Get Adobe Flash player

September 2017

11 September 2017

شریف خاندان کی 3شوگر ملز کی منتقلی غیر قانونی قرار

ہائی کورٹ نے شریف خاندان کی شوگر ملوں کی منتقلی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ منصور علی شاہ کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے شریف خاندان کی شوگرملوں کی منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت کی، عدالت نے شریف خاندان کی شوگرملوں کی منتقلی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتفاق شوگر مل، حسیب وقاص اور چوہدری شوگر مل کو قانون کے بر عکس منتقل کیا گیا لہذا شوگر ملز کو 3 ماہ کے اندر واپس منتقل کیا جائے۔واضح رہے کہ 2006 میں صوبے بھر میں نئی شوگر ملوں کے قیام اور اس کی ایک علاقے سے دوسرے علاقے منتقلی پر پابندی عائد کی گئی تھی تاہم 2015 میں وزیر اعلی پنجاب نے اس میں ترمیم کرتے ہوئے شوگر ملوں کی منتقلی پر سے پابندی اٹھالی تھی جس کے بعد ان ہی کے خاندان کی 3 شوگر ملیں وسطی پنجاب سے جنوبی پنجاب منتقل کی گئیں۔

Read more

بابائے قوم کی69ویں برسی؛سیاسی وعسکری شخصیات کی مزارقائد پرحاضری

بابائے ژقوم قائد اعظم محمد علی جناح کی 69ویں برسی کے موقع پر سیاسی و عسکری شخصیات نے مزار قائد پر حاضری دی ہے اور ان کے افکار پر عمل پیرا ہونے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی 69 ویں برسی کی مناسبت سیگورنر سندھ محمد زبیر، وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، میئر کراچی وسیم اختر اور ڈی جی رینجرزسندھ میجر جنرل محمد سعید سمیت اعلی سیاسی و عسکری شخصیات نے مزار قائد پر حاضری دی اور پھول چڑھائے۔  اس کے علاوہ  پاک بحریہ کے کیڈٹس کی جانب سے قرآن خوانی بھی کی گئی۔گورنر سندھ محمد زبیرنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج بابائے قوم کی برسی ہے یہاں حاضری دینا ہم سب کا فرض ہے۔آج  ملک کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے پاکستان بابائے قوم کے خواب پر پورا اتریگا، ملک کی ترقی کے لیے معاشی ترقی بہت اہم ہے، قائد اعظم نے جس طرح کا پاکستان سوچا تھا ہمیں اس پر کام کرنا ہوگا، ہم قائد اعظم کے اصولوں پر عمل کرکے ہی ملک کو امن کا گہوارہ بناسکتے ہیں ہم سب کو مل کر قائد کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے۔

Read more

وزیر اعلیٰ پنجاب کی آزادی کپ کیلئے سیکیورٹی کے جامع انتظامات کی ہدایت

وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے آزادی کپ کیلئے سیکورٹی کے جامع انتظامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ورلڈ الیون اورپاکستان الیون کے درمیان لاہور میں میچ بڑا مقابلہ ہیں اور انہیں کامیاب بنانے کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ وزیراعلی پنجاب محمدشہبازشریف نیلندن سیویڈیوکانفرنس کے ذریعے آزادی کپ دوہزارسترہ اورورلڈ الیون کے دورہ لاہورکے دوران سیکیورٹی کی صورتحال اوردیگرانتظامات کاجائزہ لیاگیا۔وزیراعلی نے کہاکہ پاکستان اورورلڈ الیون کے درمیان میچز کا انعقاد بڑا ایونٹ ہے جسے ہم سب نے مل کر کامیاب بناناہے۔انہوں نے کہاکہ کھلاڑیوں کو فول پروف سیکیورٹی یقینی بناکر پرامن اورپرسکون ماحول میں میچز کا انعقاد یقینی بنایاجائیگا ۔محمدشہباز شریف نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ ادارے اورمحکمے آپس میں قریبی رابطے میں رہیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ ٹریفک پلان اور متبادل راستوں سے عوام کو بھرپور آگاہی مہم فراہم کی جائے اورشائقین کرکٹ کوپارکنگ سے سٹیڈیم تک لانے اورباہر لے جانے کیلئے مفت شٹل سروس چلائی جائے ۔

 

 

Read more

11 September 2017

پاکستان کو لبرل ریاست بنانے کیلئے تجدید عہد کرنا ہوگا،زرداری

سابق صدرِ پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے یوم وفات کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج ہمیں اس عہد کی تجدید کرنی چاہیے کہ پاکستان کو ایک جمہوری، ترقی پسند، فلاحی اور لبرل ریاست بنائیں گے بجائے اس کے کہ پاکستان ایک ملائیت یا خوف کی ریاست بن جائے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی فلاح و بہبود ہی قومی اتحاد، سماجی ہمواری اور ملک کے تحفظ کی ضامن ہے۔ ہم آج اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ قائداعظم کے بتائے ہوئے اصولوں پر کاربند رہیں گے۔ آج ہمیں پہلے سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ عسکریت پسندی کی سوچ کو مسترد کر دیں اور درگزر، برداشت کو اختیار کریں اور مخالفت کی آواز برداشت کریں۔ عسکریت پسندی کی سوچ سے لڑنے کے لئے آزادی اظہار کو فروغ دیں جس کی ضمانت قانون دیتا ہے اور اس کی مدد سے ریاست کا متبادل بیانیہ بنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں آزادانہ تحقیقات اور بحث و مباحثہ صرف تعلیمی اداروں ہی میں نہیں بلکہ عام زندگی میں بھی رائج کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کے دن سابق صدر نے ان لوگوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے پاکستان کے قیام کے لئے قربانیاں دیں اور قیام پاکستان کے بعد ملک میں آئین اور جمہوریت کے لئے اور عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں قربانیاں پیش کیں

 

 

Read more

11 September 2017

عمران خان اداروں کے کندھوں پر سوار ہو کر سیاست کرنا چاہتے ہیں،طلال چوہدری

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان اداروں کے کندھوں پر سوار ہو کر سیاست کرنا چاہتا ہے' نواز شریف کے لئے اقتدار میں رہنا یا آنا کوئی مشکل نہیں' ایسا اقتدار چاہتے ہیں جس میں عوامی مرضی کے مطابق فیصلے ہوسکیں' اشتہاری اور آئین و قانون کے قاتل کوئی بھی نہیں پوچھتا' جو سہولتیں مشرف کو حاصل ہیں وہ اس کے مہروں کو بھی حاصل ہیں۔ اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ جی ٹی روڈ سے شروع ہونے والا نظریہ لاہور پہنچ چکا ہے ایسا اقتدار چاہئے جس میں فیصلہ کرنے کا اختیار ہو۔ محمد نواز شریف کے لئے اقتدار میں رہنا یا آنا کوئی مشکل نہیں۔ ایسا اقتدار چاہتے ہیں جس میں عوامی مرضی کے مطابق فیصلے ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی رائے مسترد ہونے کی وجہ سے پاکستان 1971 میں دو لخت ہوا۔ فیصلے سے نقصان محمد نواز شریف کا نہیں بلکہ پاکستان کا ہوا ہے۔اشتہاری اور آئین و قانون کے قاتل کو کوئی نہیں پوچھتا جو سہولتیں مشرف کو حاصل ہیں وہ اس کے مہروں کو بھی حاصل ہیں۔ طلال چوہدری نے کہا کہ نواز شریف پاکستان کے نظریے کو لیکر یہ جنگ لڑے گا۔ عمران خان اداروں کے کندھوں پر سوار ہو کر سیاست کرنا چاہتا ہے۔

 

 

Read more

11 September 2017

ق لیگ کا ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی حمایت کا اعلان

پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ میاں نوازشریف اور شہبازشریف دھاندلی سپیشلسٹ ہیں، این اے 120 کے الیکشن میں دھاندلی شہبازشریف اور ان کے ساتھیوں کو سانحہ ماڈل ٹائون میں سزا سے نہیں بچا سکتی، میڈیا ان کی انتخابی دھاندلیاں اور ہتھکنڈے رکوانے کیلئے بے نقاب کرے، پاکستان مسلم لیگ این اے 120 میں سینیٹر کامل علی آغا کی قیادت میں پی ٹی آئی امیدوار یاسمین راشد کی حمایت میں بھرپور مہم چلائے گی اور مسلم لیگی خواتین بھی بطور پولنگ ایجنٹ تعینات کی جائیں گی۔ وہ یہاں اپنی رہائش گاہ پر سابق گورنر چودھری سرور، میاں محمود الرشید، حامد معراج، میاں ماجد اور دیگر رہنمائوں پر مشتمل پی ٹی آئی کے رہنمائوں کے وفد سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ باہمی بات چیت میں پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ ایم این اے، سینیٹر کامل علی آغا، مونس الٰہی، میاں منیر بھی شریک تھے۔ چودھری پرویزالٰہی نے یقین ظاہر کیا کہ شہبازشریف اور سانحہ ماڈل ٹائون میں 14 بے گناہوں کے قتل میں ملوث دیگر ملزم اللہ تعالیٰ کے حضور اور دنیا کی عدالت میں سزا سے نہیں بچ سکیں گے، ہماری عدالتوں نے تاریخ رقم کی ہے، جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ شائع ہو گی اور شریف برادران سمیت تمام ملزم کیفر کردار تک ضرور پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کو سپورٹ کیا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ پوری اپوزیشن مل کر ان کے امیدوار کی حمایت کرے۔ انہوں نے میڈیا سے بھی کہا کہ الیکشن ڈے پر باالخصوص میڈیا کا بڑا کردار ہوگا کیونکہ ن لیگ دھاندلی کی ماسٹر ہے، دھاندلی کے بغیر آج تک انہوں نے کوئی الیکشن نہیں جیتا، شہبازشریف نے سانحہ ماڈل ٹائون پر خود باقر نجفی کمیشن بنایا تھا اس کی رپورٹ اس لیے دبا رہے ہیں کہ انہیں پھانسی کا پھندا نظر آتا ہے اور 14 بیگناہ افراد کو قتل کرنے کے بعد اب خوفزدہ ہیں۔ چودھری سرور نے پی ٹی آئی کے امیدوار کی حمایت پر چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویزالٰہی اور پاکستان مسلم لیگ سے دلی تشکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ نے حلقہ این اے 122 میں بھی ہماری رہنمائی اور بھرپور حمایت کی تھی، این اے 120 میں کامل علی آغا کا بڑا اثر و رسوخ ہے اور ہم چودھری پرویزالٰہی کے ممنون ہیں کہ انہوں نے ہماری درخواست پر کامل علی آغا کو ہمارے لیے انتخابی سرگرمیاں ادا کرنے کیلئے کہا اور مسلم لیگ کی سمجھدار پولنگ ایجنٹ خواتین بھی ہماری نمائندگی کریں گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ باقر نجفی کی رپورٹ فوری شائع کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ پری پول دھاندلی کے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے، الیکشن کمیشن ہماری شکایات پر توجہ نہیں دے رہا، 30 ہزار ایسے ووٹ ہیں جن کی شناخت نہیں ہو رہی، ایک ہی بلڈنگ میں 6 پولنگ سٹیشن بنا دئیے گئے ہیں، ہم نے اس پر ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے

 

 

