Get Adobe Flash player

September 2017

13 September 2017

بھارت کی ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ سے شہری شہید، آئی ایس پی آر

بھارت نے ایک بار پھر لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے براہ راست شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک شہری شہید ہوگیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق بھارت نے ایک بار پھر لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کی، بھارتی فوج نے چڑی کوٹ ،کیلرسیکٹرز میں مارٹر گولوں اور خودکار ہتھیاروں سے براہ راست شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس سے محمد ظہور نامی شہری شہید ہوگیا۔ترجمان کے مطابق پاک فوج کی جانب سے بھارتی فوج کی فائرنگ کا موثر جواب دیا گیا اور جوابی کارروائی میں بھارتی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا جس سے ان کی چوکیوں کو خاصا نقصان پہنچا۔



Read more

کراچی میں میچ نہ کرا کے پی سی بی نے زیادتی کی، وزیر اطلاعات سندھ

وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی میں اب امن ہے اور اس امن کے لیے سب نے مل کر کام کیا ہے تاہم کراچی میں میچ نہ کرا کے پی سی بی نے زیادتی کی ہے۔کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ لاہور میں کرکٹ خوش آئند ہے لیکن کراچی میں بھی کرکٹ ہونا چاہیے، کراچی میں اب امن ہے اور اس امن کے لئے سب نے مل کر کام کیا ہے تاہم کراچی میں میچ نہ کرا کے پی سی بی والوں نے زیادتی کی ہے۔ اگرمیچ شیڈول نہیں ہے تو ایک فرینڈلی میچ ضرور کرانا چاہیے، کراچی کے حوالے سے منفی تاثر زائل کرنے کے لیے کھلاڑیوں کو کراچی ضرور لانا چاہیے۔ناصر حیسن ک کہنا تھا کہ نیب آرڈیننس کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، آصف زرداری نے احتساب کے قانون میں بہتری لانے کی بات کی ہے جب کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت سندھ کو قانون سازی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔


Read more

احتساب عدالت نے نوازشریف کو 19ستمبرکوطلب کرلیا

احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو 19 ستمبر کو طلب کرلیا ہے۔احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف اوران کے صاحبزادوں حسن اورحسین نوازکو فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں 19 ستمبر کو طلب کرتے ہوئے نوٹسز جاری کردیے۔ اس سے قبل عزیزیہ ریفرنس کے حوالے سے بھی دستاویزات عدالت میں پیش کردی گئی ہیں اور اس حوالے سے بھی عدالت کی جانب سے نوٹس جاری ہونے کا امکان ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھیجے گئے سمن کی کاپی ایکسپریس نیوز نے حاصل کرلی ہے جس کے مطابق نوازشریف اور بچوں کو سمن لاہور کے 2 گھروں کے پتوں پر بھیجے گئے جن میں لاہور ماڈل ٹان اور رائیونڈ جاتی امرا شامل ہیں۔ سمن کے متن میں کہا گیا ہے الزامات کا جواب دینے کے لیے آپ کی عدالت میں حاضری ضروری ہے، نوازشریف اور دونوں بیٹے 19 ستمبر کی صبح 9 بجے ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوں۔


Read more

ڈاکٹر عاصم این او سی کے بغیر کیسے بیرون ملک گئے، احتساب عدالت

احتساب عدالت کی جانب سے بدعنوانی کیس میں ڈاکٹرعاصم عدالت کی اجازت کے بغیر بیرون ملک جانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔فرٹیلائزر سیکٹر میں 462ارب روپے کی بدعنوانی کیس میں  ڈاکٹرعاصم عدالت کی اجازت کے بغیر بیرون ملک جانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ ڈاکٹر عاصم کس کی اجازت سے اور این او سی کے بغیر وہ کیسے بیرون ملک گئے منگل کو سماعت کے موقع پرڈاکٹر کی جانب سے حاضری سے استثنی کی درخواست دائر کی گئی جس پر بتایا گیا کہ ڈاکٹر عاصم علاج کی غرض سے بیرون ملک چلے گئے ہیں، عدالت نے ڈاکٹر عاصم کی بیرون ملک روانگی سے متعلق سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کو ریفرنس بھیج دیا اور سماعت ملتوی کردی۔

