Get Adobe Flash player

September 2017

13 September 2017

ریاست کے ہر ستون کو اپنی ذمہ داریاںادا کرنا ہونگی ۔۔۔ظہیر الدین بابر

 نئے عدالتی سال  2017-18   آغاز کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کا  کہنا تھا کہ اصل جمہوریت کا سب سے اہم پہلو قانون کی حکمرانی ہے جس کے لیے عدلیہ کا آزاد ہونا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ  عدلیہ کی آزادی کا مقصد  ججز کا انتظامیہ ،کسی بھی شخص یاطاقتور اتھارٹی سمیت ہر قسم کے دبائو سے آزاد ہونا ہے۔ جناب جسٹس ثاقب نثار کے بقول آئین بالادست ہے اور ریاست کے ہر ستون کو اپنی ذمہ داریاں اور افعال آئین کے مطابق سرانجام دینے ہوتے ہیں۔''مملکت خداداد پاکستان میں نظامِ عدل، قانون کی بالا دستی اور آئین کی حکمرانی کئی دہائیوں سے اہم موضوع بحث  ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ  اب تک ہر حکمران نے قانون کی حکمرانی کو  من پسند معانی پہنائے ہیں جس کے نتیجے میں مسائل کم ہونے کی بجائے ان میں اضافہ ہوا۔ دراصل آئین اور قانون کی بالادستی کی اہمیت یہ بھی ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی ریاست کے فعال اور دیانتدار اداروں کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح ہر  جمہوری ریاست کے شہری ایسی ریاست  کا خواب دیکھنے میں حق بجانب ہیں جہاں عدلیہ آزاد ہو اور ریاست کے سبھی  طبقات اس کے فیصلوں پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کریں ۔ عصر حاضر میں یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ  امن و امان اور خوش حالی کی فضا میں سانس لینے کی خواہش رکھنا ریاست کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔دراصل ایک  مثالی ریاست وہی کہلا سکتی ہے  جہاں قانون کی بالا دستی ہو، ریاست کے سبھی شہریوں بشمول اقلیتوں کو ان کے بنیادی حقوق مساوی بنیادوں پر حاصل ہوں ۔ جہاں کی سرزمیں پر  بسنے والے  غربت بھوک اور بیروزگاری جیسے ناموں سے  نا آشنا ہوں۔جہاں دہشت گردی اور اس سے ملتے جلتے عفریت ناپید ہوں دراصل یہ وہی دیس ہے جس کے بارے میں  میں  راوی امن اور چین لکھے۔دراصل تیسری دنیا کے کئی ملکوں کی طرح پاکستان کا  رائج  نظامِ عدل بھی ہمیں  نو آبادیات سے منتقل ہوا۔تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ متحدہ  برصغیر پاک و ہند میں  شخصی نظامِ حکومت ہی فعال تھا جس کے تحت ہر قسم کے  اختیارات اور فیصلے  فردِ واحد کے ہاتھ میں محفوظ رہے یعنی جہاں  قاضی شہر بھی حاکمِ وقت کے آگے سر جھکائے دست بستہ کھڑا رہتا تھا۔ 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد برصغیر پاک وہند پر رہنے والوں پر  مسلط ہونے والا برطانوی راج اگرچہ اپنے ساتھ قانون کی ایک نئی شکل لے کر آیا تاہم مخصوص حوالوں سے وہ   کسی طور پر بہترین  نظامِ عدل نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انگریز سرکار کا تشکیل دیا جانے والا قانون جو مقامی باشندوں کے لئے تعصب سے بھرپور مگر خود انگریزوں کے لیے ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد تھا۔ تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں کہ متحدہ برصغیر پاک وہند کی مقامی آبادی سے  انگریزوں کا روا رکھا جانے والا سلوک  امتیازی اور تحقیر آمیز تھا۔یقینا پاکستان کے قیام کا ایک مقصد  تھا کہ ایسا ملک حاصل کرنا  یہاں قانون کی حکمرانی اس انداز میں نظر آئے کہ حکمران اور عوام کے درمیان کسی قسم کا فرق دکھائی نہ دے۔اس میں شک نہیں کہ آج بھی ہم تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ایک طرف ہمارے تمام تر پرانے خستہ سماجی ڈھانچے شکست و ریخت کا شکار ہو رہے ہیں جب کہ دوسری طرف ان کی جگہ لینے والے نئے نظام اپنی تشکیل کے ابتدائی مراحل سے گزر رہا ہے ۔کوئی نہ بھولے کہ کسی بھی ریاست میں  عدل وانصاف کے قوانین کا براہِ راست تعلق عوام کی ذاتی زندگی سے ہے۔ معیشت بھی اسی وقت مستحکم ہوتی ہے جب وہاں امن و امان قائم ہو۔ اس کے ساتھ  جمہوریت کا استحکام بھی ریاست کی خوش حالی سے ہی مشروط ہے۔دراصل اسی نقطہ کو چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے تازہ  خطاب میں بیان کیا۔ یاد رکھنا ہوگا کہ جب  ملک کا  بااثر طبقہ، اشرافیہ یا جاگیردار طبقہ خود کو قانون سے مستثنی قرار دیتا ہے تو عملا پورا نظام تہس نہس ہوجایا کرتا ہے۔ دراصل  معاشرے میں بگاڑ تب ہی پیدا ہوتا ہے جب ریاست کا بااثر طبقہ یا جرائم پیشہ افراد محض حکامِ بالا تک اپنی رسائی کے زعم میں مبتلا ہو کر سرکشی کے مرتکب قرار پائے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بطور قوم ہمیں  انصاف کے لیے کسی مثالی صورتِ حال کے انتظار میں نہیں رہنا چاہیے بلکہ  سماج کو درپیش بنیادی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنی  انفرادی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ہماری اجتماعی کامیابی یہی ہے کہ ہم ایک ایسا لائحہ عمل ترتیب دے ڈالیں  جو ملک سے ناانصافی کو بتدریج ختم کرڈالے۔ اس میں شک نہیںکہ ہمارے ہاں جمہوری نظام ابتدائی مرحلے میں ہی سہی مگر بہرکیف موجود ہے چنانچہ ہمیں  اپنی ناکامیوں سے سیکھنا ہوگا۔ دراصل یہ اسی وقت ممکن ہے  جب ہم اپنے ماضی کی غلطیوں اور غلط فیصلوں کو کسی صورت فراموش نہ کریں۔چیف جسٹس جناب ثاقب نثارکا یہ کہنا غلط نہیں کہ قانون شکنی کرنے والوں کا سخت مواخذہ ہی ریاست میں امن کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ دراصل ہم میں سے کسی کو بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر نظام انصاف کو متنازعہ بنانے کی کوشش نہیںکرنی چاہیے۔ریاست کے ذمہ دار اداروں کا فرض ہے کہ وہ مختلف اداروں کے باہمی تصادم کو روک کر قانون کی بالا دستی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔


Read more

13 September 2017

برمی مسلمانوں کی نسل کشی کیوں؟۔۔۔شاہ زمان

اللہ پاک کی زمین پر ایک خطہ میانمار ہے، جس کی سرحدیں، بنگلہ دیش ، بھارت، تھائی لینڈ، لاس، اور چین کی سرحدوں سے ملتی ہیں،جہاں پندرہ لاکھ کے قریب کلمہ گو آباد ہیں،جنھیں دنیا روہنگیا مسلمان کہتی ہے۔ہماری آزادی کے ایک سال بعد ان کو بھی جاپانیوں سے آزادی ملی تھی، انھوں نے بھی ہماری طرح یوم آزادی منایا تھا، مگربد قسمی سے ان کو ملک کا شہری تسلیم نہیں کیا گیا کیوں کہ ان کے نام کے ساتھ مسلمان چپساں تھا۔ آتش پرستوں نے بہت کوشش کی مگر راہِ توحید سے نہ پھیر سکے۔پھر جبر و استبداد کی انتہاشروع ہوگئی، اس سال روہنگیا مسلمانوں نے بھی آزادی کے بعدسترویں عید قربان منائی، موازنہ کیجیے  عید کے دن ہمارے بچے اپنی پسندکے کھلونوں سے کھیل رہے تھے۔ قربانی کے جانوروں کے ساتھ سیلفی بنا کر پھولے نہیں سما رہے تھے، والدین اپنے بچوں کو ہنستے کھیلتے دیکھ کر محظوظ ہو رہے تھے،مگر ان کے بچے اپنی امی ابو کو کفار کے ہاتھوں ذبح ہوتے اور گولیوں سے چھلنی ہوتے دیکھ رہے تھے ، ماں باپ اپنے جگر گوشوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے کٹتے اور زندہ جلتے دیکھ رہے ہیں۔میانمار کے اس ماحول میں عید قربان منانے والو تم نے توواقعی عہد رفتہ کی یاد تازہ کردی، تمہاری ایک فرد کی قربانی آج پوری دنیا کے مسلمانوں کی اجتماعی قربانی پر بھاری محسوس ہو رہی ہے۔ مغربی میڈیا برمی مسلمانوں کی نام نہاد حمایت کے ساتھ ساتھ عجیب انداز میں منافقانہ چال چل رہا ہے ، جس میں بہت ہی دھیمے انداز میں برما کے مسلمانوں کو غیر ملکی مہاجر ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، بی بی سی نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ برمی مسلمان کالونیل دور میں بنگال سے آکر آباد ہوئے ہیں، حالانکہ اراکان جہاں روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت ہے ،کالونیل دور سے پہلے ہی مسلمانوں کے زیر نگیں تھا،پندرویں صدی میں بنگال کے سلطان جلال الدین محمود شاہ کی حکومت میں شامل تھا ، مغلیہ دور میں بھی ،پورے برما میں مسلم حکمرانی کو تسلیم کیا جاتا تھا، مسلم لباس اور طرز زندگی کو فوقیت حاصل رہی، کرنسی پرایک طرف برمی اور دوسری طرف فارسی کندہ تھی۔برما کی آزادی میں بھی روہنگیا مسلمانوں کا اہم کردار تھا۔آزادی کے بعد برمی مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کا آغاز ہوا، شہریت دینے سے انکار کر دیا گیا، مگر قومی شناختی کارڈ جاری کر دیااور مسلمانوں کو پارلیمنٹ میں بھی رسائی حاصل ہوئی۔ 1962کی فوجی بغاوت نے مسلمانوں پر ابتلا، ظلم اور بربریت کے کئی دروازے کھول دیے، مسلمانوں سے قومی شناختی کارڈ واپس لیکر غیر ملکی کارڈ جاری کر دیے۔ رہی سہی کسر 1982کے شہریت کے قانون نے پوری کردی جس میں مسلمانوں کو مکمل طور پر غیر ملکی قرار دیدیا، روہنگیا مسلمانوں کے اکثریتی صوبے اراکان کو قیدخانہ بنا دیا گیا، مسلمانوں کی نقل و حرکت پر بھی پابندی لگادی گئی، تعلیم،روزگار اور صحت کی سہولیات سے بھی یکسر محروم کر دیا گیا۔ میڈیا کی رسائی پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ۔