0

سی ای او کے الیکٹرک کا مستثنی و غیرمستثنی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا اعتراف

کراچی: سی ای اوکیالیکٹرک مونس عبداللہ نے اعتراف کیا ہے کہ شہر کے مستثنی و غیرمستثنی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کررہے ہیں۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی ای اوکیالیکٹرک مونس عبداللہ نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں بجلی کی طلب 3500 میگا واٹ تک پہنچ چکی، جب کہ کیالیکٹرک 3200 میگا واٹ بجلی فراہم کرسکتا ہے، جس کے باعث کراچی میں لوڈشیڈنگ جاری ہے، کچھ علاقوں میں زیادہ ہورہی ہے، اور مستثنی علاقوں میں بھی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔سی ای او کے الیکٹرک مونس عبداللہ علوی کا کہنا تھا کہ لوڈشیدنگ والیعلاقوں میں بجلی کی مسلسل فراہمی سے بل زیادہ آئے، مارچ میں میٹرریڈنگ کے بغیربلوں کو واپس لے لیا گیا تھا، کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈان ہونے کے باعث میٹرریڈنگ نہیں کر پائیتھے، بجلی کی قیمت ازخود کم یا ذیادہ نہیں کرسکتے، کراچی کا ٹیرف ملک کے باقی شہروں کے مقابلے ڈھائی روپیکم ہے۔مونس عبداللہ علوی نے کہا کہ وفاق نے کے الیکٹرک کو 267 ارب روپے ادا کرنے ہیں، اور سندھ حکومت پر کے الیکٹرک کے 50 ارب روپے سے زائد واجبات ہیں، جب کہ کیالیکٹرک نے مختلف اداروں کو 160 ارب روپے ادا کرنے ہیں، اور بینکوں سے بھی 85 ارب روپے کا قرضہ لے رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں