0

نینو ذرات سے آنکھ کے پردے کی مرمت اور بینائی کی بحالی

روم: اٹلی کے سائنسدانوں نے ایسے نینو ذرات (نینو پارٹیکلز) تیار کرلیے ہیں جنہیں انجکشن کے ذریعے آنکھ کے پردے (پردہ چشم یا ریٹینا) تک پہنچا کر اس کی مرمت کرکے بینائی بحال کی جاسکتی ہے۔ فی الحال یہ تجربات چوہوں پر کامیابی سے کیے جاچکے ہیں۔واضح رہے کہ آنکھ کے اندر کسی چیز کا عکس آنکھ کے پردے پر بنتا ہے، جس میں خاص طرح کے خلیے ہوتے ہیں جو اس عکس کو منظم برقی سگنلوں میں تبدیل کرکے دماغ تک بھیجتے ہیں؛ اور یوں ہم کسی چیز کو دیکھتے ہیں۔البتہ، عمر رسیدگی، حادثے یا کسی بیماری کے نتیجے میں پردہ چشم کے خلیات متاثر ہونے لگتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی خراب ہونے لگتی ہے اور وہ تعداد میں بھی کم ہونے لگتے ہیں۔ اس طرح پہلے مرحلے پر نظر کمزور ہوتی ہے جو بتدریج خراب ہوتے ہوتے مکمل نابینا پن میں تبدیل ہوجاتی ہے۔اگرچہ بینائی کی بحالی کیلیے آپریشن کے ذریعے مصنوعی پردہ چشم کی پیوند کاری بھی کی جاتی ہے لیکن یہ عمل اتنا مثر نہیں جبکہ سرجری بھی بہت پیچیدہ ہوتی ہے جس سے بینائی بحال ہوجانے کی ضمانت بھی نہیں دی جاسکتی۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں