0

حکومت کا معیشت پر ریگولیٹری پابندیاں نرم کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے اقتصادی تھینک ٹینک کے اجلاس میں ریگولیٹری پابندیوں کونرم کرنے کی منظوری دے دی جن کا اسی ماہ ایک پیکیج کی صورت میں اعلان کیا جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان نے ہفتہ کے روز اقتصادی تھینک ٹینک کے اجلاس میں ریگولیٹری پابندیوں کونرم کرنے، معیشت کو ڈیجیٹل بنانے، نظرانداز کیے گئے شعبوں کی افادیت کو استعمال کرنے سمیت 8 شعبوں میں اصلاحات کیلیے 60 سے زیادہ سفارشات کی منظوری دے دی جن کا اسی ماہ ایک پیکیج کی صورت میں اعلان کیا جائے گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومتی قرضہ آسان اور محفوظ ہونے کی وجہ سے بینک اس میں ہرصورت سرمایہ کاری کرینگے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے بھی وزیراعظم کی اس بات سے اتفاق کیا۔وزیراعظم کو پیش کی گئی سفارشات میں سے انصف سٹیٹ بنک کے ریگولیٹری پراسس سے متعلق تھیں۔ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بنک نے20 سفارشات کو قبول کرنے پر اتفاق کیااور بینکوں کی لیکویڈٹی کم کرنے سمیت ایک درجن تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا ۔ جو تجاویز قبول کی گئیں ان میں اوورسیزپاکستانیوں کوبینکوں کے ذریعے ترسیلات بھجوانے میں سہولت دینے کیلئے ان کے ڈیجیٹل اکاونٹ کھولنے،چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کیلئے قرضوں کی حد بڑھانے ،عارضی اقتصادی ریلیف پیکج کی مدت میں مزید اضافہ کرنے اور معیشت کو ڈیجیٹل بنانے سے متعلق تھیں۔مشیرخزانہ حفیظ شیخ نے اپنی بریفنگ میں یوٹیلٹی بلوں میں کمی ،ٹارگٹڈ سبسڈیز،ایف بی آر آپریشنز کی ٹیکس پالیسیاں علیحدہ علیحدہ کرنے اور صوبائی مالیات میں بہتری کی تجاویز پر روشنی ڈالی۔ اس وقت حکومت کو بجلی کے بلوں پر دی جانے والی سبسڈی ،گردشی قرضوں کو روکنے کیلئے بجلی کی قیمتیں بڑھانے کے چیلنج کا سامنا ہے۔حکومت نے سال رواں کے بجٹ میں بجلی پر دی جانے والی سبسڈی میں60 فیصد کمی کی ہے۔وزارت توانائی نے اس کیلئے366 ارب روپے مانگے تھے۔ اس دلدل سے نکلنے کی صورت میں آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کی راہ میں ایک رکاوٹ دور ہوجائیگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں