بے نظیر قتل کے فیصلے کے خلاف پیپلزپارٹی کی اپیل یا انتخابی سیاست

سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بے نظیربھٹو قتل کیس سے متعلق انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے پیپلزپارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر کے مطابق فیصلے کے خلاف درخواست دائر کرنے کا فیصلہ بلاول ہائوس کراچی میں اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں کیا گیا سابق صدر نے سردار لطیف کھوسہ کو کیس  میں اپنا وکیل مقرر کیا ہے فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ اجلاس میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا کیس دوبارہ کھولنے کے ریفرنس پر بھی غور کیا گیا۔ یہ ریفرنس سابق صدر نے اپنے دور صدارت میں سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا بلاول زرداری اس ریفرنس میں فریق بنیں گے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جو فیصلہ دیا اگرچہ اس پر بہت سے تبصرے  منظر عام پر آئے ہیں اور پیپلزپارٹی نے بھی مذکورہ فیصلے کو مسترد کر دیا ہے لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ جب انسداد دہشت گردی کی عدالت میں کیس چل رہا تھا اور متعدد گواہ پیش ہو رہے تھے پیپلزپارٹی اس وقت کہاں تھی اس کے قائد اور دیگر  لیڈروں نے کیس میں اس وقت دلچسپی کیوں نہ لی اور عدالت سے تعاون کیوں نہ کیا اگر پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے دلچسپی لی ہوتی تو کیس کی صورتحال مختلف ہوتی اب محض سیاسی مقاصد کے لئے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے عام انتخابات چونکہ سات آٹھ ماہ کے فاصلے پر ہیں اس لئے شہید بے نظیر بھٹو کیس کی آڑ میں سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں کی جائیں گی پیپلزپارٹی پانچ سال اقتدار میں رہی ایوان صدر میں بی بی کے شوہر براجمان تھے انہوں نے شہید بی بی کے نام پر خوب سیاست کی مگر اس دوران ان کے قاتلوں تک پہنچنے کی ایک بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی اب ہائیکورٹ میں فیصلہ کے خلاف درخواست دائر کرنے کے پس منظر میں محض انتخابی سیاست کو مدنظر رکھا جارہا ہے ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل اور بے نظیر بھٹو کی شہادت کے نام پر پیپلزپارٹی کی قیادت پہلے ہی بھرپور سیاسی مقاصد حاصل کر چکی یہ اب مزید سیاسی مفادات حاصل نہیں ہوسکتے عوام بھی ان کے اس انداز سیاست سے آگاہ ہوچکے ہیں کرپشن اور مایوس کن کارکردگی کو چھپانے کے لئے یہ ہتھکنڈے اب کام نہیں دیں گے بلکہ عوام سیاسی جماعتوں کو الیکشن میں ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیں گے۔