Read more

11 September 2017

متحدہ ریاست ہائے امریکہ ۔۔۔اطہر مسعود وانی

گزشتہ سے پیوستہ
امریکہ میں آباد کاری اور وسائل کا استعمال:17ویں صدی میں یورپ سے بڑی تعداد میں لوگ نئی جگہوں پر آباد ہونے کے لئے مختلف خطوں کی جانب روانہ ہورہے تھے۔انگلینڈ نے سپین کو ہرا کر نئی سپر پاور ہونے کا مقام حاصل کر لیا۔1607میںامریکہ کے مشرقی علاقے میںپہلی انگلینڈ کی کالونی جیمز ٹائون کے نام سے قائم ہوئی جسے اب ورجینیا کہتے ہیں۔یہ امریکہ میں ایک نئی دنیا کی تعمیر کی ابتدا تھی۔ان کا کام برٹش کمپنی کے لئے پیسہ کمانا تھا۔ان شاندار وسیع علاقوں کا مالک کوئی نہیں تھا۔ان علاقوں میں14ہزار مقامی لوگ چھوٹی چھوٹی آبادیوں میں رہتے تھے۔ دریائوں اور ساحل کے ساتھ دو سو گائوں آباد تھے اور گھنے جنگلوں میں بڑے گھر واقع تھے۔وہ بینز اور مکئی اگاتے تھے۔یہ لوگ کسان اور شکاری تھے۔یہاں آباد کاروں کی امید کے برعکس سونا یا چاندی نہیں تھا۔صرف زمینیں اور وہاں کے لوگ تھے۔شروع میں آباد کار اور مقامی لوگ آپس میں کسی ٹکرائو کے بغیر رہتے رہے۔یہ سرزمین ایسے قدرتی وسائل سے مالا مال تھی جن کی یورپ میں کمی تھی۔ آباد کاروں کی طرف سے امریکہ کے دریائوں سے بڑے پیمانے پر مچھلیاں پکڑی جانے لگیں اور بڑی تعداد میں یہ مچھلیاں انگلینڈ ،سپین وغیرہ بھیجی جانے لگیں۔آباد کاروں نے دو سو سال میں امریکہ سے اتنا حاصل کر لیا جو یورپ میں ہزاروں سالوں میں حاصل کیا گیا تھا۔کئی جہاز زیادہ مچھلی کے وزن کی وجہ سے ڈوب جاتے۔اتنے وسیع پیمانے پر مچھلیوں کے شکار سے مچھلیوں کی افزائش پر نہایت برے اثرات مرتب ہونے لگے۔پیسوں کے لئے مچھلی خشک کر کے نمک میں رکھ کر بھی یورپ بھیجی جاتی تھی۔نہ ختم ہونے والے جنگلات یورپئینز کے لئے حیران کن تھے،کاشت کاری کے لئے جنگلات کے درخت کا صفایا کیا جانے لگا اور یہاں سے لکڑی بھی یورپ بھیجی جانے لگی۔درختوں کے وسیع پیمانے پر کٹائو سے 17ویں صدی میں کریبین اور اٹلانٹک آئی لینڈ کے وسیع علاقوں سے جنگلات کا مکمل صفایا ہو گیا۔ آباد کاروں کے گھروں میں دن رات ہر وقت ہر کمرے میں آگ جلتی رہتی تھی،جلانے کے علاوہ کاشت کاری اور تعمیرات کے لئے بھی تیزی سے درخت کاٹے جا رہے تھے۔یورپی لوگوں نے امریکہ کے وسائل لوٹ کر خطے کو بدل دیا اور ساتھ ہی اپنے ساتھ لائی چیزوں سے بھی امریکہ کو تبدیل کر دیا۔اپنی ملکیتی زمینوں کے خواہشمندیورپی لوگ بہتر زندگی کے لئے امریکہ کا رخ کرنے لگے۔ وہ مذہبی آزادی کے بھی متلاشی تھے۔ان کا یقین تھا کہ وہ اپنی کامیابیوں اور خوشیوں کے خود ذمہ دار ہیں۔پہلی بار آباد کاروں کے ساتھ عورتیں بھی امریکہ پہنچنے لگیں اور وہ اپنے ساتھ استعمال کی مختلف مزید اشیاء بھی لے کر آئیں۔وہ بھیڑیں،مرغیاں، پودے اور یورپی فصلوں کے بیج بھی ساتھ لائیں جو اس خطے کے لئے نیا تھا ۔انہوں نے کاشت کاری کے یورپی اوزاروں اور طریقوں سے زمینوں میں کاشت کاری شروع کی۔ ماحولیاتی تبدیلی وقوع پذیر ہونے لگی اورجلد ہی گندم اور دوسری یورپی فصلیں امریکہ میں بھی پیدا کی جانے لگیں۔ گائے کی طرح کے امریکی جانور بائیسن کی جگہ بیل گائے زیادہ نظر آنے لگیں۔مویشیوں کی تعداد یورپ کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑھنے لگی۔بیلوں کی آبادی بڑھنے سے امریکہ میں بیج مختلف زمینوں تک پھیلتے چلے گئے۔یورپی لوگوں کے لائے گئے جانور امریکہ میں تبدیلی کی ایک اہم بنیاد ثابت ہوئے اور ان کی آبادی مختلف حصوں میں پھیلتی چلی گئی۔آباد کاروں کے گھر لکڑی کے ستونوں کی دیواروں کے حصاروں میں قائم کئے گئے۔ان کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔گوشت امریکہ میں سستی ترین خوراک بن گئی۔ان کے پاس یورپ سے لایا گیا آتشی اسلحہ،ہتھیار ،اوزار تھے۔کاشت کاری وسیع ہوتی گئی،درخت کاٹ کر مزید علاقے کاشت کاری کے قابل بناتے ہوئے ہر قسم کے چیزیں اگائی جانے لگیں۔انہوں نے یورپی درخت بھی علاقے میں لگانے شروع کر دیئے۔یورپ سے لائے گئے پھلوں کے درخت بھی لگائے گئے۔یورپ کے پودے ،پھول لگانے سے امریکہ میں شہدکی پیداوار بھی شروع ہو گئی۔یورپی شہد کی مکھیاں بھی یہاں شہد پیدا کرنے لگیں جو مقامی شہد مکھیوں کی نسبت ہر قسم کے پھولوں سے شہد حاصل کر سکتی تھیں۔سیب کے باغات سے شمالی امریکہ میں سیب کی پیداواربڑی صنعت بن گئی،جس کاتخمینہ پانچ ملین ٹن سالانہ تھا۔یورپی پھل وغیرہ امریکہ میں اچھی پیداوار دینے لگے۔