Get Adobe Flash player

سپاٹ فکسنگ ،معطل کھلاڑیوں کے نام ای سی ایل میں شامل

 وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سپاٹ فکسنگ میں ملوث تمام کرکٹرز کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالنے کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ سپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان کے بکیز کے خلاف بھی کارروائی کی جائے جو اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث ہیں، تفصیلات کے مطابق پیر کے روز وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے سپاٹ فکسنگ معاملے پر سخت ایکشن لیتے ہوئے کھلاڑیوں اور  بکیز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے، یہ فیصلہ چوہدری نثار علی کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس مین سیکریٹری داخلہ ایڈووکیٹ جنرل، نادرا، پی ٹی اے، ایف آئی اے اور وزارت داخلہ کے سینیئر افسران بھی شریک تھے، ای سی ایل پر ڈالنے والے کھلاڑیوں میں شرجیل خان، خالد لطیف، ناصر جمشید، شاہ زیب حسن خان اور محمد عرفان شامل ہیں،سپاٹ فکسنگ کے معاملے پر ایف آئی اے حکام کی جانب سے وزیر داخلہ کو آگا کیا گیا ہے کہ خالد لطیف اور محمد عرفان نے ایف آئی اے کواپنے بیانات ریکارڈ کرا دیئے ہیں جبکہ دیگر کھلاڑی آج منگل کو اپنے بیانات ریکارڈ کرائیں گے، اس کے علاوہ وزیر داخلہ نے پی ٹی اے حکام کو ہدایت جاری کے ہے کہ کرکٹ میں جوا لگانے اور اس کو فروغ دینے والی تمام ویب سائٹس کو بھی بند کرنے کے حوالے سے اقدامات کئے جائیں تاکہ اس گھناؤنے کاروبار کا سرباب کیا جائے، وزیر داخلہ نے ایف آئی اے کو بھی ہدایت کی ہے کہ سپاٹ فکسنگ معاملے  کو ہر پہلو سے شفاف اور غیر جانبدانہ تحقیقات کی جائے تاکہ پاکستان کا نام بدنام کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے، چوہدری نثار نے کہا کہ اس معاملے کی تفتیش میں زیرو ٹالرنس پالیسی اظہار کی جائے اور کسی بھی ملوث شخص کے ساتھ کسی بھی قسم کی رعایت نہ ہونی چاہئے، جبکہ ایف آئی اے حکام نے نادرا بلڈنگ پر بھی ہونی والی پیش رفت سے آگاہ کیا، وزیر دساخلہ چوہدری نثار نے نادرا حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ نادرا دفاتر کے لئے کوئی بھی عمارت کرایہ پر حاصل کرنے کی بجائے تعمیر کرنے کو ترجیح دی جائے،نادرا کو اپنی عمارتوں کے قیام کیلئے سرکاری زمینوں کی نشاندہی کرنی چاہئے اور عمارتوں کی تعمیر کیلئے مرحلوار بلڈنگ پلان ترتیب دیا جائے، اجلاس میں برطانوی ہوم سیکرٹری کے دورہ پاکستان کے سلسلے میں کیے جانے والے سیکیورٹی انتظامات اور دورے کے دوران امیگزیشن، کاؤنٹر ٹیررزم اور ہومن ٹریننگ جیسے مختلف امور میں تعاون کے فروغ کیلئے ممکنہ دوطرفہ معاہوں پر غور کیا گیا۔