Read more

آزادی کپ،پاکستان اور ورلڈ الیون آج پھر مدمقابل ہوں گے

پاکستان اور ورلڈ الیون کے درمیان 3 ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل آزادی کپ سیریز کا دوسرا میچ آج کھیلا جائے گا۔ورلڈ الیون اور پاکستان کے درمیان دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ آج شام 7 بجے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا، اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں اور اسٹیڈیم کے اطراف رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جب کہ اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے آنے والے افراد کی بھی جامع تلاشی لی جارہی ہے۔واضح رے کہ آزادی کپ کے پہلے میچ میں پاکستان نے شاندار بیٹنگ اور بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ورلڈ الیون کو 20 رنز سے شکست دی تھی۔

Read more

پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹرعاصم کا لندن میں علاج شروع

پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹرعاصم کا لندن میں علاج شروع ہوگیا ہے اور ڈاکٹرز نے دل کے آپریشن کے لیے 7 روز تک نگرانی کی ہدایت کی ہے۔ڈاکٹرعاصم کا لندن کے وائلٹنٹن اسپتال میں نیورو سرجن ڈاکٹر جیمز الیبون نے میں معائنہ کیا،  نیورو سرجن نے ڈاکٹر عاصم کی میڈیکل رپورٹس جب کہ میڈیکل ٹیم نے ڈاکٹر عاصم کے دل کے امراض سے متعلق بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ میڈیکل ٹیم نے ڈاکٹر عاصم کا معائنہ کرنے کے بعد ان کے دل کے آپریشن کے لیے 7 روز تک نگرانی کی ہدایت کردی ہے۔ڈاکٹرعاصم حسین کمر میں تکلیف اور دل کے عارضے میں مبتلا ہیں اور علاج کے لیے گزشتہ دنوں جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پرواز ای کے 601 سے علاج کے لیے لندن گئے تھے۔واضح رہے کہ ڈاکٹرعاصم کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن اوردہشت گردوں کی سہولت کاری کے الزام ہیں تاہم اس وقت وہ ضمانت پرہیں۔

Read more

بابری غوری دور میں کے پی ٹی میں900غیر قانونی بھرتیوں کا انکشاف

نیب نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے سابق وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ بابر غوری کے دور میں کراچی پورٹ ٹرسٹ میں 900 سے زائد غیرقانونی بھرتیاں کی گئیں۔سندھ ہائیکورٹ میں سابق وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ بابری غوری کے دور میں کے پی ٹی میں سیکڑوں ملازمین کی غیر قانونی بھرتیوں کے کیس کی سماعت ہوئی۔ سابق جنرل منیجر کے پی ٹی رف اختر فاروقی، ارسلان حیات، محمد شریف اور دیگر ملزمان کے وکلا نے عدالت سے ضمانت کی درخواست کی۔نیب نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ رف اختر فاروقی کو سابق وزیر بابر غوری کی سفارش پر کے پی ٹی کا جنرل مینیجر بنایا گیا، اس وقت کے وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے 10 دسمبر 2012 کو کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا حکم نامہ جاری کیا، رف اختر نے 900 سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کو غیر قانونی طور پر مستقل کیا اور وزیراعظم کے حکم نامے کا سہارا لے کر عدالت میں غلط بیانی کی۔ نیب نے استدعا کی کہ رف اختر فاروقی کی درخواست ضمانت مسترد کی جائے۔


Read more

نوازشریف کو تمام ججز نے نااہل کیا تاہم وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں، سپریم کورٹ

پاناما کیس کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماوت کے دوران سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ نوازشریف کو تمام ججز نے متفقہ طور پر نااہل کیا تاہم وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔پاناما لیکس کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی پہلی سماعت کے دوران نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ 28جولائی کا فیصلہ پانچ رکنی بینچ نے سنایا تھا جب کہ دو ججز بیس اپریل کو اپنا فیصلہ دے چکے تھے بیس اپریل کے فیصلے کے بعد دو ججز کے بینچ میں بیٹھنے کا جواز نہیں تھا جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ دوججوں کا بیس اپریل کا فیصلہ آپ نے کہیں چیلنج نہیں کیا؟ جوابا خواجہ حارث نے کہا کہ دو ججوں کے فیصلے کی قانونی حیثیت نہیں تھی اکثریتی فیصلے کو تسلیم کیا گیا تھا اس لئے چیلنج نہیں کیا۔خواجہ حارث نے دلائل میں یہ نکتہ اٹھایا کہ نوازشریف کو ایف زیڈ ای کمپنی کے معاملے پر نااہل کیا گیا آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کیلئے باقاعدہ سماعت کی ضرورت ہے جب کہ شوکاز نوٹس دینا اورمتاثرہ فریق کو سننا ضروری ہے۔ آرٹیکل 62 ون ایف کا طریقہ نااہلی سے متعلق مختلف ہے قانون کے مطابق اثاثے نہ بتانے پر انتخاب کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اثاثے نہ بتانے پر کامیاب امیدوار کو نااہل نہیں کیا جا سکتا ۔ پاناما لیکس کیس میں نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دینا بھی قانون کے مطابق نہیں ہے آج تک تحقیقات اور ٹرائل پر مانیٹرنگ جج کی تعیناتی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