امریکہ سے ٹماٹر اور آلو وغیرہ کی یورپ آمد سے یورپ کے کھانوں میں نیا اضافہ ہوا۔امریکہ سے لائے گئے ٹماٹر اور آلو کی پیداوار یورپ میں تیزی سے ہونے لگی۔16صدی میں ٹماٹر یورپ کے اکثر حصوں میں پیدا کیا جانے لگا اورروس میں بھی ٹماٹر اگایا جانے لگا۔یورپ کے امرا میں چائے کے ساتھ چینی اور تمباکو سٹیٹس سمبل بن گیا۔تمباکو امریکہ سے ہی یورپ لایا جانے لگا اور آباد کاروں نے اس کی پیداوار یورپ بھیجنا وسیع پیمانے پر شروع کیا۔ یورپ کی طلب پوری کرنے کے لئے گنے اور تمباکو کی کاشت میں اضافہ ہونے لگا۔امریکہ کے ان کھیتوں میں کام کرنے کے لئے یورپ سے افریقی غلاموں کو بھی امریکہ لایا جانے لگا۔دس ملین افریقی غلام امریکہ لائے گئے۔ان افریقی غلاموں کے ذریعے یورپ کی طلب پوری کرنے کے لئے امریکہ میں گنا،گندم،تمباکو،چاول کی وسیع کاشت ہونے لگی۔18ویں صدی تک امریکہ کافی حد تک مکمل ہو گیا تھا۔نیو سپین اور نیو انگلینڈ کے علاقے پوری طرح مستحکم ہو گئے۔امریکہ میں آباد کار وں کی دولت میں اضافہ ہونے لگا۔اب امریکہ آنے والوں نے مغرب کا رخ کرنے کے لئے ریلوے لائین بچھانیاشروع کی۔اس طرف مزید زمینیں موجود تھیں۔اس نئے امریکہ کی تعمیر میں امریکہ کی تقریبا 90فیصد مقامی آبادی ہلاک کر دی گئی۔امریکہ یورپ کے تمام علاقوں سے امریکہ آئے آباد کاروں،دریافتیں کرنے والوں،نئی کالونیاں بنانے والوں کا ملک بن گیا۔ان میں افریقہ سے لائے گئے غلام بھی شامل تھے۔امریکہ میںشہری نظام کا قیام اور آزادی کی لہر:16ویں صدی کے ایک عشرے بعد امریکہ سے تمباکو انگلینڈ بھیجا گیا اور1619 میں ٹوبیکو انڈسٹری قائم ہوئی۔ اس کے بعد آباد کاروں کے لئے زمینوں کی ملکیت کو قانونی شکل دینا شروع ہوئی۔ حقوق ملکیت امریکی جمہوریت کی بنیاد قرار پائی۔ورجینیا میں دنیا کی پہلی قانون ساز اسمبلی قائم ہوئی۔ہائوس آف برٹرسز نامی اس اسمبلی نے اپنا پہلا قانون منظور کیا جس کے تحت جمہوری حکومت قائم کی گئی۔ورجینیا امریکہ کی دوسری کالونیوں کے لئے ایک مثال بن گئی۔اس اسمبلی کے ایک رکن پیٹرک ہنری نے اپنی مشہور تقریر میں کہا کہ مجھے یا تو آزادی دو یا موت۔1620 کے بعد امریکہ مختلف یورپی قوموں کے آباد کار لوگوں کے ملاپ کامجموعہ بن گیا۔مونٹیچوسس ریاست میں امریکہ کے مجموعی تصور، آزادی،انسانی حقوق،سیلف گورننس،تعلیم اور دانشوارانہ خیالات کا تصور اورقیام پر وان چڑھنے لگا۔مو نٹی چوسس ریاست میں 1700میں لندن کے احکامات کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔امریکہ میںسیلف گورنمنٹ کے قیام میں مونٹی چوسس نے قائدانہ کردار ادا کیا۔مونٹی چوسس نے چرچ اور حکومت کو الگ کرنے اور آزادی اظہار کے امریکی اصولوںکے قیام میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ اس پر دیگرکالونیوں نے بھی سیلف گورنمنٹ کے طریقوں پر غور شروع کیا۔ کالونی کے پروپرائٹر لارڈ بالٹی مو رنے کہا کہ کالونیوں کے آزاد لوگوں کو کسی بھی قانون سازی کا حق حاصل ہے اور آزاد آدمی وہ ہے جو قانون ساز اسمبلی کے رکن کے لئے ووٹ دینے کا حق رکھتا ہو ۔اسی دوران مقامی مسائل کے حوالے سے ٹائون میٹنگز کے اجلاسوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔جس میں لوگ اکٹھے ہو کر ٹیکسوں،تعلیم،عوامی قوانین اور عطیات کے لئے فیصلے کرتے اور بعد ازاں ان میں انقلاب کے امور بھی طے کئے جانے لگے۔1638 میں کلونئیل لیڈر ٹامس ہوکر نے کنٹیکی ٹائون کمیٹی اجلاس میں یہ تاریخی الفاظ کہے کہ ''ا تھارٹی کی بنیاد انسانوں کی آزادانہ مرضی پر منحصر ہیہر انسان آواز رکھتا ہے ،ووٹ کا حق رکھتا ہے''۔1669 میںکیرو لینیا کالونیوںکے پرو پرائیٹرز جان لاک نے بنیادی آئین تیار کیا،اس میں حکومت کے قیام کا طریقہ کار بتایا گیا۔118سال بعد یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ نے حکومت کی تشکیل کے طریقہ کار کی منظوری دی گئی۔کیرولینیا کے بنیادی آئین کی پیروی میں 1680میں ولیم پینز پینس نے حکومت کی تشکیل کے حوالے سے ایک بلو پرنٹ تیار کیا جس میں حکومت کی تشکیل پر عائد شرائط شامل تھیں۔18ویں صدی کے آغاز میں تمام انگلش کالونیوں میں عوامی نمائندہ حکومتیں قائم تھیں۔برٹش پارلیمنٹ نے امریکہ پر کنٹرول کی کوشش کی لیکن امریکی کالونیوں میں ایک نئی طرز کے سیلف رول کا تصور مضبوط ہو رہا تھا جو لوگوں کے جمہوری حقوق پر مشتمل تھا۔(جاری ہے)