1970کے بعد متعدد کریک ڈائون ہوئے اور لاکھوں مسلمانوں کو جبرا پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا گیا ۔امید کی جارہی تھی کہ فوجی حکومت کا ظلم برداشت کرنے والی آنگ سان سوچی کے برسرِاقدار آنے پر مسلمانوں کے دن بدلیں گے ، مگر اس کی پارٹی کے حکمران بنتے ہی ، روہنگیا مسلمانوں پر تاریخ ساز بربریت کا آغازہوا، سوچی نے برما میں مودی کا کردار ادا کرتے ہوئے، بدھ مت کے دہشت گردوں کو شہ دی جنھوں نے فوج کے ساتھ ملک کر برما کے مسلمانوں کی باقائدہ نسل کشی شروع کردی، جس کے متعلق گزشتہ برس لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کے محققین کی رپورٹ میں کہا گیا ہے میانمار کی سرکاری سرپرستی میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی آخری مراحل میں ہے۔اس کے ردعمل میں ہی حرکت الیقین نامی مزاحمتی تحریک نے جنم لیا، جن کا کہنا ہے کہ انھوں نے صرف اپنی حفاظت کی خاطر ہتھیار اٹھائے ہیں۔اکتوبر2016میں چند سرحدی فورس کے جوانوں کے قتل کا بہانہ بنا کر برمی فوج اور بدھ ملیشیاز نے مسلم آبادیوں پر چڑھائی کر دی، مکانات نظر آتش کر دیے گئے،ہزاروں معصوم مسلمان،بچوں، نوجوانوں ،بوڑھوں اور عورتوں کو شہید کردیا گیا، نومبر2016میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی مداخلت پر برمی حکومت نے کمیشن کے قیام پر رضامندی کا اظہار کیا، پھرعالمی رائے عامہ کی آنکھوں میں دھول جھونک کرمعاملہ ٹھپ کر دیا گیا۔ جنوری2017کو اقوام متحدہ کی سپیشل نمائندہ کو رسائی دینے سے انکار کیا گیا اور پھر اقوم متحدہ کے تفتیش کاروں کو ویزے جاری کرنے سے بھی میانمار حکومت نے معذرت کر لی۔ انڈونیشیا کے صوبہ سماترا میں بیس فیصد عیسائی آبادی کے لیے اقوام متحدہ کی پھرتی قابل دید تھی مگر یہاں باجی اقوام متحدہ شرم کے مارے آنکھ نہ اٹھا سکی۔روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تازہ لہر 25اگست 2017اس وقت شروع ہوئی جب حرکت الیقین کی طرف سے پولیس اور فوج کی چوکیوں پر مبینہ حملے کا بہانہ بنا کر، برمی فوج اور بدھ ملیشیا ایک بار پھر مسلم آبادی پر چڑھ دوڑے، متعدد گائوں کے ہزاروں مکانات نظر آتش کر دیے گئے، ہزارو ں بے گناہ مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا، معصوم بچوں تک کو جلتے مکانوں میں پھینک کر زندہ جلا دیا گیا، پچھلے ایک ہفتہ کے دوران ایک لاکھ کے قریب برمی مسلمان بنگلہ دیش کے سرحد پر پہنچ چکے ہیں جہاں خوراک اور ادویات کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ دنیاخاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، مسلم حکمران اپنا اقتدار بچانے، اور انسانی حقوق کے علمبردار اپنی تنخواہ پانے کی فکر میں ہیں جبکہ مسلم نوجوان اور اقبال کے شاہیں سوشل میڈیا پر خوش گپیوں میں مصروف ہیں ، کچھ نوجوان صرف مذمتی پوسٹ شیئر کرکے خیالوں میں محمد بن قاسم کا کردار ادا کر رہے ہیں، کچھ پروفیسر قسم کے نام نہاد مسلمان تو یہ فلسفہ جھاڑ رہے ہیں کہ کیا ہم نے مسلمانوں کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔واہ جی اگر یہ فلسفہ ابنِ قاسم کو سمجھ آجاتا تو آپ پروفیسر رام چندر کے سوا کچھ نہ ہوتے۔


