس کے منفی اثرات یورپ پر بھی مرتب ہوں گے سینٹ نے افغانستان اور امریکہ کی طرف سے الزامات کے کھیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کی نفی کی ہے کسی امریکی عہدیدار اور حکومتی نمائندے کو شیڈول کے بغیر پاکستان آنے کی اجازت نہ دی جائے۔ سینٹ نے کہا ہے کہ حکومت واضح موقف اپنائے کہ کسی جانبدار  پروپیگنڈے یا بیانات سے پاکستان متاثر ہوگا نہ اسے دبایا جاسکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے ناقد امریکی سینیٹرز اور ارکان کانگرس سے پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے قومی رابطوں کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ سینٹ نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا جائے انہیں پاک امریکہ تعلقات پر پارلیمنٹ کی کارروائی سے آگاہ کیا جائے سینٹ نے آج تک دی جانے والی امریکی امداد' کولیشن سپورٹ فنڈ اور پاکستانی کو اخراجات کی واپسی سے متعلق حقائق نامہ تیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے سینٹ نے یہ رائے بھی دی ہے کہ امریکی صدر کے الزامات اور دھمکیوں کے مسئلے پر پاکستان اپنا نقطہ نظر نہ صرف اپنے اتحادیوں بلکہ امریکہ کے اتحادیوں تک پہنچائے۔ سینٹ کی مذکورہ سفارشات کی روشنی میں حکومت کو مطلوبہ اقدامات فوری طور پر بروئے کار لانے چاہئیں حکومت نے 5ستمبر کو سفیروں کی کانفرنس بلانے کا درست فیصلہ کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب تک حکومت نے بہت سے درست اقدامات اٹھائے ہیں لیکن تعجب کی بات ہے کہ ابھی تک حکومت امریکی امداد کے حوالے سے کسی قسم کی فیکٹ شیٹ پیش نہیں کر سکی حالانکہ بار بار  امریکہ کی طرف سے یہ الزام لگتا رہا ہے کہ پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد دی گئی مگر اس نے اس کے مقابلے میں ''بہتر کارکردگی'' کا مظاہرہ نہ کیا گویا ہمیشہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان کو جو رقم بھی دی گئی وہ دہشت گردی کے خلاف کارکردگی دکھانے سے مشروط تھی مگر اس کی رطف سے مطلوبہ ذمہ داری پوری نہ کی گئی۔ صورتحال کا یہ تقاضا تھا کہ اس حوالے سے فوری طور پر  نہ صرف قوم بلکہ عالمی برادری کے سامنے تمام حقائق رکھ دئیے جاتے مگر ہنوز اس باب میں خاموشی ہے اگرچہ حکومت کی طرف سے قدرے یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ کولیشن سپورٹ فنڈ کسی قسم کی امداد نہیں ہے بلکہ اس فنڈز کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں پر اسے اس کے اخراجات ادا کئے جاتے ہیں مگر یہ ضروری ہے کہ اس بارے میں تمام اعدادوشمار پیش  کئے جائیں کہ اب تک ہمارا مطالبہ کیا رہا ہے اور ہمیں مذکورہ فنڈز میں سے کتنی ادائیگی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بھی اگر امریکہ کی طرف سے افغانستان میں لشکر کشی اور کارروائی شروع ہونے کے بعد کسی قسم کی ادائیگی کی گئی ہے تو اس کی تفصیلات قوم پر واضح ہونی چاہئیں دہشت گردی کے باعث پاکستان کی معیشت کو جن نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اس کے تمام حقائق بھی دنیا کے سامنے رکھے جانے چاہئیں ہم محسوس کرتے ہیں اس تناظر میں حقائق نامہ فوری طورپر عالمی برادری اور قوم کے سامنے آنا چاہیے افغانستان میں رسد کی فراہمی کے سلسلے میں پاکستان کی طرف سے امریکہ کو جو زمینی اور فضائی سہولتیں دی گئیں اور جو اب بھی موجود ہیں ان کی کیا نوعیت ہے کیاان کے عوض ہمیں کسی قسم کی ادائیگی کی گئی یا مذکورہ سہولتیں ہم نے مفت فراہم کی ہیں اس بارے میں بھی صورتحال واضح ہونی چاہیے قومی اسمبلی کی قرارداد میں مطالبہ کیاگیا ہے کہ یہ سہولتیں ختم کرنے  پر غور کیا جائے موقع کی مناسبت سے ہم حکومت کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرانا ضروری سمجھتے ہیں کہ وزیر خارجہ کے روس اور چین سمیت دیگر دوست ممالک کے دورے اور مشاورت کے عمل میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے سفیروں کی کانفرنس سے قبل ہنگامی طور پر ایک دو دنوں میں یہ مرحلہ انجام دیا جاسکتا ہے اس موقع پر وزارت خارجہ کو غیر معمولی فعالیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔


Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30