عالمی کرکٹ بحالی، حکومت کی اہم کامیابی۔۔۔ضمیر نفیس

پاکستان میں ورلڈ الیون کے میچز کا فیصلہ عالمی کرکٹ کی بحالی کا اعلان ہے اس سے قبل پاکستان سپرلیگ کے مقابلوں نے عالمی کرکٹ کیلئے بھرپور راہ ہموار کی تھی ان میچوں میں بھی عالمی کھلاڑیوں نے شرکت کی تھی پاکستان کے عوام نے جس غیر معمولی جوش و خروش کے ساتھ ان میچوں میں شرکت کی اور جس طرح حکومت نے کھلاڑیوں اور شائقین کے تحفظ کے اقدامات کئے اس سے عالمی سطح پر ایک مثبت پیغام پہنچا چنانچہ اس کے بعد ورلڈ الیون کے میچوں کیلئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو زیادہ جدوجہد نہیں کرنی پڑی۔ اب ان میچوں کے بعد سری لنکا کی ٹیم کا دورہ متوقف ہے یہ امر قابل ذکر ہے کہ ورلڈ الیون میں سات ملکوں کے نامی گرامی کھلاڑی شامل ہیں قومی ٹیم کے ساتھ ورلڈ الیون کے تینوں ٹی ٹوئنٹی میچز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں منعقد ہوں گے حکومت نے مہمان ٹیم کو صدر مملکت کی سکیورٹی کے برابر سکیورٹی دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اسٹیڈیم اور اس کے ملحقہ علاقوں میں اضافی سی سی ٹی وی کمیرے نصب کئے جائیںگے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی دونوں کا موقف ہے کہ ہمیں کھیلوں اور ثقافتی پروگراموں کے ذریعے عالمی برادری کو پاکستان کا سافٹ چہرہ دکھانا ہے اور اس پر یہ واضح کرنا ہے کہ دہشتگردی کا شکار اس ملک نے دہشتگردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑ کے ملک میں امن بحال کیا ہے موقع کی مناسبت سے یہاں اس امر کا ذکر بھی ضروری ہے کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے ثقافتی ورثہ عرفان صدیقی نے عالمی اہل قلم کانفرنس سے لے کر خطاطی کے عالمی نمائش تک درجنوں پروگراموں کا انعقاد کیا ہے جن میں دنیا کے مختلف ممالک کے ادیبوں، دانشوروں اور مختلف فنون سے تعلق رکھنے والی ممتاز عالمی شخصیات نے شرکت کی ہے ان کاوشوں کے پس پردہ مقاصد بھی یہی تھے کہ عالمی برادری کو اس نئے پاکستان سے متعارف کرایا جائے جس نے دہشتگردی کے معاملے میں قربانیوں اور کامیابیوں کی ایک تاریخ رقم کی ہے اور امن و خوشحالی کے سفر کا تیز تر آغاز کیا ہے۔ورلڈ الیون کے میچوں کو بھی اپنی مقاصد کے پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے اگر بھارت تعاون کرتا تو بہت پہلے عالمی کرکٹ کی بحالی ہوسکتی تھی مگر بدقسمتی سے بھارت نے کھیلوں کے معاملے میں بھی تعصب پر مبنی سیاست کی اور دانستہ یہ تاثر دیا کہ پاکستان میں کھلاڑیوں کا تحفظ نہیں کیا جاسکتا جس ملک کے ساتھ ماضی میں کرکٹ ڈپلومسی چلتی رہی اس نے کرکٹ کے ذریعے اپنے مفادات کی سیاست کی پاکستان سپرلیگ کے میچوں کی زبردست کامیابی نے پوری دنیا کو پاکستان کی طرف متوجہ کیا اس کے بعد ایشین ٹرافی چمپئن کے مقابلوں میں پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر اپنے لئے مزید کشش پیدا کرلی نتیجہ ورلڈ الیون کے میچوں کے فیصلے کی صورت میں سامنے آیا۔عالمی سطح پر پاکستان میں امن و خوشحالی کے تیز تر سفر کا پیغام پہنچ چکا ہے یہی وجہ ہے کہ اس برس موسم گرما کے دوران سوات، ناران، مانسہرہ اور دیگر علاقوں میں ملکی اور عالمی سیاح اس طرح ٹوٹ کر آئے کہ ہوٹلوں کی تعداد کم پڑ گئی چنانچہ بہت سے ہوٹلوں نے اپنی حدود میں ٹینٹ لگا کر سیاحوں کیلئے رہائش کا بندوبست کیا سیاحوں کے اس نوعیت کے غیر معمولی رش کا یہ پہلا موقع تھا مقام شکر کہ لاکھوں کی تعداد میں سیاحوں نے محفوظ سیاحت کی اور کوئی معمولی سا بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔یاد رہے کہ ورلڈ الیون کے میچ 12,13اور 15ستبر کو لاہور میں کھیلے جائیں گے ورلڈ الیون کی ٹیم جنوبی افریقہ کے کپتان مناف ڈپلوسی کی قیادت میں اور قومی کرکٹ ٹیم سرفراز احمد کی قیادت میں سرمیدان ہوں گی مبصرین کے مطابق دونوں ٹیموں میں مضبوط کھلاڑی شامل ہیں اور شائقین کو بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔ادھر افغان لیگ کے میچوں کے معاملے میں سابق کپتان شاہد آفریدی کے این او سی کا معاملہ التواء میں ہے پی سی بی اور افغان بورڈ کے درمیان بات چیت اس وقت آگے نہ بڑھ سکی جب افغان بورڈ کی جانب سے پاکستان میں میچ کھیلنے سے انکار کیا گیا اس صورتحال میں جبکہ ورلڈ الیون پاکستان میں تین میچ کھیلتے جارہی ہے افغان بورڈ کا پاکستان میں میچ کھیلنے سے انکار کوئی استدلال نہیں رکھتا اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جس طرح بہت سے معاملوں میں افغانستان بھارت کی زبان بول رہا ہے اور نئی دہلی کی پالیسی کو لاگو کئے ہوئے ہے  اسی طرح پاکستان میں کرکٹ کے معاملے میں بھی اسکی پالیسی بھارت کے تابع ہے بھارت پاکستان میں میچ کھیلنے سے انکار کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اب افغانستان نے بھی یہی روش اختیار کرلی ہے شاہدآفریدی کیلئے لازم ہے کہ وہ اپنی افغان بورڈ کیلئے دستیابی کو پاکستان میں میچوں سے مشروط کردیں۔