0

جسٹس قاضی فائز عیسی کو قتل کی دھمکیاں دینے والے پر فرد جرم عائد

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کو قتل کی دھمکیاں دینے والے ملزم مرزا افتخار الدین آغا پر فرد جرم عائد کر دی۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کو قتل کی دھمکیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسی نے بھی اپنا بیان حلفی جمع کرا دیا۔مرزا افتخار الدین آغا نے عدالت میں مقف اپنایا کہ ویڈیو کی اپ لوڈنگ اور ایڈیٹنگ کا کوئی علم نہیں، وہ اپنے ویڈیو بیان پر تہہ دل سے معذرت خواہ اور انتہائی شرمندہ ہے قانون کے علاوہ بطور مسلمان بھی معافی چاہتا ہوں۔اسے اللہ کی عدالت میں بھی جواب دینا ہے۔عدالت نے مرزا افتخار کی معاف کرنے کی استدعا مسترد کر دی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیس میں معافی کی کوئی گنجائش نہیں۔ آپ کو معاف کر دیا تو پورے ملک کا سسٹم فیل ہوجائے گا۔ آپ عدالت اور اس کے ججز کے ساتھ مذاق نہیں کر سکتے۔ آپ کے تو دنیا بھر میں رابطے ہیں پھر کہتے ہیں کہ غلطی سرزد ہوگئی۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔ پہلے آپ بیان دیتے ہیں پھر اس کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔ ایسی ویڈیوز اپ لوڈ کر کے پیسے بھی کماتے ہیں۔ آپ مسجد کے منبر پر بیٹھ کر ایسی زبان استعمال کر رہے تھے جو کوئی جاہل بھی استعمال نہیں کرتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں