نیکٹا رپورٹ' دہشت گردی کے خلاف قربانیاں اور کامیابیاں۔۔۔ضمیر نفیس

نیکٹا نے دہشت گردی کے خاتمہ کے حوالے سے اپنی پہلی رپورٹ مرتب کی ہے جو پاکستان کی کامیابیوں کا حقیقی گوشوارہ ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ موقف بے حد اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں جو قربانیاں دیں اور جو کامیابیاں حاصل کیں اس حوالے سے دنیا کا کوئی ملک ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ نیکٹا نے 2016ء واقعات میں 804افراد شہید اور 1914 زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو برسوں میں اگرچہ دہشت گردی کی لہر میں ماضی کی نسبت کمی آئی ہے لیکن سب سے زیادہ واقعات بلوچستان میں رونما ہوئے ان میں زیادہ تر حملے کالعدم تحریک طالبان پاکستان' کالعدم لشکرجھنگوی' ان سے منسلک مقامی طالبان گروپوں جیسے جماعت الاحرار' لشکر اسلام' سجنا گروپ اور داعش سے منسلک گروپوں نے کئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی حوصلہ افزاء ہے انسداد دہشت گردی سرگرمیوں کا سلسلہ اسی شد و مد کے ساتھ جاری رہنا چاہیے۔ انتہا پسندوں کے بیانیہ کا توڑ کرنا ضروری ہے کسی بھی نئے ابھرتے ہوئے یا تیار دہشت گرد و انتہا پسند گروپ پر گہری نظر رکھنے کا عمل جاری رہے انٹیلی جنس ' تحقیقاتی عمل اور آپریشنز کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں میں فوری شناخت کرکے کارروائی کرتے ہوئے دہشت گرد گروپوں کے خاتمہ کا سلسلہ جاری رکھا جائے 2016ء میں پاکستان دہشت گردی سے چوتھا سب سے زیادہ متاثرہ ملک تھا اگرچہ 2014سے 2016ء کے دوران دہشت گرد حملوں میں کمی آئیتاہم ابھی بھی دہشت گردی کے اثرات ختم کرنے اور اس سے متاثرہ ممالک کی صف میں  نیچے جانے کے لئے بہت زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے' دہشت گردی میں نمایاں کمی کی وجوہات  میں آپریشن ضرب عضب اور قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد ہے سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف مخصوص عسکری آپریشنز کئے خاص طور پر فاٹا کے علاوہ کراچی میں رینجرز' بلوچستان میں سیاسی سرگرمیوں اور مصالحتی کوششوں کی مدد  سے ' پنجاب اور کے پی کے میں پولیس کے انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز دہشت گردی میں کمی کی وجہ بنے2015ء میں دہشت گردی کے 139واقعات کے  مقابلے میں 2106ء میں نمایاں کمی آئی اور یہ 785 رہے' بلوچستان دہشت گردی میں سب سے زیادہ متاثر ہوا جبکہ اس کے بعد کے پی کے' فاٹا' سندھ اور پنجاب رہے' دہشت گردی کے ان واقعات میں بہت سے عسکریت پسند قوم پرست' شورش پسند' متشدد فرقہ وارانہ گروپ شامل تھے ان میں 804 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جن میں 460 عام شہری اور 364قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل تھے جبکہ اس سے پچھلے سال836افراد شہید ہوئے 2016ء میں 1914 جبکہ 2015ء میں 1706افراد زخمی ہوئے اگرچہ واقعات میں کمی آئی مگر جانی نقصان میں قدرے اضافہ ہوا جس سے  یہ واضح ہوا کہ 2016ء میں دہشت گردی کے بڑے واقعات ہوئے جن میں مہلک ہتھیار استعمال کئے گئے۔قوم پرستوں کے حملوں کے زیادہ واقعات بلوچستان  اور چند سندھ میں ہوئے ان میں سب سے زیادہ متاثر مکران ڈویژن اور پھر کوئٹہ' ڈیرہ بگٹی اور کوہلو ڈویژن91بلوچستان میں قوم پرستوں کے 126 جبکہ سندھ میں ایک واقعہ ہوا فرقہ وارانہ واقعات میں پنجاب میں چار اموات' سندھ میں آٹھ' کے پی کے میں دس' بلوچستان میں تین' فاٹا' آئی سی ٹی اور آزادکشمیر  میں ایک ایک واقعہ ہوا مجموعی طور پر چند سالوں میں دہشت گردی کے واقعات میں 49فیصد' دہشت گرد حملوں میں 40فیصد اور خودکش حملوں میں 36فیصد تک کمی آئی ہے۔2017ء کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردی کا گراف مزید نیچے آیا ہے اس دوران واقعات اور ہلاکتیں کم ہوئیں جبکہ سیکورٹی فورسز کو زیادہ کامیابیاں حاصل ہوئیں انہوں نے مقابلوں میں درجنوں دہشت گرد ہلاک کئے۔