Read more

بھارت کا امریکی ایما پرافغانستان میں کردار۔۔۔عبدالقادرخان

افغانستان میں کرائے کے فوجی بھیجے جانے کی اطلاعات متواتر ذرائع ابلاغ کا حصہ بنتی رہی ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی ایشیا کے لئے نئی پالیسی میں اس بات کی توقع کی جارہی تھی کہ امریکی صدر اپنے 8400فوجیوں کو واپس بلا کر ان کی جگہ کرائے کے فوجی افغانستان میں بھیجیں گے ۔ جس کے دو مقاصد نمایاں تھے ، ایک مقصد اپنی پیشہ ور فوجی قوت کو مزید شرمساری اور بے معنی موت سے امریکی فوجیوں کو مزید نقصان سے بچانا تھا ۔ امریکی فوج کی افغانستان میں حفاظت کی ذمہ داری خود اپنی امریکی اور نیٹو کے پانچ ہزار فوجیوں پر عائدہے کہ پہلے اپنی جان کی حفاظت کرو،فضائی پروازوں میں زمین پر نہتے عوام پر داعش کبھی طالبان کے نام پر جتنی ہوسکے اندھا دھند بمباری کرسکتے ہو ، کرتے رہو،زمینی جنگ سے بچو،گوریلا جنگ میں افغان طالبان کا سامنا کرنے سے گریز کرو اور ان علاقوں میں نہ جائوجہاں افغانستان کے چالیس فیصد حصے پر امارات اسلامیہ کا کنٹرول ہے۔ امارات اسلامیہ ، امریکی حکومت کو ناکام بناتے ہوئے پھر بھی امریکی بیس و فورسز پرفدائی و راکٹ حملے کرکے انھیں جانی ومالی نقصان پہنچاتے ہیں جس کی وجہ سے امریکی پریشانی میں متواتر اضافہ ہورہا ہے ۔دوسری جانب افغان فوجیوں کے ہی ہاتھوں امریکی فوجیوں کے مارے جانے کے واقعات میں اضافے کے بعدبلیو وارسے امریکی اور نیٹو فوجی سخت ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں کیونکہ انھیں خود علم نہیں ہوتا کہ کابل سیکورٹی فورسز کی بلیو وردی میں ملبوس کون سا فوجی کب اور کہاں اِن پر فائرکھول دے گا ۔ اس قسم کے واقعات کو بلیو وارکا نام دیا گیا جس میں سینکڑوں غیر ملکی فوجی مارے جاچکے ہیں ۔ امریکی صدر اپنے فوجیوں کی حفاظت کے لئے مزید 3900فوجیوں کو افغانستان بھیجنے کے لئے اپنی نئی پالیسی سے قبل اس کی منظوری بھی دے دی تھی ۔ لیکن اس کے ساتھ کرائے کے فوجیوں کا آپشن بھی زیر غور لایا گیا کیونکہ اس میں انھیں مخصوص معاوضہ دیکر ریمنڈ ڈیوس کی طرح جاسوس و عالمی قاتل گروہ کو بھیج کر افغانستان میں ہائی پروفائل امریکہ مخالف شخصیات کو نشانہ بنانا تو دوسری جانب پاکستان میں عدم استحکام کیلئے اہم پاکستانی شخصیات کو بھی ٹارگٹ کرنا تھا ۔ وہیں بھارت کو بھی کرائے کے فوجی بنا کر افغانستان کے میدان میں بھیجنے پر بھی غور کیا گیا کہ بھارتی فوجیوں کو افغانستان میں تعینات کرنے سے دوہرا فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے ۔یہاں اس مکروہ سازش کا بھی خطرہ موجود ہے کہ افغانستان میں بھیجے جانے والے بھارتی فوجیوں میں زیادہ تعداد مسلمانوں اور سکھوں کی ہو ۔ تا کہ دونوں جانب جو بھی مرے ، ان کا ہردوصورت فائدہ امریکہ و بھارت کو اور مسلمانوں کو نقصان ملے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر بھی ہے کہ بھارت اپنے فوجی افغانستان میں بھیج کر دیرینہ خواہش بھی پوری کرنا چاہتاہے کہ ہندوستان میں غیور پختون حکمرانوں کی غلامی کا بدلہ لینے کیلئے کسی بھی قیمت پر کابل کا کنٹرول یا حکومتی اقدامات پر اثر نفوذ حاصل کرلیں اور دوسری جانب مشرقی سرحدوں کی طرح پاکستانی علاقوں میں گولہ باریاں اور در اندازیاں کرکے پاکستان کو مسلسل غیر مستحکم رکھ کر سی پیک منصوبے کو ناکام بنایا جاسکے کیونکہ شمال مغربی سرحدوں کو مسلسل غیر محفوظ رکھنا عالمی قوتوں کا استعماری ایجنڈا بھی ہے  لیکن افغانستان کی تاریخ ثابت کرکے امریکہ کی یہ غلط فہمی دور کردے گی کہ جب وہ خود دنیا کے جدید ترین اسلحہ کے ساتھ افغانستان پر قبضہ نہیں کرسکا تووہ ٹڈی دل بھارتی فوج جو مقبوضہ وادی کشمیر میں سات لاکھ سے زائد انتہا پسند فوج کے باوجود 70برسوں میں کامیاب نہیں ہوسکی کس طرح غیور قوم کی تاریخی زمین پر  پیاس مٹانے کی خواہش رکھنے والوں پر غالب کس طرح آسکتی ہے۔دراصل یہ امریکہ کی جانب سے، پاکستان پر دبائو ڈالناہے کہ امریکہ ٹارگٹ کلرز فورسز کو ماضی کی طرح پاکستان میں بلا روک ٹوک آنے جانے اور من مانی کرنے کی اجازت دے ورنہ بھارت کی مدد سے مشرقی اور پھر شمال مغربی سرحدوں پر محدود پیمانے کی جنگ چھیڑدی جائے ۔ جس کی وجہ سے سی پیک منصوبہ خطرے میں پڑ کر ناکام کرایا جاسکتا ہے ۔ بھارت کی جانب سے بھی ساز ش کا پردہ فاش ہوچکا ہے کہ بھارت کو سی پیک پر تحفظات ہیں اور اس منصوبے کوتشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔رواں برس جنوری میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے رئیسنا ڈائیلاگ کی افتتاحی تقریب میں اپنے خطاب میں میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا نام لیے بغیر اسے بھارت کی علاقائی خودمختاری کیخلاف ورزی قرار دیا تھا، تاہم چین نے منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے اسے علاقائی امن اور ترقی کا منصوبہ قرار دے دیا تھا۔بھارت کی باقاعدہ مداخلت افغانستان میں اس وقت عروج پر پہنچ چکی تھی جب 2014 میں امریکی و نیٹو افواج کا انخلا کیا جارہا تھا۔ امریکہ مستقبل میں افغانستان کا ٹھیکہ بھارت کو دینے اور بالادستی کی کوششیں منصوبے کے تحت کئی برس قبل شروع کرچکا تھا ۔ بھارت اور افغانستان نے ابتدائی مشترکہ طور پر انڈوتبتین ہارڈ پولیس ITBP 500 اہلکاروں پر مشتمل تشکیل دی ۔ بھارت کو پاکستان کے مقابلے میں افغانستان کی زراعت، مواصلات اور معدنیات کے شعبے میں مواقع فراہم کرتے ہوئے 14 بھارتی فرموں کو افغانستان میں بھیجا گیا تھا۔ افغان سیکورٹی فورسز کو بھارتی فارن سروس اور پولیس سروس میں اپنے ٹریننگ کیمپوں میں تربیت شروع کی گئی جو اب این ڈی ایس کی راجھستان میں ٹریننگ کی شکل میں منظر عام پر راکی سازش آچکی ہے۔ انڈین بارڈر روڈ آرگنائزیشن بی آر او سی پیک منصوبے کی افادیت کم کرنے کیلئے مختلف پراجیکٹ پر مصروف ہے۔ امریکی تھنک ٹینکRAND نے دعوی کیا تھا کہ افغانستان میں بھارت کی موجودگی کو افغانستان کے شہریوں کی74 فیصد آبادی پسند کرتی ہے جبکہ صرف8 فیصد آبادی پاکستان کو پسندیدہ ملک قرار دیتی ہے۔ افغانستان میں انڈیا کی فوجی مداخلت کا ثبوت خود بھارتی ابلاغ دیتے ہیں۔ یہ سروے اے بی سی نیوز اور بی بی سی نے کروایا تھا۔ دوسری جانب بھارتی میگزین پر گاتی(Pragati) کے ایڈیٹر سوشانت کے سنگھ(Sushant K.Singh)اور بی بی سی نیوز نے RAND کے ساتھ ملکر کئے گئے سروے میں کہا ہے کہ" An Indian Military Involvement in Afghanistan will Shift The Battleground Away from Kashmir and the Indian Mainland.Targeting the Jihadi Base will be a huge for India,s Anti-Terrorist Operations, Especially in Kashmir, Both Millitary and Psychologically"-افغانستان میں بھارت کی موجودگی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کا افغانستان میں مضبوط نیٹ ورک اس امر کی نشاندہی کررہا ہے۔ان حقائق کی روشنی میں امریکہ کی جانب سے بھارت کو عملی شکل میں افغانستان میں کلیدی کردار دلانے کی کوشش کئی برسوں سے جاری ہے ۔ اس صورت میں اگر بھارتی فوجی افغان سیکورٹی فورسز کے ساتھ امریکی مدد کے ساتھ شامل ہوکر ظاہر ہوجاتے ہیں تو پاکستان کے لئے مزید مشکلات پیدا کرنا بھارت کا اہم ایجنڈا ہوگا ۔ افغانستان میں پہلے ہی را ایجنسی کی ماتحت کالعدم جماعتیں TTP، جماعت الاحرار ،  سمیت کئی گروپ پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف نے امریکہ سے ڈومور کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ، افغانستان میں موجود دہشت گرد کالعدم جماعتوں کے خلاف کاروائی کرے اور افغان جنگ پاکستان میں لانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پاکستانی حکام نے بھارت کے افغانستان کے بڑھتے کردار اور بلین ڈالرز کی مالی امداد کے نام پر افغانستان میں اثر رسوخ بڑھانے کی سازشوں پر ماضی میں کوتاہی برتی ، جس کے سبب بھارت کو افغانستان میں قدم جمانے کا موقع ملا اور پاکستان نے 80ہزار پاکستانیوں کی قربانی اور اربوں ڈالرز کا نقصان برداشت کیا ، پاکستانی سائیڈ لائن کرکے بھارت کو مسلط کرنے کی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی  کیونکہ بھارت کا افغانستان میں جاری جنگ سے صرف فائدہ ہے ، کوئی نقصان نہیں ہے اور نہ ہی بھارت کا افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کوئی کردار رہا ہے اس لئے پاک سر زمین کے خلاف تمام سازشوں کا انجام ناکامی سے دوچار ہونا ہی ہے۔افغانستان میں امن کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو پہنچے گا یہی وجہ ہے کہ ملک دشمن نہیں چاہتے کہ افغانستان میں امن مستحکم اور قائم رہے۔ قیام پاکستان سے لیکر آج تک اسی سازش پرعمل ہورہا ہے۔افغانستان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کبھی مثالی نہیں رہے ہیں ، افغانستان کا زیادہ تر جھکائو بھارت کی جانب ہی رہا ہے ، پاکستان ، افغانستان کو بردار اسلامی ملک کا درجہ دیتا ہے لیکن سابق کابل کے صدر حامد کرزئی نے پاکستان کو بردار اسلامی ملک کا درجہ دینے کے بجائے پڑوسی ملک کہہ کر پاکستان کے خلاف کئی بار سنگین الزامات عائد کئے ۔ اب وہی حامد کرزئی کبھی امریکی زبان بولتا تھا تو کبھی بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا رہتا تھا ۔امریکہ کی نئی پالیسی پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرکے اپنے گناہوں پر پردہ ڈال رہا ہے۔