Read more

11 September 2017

برمی مسلمانوں کی پکار ۔۔۔ محمد طاہر رانا

وہ انتہائی سفاک انسان ہوگا جو برما کی موجودہ صورتحال پر غمگین اور مضطرب نہ ہوا ہو، انسانیت کی ایسی تذلیل کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی ،بدھ مت کے پیروکاروں نے ظلم و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے، مظلوم روہنگیاکے مسلمان اپنے ہیں گھر میں بے گھر ہو کر رہ گئے ہیں ، درندہ صفت بدھ بھکشو مذہبی انتہا پسندی میں اس حد تک گر چکے ہیں کہ نہ تو کسی عورت کے تقدس کا خیال رکھا جا رہا ہے نہ ہی شیر خوار بچوں اور بزرگوں کا ، انسانیت کا جنازہ نکل چکا ہے ، روہنگیا مسلمانوں کی آہ و بکا جاری ہے جبکہ دوسری طرف  اقوام متحدہ، عالمی میڈیا، او ائی سی ، اسلامی اتحاد اور نام نہاد انسانیت کے علمبردار ممالک خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں ۔ اس صورتحال کو سمجھنے کیلئے ہمیں برما کی تاریخ پر نظر دوڑانی پڑیگی ،برما جسے میانمار کہا جاتا ہے، بدھ مت کے پیرو کاروں کا ملک ہے ، اراکان اس کا ایک صوبہ ہے جو بیس ہزار مربع میل پر مشتمل مسلم اکثریتی علاقہ ہے ،جہاں تقریبا 30 لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں۔ بد ھ مت کے پیروکاروں کا کہنا  ہیکہ مسلمان برما میں باہر سے آئے ہیںاور انہیں برما سے بالکل اسی طرح ختم کر دیں گے جس طرح اسپین سے عیسائیوںنے مسلمانوں کو ختم کر دیا تھا۔ برما کا صوبہ اراکان وہ سر زمین ہے جہاں خلیفہ ہارون الرشید کے عہد خلافت میں یہاں مسلم تاجروں کے ذریعے اسلام پہنچا ۔ اسلام کی فطری تعلیمات سے متاثر ہوکر وہاں کی کثیر آبادی نے اسلام قبول کر لیااور ایک ایسی قوت بن گئے کہ 1430ء میں سلیمان شاہ کے ہاتھوں اسلامی حکومت تشکیل پائی ، اس ملک پر ساڑھے تین صدیوں تک مسلمانوں کی حکومت رہی ، مسجدیں بنائی گئیں ، قرآنی حلقے قائم کئے گئے، مدارس جامعات کھولے گئے ان کی کرنسی پر  لا الٰہ الااللہ محمد رسول اللہ  کندہ ہوتا تھا، اراکان کے پڑوس میں برما تھا ،جہاں بدھسٹوں کی حکومت تھی۔ مسلم حکمرانی بدھسٹوں کو ایک آنکھ نہ بھائی اور انہوں نے 1784 ء میں اراکان پر حملہ کر کے قبضہ جمایا  اور اسے برما میں ضم کر دیا اور نام بدل کر میانمار رکھ دیا، 1824ء سے 1938ء برما انگریزوں کے زیر تسلط رہا ۔ 1938ء میں انگریزوں سے برما نے خودمختاری حاصل کر کے مسلم مٹائو پالیسی کے تحت اسلامی شناخت کو مٹانے کی پالیسی پر گامزن ہوئے۔ برماکے ناقابل برداشت تشدد کے باعث لاکھوں مسلمان ہجرت پر مجبور ہو گئے اور ہمسایہ ممالک بنگلہ دیش ، سعودی عرب اور پاکستان میں آباد ہوئے۔1982ء میں اراکان کے مسلمانوں کو حق شہریت سے محروم کر دیا گیا، اس اقدام سے ان کی نسبت کسی ملک سے نہ رہی ، گزشتہ ساٹھ سالوں سے اراکان کے مسلمان ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے ہیں ، انکے بچے ننگے بدن ،ننگے پیر،بوسیدہ کپڑے زیب تن کئے قابل رحم حالت میں دکھائی دیتے ہیں۔ برما کے مسلمانوں پر مظالم کا یہ سلسلہ ایک مرتبہ پھر زور پکڑ چکا ہے ، روہنگیا اپنے ہی ملک میں بے گھر اور بے ریاست ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں ،یعنی وہ دنیا کے ان بد قسمت اقلیتوں میں شامل ہو گئے جو اس کرہ ارض پر تو رہتے ہیں لیکن قانونی طور پر کسی بھی ملک کے شہری نہیں ہیں، میانمار میں جون کے اوائل سے شروع ہونے والی پر تشدد کاروائیوں کی نئی لہر نے دنیا میں کہرام برپا کر دیا ہے۔برما کے صدر تھین سین نے واضح کر دیا ہیکہ روہنگیا کے مسلمانوں کو کسی تیسرے ملک میں آباد کرنا چاہتے ہیں اور وہ انہیں برما میں رہنے کی اجازت نہیں دیتے ، یاد رہے کہ اگر برما تمام مسلمانو ں کو ملک سے نکال باہر کر دیتا ہے تو یہ اسپین کے بعد دوسرا اسلامی ملک ہوگا جہاں سے مسلمانوں کو بزور ختم کر دیا جائیگا۔ انسان نما درندوں نے برمی فوج کے ساتھ مل کر کئی بستیوں کو جلا کر خاکستر کر دیا ہے، 4000 گھروں کو مسمار کر دیا ہے ، 25 ہزار سے زائد مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹ چکے ہیں ، لاکھوں مسلمان ہجرت پر مجبور ہوکر بری اور بحری راستوں سے بنگلہ دیش میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں ، مسلمانوں کی قاتلہ حکمران حسینہ واجد نے داخلے پر پابندی لگا دی ، جبکہ مسلمانوں کا قتل عا م جاری ہے، عالمی میڈیا اور انصاف کے دعوے دار ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں ، مسلمانوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس قتل عام کو منظر عام پر لایا تب مسلم حکومتوں نے بھی تشویش ظاہر کی ، مگر ہم اس موقع پر مسلم دنیا کے ٹائیگر طیب اردگان کو سیلوٹ پیش کرتے ہیں جس نے روہنگیا کے مظلوموں کی داد رسی کیلئے آواز بلند کی ۔آج مسلم دنیا کے حکمران مادی ترقی کیلئے برق رفتاری پر مشتمل پالیسیاں تشکیل دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں، آج ہماری تلواریں جنگوں کے بجائے رقصوں میں لہراتی نظر آتی ہے ، ہماری مضبوط و مربوط ، مستقل اور موثر خارجہ پالیسی نہ ہونے کے باعث آج عالمی طاقتوں کے درمیان ہماری پوزیشن دھوبی کے کتے کے مصداق ہے۔ اگر ہمارے تعلقات امریکہ کے ساتھ نا خوشگوار ہیں تو وہاں پاک چین دوستی پوری دنیا کیلئے ایک مثال ہے۔ایسے موقع پر ہم سمجھتے ہیں کہ چین واحد ملک ہے جو برما کی پالیسیوں پر صحیح معنوں میں اثر انداز ہو سکتا ہے، سفارتی کوششوں میں اس پہلو کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ کاشغر تا گوادر پاک چین راہداری کے بارے میں تو ہم بہت جانتے ہیں لیکن چین کی ایک اور راہداری چین ،برما ، بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان بھی ہے یہ راہداریاں مکمل ہوں تو یہ پورا خطہ ایک تجارتی زنجیر میں بندھ جائیگا، ان بڑے منصوبوں کی تکمیل کیلئے علاقائی امن کی شدید ضرورت ہے ، چین کو اس صورتحال پر غیر جانبدار پالیسی کو ترک کر کے عملی کردار ادا کرنا ہوگا ۔سعودی عرب اور خلیجی ریاستیں اگر روہنگیا کے مسلمانوں کیلئے مجاہدانہ کردار ادا نہیں کر سکتے تو کم از کم ہندوستان اور برما کے ساتھ تجارتی تعلقات فوری طور پر منقطع کر دیں۔پاکستان بے بسی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ترک ، ایران اور مالدیپ کی طرح دلیرانہ موقف اختیار کرے اور چین کی عالمی اثر رسوخ کو استعمال کرتے  ہوئے روہنگیا کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا سدباب و تدارک کرے ،  روہنگیا کے مسلمانوں کو زیادہ دیر شہریت کے حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا ۔کیونکہ وہ سینکڑوں سالوں سے میانمار میں آباد ہیںاور عالمی قوانین کے تحت انکو برما کا شہری تسلیم کیا جائے اور فوری طور پر ظلم و بربریت کا یہ سلسلہ روکا جائے،مظلوم، نہتے ، بے گھر اور روہنگیا کے مہاجرین کو محفوظ ٹھکانا فراہم کرنے کیلئے عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے،  ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ہمسایہ ممالک نہ صرف غذائی اخراجات برداشت کریں بلکہ روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کیلئے اپنی سرحدوں کے دروازے کھول دے ۔چونکہ آج دنیا ایسے دلدل میں پھنستی جا رہی ہے کہ کسی بھی ملک میں ایسے گھنائونے حالات پیدا ہو سکتے ہیں اور کسی بھی ملک کو دوسرے ملک کی ضرورت پڑ سکتی ہے، اسلامی ممالک پر مشتمل اسلامی اتحاد چپ کا روزہ توڑدے ، لادین تہذیبوں اور نظریات کی صبح و شام پرچار کرنے والا نام نہاد  اسلامی میڈیا روہنگیا کے مظالم کو دنیا کے سامنے  منظر عام پر لائے۔گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں برما کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ، جبکہ الخدمت فاونڈیشن پاکستان نے ترکی کے فلاحی اداروں TIKA اور حرات فاونڈیشن کے ساتھ مل کر روہنگیا کے مہاجرین کیلئے امداد کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جو کہ قابل ستائش ہے ، حکومت پاکستان اور دیگر فلاحی اداروں کو بھی اس موقع پر اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ۔