Read more

13 September 2017

برمی مسلمانوں کا قتل عام اورہماری بے حسی۔۔۔اشفاق بھٹی

برما کی کل آبادی 75لاکھ کے لگ بھگ ہے جس میں سے مسلم آبادی تقریبا 0.7%ہے،یہاں پرزیادہ ترتعدادبدھشٹ فرقے سے تعلق رکھنے والے افرادکی ہے،یہ زمین ہیرے اگلنے میں ماہرہے اسی وجہ سے یہاں کی حکومت نے ملک کو ہمیشہ غیرملکی میڈیا سے دوررکھا،باہری دنیا سے اس ملک کا رابطہ صرف ضرورت کی حدتک ہے،مہنگائی حدسے زیادہ ہے اور امراء انتہائی بے حس اور سخت گیرہیں،پوری دنیا کا غیرملکی میڈیا اس وقت پرجوش ہوا جب مسلمانوں کی ایک بس کوروک کراس میں سے 11افرادکو بے دردی سے شہیدکردیا گیااور حکومت اس واقعے اور تشددکو ہوا دیتی رہی ،یہ بس برما کے دارالحکومت رنگون سے تبلیغی سفرکے سلسلے میں جارہی تھی،اور تشددکا یہ سلسلہ یہی ختم نہیں ہوا،اس کے بعدسے تومسلمانوں کے قتل عام کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلا ہے،ہرروزبے انتہا مسلمان قتل کئے جارہے ہیں،برمی افواج اور بدھ مت کے شدت پسندوں سے تنگ آکر بنگلا دیش کی جانب فرار ہونے والے روہنگیا مسلمان بچوں کے سرقلم اور زندہ جلانے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ اس بات کا انکشاف عینی شاہدین نے کیا ہے۔دیگر ذرائع کے مطابق برما کی سرکاری افواج اوردیگر فورسز کی جانب سے مشرقی ریاست راکھین میں مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے جہاں نہتے اور بے بس مسلمان ملک کی ایک اقلیت میں شمار ہوتے ہیں۔ راکھین کی سرحد بنگلہ دیش سے ملتی ہے اور ظلم و ستم سے تنگ آکر اب تک 60 ہزار سے زائد افراد بنگلہ دیش کی سرحد تک پہنچ گئے ہیں۔دوسری جانب روہنگیا مسلمانوں نے ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت بھی شروع کردی ہے اور برمی افواج نے ایسے 400 مزاحمت کار ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے لیکن درحقیقت مرنے والوں میں عام شہریوں اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق برمی افواج کے تشدد اور ظلم سے بچنے والے افراد نے ہولناک داستانیں بیان کی ہیں۔ 41 سالہ عبدالرحمان نے بتایا کہ اس کے گائوں چوٹ پیون پر پانچ گھنٹے تک مسلسل حملہ کیا گیا۔ روہنگیا مردوں کو گھیر کر ایک جھونپڑی میں لے جایا گیا اور انہیں دائرے میں بٹھا کر آگ لگائی گئی جس میں عبدالرحمان کا بھائی بھی مارا گیا۔عبدالرحمان نے ایک ہولناک واقعہ بتایا کہ میرے دو بھتیجوں جن کی عمریں چھ اور نو برس تھیں، ان کے سر کاٹے گئے اور میری سالی کو گولی ماردی گئی۔ ہم نے بہت سی جلی، کٹی اور سوختہ لاشیں دیکھیں جنہیں بے دردی سے مارا گیا تھا۔27 سالہ سلطان احمد نے بتایا کہ بعض لوگوں کے سرقلم کردئیے گئے اور انہیں بے دردی سے کاٹا گیا اور میں اپنے گھرمیں چھپا تھا۔ اس کی اطلاع پاتے ہی مکان کے عقب سے فرار ہوگیا۔ دیگر گائوں میں بھی گلے کاٹنے اور ذبح کرنے کے واقعات نوٹ کئے گئے ہیں۔ان تمام واقعات کو ایک غیرسرکاری تنظیم فورٹیفائی رائٹس نے بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ سیٹلائٹ تصاویر سے عیاں ہے کہ ایک علاقے میں کم ازکم 700 گھروں کو نذرِ آتش کیا گیا ہے جس کے بعد لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ہیومن رائٹس واچ ایشیا کے سربراہ فِل رابرٹسن نے کہا کہ سیٹلائٹ تصاویر سے مسلم آبادی کی تباہی ظاہر ہے جو خود ہماری توقعات سے بھی بڑھ کر ہے۔ اب تک ہم نے 17 ایسے مقامات دریافت کئے ہیں جہاں آگ لگائی گئی ہے لیکن ضرورت ہے کہ فوری طور پر وہاں لوگوں کو بھیج کر صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔واضح رہے کہ آج سے ایک سال قبل دنیا بھر کے کئی نوبیل انعام یافتہ افراد اور ممتازشخصیات نے ایک کھلے خط کے تحت اقوامِ متحدہ اور دیگر اداروں سے روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کی اپیل کی تھی۔ ہفتے کے روز برطانوی وزیرِخارجہ بورس جانسن نے آنگ سان سوچی سے کہا ہے کہ وہ اس المیے کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔ دوسری جانب اسلامی ممالک میں ترکی پیش پیش ہے اور ترک وزیرِ خارجہ میولود چاوش اولو نے بنگلہ دیش سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی سرحدیں روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے کھول دے اور اس کے اخراجات ترک حکومت ادا کرے گی۔واضح رہے کہ 25 اگست کو راکھین میں روہنگیا سالویشن آرمی نے ایک فوجی اڈے پر حملہ کیا تھا جس کے بعد برمی افواج کے ظلم میں مزید شدت آگئی ہے اور اب وہ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنارہی ہے۔روہنگیا مسلمانوں کا المیہ عشروں پرانا ہے اور گزشتہ کئی برس میں یہ مزید شدت اختیار کرگیا ہے جبکہ ان کے ساتھ بدھ مذہب افراد کا ظلم اور امتیاز عروج پر ہے اور انہیں بنگالی کہہ کر بنگلہ دیش جانے کو کہا جاتا ہے لیکن بنگلہ دیش انہیں قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔دوسری جانب ترک صدر رجب طیب ایردوان نے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کونسل کشی قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جمہوریت کے نقاب میں اس نسل کشی پر خاموش رہنے والا ہر شخص اس قتل عام میں برابر کا شریک ہے۔



