Get Adobe Flash player

نواز شریف آج بھی وزیر اعظم ہیں،آئندہ بھی رہینگے،شہباز شریف

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے جمعرات کو قصور کے گائوں فتح پور میںگندم کٹائی مہم 2017کا افتتاح کیا۔وزیراعلیٰ نے روایتی درانتی کے ساتھ گندم کاٹ کراور بعد میں ہارویسٹر چلا کر گندم کٹائی مہم 2017ء کا افتتاح کیا۔وزیراعلیٰ نے گندم کٹائی مہم کے افتتاح کے بعد وہاں موجود کاشتکاروںکو مبارکباد دی۔ وزیر اعلیٰ نے گندم کٹائی مہم 2017ء کے افتتاح کے بعد گاؤں میں موجود کاشتکاروں اورمیڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی سربراہی میںپاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ پہلے بھی کیاہے اور آئندہ بھی کریں گے۔میں گندم خریداری مہم کی ذاتی طورپرنگرانی کررہا ہوں اورکسی کو کاشتکاروں کا استحصال نہیں کرنے دوں گا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اورکسان بھائیوں کی محنت کے باعث رواں برس گندم کی شاندار فصل ہوئی ہے اورفی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوا ہے ۔میں کاشتکار بھائیوں کو ان کی شاندار کاوش اور محنت پر مبارکباد دیتا ہوں۔انہوںنے کہا کہ وزیراعظم محمد نوازشریف نے کسان بھائیوں کے لئے اربوں روپے کا کسان پیکیج دیااورکاشتکاروں کوخصوصی طورپر سبسڈی دی گئی جس کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہوچکے ہیں اورگندم کی شاندار فصل اس کا ثبوت ہے ۔کاشتکاروں کو گزشتہ برسوں آلو،چاول اورکپاس کی فصلو ںمیں نقصان ہوا تھا تاہم وزیراعظم نوازشریف نے کسان بھائیوںکی خلوص دل کے ساتھ مدد کی اورکاشتکاروں کو ریلیف دینے کے لئے اربوں روپے کا پیکیج دیا،جس کے تحت کھاد بھی کاشتکار کو سستی مل رہی ہے اوربجلی بھی۔وفاقی حکومت کی جانب سے کھاد پر دی جانے والی سبسڈی میں 50فی صد حصہ پنجاب حکومت نے ڈالا۔انہوںنے کہا کہ پنجاب حکومت نے چھوٹے کاشتکاروں کے لئے ایک سو ارب روپے کے بلاسود قرضوں کے پروگرام پر عملدر آمد شروع کردیا اور یہ بلاسود قرضے ساڑھے 12ایکڑ تک کے کاشتکاروں کو دیئے جارہے ہیں۔چھوٹے کاشتکارنے آج تک کسی بڑے بینک کی شکل بھی نہیں دیکھی اور کوئی انہیں قرضہ نہیں دیتا۔بینک صرف صنعتکاروں ،سرمایہ کاروں اورامیر لوگوں کو قرض دیتے ہیں ۔یہ پہلی بار ہے کہ چھوٹے کاشتکار کے مفادات کے تحفظ کے لئے پنجاب حکومت بلاسود قرضے دے رہی ہے ۔ان بلاسود قرضوں کا کاشتکاروں کو بے پناہ فائدہ ہوگااور انہیں فصلوں کی اچھی قیمت ملے گی۔کپاس کی پیداوار بڑھانے کیلئے نئے بیج لانے کے حوالے سے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے صوبائی وزیر خوراک اور سیکرٹری خوراک کو ہدایت کی کہ گندم خریداری  مہم کے دوران کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور باردانہ نہ ملنے کی کوئی شکایت سامنے نہیں آنی چاہیے۔اگر کسی نے کاشتکار کاحق مارنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔گندم خریداری مہم میں مڈل مین یا آڑھتی کو دور رکھا جائے۔ پنجاب حکومت نے رواں برس 40لاکھ ٹن گندم خریدنے کا ہدف مقررکیا ہے حالانکہ پنجاب حکومت کے پاس گندم کے اضافی ذخائر بھی پڑے ہیں تاہم ہم اضافی ذخائر کو جلد نکالیں گے خواہ اس کیلئے سبسڈی دینا پڑے۔