Get Adobe Flash player

کش گنگا ڈیم پر ثالثی عدالتی کا پاکستان کے حق میں فیصلہ،عملدرامد کے منتظر ہیں،خواجہ آصف

 وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے سندھ طاس معاہدے پر پاک بھارت انڈس کمیشن کی سطح پر مذاکرات  کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات حکومت پاکستان کی کوششوں سے شروع ہوئے' کشن گنگا ڈیم پر ثالثی عدالت پاکستان کے حق میں فیصلہ دے چکی' عمل درآمد کے منتظر ہیں' پاکستان کو رتلے پاور پروجیکٹ کے ڈیزائن پر تحفظات ہیں' رتلے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ  پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات عالمی  بنک کی ثالثی میں 11,12 اور 13اپریل  کو امریکہ میں ہوں گے' امریکہ میں ہونے والے مذاکرات  سیکرٹری سطح کے ہوں گے' بھارت  سے سندھ طاس کمیشن کی سطح پر ہونے والے  دو روزہ مذاکرات میں پکل دل' لوئر کلنائی اور میار پاور پلانٹ کے ڈیزائن ' سیلاب کے پانی کے بہائو کا ڈیٹا فراہم کرنے' زیر تعمیر منصوبوں کے دوروں اور آئندہ اجلاسوں کی تاریخوں پر بات چیت ہوگی۔ ماضی میں کشن گنگا ڈیم پر تحفظات ثالثی عدالت میں  لے جانے میں تاخیر سے پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچا تاہم ہم نے رتلے ڈیم پر بروقت تحفظات اٹھائے  پوری امید ہے فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔ پاکستان کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ وہ پیر کو وزارت پانی و بجلی میں پاک بھارت سندھ طاس کمیشن کے دو روزہ مذاکرات کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔  انہوں نے کہا کہ  مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ حکومت پاکستان کی کاوشوں سے  سندھ طاس معاہدے پر بات چیت کا سلسلہ پھر سے شروع ہوگیا  ہے۔  یہ مذاکرات مارچ 2015  سے تعطل کا شکار ہوگئے تھے جب پاکستان کی جانب سے کشن گنگا اور رتلے پاور پراجیکٹ پر کمیشن کی سطح کے مذاکرات کو ناکام قرار دیتے ہوئے ثالثی کی طرف جانے کا عندیہ دیا گیا۔  14اور 15جولائی 2016 کو پاکستان کے سیکرٹری پانی و بجلی کے  بھارتی ہم منصب سے نیو دہلی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد پاکستان نے ان دو تنازعات پر ثالثی کا راستہ اپنایا۔ وزیر پانی و بجلی  نے کہا کہ  کشن گنگا پاور پراجیکٹ جس کو دریائے نیلم پر تعمیر کیا جارہا ہے پر ثالثی عدالت پاکستان کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے  جس پر پاکستان عمل درآمد کا تقاضا کررہا ہے۔ رتلے پاور پراجیکٹ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کے ڈیزائن پر بھی پاکستان کو تحفظات ہیں۔ ان دونوں تنازعات کو ثالثی کے لئے عالمی بینک کی سطح پر اٹھالیا گیا ہے۔  اس دوران پاکستان مسلسل کوشش کرتا رہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت دیگر معاملات پر بات چیت کو جاری رکھا جائے مگر بھارت کی ج انب سے اس پر اتفاق نہ ہوسکا انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی  ہے کہ بالآخر بھارت اب سندھ طاس معاہدے کے تحت کمیشن کی سطح کے مذاکرات  پھر سے شروع کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے ہم بھارتی حکومت کے اس فیصلے اور  بھارتی وفد کی پاکستان آمد کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ وزیر پانی و بجلی نے کہا کہ  پاکستان کا ہمیشہ  یہ موقف رہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ان چند عالمی معاہدوں میں سے  ایک ہے جو دو ملکوں کے مابین آبی ذخائر کے استعمال  سنجیدہ معاملات کو پرامن ذرائع سے طے کرنے کا طریقہ کار فراہم کرتا ہے اس معاہدے کی پاسداری اور اسکے ذریعے مسائل  کا حل دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ  سندھ طاس کمیشن کا بھارتی وفد پاکستان میںقیام کے دوران دو روزہ مذاکرات کرے گا بھارتی وفد کی قیادت بھارتی کمشنر پی کے سکسینہ کریں گے جبکہ پاکستانی کمشنر مرزا آصف بیگ پاکستانی وفد کی قیادت کریںگے۔ ان دو روزہ بات چیت میں تین مجوزہ پاور پلانٹ کے منصوبوں  پکل دل' لوئر کلنائی اور میار کے ڈیزائن پر بات چیت ہوگی اس کے علاوہ سیلاب کے پانی کے بہائو کا ڈیٹا فراہم کرنے اور زیر تعمیر منصوبوں کے دوروں اور آئندہ میٹنگوں کی تاریخوں پر بھی بات چیت ہوگی۔  ہمیں ان مذاکرات سے بہتری کی امید ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ رتلے پاور پراجیکٹ اور آبی تنازعات  پر پاکستان اور بھارت کے درمیان سیکرٹری کی سطح پر تین روزہ مذارکات عالمی بنک کی ثالثی  میں امریکہ میں ہوں گے ماضی میں کشن گنگا ڈیم کا معاملہ ثالثی  عدالت میں لے جانے میں دس سے بارہ سال کی تاخیر کی گئی جس  سے ہمارا موقف کمزور تا تاہم پھر بھی فیصلہ ہمارے حق میں  آیا اب رتلے ڈیم  پر ہم نے بروقت تمام سنگ میل عبور کئے ہیں اور تحفظات اٹھائے ہیں ہمارا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ڈیم کا ڈیزائن ہم سے شیئر کیا جائے اور اسے دیکھنے کے بعد پتا چلے گا کہ  ہمارے کیا کیا تحفظات ہیں ہمیں پوری امید ہے کہ رتلے ڈیم کا فیصلہ بھی پاکستان کے حق میں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ  ہم پاکستان کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے پاکستان نے  ہمیشہ  بھارت سے سندھ طاس سمیت ہر معاملے پر مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد پاکستان اور بھارت دونوں کے مفاد میں ہے کشن گنگا ڈیم  پاور پروجیکٹ  پر ہمارے تحفظات میں پانی کی کمی شامل نہیں تھا پانی واپس دریا میں آجاتا ہے تاہم ہمیں اس سے دس فیصد بجلی  کا نقصان ہوگا انہوں نے بتایا کہ نیلم جہلم پاور پروجیکٹ مارچ 2018 میں مکمل ہوگا۔