Read more

13 September 2017

خارجہ پالیسی پر نظرثانی کا اہم فیصلہ۔۔۔ضمیر نفیس

کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی جامد اور منجمد شے نہیں ہوتی بلکہ گردوپیش کی تبدیلیاں اس پر اثر انداز ہوتی ہیں چنانچہ اس میں ردوبدل ناگزیر ہو جاتا ہے سرد جنگ کے خاتمہ کے  بعد ملکوں کی صف بندیوں میں تبدیلی آئی جو ممالک اس سے پہلے سوویت یونین کے حلیف اور قریبی تھے انہوں نے امریکہ سے قریبی تعلقات استوار کرلئے اور جو قبل ازیں امریکی بلاک میں شامل تھے انہوں نے روس سے تعلقات پیدا کرلئے اس خطے میں بھارت سوویت  اتحادی تھا لیکن جب سرد جنگ کے خاتمہ کے  بعد سویت یونین مختلف ریاستوں میں تحلیل ہوا تو بھارت نے اپنے مفاد میں امریکہ سے تعلقات استوار کئے اسے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے سول ایٹمی تعاون کی ضرورت تھی جبکہ امریکہ کی نظر اس کی وسیع منڈی پر تھی امریکہ نے فوراً اس سے سول ایٹمی تعاون کا معاہدہ کیا جبکہ اپنے پرانے اتحادی پاکستان نے جب اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اسی نوعیت کے معاہدے کی خواہش کی تو امریکہ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ دیگر ذرائع سے اس کی توانائی کی ضروریات پوری کرے گا۔ اس کے بعد امریکہ نے بھارت کو فوجی سازوسامان کی فراہمی کے بھی معاہدے کئے امریکہ جو دنیا میں اسلحہ کی فروخت میں سب سے آگے ہے اسے بھارت کی صورت میں نہ صرف نیا گاہک ملا بلکہ چین کے مدمقابل کھڑا کرنے کے لئے ایک حاشیہ بردار بھی ملا۔پاکستان کے لئے مناسب تھا کہ سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد وہ بھی بتدریج  نئے راستے تلاش کرتا لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث اسکے لئے ممکن نہ تھا کہ فوری طور پر واشنٹگن سے فاصلے پیدا کرتا اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی افغان پالیسی کے تناظر میں جو کچھ کہا ہے اور جس دھمکی آمیز لہجے اور الزامات کا سہارا لیا ہے اس نے پاکستان کو خارجہ پالیسی پر نظرثانی کے لئے مجبورکر دیا ہے اگرچہ امریکہ کا رویہ پاکستان کے عوام کے لئے کبھی بھی اطمینان بخش نہیں رہا مگر حکومت نے عالمی مصلحتوں کے تحت اس کے ساتھ تعلقات استوار رکھے اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے برابری کے تعلقات کبھی نہیں رکھے بلکہ اسے اپنا تابع فرمان سمجھا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ دونوں اس خیال پر متفق ہیں کہ پاک امریکہ تعلقات پر نظرثانی کا وقت آپہنچا ہے چنانچہ اس ضمن میں اقدامات کئے جانے چاہئیں حکومت نے اس ضمن میں بڑے فیصلے نہ کئے کہ صدر ٹرمپ کی تقریر کے بعد وزیر خارجہ کے امریکہ کے دورے کو موخر کیا امریکہ کی نائب وزیر سے بھی ان کے دورہ پاکستان کے سلسلے میں معذرت کرلی اور کہا کہ بعدازاں شیڈول طے کرنے کے بعد ہی یہ دورہ ممکن ہوسکتا ہے اس کے ساتھ ہی خارجہ پالیسی پر نظرثانی کے سلسلے میں پاکستانی سفیروں کی تینر وزہ کانفرنس طلب کرلی یہی نہیں حکومت نے صدر ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات اور ان کی دھمکیوں کو مستردکر دیا۔ اگرچہ بعدازاں امریکی سفیر نے صدر ٹرمپ کی افغان پالیسی کے بعض نکات پر وضاحتیں کرکے پاکستان کو مطمئن کرنے کی کوشش کی مگر ان وضاحتوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیاگیا۔ سفیروں کی کانفرنس نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے  جو سفارشات مرتب کیں ان کے بارے میں وزیراعظم نے غیر مبہم انداز میں کہاکہ ان کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی سے منظوری حاصل کی جائے گی اور انہیں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بھی پیش کیا جائے گا۔ یہ پہلا موقعہ ہوگا کہ  خارجہ  پالیسی کے خدوخال کا یقین کسی فرد واحد کے بجائے اجتماعی دانش کو بروئے کار لا کر کیا جارہا ہے حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات قائم رہیں گے تاہم پاکستان کی خودمختیار اور سلامتی کے مقاصد اور مفادات کو ہر صورت میں تحفظ دیا جائے گا دوست ممالک سے خطے کی صورتحال کے بارے میں مشاورت کا عمل بھی جاری ہے وزیر خارجہ نے سب سے پہلے چین کا دورہ کیا اس کے بعد ایران گئے ایران سے واپسی پر دوست ملک ترقی کے دورے پر روانہ ہوگئے' خطے کا استحکام اور افغانستان میں قیام امن کے لئے اقدامات ان کی ملاقاتوں کے اہم موضوعات ہیں یہ بھی ضروری ہے کہ خارجہ پالیسی پر نظرثانی کے حوالے سے سفارشات کی نیشنل سیکورٹی کمیٹی اور پارلیمنٹ سے جلد منظوری حاصل کی جائے۔


