تحقیقی جرائد اور علم کا دیوالیہ۔۔۔ڈاکٹرمحبوب حسین

پاکستان میں پالیسیوں کی تشکیل اور ترجیحات میں اجتماعی مفادات کی جگہ انفرادی مفاد کو اہمیت حاصل ہوتی ہے فیصلہ سازی میں بسا اوقات زمینی حقائق کو بھی مد نظر نہیں رکھا جاتا۔یہی وجہ ہے کہ ملک کی 70 سالہ تاریخ میں سات قومی تعلیمی پالیسیاں، 8 پانچ سالہ منصوبے، درجنوں مختلف تعلیمی منصوبہ جات بنے اور ان پر عمل درامد کے لیے کئی کمیشن بنائے گئے مگر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکے۔پاکستان میں 2002 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن بنایا گیا آج پندرہ سال بعد اس ادارے نے اعلی تعلیم کے فروغ میں کیا کردار نبھایا، اہداف حاصل ہوسکے اور مجموعی کارکردگی کیا ہے اس پر بھی بحث کی جانا ضروری ہے۔ایچ ای سی ملک کی سرکاری و نجی یونیورسٹیز کو ریگولیٹ کرتی ہے تاکہ معیاری تعلیم پر سمجھوتہ نہ کیا جاسکے۔ اسی معیار تعلیم کے تصور کے تحت ایچ ای سی کا ایک نوٹیفکیشن اساتذہ کیمونٹی میں گردش کر رہا ہے۔ جس کے تحت کمیشن ایکس، وائے اور زیڈ کیٹیگری کے ریسرچ جرنلز کو تسلیم کرنے سے انکار کرنے جارہا ہے۔اگرچہ یہ نوٹیفکیشن 2016 میں جاری ہوا تھا لیکن اس کا اطلاق اب 30 جون دو ہزار سترہ سے کیا جارہا ہے۔ جس کے تحت اساتذہ کی اگلے گریڈز میں ترقیوں، تقرریوں ، پی ایچ ڈی سپروائزروں کی منظوری اور پی ایچ ڈی ڈگری کے حصول کے لئے مقالہ جات کی اشاعت کے لئے امپیکٹ فیکٹر کے حامل صرف وہ جرنلز قابل قبول ہوں گے۔جس کے ساتھ یہ بھی شرط عائد کہ وہ جرنلز انسٹیٹیوٹ آف سائنٹیفک انفارمیشن کی جرنل سائٹیش رپورٹ کی فہرست میں شامل ہوں گے۔ اور اب ایچ ای سی صرف ڈبلیو کیٹیگری کے ریسرچ جرنلز میں شائع شدہ آرٹیکل کو قابل قبول سمجھا جائے گا۔ اور اس سے کم درجے کے جرنلز میں شائع شدہ مقالہ جات ترقیوں کے حصول ، تقرریوں کے لئے قابل قبول نہیں تصور ہوں گے۔ایکس، وائے اور زیڈ کیٹیگری کے ریسرچ جرنل متروک ہو گئے گویا بیٹھے بٹھائے یہ جرنل ردی کی ٹوکری ہوگئے ہیں اور ان جرنلز میں اساتذہ کے شائع شدہ مقالہ جات ان کی بھرتیوں اور ترقیوں کے لیے کسی کھاتے میں شامل نہیں ہوں گے۔خوش گمانی تو یہ ہے کہ ایچ ای سی میں بیٹھے ہوئے پالیسی ساز ملک میں تعلیم کے معیار کی بہتری کے لیے ہی سوچ رکھتے ہوں گے مگر سوال یہ ہے کہ ملکی زمینی حقائق کو پیش نظر رکھ کریہ فیصلہ کیا گیا ہے؟ یا پھر محض ایچ ای سی کی پھرتیاں ہیں؟مذکورہ ریسرچ جرنلز کی کوالٹی پر یقینا بحث کی جاسکتی ہے اور ان جرنلز کی کوالٹی کو بہتر کرنے کے لیے کمیشن ایک سٹرٹیجی بنا سکتا ہے اور اس سٹرٹیجی کے تحت مختلف فیز میں جرنلز پر پاپندی عائد کی جاسکتی ہے کیونکہ علم کے معیاری ہونے پر تو سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا اور اگر علم چوری شدہ ہو تو اس کی سزا بھی ضروری ہے۔ لیکن اتنا بڑے فیصلے سے ملک کے پروفیسرز پر کیا اثرات ہوں گے اس کا اندازہ کون لگائے گا؟اب ان جرنلز میں شائع ہونے والے آرٹیکلز کی اگر کوئی اہمیت نہیں ہو گی تو ان جرنلز میں کوئی اپنے مقالہ جات کیونکر چھپوائے گا اور ان جرنلز میں اگر میعاری مقالہ جات شائع نہیں ہوں گے تو یہ اپ گریڈ کیسے ہوں گے؟