خارجہ پالیسی تبدیل ہونے جارہی ؟۔۔۔ظہیر الدین بابر

 چین کی جانب سے ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کھل کر حمایت کرنا بلاشبہ خوش آئند ہے ، ایسے میں جب پاکستان کے خلاف علاقائی اور عالمی سطح پر محاذ بنایا جارہاچین ایک بار پھر پاکستانی موقف کی ترجمانی کرتا نظر آتا ہے۔ بیجنگ میں  وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا تھا  کہ چین اور پاکستان اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ افغان مسئلے کو صرف سیاسی انداز میں حل کیا جاسکتا ہے اور اس کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔ اس موقع پر خواجہ آصف نے  چین کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی پاکستانی کوششوں کی حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔یقینا  کئی دہائیوں کے باوجود  پاک چین دوستی بے مثال اور قابل تقلید ہے۔ شائد چین ہی وہ واحد ملک ہے جس نے مشکل کی ہر گھڑی میں کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا ۔  اسی سبب سے  پاکستان ون چائنا پالیسی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔تاریخ اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے  پاکستان اور چین کے تعلقات مثالی  نوعیت کے ہیں ۔ شک نہیں کہ سی پیک کے اعلان کے بعد دونوں ملکوں  میں  تجارت،  اور دفاع سمیت کئی شبعوں میں تعاون کو فروغ دیا جارہا ہے۔ وزیر دفاع نے چین کا دورہ ایسے موقع پر کیاجب حال ہی میں دنیا کی ابھرتی ہوئی پانچ معاشی طاقتوں کی جانب سے بعض دہشت گرد گروہوں کے خلاف بھرپور کاروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ان میں لشکر طیبہ اورجیش محمد بارے تاثر یہی ہے کہ وہ پاکستان میں سرگرم عمل ہیں مگر ان کے خلاف خلاف  خاطر خواہ کاروائی نہیں کی جارہی۔ توقعات کے عین مطابق قومی میڈیا میں اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا  کہ بریکس میں چین کی شمولیت  کے باوجود  تنظیم کی جانب سے ایسا اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان کی دہشت گردی کے  خلاف ہونے والی کوششوں پر سوالات اٹھے۔ اس پر حیرت اور افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ  دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کے مثبت نتائج کی حوصلہ افزائی نہیںکی جارہی ۔ پاکستان کے اس موقف کو بھی نہیں سنا جارہا کہ  افغان مسئلے کا حل صرف بات چیت اور امن سے ممکن ہے یعنی میں خطے کے مفاد میں ہے۔نائن الیون کے بعد پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جس نے کم وبیش ستر ہزار جانوں کی قربانی دی۔اب تک جامع فوجی آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے  بھرپور کردار ادا کیا  جس کے مثبت نتائج ظاہر ہوئے۔  پاکستان نے انسداد دہشت گردی کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں اور بین الاقوامی برادری کو پاکستان کو ان کوششوں کے لیے مکمل کریڈٹ نہ دینا انصاف نہیں ہوگا۔ چین نے  پاکستان کی افغان پالیسی کی حمایت کا  پھر  اعادہ کیا۔ دراصل  بدلتی ہوئی علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال میں پاکستان اور چین کا ساتھ ساتھ کھڑا ہونا خود ان کے مفاد میں ہے۔  یہی وہ حکمت عملی ہے جس کی بدولت  پاک چین اسٹریٹیجک تعلقات کو مزید مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ چین اس حقیقت سے باخوبی آگاہ ہے کہ پاکستان کے خلاف حالیہ  مہم کا ایک مقصد سی پیک  کو ناکام بنانا بھی ہے۔  پاکستان اور چین کے بدخواہ باخوبی جانتے ہیں کہ سی پیک عظیم منصوبہ ہے جو خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے۔یقینا یہ پاکستان کی ناکامی ہے کہ انتہاپسندی کے خلاف کی جانے والی کوششوں کو عالمی سطح پر نہیں سراہا جارہا۔ یقینا یہ شکوہ بے  جا نہیں کہ  پاکستان اپنے   دوست ملکوں کو یہ باور کروانے میںکامیاب نہیںہوسکا کہ  دہشت گردی  مشترکہ مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی ۔ علاقائی اور عالمی طاقتوں کو  بھی نہیں بھولنا چاہے کہ اگر افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک جدید ترین ٹیکنالوجی اور وسائل کے باوجود طالبان کو شکست نہیں دے سکے تو پاکستان سے مثالی کارکردگی کی امید رکھنا ہرگز انصاف نہیں۔ یاد رکھنا ہوگا کہ  افغان قیادت پر مشتمل مصالحتی عمل ہی افغانستان میں امن کا ضامن ہے جس کے لیے پاکستان اور چین مشترکہ کوششیں بدستور کررہے ہیں۔ لازم ہے کہ امن کے عالمی ٹھیکیدار بھارت کو بھی بہتری کی جانب راغب کریں۔ افغانستان کو پاکستان کے خلاف سازشوں کے لیے استمال کرنے کی بجائے جنگ سے تباہ حال ملک میں امن وسکون لانا ہوگا۔پڑوسی ملک میں خرابیوں کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرنا ہرگز مسائل کا حل نہیں۔ روس افغانستان جنگ کے نتیجے میں ایک طرف پاکستان نے لاکھوںافغان مہاجرین کو اپنے ہاں خوش آمدیدکہا تو دوسری جانب انتہاپسندی کا عفریت بھی اس کے  گلے پڑگیا۔ پاکستان کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ  اقوام عالم   پاکستان کی خودمختاری،سیکیورٹی خدشات کا احترام کرے۔یہ سمجھنا نادانی کے سوا کچھ نہیں کہ پاکستان پڑوسی ملک میں امن نہیں چاہتا اس کے برعکس سچ یہ ہے کہ  افغانستان میں امن کی ضرورت کا احساس افغانستان سمیت پاکستان اور چین  کے لیے کسی طور پر  نعمت سے کم نہیں۔افغانستان اور جنوبی ایشیاء کے لیے نئی امریکی پالیسی کس حد تک  علاقائی امن و استحکام کی بحالی کے لیے سود مند ثابت ہوگی اس ضمن میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔ رواں سال کے آخر میں چین، پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کی پہلی ملاقات ہونے جارہی جس میںجہاں ایک دوسرے سے گلے شکوے کیے جائیں گے وہی باہمی تعاون کے لیے نئے راستے تلاش کیے جانے کی بھی امید ہے ۔ پاکستان جنوبی ایشیاء سمیت عالمی برداری کا اہم ملک ہے لہذا اسے نظرانداز کرنا کسی طور پر  علاقائی اور عالمی امن واستحکام کے لیے سودمند ثابت نہیںہونے والا۔