Read more

13 September 2017

جماعت اسلامی کا احتساب مارچ اور راولپنڈی کے عوام کے انسانی حقوق

جماعت اسلامی نے لاہور سے احتساب مارچ شروع کیا اس سلسلے میں وارث خان مری روڈ راولپنڈی میں ایک جلسے کا اہتمام کیا گیا اگرچہ اعلان کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کو ساڑھے آٹھ بجے مری روڈ راولپنڈی کے اجتماع سے خطاب کرنا تھا مگر ان کا جلوس زیادہ تاخیر کے ساتھ مری روڈ پہنچا تاہم شام چار بجے سے ہی یہاں کرسیاں لگا کر روڈ کو یکطرفہ طور پر بند کر دیا گیا تھا جس کے نتیجے میں راولپنڈی کے شہریوں کو جلسے کے اختتام تک مسلسل مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اگر انتظامیہ نے مری روڈ پر جلسے کی اجازت دی ہے تو یقینا وزیراعلیٰ کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے اور اگر یہ سارا اہتمام کسی اجازت کے بغیر ہوا ہے تو انتظامیہ کو قانون کے تحت کارروائی کرنی چاہیے راولپنڈی  شہر اور چھائونی کے لاکھوں شہریوں کو مسلسل آٹھ گھنٹے تک ٹریفک کی جن مشکلات سے دوچار ہونا پڑا اگر ذمہ داری اور دانشمندی سے کام لیا جاتا تو انہیں ان مشکلات سے محفوظ رکھا جاسکتا تھا ہم حیران ہیں کہ جماعت اسلامی نے مری روڈ کو جلسے کے لئے کیوں منتخب کیا وہ ایک منظم جماعت ہے اور اس کی تنظمیں  پارٹی کے ایک حکم پر بھرپور ریلیوں کا اہتمام کر سکتی ہیں اسے اپنے جلسوں کی رونق کے لئے مصروف شاہراہوں پر ٹریفک بند کرنے کی ضرورت نہیں ہے اس کے اس اقدام سے لاکھوں شہریوں عورتوں اور بچوں کو شدید پریشانی سے دوچار کیا اگر اجتماع کرنا ہی مقصود تھا تو فیض آباد کے قریب پریڈ گرائونڈ میں یہ شوق پورا کیا جاسکتا تھا۔ جہاں تک احتساب مارچ کے جواز کا معاملہ ہے سنجیدہ اور فہمیدہ حلقوں نے اسے ایک بلاجواز مہم جوئی سے تعبیر کیا ہے جماعت اسلامی پانامہ کیس کے معاملے میں سپریم کورٹ میں درخواست دہندہ اور مدعی تھی بلاشبہ اس طرح اس نے احتساب کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا اسے عدلیہ کے ذریعے اس باب میں مزید کردار ادا کرنا ہے اور پانامہ فہرست میں شامل  تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہے یہ کام جلوسوں اور مارچ کے ذریعے انجام نہیں دیاجاسکتا۔ اس ضمن میں یہ لازم ہے کہ ملک کی جو معروف شخصیات اس فہرست میں  شامل ہیں چاہے ان کا تعلق عدلیہ سے ہے سیاست' بیورو کریسی یا تاجر برادری سے اسے ان کے خلاف کارروائی کے لئے جدوجہد کرنی ہے۔ یہ جدوجہد مارچ یا جلسے کے ذریعے ممکن نہیں ہے بہت سے حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی نے احتساب مارچ کے ذریعے وقت اور سرمائے کا زیاں کیا ہے اسے احتساب کے ضمن میں پہلے کی طرح ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں' جماعت اسلامی کے امیر انسانی حقوق کا شدت سے ذکر کرتے ہیں لیکن  مری روڈ پر جلسے کا فیصلہ کرکے انہوں نے راولپنڈی کے لاکھوں شہریوں کے انسانی حقوق پامال کئے ہیں انہیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ان کی پارٹی نے اس ضمن میں غلط اقدام کیا ان کی پارٹی کو راولپنڈی کے عوام سے معذرت کرنی چاہیے۔


Read more

13 September 2017

''امریکی رویے دہشتگردی کیخلاف کوششوں کے لئے نقصان دہ ہیں''