اس کی مثال بالکل ایسے ہی ہے اگر کسی بنک کے بارے میں یہ اعلان کر دیا جائے کہ وہ دیوالیہ ہونے والا ہے تو لوگ اس سے اپنا سرمایہ نکالنا شروع کر دیں گے اور چند دنوں میں وہ بنک واقعی ہی دیوالیہ ہو جائے گا۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں تحقیقی سہولتوں کا فقدان ہے ،ملک میں موجود تحقیقی جرائد پر چند افراد کی اجارہ داری اور ملک کی مختلف جامعات میں تحقیقی جرائد کی اپ گریڈیشن کے لئے یکساں مواقع نہ ہونے سے معاملات مزید الجھیں گے۔اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے یہ پابندی تحقیقی معیار کو بہتر کرنے کی بجائے تنزلی کی طرف لے جائے گی اورپہلے سے موجود بے چینی میں مزید اضافہ ہو گا۔ایچ ای سی کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ جامعات کو اپنے جرائد کو اپ گریڈکرنا چاہئے تھا جو کہ نہیں کیا گیا مگر ان سے کوئی یہ بھی پوچھے کی ان جرائد کو اپ گریڈ کرنے کے لیے جو مالی اور تکنیکی وسائل درکار ہیں وہ کس حد تک فراہم کئے گئے ہیں؟ان جرائد سے متعلق کوئی پالیسی بنانے کے لیے گذشتہ برس جامعات کے اساتذہ کے نمائندوں کی تنظیم فپواسا نے جب ایچ ای سی کے چیئرمین اور دیگر انتظامی افسروں سے ملاقات کی تو طے ہوا تھا کہ اس سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جسکی رپورٹ کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔کمیٹی بنی مگرکوئی رپورٹ نہیں آئی، سٹیک ہولڈرز کا فیڈ بیک لیے بغیر یہ حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے، اب چشم تصور سے اندازہ کریں کہ ملک میں شائع ہونے میں ڈبلیو کٹیگری اور امپیکٹ فیکٹر ریسرچ جرنلز کی تعداد کتنی ہے اور تقرریوں اور ترقیوں کے منتظر اساتذہ جن کے کیسز پہلے ہی دیگر رکاوٹوں کی وجہ سے التوا کا شکار رہتے ہیں۔ایسے میں یہ نیا حکم نامہ سونے پہ سہاگے کا کام کرے گا، مثلا اگر کسی ٹیچر کے ایسوسی ایٹ پروفیسر یا پروفیسر بننے کے لیے دیگر شرائط پوری ہو چکی ہوں تو اس کے مطلوبہ تعداد سے ایک، دو، یا تین آرٹیکلز کم ہیں تو وہ اب اس تعداد کو پورا کرنے کے لئے پہلے تو کمیشن کی نئی شرائط کے تحت مطلوبہ میعار کے جرائد کو تلاش کریں گے اور پھر ان کے باہر لگی ہوئی طویل قطار میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کریں گے۔میرے خیال میں یہ پالیسی اس وقت تک نا قابل عمل ہے جب تک ایک خاص تعداد میں ملکی جرائد اپ گریڈ نہیں ہو جاتے۔ایچ ای سی کی یہ نئی پالیسی سماجی علوم، زبان و ادب اور انجیئرنگ کے اساتذہ کے لیے بالخصوص اور سائنس کے باقی مضامین کے لیے بالعموم مسائل پیدا کرے گی۔ پاکستان میں سماجی علوم کی قدر میں پہلے بھی کمی آئی ہے اور اس کی اہمیت کو ماضی میں خود ایچ ای سی نے نادانستہ طور پر نظر انداز کیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ ملک میں بڑے نامور سماجی سائنسدان پیدا نہیں ہوسکے۔کیا ہی اچھا ہو اگرریسرچ جرنلز پر پاپندی عائد کرنے کی اس نئی پالیسی سے پہلے اساتذہ کیلئے متبادل ریسرچ جرنلز پیش کر دیے جاتے تاکہ علم دوست اساتذہ کو ایسا پلیٹ فارم میسر آ جاتا جو اپنا تحقیقی کام شائع کراسکتے۔(ڈاکٹر محبوب حسین شعبہ تاریخ، پنجاب یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور فپواسا کے سابق جنرل سیکرٹری رہے ہیں)