Read more

11 September 2017

خارجہ پالیسی تبدیل ہونے جارہی ؟۔۔۔ظہیر الدین بابر

 چین کی جانب سے ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کھل کر حمایت کرنا بلاشبہ خوش آئند ہے ، ایسے میں جب پاکستان کے خلاف علاقائی اور عالمی سطح پر محاذ بنایا جارہاچین ایک بار پھر پاکستانی موقف کی ترجمانی کرتا نظر آتا ہے۔ بیجنگ میں  وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا  کہ چین اور پاکستان اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ افغان مسئلے کو صرف سیاسی انداز میں حل کیا جاسکتا ہے اور اس کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔ اس موقع پر خواجہ آصف نے  چین کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی پاکستانی کوششوں کی حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔یقینا  کئی دہائیوں کے باوجود  پاک چین دوستی بے مثال اور قابل تقلید ہے۔ شائد چین ہی وہ واحد ملک ہے جس نے مشکل کی ہر گھڑی میں کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا ۔  اسی سبب سے  پاکستان ون چائنا پالیسی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔تاریخ اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے  پاکستان اور چین کے تعلقات مثالی  نوعیت کے ہیں ۔ شک نہیں کہ سی پیک کے اعلان کے بعد دونوں ملکوں  میں  تجارت،  اور دفاع سمیت کئی شبعوں میں تعاون کو فروغ دیا جارہا ہے۔ وزیر دفاع نے چین کا دورہ ایسے موقع پر کیاجب حال ہی میں دنیا کی ابھرتی ہوئی پانچ معاشی طاقتوں کی جانب سے بعض دہشت گرد گروہوں کے خلاف بھرپور کاروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ان میں لشکر طیبہ اورجیش محمد بارے تاثر یہی ہے کہ وہ پاکستان میں سرگرم عمل ہیں مگر ان کے خلاف خلاف  خاطر خواہ کاروائی نہیں کی جارہی۔ توقعات کے عین مطابق قومی میڈیا میں اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا  کہ بریکس میں چین کی شمولیت  کے باوجود  تنظیم کی جانب سے ایسا اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان کی دہشت گردی کے  خلاف ہونے والی کوششوں پر سوالات اٹھے۔ اس پر حیرت اور افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کے مثبت نتائج کی حوصلہ افزائی نہیںکی جارہی ۔ پاکستان کے اس موقف کو بھی نہیں سنا جارہا کہ  افغان مسئلے کا حل صرف بات چیت اور امن سے ممکن ہے یعنی میں خطے کے مفاد میں ہے۔نائن الیون کے بعد پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جس نے کم وبیش ستر ہزار جانوں کی قربانی دی۔اب تک جامع فوجی آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے  بھرپور کردار ادا کیا  جس کے مثبت نتائج ظاہر ہوئے۔  پاکستان نے انسداد دہشت گردی کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں اور بین الاقوامی برادری کو پاکستان کو ان کوششوں کے لیے مکمل کریڈٹ نہ دینا انصاف نہیں ہوگا۔ چین نے  پاکستان کی افغان پالیسی کی حمایت کا  پھر  اعادہ کیا۔ دراصل  بدلتی ہوئی علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال میں پاکستان اور چین کا ساتھ ساتھ کھڑا ہونا خود ان کے مفاد میں ہے۔  یہی وہ حکمت عملی ہے جس کی بدولت  پاک چین اسٹریٹیجک تعلقات کو مزید مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ چین اس حقیقت سے باخوبی آگاہ ہے کہ پاکستان کے خلاف حالیہ  مہم کا ایک مقصد سی پیک  کو ناکام بنانا بھی ہے۔  پاکستان اور چین کے بدخواہ باخوبی جانتے ہیں کہ سی پیک عظیم منصوبہ ہے جو خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے۔یقینا یہ پاکستان کی ناکامی ہے کہ انتہاپسندی کے خلاف کی جانے والی کوششوں کو عالمی سطح پر نہیں سراہا جارہا۔ یقینا یہ شکوہ بے  جا نہیں کہ  پاکستان اپنے   دوست ملکوں کو یہ باور کروانے میںکامیاب نہیںہوسکا کہ  دہشت گردی  مشترکہ مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی ۔ علاقائی اور عالمی طاقتوں کو  بھی نہیں بھولنا چاہے کہ اگر افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک جدید ترین ٹیکنالوجی اور وسائل کے باوجود طالبان کو شکست نہیں دے سکے تو پاکستان سے مثالی کارکردگی کی امید رکھنا ہرگز انصاف نہیں۔ یاد رکھنا ہوگا کہ  افغان قیادت پر مشتمل مصالحتی عمل ہی افغانستان میں امن کا ضامن ہے جس کے لیے پاکستان اور چین مشترکہ کوششیں بدستور کررہے ہیں۔ لازم ہے کہ امن کے عالمی ٹھیکیدار بھارت کو بھی بہتری کی جانب راغب کریں۔ افغانستان کو پاکستان کے خلاف سازشوں کے لیے استمال کرنے کی بجائے جنگ سے تباہ حال ملک میں امن وسکون لانا ہوگا۔پڑوسی ملک میں خرابیوں کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرنا ہرگز مسائل کا حل نہیں۔ روس افغانستان جنگ کے نتیجے میں ایک طرف پاکستان نے لاکھوںافغان مہاجرین کو اپنے ہاں خوش آمدیدکہا تو دوسری جانب انتہاپسندی کا عفریت بھی اس کے  گلے پڑگیا۔ پاکستان کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ  اقوام عالم   پاکستان کی خودمختاری،سیکیورٹی خدشات کا احترام کرے۔یہ سمجھنا نادانی کے سوا کچھ نہیں کہ پاکستان پڑوسی ملک میں امن نہیں چاہتا اس کے برعکس سچ یہ ہے کہ  افغانستان میں امن کی ضرورت کا احساس افغانستان سمیت پاکستان اور چین  کے لیے کسی طور پر  نعمت سے کم نہیں۔افغانستان اور جنوبی ایشیاء کے لیے نئی امریکی پالیسی کس حد تک  علاقائی امن و استحکام کی بحالی کے لیے سود مند ثابت ہوگی اس ضمن میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔ رواں سال کے آخر میں چین، پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کی پہلی ملاقات ہونے جارہی جس میںجہاں ایک دوسرے سے گلے شکوے کیے جائیں گے وہی باہمی تعاون کے لیے نئے راستے تلاش کیے جانے کی بھی امید ہے ۔ پاکستان جنوبی ایشیاء سمیت عالمی برداری کا اہم ملک ہے لہذا اسے نظرانداز کرنا کسی طور پر  علاقائی اور عالمی امن واستحکام کے لیے سودمند ثابت نہیںہونے والا۔