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے رائٹرز سے انٹرویو کے دوران پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے حقیقت پسندانہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پر پابندیاں لگانے اور پاکستان کی فوجی امداد مزید کم کرنے سے امریکہ کا نقصان ہوگا اس سے دونوں ممالک کی عسکریت پسندی کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچے گا  پاکستان کو چین اور روس سے مجبوراً ہتھیار خریدنے پڑیں گے وزیراعظم نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس عہدیداروں پر پابندیاں انسداد دہشت گردی کی امریکی کاوشوں کے لئے مددگار ثابت نہیں ہوں گی ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کر رہے ہیں ہماری کاوشوں کو حقیر کرنے والے کسی بھی اقدام کا نقصان امریکی کوششوں کو ہوگا پاکستان کے فنڈز روکنے سے امریکہ اپنے انسداد دہشت گردی کے مقاصد حاصل نہیں کر سکے گا ہمیں جو کچھ بھی کرنا ہے اس کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہوگی فوجی امداد کم کرنے اور سستے ایف سولہ طیاروں کی فروخت روکنے پر پاکستان چین اور روس سے ہتھیار خریدنے پر مجبور  ہو جائے گا ہمیں اپنی دفاعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے دیگر آپشنز کی جانب دیکھنا پڑے گا انہوں نے کہا کہ افغانستان میں مسائل کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دینا غیر منصفانہ ہوگا امریکہ کو دہشت گردی کے باعث پاکستان کے نقصانات اور 35لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کے پاکستانی کردار کا اعتراف کرنا چاہیے افغانستان کے دہشت گرد پاکستان میں سویلین اور فوجیوں پر حملے کرتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کئی ارب ڈالر کی لاگت سے 2500کلو میٹر سرحد پر باڑ لگا رہا ہے تاکہ صورتحال کو کنٹرول کیا جاسکے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پاس دوبارہ جانے سے بچنے کے لئے اپنے کرنٹ اکائونٹ پر موجود دبائو کو کم کرنے کے لئے بھی اقدامات کر رہا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکہ کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں پاکستان کی جو معاونت کی جاتی تھی وہ کسی قسم کی خصوصی مدد نہ تھی بلکہ دہشت گردی کو مشترکہ  کاذ قرار دیتے ہوئے یہ طے پایا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی  کے خلاف کارروائیوں کے اخراجات فراہم کئے جائیں گے اور یہ مسئلہ کئی برسوں سے جاری تھا اب بعض ادائیگیوں کے بعد 35کروڑ ڈالر کی رقم روک دی گئی ہے  اور یہ ڈرامہ رچایا جارہا ہے کہ امریکہ کے وزیر دفاع جب یہ سرٹیفکیٹ جاری کریں گے کہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی ہے  تب ہی یہ رقم جاری کی جائے گی جبکہ پاکستان کا موقف ہے کہ اس نے بلاتخصیص تمام دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ہے اور کسی گروپ کو تحفظ فراہم نہیں کیا مگر امریکہ نے مذکورہ رقم کو روکنے کے لئے یہ اعتراض کر دیا ہے اس ضمن میں صاف اور سیدھی بات یہی ہے کہ اگر امریکہ آئندہ کے لئے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے اخراجات ادا نہیں کرتا تو اس کا مطلب یہی ہے کہ  اب اسے انسداد دہشت گردی کے کاذ سے کوئی سروکار نہیں ہے افغانستان میں مزید چار ہزار فوج بھیجنے کا اعلان بھی یہی واضح کرتا ہے جہاں ایک لاکھ فوج امن قائم نہ کر سکی وہاں دس بارہ ہزار امریکی فوج کیسے کوئی معجزہ دکھا سکے گی' وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بجا طور پر کہا ہے کہ اگر امریکہ کا رویہ یہی رہا تو انسداد دہشت گردی کے اس کے کاذ کو شدید نقصان پہنچے گا پاکستان سے فوجی تعاون پر امریکی پابندی پاکستان کے لئے کسی صورت پریشان کن نہیں ہوسکتی اسے بہرصورت اپنی دفاعی ضرورتوں کو پورا کرنا ہے اگر یہ ضرورتیں امریکہ پوری نہیں کر ے گا تو پاکستان کسی دوسرے ملک سے خریداری کر سکتا ہے اس کا دیرینہ دوست چین یہ ضرورت پوری کر سکتا ہے جبکہ روس بھی اب پاکستان کے دوستوں میں شامل ہے اس سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے ہماری دانست میں امریکہ سے دفاعی سازوسامان یا طیاروں کی خریداری  مسئلہ نہیں  اہم مسئلہ دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو جاری رکھنے اور انہیں نتیجہ خیز بنانے کا ہے افغانستان کا امن مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے اس حقیقت کو جب تک امریکہ تسلیم نہیں کرے گا بہتری کی جانب پیش رفت نہیں ہوسکتی اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے پہلے اسے یہ بات بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ طاقت کے استعمال سے وہ امن بحال کرنے میں ناکام رہا ہے۔


Read more

خیبرپختون خوا حکومت کی ڈینگی کے خلاف کارکردگی بدترین قرار

ہائی کورٹ نے ڈینگی سے نمٹنے میں خیبرپختون خوا حکومت کی کارکردگی کو بدترین قرار دے دیا۔پشاور ہائی کورٹ میں ڈینگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی اور عدالت نے تاخیر سے پہنچنے پر ڈپٹی کمشنر پر برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس قیصر رشید نے اپنے ریمارکس میں ڈینگی پر قابو پانے میں صوبائی محکمہ صحت کی کارکردگی کو بدترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کرکے انسانی جانوں پہ ظلم کیا گیا۔سیکرٹری صحت عابد مجید نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ صحت ڈینگی پر قابو پانے کے لیے زیادہ سے زیادہ کام کر رہا ہے اور تمام اسپتالوں میں بروقت علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے تاہم ڈینگی کا مچھر پانچ سال تک ختم نہیں کیا جاسکتا۔ڈپٹی کمشنر ثاقب رضا اسلم نے بتایا کہ 21 اگست سے ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کمی آئی ہے، متاثرہ علاقوں میں اسپرے کیا جا رہا ہے، ہم نے پنجاب سے تعاون مانگا تھا کہ ہماری کارکردگی کو جانچا جائے، وفاقی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ہماری کوششوں سے مرض کم ہوا۔عدالت نے حکم دیا کہ ڈینگی کے خاتمے کے لیے جہاں سے مدد مل سکتی ہے لی جائے، خیبر پختونخوا نے دہشت گردی کی وجہ سے بہت نقصان اٹھایا اب یہاں کے عوام ڈینگی سے متاثر ہو رہے ہیں، انہیں مزید تکلیف سے بچایا جائے، اگلے سال ڈینگی کی روک تھام کے لیے ابھی سے کوشش شروع کی جائے اور فنڈز مختص کیے جائیں، ڈینگی کے لاروا کو تلف کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، مساجد اور گھروں میں لوگوں کو اس حوالے سے شعور آگاہی فراہم کی جائے۔

Read more

پی ٹی آئی کی (ن)لیگ اور پی پی کو فارن فنڈنگ پارٹیاں قرار دینے کے لیے درخواست

پاکستان تحریک انصاف نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو فارن فنڈنگ پارٹیاں قرار دینے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کردی ہیں۔منگل کے روز تحریک انصاف کے رہنماں نے مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلزپارٹی کے غیر ملکی فنڈز پر اعتراضات اٹھائے ہوئے دو الگ الگ درخواسیں عدالت عظمی میں دائر کیں۔ تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے(ن)لیگ کے خلاف اور شیریں مزاری نے پیپلزپارٹی کیخلاف درخواست جمع کروائی۔درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی نے غیر ملکی اور ممنوعہ ذرائع سے فنڈز حاصل کئے، نواز شریف نے (ن) لیگ کو دس کروڑ روپے کے فنڈز دیئے اور چار کروڑ واپس لئے تاہم (ن)لیگ کی الیکشن کمیشن میں جمع تفصیلات میں ان فنڈز کا ذکر نہیں جب کہ پیپلزپارٹی نے پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے  فنڈز لئے ہیں لیکن اس سے متعلق الیکشن کمیشن کو آگاہ ہی نہیں کیا گیا۔درخواستوں میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ دونوں جماعتوں کو فارن فنڈڈ پارٹیاں قرار دے اور الیکشن کمیشن کو دونوں جماعتوں کے فنڈز کی تحقیقات اور انتخابی نشان واپس لینے کا حکم دے۔



Read more

پاناما نظرثانی کیس کی سماعت کے لئے 5 رکنی لارجر بنچ تشکیل

پاناما کیس پر نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت پر جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔پاناما لیکس پرنااہل کئے گئے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کی جانب سے دی گئی پہلی درخواست سپریم کورٹ میں منظور کرلی گئی ہے اورنظرثانی کی درخواستوں کی سماعت پر 5 رکنی لارجر بنچ بھی تشکیل دے دیا گیا ہے، بنچ کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کریں گے جب کہ دیگر میں جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت شیخ سعید، جسٹس اعجازلاحسن اور جسٹس گلزار بھی شامل ہیں، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی جانب سے  تشکیل دیا گیا 5 رکنی بنچ کل نظرثانی درخواستوں کی سماعت کرے گا۔آج سپریم کورٹ میں شریف خاندان کی جانب سے نظرثانی درخواست کی سماعت 3 رکنی بنچ نے کی۔ مریم نواز کے وکیل سلمان اکرم راجا نے سماعت مخر کرنے کی درخواست پردلائل دیتے ہوئے کہا کہ لارجر بنچ کے فیصلے کے خلاف علیحدہ درخواست دی گئی ہے 5 رکنی بنچ کے فیصلے کو بھی اسی درخواست کے ساتھ سنا جائے۔ بنچ کے سربراہ جسٹس اعجازافضل نے ریمارکس دیئے کہ نظر ثانی درخواست سن کر ہم نے ذہن تبدیل کیا ہے تو 5 رکنی بنچ کا فیصلہ بھی تبدیل ہوجائے گا۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ پہلے تکنیکی جائزہ لے رہے ہیں پھر میرٹ پر کیس سن لیں گے۔نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے بھی مقف پیش کیا کہ اصل حکم فائنل آرڈر آف دی کورٹ تھا جو 5 رکنی بنچ نے جاری کیا اسی پرعملدرآمد ہورہا ہے اس کے خلاف اپیل بھی 5 رکنی بینچ میں سنی جائے۔عدالت نے نظرثانی درخواستوں کو 5 رکنی بینچ کے سامنے لگانے کی استدعا منظور کرتے ہوئے  3 رکنی اور 5 رکنی بینچوں کے فیصلوں کے خلاف تمام درخواستیں یکجا کرنے کا حکم دیا اور سماعت کل تک ملتوی کردی۔


Read more

پشاور ہائی کورٹ کا ایم ڈی خیبر بینک کی بر طرفی روکنے کا حکم

ہائی کورٹ نے ایم ڈی خیبر بینک کی بر طرفی روکنے کا حکم دیتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت سے جواب طلب کرلیا۔پشاور ہائی کورٹ میں ایم ڈی خیبر بینک کی برطرفی حوالے کیس کی سماعت ہوئی، سماعت کے موقع پر درخواست گزار کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ برطرفی کا نوٹس غیرآئینی اور غیر قانونی ہے،  3 سالہ بہترین کارکردگی پرمدت ملازمت میں 2 سال کی توسیع دی جائے۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ایم ڈی کو یوں ہٹائے جانے کا اختیار حکومت کو ہے جب کہ کیا ایم ڈی کو وزیر خزانہ سے ناراضگی پر ہٹایا گیا جس پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ایم ڈی خیبربینک کو قانون کے مطابق برطرفی کا نوٹس دیا گیا۔عدالت نے ایم ڈی خیبر بینک کی بر طرفی کو روکنے کا حکم دیتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت سیجواب طلب کرلیا۔


Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30