ایوان کی طرف سے سعودی عرب کو مذاکرات کی پیشکش

ایران کے عازمین حج کو اس بار سعودی حکومت کی طرف سے جو سہولتیں فراہم کی گئیں انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی مزید بہتری کا راستہ کھولا ہے چنانچہ ایران کی طرف سے سعودی حکومت کو مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق حج تنظیم کے سربراہ علی غازی عسکر نے ایرانی عازمین کے لئے الگ سے نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممالک کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو ڈائیلاگ اور مذاکرات کے ذریعے طے کریں ان کا مزید کہنا تھا کہ حج کے کامیاب انعقاد کے بعد دونوں فریقوں کے لئے یہ ایک اچھا وقت ہے کہ وہ دوسرے شعبوں میںاپنے دوطرفہ امور کو طے کرنے کے لئے مذاکرات کریں ادھر ایران کے وزیر خارجہ محمد جواذ ظریف نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک واضح تبدیلی کی تصویر کے منتظر ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سال 86 ہزار کے لگ بھگ ایرانیوں نے فریضہ حج ادا کیا اور سعودی حکومت کی طرف سے کئے گئے انتظامات کو بے حد سراہا۔ صدر ایران حسن روحانی نے کہا تھا کہ اس سال کسی ناخوشگوار واقعہ سے پاک حج سے تہران اور ریاض کے درمیان دوسرے شعبوں میں بھی اعتماد کی فصا پیدا کرنے  میں مدد مل سکتی ہے۔ ہماری دانست میں ایران کا مثبت رویہ اہم پیش رفت ہے ایران کی حج تنظیم کے سربراہ کے بیان سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک خوشگوار فضا پیدا  ہوئی ہے اس فضا کو دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے  لئے استعمال میں لایا جانا چاہیے ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی علامتی پیرائے میں خوبصورت بات کی ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ دونوں ممولک کے تعلقات میں ایک واضح تبدیلی کی تصویر کے منتظر ہیں گویا وہ امید کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے تعلقات بہتری کا رخ اختیار کریں گے ہمارے نزدیک سعودی عرب اور ایران کے درمیان خوشگوار تعلقات مسلم امہ کے مفاد میں ہیں جو دونوں ملکوں کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے مظہر ہیں  دونوں ملکوں کو یہ حقیقت اپنے پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اسلام دشمن طاقتیں مسلم ممالک میں اتحاد اور یکجہتی کے خلاف ہیں ان کا مفاد اسی میں ہے کہ مسلم ریاستیں متحد نہ ہوں ایک دوسرے سے برسرپیکار رہیں اور وہ ان کے وسائل لوٹتے رہیں اسلام اتحاد کا درس دیتا ہے اور مسلم ممالک کو اسلام کے اس اصول پر عمل پیرا ہونا چاہیے ہم توقع کرتے ہیں کہ سعودی حکومت کی طرف سے بھی ایران کے مثبت اور پرجوش جذبات کا خیر مقدم کیا جائے گا۔