Read more

11 September 2017

پاکستان کے دشمنوں سے یارانہ۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 الطاف حسین نے کچھ عرصہ قبل پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی جس کی سارے پاکستان اور پوری دنیاکے محب وطن پاکستانیوں نے شدید مذمت کی۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا ،اکثر ہوتا تھا۔پھر مذمت، معافی اور اپنے الفاظ کی واپسی پر بات ختم ہو جاتی تھی۔پاکستان کے خلاف اتنی نفرت کا اظہار تو شاید بھارت نہیں کرتا جتنا نفرت کا اظہار قائد تحریک کرتا تھا۔کراچی کی سیاست ہمیشہ لسانی اور علاقائیت کی بنیاد پر تھی۔کہا جاتا تھا کہ الطاف حسین جنون یا مدہوشی کی کیفیت میں بات کر جاتے ہیں مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ الطاف حسین اسی جنون یا پھر مدہوشی کی کیفیت میں بھارت مردہ باد ، بھارت ''ناسور'' کہتے ہوں۔امریکہ ،برطانیہ اور اسرائیل کے خلاف بات کی ہو۔ اپنی ذات اور نظریات کے خلاف بات کی ہو۔پاکستان میں جنرل مشرف کے اقتدار کے دوران موصوف الطاف حسین برطانیہ سے بھارت ایک سیمینار میں شرکت کے لئے گئے تو بھارت کی مرکزی شاہراہوں پر الطاف حسین کی تصاویر لگائی گئیں، VIP پروٹوکول دیا گیا۔گزشتہ برس 22 اگست کو پاکستان مخالف اور اشتعال انگیز تقریر کرنے کے بعد ایم کیو ایم کی پاکستان میں موجود قیادت نے الطاف حسین سے علیحدگی اختیار کرلی تھی، اور تنظیم بظاہر دو حصوں پاکستان اور لندن میں تقسیم ہوگئی تھی۔ایم کیو ایم پاکستان مسلسل یہ باور کروانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اب یہ تسلیم کرلینا چاہئیے کہ ایم کیو ایم لندن ایک الگ جماعت ہے، جس سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ایم کیو ایم لندن کے الطاف حسین  اب بھی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی سے باز نہیں آتے۔ وقتاً فوقتاً پاکستان مخالف بیان داغتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے دشمنوں سے ان کا بہت یارانہ ہے ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی اگست کے مہینے میں  متحدہ قومی موومنٹ لندن کے سربراہ الطاف حسین کی ایم کیو ایم کے انٹرنیشنل سیکرٹریٹ میں پاکستان مخالف رکن کانگریس ڈانا روہرا باچر اور جلاوطن بلوچ رہنما خان آف قلات سے طویل ملاقات  اور ان کے ساتھ مشترکہ مقاصد کیلئے مل کر کام کرنے پر تبادلہ خیالات  ہے۔ جس کے بارے میں  ایم کیو ایم لندن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین نے کیلی فورنیا سے امریکی رکن کانگریس سے حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے بارے میں شکایت کی۔یہ ملاقات 4گھنٹے تک جاری رہی اور ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ایم کیو ایم  لندن کے ایک ترجمان نے بتایا کہ امریکی رکن کانگریس نے حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں پر افسوس کا اظہار کیا اور ایم کیو ایم کے قائد کو یقین دلایا کہ وہ یہ معاملہ امریکی کانگریس اور دوسرے فورمز پر اٹھائیں گے۔ترجمان نے یہ بھی انکشاف کیا  خان آف قلات بھی ملاقات میں موجود تھے اور انھوں نے مشترکہ مقاصد کیلئے مل کر کام کرنے سے اتفاق کیا۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ ہم خیال لوگ مستقبل میں مل جل کر کام کریں گے اور باہمی رابطوں میں اضافہ کریں گے۔ الطاف حسین کی یہ ملاقات ان کے بااعتماد ساتھی ندیم نصرت کی جون کے آخر میں واشنگٹن میں سینیٹر جان مک کین، رکن کانگریس ڈانا روہراباچر اور ٹیڈ پوئے سے مدد کے حصول سے ملاقات کے بعد ہوئی ہے۔ پاکستانی اخبار اور چینل میں اس ملاقات کی خبروں کی اشاعت کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے ایم کیو ایم لندن اور اپنے سابق ساتھیوں پر پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کرنے اور پاکستان مخالف عناصر سے ہاتھ ملانے کا الزام عائد کیا تھا۔ فاروق ستار نے واشنگٹن میں پاکستان امریکی سیاستدانوں سے ندیم نصرت کی ملاقات کو ایم کیو ایم لندن کے پاکستان دشمن ایجنڈے اور کا حصہ اور 22اگست کی الطاف حسین کی تقریر کا تسلسل قرار دیا تھا۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ندیم نصرت امریکہ میں پاکستان مخالف لابنگ میں مصروف ہیں لیکن ہم ایم کیو ایم لندن کو اردو بولنے والی کمیونٹی کے نام پر وہ کچھ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جو ایم کیو ایم لندن کر رہی ہے۔مہاجروں کے نمائندے اپنے ورکرز اور حامیوں کے ساتھ یہاں ہیں۔انھوں نے الطاف حسین کی جانب سے امریکی کانگریس سے پاکستان کی امداد روکنے کی اپیل کو احمقانہ اور مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔فاروق ستار کے اس بیان کا جواب دیتے ہوئے ندیم نصرت نے امریکی ارکان سیاستدانوں سے اپنی ملاقاتوں اور پاکستان کے خلاف مدد مانگنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ الطاف حسین کی 22اگست کی تقریر کے بعد ان کی تقاریر پر لگائی جانے والی پابندی اور ایم کیو ایم کے 3گروپوں میں تقسیم ہونے کے بعد اب ایم کیو ایم لندن کے پاس اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ ایم کیو ایم لندن نے حالیہ دنوں میں جلاوطن بلوچ گروپوں سے رابطہ کرکے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن کسی بھی معروف گروپ نے ان کو مثبت جواب نہیں دیا۔ اقوام متحدہ کی سطح پر مہم چلانے والے جلاوطن بلوچ رہنما مہران بلوچ نے کہا کہ ایم کیو ایم اپنے عروج کے دور میں کراچی میں رہنے والے بلوچوں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث رہی ہے اور بلوچوں کے خلاف متعصبانہ کارروائی کرتی رہی ہے۔ مہران بلوچ نے الزام لگایا کہ کراچی میں اپنے عروج کے دور میں ایم کیو ایم کراچی میں بلوچوں کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ انھوں نے اور دوسرے بلوچ رہنمائوں نے ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر کام کرنے سے انکار کر دیا لیکن ایم کیو ایم لندن نے خان آف قلات سے روابط استوار کرلئے ہیں جنھوں نے برطانیہ میں پناہ کی درخواست دی ہے اور پاکستان کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں لانے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں لیکن گزشتہ 10سال کے دوران ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ خان آف قلات اس سے قبل لندن میں امریکی ارکان کانگریس ڈانا روہراباچر اور ٹیڈ پوئے کے ساتھ پاکستان کے خلاف ایونٹ منعقد کرتے رہے ہیں۔الطاف حسین کا یارانہ اب تک بھارت ، امریکہ ، اسرائیل اور برطانیہ سے رہا ہے  اور وہ ہر فورم پر پاکستان، پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی نفرت کا نشانہ بناتے ہیں۔ان کو یہ عقل نہیں کہ ہمارے ازلی دشمن تو چاہتے ہی یہی ہیں کہ کوئی پاکستانی ان کے ہتھے چڑھے جس کے منہ میں وہ اپنی زبان بلوا سکیں۔ الطاف حسین نے  مختلف پریس کانفرنسوں میں بھارت ، امریکہ اور اسرائیل کی ترجمانی کی۔ہمیں چاہیے کہ نہ صرف الطاف حسین کے بیانات کی بھرپور مذمت کریں بلکہ ان کی ہرزہ سرائی کو روکنے کیلئے بھی اقدامات کریں۔

Read more

گزشتہ شمارے

<< < September 2017 > >>
Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat
          1 2
3 4 5 6 7 8 9
10 11 12 13 14 15 16
17 19 20 21 22 23
24 25 26 27 28 29 30