ٹرمپ کی نئی پالیسی۔۔۔محمد امجد

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی نئی جنوبی ایشیاء پالیسی میں پرانی باتوں کو دہرا کر امریکی عوام اور دنیا کوایک مرتبہ پھر افغان ٹرک کی بتی پیچھے لگا دیا ہے۔ فورٹ میئر آرلنگٹن میں تقریبا آدھے گھنٹے تک کی تقریر میں صدر ٹرمپ نے پاکستان کے حوالے سے وہی گھسا پٹا  ڈو مور کا پرانا راگ الاپتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اپنے ملک سے ان تمام شر انگیزوں کا خاتمہ کرے جو وہاں پناہ لیتے ہیں اور امریکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر دیتے ہیں لیکن وہ دوسری جانب انھی دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں جو ہمارے دشمن ہیں۔ امریکہ اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں امریکہ کے اہداف بالکل واضح ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کا صفایا ہو۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 20 غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں پاکستان اور افغانستان میں کام کر رہی ہیں جو کہ دنیا میں کسی بھی جگہ سے زیادہ ہیں۔ امریکہ سے شراکت داری پاکستان کے لیے بہت سود مند ثابت ہوگی لیکن اگر وہ مسلسل دہشت گردوں کا ساتھ دے گا تو اس کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ افغانستان کے بارے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جلد بازی میں امریکی فوجیوں کے انخلا کے باعث افغانستان میں دہشت گردوں کو دوبارہ جگہ مل جائے گی اور اس بارے میں وہ زمینی حقائق پر مبنی فیصلے کریں گے جس میں ڈیڈ لائن نہیں ہوں گی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا پہلے ارادہ تھا کہ وہ افغانستان سے فوجیں جلد واپس بلا لیں گے لیکن وہ عراق میں کرنے والی غلطیاں نہیں دہرائیں گے اور اس وقت تک ملک میں موجود رہیں گے جب تک جیت نہ مل جائے۔امریکہ افغان حکومت کے ساتھ تب تک مل کر کام کرے گا جب تک ملک ترقی کے راستے پر گامزن نہ ہو جائے۔اپنے خطاب میں ٹرمپ نے افغانستان کی ترقی میں بھارتی کردار کی تعریف کی اور اس پر اقتصادی اور مالی طور پر افغانستان کی مدد کرنے پر زوردیا۔دنیا،خاص طور پر امریکی عوام یہ خیال کررہے تھے کہ افغانستان کے حوالے سے ٹرمپ اپنے پیشروں سے ہٹ کر ایک واضح، حتمی اور فیصلہ کن پالیسی اختیار کریں گے تاہم انہوں نے پرانا مشروب نئی بوتل میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے بھی بش اور اوبامہ کی طرح افغانستان میں اپنی کمزوریوں اور شکستوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی یہ تازہ پالیسی خطے کے معروضی حالات اور زمینی حقائق سے بالکل ماوراء ہے۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف جو لب و لہجہ استعمال کیا وہ پاکستان کی قربانیوں اور دہشت گردی کے خلاف عزم کو فراموش کرنے کے مترادف ہے اور اس بات کا واضح اظہار کررہا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے وہ شدید لاعلمی کا شکار ہیں۔ بھارت کی طرف ضرورت سے زیادہ جھکائو ان کی پالیسی کے ناقص اور غیرمتوازن ہونے پر مہرثبت کررہا ہے۔امریکہ نے خطے خاص طور پر افغانستان میں بھارت کوجس غیرفطری طور پر شریک کار کیا ہے، وہ نہ صرف حقائق کے منافی بلکہ افغان مسئلے کو مزید الجھانے کے مترادف ہے۔سب کو معلوم ہے کہ بھارت عرصہ دراز سے افغان سرزمین کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کررہا ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں دہشت گردی کو پروان چڑھانے اور امریکہ اور افغان حکومت میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے وہی سازشوں کے جال بن رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و تشدد پر نوٹس لینے کی بجائے آنکھیں بند کرلینا ، حزب المجاہدین کے سپریم کمانڈر سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرارددینا اور حزب المجاہدین پر پابندی سے ظاہرہوتا ہے کہ امریکہ خطے میں بھارت سے کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ کسی بھی حد کو جانے کے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تو بھارت نے باقاعدہ چھیڑ چھاڑ شروع کرکے اس کے پہلے ایجنڈے پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔ اسی طرح افغانستان میں بھارتی کردار یقینا خطے کی صورتحال کو ابتر رکھنے کی گہری سازش کے سوا کچھ نہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کے لیے کوئی نیگ شگون نہیں کیونکہ امریکہ کی بھارت نوازی کشمیریوں کی جائز جدوجہد آزادی اور کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے موقف کے منافی ہے۔ یہ نہ صرف بھارت کو کشمیریوں کو قتل عام کا لائسنس دینے بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی بے حرمتی کے بھی مترادف ہے۔ امریکہ کی اس جانبدارانہ پالیسی کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان اعتمادی سازی اور بہترتعلقات کیسے فروغ پا سکتے ہیں۔جہاں تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تعلق ہے تو پوری دنیا پاکستان کی کوششوں، صلاحیتوں اور کامیابیوں کی معترف ہے۔ مگر افسوس سب سے بڑے اتحادی امریکہ کو اس کی خبر نہیں۔ٹرمپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف موثر اور مسلسل آپریشنز کے ذریعے ان کے بہت سے نیٹ ورک تباہ و برباد کردیئے ۔ پاکستان نے موثر انٹیلی جنس کے ذریعے امریکی اور نیٹو افواج کی خوب معاونت کی۔ ضرب عضب اور ردالفساد دہشت گردوں کے خلاف کاری ضرب ثابت ہوئے۔ اسی طرح خیبر فور آپریشن گزشتہ روز ختم ہوا جس کے دوران پاک فوج نے بہت سے دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا۔ دہشت گردی کے خلاف یہ مسلسل کارروائیاں پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف عزم اور کوششوں کا واضح اظہار ہیں۔ تاہم امریکی صدر سے پاکستان سے متعلق بیان اور ڈور مور کا تقاضا افسوسناک ہے۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو وہاں امریکی، اتحادی افواج اور لاکھوں کنٹرکٹ مسلح دستے دہشت گردی پر قابو نہیں پا سکے ہیں۔ پاکستان نے سرحد کے اس طرف موثر کارروائیوں کے ذریعے کسی دہشت گرد تنظیم کو پنپنے کا موقع فراہم نہیں کیا ہے۔ البتہ بھارت اور دیگر قوتوں نے پاکستان میں تخریب کاری، فرقہ ورانہ فسادات اور شورشوں کے لیے افغانستان کی سرزمین کو استعمال کیا ہے اور اب بھی کررہی ہیں۔ یہی قوتیں پاکستان اور افغانستان حکومتوں کو ایک دوسرے سے الجھائے رکھنے کے لیے غلط فہمیاں اور سازشیں کرتی رہتی ہیں۔اگر ٹرمپ واقعی افغانستان سے باعزت نکلنے کے متمنی ہیں تو انہیں زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی بھارت نوازی کو اعتدال پر لانا ہوگا، افغانستان میں پاکستان کے خلاف بھارتی سازشوں کو روکنا ہوگا اور سب سے بڑھ کر پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں اور قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اعتمادسازی کو فروغ دینا ہوگا ۔ بصورت دیگر افغانستان امریکہ کے لیے دردسر بنا رہے گااورٹرمپ بھی بش، اوبامہ کی طرح اپنے عوام سے افغانستان میں کامیابیوں سے متعلق جھوٹ بولتے رہیں گے ۔