Read more

13 September 2017

نمرود اٹھ گیا ہے مچھر کو بھیج دو۔۔اویس خالد

بغداد میں تباہی مچانے کے بعد ایک دن ہلاکو خان کی بیٹی گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے باپ کے ہاتھوں مقبوضہ ہونے والے علاقے کی سیر کرنے کی غرض سے نکلی۔ایک مقام پر اس نے دیکھا کہ ایک مسلمان عالم ایک مجمعے سے خطاب کر رہا ہے اور لوگ ہمہ تن گوش ہو کر اس کا وعظ سماعت کر رہے ہیں۔شہزادی نے اپنے غلام سے کہا کہ جا اور اس عالم کو بلا کر لا۔غلام بلا لایا،جب وہ آئے تو شہزادی نے استفسار کیا کہ تم لوگوں سے کیا کہہ رہے تھے؟ اس عالم نے بڑے تحمل سے جواب دیا کہ میں پروردگار کی تعریف و توصیف بیان کر رہا تھا۔اس پروردگار کی کہ جس کو چاہتا ہے بادشاہت عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اسے حقیر کرتا ہے۔یہ سن کر شہزادی مسکرائی اور کہنے لگی کہ پھر مانو اس بات کو کہ تمہارے پروردگار نے ہمیں بادشاہت عطا کی گئی ہے ،ہمیں آقا اور تمہیں غلام بنایا ہے۔عالم کچھ دیر توقف کے بعد گویا ہوئے کہ اے شہزادی پہلے یہ بتا کہ بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ کتے کیوں رکھے جاتے ہیں؟ شہزادی نے کہا سادہ سی بات ہے کہ بکریوں کی حفاظت کے لئے،جب کوئی بکری اپنے ریوڑ سے بچھڑ جاتی ہے اور اپنے مالک سے دور ہو جاتی ہے تو وہ کتے گھیر کر اس بکری کو واپس ریوڑ میں اپنے مالک کے پاس لے آتے ہیں۔عالم نے جواب دیا کہ تم نے بالکل درست کہا ۔تم لوگوں کی حیثیت بھی ایسی ہی ہے،ہم اپنے مالک سے بچھڑ گئے ہیں اور اس نے تمہیں ہمارے پیچھے لگا دیا ہے کہ ہمیں گھیر کر واپس اپنے پروردگار کے پاس لے آئو۔جس دن ہم واپس اپنے مالک کے پاس آگئے اس دن تمہارا کام ختم ہو جائے گا۔یہ امربھی قابل توجہ ہے کہ جب بغداد پر حملہ ہوا تو اس وقت مسلمان قوم امورِخاص چھوڑ کرکئی روز سے فقط اس بات پر مناظرہ کر رہی تھی کہ مسواک کی لمبائی کتنی ہونی چاہیے اور پھر بعد کے مناظر نے تاریخ میں لکھوایا کہ نہ مسواک رہی اور نہ مسواک والے۔دشمن ہر لحظہ سر پر ہے اور پوری قوم غیر ضروری بحث و مباحثے میں الجھی ہوئی ہے،کسی کی شادی کو قوم کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا جاتا ہے تو کسی کی طلاق کوقومی سلامتی کا سب سے اہم مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور ساری قوم کئی کئی روز تک چوکوں اور چوراہوں میں،گھروں اور دفاتر میں اس پر اپنے ماہرانہ تبصرے کرتے پھرتے ہیں،بسا اوقات تو اتنے جذباتی ہو جاتے ہیں کہ بات آپس میں تلخ کلامی اور بعد ازاں دھینگا مشتی اور پھر قطع تعلقی تک بھی جا پہنچتی ہے۔آج بھی ہمارا حال اس سے مختلف نہیں ہے۔ہم اصل راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ہمیں راہ پر لانے کیلئے ہمارے پروردگار نے ایسے ہی جابر،ظالم،تند خو ،دریدہ دہن اور درندہ صفت حاکموں کو ہم پر مسلط کر دیاہے۔ پاکستان عرصہ دراز سے حالت جنگ میں ہے اور دہشت گردی کا شکار ہونے والوں میں سرفہرست ہے۔اس دہشت گردی نے اب تک ہزاروں نہتے مسلمانوں کی جان لی ہے،پاکستان نے اس ضمن میں لازوال قربانیاں دی ہیں اورابھی تک دے رہا ہے۔شہادتوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔امریکہ جو بار بار دس ارب ڈالر کا طعنہ دیتا ہے اسے یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ پاکستان اب تک دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جانی نذرانے دینے کے ساتھ ساتھ اپنا دو سو ارب ڈالر بھی خرچ کر چکا ہے۔ استعماریت پسند امریکہ جو خود بے بنیاد الزامات کی آڑ میں کئی ممالک کا امن تباہ کر چکا ہے،خود کو سب سے بڑا امن پسند سمجھتا ہے اور پاکستان بے انتہا قربانیوں کے باوجود بھی اسے خوش نہیں کر سکا۔وہ اس خطے میں طاقت کے توازن کو اپنی مٹھی میں رکھنے کے لئے کبھی ہما کسی کے سر پر بٹھاتا ہے تو کبھی کسی کو اکیلا کر کے کمزور کرنے کی دھمکی دیتاہے۔حضرت اقبال نے فرمایا تھا:
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
ہم نے اقبال کی شاعری کو محض اپنی جذباتی تقریروں میں جوش کا تڑکا لگانے کے لئے رکھ چھوڑا ہے۔نہ سمجھے اور نہ اپنایا،اب حالت یہ ہے کہ راقم نے لکھا تھا
وہ طائر لاہوتی اغیار کے نرغے میں ہے قید
اقبال جسے لقمہ ذلت سے چاہتے تھے بچانا
کب تک ہم ڈالروں کے عوض پرائی جنگ میں خود کو جھونکتے رہیں گے؟اتنے قرضے لینے کے بعد یا تو عوام کی حالت زار بدل کر خوشحالی کی سیج پر بیٹھ گئی ہوتی۔عوام بنیادی ضرورتوں کے چنگل سے نکل کر سہولیات کے مزے لوٹ رہی ہوتی،ہر پاکستانی عیش و عشرت سے پورے ٹھاٹھ باٹھ سے گزر اوقات کر رہا ہوتا تو بھی بات سمجھ میں آتی مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے،پہاڑ جیسے قرضے لینے کے بعد بھی عوام دو وقت کی روٹی کو ترستی ہے۔ڈگری سے نوکری کے حصول تک کے سفر میں کامیابی سے پہلے بڑھاپا آ جاتا ہے۔بڑے بڑے سرکاری محکمے گھٹ گھٹ کر سانس لے رہے ہیں،امن و امان سے لے کر صحت و تعلیم تک ہر سہولت مفقود ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہم سے کبھی خوش ہونا ہی نہیں چاہتا،چین کب تک ہماری ایما پر غیرت کا مظاہرہ کرتا رہے گا۔اگرچہ ہم اس وقت اس حالت میں نہیں ہیں کہ اسے کرارا جواب دے سکیں اور مصلحت کا تقاضا ہے کہ دینا بھی نہیں چاہیے لیکن اب اس راہ کے مسافربننے کی راہ ضرور اپنا لینی چاہیے جہاں خودداری و حمیت کا تاج و تخت ہمارا منتظر ہے۔حکومت سے بھی یہ مطالبہ نہیں کہ وہ طاقت سے ٹکر لے مگر یہ مطالبہ ضرور ہے کہ خود طاقتور ہونے کی سبیل کرے۔ قوم جو پہلے ہی کسمپرسی کی حالت میں ہے ۔غربت کی لکیر کے نیچے رہ کر بھی جینا سیکھ گئی ہے۔وہ ہر مشکل میں گزارا کر لے گی بس درجہ بدرجہ مزید بھیک لینی بند کر دی جائے ۔اپنے ملک کے ممکنہ وسائل کوبروئے کار لا کر اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کا سامان کیا جائے۔اگر ایسا ہو گیا تو پھرپوری دنیا میں کسی بھی میدان میں پاکستانی قوم کا کوئی ثانی نہیں ہو گا۔ایجادات کی قطاریں لگ جائیں گی،دریافتوں کے دریا بہیں گے۔پھر چاہے امریکہ ہو یا روس کسی سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہو گی،کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی حاجت نہیں رہے گی۔نیابت و امامت کے لئے پھر حجاز سے نام پکارا جائے گا۔ایک طرف عزت کی مسند ہے اور دوسری طرف ذلت کی دلدل لیکن فیصلہ بحیثیت قوم ہمیں مل کر کرنا ہے،ورنہ وہ کارساز ہے جس سے مرضی کام لے لے،ابھی ہم یہ دعا تو کر ہی سکتے ہیں کہ۔
نمرود اٹھ گیا ہے مچھر کو بھیج دو
قاسم کو جو بلاوے،دختر کو بھیج دو


Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 18 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30